#Article 1: جغرافیہ (348 words)


جغرافیہ ‎(geography)‎ یونانی زبان کا لفظ ہے۔ جس کے معنی ہیں زمین کا بیان۔

ایراٹورتھینیس ‎(276-194B.C)‎
وہ پہلا شخص تھا۔ جس نے لفظ جغرافیہ استعمال کیا۔ جغرافیہ کو زمین کی سائنس بھی کہا جاتا ہے۔ آج تک انسان نے جتنی بھی ترقی کی ہے۔ وہ جغرافیہ کی ہی مرہون منت ہے۔ زمین انسان کا گھر ہے۔ اور اس گھر سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے علم جغرافیہ انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ علم جغرافیہ پرانے زمانے میں بھی موجود رہا ہے۔ لیکن اس دور میں اس کی اہمیت بہت کم تھی۔ عموما دریاؤں،پہاڑوں،سمندروں اور مقامات کے نام یاد کرلینا ہی کافی سمجھا جاتا تھا۔ دوسرے علوم کی نسبت جغرافیہ میں بہت سست رفتاری سے ترقی ہوئی۔

اس علم کا آغاز بطور سائنس مصر و یونان میں ہوا۔ زمانہ قدیم کے جغرافیہ دانوں کی بعض تحریریں بڑی دلچسپ ہیں۔ مثلاً سٹرابو جو ایک اطالوی جغرافیہ دان تھا، اس خیال کا مالک تھا کہ سمندر کا پانی ایک بہت بڑے دریا کی طرح کسی ڈھلان پر بند رہتا ہے۔ ارسطو کا خیال تھا کہ فضا سے ہوا زمین میں داخل ہو کر محبوس ہو جاتی ہے اور جب وہ فضا میں واپس جانے کے لیے جدوجہد کرتی ہے تو زلزلہ پیدا ہوتا ہے۔ مگر ان عجیب و غریب خیالات کے ساتھ ساتھ قدیم یونانیوں نے بعض حیرت انگیز دریافتیں بھی کیں۔ مثلاً 200ق م کے قریب ارسطارتس نے مصر کے مشرق و مغرب میں مدوجزر کی لہروں میں تناسب معلوم کرنے پر یہ اعلان کیا کہ بحر اوقیانوس اور بحر ہند آپس میں منسلک ہیں۔ اس کی ایک اور دریافت قابل ذکر ہے، جس کے مطابق اس نے بتایا کہ دور مغرب میں شمال سے جنوب تک کوئی ملک ضرور واقع ہے۔ اس کے 1700 سال بعد کولمبس نے اس ملک امریکا کو دریافت کیا۔

جغرافیہ میں سب سے پہلے یونانیوں نے پیش رفت کرنا شروع کی۔ قرون وسطیٰ میں مسلم ممالک میں اس علم میں بہت پیش رفت ہوئی۔ اس دور کے اہم ناموں میں ابن بطوطہ، ابن خلدون اور ادریسی شامل ہیں۔ مسلمانوں کے علمی زوال کے بعد یورپ میں اس مضمون پر بہت پیش رفت ہوئی۔




#Article 2: پاکستان (660 words)


اسلامی جمہوریہ پاکستان جنوبی ایشیا کے شمال مغرب وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا کے لیے دفاعی طور پر اہم حصے میں واقع ایک خود مختار اسلامی ملک ہے۔ 21 کروڑ کی آبادی کے ساتھ یہ دنیا کا پانچواں بڑی آبادی والا ملک ہے۔ 881,913 مربع کلومیٹر (340,509 مربع میل) کے ساتھ یہ دنیا کا تینتیسواں بڑے رقبے والا ملک ہے۔ اس کے جنوب میں 1046 کلومیٹر (650 میل) کی ساحلی پٹی ہے جو بحیرہ عرب سے ملتی ہے۔پاکستان کے مشرق ميں بھارت، شمال مشرق ميں چین اور مغرب ميں افغانستان اور ايران واقع ہيں۔ پاکستان کو شمال میں ایک تنگ واخان راہداری تاجکستان سے جدا کرتی ہے جبکہ اس ملک کی سمندری سرحدی حدود عمان کے سمندری حدود سے بھی ملتی ہیں۔

موجودہ پاکستان کے علاقے قدیم ترین  دنیا میں وہ علاقے تھے جن میں موہنجوداڑو اور انڈس سولائیزیشن مہر گڑھ ٹیکسلا پراچین سنسکرت دور اور دیگر زیرتحقیق آرک لوجیکل سائٹسٹ جیسے  قندھارا تہذیب و تمدن   تھی۔ اس علاقے پر پراچین راجپوت ایرانی یونانیعرب،بدھ مت، سکھ، مغل، ہن سفید اور ترک حملہ آوروں کی حکومت بھی رہی ہے۔ یہ علاقہ مختلف سلطنتوں جیسے چندر گپت موریا، ہخامنشی سلطنت عربوں کی خلافت امویہ، مغول سلطنت، مغلیہ سلطنت، درانی سلطنت، سکھ سلطنت اور برطانوی راج کا اہم حصہ رہا ہے۔ اس کے بعد محمد علی جناح کی قیادت میں تحریک پاکستان کامیاب ہوئی اور 14 اگست 1947ء کو ہندوستان کے مشرق اور مغرب میں دو حصوں میں ایک آزاد اور خودمختار اسلامی ریاست قائم ہوئی۔ پاکستان نے 1956ء میں اپنا پہلا قانون اپنایا۔ 1971ء میں ایک خانہ جنگی کے دوران میں اس کا مشرقی حصہ الگ ہو کر ایک نیا ملک بنگلہ دیش بن گیا۔

پاکستان وفاقی پارلیمانی جمہوری ریاست کے تحت چلتا ہے۔ اس کے چار صوبے اور کچھ وفاقی حکومت کے زیر انتظام علاقے ہیں۔ یہ ملک لسانی اور قومی طور پر مختلف اقوام کا علاقہ ہے اور اس کا جغرافیہ بھی ہر طرح کے خطے پر مشتمل ہے۔ پاکستان دنیا کا ایک اہم طاقتور ملک ہے، جیسا کہ اس کی فوج دنیا کی چھویں بڑی فوج ہے اور یہ اسلامی دنیا کی واحد اور جنوبی ایشیا کی دوسری ایٹمی طاقت ہے۔ اس کی معیشت دنیا میں 27 ویں نمبر پر ہے۔

پاکستان کی تاریخ فوجی آمریت، سیاسی عدم استحکام اور پڑوسی ملک سےجھگڑوں پر مشتمل ہے۔ یہ ملک مؤتمر عالم اسلامی، اقوام متحدہ، دولت مشترکہ ممالک، سارک، ترقی پذیر 8، اقتصادی تعاون تنظیم جیسی تنظیموں کا اہم رکن ہے۔

ان سرزمین اور ممالک کے ناموں میں، جس میں لاحقہ ستان شامل ہے، پاکستان کا لفظ سب سے نیا ہے اور کردستان سب سے پرانا نام ہے۔ پاکستان کے مطلب  پاک نفسوں کی سرزمین ہے.
پاکستان کی صوبائی زبانوں میں پنجابی صوبہ پنجاب، پشتو صوبہ خیبر پختونخوا، سندھی صوبہ سندھ ، بلوچی صوبہ بلوچستان اور شینا صوبہ گلگت بلتستان میں تسلیم شدہ زبانیں ہیں۔ 

پاکستان میں رائج دوسری زبانوں اور لہجوں میں، آیر ، بدیشی ، باگڑی ، بلتی ، بٹیری ، بھایا ، براہوی ، بروشسکی ، چلیسو ، دامیڑی ، دیہواری ، دھاتکی ، ڈوماکی ، فارسی ، دری ، گواربتی ، گھیرا ، گوریا ، گوورو ، گجراتی ، گوجری ، گرگلا ، ہزاراگی ، ہندکو ، جدگلی ، جنداوڑا ، کبوترا ، کچھی ، کالامی ، کالاشہ ، کلکوٹی ، کامویری ، کشمیری ، کاٹی ، کھیترانی ، کھوار ، انڈس کوہستانی ، کولی (تین لہجے)، لہندا لاسی ، لوارکی ، مارواڑی ، میمنی ، اوڈ ، اورمڑی ، پوٹھواری ، پھالولہ ، سانسی ، ساوی ، شینا (دو لہجے)، توروالی ، اوشوجو ، واگھری ، وخی ، وانیسی اور یدغہ شامل ہیں۔
ان زبانوں میں بعض کو عالمی طور پر خطرے میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ ان زبانوں کو بولنے والوں کی تعداد نسبتاً نہایت قلیل رہ گئی ہے۔ وجود کے خطرات میں گھری یہ زبانیں زیادہ تر ہند فارس شاخ اور ہند یورپی زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ پاکستان کے ضلع چترال کو دنیا کا کثیرالسانی خطہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے اس ضلع میں کل چودہ زبانیں بولی جاتی ہیں-




#Article 3: تاریخ (1518 words)


تاريخ ايک ايسا مضمون ہے جس ميں ماضی ميں پيش آنے والے لوگوں اور واقعات کے بارے ميں معلومات ہوتی ہيں۔

تاريخ دان مختلف جگہوں سے اپنی معلومات حاصل کرتے ہيں جن ميں پرانے نسخے، شہادتيں اور پرانی چيزوں کی تحقيق شامل ہے۔ البتہ مختلف ادوار ميں مختلف ذرائع معلومات کو اہميت دی گئی۔ تاریخ کا لفظ عربی زبان سے آیا ہے اور اپنی اساس میں اَرخ سے ماخوذ ہے جس کے معنی دن (عرصہ / وقت وغیرہ) لکھنے کے ہوتے ہیں۔
تاریخ جامع انسانی کے انفرادی و اجتماعی عمال و افعال اور کردار کا آئینہ دار ہے۔ تاریخ انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں گزشتہ نسلوں کے بیش بہا تجربات آئندہ نسلوں تک پہنچاتی ہے، تاکہ تمذن انسانی کا کارواں رواں دواں رہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ اس کے توسط سے افراد و قوم ماضی کے دریچے سے اپنے کردہ اور نا کردہ اعمال و افعال پر تنقیدی نظر ڈال کر اپنے حال و استقبال کو اپنے منشا و مرضی کے مطابق ڈھال سکے۔ (ڈاکٹر آفتاب اصغر، مقدمہ تاریخ مبارک شاہی۔ 21)
	تصور تاریخ اتنا ہی قدیم ہے کہ جتنا تصور زماں و مکاں۔ آغاز تمذن سے اب تک تاریخ نے کئی روپ دھارے ہیں۔ قصے کہانیوں سے شروع ہو کر آج تاریخ اس مقام پر پہنچ چکی ہے کہ اسے تمام علوم انسانی کی رواں دواں کہا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ اجتماع انسانی کے شعبے مین کوئی واقعہ پیش آتاہے وہ کسی نہ کسی طرح کل کی یا تاریخ گزشتہ سے مربوط ہوتا ہے، اس لیے یہ کہا جائے کہ تاریخ سب کچھ ہے اور سب کچھ تاریخ ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ (ڈاکٹر آفتاب اصغر، مقدمہ تاریخ مبارک شاہی۔ 21)

اناتول قراش کے خیال میں تاریخ گزشتہ حادثات و اتفاقات کے تحریری بیان سے عبارت ہے۔ ای ایچ کار کی رائے میں تحقیق شدہ واقعات کے ایک سلسلے پر مشتمل ہے۔ کارل بیکر کے نزدیک اقوال و افعال کا علم ہے۔ سیلی کی رائے میں تاریخ گزشتہ سیاست اور گزشتہ سیاست موجودہ تایخ ہے۔ (ڈاکٹر آفتاب اصغر، مقدمہ تاریخ مبارک شاہی۔ 22)
	اطخاوی کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا علم ہے جس کاموضع انسان زماں و مکاں ہے، جس میں وہ زندگی بسر کرتا ہے۔ ابن خلدون کا کہنا ہے یہ ایک ایسا علم ہے جو کسی خاص عہد ملت کے حالات واقعات کو موضع بحث دیتاہے۔ ظہیرالدین مرغشی کے نزدیک یہ ایک ایسا علم ہے جو اگلے وقتوں کے بارے میں اطلاعات پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر محمد مکری کا قول ہے کہ تاریخ ایسا علم ہے جس میں کسی قوم یا فرد یا چیز کے گزشتہ حالات واقعات پر بحث کرتا ہے۔ آقائے مجید یکتائی کا کہنا ہے کہ اعصار و قرون کے ان احوال و حوادث کی آئینہ دار ہے، جو ماضی سے آگئی و مستقبل کے لیے تنبیہ کا باعث بنتے ہیں۔ (ڈاکٹر آفتاب اصغر، مقدمہ تاریخ مبارک شاہی۔22)
	حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کا نظریات میں کتنا ہی اختلاف ہو، مگر اس حد تک سب متفق ہیں کہ یہ ایک ایسا علم ہے جو عہد گزشتہ کے واقعات اور اُس زماں و مکاں کے بارے میں جس میں واقعات وقوع پزیر ہوئے ہیں، آئندہ نسلوں کو معلومات بہم پہنچاتا ہے۔ یہی وجہ ہے تاریخ اتنی قدیم ہے کہ جتنی تحریر۔ یہ اور بات ہے تاریخ کی ابتدا اساطیر یا دیومالائی کہانیوں سے شروع ہوئی۔ گو تاریخ اور اساطیر مین فرق ہے۔ تاریخ کے کردار حقیقی اور زمان اور مکان متعین و مشخص ہوتے ہیں۔ جب کہ اساطیر میں کردار مقوق الفطرت مسخ شدہ یا محض تخیل کی پیداوار اور زمان و مکان غیر متعین اور نامشخص ہوتے ہیں۔ (ڈاکٹر آفتاب اصغر، مقدمہ تاریخ مبارک شاہی۔ 22، 23)

	پروفیسر ہربرٹ اسپنر Hurbt Spenser اور گرانٹ ایلن Grant Ain کا کہنا ہے کہ ابتدا میں انسان صرف اپنے اسلاف کا شعور رکھتا تھا، وہ اسلاف کے حقیقی اور فرضی کارناموں سے واقف تھا اور ان کو یاد کرتا رہتا تھا۔ امتتداد زمانہ کے ساتھ ان اسلاف کی حقیقی شخصیتیں روایتوں کے انبار تلے دب گئیں۔ رفتہ رفتہ حقیقت پر خرافات کی اتنی تہ جم گئیں کہ لوگ اسلاف کی حقیقی شخصیتوں کو بھول گئے اور افسانوی شخصیتوں کو دیوتا سمجھ کر ان کی پوجا کرنے لگے۔ بہرحال اسلاف کی عظمتوں کے افسانوں نے دیوتا کا روپ دھار لیا ہو یا مظاہر قدرت کی فعالی اور صاحب ارادہ شخصیتوں کا تصور دیوتاؤں کے پیکر میں ڈھل گیا ہو، یہ حقیقت ہے کہ دیوتاؤں کی تخلق انسانی ذہن کی مرحون منت ہے، اگرچہ یہ تخلق کا عمل کئی مدارج سے گزرا ہے۔ (سبط حسن، ماضی کے مزار۔ 103، 105)

	ابن خلدون کا کہنا ہے کہ مورخ کے لیے ضروری ہے کہ وہ محض نقال نہ ہو بلکہ تاریخ سے متعلقہ تمام علوم کو جانتا ہو۔ اسے اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ حکمرانی و سیاست کے قواعد کیا ہیں؟ موجودات کی طبعیت کس ڈھب کی ہے؟ مختلف قوموں کا مزاج کیا ہے؟ زمان ومکان کی بوقلمونی سے احوال و عوائد کے گوشے کیوں کر متاثر ہوتے ہیں؟ مختلف مذاہب میں فرق کیا اور حدود اختلافات کیا ہیں اور کہاں ان کے ڈانڈے ملتے ہیں؟ اس طرح یہ بھی جاننا حال کیا ہے اور اس میں اور ماضی اور کیا کیا چیزیں ملتی جلتی ہیں اور کن نکات پر اختلافات ہیں؟ تاکہ جو موجود ہیں ان کی مناسبتوں اور مشا بہتوں سے ماضی کے دندھلکوں کی تشریح کی جائے۔ جو لوگ ان نزاکتوں کو سمجھ نہیں سکتے ہیں، وہ اس حقیقت کو نہیں جانتے ہیں کہ تاریخ کا ہر واقع ایک منفرد واقع نہیں ہوتا ہے، بلکہ اپنے اندر کئی پہلو رکھتا ہے اور کئی سمتوں سے اس کی حقانیت پر روشنی پڑھ سکتی ہے، وہ ہولناک غلطیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں اور ایسے لاطائل قصے تاریخ کے باب میں پیش کرتے ہیں، جو قطعی مہمل اور مضحکہ خیز ہوتے ہیں۔ (مولانا محمد حنیف ندوی۔ افکار ابن خلدون، 75)

مزید ابن خلدون کا کہنا ہے کہ ایک مورخ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ تاریخ میں اگرچہ اس زمانے کے مخصوص لوگوں کا ذکر ہوتا ہے، متعین واقعات اور بڑے بڑے حوادث کی تفصیلات ہی بیان کی جاتی ہیں، تاہم اس عصر کے تمام حالات جغرافیہ اور جزئیات اس نوعیت کی ہوسکتی ہیں کہ جن سے ان کی توضیح ہو سکے۔ اس لیے ایک محقق کو ان حالات کو نظر انداز نہیں کرناچاہیئے،اور قدم انہی کی روشنی میں بڑھانا چاہیے، ورنہ لغزش کا سخت اندیشہ ہے۔ (مولانا محمد حنیف ندوی۔ افکار ابن خلدون، 75)
 ابن خلدون مزید مسعودی کے حوالے سے لکھتا ہے کہ قومیں مختلف سیاسی کروٹیں بدلتی ہیں اور ایک حالت پر قائم نہیں رہتی ہیں، ان کے مزاج عوائد اور رسمیات ان تبدیلوں سے اتنے متاثر ہوتے ہیں کہ گویا ایک نئی قوم معرض وجود میں آگئی۔ اس لیے ایک مورخ کو اس بات کا بھی خیال رکھنا پڑے گا کہ کسی خاص حکومت کی تبدیلی سے قوم میں کیا کیا تغیرات رونما ہوتے ہیں اور عرف و اصطلاع کے کون کون سے قانون تغیر و تبدل کی نذر ہوچکے ہوتے ہیں۔ تاریخی واقعات پیش کرنے میں ان تقاضوں کو ملحوظ نہیں رکھنا جائے اور ان اصولوں کی روشنی میں چھان نہیں کی جائے، تو امکان ہے کہ غلطیوں میں الجھ کر غیر صحیح اور غیر معقول افسانوں کو پیش کیا جائے گا۔ کیوں کہ انسانی فظرت کی یہ عام کمزوری ہے، وہ غیر معمولی باتوں کو ماننے میں بڑی دلچسپی اور لگاؤ کا اظہار کرتا ہے اور وہ اس سے لاپروا اور بے خطر ان قصوں کو بیان کرتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔ بہر کیف جھوٹے قصے اور عجیب مضحک داستانیں اس وقت تاریخ کے اوراق کی زینت بنتی ہیں کہ مورخ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہیں کرتا ہے اور وہ اس حقیقت پر غور نہیں کرتا ہے کہ جو بات بیان کی گئی ہے اس کے تقاضے بھی ہیں یا نہیں اور وہ اس کی تکذیب کرتے ہیں یاتصدیق۔ (مولانا محمد حنیف ندوی۔ افکار ابن خلدون، 79)

	مزید ابن خلون کا کہنا ہے کہ ان اسباب کے علاوہ جو بیان کیے گئے ہیں کچھ اور عوامل بھی ہیں، جن کو وضع اور گھڑنت میں براہ راست دخل ہے۔ مثلاََ ایک بڑا سبب جعل وضع کا یہ ہو سکتا ہے کہ مورخ پہلے سے ایک عصبیت رکھتا ہو اور کسی خاص گروہ سے وابستہ ہو، اس کی کوشش حالات واقعات کے سلسلے میں ہمیشہ یہی رہے گی کہ کس طرح تاریخ سے اس کی رائے کی تائید ہو سکے اور دوسروں کی تردید، اس کی نظر واقعات و حلات کے متعلق بے لاگ اور منصفانہ نہیں ہوسکتی ہے۔
	ایک سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ناقل کو یہ نہ معلوم ہو کہ خبر کے پیچھے کون سا مقصد پنہاں ہے اور خبر کو جیسا کہ اس کے گمان میں ہے محض اٹکل سے بیان کر دے۔
	تیسرا اہم سب یہ ہے کہ تطبیق احوال کی صلاحیت نہ ہو اور ناقل یہ نہ جان سکتا ہو کہ واقعات کی تہ میں تضع اور بناوٹ کی کارفرمائیوں کا کتنا حصہ ہے۔
	پانچواں سبب امرا و سلاطین کے قرب کی خواہش۔ اس راہ میں کذب و اخترا کو دخل کا اکثر موقع ملا ہے۔ (مولانا محمد حنیف ندوی۔ افکار ابن خلدون، 75 تا79)

تاريخ ايک بہت وسيع موضوع ہے، اس لیے اس کی کئی طرح سے قسم بندی کی گئی ہے۔




#Article 4: اردو (2473 words)


اُردُو (یا جدید معیاری اردو) برصغیر کی معیاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ یہ پاکستان کی قومی اور رابطہ عامہ کی زبان ہے، جبکہ بھارت کی چھے ریاستوں کی دفتری زبان کا درجہ رکھتی ہے۔ آئین ہند کے مطابق اسے 22 دفتری شناخت زبانوں میں شامل کیا جاچکا ہے۔ 

اردو تاریخی طور پر ہندوستان کی مسلم آبادی سے جڑی ہے۔  بعض ذخیرہ الفاظ کے علاوہ یہ زبان معیاری ہندی سے قابل فہم ہے جو اس خطے کی ہندوؤں سے منسوب ہے۔  زبانِ اردو کو پہچان و ترقی اس وقت ملی جب برطانوی دور میں انگریز حکمرانوں نے اسے فارسی کی بجائے انگریزی کے ساتھ شمالی ہندوستان کے علاقوں اور جموں و کشمیر میں اسے سنہ 1846ء اور پنجاب میں سنہ 1849ء میں بطور دفتری زبان نافذ کیا۔ اس کے علاوہ خلیجی، یورپی، ایشیائی اور امریکی علاقوں میں اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے جو بنیادی طور پر جنوبی ایشیاء سے کوچ کرنے والے اہلِ اردو ہیں۔ 1999ء کے اعداد وشمار کے مطابق اردو زبان کے مجموعی متکلمین کی تعداد دس کروڑ ساٹھ لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ اس لحاظ سے یہ دنیا کی نویں بڑی زبان ہے۔ 

اُردو کا بعض اوقات ہندی کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے۔ اُردو اور ہندی میں بُنیادی فرق یہ ہے کہ اُردو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور عربی و فارسی الفاظ استعمال کرتی ہے۔ جبکہ ہندی زبان دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور سنسکرت الفاظ زیادہ استعمال کرتی ہے۔ کچھ ماہرینِ لسانیات اُردو اور ہندی کو ایک ہی زبان کی دو معیاری صورتیں گردانتے ہیں۔ تاہم، دیگر ماہرین اِن دونوں کو معاش اللسانی تفرّقات کی بنیاد پر الگ الگ سمجھتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندی، اُردو سے نکلی ہے۔ اسی طرح اگر اردو اور ہندی زبان کو ایک سمجھا جائے تو یہ دنیا کی چوتھی بڑی زبان ہے۔ 

اردو زبان باوجود دنیا کی نئی زبانوں میں سے ہونے اپنے پاس معیاری اور وسیع ذخیرہ ادب رکھتی ہے۔ خاص کر جنوبی ایشیائی زبانوں میں اردو اپنی شاعری کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔

اردو ہندی زبان کی طرح فارسی، عربی، ترک زبان کا ایک قسم ہے۔ یہ شوراسنی زبان (یہ زبان وسطی ہند آریائی زبان تھی جو موجودہ کئی زبانوں کی بنیاد سمجھی جاتی ہے، ان میں پنجابی زبان بھی شامل ہے) کی ذیلی قسم اپ بھرنش سے قرون وسطٰی (چھٹی سے تیرہویں صدی) کے درمیان وجود میں آئی۔ 

اگرچہ لفظ اردو بذات خود ترک زبان کے لفظ اوردو (لشکر، فوج) یا اوردا سے نکلا ہے، اسی سے انگریزی لفظ horde کا ظہور ہوا۔ ترک زبان سے اردو میں کم ہی الفاظ آئے ہیں۔ ٍعرب ،ترک الفاظ اردو میں پہنچ کر فارسی قسم کے بن گئے ہیں جیسے ة کو اکثر اوقات ه میں بدل دیا جاتا ہے۔ مثلاً عربی تائے مربوطہ (ة) کو (ہ) یا (ت) میں بدل دیا جاتا ہے۔ 

عربی کا اس خطے میں عمل دخل اس وقت شروع ہوا جب پہلے ہزار سال کے آخری دور میں عربوں نے برصغیر کے کچھ علاقوں میں بطور فاتح قدم جمایا۔ جبکہ کچھ صدیوں بعد وسطی ایشیا کے افغان ترک فارسی متکلم باشاہوں نے فارسی زبان کو اس خطے میں متعارف کرایا، ان بادشاہوں میں سلطان محمود غزنوی قابل ذکر ہیں۔ دلی کی ترک افغان سلطنت نے سب سے پہلے فارسی کو شمالی ہندوستان کی دفتری زبان قرار دیا پھر ان کی پیروی کرتے ہوئے مغلوں نے بھی اسے سولہویں سے اٹھارویں صدی تک اسی حالت میں برقرار رکھا، یوں صدیوں تک فارسی زبان نے جنوبی ایشیا میں اپنے قدم مضبوطی سے جمائے رکھے۔ اس طرح اس نے ہندوستانی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ 

اردو زبان کو ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ خاص کیا جاتا ہے اور اسی حوالے سے کئی نظریات بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ممتاز محقق حافظ محمود شیرانی کے نزدیک یہ زبان محمود غزنوی کے حملہ ہندوستان کے ادوار میں پنجاب میں پیدا ہوئی جب فارسی بولنے والے سپاہی پنجاب میں بس گئے نیز ان کے نزدیک یہ فارسی متکلمین دو سو سال تک دہلی فتح کرنے سے قبل وہاں آباد رہے، یوں پنجابی اور فارسی زبانوں کے اختلاط نے اردو کو جنم دیا پھر ایک آدھ صدی بعد جب اس نئی زبان کا آدھا گندھا خمیر دہلی پہنچا تب وہاں اس نے مکمل زبان کی صورت اختیار کی اس حوالے سے انھوں نے پنجابی اور اردو زبان میں کئی مماثلتیں بھی پیش کی ہیں۔ (سندھ جسے مسلمانوں نے اس سے بھی قبل فتح کیا کے متعلق ان کا خیال ہے کہ وہاں مسلمانوں نے مقامی زبان نہیں اپنائی)۔ شیرانی کے اسی نظریہ کو پنجاب میں اردو نامی مقالے میں لکھا گیا جس نے اردو زبان دانوں میں کافی شہرت پائی اور اسی کو دیکھ کر بہت سے محققین نے مسلمانوں کی آمد سے اردو کے آغاز کو جوڑنا شروع کیا اس طرح دکن میں اردو، گجرات میں اردو، سندھ میں اردو، بنگال میں اردو حتیٰ کہ بلوچستان میں اردو کے بھی نظریات سامنے آئے۔ (حقیقتاً شیرانی سے قبل بھی بعض محققین جیسے سنیت کمار چترجی، محی الدین قادری زور اردو پنجابی تعلق کے بارے میں ایسے خیالات رکھتے تھے البتہ اسے ثابت کرنے میں وہ دوسروں سے بازی لے گئے) حافظ شیرانی کے نظریہ کی مخالفت کرنے والوں میں مسعود حسین خان اور سبزواری جیسے محققین شامل ہیں جنہوں نے ان کے نظریے کو غلط ثابت کیا۔ ایک نظریہ یہ بھی مشہور ہے کہ اردو مغل بادشاہ اکبر کے لشکر میں وجود آئی لیکن بہت سے ماہرین لسانیات اس کی نفی کرتے ہیں۔ 

برطانوی راج میں فارسی کی بجائے ہندوستانی کو فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا اور ہندو مسلم دونوں اس پر عمل کرتے تھے۔ لفظ اردو کو شاعر غلام ہمدانی مصحفی نے 1780ء کے آس پاس سب سے پہلے استعمال کیا۔ تیرہویں سے اٹھارویں صدی تک اردو کو عام طور پر ہندی ہی کے نام سے پکارا جاتا رہا۔ اسی طرح اس زبان کے کئی دوسرے نام بھی تھے جیسے ہندوی ،ریختہ یا دہلوی۔ اردو اسی طرح علاقائی زبان بنی رہی پھر 1837ء میں فارسی کی بجائے اسے انگریزی کے ساتھ دفتری زبان کا درجہ دیا گیا۔ اردو زبان کو برطانوی دور میں انگریزوں نے ترقی دی تاکہ فارسی کی اہمیت کو ختم کیا جا سکے۔ اس وجہ سے شمال مشرقی ہندوستان کے ہندوؤں میں تحریک اٹھی کہ بجائے فارسی رسم الخط کہ اس زبان کو مقامی دیوناگری رسم الخط میں لکھا جانا چاہیے۔ نتیجتاً ہندوستانی کی نئی قسم ہندی کی ایجاد ہوئی اور اس نے 1881ء میں بہار میں نافذ ہندوستانی کی جگہ لے لی۔ اس طرح اس مسئلہ نے فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہندوستانی کو دو زبانوں اردو (برائے مسلم) اور ہندی (برائے ہندو) میں تقسیم کر دیا۔ اور اسی فرق نے بعد میں ہندوستان کو دو حصوں بھارت اور پاکستان میں تقسیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا (اگرچہ تقسیم سے پہلے اور بعد میں بھی بہت سے ہندو شعرا و مصنفین اردو سے سے جڑے رہے جن میں معروف منشی پریم چند ،گلزار، گوپی چند نارنگ ،آزاد اوروغیرہ ہیں)

اردو اور ہندی زبان کو پاک کرنے کی مہم اب بھی جاری ہے اور اس طرح اردو میں سنسکرت کی بجائے فارسی عربی الفاظ زیادہ داخل کیے جاتے ہیں جبکہ ہندی میں سنسکرت کے الفاظ کو فوقیت دی جاتی ہے۔ اس طریقے نے تعلیمی اور ادبی ذخیرہ الفاظ کو بہت متاثر کیا ہے اس کے باجود دونوں قوموں میں اب بھی سنسکرت اور فارسی کی جڑیں باقی ہیں۔ انگریزی نے ان دونوں زبانوں پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔

معیاری اُردو (کھڑی بولی) کے اصل بولنے والے افراد کی تعداد 60 سے 80 ملین ہے۔ ایس۔ آئی۔ ایل نژادیہ کے 1999ء کی شماریات کے مطابق اُردو اور ہندی دُنیا میں پانچویں سب سے زیادہ بولی جانی والی زبان ہے۔ لینگویج ٹوڈے میں جارج ویبر کے مقالے : 'دُنیا کی دس بڑی زبانیں ' میں چینی زبانوں، انگریزی اور ہسپانوی زبان کے بعد اُردو اور ہندی دُنیا میں سب سے زیادہ بولے جانی والی چوتھی زبان ہے۔ اِسے دُنیا کی کل آبادی کا 4.7 فیصد افراد بولتے ہیں۔ 

اُردو کی ہندی کے ساتھ یکسانی کی وجہ سے، دونوں زبانوں کے بولنے والے ایک دوسرے کو عموماً سمجھ سکتے ہیں۔ درحقیقت، ماہرینِ لسانیات اِن دونوں زبانوں کو ایک ہی زبان کے حصّے سمجھتے ہیں۔ تاہم، یہ معاشی و سیاسی لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ لوگ جو اپنے آپ کو اُردو کو اپنی مادری زبان سمجھتے ہیں وہ ہندی کو اپنی مادری زبان تسلیم نہیں کرتے اور اِسی طرح اِس کے برعکس۔ 

اُردو کو پاکستان کے تمام صوبوں میں سرکاری زبان کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ مدرسوں میں اعلٰی ثانوی جماعتوں تک لازمی مضمون کی طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ اِس نے کروڑوں اُردو بولنے والے پیدا کردیے ہیں جن کی زبان پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی، کشمیری، براہوی، چترالی وغیرہ میں سے کوئی ایک ہوتی ہے۔ اُردو پاکستان کی مُشترکہ زبان ہے اور یہ علاقائی زبانوں سے کئی الفاظ ضم کر رہی ہے۔ اُردو کا یہ لہجہ اب پاکستانی اُردو کہلاتی ہے۔ یہ اَمر زبان کے بارے میں رائے تبدیل کر رہی ہے جیسے اُردو بولنے والا وہ ہے جو اُردو بولتا ہے گو کہ اُس کی مادری زبان کوئی اَور زبان ہی کیوں نہ ہو۔ علاقائی زبانیں بھی اُردو کے الفاظ سے اثر پا رہی ہیں۔ پاکستان میں کروڑوں افراد ایسے ہیں جن کی مادری زبان کوئی اَور ہے لیکن وہ اُردو کو بولتے اور سمجھ سکتے ہیں۔ پانچ ملین افغان مہاجرین، جنھوں نے پاکستان میں پچیس برس گزارے، میں سے زیادہ تر اُردو روانی سے بول سکتے ہیں۔ وہ تمام اُردو بولنے والے کہلائیں گے۔ اس ہی حقیقت کے پیش نظر 2007 میں سید ندیم احمد نے اردو قوم کا نظریہ پیش کیا۔ اس نظریہ کے تحت ہر وہ شخص جو اردو سمجھتا، بولتا اور اسے اپنی مادری یا رابطے کی پہلی زبان سمجھتا ہے اردو قوم کا حصہ ہے چاہے اس کا تعلق کہیں سے بھی ہو۔ اس نظرئے کے مطابق اردو قوم کی تعداد ساری دنیا میں 30 کروڑ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ پاکستان میں اُردو اخباروں کی ایک بڑی تعداد چھپتی ہے جن میں روزنامہ جنگ، روزنامہ نوائے وقت اور ملّت شامل ہیں۔ 

بھارت میں، اُردو اُن جگہوں میں بولی اور استعمال کی جاتی ہے جہاں مسلمان اقلیتی آباد ہیں یا وہ شہر جو ماضی میں مسلمان حاکمین کے مرکز رہے ہیں۔ اِن میں اُتر پردیش کے حصے (خصوصاً لکھنؤ)، دہلی، بھوپال، حیدرآباد، بنگلور، کولکتہ، میسور، پٹنہ، اجمیر اور احمد آباد بھٹکل شامل ہیں۔ کچھ بھارتی مدرسے اُردو کو پہلی زبان کے طور پر پڑھاتے ہیں، اُن کا اپنا خاکۂ نصاب اور طریقۂ امتحانات ہیں۔ بھارتی دینی مدرسے عربی اور اُردو میں تعلیم دیتے ہیں۔ بھارت میں اُردو اخباروں کی تعداد 35 سے زیادہ ہے

حقیقت یہ ہے بھارت کا اردو کے بغیر گزارہ نہیں۔ ہندی زبان میں وہ صلاحیت نہیں کہ اسے عام لوگوں کی زبان بنایا جا سکے۔ ہندی کے کئی الفاظ تو خود ہندی بولنے والوں کی سمجھ میں بھی نہیں آتے۔ اس لیے انھیں آپس میں بات چیت کے لیے اردو کا سہارا لینا پڑتا ہے کیونکہ اردو کے لفظ سادہ اور عام فہم ہیں جن کو سمجھنا اور بولنا بہت آسان ہے۔ بھارت کی فلم انڈسٹری جو کہ دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹریز میں سے ایک ہے اور جہاں ہر سال اربوں روپے کی فلمیں بنتی ہیں۔ وہاں بھی ہر جگہ اردو ہی بولی جاتی ہے۔ فلموں کے مکالمات اور گیت سب اردو زبان میں ہی ہوتے ہیں۔ مکالموں میں تو ہندی کے چند الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں لیکن گیتوں میں سو فیصد اردو زبان ہی استعمال کی جاتی ہے۔ 

۔

جنوبی ایشیاء سے باہر اُردو زبان خلیجِ فارس اور سعودی عرب میں جنوبی ایشیائی مزدور مہاجر بولتے ہیں۔ یہ زبان برطانیہ، امریکا، کینیڈا، جرمنی، ناروے اور آسٹریلیا میں مقیم جنوبی ایشیائی مہاجرین بولتے ہیں۔

درج بالا فہرست سے پتہ چلتا ہے کہ اصل اُردو بولنے والوں کی زیادہ تعداد جنوبی ایشاء کی بجائے چھوٹے عرب ریاستوں (متحدہ عرب امارات، بحرین) میں ہے، جہاں اُن کی تعداد وہاں کی کل آبادی کا 10 فیصد سے زیادہ ہے۔ اِس کی وجہ وہاں پر پاکستان اور بھارتی تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد ہے۔ 

اُردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور یہ پورے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ یہ تعلیم، اَدب، دفتر، عدالت، وسیط اور دینی اِداروں میں مستعمل ہے۔ یہ ملک کی سماجی و ثقافتی میراث کا خزانہ ہے۔

اُردو بھارت کی سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ یہ بھارتی ریاستیں آندھرا پردیش، بہار، جموں و کشمیر، اُتر پردیش، جھارکھنڈ، دار الخلافہ دہلی کی سرکاری زبان ہے۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر، کرناٹک، پنجاب اور راجستھان وغیرہ ریاستوں میں بڑی تعداد میں بولی جاتی ہے۔ بھارتی ریاست مغربی بنگال نے بھی اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے رکھا ہے۔ 

لاطینی جیسی قدیم زبانوں کی طرح اردو صرف و نحو میں فقرے کی ساخت فاعل-مفعول-فعل انداز میں ہوتی ہے۔ مثلاً فقرہ ہم نے شیر دیکھا میں ہم=فاعل، شیر=مفعول اور دیکھا=فعل ہے۔ کئی دوسری زبانوں میں فقرے کی ساخت فاعل-فعل-مفعول انداز میں ہوتی ہے۔ مثلاً انگریزی میں کہیں گے وی سا آ لائن۔

اردو کی بولیاں جن کو شناخت کیا گیا ہے وہ یہ ہیں ؛ 

پاکستان میں اردو پر پشتو، پنجابی،سرائیکی، بلوچی، سندھی زبانوں کا اثر پایا جاتا ہے , مقامی زبانوں کے اثر کی وجہ سے اردو کے حروف تہیجی عربی اور فارسی سے زیادہ ہیں بنیادی طور پر پاکستان کی اردو پر فارسی اور عربی کا زیادہ اثر پایا جاتا ہے۔

اردو ادب نے حالیہ صدیوں میں حقیقی مقام پایا، اس سے کئی صدیوں پہلے تک سلاطین دہلی پر فارسی کا غلبہ تھا۔ فارسی کی جگہ اردو نے بڑی آسانی سے پالی اور یہاں تک کہ لوگوں کو شک ہوتا ہے کہ فارسی کبھی سرکاری زبان تھی بھی کہ نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ اردو کے مصنفین اور فنکار ہیں۔ 

اردو زبان میں اسلامی ادب اور شریعت کی کئی تصانیف ہیں۔ اس میں تفسیر القران، قرآنی تراجم، احادیث، فقہ، تاریخ اسلام، روحانیت اور صوفی طریقہ کے بے شمار کتب دستیاب ہیں۔ عربی اور فارسی کی کئی کلاسیکی کتب کے بھی تراجم اردو میں ہیں۔ ساتھ ساتھ کئی اہم، مقبول، معروف اسلامی ادبی کتب کا خزینہ اردو میں دستیاب ہے۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ پنڈت روپ چندجوشی نے 18وں صدی میں ایک کتاب لکھی جس کا نام لال کتاب ہے۔ اس کا موضوع فالنامہ ہے۔ یہ کتاب برھمنوں کے اُن خاندانوں میں جہاں اردو عام زبان تھی، کافی مشہور کتاب مانی گئی۔

غیر مذہبی ادب کو پھر سے دو اشکال میں دیکھ سکتے ہیں۔ ایک فکشن ہے تو دوسرا غیر فکشن۔ 

دیگر اصناف ہیں۔ 

ادب کا دوسرا قسم نظم ہے۔ نظم کے معنی موتی پرونا ہے۔ یعنی ادب، بیان کا کلام کو ایک ترتیب وار ہیئت کے ساتھ پیش کریں تو وہ صنف نظم کہلاتی ہے۔ اس ادب کو اردو نظمی ادب کہتے ہیں۔ لیکن آج کل اس نظمی ادب کو اردو شاعری یا شاعری کے نام سے بھی جانا جانے لگا ہے۔ 

جنوبی ایشیاء میں اردو زبان ایک اہم زبان ہے۔ بالخصوص نظم میں اردو زبان کے مقابلہ میں دوسری زبان نہیں۔ اردو کی روایات میں کئی اصناف ہیں جن میں غزل ایک شاہانہ آشکار مانا جاتا ہے۔ 

نظمی اردو (اردو شاعری) میں ذیل کے اصناف ہیں :




#Article 5: تاریخ ہند (770 words)


تقريبا 2500 سال قبل مسيح سے لے کر 1500 سال قبل مسيح تک دریائے سندھ اور سرسوتی کی واديوں ميں ايک بہت بڑی تہذيب بستی تھی۔ اس کو سندھ طاس تہذيب کہا جاتا ہے۔ اپنے زمانے ميں يہ دنيا ميں سب سے وسيع رقبے پر پھيلی ہوئی تہذيب تھی۔

سندھ طاس تہذيب کے آخری دنوں ميں يا اس کے ذرا بعد وسط ایشیا سے آريہ بر صغير ميں داخل ہوئے۔ مقامی لوگوں کے ساتھ ميل جول ہوا اور ايک ن‏‏ئی تہذيب نے جنم ليا۔ اس زمانے ميں ويد لکھے گئے۔ يہ دور ہندو تہذيب کی شروعات کا دور تھا۔

بر صغير سے سکندر اعظم کے جانے کے بعد موريا دور کا آغاز ہوا۔ اس کی بنياد چانكيہ جى مہاراج نے ركھى بادشاہ گر چانكيہ جى نے چندرگپت كو راجا بنا كر اس كو ارتھ شاستر نام کی كتاب لكھ كر دى جس ميں سلطنتوں كو بنانے كے گر لكھے۔ اس ہی خاندان کا ايک مشہور بادشاہ اشوک تھا۔ يہ راجا گوتم بدھ كا ماننے والا تھا اس دور ميں بدھ مت بہت تيزی سے پھيلا۔ اس دور کے دوران اور اس کے بعد يونانيوں اور کشانوں کا اثر برقرار رہا۔کشان راجہ گجر قوم سے تھا-جس پورا نام مہاراجہ کنشک کسانہ تھا۔ اس کی اولاد آگے چل کر کسانہ کہلائی اور اس کا دارلخلافہ قنوج تھا۔ جس کے کھنڈرات آج بھی شمالی بھارت میں ہیں۔

تيسری صدی سے لے کر پانچويں صدی تک شمالی ہند ميں گپتا خاندان کی حکومت تھی۔ اس دور کو ايک سنہرا دور کہا جا سکتا ہے جس ميں علوم و فنون اور ادب کو بہت فروغ ملا۔ يہ دور ہندو نشات ثانيہ کا دور تھا۔

اس دوران میں دکن ميں چولا سلطنت قائم تھی۔ اس کے جنوب مشرقی ايشيا سے بہت گہرے تعلقات تھے۔

ہن 450ء سے 528ء تک گپتا خاندان کی تباہی ان منگول قوموں کے ہاتھوں ہوئی جو ہن کہلاتی تھیں یہ لوگ سفید رنگت کی وجہ سے سفید ہن کہلائے۔ ان کی ایک شاخ ایران میں مقیم ہو گئی جبکہ ایک گروہ ترکی چلا گیا جبکہ ہن قبائل کی ایک شاخ یورپ جا کر آباد ہو گئی اور 450ء کے قریب پنجاب میں آکر آباد ہوئیں۔ یہاں سے چل کر یہ لوگ جمنا کی تلہٹی میں پہنچے اور اس وقت کے گپت راجا پر غالب آئے۔ ان کے سردار کا نام تورمان تھا۔ اس نے 500ء کے قریب اپنے آپ کو مالوے کا راجا بنایا اور مہاراجا کہلوایا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا مہر گل گدی پر بیٹھا۔ یہ بڑا بے رحم تھا اور ظالم حکمران تھا۔ اس نے لاتعدادآدمی قتل کرائے ان کے ظلم وستم اس حد تک بڑھ گئے کہ ہندوستان کے راجاؤں نے مہر گل کے خلاف اتحاد کر لیا آخرکار مگدھ کا راجا بالا دتیہ وسط ہند کے ایک راجا یسودھرمن کی مدد سے بڑی بھاری فوج لے کر اس کے مقابلے پر آیا۔ اور 528ء میں ملتان کے قریب کہروڑ کے مقام پر شکست دے کر اس کو اور اس کی فوج کو ہند سے نکال دیا۔ مہر گل کشمیر چلا گیا وہاں کے راجا نے اسے پناہ دی۔ ہن ہند میں سو برس کے قریب رہے۔ روایات کے مطابق ہن قبائل نے خود کو چرواہوں اور کاشت کاروں میں بدل دیا یہ لوگ زیادہ تر گائے کی افزائش نسل کرتے تھے اس لیے انہیں گاؤ چر  کا خطاب ملا جو کثرت استعمال سے گجر بن گیا انہیں نے ہندوستان میں گجرات،گوجرہ اور گوجرانوالہ کے شہر آباد کیے۔ موجودہ پاکستان اور بھارت کی سیاست میں ان کا اہم مقام ہے۔

تيرہويں صدی ميں شمالی ہند ميں دہلی سلطنت قائم ہوئی۔ اس کا آغاز خاندان غلاماں نے رکھا۔ اس کے بعد شمالی ہند کا تاج خلجی، تغلق، سيد اور پھر لودھی خاندانوں کے پاس گيا۔

اس دوران جنوبی ہند ميں باہمنی اور وجے نگر سلطنتیں قائم تھيں۔

سن 1526ء ميں شہنشاہ بابر نے دہلی پر قبضہ کر کے بر صغير ميں مغل سرکار کی بنياد رکھی۔ اس کے بعد تاج ہمايوں، اکبر، جہانگیر، شاہ جہاں اور اورنگزيب کے پاس گيا۔ يہ دو سو سال بر صغير کا ايک سنہرا دور تھا۔ اس دور ميں علم و ادب اور فن نے بہت ترقی کی۔

اس دوران جنوبی ہند ميں ايک ايک کر کے مغلوں نے کئی علاقوں پر قبضہ کر ليا۔

بر صغير ميں یورپی اثر سولہويں صدی سے بڑھتا جا رہا تھا۔ انگريزوں نے کئی علاقوں ميں حکومت کرنا شروع کر دی تھی۔ سن 1857ء ميں بر صغير کے لوگوں نے انگريزوں کے خلاف سب سے پہلی جنگ آزادی لڑی جس ميں وہ ہار گئے۔

سنہ 1947ء ميں برطانوی ہند کی تقسیم کے ساتھ پاکستان اور ہندوستان کو آزادی ملی۔ 1971ء ميں بنگلہ ديش پاکستان سے عليحدہ ہو گيا۔ 1972ء ميں سری لنکا کو مکمل آزادی مل گئی۔




#Article 6: الجزائر (2600 words)


الجزائر  جسے انگریزی میں الجیریا بھی کہتے ہیں، شمالی افریقہ میں واقع ایک ملک ہے۔ رقبے کے اعتبار سے بحیرہ روم پر واقع سب سے بڑا، عرب دنیا اور افریقی براعظم میں سوڈان کے بعد سب سے بڑا ملک ہے۔ دنیا میں اس کا 11واں نمبر ہے۔

الجزائر کے شمال مشرق میں تیونس، مغرب میں مراکش، جنوب مغرب میں مغربی صحارا، موریتانیا اور مالی ہیں۔ جنوب مشرق میں نائجر جبکہ شمال میں بحیرہ روم واقع ہیں۔ اس کا رقبہ تقریباً 24 لاکھ مربع میل جبکہ آبادی 3 کروڑ 57 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ الجزائر کے دار الحکومت کا نام بھی الجزائر ہے۔

الجزائر عرب لیگ، اقوامِ متحدہ اور اوپیک کا رکن ہے۔

ملک کا نام اس کے شہر الجزائر سے نکلا ہے۔ ایک اندازہ ہے کہ یہ لفظ جزائر بنی مازغان کی مختصر شکل ہے۔

پرانے دور میں الجزائر کو سلطنتِ نومیڈیا کہا جاتا تھا۔ اس کے لوگ نومیڈین کہلاتے تھے۔ اس سلطنت کے تعلقات اس دور کے قدیم یونان اور رومن اقوام کے ساتھ تھے۔ اس علاقے کو زرخیز علاقے کے طور پر جانا جاتا تھا اور یہاں کے لوگ گھڑ سواری کے ماہر تھے۔

شمالی افریقہ کے مقامی لوگ بالاخر بربر بنے۔

بربر قبائل قرونِ وسطٰی کے دوران زیادہ تر مغرب کے علاقے پر قابض رہے۔ بربر قبائل بذاتِ خود کئی قبائل پر مشتمل تھے۔

قرونِ وسطٰی میں مغرب، سوڈان، اٹلی، مالی، نائجر، سینیگال، مصر اور دیگر نزدیکی جزائر پر بربروں کے مختلف قبائلوں نے اپنی سلطنتیں قائم کیں۔ ابنِ خلدون نے ان قبائل کی کل تعداد 12 بیان کی ہے۔

جب مسلمان عرب 7ویں صدی کے وسط میں یہاں پہنچے تو مقامی افراد کی بڑی تعداد نے اسلام قبول کر لیا۔ عرب امیہ سلطنت کے 751 عیسوی میں زوال کے بعد بہت ساری مقامی بربر سلطنتیں قائم ہوئیں جن میں الغالبہ، الموحدون، عبد الودید، زیریون، رستمیوں، حمیدیوں اور فاطمی وغیرہ اہم ہیں۔

ہسپانویوں کی شمالی افریقہ میں توسیع پسندوں نے کیتھولک بادشاہ اور ملکہ کی مدد سے آئبیرین کے جزیرہ نما پر قبضہ کر لیا۔ الجزائر کے ساحل پر بہت سارے قصبوں اور بیرونی چوکیوں پر ہسپانویوں نے قبضہ کر لیا۔ 15 جولائی 1510 کو الجزائر کے بادشاہ کو زبردستی ہسپانوی بادشاہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا گیا۔ بعد ازاں 1516 کو 1٫300 ترک سپاہیوں اور 16 بحری جہازوں کی مدد سے یہاں قبضہ کر کے الجزائر کو سلطنت عثمانیہ سے ملا دیا گیا۔

الجزائر کو خیرالدین بربر اور اس کے بھائی عروج نے 1517 میں سلطنتِ عثمانی سے جوڑ دیا۔ 1541 میں مقدس رومن سلطنت کے بادشاہ چارلس پنجم نے الجزائر پر 65 بحری جنگی جہازوں اور 23٫000 فوجیوں کی مدد سے حملہ کر دیا۔ اس فوج میں 2٫000 گھڑ سوار بھی شامل تھے۔ تاہم انہیں بدترین شکست ہوئی اور الجزائر کے رہنما حسن آغا کو قومی رہنما مان لیا گیا۔ الجزائر بہت بڑی فوجی قوت بن کر ابھرا۔

عثمانیوں نے الجزائر کی موجودہ سرحدیں شمال میں قائم کر دیں۔ عثمانی جہادیوں کے لیے الجزائر کے ساحل پڑاؤ کا کام کرنے لگے۔ 17ویں صدی میں عثمانیوں کے امریکی بحری جہازوں پر حملوں کی وجہ سے پہلی اور دوسری بربر جنگیں ہوئیں۔ دونوں اطراف کی فوجیں دشمنوں کو پکڑنے کے بعد غلام بنا دیتی تھیں۔

ان لوگوں کے گہرے اثر و رسوخ کی بنا پر اس علاقے کو بربری ساحل کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ اکثر یورپی ساحلوں پر حملہ کر کے مسیحیوں کو غلام بنا کر ترکی، مصر، ایران، الجزائر اور مراکو کے بازاروں میں بیچ دیتے تھے۔ رابرٹ ڈیوس کے مطابق 16ویں سے 19ویں صدی کے دوران دس لاکھ سے ساڑھے بارہ لاکھ یورپیوں کو غلام بنا کر بیچا گیا۔ ان لوگوں کی اکثریت اٹلی، سپین اور پرتگال کی ساحلی بستیوں کے علاوہ فرانس، انگلینڈ، آئرلینڈ، ہالینڈ، جرمنی، پولینڈ، روس، سکینڈے نیویا، آئس لینڈ، ہندوستان، جنوبی مشرقی ایشیا اور شمالی امریکا سے پکڑی گئی تھی۔

ان حملوں کا اثر تباہ کن تھا۔ فرانس، انگلینڈ اور سپین کے ہزاروں بحری جہاز تباہ ہوئے اور سپین اور اٹلی کے ساحلوں کا بہت بڑا حصہ غیر آباد ہو گیا۔ 19ویں صدی تک انہی بحری قذاقوں کی وجہ سے ساحلی علاقے غیر آباد رہے۔

شمالی افریقہ کے شہروں پر طاعون کا بہت برا حملہ ہوا۔ اندازہ ہے کہ الجزائر ہی میں طاعون کی مختلف وباؤں سے 30٫000 سے 50٫000 شہری ہلاک ہوئے۔

اپنے سفیر کی بے عزتی کے پیشِ نظر فرانسیسیوں نے 1830 میں حملہ کر کے الجزائر پر قبضہ کر لیا۔ تاہم یہ جنگ بہت طویل تھی اور بہت خون خرابا ہوا۔ 1830 سے 1872 تک مقامی آبادی جنگوں اور بیماریوں کی وجہ سے ایک تہائی کم ہو گئی۔

قبضے کے بعد فرانس نے ہر ممکن کوشش کر کے الجزائر کو فرانس کا اٹوٹ انگ بنایا۔ فرانس، سپین، اٹلی اور مالٹا سے ہزاروں میں آبادکار الجزائر منتقل ہوئے اور الجزائر کے ساحلی میدانوں پر کاشتکاری کے علاوہ شہروں کے اہم حصوں پر بھی قابض ہو گئے۔ ان آبادکاروں کو حکومتِ فرانس کی پشت پناہی حاصل تھی۔

الجزائر کی 1962 میں آزادی کے بعد یہاں یورپی النسل افراد کو کالے پیروں والے کہا جانے لگا کیونکہ آبادکار کالے بوٹ پہنتے تھے۔ تاہم یہ نام محض ہتک کے لیے لیا جاتا تھا۔ تاہم مسلمان الجزائرئی باشندوں کی بہت بڑی اکثریت کو بشمول پرانے فوجیوں کے، فرانسیسی شہریت اور ووٹ کے حق سے محروم رکھا گیا۔

الجزائر کے پہلے صدر احمد بن بلا تھے جنہیں ان کے ہی معتمد اور سابقہ حلیف بومدین نے اقتدار سے ہٹا دیا۔ احمد بن بلا کے دور میں حکومت کا رحجان سوشلسٹ اور آمرانہ تھا۔ ان کے بعد یہ رحجان جاری رہا۔ تیل نکالنے کے پلانٹوں کو قومیا لیا گیا۔ اسی دور میں زراعت کو انفرادی سطح سے اجتماعی سطح پر لایا گیا اور صنعتی انقلاب کی راہ ہموار ہوئی۔ تاہم اس کے نتیجے میں تیل پر انحصار بڑھ گیا اور 1980 کی دہائی میں تیل کی گرتی قیمتوں سے ملکی معیشت بیٹھ گئی۔

الجزائر کے خارجہ تعلقات مغربی ہمسائے مراکو سے اچھے نہیں۔ اس کی وجوہات میں مراکو کا الجزائر کے کچھ علاقوں پر قبضہ اور الجزائر کی طرف سے مراکو کے علیحدگی پسندوں کی حمایت وغیرہ اہم ہیں۔
الجزائر میں اختلافِ رائے کی گنجائش نہیں ہے اور حکومت زیادہ تر میڈیا پر قابض ہے۔ 1976 کے آئین کے تحت ایک کے سوا تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

جدت پسندی کی وجہ سے الجزائر کی آبادی کی خصوصیات میں کافی تبدیلیاں ہوئیں۔ دیہاتوں کی شکل و صورت بدلنے لگی اور شہروں کی طرف منتقلی کا رحجان بڑھ گیا۔ نت نئی صنعتیں قائم ہوئیں اور زراعت میں لوگوں کی توجہ کم ہو گئی۔ ملک بھر میں تعلیم عام ہو گئی اور شرحِ خواندگی 10 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد تک جا پہنچی۔ فی عورت بچوں کی اوسط 7 سے 8 ہو گئی۔

الجزائر کا زیادہ تر حصہ اب بحالی کی راہ پر چل رہا ہے اور ملکی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ تیل اور قدرتی گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نئی حکومت کو ملکی ڈھانچے کی تعمیرِ نو میں مدد مل رہی ہے۔

الجزائر کا زیادہ تر ساحلی علاقہ پتھریلا اور چٹانی ہے اور کہیں کہیں پہاڑ بھی ملتے ہیں۔ تاہم یہاں کئی قدرتی بندرگاہیں بھی موجود ہیں۔ ساحل سے لے کر اطلس التلی تک کا علاقہ زرخیز ہے۔ اطلس التلی کے بعد کا علاقہ گھاس کے وسیع و عریض میدانوں پر مشتمل ہے جو کوہ اطلس کے مشرقی حصے تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے بعد صحرائے صحارا ہے۔

ھقار کے پہاڑ دراصل وسطی صحارا کے بلند علاقے ہیں جو دار الحکومت سے 1٫500 کلومیٹر جنوب میں ہیں۔

الجزائر، وہران، قسطنیہ، تیزی وزو اور عنابہ بڑے شہر ہیں۔

اس وقت افریقہ میں سوڈان کے بعد الجزائر سب سے بڑا ملک ہے۔ تاہم جولائی 2011 میں جنوبی سوڈان کی علیحدگی کے بعد الجزائر افریقہ کا سب سے بڑا ملک بن جائے گا۔

الجزائر کا موسم عموماً سال بھر گرم رہتا ہے۔ تاہم سورج غروب ہونے کے بعد خشک اور صاف ہوا سے گرمی جلد ہی ختم ہو جاتی ہے اور راتوں کو درجہ حرارت گر جاتا ہے۔

سرکاری طور پر سب سے زیادہ گرمی ان صلاح میں پڑی جو 50.6 ڈگری ریکارڈ کی گئی۔

بارش زیادہ تر ساحلی علاقوں پر ہوتی ہے اور بارش کی مقدار مغرب سے مشرق کو زیادہ ہوتی جاتی ہے۔ شمال مشرقی الجزائر میں سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔

الجزائر میں ریت کی پہاڑیاں بھی پائی جاتی ہیں۔

صدر ملک کا سربراہ ہوتا ہے جو پانچ سال کے لیے چنا جاتا ہے۔ 2008 کے قانون سے قبل ہر صدر زیادہ سے زیادہ دو بار منتخب ہو سکتا تھا۔ 18 سال کی عمر میں ووٹ ڈالنے کا حق ملتا ہے۔ صدر وزراء کی کونسل اور ہائی سکیورٹی کونسل کا سربراہ ہوتا ہے۔ صدر وزیرِ اعظم کا تقرر کرتا ہے جو حکومت کے سربراہ کا کام کرتا ہے۔ وزیرِ اعظم وزراء کی کونسل کا تقرر کرتا ہے۔

الجیریا کی پارلیمان دو ایوانوں پر مشتمل ہے۔ ایوانِ زیریں کو نیشنل پیپلز اسمبلی کہتے ہیں جس کے 380 اراکین ہوتے ہیں۔ ایوانِ بالا جسے کونسل آف نیشن کہتے ہیں کے 144 اراکین ہوتے ہیں۔ ایوانِ زیریں کے لیے ہر پانچ سال بعد انتخابات ہوتے ہیں۔

الجیریا کی فوج بری، بحری، ہوائی اور علاقائی ائیر ڈیفنس فوجوں پر مشتمل ہے۔ فوج کا سربراہ ملک کا صدر ہوتا ہے جس کے پاس ملکی وزیرِ دفاع کا عہدہ بھی ہوتا ہے۔

کل فوجیوں کی تعداد 1٫47٫000 ہے۔ ریزرو فوجیوں کی تعداد 1٫50٫000 جبکہ نیم فوجیوں کی تعداد 1٫87٫000 ہے۔ 19 سے 30 سال تک کی عمر کے نوجوان مردوں کے لیے فوجی خدمات لازمی ہیں جو ڈیڑھ سال پر محیط ہوتی ہیں۔ اس میں چھ ماہ تربیت اور ایک سال شہری منصوبوں پر کام کرنا شامل ہے۔ 2006 کے تخمینے کے مطابق الجزائر اپنی فوج پر کل قومی آمدنی کا 2.7 فیصد سے 3.3 فیصد تک خرچ کرتا ہے۔

الجزائر زیادہ تر روسی اور چینی ساخت کا اسلحہ استعمال کرتا ہے جو فوجی تجارت کے معاہدوں کے تحت خریدا جاتا ہے۔

الجزائر کی ہوائی فوج نے 2007 میں روس سے 55 مگ 29 جنگی طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا ہے جو تقریباً دو ارب ڈالر مالیت کا ہے۔ اسی معاہدے کے تحت الجزائر روس کو پرانے جہاز بھی واپس کرے گا جو اس نے سابقہ سوویت یونین سے خریدے تھے۔ روس الجزائر کے لیے دو ڈیزل آبدوزیں بھی بنا رہا ہے۔

اکتوبر 2009 میں مبینہ اسرائیلی پرزوں کو شامل کرنے کے امکان کے پیشِ نظر الجزائر نے فرانس سے ہونے والا فوجی معاہدہ ختم کر دیا ہے۔

الجزائر میں 48 صوبے، 553 اضلاع اور 1٫541 بلدیات ہیں۔ ہر صوبے، ضلع اور بلدیہ کا نام عموماً اس کے سب سے بڑے شہر پر رکھا جاتا ہے۔ آئین کے مطابق ہر صوبے کو کسی حد تک معاشی آزادی حاصل ہوتی ہے۔

پیپلز پراونشل اسمبلی صوبے پر حکومت کرتی ہے۔ اس کا اپنا صدر ہوتا ہے جسے اسمبلی کے اراکین چنتے ہیں۔ اسمبلی کے اراکین کو 5 سال کی مدت کے لیے عام انتخابات سے چنا جاتا ہے۔ والی یعنی گورنر بھی ہر صوبے کے لیے الگ موجود ہوتا ہے۔ والی کو ملک کا صدر مقرر کرتا ہے۔

معدنی تیل ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتا ہے اور کل قومی آمدنی کا 30 فیصد سے زیادہ پیدا کرتا ہے۔ تاہم یہ مقدار برآمدات کے 95 فیصد پر مشتمل ہے۔ تیل کے ذخائر کے حوالے سے الجزائر کا 14واں نمبر ہے۔ یہاں کل 11.8 ارب بیرل کے ذخائر کا تخمینہ لگایا جا چکا ہے تاہم اصل مقدار اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ امریکی توانائی کے انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے محکمے کی 2005 کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ الجزائر میں 160 کھرب مکعب فٹ قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں جو دنیا بھر میں 8ویں نمبر پر آتے ہیں۔ معدنی تیل اور گیس کے علاوہ ملکی آمدنی 2003 سے 2007 تک 6 فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھی ہے۔ بیرونی قرضے تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور حکومت نے تیل کی آمدنی سے فنڈ قائم کیا ہے۔ افراطِ زر کی شرح پورے خطے میں سب سے کم ہے اور 2003 سے 2007 تک محض 4 فیصد رہی ہے۔

الجزائر کے معاشی اور مالی اشاریئے 1990 کی دہائی کے وسط سے بہتر ہونے لگے تھے۔ اس کی اہم وجہ پیرس کلب کے قرضوں کی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی طرف سے ری شیڈیولنگ تھی۔ 2000 اور 2001 میں الجزائر کی آمدنی پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور حکومت کی سخت مالیاتی پالیسیوں سے مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ اس سے تجارتی سرپلس اور فارن کرنسی میں اضافے کے علاوہ بیرونی قرضے میں کمی ہوئی۔

تاہم حکومت کی جانب سے بیرونی اور ملکی سرمایہ کاروں کو ملک میں توانائی کے علاوہ دیگر منصوبوں میں سرمایہ کاری پر راغب کرنے سے بے روزگاری کی شرح کم نہیں ہوئی۔ 2001 میں الجزائر کی حکومت نے یورپی یونین سے معاہدہ کیا ہے جس کے تحت مصنوعات کی قیمتیں کم اور کل تجارت بڑھ جائے گی۔ 2004 میں روس نے الجزائر کے ذمے 4.74 ارب ڈالر مالیت کا پرانا قرضہ معاف کرنے کا اعلان کیا۔ اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے الجزائر کے صدر نے روس سے 7.5 ارب ڈالر مالیت کے جنگی جہاز، فضائی دفاع کے آلات اور دیگر اسلحہ جات خریدنے کا اعلان کیا۔

الجزائر ہمیشہ سے ہی اپنی زرخیز زمین کے حوالے سے مشہور رہا ہے۔ کل آبادی کا چوتھائی حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔

امریکا کی خانہ جنگی کے دوران یہاں کپاس کی کاشت بہت بڑھ گئی تھی۔ 20ویں صدی کے اوائل میں زراعت پر پھر سے زور دیا جانے لگا تھا۔ بونی کھجوروں کی بہت بڑی تعداد ان کے پتوں کے حصول کے لیے کاشت کی گئی ہے۔ زیتون اور تمباکو بھی کامیاب ترین فصلوں میں سے ہیں۔

تقریباً 83 فیصد آبادی الجزائری عربی بولتی ہے جبکہ 15 فیصد کے قریب لوگ بربر لہجے کو اپناتے ہیں۔ فرانسیسی کو بھی بڑے پیمانے پر سمجھا جاتا ہے۔

یورپی النسل افراد کل آبادی کا 1 فیصد سے بھی کم ہیں اور تقریباً تمام تر ہی بڑے شہروں میں رہتے ہیں۔

آبادی کے مکانات اور صحت کی سہولیات کی کمی ملک کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے جو بہت بڑی تعداد میں آبادی کے شہروں کی طرف رخ کرنے سے پیدا ہوا ہے۔

الجزائر کے وکلا میں سے 70 فیصد اور ججوں میں سے 60 فیصد خواتین ہیں۔ صحت کے شعبے میں بھی خواتین کی اجارہ داری ہے۔ گھریلو آمدنی میں مردوں کی نسبت عورتوں کا حصہ بڑھ رہا ہے۔ یونیورسٹیوں میں 60 فیصد خواتین طالبات ہیں۔

الجزائر کے عرب اکثریتی گروہ ہیں جبکہ بربر قبائل آبادی کا چوتھائی ہیں۔

الجزائر کی سرکاری زبان عربی ہے جو 1963 کے آئین میں واضح کی گئی ہے۔ 8 مارچ 2002 کو آئین میں ایک ترمیم کے ذریعے بربر زبان کو بھی قومی زبان کا درجہ دیا گیا ہے۔ عربی اور بربر زبانیں کل آبادی کا 99 فیصد سے زیادہ حصہ بولتا ہے۔ فرانسیسی کو سرکاری درجہ حاصل نہیں لیکن آبادی کی اکثریت فرانسیسی کو سمجھ اور بول سکتی ہے۔

الجزائر کا عربی کے لیے اپنا لہجہ ہے جو 78 فیصد سے زیادہ افراد بولتے ہیں۔ 5 فیصد افراد عام عربی بولتے ہیں۔ تاہم سرکاری اور اہم مواقع پر عام عربی استعمال ہوتی ہے۔ بہت سارے بربر الجزائری عربی کو ثانوی زبان کے طور پر بولتے ہیں۔ عربی کو واحد سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔

بربر زبان کو کل آبادی کا تقریباً 40 فیصد حصہ بولتا ہے۔ آئین میں ہونے والی حالیہ ترمیم سے بربر کو قومی زبان تسلیم کیا گیا ہے۔

فرانسیسی بطور غیر ملکی زبان کے سب سے زیادہ پڑھی جاتی ہے اور الجزائری باشندوں کی اکثریت اسے سمجھ اور بول سکتی ہے۔ تاہم روزمرہ استعمال میں نہیں آتی۔

الجزائر میں اڑھائی لاکھ مسیحی بھی ہیں۔

الجزائر میں 46 یونیورسٹیاں، 10 کالج اور 7 ادارے اعلٰی تعلیم دیتے ہیں۔ الجزائر میں تعلیمی نظام بنیادی، جنرل سیکنڈری اور ٹیکنیکل سیکنڈری سکولوں پر مشتمل ہے۔

بنیادی سکول 9 سالہ تعلیم پر مشتمل ہوتا ہے۔

جنرل سیکنڈری 3 سالہ ہوتا ہے۔

ٹیکنیکل سیکنڈری 3 سالہ تعلیم پر مشتمل ہوتا ہے۔




#Article 7: کراچی (3920 words)


کراچی (سندھی: ڪراچي) () پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور صنعتی، تجارتی، تعلیمی، مواصلاتی و اقتصادی مرکز ہے۔ کراچی دنیا کاچهٹا بڑا شہر ہے۔ کراچی پاکستان کے صوبہ سندھ کا دارالحکومت ہے۔ شہر دریائے سندھ کے مغرب میں بحیرہ عرب کی شمالی ساحل پر واقع ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ اور ہوائی اڈا بھی کراچی میں قائم ہے۔ کراچی 1947ء سے 1960ء تک پاکستان کا دار الحکومت بھی رہا۔
موجودہ کراچی کی جگہ پر واقع قدیم ماہی گیروں کی بستی کا نام مائی کولاچی تھا۔ جو بعد میں بگڑ کر کراچی بن گیا انگریزوں نے انیسویں صدی میں اس شہر کی تعمیر و ترقی کی بنیادیں ڈالیں۔ 1947ء میں پاکستان کی آزادی کے وقت کراچی کو نو آموز مملکت کا دار الحکومت منتخب کیا گیا۔ اس کی وجہ سے شہر میں لاکھوں مہاجرین کا دخول ہوا۔ پاکستان  کا دار الحکومت اور بین الاقوامی بندرگاہ ہونے کی وجہ سے شہر میں صنعتی سرگرمیاں دیگر شہروں سے قبل شروع ہو گئیں۔ 1959ء میں پاکستان کے دار الحکومت کی اسلام آباد منتقلی کے باوجود کراچی کی آبادی اور معیشت میں ترقی کی رفتار کم نہیں ہوئی۔

پورے پاکستان سے لوگ روزگار کی تلاش میں کراچی آتے ہیں اور اس وجہ سے یہاں مختلف مذہبی، نسلی اور لسانی گروہ آباد ہیں۔ کراچی کو اسی وجہ سے چھوٹا پاکستان بھی کہتے ہیں۔ ان گروہوں کی باہمی کشیدگی کی وجہ سے 80 اور 90 کی دہائیوں میں کراچی لسانی فسادات، تشدد اور دہشت گردی کا شکار رہا۔ بگڑتے ہوئے حالات کو سنبھالنے کے ليے پاک فوج کو بھی کراچی میں مداخلت کرنی پڑی۔ اکیسویں صدی میں تیز قومی معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ کراچی کے حالات میں بہت تبدیلی آئی ہے۔ کراچی کی امن عامہ کی صورت حال کافی بہتر ہوئی ہے اور شہر میں مختلف شعبوں میں ترقی کی رفتار میں بہت اضافہ ہوا ہے۔

کراچی دریائے سندھ کے دہانے کی شمالی حد پر واقع ہے۔ شہر ایک قدرتی بندرگاہ کے گرد وجود پایا۔ کراچی 52´ 24° شمال اور 03´ 67° مشرق پر واقع ہے۔

قدیم یونانی کراچی کے موجودہ علاقہ سے مختلف ناموں سے واقف تھے: کروکولا، جہاں سکندر اعظم وادی سندھ میں اپنی مہم کے بعد، اپنی فوج کی واپس بابل روانگی کی تیّاری کے لیے خیمہ زن ہوا ؛ بندر مرونتوبارا (Morontobara)، (ممکنً کراچی کی بندرگاہ سے نزدیک جزیرہ منوڑہ جہاں سے سکندر کا سپہ سالار نییرچس(نیارخوس) واپس اپنے وطن روانہ ہوا ؛ اور بربیریکون(بارباریکون)، جو ہندوستانی یونانیوں کی باختری مملکت کی بندرگاہ تھی۔ اس کے علاوہ، عرب اس علاقہ کو بندرگاہِ دیبل کے نام سے جانتے تھے، جہاں سے محمد بن قاسم نے 712ء میں اپنی فتوحات کا آغاز کیا۔ برطانوی تاریخ دان ایلیٹ کے مطابق موجودہ کراچی کے چند علاقے اور جزیرہ منوڑہ، دیبل میں شامل تھے۔

موجودہ نام کراچی سے پہلے کراچی کو مکران (بلوچستان) کے علاقے کولانچ کی ایک بلوچ مائی جو کولانچ سے ھجرت کر کے یہاں آباد ہوئی تھی کی نسبت سے مائی کولاچی کے نام سے جانا جاتا تھا جس کی تمام تر آبادی بلوچ تھی مائی کولاچی سے بعد میں کولاچی اور بگڑ کر انگریزوں کے دور میں کراچی ھو گئی 1772ء کو مائی کولاچی کو مسقط اور بحرین کے ساتھ تجارت کرنے کے لیے بندرگاہ منتخب کیا گیا۔ اس کی وجہ سے یہ گاؤں تجارتی مرکز میں تبدیل ہونا شروع ہو گیا۔ یوں مائی کولاچی میں بلوچوں کے علاوہ ہمسایہ علاقوں کی کمیونٹی بھی بڑی تعداد میں بس گئی بڑھتے ہوئے شہر کی حفاظت کے لیے شہر کی گرد فصیل بنائی گئی اور مسقط سے توپیں درآمد کرکے شہر کی فصیل پر نصب کی گئیں۔ فصیل میں 2 در تھے (بلوچی میں در گیٹ کو کہتے ہیں) ایک در (گیٹ) کا رخ سمندر کی طرف تھا اور اس لیے اس کو بلوچی میں کھارادر (سندھی میں کھارودر) کہا جاتا اور دوسرے در (گیٹ) کا رخ لیاری ندی کی طرف تھا اور اس لیے اس کو بلوچی میں میٹھادر (سندھی میں مٹھودر) کہا جاتا تھا۔

انگریزوں نے 3 فروری 1839ء کو کراچی شہر پر حملہ کیا اور اس پر قبضہ کر لیا۔ تین سال کے بعد شہر کو برطانوی ہندوستان کے ساتھ ملحق کرکے ایک ضلع کی حیثیت دے دی۔ انگریزوں نے کراچی کی قدرتی بندرگاہ کو دریائے سندھ کی وادی کا اہم تجارتی مرکز بنانے کے لیے شہر کی ترقی پر اہم نظر رکھی۔ برطانوی راج کے دوران میں کراچی کی آبادی اور بندرگاہ دونوں بہت تیزی سے بڑھے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران میں کراچی میں 21 ویں نیٹِو انفنٹری نے 10 ستمبر کو مغل فرمانروا بہادر شاہ ظفر سے بیعت کر لی۔ انگریزوں نے شہر پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور بغاوت کا سر کچل دیا۔

کراچی آہستہ آہستہ ایک بڑی بندرگاہ کے گرد ایک تجارتی مرکز بنتا گیا۔ 1880 کی دہائی میں ریل کی پٹڑی کے ذریعے کراچی کو باقی ہندوستان سے جوڑا گیا۔ 1881 میں کراچی کی آبادی 73،500 تک، 1891 میں 105،199 اور 1901 میں 115،407 تک بڑھ گئی۔ 1899 میں کراچی مشرقی دنیا کا سب سے بڑا گندم کی درآمد کا مرکز تھا۔ جب 1911 میں برطانوی ہندوستان کا دار الحکومت دہلی بنا تو کراچی سے گزرنے والے مسافروں کی تعداد بڑھ گئی۔ 1936 میں جب سندھ کو صوبہ کی حیثیت دی گئی تو کراچی کو اس کا دار الحکومت منتخب کیا گیا۔

ابھی کراچی میں ترقیاتی کام بہت تیزی سے جاری ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کراچی ایک عالمی مرکز کی شکل میں ابھر رہا ہے۔

کراچی جنوبی پاکستان میں بحیرہ عرب کے عین شمال میں واقع ہے۔ شہر کا رقبہ 3،527 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ ایک ناہموار میدانی علاقہ ہے جس کی شمالی اور مغربی سرحدیں پہاڑیاں ہیں۔ شہر کے درمیان میں سے دو بڑی ندیاں گزرتی ہیں، ملیر ندی اور لیاری ندی۔ (سیلابی ند یاں) اس کے ساتھ ساتھ شہر سے کئی اور چھوٹی بڑی ندیاں)( اور برساتی نالے)گزرتی ہیں۔ کراچی کی بندرگاہ شہر کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ چونکہ بندرگاہ ہر طرف سے زمین سے گھری ہوئی ہے اس ليے اس کو ایک بہت خوبصورت قدرتی بندرگاہ سمجھا جاتا ہے۔

ساحل سمندر پر واقع ہونے کی وجہ سے شہر کا موسم بہت معتدل ہے۔ شہر میں بارشیں کم ہوتی ہیں، سال میں اوسطا 250 ملی میٹر، جن کا زیادہ تر حصہ مون سون میں ہوتا ہے۔ کراچی میں گرمیاں اپریل سے اگست تک باقی رہتی ہیں اور اس دوران میں ہوا میں نمی کا تناسب بھی زیادہ رہتا ہے۔ نومبر سے فروری شہر میں موسم سرما مانا جاتا ہے۔ دسمبر اور جنوری شہر میں سب سے زیادہ آرام دہ موسم کے مہینے ہیں اور اس وجہ سے شہر میں ان ہی دنوں میں سب سے زیادہ تقاریب اورسیاحت ہوتی ہے۔
اس شہر کا عام طور موسم سرما سے زیادہ واسطہ نہیں پڑتا اور یہاں کا موسم گرم مرطوب ہی رہتا ہے لیکن 21 جنوری 1934 میں کراچی والوں نے ایک ایسا دن دیکھا جب کراچی کا درجہ حرارت 0 ڈگری ہو گیا۔

کراچی شہر کی بلدیہ کا آغاز 1933ء میں ہوا۔ ابتدا میں شہر کا ایک میئر، ایک نائب میئر اور 57 کونسلر ہوتے تھے۔ 1976ء میں بلدیہ کراچی کو بلدیہ عظمی کراچی بنا دیا گیا۔ سن 2000ء میں حکومت پاکستان نے سیاسی، انتظامی اور مالی وسائل اور ذمہ داریوں کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس کے بعد 2001ء میں اس منصوبے کے نفاذ سے پہلے کراچی انتظامی ڈھانچے میں دوسرے درجے کی انتظامی وحدت یعنی ڈویژن، کراچی ڈویژن، تھا۔ کراچی ڈویژن میں پانچ اضلاع، ضلع کراچی جنوبی، ضلع کراچی شرقی، ضلع کراچی غربی، ضلع کراچی وسطی اور ضلع ملیر شامل تھے۔

سن 2001ء میں ان تمام ضلعوں کو ایک ضلعے میں جوڑ لیا گیا۔ اب کراچی کا انتظامی نظام تین سطحوں پر واقع ہے۔

ضلع کراچی کو 18 ٹاؤن(بلدیات) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان سب کی منتخب بلدیاتی انتظامیہ موجود ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں اور اختیارات میں پانی کی فراہمی، نکاسی آب، کوڑے کی صفائی، سڑکوں کی مرمت، باغات، ٹریفک سگنل (حمل و نقل کی ہم آہنگی) اور چند دیگر زمرے آتے ہیں۔ بقیہ اختیارات ضلعی انتظامیہ کے حوالے ہیں۔

یہ ٹاؤنز(بلدیات) مزید 178 یونین کونسلوں میں تقسیم ہیں جو مقامی حکومتوں کے نظام کی بنیادی اکائی ہے۔ ہر یونین کونسل 13 افراد کی باڈی پر مشتمل ہے جس میں ناظم اور نائب ناظم بھی شامل ہیں۔ یوسی ناظم مقامی انتظامیہ کا سربراہ اور شہری حکومت کے منصوبہ جات اور بلدیاتی خدمات کے علاوہ عوام کی شکایات حکام بالا تک پہنچانے کا بھی ذمہ دار ہے۔

کراچی شہر مندرجہ ذیل قصبات میں تقسیم ہے:

واضح رہے کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کراچی میں قائم ہے لیکن وہ کراچی کا ٹاؤن نہیں اور نہ ہی کسی ٹاؤن کا حصہ ہے بلکہ پاک افواج کے زیر انتظام ہے۔

گذشتہ 150 سالوں میں کراچی کی آبادی و دیگر اعداد و شمار میں واضح تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ غیر سرکاری اور بین الاقوامی ذرائع کے مطابق کراچی کی موجودہ آبادی 24 ملین ہے۔ جو 1947ء کے مقابلے میں 37 گنا زیادہ ہے۔ آزادی کے وقت کراچی کی آبادی محض 4 لاکھ تھی۔ تقسیم ہند (1947) کے نتیجے میں دس لاکھ لوگ ہجرت کر کے کراچی میں آ بسے۔ شہر کی آبادی اس وقت 5 فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھ رہی ہے جس میں اہم ترین کردار دیہات سے شہروں کو منتقلی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر ماہ 45 ہزار افراد شہر قائد پہنچتے ہیں۔ کراچی دنیا کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے۔

کراچی ایک کثیر النسلی، کثیر اللسانی اور کثیر الثقافتی بین الاقوامی شہر ہے۔ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق کراچی کی 94 اعشاریہ 04 فیصد آبادی شہر میں قیام پزیر ہے۔ اس طرح وہ صوبہ سندھ کا سب سے جدید علاقہ ہے۔

کراچی میں سب سے زیادہ آبادی اردو بولنے والے مہاجرین کی ہے جو 1947ء میں تقسیم برصغیر کے بعد ہندوستان کے مختلف علاقوں سے آکر کراچی میں آباد ہوئے تھے۔ ہندوستان سے آئے ہوئے ان مسلم مہاجرین کو نو آموز مملکت پاکستان کی حکومت کی مدد سے مختلف رہائش گاہیں نوازی گئیں جن میں سے اکثر پاکستان چھوڑ کر بھارت جانے والی ہندو اور سکھ برادری کی تھی۔

شہر کے دیگر باسیوں میں سندھی، بلوچی، پنجابی، پٹھان، گجراتی، کشمیری، سرائیکی اور 10 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین شامل ہیں جو 1979ء میں افغانستان پر سوویت یونین کی جارحیت کے بعد ہجرت کرکے شہر قائد پہنچے اور اب یہاں کے مستقل باسی بن چکے ہیں۔ ان مہاجرین میں پختون، تاجک، ہزارہ، ازبک اور ترکمان شامل تھے۔ ان کے علاوہ ہزاروں بنگالی، عرب، ایرانی، اراکانی کے مسلم مہاجرین (برما کی راکھائن ریاست کے ) اور افریقی مہاجرین بھی کراچی میں قیام پزیر ہیں۔ آتش پرست پارسیوں کی بڑی تعداد بھی تقسیم ہند سے قبل سے کراچی میں رہائش پزیر ہے۔ کراچی کے پارسیوں نے شہر کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اہم سرکاری عہدوں اور کاروباری سرگرمیوں میں بھرپور طریقے سے شامل رہے ہیں۔ آزادی کے بعد ان کی اکثریت مغربی ممالک کو ہجرت کرگئی تاہم اب بھی شہر میں 5 ہزار پارسی آباد ہیں۔ علاوہ ازیں شہر میں گوا سے تعلق رکھنے والے کیتھولک مسیحیوں کی بھی بڑی تعداد آبادی ہے جو برطانوی راج کے زمانے میں یہاں پہنچی تھی۔

کراچی پاکستان کا تجارتی دار الحکومت ہے اور جی ڈی پی کے بیشتر حصہ کا حامل ہے۔ قومی محصولات کا 65 فیصد کراچی سے حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان کے تمام سرکاری و نجی بینکوں کے دفاتر کراچی میں قائم ہیں۔ جن میں سے تقریباً تمام کے دفاتر پاکستان کی وال اسٹریٹ آئی آئی چندریگر روڈ(سابق میکلیوڈ روڈ) پر قائم ہیں۔

دبئی کا معروف تعمیراتی ادارہ ایمار پراپرٹیز کراچی کے دو جزائر بنڈل اور بڈو پر 43 ارب امریکی ڈالرز کی لاگت سے تعمیراتی کام کا آغاز کر رہا ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ 20 ارب روپے کے ایک منصوبے پورٹ ٹاور کمپلیکس کا آغاز کر رہی ہے جو ایک ہزار 947 فٹ بلندی کے ساتھ پاکستان کی سب سے بلند عمارت ہوگی۔ اس میں ایک ہوٹل، ایک شاپنگ سینٹر اور ایک نمائشی مرکز شامل ہوگا۔ عمارت کی اہم ترین خوبی اس کا گھومتا ہوا ریستوران ہوگا جس کی گیلری سے بدولت کراچی بھر کا نظارہ کیا جاسکے گا۔ مذکورہ ٹاور کلفٹن کے ساحل پر تعمیر کیا جائے گا۔

بینکنگ اور تجارتی دار الحکومت ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی میں پاکستان میں کام کرنے والے تمامبین الاقوامی اداروں کے بھی دفاتر قائم ہیں۔ یہاں پاکستان کا سب سے بڑا بازار حصص کراچی اسٹاک ایکسچینج بھی موجود ہے جو اب پاکستان اسٹاک ایکسچینج بن چکا ہے۔ اس نے 2005ء میں پاکستان کے جی ڈی پی میں 7 فیصد اضافے میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔

انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشنز ٹیکنالوجیز (آئی سی ٹی)، الیکٹرانک میڈیا اور کال سینٹرز کا نیا رحجان بھی شہر کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ غیر ملکی کمپنیوں (شرکتوں)کے کال سینٹرز کو ترقی کے ليے بنیادی ہدف قرار دیا گیا ہے اور حکومت نے آئی ٹی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے ليے محصولات میں 80 فیصد تک کمی کے ليے کام کر رہی ہے [حوالہ درکار]۔ کراچی پاکستان کا سافٹ ویئر مرکز بھی ہے۔ پاکستان کے کئی نجی ٹیلی وژن اور ریڈیو چینلوں کے صدر دفاتر بھی کراچی میں ہیں جن میں سے جیو،اے آروائی ،ڈان، ہم، ایکسپرس اور آج ٹی وی مشہور ہیں۔ مقامی سندھی چینل کے ٹی این، سندھ ٹی وی اور کشش ٹی وی بھی معروف چینل ہیں۔

کراچی میں کئی صنعتی زون واقع ہیں جن میں کپڑے، ادویات، دھاتوں اور آٹو موبائل کی صنعتیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔ مزيد برآں کراچی میں ایک نمائشی مرکز ایکسپو سینٹر بھی ہے جس میں کئی علاقائی و بین الاقوامی نمائشیں منعقد ہوتی ہیں۔ ٹویوٹا اور سوزوکی موٹرز کے کارخانے بھی کراچی میں قائم ہیں۔ اس صنعت سے متعلق دیگر اداروں میں ملت ٹریکٹرز، آدم موٹر کمپنی اور ہینو پاک کے کارخانے بھی یہیں موجود ہیں۔ گاڑیوں کی تیاری کا شعبہ پاکستان میں سب سے زیادہ تیزی سے ابھرتی ہوا صنعتی شعبہ ہے جس کا مرکز کراچی ہے۔

کراچی بندرگاہ اورمحمد بن قاسم بندرگاہ پاکستان کی دو اہم ترین بندرگاہیں ہیں جبکہ جناح بین الاقوامی ہوائی اڈا ملک کا سب سے بڑا ہوائی اڈا ہے۔

پورٹ ٹاور کمپلیکس (مجوزہ)

کریسنٹ بے (منظور شدہ)

کراچی کریک مرینا (زیر تعمیر)

ڈولمین ٹاورز (زیر تعمیر)

آئی ٹی ٹاور (منظور شدہ)

بنڈل جزیرہ (منظور شدہ)

بڈو جزیرہ (منظور شدہ)(اب کام رک چکا ہے)

اسکوائر ون ٹاورز (زیر تعمیر)

کراچی ماس ٹرانزٹ نظام

انشاء ٹاورز (منظور شدہ)

ایف پی سی سی آئی ٹاور (مجوزہ)

کراچی پاکستان کے چند اہم ترین ثقافتی اداروں کا گھر ہے۔ تزئین و آرائش کے بعد ہندو جیم خانہ میں قائم کردہ نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) کلاسیکی موسیقی اور جدید تھیٹر سمیت دیگر شعبہ جات میں دو سالہ ڈپلومہ کورس پیش کرتا ہے۔ آل پاکستان میوزیکل کانفرنس 2004ء میں اپنے قیام کے بعد سالانہ میوزک فیسٹیول منعقد کر رہا ہے۔ یہ فیسٹیول شہری زندگی کے ایک اہم جز کی حیثیت اختیار کر گیا ہے جس کا شدت سے انتظار کیا جاتا ہے اور 3 ہزار سے زائد شہری اس میں شرکت کرتے ہیں جبکہ دیگر شہروں سے بھی مہمان تشریف لاتے ہیں۔

کوچہ ثقافت میں مشاعرے، ڈرامے اور موسیقی پیش کی جاتی ہے۔ کراچی میں قائم چند عجائب گھروں میں معمول کی بنیادوں پر نمائشیں منعقد ہوتی ہیں جن میں موہٹہ پیلس اور قومی عجائب گھر شامل ہیں۔ سالانہ بنیادوں پر منعقدہ کارا فلم فیسٹیول میں پاکستانی اور بین الاقوامی آزاد اور دستاویزی فلمیں پیش کی جاتی ہیں۔ کراچی کی ثقافت مشرق وسطی، جنوبی ایشیائی اور مغربی تہذیبوں کے ملاپ سے تشکیل پائی ہے۔ کراچی میں پاکستان کی سب سے بڑی مڈل کلاس آبادی قیام پزیر ہے۔ کراچی صوبہ سندھ کا صدر مقام ہے۔

پاکستان میں سب سے زیادہ شرح خواندگی کراچی شہر میں ہے جہاں کئی جامعات اور کالیجز قائم ہیں۔ کراچی اپنی کثیر نوجوان آبادی کے باعث ملک بھر میں جانا جاتا ہے۔ کراچی کی کئی جامعات ملک کے بہترین تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہیں۔

کراچی کے مشہور کھیلوں میں کرکٹ، ہاکی، مکے بازی، فٹ بال اور گھڑ دوڑ شامل ہیں۔ بین الاقوامی مرکز نیشنل اسٹیڈيم کے علاوہ کرکٹ کے میچز(مقابلے) یو بی ایل اسپورٹس کمپلیکس، اے او کرکٹ اسٹیڈیم، کے سی سی اے کرکٹ گراؤنڈ، کراچی جیم خانہ گراؤنڈ اور ڈی ایچ اے کرکٹ اسٹیڈیم پر منعقد ہوتے ہیں۔ شہر میں ہاکی کے ليے ہاکی کلب آف پاکستان اور یو بی ایل ہاکی گراؤنڈ، باکسنگ کے ليے کے پی ٹی اسپورٹس کمپلیکس، اسکواش کے ليے جہانگیر خان اسکواش کمپلکیس اور فٹبال کے ليے پیپلز فٹ بال اسٹیڈیم اور پولو گراؤنڈ، کراچی جیسے شاندار مراکز قائم ہیں۔ 2005ء میں شہر کے پیپلز فٹ بال اسٹیڈيم میں ساف کپ فٹ بال ٹورنامنٹ منعقد ہوا۔ کشتی رانی بھی کراچی کی کھیلوں کی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ ہے۔

کراچی جیم خانہ، سندھ کلب، کراچی کلب، مسلم جیم خانہ، کریک کلب اور ڈی ایچ اے کلب سمیت دیگر کھیلوں کے کلب اپنے ارکان کو ٹینس، بیڈمنٹن، اسکواش، تیراکی، دوڑ، اسنوکر اور دیگر کھیلوں کی سہولیات مہیا کرتے ہیں۔ کراچی میں دو عالمی معیار کے گالف کلب ڈي ایچ اے اور اور کارساز قائم ہیں۔ علاوہ ازیں شہر میں چھوٹے پیمانے پر کھیلوں کی سرگرمیاں بھی عروج پر ہوتی ہیں جن میں سب سے مشہور نائٹ کرکٹ ہے جس میں ہر اختتام ہفتہ پر چھوٹے موٹے میدانوں اور گلیوں میں برقی قمقموں میں کرکٹ کھیلی جاتی ہے۔

یونیورس سنیپلیکس (کلفٹن)

علاوہ ازیں کلفٹن، ڈي ایچ اے، شارع فیصل، نارتھ ناظم آباد، کریم آباد، گلشن اقبال، گلستان جوہر وغیرہ میں بھی کئی مراکز ہیں۔

حسین آباد کو کو دوسرا برنس روڈ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کیونکہ یہاں بھی بے شمار فوڈ اینڈ ڈرنکس کے مراکز ہیں۔

کلفٹن کا ساحل ماضی قریب میں دو مرتبہ تیل کی رسائی کے باعث متاثر ہوچکا ہے جس کے بعد ساحل کی صفائی کردی گئی ہے۔ علاوہ ازیں رات کے وقت تفریح کے ليے ساحل پر برقی قمقمے بھی نصب کیے گئے ہیں۔ حکومت نے کراچی کی ساحلی پٹی کی خوبصورتی کے ليے کلفٹن میں بیچ پارک قائم کیا ہے جو جہانگیر کوٹھاری پیریڈ اور باغ ابن قاسم سے منسلک ہے۔ شہر کے قریب دیگر ساحلی تفریحی مقامات بھی ہیں جن میں سینڈزپٹ، ہاکس بے، فرنچ بیچ، رشین بیچ اور پیراڈائز پوائنٹ معروف ہیں۔

اس کے علاقوں کے کچھ عجیب و غریب اور دلچسپ نام۔

ٓ73) جیکسن مارکیٹ 

کراچی پاکستان میں خریداری کا مرکز تصور کیا جاتا ہے جہاں روزانہ لاکھوں صارفین اپنی ضروریات کی اشیاء خریدتے ہیں۔ صدر، گلف شاپنگ مال، بہادر آباد، طارق روڈ، زمزمہ، زیب النساء اسٹریٹ اور حیدری اس حوالے سے ملک بھر میں معروف ہیں۔ ان مراکز میں کپڑوں کے علاوہ دنیا بھر سے ضروریات زندگی کی تمام اشیاء حاصل کی جاسکتی ہیں۔ برطانوی راج کے زمانے کی ایمپریس مارکیٹ مصالحہ جات اور دیگر اشیاء کا مرکز ہے۔ صدر میں ہی قائم رینبو سینٹر دنیا میں چوری شدہ سی ڈیز کے بڑے مراکز میں سے ایک ہے۔ دیگر اہم علاقوں میں پاپوش مارکیٹ اور حیدری شامل ہیں۔ ہر اتوار کو لیاقت آباد میں پرندوں اور پالتو جانوروں کے علاوہ پودوں کا بازار بھی لگتا ہے۔

کراچی میں جدید تعمیرات کے حامل خریداری مراکز کی بھی کمی نہیں ہے، جن میں پارک ٹاورز، دی فورم، ملینیم مال اور ڈولمین مال خصوصا قابل ذکر ہیں۔ اس وقت زیر تعمیر ایٹریم مال، جمیرہ مال، آئی ٹی ٹاور اور ڈولمین سٹی مال بھی تعمیرات کے شاہکار ہیں۔

کراچی ایک جدید بین الاقوامی ہوائی اڈے جناح انٹرنیشنل کا حامل ہے جو پاکستان کا مصروف ترین ہوائی اڈا ہے۔ شہر کا قدیم ایئرپورٹ ٹرمینل اب حج پروازوں، کارگو اور سربراہان مملکت کے ليے استعمال ہوتا ہے۔ نیا ہوائی اڈا 1993ء میں ایک فرانسیسی ادارے نے تیار کیا۔ ملک کی سب سے بڑی بندرگاہیں بھی کراچی میں قائم ہیں جو کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کہلاتی ہیں۔ یہ بندرگاہیں جدید سہولیات سے مزین ہیں اور نہ صرف پاکستان کی تمام تجارتی ضروریات کے مطابق کام کرتی ہیں بلکہ افغانستان اور وسط ایشیاء کے ممالک کی سمندری تجارت بھی انہی بندرگاہوں سے ہوتی ہے۔

کراچی پاکستان ریلویز کے جال کے ذریعے بذریعہ ریل ملک بھر سے منسلک ہے۔ شہر کے دو بڑے ریلوے اسٹیشن سٹی اور کینٹ ریلوے اسٹیشن ہیں۔ ریلوے کا نظام کراچی کی بندرگاہ کے ذریعے ملک بھر کو سامان پہنچانے کی خدمات انجام دیتا ہے۔ اس وقت شہر میں بسوں اور منی بسوں نے عوامی نقل و حمل کا بیڑا اٹھارکھا ہے لیکن مستقبل میں شہر میں تیز اور آرام دہ سفر کے ليے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی اور ماس ٹرانزٹ نظام کی تعمیر کا منصوبہ بھی موجود ہے۔

کراچی شہرکودنیا کے اورممالک کی طرح نقل و حمل کے نئے طرین طرزکے وسائل فراہم کرنے کے لیے اٹھارویں صدی کے اواخر میں ٹرام گاڑی چلانے کی تجویز پیش کی گئی، نتیجتاً اکتوبر 1884 میں اس پر کام شروع ہو گیا- ٹرامیں(1885–1975) سڑکوں پر باقائدگی سے یہ خدمت انجام دیتی رہی- لیکن سیاسی گٹھ جوڑکی وجہ سے اس سہولت کو وقت کے ساتھ ساتھ بہتر نہ بنایا جا سکا- جیسا کہ دنیا بھر کے اور شہروں میں ہوا ہے۔

کراچی ساحل کے ساتھ نیم صحرائی علاقے پر قائم ہیں جہاں صرف دو ندیوں ملیر اور لیاری کے ساتھ ساتھ موجود علاقے کی زمین ہی زراعت کے قابل ہے۔ آزادی سے قبل کراچی کی اکثر آبادی ماہی گیروں اور خانہ بدوشوں پر مشتمل تھی اور بیشتر زمین سرکاری ملکیت تھی۔ آزادی کے بعد کراچی کو ملک کا دار الحکومت قرار دیا گیا تو زمینی علاقے ریاست کے زیر انتظام آ گئے۔ 1988ء میں کراچی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے مہیا کردہ اعداد و شمار کے مطابق 4 لاکھ 25 ہزار 529 ایکڑ (1722 مربع کلومیٹر) میں سے تقریباً 4 لاکھ ایکڑ (1600 مربع کلومیٹر) کسی نہ کسی طرح سرکاری ملکیت ہے۔ حکومت سندھ ایک لاکھ 37 ہزار 687 ایکڑ (557 مربع کلومیٹر)،کے ڈی اے ایک لاکھ 24 ہزار 676 ایکڑ، کراچی پورٹ ٹرسٹ 25 ہزار 259 ایکڑ، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) 24 ہزار 189 ایکڑ، آرمی کنٹونمنٹ بورڈ 18 ہزار 569 ایکڑ، پاکستان اسٹیل مل 19 ہزار 461 ایکڑ، ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی 16 ہزار 567 ایکڑ، پورٹ قاسم 12 ہزار 961 ایکڑ، حکومت پاکستان 4 ہزار 51 ایکڑ اور پاکستان ریلوے 12 ہزار 961 ایکڑ رقبے کی حامل ہے۔ 1990ء کی دہائی میں کے ڈی اے کی غیر تعمیر زمین ملیر ڈيولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) اور لیاری ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کو منتقل کردی گئی۔

کراچی دنیا میں تیزی سے پھیلتے ہوئے شہروں میں سے ایک ہے اس ليے اسے بڑھتی ہوئی آبادی، ٹریفک، آلودگی، غربت، دہشت گردی اور جرائم جیسے مسائل کا سامناہے۔

اس وقت کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ ٹریفک کا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں ہر سال 550 افراد ٹریفک حادثوں میں اپنی جان گنواتے ہیں۔ شہر میں کاروں کی تعداد سڑکوں کے تعمیر کردہ ڈھانچے سے کہیں زیادہ ہے۔ ٹریفک کے ان مسائل سے نمٹنے کے ليے شہر میں نعمت اللہ خان کے دور میں کئی منصوبے شروع کیے گئے جن میں فلائی اوورز اور انڈر پاسز شامل ہیں۔

بڑھتے ہوا ٹریفک اور دھواں چھوڑتی گاڑیوں کو کھلی چھٹی کے باعث شہر میں آلودگی بڑھتی جا رہی ہے۔ کراچی میں فضائی آلودگی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے متعین کردہ معیار سے 20 گنا زیادہ ہے۔ ٹریفک کے علاوہ کوڑے کرکٹ کو آگ لگانا اور عوامی شعور کی کمی بھی آلودگی کا بڑا سبب ہے۔

ایک اور بڑا مسئلہ شاہراہوں کو چوڑا کرنے کے ليے درختوں کی کٹائی ہے۔ کراچی میں پہلے ہی درختوں کی کمی ہے اور موجود درختوں کی کٹائی پر ماحولیاتی تنظیموں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ جس پر شہری حکومت نے ستمبر 2006ء سے تین ماہ کے ليے شجرکاری مہم کا اعلان کیا۔

پاکستان کے دوسرے شہروں کی طرح سیاست دانوں اور سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے کھلی جگہوں پر ناجائز تجاوازات تعمیر کا مسئلہ کراچی میں بھی عوام اور آنے والی نسلوں کے لیے پریشان کن ہے۔

ان کے علاوہ فراہمی آب اور بجلی کی فراہمی میں تعطل شہر کے دو بڑے مسائل ہیں خصوصا 2006 کے موسم گرما میں کراچی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عالمی شہرت حاصل کی۔

 

کراچی بندرگاہ

پاکستان کے شہر




#Article 8: فلکیات (1882 words)


فلکیات (یعنی: سِتاروں کا قانون؛ انگریزی: astronomy)، قُدرتی علوم کی ایک ایسی مخصُوص شاخ ہے جس میں اجرامِ فلکی (مثلاً، چاند، سیارے، ستارے، سحابیے، کہکشاں، وغیرہ) اور زمینی کرۂ ہوا‎ کے باہر روُنما ہونے والے واقعات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ اِس میں آسمان پر نظر آنے والے اجسام کے آغاز، ارتقا اور طبعی و کیمیا‎‎ئی خصوصیات کا مطالعہ بھی کیا جاتا ہے۔ فلکیات کے عالم کو فلکیاتدان کہا جاتا ہے۔ جہاں فلکیات محض اجرامِ فلکی اور دیگر آسمانی اجسام پر غور کرتی ہے، وہاں پوری کائنات کے سالِم علم کو علم الکائنات کہتے ہیں۔

اُردُو زبان میں فلکیات، دراصل لفظ فلک کا ماخذ ہے۔ فلک سے مُراد زمین کے کرّہ کے گرد کی وسیح آسمانی چادر ہے، لہٰذا اِس چادر پر عیاں مختلف اجسام (چاند، سورج، ستارے، سیارے، وغیرہ) کی جانچ پڑتال بھی فلکیات کے علوم میں شامل ہوتی ہیں۔ انگریزی میں اِسے ”ایسٹرونومی“ (astronomy) کہا جاتا ہے، جو یونانی زبان کے الفاظ ”ایسٹرون“ (ἄστρον؛ یعنی، ستارہ) اور ”نوموس“ (νόμος؛ یعنی، قانون) سے مل کر بنتا ہے۔ چنانچہ، فلکیات کا مفہوم ”سِتاروں کے علم“ یا ”سِتاروں کے قانون“ کا ہے۔

قدیم زمانے میں فلکیات کی پہنچ صرف اُن اجرامِ فلکی تک ہی محدود تھی جنہیں آنکھوں سے دیکھا جا سکتا تھا، مثلاً سورج، چاند اور ستارے۔ یہ قدیم ماہرین فلکیات اکثر اِن اجرام کے مشاہدوں پر مبنی پشِين گوئیوں کیا کرتے تھے۔ تاریخی ابواب میں ایسی کئی تہذیبوں کا ذِکّر ملتا ہے جو اِن اجرام کی پوُجا بھی کیا کرتے تھے اور اسٹون ہینج کے طرز پر بنی مَصنُوعات اِس بات کی طرف اِشارہ کرتی ہیں کہ یہ لوگ کسی نہ کسی حد تک اِن  فلکی اجرام کے نظام سے واقف تھے۔ اِن قدیم تہذیبوں کے لیے اِس طرح کی مَصنُوعات دراصل ایک طرح کی رصدگاہ کا کام سر انجام دیا کرتی تھیں، جو نہ صرف مذہبی تہواروں کی نشان دہی کرتی تھیں بلکہ موسمی تبدیلیوں سے بھی اِنکو آراستہ رکھتی تھیں۔ ان پشِين گوئیوں کی مدد سے قدیم انسانی تہذیبیں سال کی طوالت کا اندازہ بھی لگایا کرتی تھیں اور فصلوں کی کاشت کے اوقات سے بھی بروقت آشنا رہتی تھیں۔

دوربین کی ایجاد سے قبل، سِتاروں کے مُطالعے کسی نہ کسی اونچی جگہ سے ہی مُمکن تھے اور یہ جائزے محض آنکھوں کی مدد سے ہی لیے جاتے تھے۔ جیسے جیسے تہذیبیں ترقی یافتہ ہوتی رہیں، ویسے ویسے بین النہرین، چین، مصر، یونان، ہند اور وسطی امریکہ کی قدیم تہذیبوں نے سِتاروں کے مطالعوں کے لیے مخصوص اور جدید رصدگاہوں کی تعمیر شروع کر دی۔ آہستہ آہستہ، اِن لوگوں میں کائنات کی مزید جانچ پڑتال کا تجسس پیدا ہوتا گیا؛ چنانچہ، اِس زمانے کے زیادہ تر فلکیاتی انکشافات، ستاروں اور سیاروں کی نقشہ بندی تک ہی محدود تھے۔ اِس علم کو نَجُوم پيمائی کہا جاتا ہے۔ اِن ابتدائی مطالعوں سے سیاروں کی حرکت؛ سورج، چاند اور زمین کی فطرت؛ اور ستاروں کے جمگھٹوں کے بارے میں بہت کُچھ معلوم کیا جا سکا۔ جب فلسفے کی مدد سے اِن فلکی اجرام کو سمجھنے کی کوشش کی گئی تو کائنات کا ایک مرکزی تصّور اُبھر کر عیاں ہوا — اِن لوگوں کے مطابق زمین کائنات کا مرکز تھی؛ یعنی سورج، چاند اور ستارے زمین کے گرد گردش کیا کرتے تھے۔ اِس نظریے کو ارض مرکزی نظریہ کہا جاتا ہے جس کی بنیاد دوسری صدی عیسوی میں مشہور یونانی فلکیات دان بطلیموس نے ڈالی۔

سلطنتِ بابل کے فلکیات دان وہ پہلے لوگ تھے جنہوں نے ریاضی اور منطق کی مدد سے اِس بات کا اندازہ لگایا کہ چاند گرہن درحقیقت ایک تکراری واقعہ ہے اور اِس کی پيش گوئی قبل از وقت مُمکن ہے۔ گرہنوں کے اِس چکر کو ساروس کہا جاتا ہے۔

بابل کے اِن فلکیات دانوں کے بعد قدیم یونان اور ہیلینیہ کی تہذیبوں میں فلکیات کو پزیرائی ملنے لگی۔ یونانی فلکیات میں شُروع سے ہی اِس بات کا خیال رکھا گیا کہ دیگر اجرامِ فلکی اور آسمانی مظاہر کو طبعی وضاحت سے پیش کیا جائے اور منطق کی مدد سے سمجھانے کی کوشش کی جائے۔ آریستارخس ساموسی وہ پہلا یونانی فلکیات دان تھا جس نے تیسری صدی قبل مسیح میں زمین کے قطر کی پیمائش کی؛ سورج اور چاند کے فاصلوں کو دریافت کیا؛ اور نظام شمسی کے لیے شمس مرکزی نظریہ پیش کیا۔

دوسری صدی قبل مسیح میں ہیپارکس نے بے دائریت دریافت کی اور چاند کا قطر اور اِس کا زمین سے فاصلہ بھی ناپا۔ ہیپارکس نے فلکیاتی پیمائش کے لیے اسطرلاب نامی ایک مخصوص آلہ بھی ایجاد کیا۔ ہیپارکس کی اَنتھک کاوشیں یہیں ختم نہ ہوئیں اور اِس نے شمالی نصف کرہ میں عیاں 1020 ستاروں کا فہرست نامہ بھی لِکھ ڈالا۔ یہی وجہ ہے کہ اِن ستاروں کے یونانی نام ہی اکثر ہر جگہ استعمال میں آتے ہیں۔ پہلی صدی میں ایجاد کردہ انتیکیتھرا میکانیہ دُنیا میں سب سے پہلے استعمال ہونے والا تماثلی اختراع تھا جس کی مدد سے سورج، چاند اور زمین کے مقام کا قبل از وقت ٹھیک ٹھیک اندازہ کسی بھی دی گئی تاریخ کے مطابق لگایا جا سکتا تھا۔ اِس طرح کے پیچیدہ اختراع بعد از چودہویں صدی میں ہی دیکھنے کو ملتے ہیں، چنانچہ اِسکی دریافت سائنسدانوں اور ماہرینِ فلکیات کے لیے حیران کُن ہے۔

قُرُونِ وُسطیٰ میں جہاں یورپی مُمالک کے اکثر باسی علم النجوم اور فلکیات سے تیرہویں صدی تک فاسد رہے، وہیں اِسلامی سائنس دان اِس علم میں صدیوں پہلے مہارت حاصل کر چُکے تھے۔ اِسلامی دُنیا میں علم فلکیات کو اتنی پزیرائی ملی کہ نویں صدی کے اوائل میں مسلمان سائنسدانوں نے نہایت عالیٰ درجہ کی رصدگاہیں تعمیر کیں۔ 964ء میں عبدالرحمن الصوفی نے مقامی گروہ میں جادہ شیر کے ہمراہ 25 لاکھ نوری سالوں کی دوری پر ایک اور کہکشاں دریافت کیا — اِس کہکشاں کو آج ہم اینڈرومیڈا کے نام سے جانتے ہیں۔ اِس کہکشاں کی نشان دہی الصوفی نے اپنی کتاب صورالکواکب میں ایک خلائی بادل کے طور پر کی۔ الصوفی نے سب سے پہلے درج شدہ صحابیہ اور سپر نووا کے بارے میں بھی اِس کتاب میں لکھا۔ اِس سپر نووا کو پہلی مرتبہ مصری فلکیات دان علی بن رضوان اور کُچھ چینی فلکیاتدانوں نے 1006ء میں اپنے روزنامچوں میں درج کیا تھا۔

دیگر اور مسلمان فلکیاتدانوں میں جابر بن سنان البتانی، ثابت بن قرہ، ابومعشر بلخی، ابو ریحان البیرونی، ابراہیم بن یحییٰ الزرقالی، عبدالعلی بیرجندی اور مراغہ و سمرکنڈ کی رصدگاہوں میں مقیم فلکیات دان شامل ہیں۔ اِس دور کے متعارف کردہ ستاروں کے عربی نام ابھی بھی فلکیات میں زیرِ استعمال ہیں۔ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ عظیم زمبابوے اور ٹمبکٹو میں بھی مسلمانوں کی تعمیر کردہ کئی رصدگاہیں موجود تھیں۔ یہ قدیم رصدگاہیں اِس بات کا ثبوت دیتی ہیں کہ قُرُونِ وُسطیٰ کے افریقہ جنوب صحرا میں بھی علمِ فلکیات عروج پر تھا۔

نشاۃِ ثانیہ میں نکولس کوپرنیکس نے ایک مرتبہ پھر شمس مرکزی نظریہ عام فلکیات میں مُتعارف کرایا۔ کیونکہ پچھلی چند صدیوں سے مسلمان فلکیاتدانوں نے ارض مرکزی نظریے کی طوالت میں بیشمار کام کر رکھا تھا، اِسلئے کوپرنیکس کی اِس وضاحت کو ابتدائی طور پر رد کر دیا گیا۔ بعد از، گلیلیو اور کپلر نے جدید آلات کی مدد سے اِس نئے نظریے کی تائید کر ڈالی۔ صحیح اور درُست ناپ تول کے لیے گلیلیو نے پہلی دوربین بھی ایجاد کی۔

کپلر وہ پہلے سائنس دان تھے جنہوں نے شمسِ مَرکزی نظریے کو ایک مُکمل نظامِ شمسی میں ڈھالا اور طبعی وضاحت کو اِستعمال کرتے ہوئے سیاروں کی سورج کے گرد گردِش اور حرکت کو منطقی طور سے پیش کیا۔ تاہم کپلر اپنے اِس نظام کے لیے لازم قوانین کی ضابطہ بندی نہ کر سکے اور اِس کام کو بعد از آئزک نیوٹن نے اپنے فلکی میکانیات اور ثقالت سے متعلق قوانین میں سر انجام تک پہنچایا۔

دوربین کے سائز اور معیار میں بہتری لانے کے علاوہ مزید اور بھی دریافتیں ہوتی رہیں۔ نکولاس لاکائی کی زیرِ نگرانی سِتاروں کی معیاری اور مُکمل فہرستیں چھپتی رہیں اور دوسری طرف ولیم ہرشل صحابیہ جات اور اِنکے دیگر مجموعوں کی فہرست تیار کرتے رہے۔ 1781ء میں ہرشل نے ایک نیا سیارہ بھی دریافت کیا جسے آج ہم یورینس کے نام سے جانتے ہیں۔ فریڈرک بیسل نے 1838ء میں نظامِ شمسی کے باہر پائے جانے والے پہلے سورج نُما ستارے سے زمین کا فاصلہ دریافت کیا۔

اٹھارویں اور انیسویں صدی کے دورانئے میں اویلر، کلیراٹ اور دالمبر نے جب سہ جسمی مسئلے کو سُلجھانے کی طرف دھیان دیا تو اِنکے اِس کام کے ذریعے چاند اور سیاروں کی حرکات کے بارے میں معیاری پيش گوئیاں مُمکن ہو گئیں۔ اس کام کو آگے بڑھاتے ہوئے، لاگرانج اور لاپلاس نے چاند اور دیگر سیاروں کے اضطراب سے اِنکے وزن کا بھی ٹھیک اندازہ لگایا۔

وقت کے ساتھ ساتھ، فلکیاتی تجربوں کے لیے جدید ترین آلہ جات استعمال ہونے لگے، مثلاً طیف بینی اور عکاسی، وغیرہ۔ فراون ہوفر نے 1814ء تا 1815ء میں طیف بینی کے ذریعے سورج سے خارج ہونے والی روشنی میں 600 رنگوں کی پٹیاں دریافت کیں۔ بعد از، 1859ء میں کیرشھوف نے انکشاف کیا کہ اِن پٹیوں کا ہر رنگ کسی نہ کسی کیمیائی عنصر کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔ کیرشھوف نے مُختلف کیمیائی عناصر کے مخصوص رنگوں کی ایک فہرست بھی بنا ڈالی تاکہ مُختلف سیاروی مادوں کے بارے میں اِنکے رنگوں سے معلوم کیا جا سکے۔ اِن ٹیکنالوجیوں کی بِنا پر جب سورج نُما دیگر اور ستارے دریافت کیے گئے تو معلوم ہوا کہ یہ ستارے سورج کی مانند تو ہیں ہی لیکن ہمارے مقامی ستارے کے برعکس یہ درجہ حرارت، کمیت اور قامت میں کافی مُختلف ہیں۔

زمین کے مقامی کہکشاں کو ایک متفرق مجمع النجُوم کی طرح صرف بیسویں صدی میں ہی دیکھا گیا جب دیگر اور کہکشاؤں کو دریافت کیا گیا۔ دوسرے کہکشاؤں کو زمین سے دور جاتے دیکھ کر یہ بھی اندازہ لگایا گیا کہ کائنات تسلسُل سے پھیل رہی تھی۔ دورِ جدید کی فلکیات میں دیگر اور اجرامِ فلکی بھی دریافت کیے گئے جن میں نابضات، کوازار، بلیزار اور ریڈیائی کہکشاں شامل ہیں۔ اِن نئے اجرام کی دریافت کے بعد دیگر طبعی نظریات مثلا ثقب اسود اور نیوٹرون ستاروں کے مزید شواہد سامنے آنے لگے۔ علاوہ ازیں، خلائی دوربینوں کی مدد سے برقناطیسی طیف کے اُن حصّوں کی بھی جانچ کی جانے لگی جو زمینی کرۂ ہوا کی وجہ سے زمین تک پہنچ نہ سکتے تھے۔

انسانی تاریخ میں زمینی سیارے کی شکل، کردار اور عمل پر مُختلف فلسفیوں اور فلکیاتدانوں نے مُختلف نظریات، افکار اور تصورات پیش کیے۔ اجرامِ فلکی کے بارے میں آج ہم جو جانتے ہیں، اِن جدید نظریات تک پہنچنے کے لیے کافی وقت لگا۔ دیگر فلسفیوں اور فلکیاتدانوں کے ممتاز ترین افکار و تصورات مندرجہ ذیل بیان کیے گئے ہیں۔

فلکیات میں، اجرامِ فلکی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا مرکزی ذریعہ مرئی نور کا مشاہدہ یا برقناطیسی اشعاع کی جانچ ہی رہا ہے۔ چنانچہ مشاہداتی فلکیات کو برقناطیسی طیف کے مُختلف حصّوں کے مطابق دیگر ساحات میں بانٹا جا سکتا ہے۔ جہاں اِس طیف کے کُچھ حصّوں کا زمین کی سطح سے جائزہ لیا جا سکتا ہے، وہاں دیگر حصّوں کو صرف اونچائی یا خلاء سے ہی پرکھا جا سکتا ہے۔ اِن ذیلی ساحات کے بارے میں مزید معلومات مندرجہ ذیل دی گئی ہیں۔

ریڈیائی فلکیات میں ایسی اشعاعی لہروں کا معائنہ کیا جاتا ہے جن کا طولِ موج تقریباًًًً ایک ملیمیٹر سے زیادہ ہو۔ یہ مشاہداتی فلکیات کی دوسری ساحات سے اِس طرح مُختلف ہے کہ اِس میں ریڈیائی امواج کے ساتھ موجوں جیسا سلُوک کیا جا سکتا ہے نہ کہ محض مجرَد نوریہ جیسا، چنانچہ اِن کا طور اور حیطہ آسانی سے پرکھا جا سکتا ہے۔ یہ جائزہ چھوٹی طول کی امواج کے ساتھ اتنی آسانی سے مُمکن نہیں ہوتا۔




#Article 9: بھارت (2998 words)


بھارت یا جمہوریہ ہندوستان یا بھارت گنراجیہ جنوبی ایشیا میں واقع ایک ملک ہے۔ اس میں پرانے دور سے ہی مختلف مذاہب کو یہاں رچرنے بسنے کا موقع دیا۔ بھارت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے اور اس لحاظ سے یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی کہلاتا ہے۔
بھارت کے ایک ارب 35 کروڑ  سے زائد باشندے ایک سو سے زائد زبانیں بولتے ہیں۔ بھار ت کے مشرق میں بنگلہ دیش اور میانمار ہیں، شمال میں بھوٹان، چین اور نیپال اور مغرب میں پاکستان ہے اس کے علاوہ بھارت کے جنوب مشرق اور جنوب مغرب میں بحر ہند واقع ہے۔ نیز یہ ملک سری لنکا ،مالدیپ کے قریب ترین ملک ہے۔ جبکہ بھارت کے نکوبار اور اندامان جزیرے تھائی لینڈ اور انڈونیشیا سے سمندری حدود سے جڑے ہیں۔

بھارت کے کچھ مغربی علاقے زمانہ قدیم میں وادی سندھ کے مراکز میں شامل تھے جو تجارت اورنفع بخش سلطنت کے لیے قدیم زمانے سے ہی دنیا میں مشہور تھی۔ چار مشہور مذاہب جن میں ہندومت ،بدھ مت، جین مت اور سکھ مت نے اسی ملک میں جنم لیا جبکہ، جودھامت، مسیحیت اور اسلام اپنے ابتدائی دور میں ہی یہاں پہنچ گئی تھی جس نے اسے علاقے کی تہذیب و ثقافت پر انمٹ نقوش مرتب کیے۔ اس علاقے پر آہستہ آہستہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا تلسط 18 ویں صدی میں شروع ہوئی جبکہ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد یہاں برطانیہ کی براہ راست حکومت قائم ہوئی۔

فی الحال بھارت کی معیشت عمومی جی ڈی پی کے لحاظ سے ساتویں بڑی اور قوت خرید (پی پی پی) کے لحاظ سے تیسری بڑی معیشت ہے۔1991ء کے معاشی اصلاحات نے اسے دنیا کی تیزی سے ابھرتی معیشتوں میں لا کھڑا کیا ہے اور یہ تقریباً صنعتی ملک کا درجہ حاصل کرنے والا ہے۔ بہرحال اس کے باوجود یہ ملک غربت، کرپشن، خوراک اور صحت کے مسائل کا شکار ہے۔ جوہری ہتھیاروں سے لیس یہ ملک خطے کا ایک طاقتور ملک ہے اس کی فوج بلحاظ تعداد دنیا کی تیسری بڑی قوت ہے اور دفاعی خرچ کے لحاظ سے یہ دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے۔ بھارت ایک وفاقی جمہوریہ ہے جو پارلیمانی نظام کے تحت 29 ریاستوں اور 7 وفاقی علاقوں پر مشتمل ہے۔ بھارت ایک کثیر لسانی ،مذہبی ،ثقافتی اور نسلی معاشرہ ہے۔ نیز یہ ملک کئی انواع واقسام کی جنگلی  حیات سے بھی مالا مال ہے۔

دریائے سندھ کے مشرق میں واقع علاقہ کا نام عرب تاریخ نگاروں کے ہاں ہند تھا۔ علامہ اقبال کامشہور قومی نغمہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا الفاظ سے شروع ہوتا ہے۔ اس کا ایک اور نام انڈیا ہے۔ انڈس دریا سے نام انڈیا پڑا۔ ماضی میں اس خطے کو عموماً ہندوستان یا بھارت کہا جاتا تھا۔ آزادی کے بعد ملک کا سرکاری نام بھارت رکھا گیا، تاہم تمام عالمی زبانوں میں اس کا انگریزی نام انڈیا ہی مستعمل ہے۔

تاریخی اعتبار سے بھارت کو کرما بھومی، تپو بھومی اور پُنیا بھومی جیسے ناموں سے بھی جاتا ہے۔

برصغیر پاک و ہند صرف تین ادوار میں ایک ملک رہا۔ ایک تو چندرگپت موریا کے عہد میں اور دوسرے مغلیہ دور میں اور تیسرے انگریزوں کے زمانے میں۔ اورنگ زیب عالمگیر کے دور حکومت میں مغلیہ سلطنت نسبتاً سب سے بڑی تھی۔ انگریزوں کے زمانے میں سلطنت مغلیہ دور سے قدرے کم تھی۔ ان تین ادوار کے علاوہ ہندوستان (موجودہ بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان) ہمیشہ چھوٹی چھوٹی بے شمار ریاستوں میں بٹا رہا۔ اپنی ہزاروں سال کی تاریخ کے بیشتر دور میں ہندوستان چھوٹی ریاستوں ہی میں بٹا رہا ہے۔
بھارت میں پتھروں پر مصوری کی شروعات 40،000 سال پہلے ہوئی۔ سب سے پہلی مستقل آبادیاں 9،000 سال پہلے وجود میں آئیں۔ ان مقامی آبادیوں نے ترقی کر کہ سندھ طاس تہذیب کو جنم دیا۔ یہ تہذیب چھبیسویں صدی قبل از مسیح سے لے کر انیسویں صدی قبل از مسیح تک اپنے عروج پر تھی اور اس زمانے کی سب سے بڑی تہذیبوں میں شامل ہوتی تھی۔ مگر اس زمانے میں بھی اسے کبھی ہند نہیں کہا گیا بلکہ سندھ کے نام سے جانا جاتا رہا۔ برصغیر بہت عرصہ تک سندھ اور ہند میں منقسم رہا۔

اس کے بعد آنے والے دور کے بارے میں دو نظریات ہیں۔ پہلا نظریہ ماکس مولر نے پیش کیا۔ اس کے مطابق تقریباً پندرہویں صدی قبل از مسیح میں شمال مغرب کی طرف سے آریاؤں نے ہندورستان میں گھسنا شروع کر دیا۔ آریا حملہ آور بن کر آئے تھے اور طاقت کے استعمال سے پھیلے۔ مگر گنتی کے چند آریا طاقت کا استعمال کیے بغیر آہستہ آہستہ اس علاقے میں پھیلے اور آریاؤں اور مقامی دراوڑوں کے درمیان میں ہونے والے تعلق اور تبادلۂ خیالات سے ویدک تہذیب نے جنم لیا۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ آریا / ویدک لوگ ہندوستان کے مقامی لوگ تھے جو دراوڈ تہذیب ختم ہونے کے بعد عروج پزیر ہوئے۔

ساتویں صدی میں عربوں نے مغربی برصغیر کے علاقے سندھ پر حملہ کر کہ قبضہ کر لیا۔ اس سے پہلے بہت سے لوگ اسلام قبول کرچکے تھے اور عربوں کے قابض ہونے کے بعد مقامی لوگوں نے بڑی تیزی سے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد تیرہویں صدی میں ترکوں نے ہندوستان پر حملہ کیا اور شمالی ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔ سولہویں صدی میں مغلوں نے ہندوستان پر حملہ کیا اور آہستہ آہستہ تمام ہندوستان کے حاکم بن گئے۔ مغلوں کے حملے سے پہلے ہی ہندوستان میں مقامی لوگوں کی بڑی تعداد مسلمان تھی۔

انیسویں صدی میں انگریزوں نے مغلوں کو اپنے ماتحت کر لیا اور اس طرح ہندوستان کے حاکم بن گئے۔ 1857ء کے غدر کے بعد حکومت کمپنی سے برطانوی تاج کے پاس چلی گئی۔ 1876ء کے بعد سے برطانوی شاہان کو شاہنشاہ ہندوستان کا عہدہ بھی مل گیا۔ ملک کو سنبھالنے کے لیےlrm; برطانوی حاکموں نے اپنی ’بانٹو اور راج کرو‘ پالیسی کو استعمال کیا۔ برطانوی پیداوار سستی اور مقامی پیداوار مہنگی کر کے مقامی صنعت کو نقصان پہنچایا گیا اور اس طرح ہندوستان سے پیسہ برطانیہ جاتا گیا۔ بھارت کی تحریک آزادی کا زیادہ تر زور نسلی امتیاز اور تابع تجارتی پالیسی کے خلاف تھا۔

برطانوی راج کے خلاف ایک زیادہ تر غیر تشدد پسند تحریک چلا کر موہن داس کرم چند گاندھی، جواہر لال نہرو، سردار پٹیل، ابوالکلام آزاد، بال گنگادھر تلک اور سبھاش چندر بوس کی قیادت میں بھارت نے 1947ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ ہندوستان کی تقسیم ہو کر دو نئے ملک پاکستان اور بھارت بن گئے۔

گزشتہ کچھ عرصہ میں بھارت کی سرمایہ کاری اور پیداوار میں اضافہ دیکھا ہے۔ اس کے باوجود بھارت کے سامنے بنیادی مسائل، پاکستان کے ساتھ کشمیر کا تنازع، آبادی کا زیادہ ہونا، ماحولیاتی آلودگی، غربت، مذہبی اور نسلی اختلاف ہیں۔

بھارت ایک  جھوٹھی جمہوریت والا ملک ہے۔ جمہوریت بس نام کیلئے ہے، کاموں میں اسکا کوئ دخل نہیں بھارت اپنی 29 ریاستوں (صوبہ جات) اور مرکزی زیرِ حکومت علاقوں کا یونین (اتحاد) ہے جس کا بنیادی ڈھانچہ وفاقی ہے۔ بھارت کی ریاست کا سربراہ صدر بھارت ہے۔ صدر اور نائب صدر بھارت پانچ سالہ عرصے کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔

بھارت میں انتظامی طاقت کابینہ کے پاس ہے۔ کابینہ کے سربراہ وزیر اعظم ہوتے ہیں۔ صدر ان کو وزیر اعظم مقرر کرتے ہیں جن کو پارلیمان کی اکثریتی جماعت/ جماعتوں نے نامزد کیا ہوتا ہے۔ پھر وزیر اعظم کی صلاح پر دوسرے وزراء مقرر ہوتے ہیں

بھارت ایک ملک ہے جو 29 ریاستوں اور 7 مرکزی زیر اقتدار علاقوں پر مبنی ہے۔ ۔ 1956 کے سٹیٹ ریگولیشن ایکٹ کے تحت، اتحادی علاقے مرکزی حکومت کے زیر اقتدار آتے ہیں۔ ریاستورں کو لسانی بنیاد پر تشکیل کی گئی۔ ہر ریاست یا اتحادی علاقہ اضلاع میں تقسیم کیا گیا اور اضلاع تحصیلوں میں۔ حکومت کی آخری انتظامی اکائی کے طور پر گاؤں/پنچایت تشکیل پائے گئے۔

ریاستیں

مرکزی زیر انتظام علاقے

آج روس کے ساتھ دور رس تعلقات کو جاری رکھنے کے علاوہ، بھارت اسرائیل اور فرانس کے ساتھ دفاعی تعلقات رکھ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں، بھارت نے علاقائی تعاون اور عالمی تجارتی تنظیم کے لیے ایک جنوب ایشیائی ایسوسی ایشن میں موثر کردار ادا کیا ہے۔ بھارت نے اب تک 10،000 متحدہ فوجی اور پولیس اہلکاروں کے ذریعے چار براعظموں میں پینتیس اقوام متحدہ امن کارروائیوں میں خدمات فراہم کی ہیں۔ بھارت بھی مختلف بین الاقوامی مقام، خاص طور پر مشرقی ایشیا کی سربراہ اجلاس اور جی -85 اجلاس میں ایک سرگرم رکن رہا ہے۔ اقتصادی شعبے میں بھارت نے جنوبی امریکا، افریقہ اور ایشیا کے ترقی پزیر ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات رکھے ہیں۔ اب بھارت نے آگے کی طرف دیکھو پالیسی میں بھی اتفاق کیا ہے۔ یہ آسیان ممالک کے ساتھ اپنی شراکت کو مضبوط بنانے کے امور کا معاملہ ہے جس میں جاپان اور جنوبی کوریا نے بھی مدد کی ہے۔ یہ خاص طور پر اقتصادی سرمایہ کاری اور علاقائی سلامتی کی کوشش ہے۔

حال ہی میں، بھارت کا امریکا اور یورپی یونین کے ساتھ مشترکہ اقتصادی، وسیع تر باہمی مفاد اور دفاعی تعاون بڑھ گیا ہے۔ 2008ء میں، بھارت اور امریکا کے درمیان میں غیر فوجی جوہری تعاون کے معائدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ حالانکہ اس وقت بھارت کے پاس ایٹمی ہتھیار تیار تھا اور وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے حق میں نہیں تھا۔ گو اس کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ادارے اور نیوکلیئر سپلائر گروپ سے چھوٹ حاصل ہے۔ اسی معائدے کے تحت بھارت کی غیر فوجی جوہری ٹیکنالوجی اور جوہری تجارتی مقاصد پر پہلے ہی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔ بھارت دنیا کا چھٹا ایٹمی ہتھیار سے لیس ملک بن گیا ہے۔ نیوکلئیر سپلائر گروپ کی جانب سے دی گئی چھوٹ کے بعد بھارت روس، فرانس، برطانیہ اور کینیڈا سمیت دوسرے ممالک کے ساتھ غیر فوجی جوہری توانائی معاہدے پر دستخط کرنے کے قابل ہے۔

تقریباً 1.3 ملین سرگرم فوجیوں کے ساتھ، بھارتی فوج دنیا میں تیسری سب سے بڑی فوجی طاقت ہے۔ بھارت کے صدر بھارتی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں۔ سال 2011ء میں بھارتی دفاعی بجٹ 36.03 ارب امریکی ڈالر رہا (یا خام ملکی پیداوار کا 1.83٪)۔ 2008ء کی ایک رپورٹ کے مطابق، بھارت خریدنے کی طاقت کے معاملے میں بھارتی فوج کے فوجی اخراجات 72.7 ارب امریکی ڈالر رہے۔ سال 2011ء میں بھارتی وزارت دفاع کے سالانہ دفاعی بجٹ میں 11.6 فیصد اضافہ ہوا، تاہم یہ رقم حکومت کی دیگر شاخوں کے ذریعے فوجی اخراجات کے بجٹ میں شامل نہیں ہوتی۔ حالیہ سالوں میں، بھارت دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار درآمد کنندہ بن گیا ہے۔

بھارت اس وقت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ اگر دنیا کی آبادی کو چھ حصوں میں تقسیم کیا جائے تو ان چھ حصوں میں سے ایک حصہ آبادی بھارت کی ہے۔ بھارت میں کُل دنیا کے 17.5 فیصد لوگ آباد ہیں۔ آبادی کی مختلف شماریات اور تناسبات کو دیکھ کر ماہرین کا کہنا ہے کہ 2025ء تک بھارت دنیا کا پہلا سب سے بڑا ملک بن جائے گا اور اس کی آبادی چین سے زیادہ ہو جائے گی۔

بھارت کی 50 فیصد سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے یعنی جن کی عمر 25 سال سے کم ہے۔ بھارت میں 1 سال سے 35 سال تک عمر والے افراد پورے بھارت کی 65 فیصد آبادی ہے۔

بھارت میں 1000 سے زائد نسلی گروہ ہیں جو ہزار سے زائد زبانیں بولتے ہیں۔۔ دنیا کے چاروں بڑے خاندانہائے زبان (دراوڑی زبانیں، ہند-یورپی زبانیں، جنوبی ایشیائی زبانیں، چینی۔تبتی زبانیں) بھارت میں موجود ہیں۔
بھارت دو اہم زبانی خاندان (ہند آریائی زبانیں اور دراویدی زبانیں) کی جائے پیدائش ہے۔ اول کو 74 فیصد اور دوم کو 24 فیصد آبادی بولتی ہے۔ دیگر زبانوں میں جنوبی ایشیائی زبانیں، چینی تبتی زبانیں جیسے لسانی خاندان شامل ہیں۔  ہندی زبان سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔  انگریزی زبان کو ملک بھر میں اچھی حیثیت حاصل ہے۔ تجارت، تعلیم اور انتظامیہ میں انگریزی زبان کو وسی پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔

بھارت میں مذہب مذہبی عقائد و اعمال کے تنوع کی خصوصیات رکھتا ہے۔ آئین میں 1976ء میں کی جانی والی 42 ویں ترمیم کے مطابق بھارت ایک لادینی ریاست ہے، اس کا مطلب ہے کہ ریاست تمام مذاہب کے ساتھ مساوی رویہ اختیار کرے گی۔ برصغیر کئی بڑے مذاہب کا پیدائشی وطن ہے; یعنی ہندو مت، بدھ مت، جین مت اور سکھ مت۔ بھارت کی پوری تاریخ میں، مذہب ملکی ثقافت کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ مذہبی تنوع اور مذہبی اعتدال دونوں ملک میں بذریعہ قانون اور رسوم کے قائم ہوئے; بھارت کا آئین صاف الفاظ میں مذہبی آزادی کو بنیادی حق قرار دیتا ہے۔

آج، پوری دنیا کی کل ہندو آبادی کا 90% بھارت میں ہے۔ زیادہ تر ہندو سمادھیاں اور مندر بھارت میں ہیں، اسی طرح یہ زیادا تر ہندو سنتوں کی جنم بھومی ہے۔ الٰہ آباد دنیا کی سب سے بڑی مذہبی زیارت، کمبھ میلہ کا میزبانی کرتا ہے، جہاں پر دنیا بھر کے ہندو بھارت کے تین مقدس دریاؤں دریائے گنگا، دریائے جمنا اور سرسوتی کے سنگم پر غسل کے لیے آتے ہیں۔ مغرب میں بھارتی تارکین وطن نے ہندو فلسفہ کے کئی پہلؤوں کو عام کیا ہے جیسے یوگا، مراقبہ، آیور ویدک، کہانت، کرم اور تناسخ وغیرہ کے نظریات ۔

بھارت کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، اس وجہ ایک جغرافیائی خطہ ہو کر بھارت میں کافی ننوع دیکھنے میں آیا ہے۔ بھارت کی آبادی کی غالب اکثریت ہندو مت کی پیروکار ہے۔ تاہم کوئی ایک تعریف کبھی دیکھنے میں نہیں آئی کہ ہندو کون ہے۔ آریہ سماج کے کئی لوگ بت پرستی کو نہیں مان کر بھی ہندو ہے۔ برہمو سماج کے لوگ توحید کا عقیدہ رکھ کر بھی ہندو ہیں۔ ہندو دھرم کے زیادہ تر لوگ کثرت الوہ اور بت پرستی کے قائل ہیں، مگر وہ ان لوگوں کو بھی اپنے میں قبول کرتے ہیں۔ حد یہ کہ خدا کو نہیں ماننے والے ملحد بھی ہندو ہیں۔

ماضی میں بھارت کے پہلے وریر اعظم جواہر لعل نہرو ملحد تھے، 2013–18 تک کرناٹک ریاست کے وزیر اعلیٰ سدارمیا معلنہ طور پر ملحد رہے۔ اس وجہ یہاں کا دایاں محاذ ہر بھارتی کو ہندو مانتا ہے لفظ ہندو کو بھارتی کے معنوں میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم اس بات سے ہر کوئی متفق نہیں ہے۔ اس کے باوجود، بھارت ایک سیکولر ملک ہے۔ یہاں جس طرح منادر جگہ جگہ موجود ہیں، اسی طرح مساجد، گرجا گھر اور گرودوارے ہیں۔ ملک میں کچھ وقت پہلے ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام صدر جمہوریہ تھے جو ایک مسلمان تھے۔ اسی طرح گیانی ذیل سنگھ سکھ ہو کر بھی بھارت کے صدر جمہوریہ تھے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ بھی سکھ تھے اور بھارت میں دس سال تک وزیر اعظم تھے۔

اسی طرح سے بھارت میں کئی زبانیں اور بولیاں موجود ہیں، مگر ملک میں وفاقی حکومت کی سرکاری زبان ہندی کو قرار دینے کے باوجود اسے قومی زبان کا درجہ نہیں دے پائے ہیں۔  اس کی وجہ غالبًا یہ ہے کہ ہم زبان اور بولی میں حد فاصل کیسے قائم کریں، یہ طے نہیں ہے۔ لوگ جدید طور پر بھوجپوری زبان بولتے ہیں جو ہندی زبان سے کافی مشابہ ہے اور دونوں زبان کے لوگ ایک ہی انداز میں بات کرتے ہیں، ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں۔ تاہم بھوجپوری لوگ اپنی زبان کو ہندی سے الگ ماننے لگے ہیں۔ یہی حال راجستھانی زبان اور کچھ اور بولیوں کا ہے۔ ہندی کے خلاف سے سب زیادہ احتجاج جنوبی ہند کی ریاست تمل ناڈو میں ہوئے ہیں۔ اور اس کے علاوہ اردو زبان کو اس کا مستحقہ مقام دینے کا مسئلہ ایسا رہا ہے، جس پر سیاسی حلقے سنجیدگی سے کام نہیں کرتے۔ 

بھارت میں قدیم دور میں تحریری روایتوں کی کمی رہی ہے۔ ہندو میں مذہبی طور پر مقدس چار وید زبانی روایتوں کے ذریعے فروغ پائے۔ بعد کے دور میں ان سے متاثر ہو کر کئی اور کتابیں وجود میں آئی ہیں۔ جیسے کہ اپنشد، اپ وید، پران، برہمنا، اتہاس وغیرہ شامل ہیں۔

قدیم راجگان اور مہاراجگان کے دور سے لے مسلمان سلاطین اور مغلوں کے دور میں درباری شاعر اور مؤرخوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی ہے۔ ہندوستان کے کچھ حصے پر فاتح محمود غزنوی نے اپنے درباری شاعر فردوسی اپنی خود کی تاریخ بہ عنوان شاہنامہ لکھنے پر مامور کیا۔ جب فردوسی نے پوری ایمان داری سے شاہ نامہ لکھ دیا، تب باد شاہ نے وعدہ شدہ انعام دینے سے انکار کر دیا۔ ایسے میں فردوسی بد دل ہو کر دربار سے رخصت ہوا۔ وہ یہ باور کرنے لگا کہ محمود میں شاہی خون کی کمی ہی شاید رہی ہے کہ وہ اپنے وعدے سے مکر گیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد محمود غزنوی اپنے کیے پر نادم ہوتا ہے اور وعدہ شدہ رقم فردوسی کے گھر پہنچاتا ہے۔ مگر تب تک وہ انتقال کر جاتا ہے۔ اس کی بیٹی نے یہ کہہ کر انعامی رقم لینے سے انکار کر دیا کہ جب جس سے وعدہ کیا گیا تھا، وہ نہیں رہے، تو یہ رقم لینے سے کیا حاصل۔ 

مغل بادشاہوں میں اکبر نے کئی اہل قلم کی حوصلہ افزائی کی۔ بعد کے دور میں یہ حوصلہ افزائی اور بھی بڑھی ہوئی ہونے لگی۔ آخری مغل فرمانروا بہادر شاہ ظفر خود ایک شاعر تھے۔ انہوں نے استاد ذوق اور مرزا غالب جیسے کئی لوگوں کی حوصلہ افزائی کی تھی جو اصحاب قلم شاعر تھے۔ 

برطانوی ہند میں ربندرناتھ ٹیگور گیتانجلی لکھے تھے، جس کے لیے انہیں نوبل انعام ملا تھا۔

آزاد ہندوستان میں بھی کئی اہل قلم بھارت میں گزرے۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو ایک تاریخی دستاویز Discovery of India لکھے تھے۔ مشہور مصنفہ اروندھتی رائے سسکتے لوگ نامی ناول لکھا تھا، جس کے لیے اسے بکر انعام دیا گیا تھا۔ 

بھارتی سرکار کی طرف سے غیر پسندیدہ طباعت پر پابندی لگانے کی روایت ہے۔ اکانمسٹ کے 2011ء شمارے میں کشمیر کا نقشہ متنازع علاقہ لکھنے پر بھارت نے نقشہ پر سفید دھبہ لگانے کے بعد فروخت کی اجازت دی۔

دنیا بھر میں ناپید ہونے والے قدیم کھیل بھارت میں اب بھی مشہور ہیں اور کھیلے جاتے ہیں جیسے کبڈی، کھو کھو، پہلوانی اور گلی ڈنڈا۔ ایشیائی مارشل آرٹ کی کچھ اقسام جیسے کالا رلیتتو، موستی یوددا، سلمبم اور مارما ادی بھارت کی ہی پیداوار ہیں۔ شطرنج کو عام طور پر بھارت میں ایجاد ہوا کھیل مانا جاتا ہے اورآج کل دنیا بھر میں کافی مقبول ہو رہا ہے اور بھارتی گرانڈ ماسٹر کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔و334وو335و پاششچی جلال الدین اکبر کے دربار میں ایک بڑے سے ماربل کا منقش تھا۔و336و




#Article 10: ف کی بولی (165 words)


برصغیر کی عوامی غیر منضبط زبانوں میں ایک زبان ف کی بولی کے نام سے مشہور ہے۔ عموماً یہ زبان والدین اس وقت استعمال کرتے ہیں جب انہیں بچوں کے سامنے ایک دوسرے سے کچھ کہنا ہوتا ہے، جسے وہ بچوں سے چھپانا چاہتے ہیں۔
اس زبان میں عموماً حساس معاملات پر گفتگو ہوتی ہے مثلاً پیسہ، موت، لڑائی جھگڑا یا جنسی معاملات یا ان جیسے دیگر معاملات۔

زبان کا استعمال نہایت آسان ہے، ہر لفظ کے ہر جُز کے درمیان حرف ف داخل کر دیا جائے۔
مثلاً

اتنے پیسے کہاں خرچ ہو گئے؟

کو ف کی بولی میں یوں کہا جائے گا:

افتنفے پفیسفے کفہفاں خفرچ ہفو گفئے؟

یہ بولی لڑکیوں اور نوعمر خواتین میں بہت مقبول ہے، عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بیشتر لڑکے اس سے نابلد ہیں۔ ف کی بولی کے اصول کو استعمال کرتے ہوئے اردو کے قریباً ہر حرف سے اس کی بولی بنائی جا سکتی ہے جیسے ب کی بولی، ج کی بولی، ڈ کی بولی وغیرہ۔




#Article 11: فہرست ممالک بلحاظ آبادی (142 words)


مزید دیکھیے: فہرست ممالک بلحاظ آبادی 2005، فہرست ممالک بلحاظ آبادی 1907

یہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے ممالک کی فہرست ہے۔ اس فہرست میں دنیا کے آزاد ممالک اور دوسرے ممالک کے زیر انتظام وہ علاقے شامل ہیں جنھیں داخلی خود مختاری حاصل ہے۔ جہاں بھی ممکن ہوا، اعدادوشمار ممالک کے اپنے مردم شماری کے اداروں کے تازہ ترین تخمینوں سے حاصل کیے گئے ہیں۔ بصورت دیگر، اقوام متحدہ کے 2007ء کی آبادی کا تخمینہ درج کیا گیا ہے۔

چونکہ تمام ممالک میں مردم شماری ایک وقت میں نہیں ہوتی اور نہ ہی ہر جگہ ایک سی احتیاط برتی جاتی ہے، ذیل میں دیے گئی درجہ بندی () میں کچھ غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ تقابلے کے لیے کچھ نیم خود مختار علاقوں کو یہاں شامل تو کیا گیا ہے، لیکن درجہ بندی صرف خود مختار ممالک کی کی گئی ہے۔




#Article 12: مذہب (551 words)


 کا لفظی مطلب راستہ یا طریقہ ہے۔ انگریزی لفظ  کا مادہ لاطینی لفظ religio یعنی امتناع، پابندی ہے۔ ویبسٹر کی انگریزی لغت میں Religion کی جو تعریف کی گئی ہے اس سے ملتا جلتا مفہوم مقتدرہ قومی زبان کی انگریزی اردو لغت میں بھی دیا گیا ہے، جو یوں ہے:

بہ الفاظ دیگر کسی مخصوص علاقے کی مذہبی روایات میں وہاں کے لوگوں کا کائنات کو دیکھنے اور سمجھنے کا انداز کار فرما ہوتا ہے۔ مثلاً زراعتی معاشروں میں بارش کا دیوتا ہوتا ہے تو خانہ بدوش معاشروں میں شکار کا۔ یہ کہنا درست نہیں کہ مذہب اپنے سے متعلقہ علاقہ کے لوگوں کی روحانی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ بلکہ اس کے برعکس یہ کہنا چاہیے کہ کسی خطہ کے لوگ اپنے روحانی تقاضے پورے کرنے کے لیے جو امتناعات، پابندیاں، اُصول و قوانین، ضوابط وغیرہ عائد کرتے ہیں اُن کا مجموعہ مذہب کہلاتا ہے۔

مذہب کی تعریف اس کا واضح تعین اتنا آسان نہیں جتنا ہادی النظر میں معلوم ہوتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مذہب کوئی یک جہتی مظہر نہیں ہے۔ مذہب کے نام کے ساتھ ہی پہلا تصور ہمارا مذاہب کی طرف جاتا ہے کیونکہ مذہب سے سابقہ ہم کو ایک تاریخی مظہر کی حیثیت سے ہوتا ہے۔ دنیا کے بڑے مذاہب انسانی تہذیب کا ایک جز ہیں اور ان عظیم مذاہب کے ساتھ ساتھ ایسی چھوٹی مذہبی جماعتیں ہیں جن کی اپنی خصوصیات ہیں اور جن کی مذہبی انفرادیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے ایک مذہب کے محقق کا یہ کہنا کسی حد تک صحیح ہے کہ ہم مذہب کو مذاہب ہی کے اندر ڈھونڈ سکتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہر مذہب کے اندر مختلف قسم کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔ جن کا تعلق عقائد کے تعین و توضیح اور ان عقائد پر مبنی مذہبی اعمال و رسوم سے ہوتا ہے جب ہم کسی آدمی کو مذہبی کہتے ہیں تو اس سے ہماری مراد یہی ہوتی ہے کہ وہ ان احکام و اعمال پر سختی سے کاربند ہے۔ جو اس مذہب سے وابستہ ہیں جس میں اس نے نشو و نما پائی ہے اور جن کو اس نے شعوری یا غیر شعوری طور پر قبول کر لیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک طرف تو مذہب کچھ متعین عقائد پر دلالت کرتا ہے جیسے وجود خدا پر ایقان، آخرت پر عقیدہ، جزا و سزا پر ایمان وغیرہ۔ دوسری طرف اس کا اظہار مقررہ عبادات کے مخصوص طریقوں پر بجا لانے اور اخلاقی اوامر و نواہی کی تکمیل میں ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم مذہب پر زیادہ غائر نظر ڈالیں اور ہماری نگاہ صرف اس مذہب تک محدود نہ ہو جس میں ہم پیدا ہوئے ہیں تو ہم کو ان اختلافات کا بھی شدت سے احساس ہوتا ہے جو تاریخی مذاہب میں پائے جاتے ہیں۔ اور ان اشتراکات کا بھی جو ان اختلافات کے باوجود مختلف مذاہب میں موجود ہوتے ہیں تو پھر یہ سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا عنصر ہے جو تمام مذاہب میں مشترک ہے اور جس کی بنا پر ہم مذہب کے اس مظہر کو، جہاں شخصی ذاتِ مطلق کا تصور بنیادی حیثیت رکھتا ہے (جیسے یہودیت، مسیحیت، و اسلام) اور اس مظہر کو بھی جس کی اساس محض غیر شخصی حقیقت ہے اور جس کا صرف سلبی طور پر اظہار ممکن ہے (جیسے کہ بدھ مت)، مذہب کا نام دیتے ہیں۔




#Article 13: اسلام (2511 words)


اسلام ایک  توحیدی  مذہب ہے جو اللہ کی طرف سے آخری رسول و نبی، محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب  کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی آخری الہامی کتاب (قرآن مجيد) کی تعلیمات پر قائم ہے۔ یعنی دنیاوی اعتبار سے بھی اور دینی اعتبار سے بھی اسلام (اور مسلم نظریے کے مطابق گذشتہ ادیان کی اصلاح) کا آغاز، 610ء تا 632ء تک 23 سال پر محیط عرصے میں محمد  پر اللہ کی طرف سے اترنے والے الہام (قرآن) سے ہوتا ہے۔ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا (برائے وجہ : اللسان القرآن) اور اسی زبان میں دنیا کی کل آبادی کا کوئی 24% حصہ یعنی لگ بھگ 1.6 تا 1.8 ارب افراد اس کو پڑھتے ہیں ؛ ان میں (مختلف ذرائع کے مطابق) قریبا 20 تا 30 کروڑ ہی وہ ہیں جن کی مادری زبان عربی ہے جبکہ 70 تا 80 کروڑ، غیر عرب یا عجمی ہیں جن کی مادری زبان عربی کے سوا کوئی اور ہوتی ہے۔ متعدد شخصی ماخذ سے اپنی موجودہ شکل میں آنے والی دیگر الہامی کتابوں کے برعکس، بوسیلۂ وحی، فرد واحد (محمد ) کے منہ سے ادا ہوکر لکھی جانے والی کتاب اور اس کتاب پر عمل پیرا ہونے کی راہنمائی فراہم کرنے والی شریعت ہی دو ایسے وسائل ہیں جن کو اسلام کی معلومات کا منبع قرار دیا جاتا ہے۔

لفظ اسلام لغوی اعتبار سے سلم سے ماخوذ ہے، جس کے معنی اطاعت اور امن، دونوں کے ہوتے ہیں۔ ایسا در حقیقت عربی زبان میں اعراب کے نہایت حساس استعمال کی وجہ سے ہوتا ہے جس میں کہ اردو و فارسی کے برعکس اعراب کے معمولی رد و بدل سے معنی میں نہایت فرق آجاتا ہے۔ اصل لفظ جس سے اسلام کا لفظ ماخوذ ہے، یعنی سلم، س پر زبر اور یا پھر زیر لگا کر دو انداز میں پڑھا جاتا ہے۔

یہاں وضاحت، اسلام کیا ہے؟ کو دوبارہ درج کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ اس کا جواب مضمون کے ابتدائیہ میں آچکا ہے۔ جہاں تک رہی بات اس سوال کی کہ اسلام ہے کیا؟ یعنی وہ کیا اجزاء ہیں کہ جو اسلام کی تشکیل کرتے ہیں؟ تو اس وضاحت کی الگ سے ضرورت مختلف خود ساختہ فرقوں کے باعث پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے ایک درکار لازم حیثیت رکھتی ہے۔ ماسوائے چند (جیسے اھل القرآن) تمام فرقے قرآن اور سیرت النبی (سنت) ہی کو اسلامی تعلیمات کی بنیاد قرار دینے پر نا صرف اجتماع رکھتے ہیں بلکہ اپنے اپنے طور اس پر قائم ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں جیسے اھل سنت۔ اور اھل حدیث وغیرہ۔ یہی دعویٰءِ اصلِ اسلام، اھل تصوف سے متعلق کتب و دستاویزات میں بھی دیکھا جاتا ہے اھل تشیع فرقے والے سنت پر ایک خاص اور محتاط نقطۂ نظر بیان کرتے ہیں اور سنیوں کے برعکس ان کے نزدیک جو سنت (حدیث)، اھل بیت سے منحرف ہوتی ہو وہ مستند نہیں، مزید یہ کہ اس فرقے میں قرآن اور سنت کی بجائے قرآن اور اھل بیت کا تصور بھی ملتا ہے۔

مذکورہ بالا قطعے میں متعدد الانواع --- اھلوں --- کے تذکرے کے بعد یہ بات اپنی جگہ ہے کہ اسلام ایک کتابی مذہب ہے یعنی اس پر عمل کرنے والے اھل کتاب کہلائے جاتے ہیں۔ قرآن خود اپنی حیثیت کے بارے میں بیان کرتا ہے کہ یہ انسانوں کے لیے ایک راہنما (النساء 174)، ایک ہدایت (البقرہ 2) اور اچھے برے کی تمیز بتانے والی (البقرہ 185) کتاب ہے۔ محمد پر وحی (610ء) کی صورت میں نازل ہونے سے لیکر عثمان کے زمانے میں کتاب کی شکل اختیار کرنے (653ء) سے قبل بھی قرآن اپنے لیے کتاب کا لفظ ہی استعمال کرتا ہے۔ قرآن کے ناقابل تحریف و فسخ ہونے اور اس کی ابتدائی زمانے میں کامل ترین طور پر حفاظت کیے جانے کے تاریخی شواہد موجود ہیں ؛ مسلمانوں کا یہ غیر متزلزل ایمان ہے کہ قرآن کے ایک نقطے میں نا تو آج تک تحریف ہوئی ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔

سنت، عربی کا لفظ ہے اور اس کے بنیادی معنی، روش یا راہ کے ساتھ دیگر معنی بھی ہوتے ہیں لیکن اسلامی دستاویزات میں اس سے عام طور پر مراد حضرت محمد کی اختیار کردہ روش حیات یا طریقۂ زندگی کی ہی لی جاتی ہے۔ 569ء سے 632ء تک جو عرصہ محمد نے اس دنیا میں انسانوں کے سامنے کتاب کا عملی نمونہ پیش کرنے کے لیے گزارہ وہ سنت کہلاتا ہے۔ خاتم الانبیا ہونے کی وجہ سے محمد کی وفات نے آخری کتاب کے بعد، اسلام کی تکمیل کرنے والے دوسرے منبع پر بھی اختتام کی مہر ثبت کردی۔ اس وقت سے لیکر آج تک مسلمان اسلام کے ان دو بنیادی ماخذ، قرآن اور سنت، کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

اجزائے ایمان سے مراد ان عقائد کی ہوتی ہے کہ جن پر کامل اعتقاد اسلام میں ایمان (اللہ پر یقین) کی تکمیل کے لیے ضروری ہوتا ہے، عام طور ان میں چھ اجزا کا ذکر زیادہ ہوتا ہے جن کا تمام مسلمان اقرار کرتے ہیں۔

بالائی جدول میں بیان کردہ ان اجزا کے لیے چھ کا عدد ناقابل تحریف نہیں ہے یعنی اجزائے ایمان میں وہ تمام اجزا شامل ہو سکتے ہیں جو کسی شخص کو دل اور زبان سے اللہ کا اقرار کرنے میں معاون ہوں۔ مثال کے طور پر مشہور کلمہ، ایمان مفصل (عکس 1) میں ان کی تعداد چھ کی بجائے سات ہو جاتی ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کلمۂِ طیّب سمیت چھ بنیادی کلمات کی طرح ایمان مفصل اور ایمان مجمل بھی ایسے کلمات ہیں کہ جو ایمان کے بنیادی اجزائے ترکیبی کو آسانی سے یاد رکھنے میں مدد دے سکیں اور یہ کسی ایک عبارت کی صورت میں قرآن یا حدیث میں نہیں ملتے البتہ ان کا ذکر قرآن و حدیث میں موجود ہے۔

ارکان اسلام کو اعتقادات دین یا دیانہ (creed) سمجھا جاسکتا ہے، یعنی وہ اطوار کہ جو عملی زندگی میں ظاہر ہوں ؛ بعض اوقات ان کو دین کے پانچ ستون بھی کہا جاتا ہے کیونکہ بشری شماریات (demography) کے اندازوں کے مطابق 85 فیصد (اور بعض ذرائع کے مطابق اس سے بھی زیادہ) مسلم افراد، پانچ (5) ارکانِ اسلام پر ہی یقین رکھتے ہیں  جبکہ  15%  (اور بعض ذرائع کے مطابق اس سے بھی کم) ایسے ہیں جو اس 5 کے عدد سے انحراف کرتے ہیں۔ مذکورہ بالا سطور میں شماریاتی تناسب سے حوالۂ مقصود بالترتیب، سنی اور شیعہ تفرقوں کی جانب ہے۔

شیعہ اثناء عشر کے نزدیک اس کی پھر دو قسمیں ہیں۔ جنہیں اصول دین اور فروع دین کہتے ہیں۔ اصول دین کا تعلق عقیدہ و ایمان سے ہے جس میں توحید، عدل، نبوت، امامت اور قیامت شامل ہیں۔ فروع دین کا تعلق عمل سے ہے جس میں کل 10 چیزیں یعنی نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، خمس، جہاد، تولا، تبرا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر شامل ہیں۔ اسماعیلی شیعاؤں میں ان کی تعداد 5 ارکان میں سے شہادت نکال کر اور ولایۃ (اماموں کی جانثاری و سرپرستی) اور طھارت جمع کر کہ 7 اپنا لی جاتی ہے۔ شیعوں ہی سے نکلنے والا ایک اور فرقے، دروز، والے اسماعیلیوں کی ولایۃ کو تسلیم کہتے ہیں جبکہ نماز کو صدق اللسان کہہ کر عام مسلمانوں کی طرح نماز اور روزے کو ترک عبادت الاثوان قرار دے کر عام مسلمانوں کی طرح روزہ ادا نہیں کرتے، ان لوگوں میں زکوت بھی مختلف اور انفرادی طور پر ہوتی ہے جبکہ حج نہیں ہوتا۔

حسن بن علی کی دستبرداری پر معاویہ بن ابو سفیان نے 661ء میں خلافت بنو امیہ کی بنیاد ڈالی اور ایک بار پھر قبل از اسلام کے امرائی و اعیانی عربوں کا سا انداز حکمرانی لوٹ آیا۔ پھر ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے، یزید بن معاویہ (679ء) نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نواسے حسین ابن علی کو 680ء میں جنگ کربلا میں شہید کر دیا اور سنی، شیعہ تفرقوں کی واضح بنیاد ڈالی۔ 699ء میں  ابو حنیفہ کی پیدائش ہوئی۔ بنو امیہ کو 710ء میں محمد بن قاسم کی فتح سندھ اور 711ء میں طارق بن زیاد کی فتح اندلس (یہی امام مالک کی پیدائش کا سال بھی ہے) کے بعد 750ء میں عباسی خلافت کے قیام نے گو ختم تو کر دیا لیکن بنو امیہ کا ایک شہزادہ عبدالرحمٰن الداخل فرار ہو کر 756ء میں اندلس جا پہنچا اور وہاں خلافت قرطبہ کی بنیاد رکھی، یوں بنو امیہ کی خلافت 1031ء تک قائم رہی۔ ادھر عباسی خلافت میں کاغذ کی صنعت، بغداد کے بیت الحکمۃ (762ء) جیسے شاہکار نظر آئے تو ادھر اندلس میں بچی ہوئی خلافت امیہ میں جامع مسجد قرطبہ جیسی عمارات تعمیر ہوئیں۔ 767ء میں  شافعی اور 780ء امام حنبل کی پیدائش ہوئی۔ 1258ء میں شیعیوں کی حمایت سے  ہلاکو کے بغداد پر حملے سے آخری خلیفہ، موسیقی و شاعری کے دلدادہ، معتصم باللہ کو قالین میں لپیٹ کر گھوڑوں سے روندا گیا اور خلیفۃ المسلمین و امیرالمومنین کی صاحبزادی کو منگولیا، چنگیز خان کے پوتے مونکو خان کے حرم بھیج دیا گیا، مصلحت اندیشی سے کام لیتے ہوئے ہلاکو نے اہم شیعہ عبادت گاہوں کو اپنے سپاہیوں سے بچانے کی خاطر پہرے دار مقرر کر دیے تھے ؛ یوں خلافت عباسیہ کا خاتمہ ہوا۔ عباسیہ عہد ہی میں اسلامی تاریخ کو کوئی 700ء سے شروع ہونے والے اسلامی عہدِ زریں کا دیکھنا نصیب ہوا اور مسلم سائنسدانوں کی متعدد عظیم کتب اسی زمانے میں تخلیق ہوئیں اور اسی زمانے میں ان کی سیاہی کو دجلہ کا پانی کالا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

کہنے کو 1924ء تک گھسٹنے والی خلافت، لغوی معنوں میں 632ء تا 1258ء تک ہی قائم سمجھی جاسکتی ہے۔ جبکہ فی الحقیقت اس کا عملی طور پر خاتمہ 945ء میں بنی بویہ کے ہاتھوں ہو چکا تھا ادھر ایران میں سامانیان (819ء تا 999ء) والے اور ایران کے متعدد حصوں سمیت ماوراء النہر و موجودہ ہندوستان کے علاقوں پر پھیلی غزنوی سلطنت (963ء تا 1187ء) والے، عباسی خلافت کو دکھاوے کے طور برائے نام ہی نمائندگی دیتے تھے۔ فاطمیون (909ء تا 1171ء)، تیونس میں عباسی خلافت کو غاصب قرار دے کر اپنی الگ خلافت (920ء) کا دعویٰ کر چکے تھے اور اسپین میں عبد الرحمن سوم، 928ء میں اپنے لیے خلیفہ کا لقب استعمال کر رہا تھا۔ یہ وہ سماں تھا کہ ایک ہی وقت میں دنیا میں کم از کم تین بڑی خلافتیں موجود تھیں اور ہر جانب سے خلیفہ بازی اپنے زوروں پر تھی، یہ بیک وقت موجود خلافتیں ؛ خلافت عباسیہ، خلافت فاطمیہ اور خلافت قرطبہ (اندلسی امیہ) کی تھیں۔ 1169ء میں نور الدین زنگی نے شیر کوہ کے ذریعے مصر اپنے تسلط میں لے کر فاطمیہ خلافت کا خاتمہ کیا۔ صلاح الدین ایوبی (1138ء تا 1193ء) نے 1174ء میں ایوبی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ اور 1187ء میں مسیحیوں کی قائم کردہ مملکت بیت المقدس سے بیت المقدس کو آزاد کروا لیا۔ 1342ء میں ایوبی سلطنت کے خاتمے اور مملوک (1250ء تا 1517ء) حکومت کے قیام سے قبل اس سلطنت میں ایک خاتون سلطانہ، شجر الدر (1249ء تا 1250ء) نے بھی ساتویں صلیبی جنگوں کے دوران میں قیادت کی

جغرافیائی اعتبار سے مسیحیت اور یہودیت کی طرح اسلام بھی ان ہی علاقوں سے دنیا میں آیا کہ جن کو مشرقی وسطٰی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسلام میں حضرت محمد کے ساتھ دیگر تمام انبیا پر ایمان رکھا جاتا ہے اور ان میں قرآن ہی کی سورت 35 (فاطر) کی آیت 24 کے مطابق، قرآن میں درج  کے علاوہ ان میں وہ تمام بھی شامل ہیں جن کا ذکر قرآن میں نہیں آتا، مثال کے طور پر سدھارتھ گوتم بدھ مت اور دیگر مذاہب کی ابتدا کرنے والے، قرآن کی رو سے یہ تمام اشخاص خدا کی طرف سے وہی پیغام اپنی اپنی امت میں لائے تھے کہ جو آخری بار قرآن لایا، مگر ان میں تحریف پیدا ہو گئی۔

تقدم زمانی کے لحاظ سے تمام توحیدیہ مذاہب میں جدید ترین کتاب ہونے کے باوجود عقیدے کے لحاظ سے قرآن قدیم ترین الہامی کتاب سمجھی جاتی ہے اور عرب و عجم سمیت تمام دنیا کے مسلمانوں میں عربی ہی میں اسے پڑھا جاتا ہے، جبکہ اس کے متعدد لسانی تراجم کو (ساتھ درج عربی کے لیے) محض تشریح کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ اسلام میں جن باتوں پر ایمان رکھنا ضروری ہے انکا ذکر اجزائے ایمان کے قطعے میں آچکا ہے، ان کے علاوہ توحید (شرک سے پ رہی ز) اور تخلیق بھی ان اجزاء میں بیان کیے جاسکتے ہیں۔ عبادات میں نمازِ پنجگانہ و نمازِ جمعہ کے علاوہ عید و بقرعید وغیرہ کی نمازیں قابلِ ذکر ہیں ؛ نمازوں کے علاوہ تمام ارکانِ اسلام عبادات میں ہی شمار ہوتے ہیں۔ اہم تہواروں میں عیدالفطر و عید الاضحٰی شامل ہیں۔ روزمرہ زندگی میں اسلامی آداب زندگی پر قائم رہنے کی کوشش کی جاتی ہے جن میں معاشرے کے مختلف افراد کے حقوق، مناسب لباس، بے پردگی سے بچاؤ اور آداب و القاب کا خیال رکھا جاتا ہے ؛ خرد و نوش میں حلال و حرام کی تمیز ضروری ہے۔ ایمان، سچائی اور دیانت ہر شعبۂ زندگی میں ملحوظ خاطر رکھنے کی تاکید کی جاتی ہے ؛ کام کاج اور فرائض منصبی کو درست طور پر ادا کرنا اور محنت کی عظمت کے بارے میں متعدد احادیث بیان کی جاتی ہیں

از روئے قرآن، اسلام کی بنیادی تعلیمات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ محمد صل للہ علیہ والہ وسلم سے قبل جتنے بھی مذاہب اس دنیا میں آئے وہ فی الحقیقت اسلام تھے اور جو عقائد محمد صل للہ علیہ والہ وسلم کی جانب سے انسانوں کو سکھائے گئے محمد صل للہ علیہ والہ وسلم سے گذشتہ تمام انبیا نے بھی ان ہی عقائد کی تبلیغ کی تھی۔ سورت النساء میں درج ہے ؛

مذکورہ بالا آیت سے دوسرے مذاہب کے بارے میں اسلام کے نظریے کی وضاحت سامنے آجاتی ہے۔

قرآن ہی کی سورت 35 (فاطر) کی آیت 24 کے مطابق، قرآن میں درج  کے علاوہ اسلامی عقائد کے مطابق ایسے انبیا اکرام بھی ہیں کہ جن کا ذکر قرآن میں نہیں آتا، قطعہ بنام اجمالی جائزہ میں درج آیت سے یہ بات عیاں ہے کہ ہر امت میں نبی (یا انبیا) بھیجے گئے، اس سلسلے میں ایک حدیث بھی مسند احمد بن حنبل اور فتح الباری بشرح صحیح البخاری میں آتی ہے جس میں پیغمبران کی تعداد 124000 بیان ہوئی ہے۔؛ ظاہر ہے کہ ان میں ان مذاہب کے وہ اشخاص منطقی طور پر شامل ہو جاتے ہیں کہ جن کو آج ان مذاہب کی ابتدا کرنے والا یا ان مذاہب کا خدا مانا جاتا ہے ؛ مثال کے طور پر سدھارتھ گوتم بدھ مت اور دیگر مذاہب کی ابتدا کرنے والے، گوتم بدھ کے بارے میں بعض علما کا خیال ہے کہ یہ پیغمبر ذو الکفل علیہ السلام (الانبیاء آیت 85) کی جانب اشارہ ہے اور kifl اصل میں سنسکرت کے لفظ (Kapilavastu) کو تشبیہ ہے،  گو یہ خیال سنی اور شیعہ  کے علاوہ خود بدھ مذہب والوں میں بھی پایا جاتا ہے لیکن چونکہ گوتم بدھ کا نام براہ راست قرآن میں نہیں آتا اس لیے متعدد علما اس وضاحت کو تسلیم نہیں کرتے۔ قرآن کی رو سے یہ تمام اشخاص خدا کی طرف سے وہی پیغام اپنی اپنی امت میں لائے تھے کہ جو آخری بار قرآن لایا، مگر ان میں تحریف پیدا ہو گئی۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار کی تعداد کے بارے میں متعدد نظریات دیکھنے میں آتے ہیں اور بہت سے علما کے نزدیک یہ عدد کوئی معین یا ناقابل ترمیم نہیں ہے




#Article 14: عمر بن خطاب (1076 words)


ابو حفص عمر بن خطاب عدوی قرشی ملقب بہ فاروق (پیدائش: 586ء تا 590ء کے درمیان مکہ میں- وفات: 6 نومبر، 644ء مدینہ میں) ابو بکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد  کے خسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر بن خطاب عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابو بکر صدیق کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔ عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔

عمر بن خطاب  ہجری تقویم کے بانی ہیں، ان کے دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے اور اس کا رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزار اور تیس (22,51,030) مربع میل پر پھیل گیا۔ عمر بن خطاب ہی کے دور خلافت میں پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا، اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آ گیا۔ عمر بن خطاب نے جس مہارت، شجاعت اور عسکری صلاحیت سے ساسانی سلطنت کی مکمل شہنشاہیت کو دو سال سے بھی کم عرصہ میں زیر کر لیا، نیز اپنی سلطنت و حدود سلطنت کا انتظام، رعایا کی جملہ ضروریات کی نگہداشت اور دیگر امور سلطنت کو جس خوش اسلوبی اور مہارت و ذمہ داری کے ساتھ نبھایا وہ ان کی عبقریت کی دلیل ہے۔

عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزّٰی بن ریاح بن عبد اللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوّیٰ بن فہربن مالک۔ جبکہ والدہ کا نام خنتمہ تھا جو عرب کے مشہور سردار ہشام بن مغیرہ کی بیٹی تھیں

آپ کا لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و کنیت دونوں محمد  کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم  سے جا ملتا ہے۔ آپ  کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ  مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ عمر عدی کی اولاد میں سے ہیں۔

آپ مکہ میں پید ا ہوئے اور ان چند لوگوں میں سے تھے جو لکھ پڑھ سکتے تھے۔
علم انساب، سپہ گری، پہلوانی اور مقرری میں آپ طاق تھے۔

جب حضور اکرم  نے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو عمر نے آپ  کی سخت مخالفت کی۔ آپ  کی دعا سے عمر نے اسلام قبول کر لیا۔ اس لیے آپ کو مراد رسول بھی کہا جاتا ہے۔

ہجرت کے موقعے پر کفار مکہ کے شر سے بچنے کے لیے سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپ کی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارا نہیں کیا۔ آپ نے تلوار ہاتھ میں لی کعبہ کا طواف کیا اور کفار کے مجمع کو مخاطب کر کے کہا  تم میں سے اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی بیوی بیوہ ہو جائے اس کے بچے يتيم ہوجائیں تو وہ مکہ سے باہر آکر میرا راستہ روک کر دیکھ لے مگر کسی کافر کی ہمت نہ پڑی کہ آپ کا راستہ روک سکتا۔ مواخات مدینہ میں قبیلہ بنو سالم کے سردار عتبان بن مالک کوآپ کا بھائی قراردیا گیا۔

عمر مندرجہ ذیل غزوات و واقعات میں شریک رہے۔

وہ ایک حاکم تھے۔ وہ ایک مرتبہ وہ مسجد میں منبر رسول پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہو گیا اور کہا کہ اے عمر ہم تیرا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتاؤ گے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ بیت المال سے لوگوں میں تقسیم ہونے والے اس حصے سے زیادہ ہے جو دوسروں کو ملا تھا۔ تو عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ مجمع میں میرا بیٹا عبد اللّٰہ موجود ہے، عبداللّٰہ ابن عمر کھڑے ہو گئے۔ عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ بیٹا بتاؤ کہ تیرا باپ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہے ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں قیامت تک اس منبر پر نہیں چڑھوں گا۔ عبداللّٰہ نے بتایا کہ بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت ہی کم تھا اس سے ان کا پورا کپڑا نہیں بن سکتا تھا۔ اور ان کے پاس جو پہننے کے لباس تھا وہ بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لیے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد کو دے دیا۔

ابن سعد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن امیر المؤمنین کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک کنیز گزری۔ بعض کہنے لگے یہ باندی کی ہے۔ آ پ ( عمر) نے فرمایا کہ امیر المؤمنین کو کیا حق ہے وہ خدا کے مال میں سے باندی رکھے۔ میرے لیے صرف دو جوڑے کپڑے ایک گرمی کا اور دوسرا جاڑے کا اور اوسط درجے کا کھانا بیت المال سے لینا جائز ہے۔ باقی میری وہی حیثیت ہے جو ایک عام مسلمان کی ہے۔ جب آپ کسی بزرگ کو عامل بنا کر بھیجتے تھے تو یہ شرائط سنا دیتے تھے :

اگر اس کے خلاف ہوتا تو سزائیں دیتے۔

عمر علی سے بھی دیگر صحابہ کی طرح مشورہ کرتے چنانچہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق  عمر کی شہادت کے بعد جب علی آئے تو فرمایا میں اس کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملوں۔

ان 10 صحابہ کرام م اجمعین کا ذکر عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے کہ:

عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عثمان رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں، علی رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، طلحہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، زبیر رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عبدالرحمن رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، سعد رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں، سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، ابوعبیدہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں۔

ایک غلام ابو لولو فیروز نے آپ کو فجر کی نماز میں مسجد نبوی میں خنجر سے حملہ کیا اور تین جگہ وار کیے۔ آپ ان زخموں سے جانبر نہ ہو سکے اور دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ آپ کے بعد اتفاق رائے سے عثمان کو امیر المومنین منتخب کیا گیا۔




#Article 15: عراق (2270 words)


عراق ایشیا کا ایک اہم عرب اور مسلمان ملک ہے۔ یہ قدیم میسوپوٹیمیا (مابین النھرین)، قدیم شام کے کچھ صحرائی علاقوں اور مزید کچھ علاقوں پر مشتمل ہے۔ تیل کے ذخائر میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کے جنوب میں کویت اور سعودی عرب، مغرب میں اردن، شمال مغرب میں شام، شمال میں ترکی اور مشرق میں ایران (کردستان علاقہ) ہے۔ اسے ایک محدود سمندری رسائی بھی حاصل ہے جو خلیج فارس کے ساحل ام قصر پر ہے۔ جو بصرہ سے قریب ہے۔ عراق دنیا کے قدیم ترین ممالک میں شامل ہے جس نے کئی تہذیبوں کو جنم دیا ہے۔ فلسطین کی طرح اسے انبیا کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراھیم علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا تعلق اسی علاقے سے تھا اور بروایتے حضرت آدم علیہ السلام نے بھی اس کے شہر قرنہ کو اپنا وطن بنایا تھا۔ 2003ء میں اس پر امریکا نے قبضہ کر لیا تھا جو تا حال جاری ہے البتہ ایک برائے نام حکومت قائم ہے۔ اس کی غالب اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے البتہ کافی تعداد میں مسیحی بھی ہیں۔ اس کا دار الحکومت بغداد ہے جو اس کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس کے علاوہ نجف، کوفہ، بصرہ، کربلا، سامرا، موصل اور کرکوک اس کے مشہور شہر ہیں۔ دریائے دجلہ اور فرات اس کے مشہور دریا ہیں۔ ان کے درمیان میں کی وادی انتہائی زرخیز ہے اور اس میں سات سے نوہزار سال سے بھی پرانے آثار ملتے ہیں۔ سمیری، اکادی، اسیریا اور بابل کی تہذیبیں اسی علاقے میں پروان چڑھیں اور فنا ہوئیں۔

عراق قدیم ترین انسانوں کی رہائش گاہ تھی۔ طوفانِ نوح یہیں پر آیا تھا۔ عراق سے ملنے والے آثارِ قدیمہ ثابت کرتے ہیں کہ زمانہ قبل از تاریخ میں بھی یہاں کے لوگ باقاعدہ زبان، ثقافت اور مذہب رکھتے تھے۔ عراق کے شمال مشرق میں شانیدر کے غاروں سے ملنے والے نیاندرتھال انسان کے ڈھانچوں سے، جو پچاس سے ساٹھ ہزار سال پرانے ہیں، یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ بولنے کی صلاحیت رکھتے تھے اور رسومات ادا کیا کرتے تھے مثلاً اپنے مردے پھولوں کے ساتھ دفناتے تھے۔

عراق کو پہلی انسانی تہذیب کی آماجگاہ سمجھا جاتا ہے۔ عراق کا قدیم نام میسوپوٹیمیا ہے۔ مگر یہ وہ نام ہے جو یونانیوں نے انہیں دیا تھا جس کا مطلب یونانی زبان میں ،دریاووں کے درمیان، کے ہیں چونکہ یہ تہذیب دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے درمیان میں پروان چڑھی۔ اسے ہم تہذیب مابین النھرین یا بلاد الرافدين کہتے ہیں۔ یہ علاقہ سمیریا، اکادی، اسیریائی، کلدانی، ساسانی اور بابل کی تہذیبوں کا مرکز تھا جو پانچ ہزار سال قبل از مسیح باقی دنیا میں بھی نفوذ کر گیا۔ انھوں نے دینا کو لکھنا سکھایا اور ابتدائی ریاضیات، فلسفہ اور سائنسی علوم کے اصول دیے۔ اکادی سلطنت لبنان کے ساحلوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ لبنان وہ علاقہ ہے جس نے ابتدائی حروف بنائے اور سمندری جہاز رانی کی ابتدا کی۔ اکادیوں کے بعد سمیریوں اور اس کے بعد بابل کی تہذیب نے فروغ پایا۔ بابل کی تہذیب میں حمورابی کی بادشاہت میں انھوں نے دنیا کو شہریت کے ابتدائی قوانین دیے۔
چھٹی صدی قبل مسیح میں یہ علاقہ اگلے چار سو سال کے لیے سائرس اعظم کی سلطنتِ فارس کا حصہ بن گیا۔ جس کے بعد سکندر اعظم نے یہ علاقہ فتح کیا جو دو سو سال کے لیے یونانی سلطنت کے زیرِنگیں رہا۔ سکندر کے بعد ایرانیوں نے ساتویں صدی عیسوی تک راج کیا۔

مسلمانوں نے ساتویں صدی عیسوی میں یہ علاقہ فتح کیا۔ مسلمانوں کے خلیفہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کے شہر کوفہ کو اپنا دار الخلافہ بنایا۔ اس کے بعد عربوں نے اموی اور عباسی سلطنت کی صورت میں عراق پر حکومت کی۔ عباسیوں نے بغداد کو پہلی دفعہ دار الحکومت بنایا۔ 1258 عیسوی میں منگولوں نے ہلاکو خان کی قیادت میں بغداد کو تاراج کیا (دیکھیے: سقوط بغداد)۔ اس کے بعد یہ 16 ویں صدی عیسوی میں عثمانی سلطنت کا حصہ بنا جس کی یہ حیثیت جنگ عظیم اول تک برقرار رہی۔

جنگ عظیم اول کے دوران میں برطانیہ نے اس پر قبضہ کر لیا۔ بعد میں فرانس اور برطانیہ نے بندر بانٹ کر کے مشرق وسطی کے حصے بخرے کیے۔ 1932 میں انگریزوں نے اسے آزادی دی اور حکومت شریف مکہ کے بھائی امیر فیصل کو ترکوں کے خلاف جنگ لڑنے کے معاوضے کے طور پر دی۔ مگر عراق میں برطانیہ کے فوجی اڈے برقرار رہے اور اصل طاقت اسی کے پاس تھی۔ جنگ عظیم دوم کے بعد امریکا کا اثر اس خطے میں بڑھنا شروع ہو گیا۔ 1956ء میں عراق، پاکستان، ترکی، ایران، امریکا اور برطانیہ کے درمیان میں معاہدہ بغداد ہوا جو مصر کے جمال عبدالناصر اور شام کے خلاف ایک محاذ بن گیا۔ اس پر جمال عبدالناصر نے عراقی بادشاہت کے خلاف آواز اٹھائی جس کا اثر عراق میں بھی ہوا۔ 14 جولائی 1958ء کو بریگیڈئیر جنرل عبدالکریم قاسم اور کرنل عبدالسلام عارف کی قیادت میں عراقی فوج نے انقلاب برپا کیا اور عراقی بادشاہت کا خاتمہ کر دیا۔ انھوں نے عراق کو جمہوریہ قرار دیا اور معاہدہ بغداد کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ بریگیڈئیر جنرل عبدالکریم قاسم اور کرنل عبدالسلام عارف میں بعد میں اختلافات پیدا ہو گئے کیونکہ کرنل عبدالسلام عارف مصر کے ساتھ گہرے تعلقات کے حامی تھے مگر بریگیڈئیر جنرل عبدالکریم قاسم ایسا نہیں چاہتے تھے۔ اس وقت کرنل عبدالسلام عارف کو فارغ کر دیا گیا۔

بعث پارٹی کے صدام حسین کی حکومت 2003ء تک قائم رہی جس کے بعد امریکا نے عراق پر قبضہ کر لیا۔ صدام حسین کے زمانے میں ایران کے ساتھ ایک طویل وقت (ایران عراق جنگ) لڑی گئی جس میں عراق کو سعودی عرب اور امریکا کی آشیر باد حاصل تھی۔ مگر جب صدام حسین نے کویت پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو سعودی عرب اور امریکا نے اس کے خلاف جنگ لڑی۔ اس جنگ میں امریکا نے ترکی اور سعودی عرب کا علاقہ عراق کے خلاف استعمال کیا۔ کویت پر عراق کا قبضہ چھڑا لیا گیا مگر اس کے بعد بھی امریکا کے عزائم جاری رہے حتیٰ کہ امریکا نے مارچ 2003ء میں ایک اور جنگ (جنگ عراق 2003ء) میں عراق پر قبضہ کر لیا۔

آج کل عراق میں ایک برائے نام حکومت قائم ہے جو 30 جنوری 2005ء کے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی مگر امریکی قبضہ جاری ہے اور اصل طاقت اسی کے پاس ہے۔ تیل کی عراقی دولت کو برطانیہ اور امریکا دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ یہ دور ایک خون آلود دور کے طور پر یاد کیا جائے گا کیونکہ ان چند سالوں میں اتنی عراقی عوام قتل ہوئی ہے جو پچھلے پچاس سال میں نہیں ہوئی۔ عراق کے سابق صدر صدام حسین کو امریکی کی زیرِنگیں حکومت نے پھانسی دے دی ہے جس سے فرقہ وارانہ فساد میں اضافہ ہوا ہے۔ استعماری طاقتیں سنی، شیعہ اور کرد مسلمانوں میں اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں جس کا منطقی نتیجہ عراق کی تقسیم کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکا کی نظریں ایران اور پاکستان پر لگی ہوئی ہیں جو اس وقت ھر طرف سے امریکی افواج یا ان کی ساتھی حکومتوں کے درمیان میں گھری ہوئی ہیں۔ اس سے مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ ایک بار پھر بدلنے کا امکان ہے۔

عراق کو 18 محافظات (محافظۃ صوبہ کا ہم معنی ہے) میں تقسیم کیا گیا ہے جو کچھ یوں ہیں۔

عراق کی آبادی ڈھائی کروڑ سے زیادہ ہے۔ (جولائی2005ء میں 26,074,906)۔ ان میں سے 80 فی صد عرب ہیں اور باقی کرد (پندرہ فی صد کے قریب) اور دوسری نسلوں(ترک، اسیریائی وغیرہ) سے تعلق رکھتے ہیں۔ مسلمان 97 فی صد ہیں جن میں سے ساٹھ فی صد کے قریب شیعہ مسلمان ہیں۔ اھلسنت کی اکثریت شافعی مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔ تین فی صد افراد دوسرے مذاہب س تعلق رکھتی ہے جن میں زیادہ مسیحی ہیں۔ اور کچھ یہودی، بہائی وغیرہ ہیں۔
عراق کی زندہ آبادی کی اوسط عمر 19.7 سال ہے۔ اور متوقع عمر 67 سال کے قریب ہے۔ 25 سے 30 فی صد افراد بے روزگار ہیں اور یہ شرح بڑھ رہی ہے۔

عراق کا کل رقبہ 168,743 مربع میل (437,072 مربع کلو میٹر) ہے۔ اس کا زیادہ تر علاقہ صحرائی ہے مگر دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے درمیان میں کا علاقہ انتہائی زرخیز ہے۔ اس علاقے کو میسوپوٹیمیابلادالرافدين یا مابین النھرین کہتے ہیں۔ زیادہ تر شہر انہی دو دریاؤں کے کناروں پر آباد ہیں۔ عراق کا ساحلِ سمندر خلیجِ فارس کے ساتھ بہت تھوڑا ہے جو ام قصر کہلاتا ہے اور بصرہ کے پاس ہے۔ عراق عرب کی آخری سرزمین کہلائی جا سکتی ہے کیونکہ اس کے بعد ایران اور پاکستان ہیں۔ عراق کے ایک طرف کویت ہے جو کسی زمانے میں عراق ہی کا حصہ تھا۔ ایک طرف شام ہے اور ایک طرف سعودی عرب۔ عراق کو اپنے تیل کے ذخائر کی وجہ سے بہت اہمیت حاصل ہے جو دنیا میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ عراق میں خشک گرمیوں کا موسم آتا ہے جس میں بادل تک نہیں آتے مگر سردیوں میں کچھ بارش ہوتی ہے۔ عراق کے شمال میں کچھ پہاڑی علاقے بھی ہیں۔ مگر اس کا سب سے بڑا صوبہ (محافظۃ الانبار) جو سعودی عرب کے ساتھ لگتا ہے مکمل طور پر صحرائی ہے۔

عراق کی معیشت بین الاقوامی لوٹ کھسوٹ کی ایک اعلیٰ داستان ہے۔ معیشت تیل کے ارد گرد گھومتی ہے۔ تیل کی دولت کو پہلے تو برطانوی کمپنیوں نے خوب لوٹا۔ بعث پارٹی کی ابتدائی حکومت میں عراق برطانوی کمپنیوں سے جان چھڑا کر فرانسیسی چنگل میں پھنس گئے۔ مگر بعد میں بعث پارٹی کی دوسری حکومت نے تیل کی صنعت کو قومیا لیا اور عراق نے کچھ عرصہ ترقی کی۔ عالمی طاقتوں نے عراق کو ایران سے ایک لمبی جنگ میں پھنسا کر خوب برباد کیا۔ اس کی ساری دولت اس جنگ کی نذر ہو گئی۔ امریکا، برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے عراق کو بے تحاشا اسلحہ بیچا۔ حتیٰ کہ عراق کے بیرونی قرضے ایک سو بیس ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ ایران سے جنگ بندی کے بعد تیل کی صنعت میں کچھ بہتری آئی مگر زیادہ وسائل تیل کی صنعت کی بحالی اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوتی رہی جس کی وجہ سے عراق خاطر خواہ ترقی نہ کرسکا۔ اس موقع پر عراق نے عالمی طاقتوں کے جال میں آ کر کویت پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جس کا نتیجہ اسے ایک اور جنگ اور بین الاقوامی پابندیوں کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ اس سے عراق کی معیشت تباہ ہو گئی۔ ایک دہائی کی مسلسل پابندیوں سے عراق کمزور ہو گیا تو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کیمیائی ہتھیاروں کا بہانہ کر کے امریکا نے 2003ء میں عراق پر قبضہ کر لیا۔ اگرچہ پیرس کلب کے ممالک نے 33 ارب ڈالر کے قرضے معاف کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔ مگر اس سے عراق کے ایک سو بیس ارب ڈالر کے قرضوں میں کوئی خاص کمی نہیں آتی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جنگ اور خانہ جنگی کے ممکنہ خاتمے کے بعد بھی عراق کو اپنی نئے سرے سے تعمیر اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے عالمی طاقتوں اور اداروں پر انحصار کرنا پڑے گا اور مستقبل قریب میں عراق میں معاشی ترقی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔
عراق کی تعمیرِ نو کے نوے فی صد ٹھیکے امریکی کمپنیوں اور باقی برطانوی اور کچھ فرانسیسی اور اطالوی کمپنیوں کو مل رہے ہیں جو مہنگا کام کرنے میں مشہور ہیں اور یوں لوٹ کھسوٹ کا ایک اور در کھل گیا ہے۔

عراق سلطنتِ عثمانیہ میں شامل تھا مگر انگریزوں نے پہلی جنگ عظیم میں اس پر قبضہ کر لیا۔ ترکوں کے خلاف جنگ کے انعام میں جہاں انگریزوں نے دیگر عرب ممالک ان لوگوں کے حوالے کیے جو ہمیشہ انگریزوں کے زیر نگیں رہیں وہاں عراق کی حکومت انھوں نے 1932ء میں شریف مکہ کے بھائی شاہ فیصل کے حوالے کر دی۔ مگر اپنے فوجی اڈے اور تیل پر اپنی مکمل حاکمیت برقرار رکھی۔ اور یوں عراق بیشتر عرب ممالک کی طرح مصنوعی طور پر آزاد ہو گیا۔ 1958ء میں فوجی انقلاب آیا جس کے بعد تیل کی صنعت کو قومیا لیا گیا اور بادشاھت ختم کر دی گئی مگر آمریت برقرار رہی۔ اس میں کچھ ہاتھ مصر کے جمال عبد الناصر کا سمجھا جاتا ہے جو تمام عرب ممالک کو متحد کرنا چاہتے تھے۔ 1968ء سے 2003ء تک بعث پارٹی کی حکومت رہی جس میں صدام حسین بھی شامل تھے۔ یہ ایک قسم کی مصنوعی جمہوریت تھی۔ 2003 میں امریکا نے اتحادی فوج کا لبادہ اوڑھ کر عراق پر قبضہ کر لیا جو آج تک جاری ہے البتہ 15 اکتوبر 2005ء کو انتخابات کروا کر عراق کا نیا آئین 78 فی صد اکثریت سے منظور کیا گیا۔ جس کے تحت دسمبر میں نئی عراقی حکومت کی تشکیل کی گئی۔
عراق میں شیعہ اور سنی دونوں موجود ہیں اور اس کے علاوہ عراق عرب، کرد اور کچھ ترک نسلوں میں منقسم ہے جس کا فائدہ اتحادی افواج اٹھا رہی ہیں۔ اتحادی افواج نے مختلف طریقوں سے شیعہ اور سنی تفرقہ پھیلا کر اپنی موجودگی کا ایک جواز پیدا کیا ہوا ہے۔ حال ہی میں عراقی پولیس نے چند نقاب پوش دھشت گردوں کو پکڑا تو وہ انگریز نکلے جو ایک مسجد میں بم دھماکا کرتا چاہتے تھے۔ انھیں ایک جیل میں رکھنے کے تھوڑی ہی دیر بعد برطانوی افواج نے جیل پر ھلہ بولا اور اس کی دیواریں توڑ کر وہ قیدی رہا کروا لیے۔
موجودہ صورت حال یہ ہے کہ عراقی مزاحمت کا رخ امریکی افواج سے ھٹ کر آپس کی لڑائی کی طرف ہو چکا ہے۔ اتحادی افواج بدستور عراق میں ہیں۔ عراقی تیل ان کے مرضی سے بیچا جا رہا ہے۔ ایک پرانی غیر استعمال شدہ تیل کی پائپ لائن بھی بحال کی گئی ہے جو اسرائیل تک جاتی ہے۔ عراق میں ایک کمزور حکومت قائم ہے جو نہ امریکا کے خلاف کچھ کر سکتی ہے نہ علاقائی خانہ جنگی کو ختم کر سکی ہے۔




#Article 16: فرانس (2046 words)


جمہوریہ فرانس یا فرانس  ایک خود مختار ریاست ہے جس کی عمل داری میں مغربی یورپ کا میٹروپولیٹن فرانس اور سمندر پار واقع متعدد علاقے اور عمل داریاں شامل ہیں۔ فرانس کا میٹروپولیٹن خطہ بحیرہ روم سے رودبار انگلستان اور بحیرہ شمال تک نیز دریائے رائن سے بحر اوقیانوس تک پھیلا ہوا ہے، جبکہ سمندر پار علاقوں میں جنوبی امریکا کا فرانسیسی گیانا اور بحر الکاہل و بحر ہند میں واقع متعدد جزائر شامل ہیں۔ ملک کے 18 خطوں (جن میں سے پانچ سمندر پار واقع ہیں) کا مکمل رقبہ 643,801 مربع کلومیٹر (248,573 مربع میل) ہے جس کی مجموعی آبادی (جون 2018ء کے مطابق) 67.26 ملین (چھ کروڑ اکہتر لاکھ چھیاسی ہزار چھ سو اڑتیس) نفوس پر مشتمل ہے۔ فرانس ایک وحدانی نیم صدارتی جمہوریہ ہے جس کا دار الحکومت پیرس ہے۔ یہ فرانس کا سب سے بڑا شہر اور ملک کا اہم ترین ثقافتی و اقتصادی مرکز ہے۔ دیگر اہم شہروں میں مارسئی، لیون، لیل، نیس، تولوز اور بورڈو قابل ذکر ہیں۔

وہ خطہ جو اس وقت میٹروپولیٹن فرانس کہلاتا ہے، آہنی دور میں اس جگہ سیلٹک قوم سے تعلق رکھنے والے گال آباد تھے۔ روم نے 51 ق م میں اس خطہ پر قبضہ کیا جو 476ء تک برقرار رہا۔ بعد ازاں جرمانی فرانک یہاں آئے اور انہوں نے مملکت فرانس کی بنیاد رکھی۔ عہد وسطیٰ کے اواخر میں فرانس نے جنگ صد سالہ (1337ء تا 1453ء) میں فتح حاصل کی جس کے بعد فرانس ایک بڑی یورپی طاقت بن کر ابھرا۔ نشاۃ ثانیہ کے وقت فرانسیسی ثقافت پروان چڑھی اور ایک عالمی استعماری سلطنت کی ابتدا ہوئی جو بیسویں صدی عیسوی تک دنیا کی دوسری عظیم ترین سلطنت سمجھی جاتی تھی۔ سولہویں صدی عیسوی میں کاتھولک اور پروٹسٹنٹ کے درمیان میں مذہبی جنگیں عروج پر تھیں اور یہ پوری صدی انہی جنگوں کے نام رہی، تاہم لوئی چودہواں کے زیر اقتدار فرانس یورپ کی غالب تمدنی، سیاسی اور فوجی طاقت بن گیا۔ اٹھارویں صدی عیسوی کے اواخر میں عظیم الشان انقلاب فرانس رونما ہوا جس نے مطلق العنان شہنشاہی کا خاتمہ کرکے عہد جدید کے اولین جمہوریہ کی بنیاد رکھی اور حقوق انسانی کے اعلامیہ کا مسودہ پیش کیا جو بعد میں اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے منشور کا محرک بنا۔

انیسویں صدی عیسوی میں نپولین نے مسند اقتدار سنبھالنے کے بعد فرانسیسی سلطنت اول قائم کی۔ نپولین کے عہد میں لڑی جانے والی جنگوں نے پورے بر اعظم یورپ کو خاصا متاثر کیا۔ اس سلطنت کے زوال کے بعد فرانس سخت بد نظمی اور انتشار کا شکار رہا، بالآخر سنہ 1870ء میں فرانسیسی جمہوریہ سوم کی بنیاد پڑی۔ فرانس پہلی جنگ عظیم میں شامل تھا جس میں اسے معاہدہ ورسائے کی شکل میں فتح نصیب ہوئی، نیز وہ دوسری جنگ عظیم میں بھی متحدہ طاقتوں کے ساتھ تھا لیکن 1940ء میں محوری طاقتوں نے اس پر قبضہ کر لیا جس سے سنہ 1944ء میں فرانس کو آزادی ملی اور فرانسیسی جمہوریہ چہارم کا قیام عمل میں آیا لیکن یہ جنگ الجزائر کی وقت تحلیل ہو گیا۔ سنہ 1958ء میں چارلس ڈیگال نے فرانسیسی جمہوریہ پنجم کی بنیاد رکھی جو اب تک موجود ہے۔ سنہ 1960ء کی دہائی میں الجزائر اور تقریباً تمام نو آبادیاں فرانسیسی استعمار سے آزاد ہوئیں لیکن فرانس سے ان کے اقتصادی اور فوجی روابط اب بھی خاصے مستحکم ہیں۔

فرانس سینکڑوں برس سے فلسفہ، طبیعی علوم اور فنون لطیفہ کا عالمی مرکز رہا ہے۔ وہاں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات بکثرت موجود ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے ہر سال تقریباً 83 ملین غیر ملکی سیاح آتے ہیں۔ فرانس ایک ترقی یافتہ ملک ہے جو خام ملکی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کی ساتویں اور مساوی قوت خرید کے لحاظ سے نویں بڑی معیشت سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی خانگی دولت کے حساب سے فرانس دنیا کا چوتھا مالدار ترین ملک ہے۔ نیز تعلیم، نگہداشت صحت، متوقع زندگی اور انسانی ترقی کے میدانوں میں بھی فرانس کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل میں حق استرداد حاصل ہونے کی بنا پر اسے دنیا کی عظیم طاقت اور باضابطہ جوہری قوت کا حامل ملک سمجھا جاتا ہے۔ ساتھ ہی یورو زون اور یورپی اتحاد کے سربرآوردہ ممالک میں اس کا شمار ہے۔ نیز وہ نیٹو، انجمن اقتصادی تعاون و ترقی، عالمی تجارتی ادارہ اور فرانسیسی بین الاقوامی تنظیم کا بھی رکن رکین ہے۔

لفظ فرانس لاطینی زبان کے لفظ فرانکیا سے ماخوذ ہے جو ابتدا میں پوری فرانکیا سلطنت کے لیے استعمال ہوتا تھا، اس کے معنی ہیں فرانک کا وطن۔ آج بھی یورپ کی بہت سی زبانوں میں جدید فرانس کا تقریباً یہی نام رائج ہے، چنانچہ اطالوی اور ہسپانوی میں فرانسیا، جرمن میں فرانکریخ اور ولندیزی میں فرانک ریک کہا جاتا ہے اور ان سب ناموں کا ماخذ وہی مذکورہ تاریخی پس منظر ہے۔

لفظ فرانک کی ابتدا کے متعلق متعدد نظریات بیان کیے جاتے ہیں۔ ایڈورڈ گبن اور جیکب گرم کے پیشرووں کا خیال تھا کہ اس لفظ کا تعلق انگریزی لفظ فرینک (frank یعنی آزاد) سے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گال کی فتوحات کے بعد فرانک ہی تھے جو محصولات سے آزاد رہے، اسی لیے انہیں فرانک کہا جانے لگا۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ لفظ فرانک ابتدائی جرمنی زبان کے لفظ frankon سے مشتق ہے جس کے معنی چھوٹے نیزے یا برچھی کے ہیں اور چونکہ فرانک قوم نیزہ افگنی میں معروف تھی، اس لیے وہ فرانک مشہور ہوئے۔ تاہم یہ بات طے ہے کہ فرانکوں کے استعمال کی بنا پر ان ہتھیاروں کا یہ نام پڑا، نہ کہ ہتھیاروں کے استعمال سے اس قوم کا نام فرانک ہوا۔

موجودہ فرانس میں انسانی زندگی کے آثار اٹھارہ لاکھ برس سے پائے جاتے ہیں۔ ماضی میں یہاں انسانی آبادی کو ناخوشگوار اور بدلتے موسموں کا سامنا رہا جن میں سخت برفانی دور بھی آئے۔ یہاں ابتدائی انسانی انواع خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتی اور شکار کرکے اپنی غذا کا انتظام کرتی تھیں۔ فرانس میں بالائی قدیم سنگی دور کے منقش غاروں کی بڑی تعداد موجود ہے جن میں مشہور ترین اور محفوظ ترین غار لاسکو ہے جو اندازہً 18000 ق م کی ہے۔ برفانی دور کے اختتام (10000 ق م) کے وقت اس خطے کی آب و ہوا معتدل ہو گئی اور اندازہً سات ہزار ق م سے مغربی یورپ کا یہ حصہ نئے سنگی دور میں داخل ہوا اور اس کے باشندوں نے خانہ بدوشی ترک کر کے مستقل سکونت اختیار کی۔

آبادیاتی اور زراعتی ترقی کے بعد چوتھے اور تیسرے ہزارے کے درمیان میں فلزیات کا ظہور ہوا۔ ابتدا میں یہ لوگ سونا، تانبا اور کانسی کو استعمال کرتے رہے، بعد میں لوہے کا انکشاف ہوا۔ آج بھی فرانس میں نئے سنگی دور میں تعمیر شدہ متعدد سنگی عمارتیں موجود ہیں جن میں انتہائی کثیف کارناک پتھروں کا مقام خاصا مشہور ہے۔ یہ مقام اندازہً 3300 ق م کا ہے۔

ملک گال کی قلعہ بند سرحدوں پر بربری قبائل کے حملوں کی وجہ سے 250ء سے 280ء کی دہائی تک رومی گال زبردست بحران کا شکار رہے۔ چوتھی صدی عیسوی میں اس خطے کی صورت حال میں انقلاب آیا، یہ وہ عہد تھا جب رومی گال پھر سے بیدار ہوئے اور خوش حالی ان کا مقدر بنی۔ 312ء میں قسطنطین اعظم نے مسیحیت اختیار کر لی جس کے بعد پوری رومی سلطنت میں مسیحی (جو اب تک سخت عقوبتوں اور مصائب سے دوچار تھے) بہت تیزی سے پھیلے۔ لیکن پانچویں صدی عیسوی کے آغاز میں بربر حملے پھر شروع ہو گئے جن کی بنا پر متعدد جرمنی قبائل مثلاً وندال، سوئبی اور الان نے دریائے رائن عبور کرکے گال، ہسپانیہ اور زوال پزیر رومی سلطنت کے دوسرے حصوں میں بود و باش اختیار کی۔

عہد قدیم کے ختم ہونے کے بعد قدیم گال متعدد جرمنی مملکتوں اور گال رومی عمل داری میں تقسیم ہو گیا، موخر الذکر گال رومی عمل داری مملکت سیاغریوس کے نام سے معروف ہوئی۔ اسی اثنا میں سیلٹک بریطون برطانیہ کی اینگلو سیکسن نوآبادی سے ارموریکا کے مغربی حصے میں اٹھ آئے اور ان کے آباد ہونے کے بعد جزیرہ نما ارموریکا کو بریتانیہ کہا جانے لگا۔نیز اس خطے میں دوبارہ سیلٹک تمدن و ثقافت پروان چڑھے اور چھوٹی چھوٹی مملکتیں وجود میں آئیں۔

بت پرست فرانک (جن کے نام فرانک سے فرانسی نام مشتق ہے) اصلاً ملک گال کے شمالی حصے میں آباد تھے، لیکن انہوں نے کلوویس اول کی زیر قیادت شمالی اور وسطی گال کی بیشتر مملکتوں کو زیر نگین کر لیا۔ سنہ 498ء میں کلوویس اول نے کاتھولک مسیحیت اختیار کر لی۔ سلطنت روم کے زوال کے بعد کلوویس پہلا فاتح تھا جس نے آریوسیت کی بجائے مسیحیت قبول کی۔ قبول مذہب کے بعد پاپائے روم نے فرانس کو کلیسیا کی سب سے بڑی بیٹی (فرانسیسی: La fille aînée de l'Église) کے لقب اور فرانسیسی بادشاہوں کو مسیحی بادشاہ (فرانسیسی: Rex Christianissimus) کے خطاب سے نوازا۔ اسی تبدیلی مذہب کے بعد فرانکوں نے مسیحی گال رومن ثقافت کو اپنا لیا اور ملک گال بتدریج فرانکیا (فرانکستان) میں تبدیل ہو گیا۔ نیز جرمن فرانکوں نے رومنی زبانیں بھی اختیار کر لیں، بجز شمالی گال کے جہاں رومی نو آبادیاں زیادہ گنجان نہیں تھیں؛ بلکہ اس خطے میں جرمن زبانوں کا ظہور ہوا۔ کلوویس نے پیرس کو اپنا دار الحکومت بنایا اور خاندان میروونجئین کی بنیاد رکھی، لیکن کلوویس کی وفات کے بعد یہ مملکت قائم نہیں رہ سکی۔ فرانکوں نے پوری سرزمین کو نجی جائداد سمجھ کر اسے ورثا میں تقسیم کر دیا اور یوں مملکت کلوویس کے حصے بخرے کرنے کے بعد چار مملکتیں وجود میں آئیں، پیرس، اوغلیوں، سواسون اور رمس۔ آخری میروونجئین بادشاہ محض کٹھ پتلی تھے اور ان کے پردے میں اصل حکمران ناظم محل ہوا کرتا تھا۔ انہی ناظموں میں سے ایک ناظم شارل مارٹل فرانکی مملکتوں میں بڑا معزز اور طاقت ور سمجھا جاتا تھا۔ اسی نے معرکہ بلاط الشہداء میں مسلمان فوجوں کو سخت ہزیمت دی تھی جس کے بعد بنو امیہ کے دور میں مسلمان جزیرہ آئبریا میں کبھی نہیں آئے۔ اس کے فرزند پیپن مختصر نے کمزور میروونجئین سے فرانکیا کا تخت حاصل کیا اور خاندان کیرولنجین کی بنیاد رکھی۔ پیپن کے بیٹے شارلیمین نے فرانکی مملکتوں کو متحد کرکے ایک وسیع و عریض سلطنت قائم کی جو مغربی اور وسطی یورپ پر محیط تھی۔ پوپ لیو سوم نے اسے مقدس شہنشاہ روم قرار دیا اور یوں حکومت فرانس کے کاتھولک کلیسیا سے مضبوط، طویل اور تاریخی تعلقات قائم ہوئے۔ نیز شارلیمین نے مغربی رومی سلطنت اور اس کی ثقافت و تمدن کے احیا کی بھی کوشش کی۔ شارلیمین کے بیٹے لوئی اول (814ء – 840ء) نے بھی اپنے عہد حکومت میں سلطنت کو متحد رکھا لیکن اس کی وفات کے بعد سلطنت متحد نہ رہ سکی۔ سنہ 843ء میں معاہدہ وردون کے تحت یہ سلطنت لوئی کے تین بیٹوں میں تقسیم ہو گئی؛ مشرقی فرانکیا لوئی جرمن کے پاس، وسطی فرانکیا لوتھر اول کے پاس اور مغربی فرانکیا شارل گنجے کے پاس چلے گئے۔ مغربی فرانکیا کے متعلق یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ یہ وہی خطہ ہے جہاں آج ملک فرانس موجود ہے۔

نویں اور دسویں صدی عیسوی میں فرانس پر وائکنگ کے متعدد حملے ہوئے جن کے نتیجے میں فرانس کی مرکزیت ختم ہو گئی۔ شرفا اور امرا کے خطاب اور جائدادیں موروثی قرار پائیں اور بادشاہ مزید مذہبی رنگ میں رنگ گئے۔ اس انتشار نے فرانس میں جاگیردارانہ نظام کو جنم دیا۔ بسا اوقات بادشاہ کے ماتحت جاگیردار اتنے طاقت ور ہو جاتے تھے کہ وہ خود بادشاہ کے لیے خطرہ بن جاتے۔ مثلاً 1066ء ميں معرکہ ہیسٹنگز کے بعد ولیم فاتح نے اپنے القاب میں شاہ انگلستان کا اضافہ کر لیا جس کے بعد اس کا رتبہ شاہ فرانس کے برابر ہو گیا۔ اس صورت حال نے تناؤ میں مزید اضافہ کیا۔

فرانس کے چند علاقے سمندر پار شمالی و جنوبی امریکا، بحر الکاہل اور بحر ہند میں بھی واقع ہیں۔ یورپ میں فرانس کے ہمسایہ ممالک ہیں بلجیم، لگزمبرگ(لوگسام بورغ)، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، اٹلی، مناکو، انڈورا(اندورا) اور اسپین۔ یورپ کے باہر فرانس کی سرحدیں برازیل، سورینام اور نیدرلینڈز سے ملتی ہیں۔

فرانس ایک متحدہ، نیم صدارتی، جمہوری ریاست ہے۔ فرانس کی بنیادیں اس کے آئین اور آدمی اور شہری کے حقوق کا اعلان ہیں۔ فرانس ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت ہے۔

فرانس یورپی یونین کے بانی ارکان میں سے ہے اور رقبے کے لحاظ سے اس کا سب سے بڑا رکن ہے۔ فرانس نیٹو کے بانی ارکان میں سے بھی ہے۔ فرانس اقوام متحدہ کے بانی ارکان میں سے بھی ہے اور سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے۔ فرانس دنیا کی سات ایٹمی طاقتوں میں سے ایک ہے۔




#Article 17: جمعہ (130 words)


جمعہ اسلامی حساب سے ہفتے کاساتواں دن، يورپی و امريکی حساب سے پانچواں اور يہودی اور قديم مصری حساب سے چھٹا دن ہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْتِىَ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ ».

حدیث نبویؐ
﻿حضرت عبد اللہ بن مسعود  فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کوئی جمعہ (کی نماز) کے لیے آئے تو اسے چاہیے کہ غسل کرے۔

دین اسلام میں جمعہ کو سید الایام یعنی دنوں کا سردار کہا گیا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کے ہاں اس کو جمعۃ المبارک بھی کہا اور لکھا جاتا ہے۔




#Article 18: زبان (351 words)


لسان (زبان) (language) ربط کا ایک ذریعہ جسے معلومات کا تبادلہ کرنے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔ معلومات کا تبادلہ تحریری طور پر٬ اشاروں سے ، اشتہارات یا بصری مواد کے استعمال سے ، علامتوں کے استعمال سے یا براہ راست کلام سے ممکن ہیں۔ انسانوں کے علاوہ مختلف جاندار آپس میں تبادلہ معلومات کرتے ہیں مگر زبان سے عموماً وہ نظام لیا جاتا ہے جس کے ذریعے انسان ایک دوسرے سے تبادلۂ معلومات و خیالات کرتے ہیں۔ دنیا میں اس وقت بھی ہزاروں مختلف زبانوں کا وجود ہے جن میں سے کئی بڑی تیزی سے ناپید ہو رہی ہیں۔ مختلف زبانوں کی تخلیق و ترقی کا تجزیہ لسانیات کی مدد سے کیا جاتا ہے۔
عام طور پر زبانیں معاشرے کی ضرورت اور ماحول کے اعتبار سے ظہور پزیر ہوتی اور برقرار رہتی ہیں لیکن زبانیں مصنوعی بھی ہوتی ہیں مثلاً اسپیرانتو اور وہ زبانیں جو کمپیوٹر (Computers) میں استعمال ہوتی ہیں۔

چیکوسلوواکیہ کی ایک مثل ہے کہ ایک نئی زبان سیکھو اور ایک نئی روح حاصل کرو:

Learn a new language and get a new soul.

یہ ایک حقیقت ہے کہ زبان کا بہت گہرا تعلق انسان کے ذہنی ارتقا سے ہے۔ اگرچہ زیادہ زبان جاننا بذات خود انسانی ارتقا کے لیے ضروری نہیں لیکن انسانی ارتقا کا تجربہ وہی لوگ کرتے ہیں جو ایک سے زیادہ زبانیں جانتے ہوں۔
مصر کے مشہور ادیب ڈاکٹر احمد امین نے اپنی خود نوشت سوانح عمری میں لکھاہے کہ پہلے میں صرف اپنی مادری زبان (عربی) جانتا تھا۔ اس کے بعد میں نے انگریزی سیکھنا شروع کیا۔ غیر معمولی محنت کے بعد میں نے یہ استعداد پیدا کرلی کہ میں انگریزی کتب پڑھ کر سمجھ سکوں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب میں انگریزی سیکھ چکا تو مجھے ایسا محسوس ہوا گویا پہلے میں صرف ایک آنکھ رکھتا تھا اور اب میں دو آنکھ والا ہو گیا۔
یہ اللہ کا فضل ہے کہ میں اپنی مادری زبان کے علاوہ دوسری زبانیں سیکھنے کا موقع پاسکا۔ میں کم وبیش 5 زبانیں جانتاہوں: اردو، عربی، فارسی،انگریزی ،ہندی۔ اگر میں صرف اپنی مادری زبان ہی جانتا تو یقیناً معرفت کے بہت سے دروازے مجھ پر بند رہتے۔




#Article 19: مصر (531 words)


عرب جمہوریہ مصر یا مصر،  (قبطی زبان:Ⲭⲏⲙⲓ Khēmi)، بر اعظم افریقا کے شمال مغرب اور بر اعظم ایشیا کے سنائی جزیرہ نما میں واقع ایک ملک ہے۔ مصر کا رقبہ 1،001،450 مربع کلو میٹر ہے۔ مصر کی سرحدوں کو دیکھا جائے تو شمال مشرق میں غزہ پٹی اور اسرائیل، مشرق میں خلیج عقبہ اور بحیرہ احمر، جنوب میں سوڈان، مغرب میں لیبیا اور شمال میں بحیرہ روم ہیں۔ خلیج عقبہ کے اس طرف اردن، بحر احمر کے اس طرف سعودی عرب اور بحیرہ روم کے دوسری جانب یونان، ترکی اور قبرص ہیں حالانکہ ان میں سے کسی کے ساتھ بھی مصر کی زمینی سرحد نہیں ملتی ہے۔

کسی بھی ملک کے مقابلے میں مصر کی تاریخ سب سے پرانی اور طویل ہے اور اس کی تاریخی ابتدا 6 تا 4 ملنیا قبل مسیح مانی جاتی ہے۔ مصر کو گہوارہ ثقافت بھی مانا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں کتابے، زراعت، شہرکاری، تنظیم اور مرکزی حکومت کے آثار ملتے ہیں۔ مصر میں دنیا کے قدیم ترین یادگار عمارتیں موجود ہیں جو مصر کی قدیم وراثت، تہذیب، فن اور تقافت کی گواہی دیتی ہیں۔ ان میں اہرامات جیزہ، ابوالہول، ممفس، مصر، طیبہ اور وادی ملوک شامل ہیں۔ ان مقامات پر اکثر سائنداں اور محققین تحقیق و ریسرچ میں سرگرداں نطر آتے ہیں اور مصر کی قدیم روایات اور تاریی حقائق سے آشکارا کرتے ہیں۔ مصر کی قدیم تہذیب ہی وہاں کی قومی علامت ہے جسے بعد میں یونانی قوم، فارس، قدیم روم، عرب قوم، ترکی عثمانی اور دیگر اقوام نے متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔ قدیم مصر مسیحیت کا ایک بڑا مرکز تھا لیکن 7ویں صدی میں مسلمانوں نے یہاں اپنے قدم جمانے شروع کیے اور مصر مکمل طور سے مسلم اکثریت ملک بن گیا مگر عیسائی بھی وہاں موجود رہے گوکہ اقلیت میں تھے۔

مصر کا سرکاری مذہب اسلام ہے اور سرکاری زبان عربی ہے۔ مصر کی کل آبادی تقریباً 95 ملین ہے اور اس طرح یہ شمالی افریقا، مشرق وسطی اور عرب دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ نائیجیریا اور ایتھوپیا کے بعد بر اعظم افریقا کا تیسرا برا آبادی والا ملک ہے اور دنیا بھر میں بلحاظ آبادی اس کا نمبر 15واں ہے۔ ملک کی زیادہ تر آبادی دریائے نیل کے کنارے بسی ہے۔ ملک یا زیادہ تر زمینی حصہ صحرائے اعظم پر مشتمل ہے جو تقریباً ناقابل آباد ہے۔ کثیر آبادی والے علاقوں میں قاہرہ، اسکندریہ اور دریائے نیل کے جزیرے ہیں۔

مصر کی خود مختار ریاست شمالی افریقا، مشرق وسطی اور عالم اسلام میں ایک مضبوط حکومت مانی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں مصر ایک اوسط درجہ کی طاقتور حکومت ہے۔ مصر کی معیشت مشرق وسطی کی بڑی معیشتوں میں شمار کی جاتی ہے اور 21ویں صدی میں اس کے دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہونے کا امکان ہے۔ 2016ء میں جنوبی افریقا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے مصر نائیجیریا کے بعد افریقا کی سب سے بڑی معیش بن گیا۔ مصر مندرجہ ذیل تنظیموں کا بانی/شرک بانی اور رکن ہے؛

مصر (بکسر المیم)  (; ) is the کلاسیکی عربی خالص کلاسیکی عربی کا لفظ ہے اور قرآن میں بھی اسی نام سے پکارا گیا ہے۔ اس کا یہی نام زماہ قدیم سے چلا آرہا ہے۔ البتہ مصری عربی میں  (; ) (بفتح المیم) کہتے ہیں۔ 




#Article 20: شبلی نعمانی (1365 words)


علامہ شبلی نعمانی کی پیدائش اعظم گڑھ ضلع کے ایک گاؤں بندول جیراج پور میں 1857ء میں ہوئی تھی- ابتدائی تعلیم گھر پر ہی مولوی فاروق چریاکوٹی سے حاصل کی- 1876ء میں حج کے لیے تشریف لے گئے۔ وکالت کا امتحان بھی پاس کیا مگر اس پیشہ سے دلچسپی نہ تھی۔ علی گڑھ گئے تو سرسید احمد خان سے ملاقات ہوئی، چنانچہ فارسی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ یہیں سے شبلی نے علمی و تحقیقی زندگی کا آغاز کیا۔ پروفیسر آرنلڈ سے فرانسیسی سیکھی۔ 1892ء میں روم اور شام کا سفر کیا۔ 1898ء میں ملازمت ترک کرکے اعظم گڑھ آ گئے۔ 1913ء میں دار المصنفین کی بنیاد ڈالی۔ 1914ء میں انتقال ہوا۔

شبلی کا شمار اردو تنقید کے بنیاد گزاروں میں ہوتا ہے۔ ان کی شخصیت اردو دنیا میں بطورشاعر، مورخ، سوانح نگار اورسیرت نگار کی حیثیت سے بھی مسلم ہے۔ شبلی کے تنقیدی نظریات و افکار مختلف مقالات اور تصانیف میں بکھرے ہوئے ہیں لیکن یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ان کو شاعری اور شاعری کی تنقید سے خاص انسیت تھی۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ شاعری اور اس کے دیگر لوازمات سے متعلق اپنے نظریات کو مفصل طور سے شعرالعجم میں پیش کیا بلکہ عملی تنقید کے نمونے موازنۂ انیس و دبیر میں پیش کیے۔ یہاں شبلی کی جانب داری یا غیر جانب داری سے مجھے سروکار نہیں بلکہ اصول و نظریے سے بحث درکار ہے۔ موازنے میں مرثیہ نگاری کے فن پر اصولی بحث کے علاوہ فصاحت، بلاغت، تشبیہ و استعارے اور دیگر صنعتوں کی تعریف و توضیح اور اس کے مختلف پہلوؤں پر بھی شبلی نے روشنی ڈالی ہے، جس سے ہمیں ان کے تنقیدی شعور کا اندازہ ہوتا ہے۔ شبلی کے نظریۂ تنقید کو سمجھنے کے لیے ان کی مذکورہ دونوں کتابیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں یعنی شعرالعجم اور موازنۂ انیس و دبیر۔ انہوں نے شعرالعجم کی چوتھی اور پانچویں جلدمیں شاعری، شعر کی حقیقت اور ماہیت، لفظ و معنیٰ اور لفظوں کی نوعیتوں پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس لحاظ سے ان کی یہ تصنیف خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہے ،کیوں کہ انہیں میں انہوں نے اردو کی جملہ کلاسیکی اصناف شاعری کا محاکمہ کیا ہے۔ اردو کی شعری تنقید کو سمجھنے کے لیے ہم اردو والوں کے لیے یہ کتابیں نوادر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ کیوں کہ انہیں دونوں میں مندرجہ بالا تمام امور کی صراحت و وضاحت انہوں نے پیش کی ہے۔

وہ شاعری کو ذوقی اور وجدانی شے کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شاعری کی جامع تعریف پیش کرنا آسان نہیں بلکہ مختلف ذریعوں سے اور مختلف انداز میں اس حقیقت کا ادراک ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں:

شبلی نے مختلف مثالوں سے شاعری کی اہمیت کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے نزدیک شاعری کا منبع ادراک نہیں بلکہ احساس ہے۔ اس کے بعد وہ ادراک اور احساس کی وضاحت کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ:

خدا نے انسان کو مختلف اعضا اور مختلف قوتیں دی ہیں۔ ان میں سے دو قوتیں تمام افعال اور ارادات کا سر چشمہ ہیں، ادراک اور احساس، ادراک کا کام اشیا کا معلوم کرنا اور استدلال اور استنباط سے کام لینا ہے۔ ہر قسم کی ایجادات، تحقیقات، انکشافات اور تمام علوم و فنون اسی کے نتائج عمل ہیں۔ احساس کا کام کسی چیز کا ادراک کرنا یا کسی مسئلے کا حل کرنا یا کسی بات پر غور کرنا اور سوچنا نہیں ہے۔ اس کا کام صرف یہ ہے کہ جب کوئی موثر واقعہ پیش آتا ہے تو وہ متاثر ہو جاتا ہے، غم کی حالت میں صدمہ ہوتا ہے، خوشی کی حالت میں سرور ہوتا ہے، حیرت انگیز بات پر تعجب ہوتا ہے، یہی قوت جس کو انفعال یا فیلنگ سے تعبیر کر سکتے ہیں شاعری کا دوسرا نام ہے، یعنی یہی احساس جب الفاظ کا جامہ پہن لیتا ہے تو شعر بن جاتا ہے۔

شبلی کے شاعری سے متعلق یہ بنیادی خیالات ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان متاثر ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مختلف واقعات اس پر اثر کرتے ہیں اور اس طرح اس پر مختلف کیفیات طاری ہوتی ہیں۔ ان کے نزدیک یہ کم و بیش ایک ایسی کیفیت ہے جو شیر کو گرجنے، مور کو چنگھاڑنے، کوئل کو کوکنے، مور کو ناچنے اور سانپ کو لہرانے پر مجبور کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شاعری میں جذبات کی اہمیت کے قائل ہیں۔ جذبات کے بغیر شاعری کا وجود نہیں ہوتا اور وہ جذبات سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہیجان اور ہنگامہ برپا کرنا نہیں بلکہ جذبات میں زندگی اور جولانی پیدا کرنا ہے۔ شبلی کے نزدیک شاعری کے لیے جذبات ضروری ہیں۔

شبلی کے تصور کے اعتبار سے تمام عالم ایک شعر ہے۔ زندگی میں ہر جگہ شاعری بکھری پڑی ہے اور جہاں شاعری موجود ہے وہاں زندگی ہے۔ ایک یورپین مصنف کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ ہر چیز جو دل پر استعجاب یا حیرت یا جوش اور کسی قسم کا اثر پیدا کرتی ہے، شعر ہے ۔ اس بناپر فلک نیلگوں، نجمِ درخشاں، نسیم سحر، تبسم گل، خرام صبا، نالہ بلبل، ویرانی دشت، شادابی چمن، غرض تمام عالم شعر ہے اور ساری زندگی میں یہ شعریت پائی جاتی ہے۔ اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شبلی کے تنقیدی نظریات شاعری کے جمالیاتی پہلو پر زور دیتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر سید عبد اللہ اشاراتِ تنقید میں لکھتے ہیں کہ:

شبلی کے نزدیک شاعری تمام فنونِ لطیفہ میں بلند تر حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ تاثر کے لحاظ سے بہت سی چیزیں مثلاً موسیقی، مصوری، صنعت گری وغیرہ اہم ہیں مگر شاعری کی اثر انگیزی کی حد سب سے زیادہ وسیع ہے۔ شاعری کے سلسلے میں وہ محاکات کا ذکر کرتے ہیں اور پھراس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

وہ صرف محاکات کی تعریف ہی پر بس نہیں کرتے بلکہ محاکات کن کن چیزوں سے قائم ہوتی ہے۔ اس کی بھی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے تخیل، جدت ادا اورالفاظ کی نوعیت، کیفیت اور اثر کی بات کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک لفظ جسم ہیں اور مضمون روح ہے۔ اس مسئلے پر اہل فن کے دو گروہ ہیں ایک لفظ کو ترجیح دیتا ہے اور دوسرا معنیٰ کو۔ شبلی کا زور لفظ پر زیادہ ہے۔ لفظ اور معنی کی بحث میں لفظوں کی اقسام اور ان کی نوعیت کی صراحت کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں :

لفظ اور معنیٰ کی بحث نہایت دلچسپ ہے۔ فصیح اورمانوس الفاظ کا اثر، سادگی ادا، جملوں کے اجزا کی ترکیب پر اپنی آرا کا اظہار کرتے ہوئے شبلی اس کے اثر کی بھی بات کرتے ہیں۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ خیال یا مضمون کتنا ہی عمدہ کیوں نہ ہو اگر لفظ عمدہ نہیں ہوں گے تو خیال کا اثر جاتا رہے گا۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے وہ آب زم زم کی مثال کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں۔ اگر آپ کو کوئی گندے پیالے میں آبِ زم زم پینے کو دے تو آپ آبِ زم زم کے تقدس کی وجہ سے پانی تو پی لیں گے لیکن آپ کی طبیعت میلی ہو جائے گی۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ اس مثال میں پیالہ لفظ کی نمائندگی کر رہا ہے اور پانی مضمون کی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خیال کی عمدگی کے ساتھ ساتھ الفاظ کا عمدہ ہونا بھی ضروری ہے۔

شبلی نے اردو کی تمام کلاسیکی اصناف کا جائزہ لیا ہے اور اس پر اپنی رائے قائم کی ہے۔ ان کا نقطۂ نظر تاثراتی اور جمالیاتی نظر آتا ہے لیکن شاعری کی دوسری خوبیوں پر بھی ان کی نگاہ رہتی ہے۔ موازنۂ انیس و دبیر میں انہوں نے شاعری کی صنعتوں کی جس طرح تشریح پیش کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس لیے جس صنعت کے ضمن میں انہوں نے جو شعر نقل کیے ہیں۔ ہم آج بھی اس کے حصار سے کلی طور سے باہر نہیں نکل سکے ہیں۔

اردو کی نظریاتی تنقید کو فروغ دینے اور اسے ایک مثبت سمت دینے میں شبلی اور الطاف حسین حالی نہایت اہم ہیں۔ انہیں کی بدولت اردو تنقید کا چراغ روشن سے روشن تر ہوا۔

شروع میں شبلی اپنے خاندانی اثر کے مطابق مذہبی لحاظ سے مضبوط فکر کے حامل ہوا کرتے تھے پھر سر سیّد احمد خان کی قائم شدہ علی گڑھ یونیورسٹی سے تعلق کے بعد شبلی وسيع النظرہوگئے۔




#Article 21: رحمت اللہ کیرانوی (236 words)


مولوی رحمت اللہ کیرانوی اسلام اور اہل سنت کے بڑے پاسبانوں میں سے تھے۔ جس زمانے میں ہزاروں یورپی مشنری، انگریز کی پشت پناہی میں ہندوستان کے مسلمانوں کو مسیحی بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے، مولوی رحمت اللہ اور ان کے ساتھی مناظروں، تقریروں اور پیمفلیٹوں کے ذریعے اسلامی عقائد کے دفاع میں مصروف تھے۔ 1270ھ بمطابق 1854ء یعنی جنگ آزادی سے تین سال قبل رحمت اللہ کیرانوی نے آگرہ میں پیش آنے والے ایک معرکہ کے مناظرہ میں مسیحیت کے مشہور مبلغ پادری فینڈر بحث کی۔

جنگ آزادی 1857ء میں کیرانوی صوفی شیخ حاجی امداد اللہ (مہاجر مکی) کی قیادت میں انگریز کے ساتھ قصبہ تھانہ بھون میں انگریز کے خلاف جہاد میں شامل ہوئے اور شاملی کے بڑے معارکہ میں بھی شریک ہوئے۔

انگریز کی فتح کے بعد کیرانوی دیگر مجاہدین کی طرح ہجرت کرکے حجاز چلے گئے۔ یہاں آپ نے پادری فنڈر کی کتاب میزان الحق کا جواب اظہار الحق تحریر فرمایا۔ حجاز سے سلطان ترکی کے بلانے پر قسطنطنیہ (حالیہ استنبول) گئے اور وہاں مسیحیوں سے مناظرے کیے، وہاں سے اظہار الحق شائع بھی ہوئی۔ قسطنطنیہ کے مناظروں اور اظہار الحق کے متعلق مشہور مستشرق گارسان وتاسی کے مقالات میں ہے؛

مکہ میں کیرانوی نے، ایک نیک خاتون بیگم صولت النساء کے فراہم کردہ عطیے سے ایک مدرسہ  قائم کیا جو حجاز مقدس میں اصول میں اہل سنت اور فروع میں حنفی فقہ پر چلنے والوں کا نمائندہ ادارہ ہے۔




#Article 22: عذاب قبر (655 words)


دیگر آیات واحدیث مبارکہ کے علاوہ عذاب قبر سورت غافر آیت 46 سے ثابت ہے۔

(النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًا وَعَشِيًا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ ) سورة غافر آية 46

اور وہ لوگ (فرعون اور اس کے ساتھی) صبح وشام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی (تو حکم ہوگا کہ) فرعون والوں کو نہایت سخت عذاب میں داخل کرو

علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں؛

قال ابن مسعود : إن أرواح آل فرعون ومن كان مثلهم من الكفار تحشر عن النار بالغداة والعشي فيقال هذہ داركم ۔

حضرت عبد اللہ ابن مسعود  نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ آل فرعون اور ان جیسے دوسرے کفار کی روحیں صبح وشام آگ میں گھسیٹی جاتی ہیں اور ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ تمہارا ٹھکانا ہے

وهذہ الآية أصل كبير في استدلال أهل السنة على عذاب البرزخ في القبور ۔

(امام ابن کثیر نے کہا) کہ یہ آیت سب سے بڑی دلیل ہے جس سے اہل سنت برزخ وقبر کے عذاب پر استدلال کرتے ہیں

[تفسير ابن كثير۔ 82/4]

سورت نوح میں ہے؛

ممّا خطيئتهم اغرقوا فادخلو نارا

اپنے گناہوں کے سبب وہ (قوم نوح علیہ السلام) غرق کیے گئے پھر آگ میں داخل کیے گئے

اس میں «فادخلوا» کا «ف» بتا رہا ہے کہ ڈوبنے کے بعد فوراً آگ میں داخل کردئے گئے

عذاب قبر کے متعلق احدیث مبارکہ معنوی لحاظ سے تواتر کو پہنچتی ہیں

صحیح بخاری وصحیح مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ؛

أن النبي صلى اللہ عليہ وسلم قال : [ إن العبد إذا وضع في قبرہ وتولى عنہ أصحابہ، وإنہ ليسمع قرع نعالهم أتاہ ملكان فيقعدانہ، فيقولان لہ : ما كنت تقول في هذا الرجل محمد؟ فأما المؤمن فيقول : أشهد أنہ عبد اللہ ورسولہ۔ قال : فيقولان : انظر إلى مقعدك من النار قد أبدلك اللہ بہ مقعداً من الجنة، فيراهما جميعاً۔ وأما الكافر، والمنافق، فيقال لہ ما كنت تقول في هذا الرجل؟ فيقول : لا أدري كنت أقول ما يقول الناس، فيقولان لا دريتَ ولا تليتَ، ويضرب بمطارق من حديد ضربة فيصيح صيحة فيسمعها من يليہ، غير الثقلين

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛ بلاشبہ جب بندے کو اس کی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے پھر جاتے ہیں اور وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے تو اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں جو اس کو بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں کہ تم ان صاحب (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں کیا کہتے تھے، جو مؤمن ہوتا ہے وہ جواب میں کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اس سے کہا جائے گا کہ تو اپنے جہنم کے ٹھکانے کو دیکھ جس کو اللہ نے جنت کے ٹھکانے سے بدل دیا ہے۔ وہ مؤمن دونوں ٹھکانوں کو دیکھے گا۔ اور جو کافر یا منافق ہوتا ہے اس سے پوچھا جاتا ہے تو ان صاحب کے بارے میں کیا کہتا تھا تو وہ جواب میں کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا، جو لوگ کہتے تھے میں بھی وہی کہتا تھا۔ اس کو کہا جاتا ہے کہ نہ تو نے عقل سے کام لیا اور نہ ہی نقلی دلیل کو اختیار کیا اور اس کو لوہے کے گرزوں سے مارا جاتا ہے جس سے وہ چیخ مارتا ہے جو سوائے انسانوں اور جنوں کے آس پاس موجود مخلوق سنتی ہے۔

عذاب کا یہ سلسلہ قبر سے پہلے ہی موت کے وقت شروع ہوجاتا ہے

فكيف اذا توفتهم الملائكة يضربون وجوههم وادبارهم [سورة محمد (القتال) آية 27]

پس کیسی حالت ہوگی جب کفار کی ارواح قبض کرتے ہوئے فرشتے ان کے منہ اور پیچھوں پر ماریں گے

ولو ترى اذ يتوفى الذين كفروا الملائكة يضربون وجوههم وادبارهم (الآية) [سورة الانفال آية 5٠]

اور اگر تو دیکھے (ائے مخاطب) جس وقت کافروں کی ارواح قبض کرتے ہیں فرشتے تو مارتے ہیں ان کے چہروں اور پیچھوں پر




#Article 23: مارچ (154 words)


مارچ گريگورين سال کا تيسرا مہينہ ہے۔ شمالی نصف کرہ میں اس مہينے ميں سردی کا موسم ختم ہوتا ہے اور شمالی نصف کرہ میں بہار کا آغاز ہوتا ہے جبکہ جنوبی نصف کرہ میں خزاں کا آغاز ہے۔ قدیم روم میں یہ سال کا پہلا مہینہ ہوتا تھا۔ اس کا نام قدیم روم کے جنگ کے دیوتا مارس کے نام پر رکھا گیا تھا۔ مارس کو جنگ کا دیوتا خیال کیا جاتا تھا اور یہ بھی خیال کیا جاتا تھا کہ وہ اپنے بیٹوں Romulus and Remus کے ساتھ مل کر کھیتی باڑی کی نگہبانی کرتا ہے یو مارس دیوتا کے مہینے (مارچ)میں ہی کھیتی باڑی اور جنگ کا آغاز ہوا کرتا تھا۔ غالباً 153 قبل مسیح تک مارچ کا مہینہ ہی رومن کیلنڈر کا پہلا مہینہ تسلیم کیا جاتا رہا۔ اور یوں مارچ کے پہلے پندرہ دنوں کے درمیان مختلف مذہبی تہوار منا کر نئے سال کو خوش آمدید کہا جاتا رہا۔




#Article 24: عیسی ابن مریم (683 words)


عیسیٰ ابن مریم ایک قرآنی نبی ہیں۔ مسلمان ان کو اللہ کا برگزیدہ نبی مانتے ہیں۔ جو مخلوق خدا کی ہدایت اور رہبری کے لیے مبعوث ہوئے۔ ایک مدت تک زمین پر رہے پھر زندہ آسمان پر اٹھا لیے گئے۔ قرب قیامت آپ پھر نزول فرمائیں گے اور شریعت محمدیہ پہ عامل ہوں گے۔ ایک مدت تک قیام کریں گے اور پھر وصال فرما کر مدینہ منورہ میں مدفون ہوں گے۔

قرآن کے مطابق عیسیٰ مریم بنت عمران کے بیٹے تھے جو کنواری ماں بنی تھیں۔ قرآن اور اسلامی روایات کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام داؤد علیہ السلام کی نسل سے تھے یعنی ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے اسحاق علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ قرآن نے عیسیٰ علیہ السلام کو صرف مریم علیہا السلام کا بیٹا کہا ہے اور یہ بھی کہ وہ انبیا کی ذریت میں سے تھے یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو مریم علیہا السلام کی وساطت سے انبیا کی ذریت قرار دیا ہے۔

اکثر مسلمانوں کے مطابق عیسی کی موت واقع نہیں ہوئی بلکہ اللہ نے انہیں زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور ان کا ظہور قیامت کے نزدیک ہوگا۔ایسا کہا جاتا ہے کہ ان کی جگہ ان کا ایک ہم شکل مصلوب ہوا۔ ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا اور ان کا دوبارہ ظہور قیامت کے نزدیک ہوگا۔

اللہ نے سورۃ النساء کی ان آیات میں یہود کے ملعون ہونے کی کچھ وجوہات بیان کی ہیں من جملہ ان میں ہے کہ؛

اور ان کے اس کہنے (یعنی فخریہ دعوٰی) کی وجہ سے (بھی) کہ ہم نے اللہ کے رسول، مریم کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر ڈالا ہے، حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ انہیں صلیب پر چڑھایا مگر (ہوا یہ کہ) ان کے لیے (کسی کو عیسٰی علیہ السلام کا) ہم شکل بنا دیا گیا اور بیشک جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں وہ یقیناً اس (قتل کے حوالے) سے شک میں پڑے ہوئے ہیں، انہیں (حقیقتِ حال کا) کچھ بھی علم نہیں مگر یہ کہ گمان کی پیروی (کر رہے ہیں) اور انہوں نے عیسٰی (علیہ السلام) کو یقیناً قتل نہیں کیا۔

اور اس کے علاوہ سورہ النساء میں ہے کہ

 (الآية) - سورة النساء آية 159

اور (قربِ قیامت نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے وقت) اہلِ کتاب میں سے کوئی (فرد یا فرقہ) نہ رہے گا مگر وہ عیسیٰ (علیہ السلام) پر ان کی موت سے پہلے ضرور (صحیح طریقے سے ) ایمان لے آئے گا اور قیامت کے دن عیسٰی (علیہ السلام) ان پر گواہ ہوں گے۔

یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پیشتر جب ان کا آسمان سے نزول ہوگا تو اہل کتاب ان کو دیکھ کر ان کو مانیں گے اور ان کے بارے میں اپنے عقیدے کی تصحیح کریں گے۔

حیات و نزول مسیح علیہ السلام کے متعلق احادیث درجہ تواتر کو پہنچتی ہیں۔ ان احادیث کا متواتر ہونا محمد انور شاہ کشمیری نے اپنی کتاب «التصريح بما تواتر في نزول المسيح» میں ثابت کیا ہے۔
چند احادیث پیش خدمت ہیں؛

 (رواه البخاري ومسلم)

ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ محمد رسول اللہ  نے فرمایا کیا حال ہوگا تمہارا کہ جب عیسٰی ابن مریم آسمان سے نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔

عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ محمد رسول اللہ  نے ارشاد فرمایا کہ زمانہ آئندہ میں عیسٰی علیہ السلام زمیں پر اُتریں گے اور میرے قریب مدفون ہوں گے۔ قیامت کے دن میں اور مسیح ابن مریم، ابو بکر وعمر کے درمیان میں والی ایک ہی قبر سے اُٹھیں گے۔

عن الحسن مرسلاً قال: قال رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة

امام حسن بصری سے مرسلاً روایت ہے کہ محمد رسول اللہ  نے یہود سے فرمایا کہ عیسٰی علیہ السلام نہیں مرے وہ قیامت کے قریب ضرور لوٹ کر آئیں گے۔

دیگر بہت سی احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ عیسٰی علیہ السلام کے نزول کے وقت مسلمانوں کے امام، امام مہدی علیہ السلام ہوں گے اور عیسٰی علیہ السلام اس ہدایت یافتہ امام کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے۔




#Article 25: جنتری (684 words)


وقت کو سیکنڈوں، منٹوں، گھنٹوں، دنوں، ہفتوں، مہینوں، فصلوں، سالوں اور صدیوں ( اور بعض ممالک اور زبانوں میں ہزاری) میں مرتب کرنا جنتری کہلاتا ہے۔ جس کو کیلنڈر بھی کہا جاتا ہے۔ غلطی سے تقویم کو بھی جنتری یا کیلنڈر کہہ دیا جاتا ہے۔ تقویم ایک نظام ہے اور جنتری اس کی ترتیب، نقشہ یا شماریات ہوتی ہے۔ اس طرح ہر تقویم کی اپنی جنتری ہوتی ہے یا ایک جنتری مختلف تقاویم کا حساب کتاب اپنے اندر سمو ئے ہوتی ہے۔

ثانیہ یا سیکنڈ وقت مرتب کرنے کی سب سے چھوٹی اکائی شمار ہوتی ہے البتہ وقت کی شماریات میں اس سے بہت چھوٹی کئی اکائیاں اور بھی ہیں۔ جو مختلف علوم میں استعمال ہوتی ہیں۔

ایک دقیقہ یا منٹ 60 سیکنڈ کا ہوتا ہے۔

ایک گھنٹہ 60 منٹ کا ہوتا ہے۔

عام طور پر 3 گھنٹے کا ہوتا ہے۔ اس طرح ایک دن اور رات کے آٹھ پہر شمار ہوتے ہیں۔ مگر بعض تقاویم میں کم یا زیادہ بھی ہوتے ہیں۔

عام طور پر 24 گھنٹے کا شمار ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت میں رات کا دورانیہ نکال کے باقی حصہ دن ہے اور اس کا دورانیہ مختلف اوقات میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں مختلف ہوتا ہے۔ عام استعمال میں دن بشمول رات کے دن ہی کہلاتا ہے۔ جو چوبیس گھنٹہ کے برابر شمار کیا جاتا ہے مگر دن ہمیشہ چوبیس گھنٹے کا نہیں ہوتا اکثر چند منٹ چھوٹا یا بڑا ہوتا ہے۔ مگر گھڑیوں کی ترتیب میں دن چوبیس گھنٹے کا ہی رکھا گیا ہے۔

اس کا دورانیہ مختلف اوقات میں، مختلف جگہوں پر مختلف ہوتا ہے۔

وقت کو ہفتوں میں بھی گروہ بند کیا جاتا ہے۔ عام طور پر ہفتہ سات دن (دن اور رات) کا ہوتا ہے۔ مختلف تقاویم میں ہفتہ کے دنوں کی تعداد کم یا زیادہ ہوتی ہے۔ سات دن کے ہفتے کے دن کچھ یوں ہیں۔

ہفتہ - اتوار - پیر - منگل - بدھ - جمعرات - جمعہ

مختلف تقاویم میں ہفتہ کا آغاز مختلف ہے۔ اسلامی تقاویم میں ہفتہ ہفتہ کے روز ہی شروع ہوتا ہے اور مغربی تقاویم میں ہفتہ کا آغاز پیر کے روز سے ہوتا ہے۔ یہودی تقویم میں اتوار ہفتہ کا پہلا دن ہے۔

عام طور پر 30 دن کا ہوتا ہے کچھ تقویموں میں اس کی تعداد کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس کا آغاز ایک نمبر سے ہوتا ہے اوراس کا ہر نمبر تاریخ کہلاتا ہے۔ تاریخ دن اور رات دونوں پر اطلاق ہوتی ہے۔ ہر تاریخ کا آغاز مختلف تقویم میں مختلف ہے۔ عیسوی تقویم میں ہر نئی تاریخ نصف رات کے لگ بھگ شروع ہو جاتی ہے۔

مغربی / عیسوی کیلنڈر Gregorian calendar میں موجود مختلف مہینے۔ اس کیلنڈر میں سال کا آغاز جنوری سے ہوتا ہے۔

جنوری | فروری | مارچ | اپریل | مئی | جون | جولائی | اگست | ستمبر | اکتوبر | نومبر | دسمبر

اسلامی کیلنڈر کی بنیاد قمری تقویم پر ہے جو مسلمانوں نے پہلے سے رائج عربی تقویم میں کچھ تبدیلیاں کر کے اپنائی۔ اور اس تقویم کا نام قمری ہجری رکھ دیا۔ اس میں موجود سال کے اکثر مہینوں کے نام وہی رہے جو پہلے تھے۔ ہجری سال کا آغاز محرم سے ہوتا ہے۔

محرم | صفر | ربیع الاول | ربیع الثانی | جمادی الاول | جمادی الثانی | رجب | شعبان | رمضان | شوال | ذی قعد | ذو الحج

ایرانی کیلنڈر میں موجود مختلف مہینے۔ اس کیلنڈر میں سال کا آغاز فروردین سے ہوتا ہے۔

ایرانی مسلمانوں نے اپنی ہزاروں سال پرانی رائج شمسی تقویم کو تو شمسی ہجری تقویم میں بدل دیا مگر مہینوں کے نام وہی رکھے۔

موسموں کی نسبت سے ہر تین ماہ کی ایک فصل ہوتی ہے اس طرح سال میں چار فصلیں ہوتی ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف مناسبتوں سے بھی فصلیں ہوتی ہیں جن کی مدت بھی مختلف ہوتی ہے۔

زمینی سال عام طور پر بارہ مہینوں پہ مشتمل ہوتا ہے۔ اگرچہ دنیا میں سال کے مہینوں یا دنوں کی مختلف تعداد رائج ہے۔

صدی 100 سالوں پہ مشتمل ہوتی ہے۔

اردو میں وقت کے ہزار سال کو دس صدی کہا جاتا ہے اور دو ہزار سال کو بیس صدیاں کہا جاتا ہے۔




#Article 26: بغداد (115 words)


بغداد عراق کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ ماضی میں خلافت عباسیہ کا مرکز تھا۔ اسے منگول لشکروں نے تاراج کیا۔ شہر کی آبادی ساٹھ لاکھ ہے جو اسے عراق کا سب سے بڑا اور عالم عرب کا آبادی کے لحاظ سے قاہرہ کے بعد دوسرا بڑا شہر بناتی ہے۔ اس شہر میں شیخ عبد القادر جیلانی کا مزار بھی ہے۔

دجلہ کے کنارے واقع جدید شہر کی تاریخ کم از کم آٹھویں صدی عیسوی سے منسوب ہے جب کہ آبادی اس سے بھی پہلے تھی۔ کسی دور میں دارالاسلام اور مسلم دنیا کا مرکز یہ شہر، 2003ء سے جاری عراق جنگ کی وجہ سے آج انتشار کا شکار ہے ۔




#Article 27: مملکت متحدہ (4169 words)


مملکت متحدہ برطانیہ عظمی و شمالی آئرلینڈ (United Kingdom of Great Britain and Northern Ireland)، جسے عام طور پر مملکت متحدہ (United Kingdom) یا برطانیہ (Britain) کے طور پر جانا جاتا ہے، شمال مغربی یورپ کا ایک ملک ہے۔ یہ جزیرہ برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ کے علاوہ ملحقہ سمندر کے مختلف جزائر پر پھیلا ہوا ہے۔

برطانیہ کے چاروں طرف بحر اوقیانوس اور اس کے ذیلی بحیرے ہیں جن میں بحیرہ شمال، رودباد انگلستان، بحیرہ سیلٹک اور بحیرہ آئرش شامل ہیں۔

برطانیہ چینل سرنگ کے ذریعے فرانس سے منسلک ہے جو رودباد انگلستان کے نیچے سے گذرتی ہے جبکہ شمالی آئرلینڈ جمہوریہ آئرلینڈ کے ساتھ ملتا ہے۔

برطانیہ ایک سیاسی اتحاد ہے جو 4 ممالک انگلستان، اسکاچستان، ویلز اور شمالی آئرلینڈ سے مل کر بنا ہے۔ ان کے علاوہ دنیا بھر میں برطانیہ کے دیگر کئی مقبوضات بھی ہیں جن میں برمودا، جبل الطارق یا جبرالٹر، مونٹسیرٹ اور سینٹ ہلینا بھی شامل ہیں۔

برطانیہ ایک آئینی بادشاہت ہے جو دولت مشترکہ کے 16 ممالک کی طرح ملکہ ایلزبتھ دوم کو اپنا حکمران تصور کرتی ہے۔

برطانیہ جی 8 کا رکن اور انتہائی ترقی یافتہ ملک ہے۔ اس کی معیشت دنیا کی پانچویں اور یورپ کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے جس کا اندازہ 2.2 کھرب امریکی ڈالرز ہے۔ برطانیہ آبادی کے لحاظ سے یورپی یونین کا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے جس کی آبادی 60.2 ملین ہے۔ برطانیہ شمالی اوقیانوسی معاہدہ (نیٹو) اور اقوام متحدہ کا بانی رکن اور سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے۔ برطانیہ دنیا کی بڑی جوہری طاقتوں میں سے ایک ہے۔ یہ یورپی یونین کا بھی رکن ہے۔

سلطنت برطانیہ کے خاتمے کے باوجود انگریزی زبان کے عالمی استعمال اور دولت مشترکہ کے باعث برطانیہ کے اثرات ابھی بھی دنیا پر باقی ہیں۔

برطانیہ یورپ کے ان ممالک میں سے ہے جن کی تاریخ بہت زرخیز ہے برٹن قبائل کی وجہ سے ان جزائر کا نام برطانیہ پر گیا جو یورپ اور دیگر خطوں سے ہجرت کرکے برطانیہ میں آباد ہوئے ان برٹنوں کی اکثریت آج بھی ویلز کے علاقے میں مقیم ہے ان برٹنوں کے مذہبی رہنماؤں کو ڈروئدا کہا جاتا تھااس وقت یہاں کے دیوی دیوتاؤں میں سے ایک متھرا دیوی بھی تھی قبل مسیح رومی حکمران آگستس کے زمانے میں جزائر برطانیہ پر رومی حکومت کا قبضہ تھا اگر چہ کہ برطانیہ میں اس دور میں رہنے والے تمدن کے اعتبار سے زیادہ ترقی یافتہ نہ تھے مگر پھر بھی وہ رومہ تہذیب کا حصہ تصور کیے جاتے ہیں۔

ونڈسر خاندان یہ نام تبدیل کیا گیا تھا

جزائر برطانیہ بھی ان حملہ آووروں کے حملوں سے بری طرح سے متاثر ہوا ایک جانب رومی حکومت کی گرفت کمزور ہوئی تو دوسری جانب علاقائی حکومتیں قائم ہوتی چلی گئیں جو چھوٹے چھوٹے علاقوں پر مشتمل تھیں ان حکومتوں کو تاریخ میں حکومت ہفت گانہ کہا جاتا ہے اسی زمانے میں برطانیہ میں مسیحیت کی تبلیغ ہوئی اور برطانیہ کے مختلف علاقے بت پرستی سے مسیحیت کی آغوش میں چلے گئے اسی دوران آٹھویں صدی میں برطانیہ پر ڈنمارک کے رہنے والے ڈین قبائل نے حملے کرنا شروع کردیے حملوں کا مقصد برطانیہ پر قبضہ کرنا تھا ٹھیک اسی زمانے میں ناروے میں بسنے والے جنگجو وائی کنگ نے بھی برطانیہ پر قبضہ کرنے کے لیے حملے کرنا شروع کردیے وائی کنگ یورپ کی تاریخ کی انتہائی جنگجو قوم ہے جنہوں نے تمام یورپ میں اپنی وحشیانہ اور جنگجوانہ سرگرمیوں سے دہشت قائم کررکھی تھی اس زمانے میں برطانیہ کے بادشاہ ایلفرڈ بہت بہادر بادشاہ تھا جسے ایلفرڈ آعظم کہا جاتا ہے نے ان وائی کنگ حملہ آووروں کے خلاف طویل ترین جنگیں لڑیں اور بڑی بہادری کے ساتھ وائی کنگ کا مقابلہ کیا جس کے نتیجے میں وائی کنگ پسپائی اختیارکرنے پر مجبور ہوئے مگر اس کے باوجود ایلفرڈآعظم نے جو صلح کا معاہدہ وائی کنگ کے ساتھ کیا اس معاہدے میں حکمتِ عملی کے تحت دریائے ٹیمز سے اوپرکے علاقے جس میں شمالی ومشرقی انگلستان کا ایک وسیع علاقہ ان وائی کنگ کے حوالے کیا باقی حصہ ایلفرڈآعظم کے قبضے میں بدستور رہا۔
ایلفرڈ آعظم کے بعد اس کی اولاد حکمران رہی دسویں صدی کے آخر میں ڈنمارک کے بادشاہ نے حملہ کیا اس خاندان کا ایک فرد باقاعدہ انگلستان کا بادشاہ بن کر بیٹھ گیا مگر اس کی حکومت کا خاتمہ اس کی موت کے بعد جلد ہی ہو گیا کیونکہ اس کی اولادمیں سے کوئی بھی حکمرانی کے قابل نہیں نکلا لہٰذا 1042ء میں اس حکومت کا خاتمہ ہو گیا اورایلفرڈ آعظم کی اولاد میں ایڈورڈ انگلستان کا بادشاہ بنایاگیا مگر ایڈورڈ لاولد انتقال کرگیا جس کی موت کے بعد انگلستان میں تخت کے دو دعویداروں ھیرلڈ اور ولیم کے درمیان جنگ ہوئی جس میں ھیرلڈ مارا گیا اورولیم انگلستان کا بادشاہ بنا واضح رہے کہ اگرچے کے ولیم ایڈورڈ کا رشتے دارتھا مگر چونکہ اس کا تعلق نارمنڈی سے تھا اس لیے اس کی حکومت کے نارمنوں کی حکومت تصور کی جاتی ہے۔

برطانیہ آئینی راجشاہی کے تحت ریاست ہے۔ ملکہ ایلزبتھ دوم پندرہ دیگر دولت مشترکہ ریاستوں کا فرمانروا ہونے کے علاوہ برطنیہ کا صدر ملک ہے۔ فرمانروا کو مشورہ دینے کا، حوصلہ دینے کا اور انتباہ دینے کا حق ہے۔ برطانیہ دنیا کے ان چار ممالک میں سے ایک ہے جن کی کوئی تدوین شدہ آئین نہ ہو۔ لہٰذا برطانیہ کا آئین زیادہ تر الگ الگ تحریری ذرائع پر مشتمل ہے، بشمول تحریری قانون، منصف ساختہ نظائری قانون اور بین الاقوامی معاہدے، آئینی رواجوں کے ساتھ۔ چونکہ عام تحریری قانون اور آئینی قانون میں کوئی خاص فرق نہیں ہے، برطانوی پارلیمان آئینی اصلاح کر سکتا ہے صرف پارلیمانی قانون جاری کرنے سے اور لہٰذا آئین کی تقریباً کوئی بھی تحریری یا غیر تحریر شدہ عنصر کو منسوخ کرنے کی سیاسی اقتدار رکھتا ہے۔ تاہم کوئی پارلیمان ایسا قانون جاری نہیں کر سکتا جو آئندہ پارلیمان بدل نہ سکیں۔

برطانیہ کی ویسٹ مِنسٹر نظام پر مبنی پارلیمانی حکومت ہے جس کی دنیا بھر میں تقلید کیا گیا ہے: برطانوی سامراج کا ایک ورثہ۔ برطانیہ کا پارلیمان جو ویسٹمِنسٹر محل میں ملتا ہے اس کے دو ایوان ہیں؛ ایک منتخب ہاؤس آف کامَنز (ایوانِ زیریں) اور مقررہ ہاؤس آف لارڈز (ایوانِ بالا)۔ تمام مسوداتِ قانون جو جاری کیے جاتے ہیں انہیں قانون بنانے سے پہلے شاہی منظوری دی جاتی ہے۔

برطانوی حکومت کے سربراہ، وزیرِ اعظم کا عہدہ وہ رکنِ پارلیمان رکھتا ہے جو ہاؤس آف کامنز میں اکثریت کا رائے حاصل کر سکتا ہے، عام طور پر اس ایوان میں سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ۔ وزیرِ اعظم کابینہ چنتا ہے اور وہ فرمانروا سے رسمی طور پر مقرر کیے جاتے ہیں۔

کابینہ عام طور پر دونوں ایوانوں میں سے وزیرِ اعظم کے جماعت کے ارکان سے چنا جاتا ہے اور زیادہ تر حصہ ہاؤس آف کامنز سے، جسے وہ ذمہ دار ہیں۔ وزیرِ اعظم اور کابینہ عاملانہ اقتدار رکھتے ہیں۔ ہاؤس آف کامنز کے انتخابات کے لیے، برطانیہ 650 حلقۂ انتخابوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جن میں سے ہر ایک ایک ہی رکنِ پارلیمان انتخاب کرتا ہے۔ عام انتخابات فرمانروا مقرر کرتا ہے وزیرِ اعظم کے مشورے پر۔ 1911ء اور 1949ء کے پارلیمانی قانون لازمی بناتے ہیں کہ نئے انتخابات پچھلے والوں کے بعد پانچ سال ختم ہونے سے پہلے مقرر ہوں۔

برطانیہ میں تین سب سے بڑے سیاسی جماعتیں ہیں کنزرویٹو پارٹی، لیبر پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹس۔

اسی طرح اسکاٹ لینڈ کی بھی صورت یہ تھی کہ پانچویں صدی میں اسکاٹ لینڈ چار حصوں میں تقسیم تھا چھوٹے چھوٹے قبائیلی سردار اپنی اپنی راجدھانی کے سردار بن کر بیٹھ گئے تھے پانچویں صدی عیسوی میں اسکاٹ لینڈ کے لوگوں نے انگلستان کی حکومت کا خاتمہ کرکے اپنی مقامی حکومت قائم کرلی مگر یہاں بھی اسی طرح کی صورت حال تھی کے اسکینڈینیویا کے ممالک کے لوگ اسکاٹ لینڈ پر حملہ آوور ہوتے اور کبھی کسی علاقے پر قبضہ کرلیتے اور کبھی کسی علاقے پرمگر پھر ان کو احساس ہوا اور 1034ء میں تمام اسکاٹ لینڈ ایک حکومت کے جھنڈے تلے آ گیا۔

پانچویں صدی عیسوی میں مسیحی راہبوں کے ذریعہ آئرلینڈ میں مسیحیت پھیلی اس سے قبل یہاں پر بت پرستی رائج تھی مسیحیت پھیلنے کے بعد تین سو برس بعد تک آئیر لینڈ میں مسیحی رہبانیت کے تحت ہی نظام کام کرتا رہا مگر آٹھویں صدی کے بعد جو صورتِ حال انگلستان اور اسکاٹ لینڈ کی اوپر بتائی گئی ہے اس سے ملتی جلتی صورت حال آئرلینڈ کی ہو گئی جہاں یورپ کے دیگر علاقوں کے مختلف قبائل آکر حملہ کرتے اور قبضہ کرلیتے تھے مگر پھر 1171ء میں انگلستان کے نارمن بادشاہ ہنری دوم نے پوپ کے فرمان کے مطابق آئرلینڈ پرحملہ کرکے قبضہ کرلیااور یوں وہاں انگلستان کی حکومت قائم ہو گئی۔

جنگ ھیسٹینگز کے بعد انگلستان پر نارمنوں کی حکومت قائم ہو گئی تھی ولیم اول نے انگلستان پر بڑی ہی فراست کے ساتھ حکومت کی قدیم جاگیر دارانہ نظام بدستور قائم رکھا گیا،مگر اس کے باوجود ولیم کا ان جاگیرداروں پر بہت مضبوط کنٹرول تھا اس کے احکامات تھے کہ کوئی بھی جاگیرداراس کی اجازت کے بغیر کوئی قلعہ تعمیر نہیں کر سکتا تھا بڑے بڑے مذہبی عہدیداروں کا تقرر بادشاہ کی مرضی کے بغیر ممکن ہی نہ تھا 1087ء میں ولیم کی وفات کے بعد اس کا بیٹا ولیم ثانی بادشاہ بنا مگر لوگ اس سے بہت ناراض تھے جس کی وجہ سے ولیم ثانی 1100ء میں مارا گیا جس کے بعد اس کا بیٹا ہنری اول تخت نشین ہوا جس کے عہد میں تجارت کو بہت ہی فروغ حاصل ہوا ہنری کے دور میں ہی انگریز تاجر برطانیہ سے باہر نکلے اور تجارت کے میدان میں دیگر یورپی اقوام کے مقابلہ میں جدوجہد شروع کی ہنری اول کی وفات کے بعداس کانواسہ ہنری دوم کے نام سے انگلستان کا بادشاہ بنا پلانٹیجنیٹ (Plantagenet) خاندان سے تعلق رکھنے والے ہنری دوم ہنری اول کی بیٹی مٹلڈا کا بیٹا تھا،مٹلڈا کی شادی آنجو (Angou) کے نواب جیو فرے کے ساتھ ہوئی تھی اس خاندان کا نشان ایک جھاڑی تھا اس لیے اس خاندان پلانٹیجنیٹ (Plantagenet) کہا جاتا ہے ہنری دوم کے بعد انگلستان میں جب تک اس خاندان کی حکومت قائم رہی اس حکومت کو پلانٹیجنیٹ (Plantagenet) کا دور کہا گیا ہنری دوم کے دور میں انگلستان کے نظام کو بہتر بنایا گیا جو علاقے اس سے قبل انگلستان کے بادشاہوں کے ہاتھ سے نکل گئے تھے ان علاقوں پر دوبارہ قبضہ کیااس کے علاوہ ہنری نے عدالتی اصلاحات کی مالیات کے محکمے کو ازسر نو منظم کیا تجارت کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے اس کا سب سے یادگار قدم جو آج بھی ہنری دوم کی یاد دلاتا ہے وہ یہ کہ اس نے آکسفورڈ یونیورسٹی کی بنیاد1209ء میں رکھی اس کے بعد اس کا بیٹا رچرڈ بادشاہ بنا تاریخ میں اس بادشاہ کو رچرڈ شیردل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے رچرڈ شیر دل تیسری صلیبی جنگ میں خود شامل ہوا تھا جس کے بعد اس کی بہن کی شادی سلطان ایوبی کے بھائی کے ساتھ ہوئی۔ 1199ء میں رچرڈ کی وفات کے بعداس کا بھائی جان (John)بادشاہ بنا۔ برطانیہ کی تاریخ میں کوئی زیادہ اچھا بادشاہ نہیں جانا جاتا ہے جان (John) کوئی زیادہ کامیاب باشاہ نہیں تھا اس کے دور میں ایک جانب تو پوپ کے ساتھ کشمکش کا آغاز ہوا دوسری جانب امیروں اور جاگیرداروں کے ساتھ لڑائیاں ہوئیں جس کی وجہ سے انگلستان کی معیشت کو بہت نقصان پہنچا مگر تاریخ میں جان (John) کا نام اس اعتبار سے زیادہ مشہور ہے کہ جان کے دور میں اس جمہوریت کی ابتدا ہوئی جس کی وجہ سے آج برطانیہ کا نام قوموں میں سر بلند ہے جان (John) نے 1214ء میں اس دستاویز پر دستخط کیے جو تاریخ میں میگنا کارٹا یعنی منشور کبیر کے نام سے مشہور ہے یہ ہی منشور انگلستان میں جمہوریت کی سنگ بنیاد تصور کیا جاتاہے۔ جان کے دور میں انگلستان میں پوپ کا عمل دخل زیادہ بڑھ گیا تھا جان کے لیے ضروری تھا کہ پوپ کو خوش رکھنے کے لیے باقاعدہ نذرانے بھیجتا رہے معیشت بہت متاثر ہوئی اس کے نتیجے میں انگلستان مختلف شورشوں کا شکار ہوتا چلا گیا 1216ء میں جان نے وفات پا ئی جان کے بعداسکا بیٹا ہنری سوم کے نام سے نو برس کی عمر میں انگلستان کا بادشاہ بنا مگراس کی خوش نصیبی یہ رہی کہ ایک انتہائی قابل شخص ولیم مارشل جو اس کے باپ جان کا ساتھی تھا ہنری سوم کا نائب السلطنت بنا ولیم مارشل انتہائی قابل اور وفادار تھا اس نے انتہائی قابلیت اورذہانت کے ساتھ کار مملکت چلائے جس کی وجہ سے انگلستان میں نو سالہ بادشاہ کی موجودگی میں کسی بھی طرح بے امنی اور بد انتظامی نہیں ہو سکی مگر جلد ہی ویلیم مارشل کی وفات کے بعد انتظامی معاملات بگڑنے لگے ایک جانب پوپ انگریزی کلیساؤں سے چندے کی رقم کا مطالبہ کرتا تھا دوسری جانب پوپ کی طرف سے مختلف مذہبی مطالبات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے تھے پھر ویز میں بغاوت کا سلسلہ شروع ہو گیا اس کے ساتھ انگلستان اور فرانس کے درمیان جنگ بھی شروع ہو گئی حالانکہ ہنری کی شادی فرانس کی شہزادی کے ساتھ ہوئی تھی مگر اس کے باوجود انگلستان اور فرانس کے درمیان جنگ ہوئی پوپ کی جانب سے انگلستان میں مداخلت کا سلسلہ بھی جاری ہی رہا ایک جانب تو پوپ نے اپنے مصارف کے لیے مستقل دباؤ ڈالنا شروع کیاجس کی انتہائی صورت یہ تھی کہ انگلستان کی پوری آمدنی کا ایک تہائی حصہ پوپ کے حوالے کیا جانے لگا جس کے نتیجے میں عوام ناراض ہونے لگے امراکی ایک کمیٹی جس کے اراکین 24افراد پر مشتمل تھی نے اصلاحی اسکیم پیش کردی ہنری نے اس اسکیم کو توڑنے کی بہت کوشش کی مگر اس میں اس کو کامیابی نہیں ہوئی اس طرح خانہ جنگی کا آغاز ہو گیا جس میں بادشاہ کے بہنوئی سائمن ڈی مان فرٹ (Siman de Monfort) نے اصلاحی گروہ کی سرداری قبول کرلی بادشاہ کو شکست ہوئی اور سائمن نے پورا انتظامی کاروبار سنبھال لیا بادشاہ نے مشورے کے لیے جو مجلس بنا رکھی تھی اسے پہلے مجلس کبیر (Great Council) کہا جاتا تھا مگر 1240ء میں اس کا نام پارلیمنٹ رکھا گیا جو آج تک جاری ہے 1925ء میں سائمن نے ایک نمائندہ پارلیمنٹ بلوائی بادشاہ کا بڑا بیٹا جو پہلے اصلاحی پارٹی کے ساتھ تھا پھر وہ ا ن ا میروں کے ساتھ مل گیا جو بادشاہ کے طرف دار تھے اس نے سائمن کو شکست دی اب اقتدار دوبارہ ہنری کے ہاتھ میں آ گیا لیکن اس وقت بھی برائے نام بادشاہ تھاکیونکہ تمام اقتدار ایڈورڈکے ہاتھ میں ہی تھا 1272ء میں ہنری کا انتقال ہو گیا اور اس کا بیٹاایڈورڈ انگلستان کا بادشاہ بنا جسے ایڈورڈ اول کہا گیا جو انگلستان کی تاریخ کا انتہائی قابل اور مدبر بادشاہوں میں شمار کیا جاتا ہے اس کے زمانے میں ویلز کی بغاوت کا خاتمہ ہوا اسکاٹ لینڈ بھی انگلستان کے ساتھ شامل ہوا اگرچے یہ شمولت رسمی ہی تھی مگر اس کے باوجود اسکاٹ لینڈپرانگلستان کا جھنڈا لہرایا گیا اس کے ساتھ انگلستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے جو اہم ترین فیصلہ ایڈورڈ اول نے کیا وہ یہ تھا کہ 1290ء میں ایڈورڈ اول نے انگلستان کی حدود سے یہودیوں کو نکل جانے کے احکامات دیے 1295ء میں ایک نمائندہ پارلیمنٹ بلوائی جس میں، بشپ ،ایبٹ،بڑے بڑے امیر،نامور جنگجو اور مختلف قبائلی سرداروں نے شرکت کی اس نمائندہ اجلاس میں پہلی بار میگنا کارٹاکی تصدیق کردی گئی اس کے ساتھ میگنا کارٹا میں ایک دفعہ مزید بڑھائی گئی کہ بادشاہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کوئی غیر جاگیردار محصول نافذ نہیں کرے گا ایڈورڈ کے دور کی ایک خوبی یہ ہے کہ متوسط طبقے سے بادشاہ باقاعدہ رابطہ قائم رکھتا تھا اور ان کی تجاویز سنتا تھااور ان پر عمل درآمد بھی کروا تا تھا بادشاہ کا یہ قدم انگلستان میں جمہوریت کو قائم رکھنے میں بہت مدد گار ثابت ہوا اس کے ساتھ عدالتوں کی اصلاح بھی کی گئی عدالتوں کی کارکردگی کے بارے میں ایک سالنامہ شائع کیا جاتا تھا جس میں تمام عدالتی کارروائی کی تفصیل درج ہوتی تھی۔ ایڈورڈ کا دور اس اعتبار سے بھی بہت اہم ہے کہ اس دور میں آئیرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ انگلستان کا حصہ بنے جو گریٹ برٹین کی ابتدا تھی اس کے ساتھ ایڈورڈ نے جو اہم ترین کام انجام دیا وہ یہ کہ 1209ء میں بننے والی آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب بھرپور توجے دی گئی جس کے نتیجے میں انگلستان میں اعلیٰ تعلیم کا انتظام ہو سکا آکسفورڈ یونیورسٹی اس وقت دنیا کی سب سے قدیم یونیورسٹی شمار کی جاتی ہے جہاں سے کروڑوں طالب علم اس وقت اپنی تعلیم کو مکمل کرکے دنیا بھر میں پھیل چکے ہیں۔

یہ وہ دور تھا جب منگولوں نے چنگیز خان کی سربراہی میں منگولیا سے نکل کر بیرونی دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو شکست دے کر تہلکہ مچا دیا تھا منگولوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں نے عالمِ اسلام کے اہم ترین اور طاقتور ریاستوں سمرقند و بخارا اور بغداد کو روند کراور تباہ و برباد کرکے رکھ دیا تھا وہیں ان ہی منگولوں نے ایک جانب تمام روس دوسری جانب پولینڈ، جرمنی، آسٹریا، بلغاریہ، ترکی،رومانیہ پر قبضہ جمالیا تھا یورپ میں موجود مسیحیت کی سب سے بڑی روحانی شخصیت پوپ نے منگولوں کے حملے کو عذابِ خداوندی قرار دیا اور یورپ کے تمام بادشاہوں کو اس عذابِ خداوندی کا مقابلہ کرنے کے لیے یکجا ہونے کی دعوت دی مگر جلد ہی منگولوں کے پہلے بادشاہ چنگیز خان کے مر جانے کے بعد ایشیا میں مسلمانوں کے ہاتھوں پہلی شکست کھانے کے بعد منگولوں کی قوت تتر بتر ہونے لگی جس کے نتیجے میں ان کے طوفانی حملوں کا زور یورپ میں ختم ہو گیا اور یورپی ریاستوں نے ایک ایک کرکے منگولوں سے آزادی حاصل کرنا شروع کردی اس صورت حال کے اثرات برطانیہ پر بھی پڑے ایک جانب منگولوں کے ہاتھوں شکست کھانے والے قبائل پناہ لینے کے لیے برطانیہ کی جانب رخ کرنے لگے دوسری جانب برطانیہ میں اعلیٰ ترین صنعت کار اور تاجر آنے لگے یورپ کے اجڑنے کے ساتھ برطانیہ کے بسنے کا عمل بھی جاری ہوا اسے انگریز قوم کی خوبی ہی کہا جائے گا کہ انگریزوں نے اس صورت حال کا فائدہ اٹھایا اور ایسا قومی ماحول تشکیل دیا جس کے نتیجے میں قومی ترقی کے امکانات وسیع سے وسیع تر ہوتے چلے گئے۔

ایڈورڈ اول کی وفات کے بعد اس کے بیٹے ایڈورڈ دوم کے نام سے تخت نشین ہوا وہ زیادہ قابل نہ تھا اس لیے امیروں کا کنٹرول ایڈورڈ دوم پر تھا جس کی وجہ سے نہ تو ایڈورڈ دوم پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کوئی کام کر سکتا تھا اور نہ ہی پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر اعلانِ جنگ کر سکتا تھا اس کے دور میں اسکاٹ لینڈ کے باغیوں نے شاہی فوج کو شکست دیدی جس کے نتیجے میں اسکاٹ لینڈ آزاد ہو گیا ایڈورڈ کی شکست کے نتائج اس کو اس طرح سے بھگتنا پڑے کہ 1327ء میں اسے تاج و تخت سے دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا گیا آٹھ ماہ کی قید کے بعد اسے قتل کر دیا گیا جس کے بعد ایڈورڈ سوم پندرہ سال کی عمر میں بادشاہ بنایا گیا مگر جلد ہی اس نے تمام معاملات اپنے ہاتھوں میں لینا شروع کردیے۔ 1330ء میں اس نے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے اور 1337ء میں فرانس کے خلاف جنگ شروع کی جو سو سال تک جاری رہی اس لیے اس جنگ کو صد سالہ جنگ بھی کہا جاتا ہے ایڈورڈ سوم کے دور میں انتظامی معاملات درست ہو گئے ا سی کے عہد میں پارلیمنٹ کا آغاز ہوا دارلعوام اور دار الامرا کا آغاز ہوا مگر 1348ء میں خونی پلیگ پھیلی جس کی وجہ سے نصف آبادی موت کا شکار ہو گئی اسی دور میں مسیحیت کی اصلاحی تحریک کا آغاز بھی ہوا اس تحریک کے بانی جان وکلف کا کہنا تھا کہ ہر شخص کسی کی وساطت کے بغیر خدا سے براہ راست رشتہ قائم رکھ سکتا ہے اور کلیساؤں کے ساتھ اوقاف رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، نیز پادریوں نے شادی نہ کرنے کا جو سلسلہ قائم کررکھا ہے وہ غلط ہے، پادریوں نے دولت جمع کرنے کا جو سلسلہ قائم کررکھا ہے وہ غلط ہے۔ اس طرح جان وکلف نے پوپ اور پادریوں کے تمام اقتدار کا خاتمہ کر دیا جان وکلف نے 1372ء میں بائبل کا مکمل انگریزی ترجمہ کیا۔ اپنے ان خیالات کی وجہ سے جان وکلف کو آخری دور میں بہت تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب بڑھاپے کی وجہ سے ایڈورڈ بالکل ہی ناکارہ ہو گیا اس کا بڑا بیٹا بھی بیمار تھا اس وجہ سے برطانیہ کا نظام بگڑ گیا اس کے بیٹے نے حالات کو بہت درست کرنے کی کوشش کی مگر وہ 1376ء میں وفات پاگیا اس کا بیٹا رچرڈ سوم تخت نشین ہوا جو تخت نشین کے وقت صرف دس سال کا تھا اس کا چچا جان جو لینکاسٹر کا ڈیوک تھا بادشاہ کی سرپرست مجلس کاسربراہ بنایا گیا اس کے دور میں فرانس کے ساتھ از سر نو جنگ چھڑ گئی جس میں فلینڈرس کا علاقہ چھن گیااس وقت روپے کی سخت ضرورت پڑی جو کے محصول لگا کر حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اس کی وجہ سے برطانیہ میں بے چینی بڑھنے لگی جس کی وجہ سے بعض مقامات پر تشدد کے واقعات بھی پیش آئے بڑے بڑے زمینداروں کی جانب سے کسانوں کے ساتھ زیادتی کرنے کے نتیجے میں کسانوں کی جانب سے بغاوت ہو گئی جاگیرداروں کے مراکز جلادئے گئے بڑے بڑے زمیندار اور قانون داں اس بغاوت میں مار دیے گئے انگلستان کے مشرقی اور جنوبی حصے سے ایک بہت بڑا ہجوم دو سرداروں ویٹ ٹائیلر اور پول ٹاکس کی قیادت میں لندن کی جانب روانہ ہوا ہجوم کے بڑے بڑے مطالبات یہ تھے کہ زمینداروں نے کسانوں پر جو ناواجب ٹیکس لگائے ہوئے ہیں وہ منسوخ کر دئے جائیں کلیساؤں کے اوقاف چھین لیے جائیں اور شکار کے تمام قوانین ختم کردئے جائیں بادشاہ نے ہجوم سے ملاقات کرکے ان کے ساتھ ہوشیاری کے ساتھ مذاکرات کیے جس کے نتیجے میں ہجوم واپس ہو گیا اس دوران ویٹ ٹائیلر مارا گیا اس کے بعد رچرڈ نے خومختار بننے کی کوشش کی پارلیمنٹ نے اس کے اس اقدام کی مخالفت کی اسی دوران ڈیوک آف لنکاسٹر کا بیٹاآئیر لینڈ سے آ گیا اس نے رچرڈ کے تمام اختیارات خود لے کر رچرڈ کو بادشاہت سے دستبردار کرکے اور رچرڈ کوٹاؤر میں قید کر دیا جہاں رچرڈ نے 1400ء میں وفات پائی ۔

رچرڈ کی وفات کے ساتھ ہی برطانیہ میں خاندان لنکاسٹر کا آغاز ہو گیا جس کا بانی ہنری سوم تھا جو ڈیوک آف لنکاسٹر کا بیٹا تھا ہنری سوم کے دور میں برطانیہ میں بہت سے کام ہوئے مگر ہنری کے دور میں بہت سے امرا نے بغاوت کی فرانس نے بھی باغی سرداروں کی امداد میں اپنی فوج بھیجی مگر 1413ء میں ہنری وفات پاگیا جس کے بعد اس کا بیٹا ہنری پنجم کے لقب سے بادشاہ بنا ہنری پنجم بہت ہی لائق بادشا ہ شمار کیا جاتا ہے اس نے برگنڈی کے ڈیوک کیساتھ صلح کرکے فرانس کے تخت و تاج کا دعویٰ کر دیا اور فرانس کے خلاف لڑائی شرع کردی جس کے بعد ہنری کی افواج نے ایجن کورٹ کے مقام پر فرانس کو شکست دیدی اور نارمنڈی کے علاقے کو فتح کر لیا 1420ء میں صلح نامے کے نتیجے میں فرانس کے ولی عہد کو سلطنت سے محروم کرکے اعلان کر دیا گیا کہ ہنری پنجم ہی فرانس کا آئندہ بادشاہ ہو گا مگر ہنری 1422ء میں اچانک وفات پاگیا ہنری پنجم کی وفات کے بعداس کے نو ماہ کے بیٹے کو ہنری ششم کے لقب سے بادشاہ بنایا گیا اس کے تین چچاؤں نے بادشاہ کے سرپرست کی حیثیت اختیا ر کی ایک چچا فرانس میں نائب السلطنت بن گیا دوسراانگلستان میں نائب سلطنت بنامگر ان ہی دنوں فرانس میں بغاوت کی ابتدا ہو گئی یہ بغاوت مشہور و معروف جون آف آرک نے شروع کی جس کے نتیجے میں فرانس میں انگلستان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ 1437ء میں ہنری بالغ ہو گیا لیکن وہ اچھا حکمران ثابت نہیں ہو سکا اس کے دور میں بد نظمی ہی رہی کبھی کوئی نواب فوج جمع کرکے کنٹرول کرلیتا کبھی کوئی۔ ان حالات میں ڈیوک آف یارک کے پوتے نے بادشاہ کے خلاف اعلان بغاوت کردی اس طرح ایک ہی خاندان کی دو شاخوں کے درمیان خانہ جنگی کی ابتدا ہوئی یارک اور لنکاسٹر خاندانوں کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں ابتدا میں یارک نے شاہی فوج کو شکست دے کر بادشاہ کو گرفتار کر لیا مگر بادشاہ کی ماں اور ہنری پنجم کی بیوہ نے فوج جمع کرکے ڈیوک آف یارک کی افواج کو شکست دیدی جنگ میں ڈیوک آف یارک مارا گیا مگر جنوبی انگلستان کے لوگوں کی حمایت سے ڈیوک آف یارک کے بیٹے ایڈورڈ نے شاہی افواج کو شکست دینا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں جلد ہی لنکاسٹر خاندان شکست کھا گیا اور 1461ء میں خاندان یورک کی حکمرانی کی ابتدا ہو گئی 1465ء میں ہنری ششم گرفتار ہو گیا جس کو ٹاؤر میں بند کر دیا گیا جہاں اس نے اپنی زندگی کے آخری دن خاندان پلانٹیجنیٹ (Plantagenet) کے آخری بادشاہ رچرڈ کی مانند گزارے۔

خاندان یورک کی حکمرانی برطانیہ کے عوام کے لیے نئی صبح بن کرطلوع ہواعوام مسلسل ہونے والی خانہ جنگی سے بے زار آچکے تھے۔

گریٹ برٹین یا متحدہ برطانیہ کی ابتدا ہوئی

کرام ویل اور اس کا بیٹا رچرڈ کرام ویل ڈکٹیٹر بنے 1649تا1712

ہاؤس آ ف گوتھا نو سال تک خاندان کا نام یہ ہی رکھا گیا 1901 تا1910




#Article 28: ریاست ہائے متحدہ (6208 words)


ریاست‌ہائےمتحدہ‌امریکا (انگریزی:United States of America تلفظ:یُونَائٹِڈ سَٹَےْٹَز اَووَ اَمَیرِکَا)شمالی امریکا میں واقع ایک ملک ہے۔ اسے عرف عام میں صرف یونائیٹڈ سٹیٹس (انگریزی: United States؛ ریاست‌ہائے متحدہ) بھی کہتے ہیں جبکہ امریکا (انگریزی: America؛ امیریکا) کا لفظ بھی زیادہ تر اسی ملک سے موسوم کیا جاتا ہے جو بعض ماہرین کے مطابق تکنیکی لحاظ سے غلط ہے۔

ریاستہائے متحدہ شمالی امریکا کا دوسرا اور دنیا کا تیسرا (یا چوتھا) بڑا ملک ہے۔ اس کے شمال میں کینیڈا، جنوب میں میکسیکو، مشرق میں بحر اوقیانوس اور مغرب میں بحر الکاہل واقع ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ ایک وفاقی آئینی ریاست ہے اور اس کا دارلحکومت واشنگٹن ڈی سی ہے۔

امریکی فوج، معشیت، ثقافت اور سیاسی اثر و رسوخ میں انیسویں اور بیسویں صدی میں بڑھا ہے۔ روس کے زوال کے بعد جب سرد جنگ ختم ہوئی تو امریکا دنیا کی واحد عالمی طاقت کے طور پر ظاہر ہوا اور اب امریکا دنیا بھر میں کھلم کھلا مداخلت کر رہا ہے۔

ریاست ہائے متحدہ امریکا کے عام ناموں میں یونائیٹڈ سٹیٹس، یو ایس، یو ایس اے، دی یو ایس اے، دی یو ایس آف اے، دی سٹیٹس اور امریکا شامل ہیں۔ امریکا نام کا پہلا استعمال 1507ء میں ہوا جب ایک جرمن نقشہ ساز نے گلوب بنا کر جنوبی اور شمالی امریکی براعظموں کو ظاہر کرنے کے لیے لفظ امریکا چنا۔

امریکاؤں کو کولمبس کے حوالے سے کولمبیا کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور بیسویں صدی کے شروع تک امریکا کے دارلحکومت کو کولمبیا بھی کہتے تھے۔ بعد ازاں اس کے استعمال کو ختم کیا گیا، لیکن ابھی بھی سیاسی طور پر کولمبیا کا نام استعمال ہوتا ہے۔ کولمبس ڈے امریکا اور دیگر ممالک میں عام تعطیل ہوتی ہے جو کولمبس کے 1492ء میں امریکی سرزمین پر اترنے کے حوالے سے منایا جاتا ہے۔

ریاست ہائے متحدہ امریکا کو سب سے پہلے 4 جولائی 1776ء میں سرکاری طور پر اعلان آزادی میں استعمال کیا گیا۔ 15 نومبر 1777 کو دوسری براعظمی کانفرنس نے کنفیڈریشن کے آرٹیکل کو قبول کیا جس میں لکھا The Stile of this Confederacy shall be 'The United States of America.' تھا۔ اس نام کو درحقیقت تھامس پائن نے تجویز کیا تھا۔

امریکی باشندوں کے لیے امریکی یا امیرکن کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے چاہے وہ شمالی امریکا سے ہوں یاجنوبی امریکا سے ۔

عام درخت اور گھاس کے میدان مشرق کی طرف پائے جاتے ہیں جو بتدریج میدانوں میں بدل جاتے ہیں، کونیفریس جنگلات اور راکی پہاڑ مغرب کی طرف ہیں اور جنوب مغرب میں صحرا ہیں۔ شمال مشرق میں عظیم جھیلیں اور بحرِ الکاہل بورڈ کے ساحلوں پر ملک کی زیادہ تر آبادی رہتی ہے۔

کل رقبے کے لحاظ سے امریکا کو دنیا کا تیسرا بڑا ملک مانا جاتا ہے اور انفرادی رقبے کے لحاظ سے بھی روس اور کینیڈا کے بعد اس کا تیسرا نمبر ہے۔ اس کا زیادہ تر اکٹھا حصہ مشرق میں بحر اوقیانوس سے جڑا ہے اور مغرب میں شمالی بحرالکاہل موجود ہے، میکسیکو اور خلیج میکسیکو جنوب میں ہیں اور کینیڈا شمال میں ہے۔ الاسکا کی سرحدیں بھی کینیڈا سے ملتی ہیں اور بحرالکاہل اس کے جنوب میں ہے اور بحر شمالی اس کے شمال میں ہے۔ الاسکا کے مغرب میں بیرنگ سٹریٹ یعنی بیرنگ نامی تنگ سی سمندری پٹی کے پار روس موجود ہے۔ ہوائی کی ریاست بحر الکاہل میں جزائر کی پٹی کی صورت میں موجود ہے جو براعظم شمالی امریکا سے جنوب مغرب کی طرف ہے۔

امریکی سرزمین خصوصاً مغرب میں بہت زیادہ فرق پائی جاتی ہے۔ شمالی ساحل پر ساحلی میدان پائے جاتے ہیں جو جنوب میں وسیع اور شمال میں تنگ ہوتے جاتے ہیں۔ ساحلی پٹی نیو جرسی کے شمال میں ختم ہو جاتی ہے۔ بالکل جنوب مشرق میں فلوریڈا ہے جو دلدلی میدانوں کی سرزمین ہے۔

ساحلی میدانوں سے ہٹ کر پیڈا ماؤنٹ کا علاقہ آتا ہے جو اپالانچیان پہاڑوں میں ختم ہوتا ہے جو شمالی کیرولائنا، ٹینیسی اور نیو ہمپشائر میں 6000 فٹ تک بلند ہیں۔ اپا لانچیز کی مغربی ڈھلوانوں پر میدان نسبتا ہموار ہیں اور گریٹ لیک اور مسی سیپی دریا جو دنیا کا چوتھا بڑا دریا ہے، موجود ہیں۔ دریائے مسی سیپی کے مغرب میں بنجر پہاڑ ہیں۔

گریٹ پلینز کے مغربی کنارے سے پتھریلے پہاڑوں کا سلسلہ اچانک بلند ہوتا ہے اور شمال سے جنوب کی طرف پورے امریکا میں پھیل جاتا ہے اور اس کی بلندی کولوراڈو میں 14000 فٹ یعنی 4270 میٹر ہے۔ ماضی میں راکی پہاڑ اپنی آتش فشانی سرگرمیوں کی وجہ سے مشہور تھے لیکن آج صرف ایک علاقہ ایسا ہے جو آتش فشانی کے حوالے سے سرگرم ہے۔ یہ علاقہ ییلو سٹون پارک، وادیء اوومنگ میں ہے اور اسے سپر والکانو کہتے ہیں۔

الاسکا میں بھی بہت سارے پہاڑی سلسلے موجود ہیں جن میں میک کینلی پہاڑ شمالی امریکا کا سب سے بلند پہاڑ ہے۔ الاسکا کے پورے علاقے میں آتش فشاں پائے جاتے ہیں۔

ہوائی کے جزائر منطقہ حارہ کے آتش فشانی جزائر ہیں جو 1500 میل یعنی 2400 کلومیٹر سے زیادہ جگہ پر پھیلے ہوئے ہیں اور اس میں چھ بڑے اور درجن بھر چھوٹے جزائر بھی شامل ہیں

اپنے بڑے اور وسیع رقبے کی وجہ سے ریاست ہائے متحدہ میں دنیا کے ہر خطے کا موسم پایا جاتا ہے۔ زیادہ تر علاقے معتدل ہیں، ہوائی اور جنوبی فلوریڈا میں موسم منطقہ حارہ جیسا ہے، الاسکا میں قطبی، گریٹ پلینز میں نیم بارانی ہے، کیلیفورنیا کے ساحل پر بحیرہ روم کے ممالک جیسا اور گریٹ بیسن میں خشک ہے۔ اس ملک کے نسبتا فیاضانہ موسم نے اسے ورلڈ پاور بننے میں اہم کردار ادا کیا ہے کیونکہ اس کے زیادہ تر زرعی علاقے میں خشک سالی کم کم ہوتی ہے، سیلاب محدود علاقے تک رہتا ہے اور زیادہ تر معتدل موسم ہے جہاں مناسب حد تک بارش بھی ہوتی ہے۔

پانچ صدیاں قبل تک ساری مشرقی دنیا یعنی براعظم یورپ، افریقا اور ایشیا مغربی نصف کرہ کے ممالک امریکا، کینیڈا اور دیگر ممالک کے وجود سے بالکل بے خبر تھی۔ پندرہویں صدی کے اواخر میں یورپی مہم جوئی کا آغاز ہوا تو یکے بعد دیگرے مختلف ممالک اور خطے دریافت ہوتے چلے گئے۔

اس طرح مختلف یورپی ممالک کی نوآبادیاں بنتی چلی گئیں۔ ان نو آبادیوں میں آپس میں چپقلش اور بعض اوقات جنگ و جدل تک نوبت پہنچتی رہی۔ اس کے ساتھ ہی برطانوی حکومت نے اپنی نو آبادیوں سے واقعتا نوآبادیاتی سلوک شروع کر دیا۔ ان کا استحصال کرنے کے لیے آئے دن نت نئے ٹیکس عائد ہونے لگے۔ جس کی وجہ سے ان میں بے چینی اور بغاوت کے آثار پیدا ہونے لگے جو آخرکار تحریک آزادی کی شکل اختیار کر گئے۔ ہم یہاں مختصر طور پر چند مثالیں پیش کر کے اپنی بات کو واضح کریں گے۔

مارچ 1782ء میں برطانوی کابینہ نے امریکا کی خود مختاری کو تسلیم کر لیا۔ 1789ء میں جارج واشنگٹن امریکا کے صدر منتخب ہو گئے اور 1796ء میں وہ اس عہدے سے ریٹائر ہو گئے۔ جارج واشنگٹن امریکا کے عظیم رہنما تھے ان کے بارے میں First in war, first in peace, first in the hearts of his countrymen یعنی ”جنگ میں بھی ادّل امن میں بھی اوّل اور اپنے ہم وطنوں کے دلوں میں بھی اول کا مقولہ بہت مشہور ہے۔ واشنگٹن نے عہدہ صدارت سے سبکدوش ہوتے وقت اپنی قوم کو خبردار کیا تھا کہ ”کسی غیر ملکی حکومت سے کبھی کوئی مستقل الائنس (اتحاد) نہ بنانا۔

اب ہم 4 جولائی کے اعلان آزادی پر واپس آتے ہیں اور تاریخ کے اوراق میں سے اس اعلان آزادی پر دستخط کرنے والے وطن پرستوں پر برطانوی افواج کے ہاتھوں روا رکھے جانے والے انسانیت سوز وحشیانہ مظالم کا کھوج لگاتے ہیں۔ یہ نہایت دلدوز کہانی ہے اور دنیا بھر کے حریت پسندوں کے لیے سبق آموز ہے۔

ان عظیم لوگوں کی کل تعداد 56 تھی جنہوں نے اعلان پر دستخط کیے۔ یہ نہایت آسودہ حال اور خوش حال لوگ تھے۔ ان میں سے 14 قانون دان تھے، 13 کا تعلق عدلیہ سے تھا یعنی جج تھے، 11 تاجر تھے، 12 زمیندار اور جنگلات کے مالک تھے ایک پادری اور تین ڈاکٹر تھے۔ دو کا تعلق دیگر معزز پیشوں سے تھا۔ ان سب انقلابیوں نے اعلان آزادی پر یہ جانتے ہوئے بھی دستخط کیے کہ اس کی سزا انہیں گرفتاری اور موت کی شکل میں ملے گی۔

اسی طرح کی قربانیوں سے امریکی انقلاب کے سبھی رہنماؤں کو گزرنا پڑا۔ یہ سب لوگ خوشحال اور تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ جرائم پیشہ، فسادی یا تخریب کار قسم کے لوگ نہیں تھے۔ یہ سب حکومت برطانیہ کے رعایا تھے اور اسی نسل سے تعلق رکھتے تھے جس سے حکمرانوں کا تعلق تھا۔ امریکا کے سبھی نوآبادکار لوگ انگلینڈ، سکاٹ لینڈ، آئرلینڈ، ویلز اور یورپ کے مختلف ممالک سے آئے تھے۔ ان کا مذہب بھی وہی تھا جو حکمرانوں کا تھا۔ یہ سب حضرت مسیح کے ماننے والے رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ تھے۔ اگر یہ خاموش بیٹھے رہتے تو انہیں حکومت میں بڑے بڑے عہدے مل سکتے تھے اور یہ نہایت پرآسائش زندگی گزار سکتے تھے۔ لیکن ان عظیم انقلابی لوگوں نے امریکی عوام کو برطانوی سامراج کی لعنت سے نجات دلانے کے لیے 4 جولائی 1776ء کو ملک کے کونے کونے سے فلاڈلفیا کے مقام پر جمع ہو کر کانگریس کے آئینی کنونشن میں شامل ہوکر اعلان خود مختاری پر دستخط کیے۔ انہوں نے اپنے آرام و آسائش پر آزادی کو ترجیح دی اور یہ عہد کیا کہ

اس عزم و استقلال کے نتیجے میں انقلابی قیادت کو جن مشکلات اور مصائب کا مقابلہ کرنا پڑا ان کا مختصر بیان اوپر کی سطور میں آ چکا ہے۔ لیکن ان انقلابی قائدین کے سامنے واضح منزل تھی۔ اپنے ملک کی آزادی و خود مختاری۔ وہ اس منزل کی طرف ثابت قدمی سے بڑھتے رہے اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اعلان خود مختاری کے 225 سال بعد ترقی و تعمیر کی تمام منزلیں طے کر کے امریکا دنیا کی سپر طاقت بن چکا ہے اور تاج برطانیہ کے کیے گئے مظالم کا بدلہ بے گناہ مسلمانوں سے لے رہا ہے۔

یورپی نوآبادیوں کی ابتدا سے قبل امریکا میں مختلف مقامی قبائل آباد تھے جن میں الاسکا کے قبائل بھی تھے جو 35000 سال سے لیکر 11000 سال قبل تک یہاں آباد ہوتے رہے۔

آج تک سب سے پہلا بندہ جس نے امریکا کی سرزمین پر باہر سے آکر قدم رکھا، وہ کرسٹوفر کولمبس ہے جس نے 19 نومبر 1493 کو ریو ڈی جنیریو میں اپنے دوسرے بحری سفر کے دوران میں سفر کیا تھا۔ سان جوان جو امریکا کی سرزمین پر پہلی یورپی نوآبادی تھی، 8 اگست 1508 میں جوان پونسی ڈی لائن نے قائم کی۔ جوان پونسی ڈی لائن تاریخ کا پہلا یورپی بندہ بنا جس نے براعظم امریکا میں فلوریڈا کے ساحل پر 2 اپریل 1513 کو پہلا قدم رکھا۔ فلوریڈا ابتدائی یورپی نوآبادیوں کا مرکز بنی جن میں پنساکولا، فورٹ کیرولائن اور سینٹ آگسٹائن شامل ہیں۔ سینٹ آگسٹائن وہ واحد نو آبادی ہے جو اپنے قیام سے لے کر اب تک مسلسل آباد رہی ہے۔

فرانسیسیوں نے ملک کا شمال مشرقی حصہ، ہسپانیوں نے جنوبی اور مغربی حصہ آباد کاری کے لیے چنا۔ پہلی کامیاب انگریزی آبادکاری جیمز ٹاؤن، ورجینیا میں 1607ء میں قائم ہوئی۔ اس کے فورا بعد 1620ء میں پلے ماؤتھ، میسا چوسٹس میں بھی آباد کاری ہوئی۔ 1609ء اور 1617ء میں ولندیزی آبادکار موجودہ نیو یارک اور نیو جرسی کے علاقوں میں آباد ہوئے۔ 17ویں اور 18ویں صدی کے اوائل میں انگلینڈ (جو بعد ازاں عظیم برطانیہ بنا) نے ولندیزی کالونیوں پر قبضہ کرکے یا تو انہیں ختم کرکے یا تقسیم کرکے نئی نوآبادیاں بنائیں۔ 1729ء میں کیرولینا کی تقسیم کے بعد اور 1732ء میں جارجیا کی آبادکاری کے بعد برطانوی کالونیاں شمالی امریکا (موجودہ کینیڈا کے علاوہ) تک پھیل گئیں اور مشرقی اور مغربی فلوریڈا کی شاہی کالونیوں کو تیرہواں نمبر دیا گیا۔ بیشتر اصلی امریکی مار دیے گئے یا پھر دوسرے علاقوں کو چلے گئے۔

کی وجہ سے توسیع کچھ متاثر ہوئی لیکن امریکا-میکسیکو جنگ کے بعد 1848ء میں یہ اور زیادہ تیز ہوئی۔

جوں جوں نئی سرزمینیں شامل ہوتی گئیں، ریاستی اختیارات، وفاقی حکومت کا کردار، غلاموں کی تجارت جو تیرہ ریاستوں میں قانونی تھی اور شمال کی طرف اس کا کوئی رحجان نہ دکھائی دیتا تھا اور جو 1804ء میں ختم ہوئی، جیسے مسائل پر قوم مختلف آراء میں تقسیم ہوتی چلی گئی۔ شمالی ریاستیں غلاموں کی تجارت کے خلاف جبکہ جنوبی ریاستیں اس کے حق میں تھیں اور انہوں نے اس کو اپنے معامالات میں مداخلت سمجھا کیونکہ ان کی معیشت کا بڑا حصہ اس تجارت سے وابستہ تھا۔ ان مسائل کے حل میں ناکامی کی وجہ سے خانہ جنگی کی ابتدا ہوئی۔ 1860ء میں ابراہم لنکن کے انتخاب کے بعد جنوبی ریاستوں نے مل کر ایک الگ امریکی حکومت بنا ڈالی۔ 1865ء کی خانہ جنگی میں وفاق کی فتح سے غلاموں کی تجارت ختم ہوئی اور اس سوال کا جواب مل گیا کہ کیا ریاستیں اپنی مرضی سے اپنے موقف سے پیچھے ہٹ سکتی ہیں۔ امریکی تاریخ میں یہ ایک اہم موڑ تھا اور اس کی وجہ سے وفاق کی طاقت میں اضافہ ہوا۔

خانہ جنگی کے بعد اتنی بڑی تعداد، جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی تھی، میں لوگوں نے امریکا آنا شروع کر دیا، کی وجہ سے امریکی صنعتوں کو سستے مزدور ملنے لگے اور غیر ترقی یافتہ حصوں میں مختلف اقوام کے لوگوں نے اپنا ماحول بنا ڈالا۔ اس وجہ سے معاوضوں کا تحفظ، قومی انفرا سٹرکچر کی تعمیر اور بینکوں کے نظام کی باقاعدگی ہوئی۔ ریاست ہائے متحدہ کی بڑھتی ہوئی طاقت کی وجہ سے انہوں نے نئی ریاستوں کو خریدنا شروع کر دیا جن میں پورٹو ریکو اور فلپائن بھی شامل ہیں، جو سپین اور امریکا کی جنگ میں فتح کے بعد خریدی گئیں۔ ان کی وجہ سے امریکا کا شمار دنیا کی سپر پاورز میں ہونے لگا۔

اس کے فورا بعد، 2 ستمبر 1945ء میں جاپان نے ہتھیار ڈال دیے اور دوسری جنگ عظیم کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔

جنگ عظیم کے خاتمے پر ریاست ہائے متحدہ اور سوویت یونین سپر پاور بن کر ابھرے اور ان کے درمیان میں جاری کشمکش نے سرد جنگ کا روپ اختیار کر لیا۔ امریکا نے عوام کی آزادی اور سرمایہ داری کو فروغ دیا جبکہ سوویت یونین نے کمیونزم اور مرکزی منصوبہ شدہ معیشت کو پروان چڑھایا۔ اس کا نتیجہ کئی بالواسطہ جنگوں کی صورت میں نکلا جن میں کوریا کی جنگ اور ویت نام، کیوبین میزائل بحران اور سوویت یونین کی افغانستان کے ساتھ جنگ شامل ہیں۔

اس اندازے کی بنیاد پر کہ ریاست ہائے متحدہ خلائی ریس میں بہت پیچھے رہ گیا ہے، کی وجہ سے سکولوں کی سطح پر سائنس اور ریاضی کی مہارت میں اضافے کے سلسلے میں حکومت نے بہت سے اقدامات اٹھائے۔ صدر جان ایف کینیڈی نے 1960ء میں اعلان کیا کہ وہ چاند پر پہلا آدمی بھیجیں گے اور 1969ء تک یہ بھی مکمل ہو گیا۔

اسی دوران میں امریکی معاشرہ معاشی پھیلاؤ کے متناسب دور سے گزرا۔ ساتھ ہی ساتھ عوام میں شعور بیدار ہوا اور مختلف تفریقوں کے لیے افریقی امریکی مثلا مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نمایاں ہیں۔ اس کے نتیجے میں جم کرو قوانین کو جنوبی ریاستوں میں ختم کر دیا گیا۔

امریکی ذرائع ابلاغ آئین کے تحت شہریوں کو ترمیم 1 تا 5 کے تحت حاصل انسانی حقوق کا ذکر فخریہ کرتے ہیں۔ البتہ امریکی عدالتوں کے کئی فیصلے ان ترامیم کا لحاظ نہیں کرتے۔
امریکی عدالت عظمیٰ کا حکم ہے کہ اگر حکومت قومی سلامتی کا خدشہ بتائے تو کوئی امریکی عدالت کسی شخص کی فریاد نہیں سُن سکتی۔

ریاست ہائے متحدہ دنیا کی سب سے زیادہ عرصہ تک قائم رہنے والی آئینی جمہوریہ ہے جس کا آئین دنیا کا سب سے پرانا اور مکمل طور پر تحریری ہے۔ اس کی حکومت کا انحصار کانگریسی نظام کے تحت نمائندہ جمہوریت پر ہے جو آئین کے تحت اختیارات کی حامل ہوتی ہے۔ تاہم یہ کوئی عام نمائندہ جمہوریت نہیں ہے بلکہ اس میں اکثریت کو اقلیت کے حقوق کے لیے آئینی طور پر پابند کیا گیا ہے۔ حکومت تین سطحی ہے، وفاقی، ریاستی اور مقامی۔ ان تینوں سطحوں کے اراکین کا انتخاب یا تو رائے دہندگان کے خفیہ ووٹ سے یا پھر دوسرے منتخب اراکین کی طرف سے نامزدگی کی مدد سے ہوتا ہے۔ ایگزیکٹو اور قانون ساز دفاتر کا فیصلہ شہریوں کی طرف سے ان کے متعلقہ حلقوں میں اجتماعی ووٹ سے کیا جاتا ہے، عدلیہ اور کابینہ کی سطح کے دفاتر کو ایگزیکٹو برانچ نامزد کرتی ہے اور مقننہ انہیں منظور کرتی ہے۔ کچھ ریاستوں میں عدلیہ کی نشستیں عام انتخابات سے پر کی جاتی ہیں۔

وفاقی حکومت تین شاخوں سے مل کر بنتی ہے جن کی تشکیل ایک دوسرے کے اختیارات پر چیک اینڈ بیلنس کی خاطر کی گئی ہے:

امریکی کانگریس دو ایوانوں پر مشتمل مقننہ ہے۔ ایوانِ نمائندگان( ہاؤس آف رپریزنٹیٹوز) کے ارکان کی تعداد 435 ہے، ہر ایک الگ ضلعے کی نمائندگی دو سال کے لیے کرتا ہے۔ ہر ریاست کو اس کی آبادی کی شرح سے سیٹوں کی تعداد ملتی ہے۔ آبادی کا تعین ہر دس سال بعد از سر نوء کیا جاتا ہے۔ ہر ریاست کو کم از کم ایک نمائندے کی اجازت ہوتی ہے: سات ریاستوں کے ایک ایک نمائندے ہیں، کیلیفورنیا کے نمائندگان کی تعداد سب سے زیادہ 53 ہے۔ ہر ریاست کے دو سینیٹر ہوتے ہیں جو ریاستی سطح پر چھ سال کے لیے منتخب ہوتے ہیںْ۔ ایک تہائی سینیٹ کے انتخابات ہر دوسرے سال منعقد ہوتے ہیں۔

ریاست ہائے متحدہ کا آئین امریکی نظام میں سب سے اعلیٰ قانونی دستاویز ہے اور اسے سماجی معاہدہ بھی سمجھا جاسکتا ہے جو امریکی شہریوں اور ان کی حکومت کے مابین ہے۔ وفاقی اور ریاستی حکومت کے تمام قوانین پر نظر ثانی کی جاتی ہے جو کسی طور پر بھی آئین کے خلاف ہوں اور عدلیہ انہیں ختم بھی کرسکتی ہے۔ آئین ایک زندہ دستاویز ہے اور اس میں ترمیم کئی طریقوں سے کی جاسکتی ہے لیکن اس کی بہر طور منظوری ریاستی اکثریت ہی دیتی ہے۔ اب تک آئین میں 27 بار ترمیم کی جاچکی ہے۔ آخری ترمیم 1992ء میں کی گئی۔
آئین میں آزادی کی ضمانت دی گئی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی حقوق کی بھی وضاحت موجود ہے اور دیگر ترامیم بھی جن میں آزادئ اظہار رائے، مذہب، پریس کی آزادی، منصفانہ عدالتی کارروائی، ہتھیار رکھنا اور ان کا استعمال، ووٹ کا حق اور غریبوں کے حقوق شامل ہیں۔ تاہم ان قوانین کو کس حد تک استعمال کیا جا ئے، قابل بحث بات ہے۔ آئین ایک عوامی طرز کی حکومت کی ضمانت دیتا ہے لیکن اس کی بہت کم وضاحت کی گئی ہے۔

امریکی سیاست پر ریپبلک اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے اثرات بہت گہرے ہیں اور انہی جماعتوں کی حکمرانی ہے۔ وفاقی، ریاستی اور نچلے درجوں کی حکومت میں انہی پارٹیوں کی اکثریت موجود ہے۔ آزاد امیدوار نچلے درجوں پر بہتر کام کرسکتے ہیں اگرچہ ان کی کچھ مقدار سینیٹ اور ایوان نمائیندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز ) میں بھی موجود ہے۔ امریکی سیاسی کلچر کے مطابق ری پبلک پارٹی کو دائیں بازو کی جماعت یا قدامت پرست جماعت کہا جاتا ہے جبکہ ڈیمو کریٹک پارٹی کو بائیں بازو کی جماعت یا آزاد خیال جماعت کہا جاتا ہے۔ تاہم پارٹیوں کے حجم اور ان کے قوانین میں لچک کی وجہ سے دونوں پارٹیوں کے اراکین کی رائے بہت مرتبہ پارٹی سے مختلف بھی ہو جاتی ہے اور آپ محض پارٹی کے نام کی وجہ سے اس کے رائے کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔

امریکا نے برطانوی بادشاہت سے بغاوت کے بعد ملک کی بنیاد جمہوریت پر رکھی تاہم ووٹ کا حق صرف زمیندار مردوں کو دیا گیا۔ آئین میں ترامیم کے ذریعہ عوام کو بنیادی حقوق دیے گئے۔ اس کے بعد 1920ء میں خواتین کو بھی ووٹ کا حق دے دیا گیا اور پھر 1950ء کی دہائی میں حقوق کی تحریک کے بعد کالوں کو بھی ووٹ کا حق مل گیا۔ پھر 2008ء میں ایک کالا امریکی صدر، باراک حسین اوباما، منتخب ہوا۔ تاہم 2001ء کے واقعات کے بعد امریکی سرکار بہت سے ایسے قوانین بنا چکی تھی جس میں عوام کے حقوق سلب کیے جاتے رہے۔ حتٰی کہ 2013ء میں کالے صدر کے دور حکومت میں سابق امریکی صدر جمی کارٹر کو یہ کہنا پڑا کہ آج ملک میں عملی جمہورت موجود نہیں۔

امریکا کا دنیا بھر میں وسیع معاشی، سیاسی اور فوجی اثر ہے جس کی وجہ سے اس کی خارجہ پالیسی دنیا بھر میں مباحثوں کا ایک پسندیدہ موضوع ہے۔ تقریباً تمام ممالک کے سفارت خانے واشنگٹن ڈی سی میں موجود ہیں اور قونصل خانے پورے ملک میں موجود ہوتے ہیں۔ تاہم کیوبا، ایران، شمالی کوریا اور سوڈان کے امریکا کے ساتھ کوئی خاص سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ امریکا اقوام متحدہ کا بانی رکن ہے اور اسے سلامتی کونسل میں مستقل نشست بھی ملی ہوئی ہے اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سے بین الاقوامی اداروں کا بھی رکن ہے۔
امریکا میں فوجی معاملات میں شہری کنٹرول کی طویل روایت موجود ہے۔ محکمہ دفاع کا کام امریکی مسلح افواج کو سنبھالنا ہے جو بری، بحری، میرین کارپس اور فضائی افواج پر مشتمل ہے۔ کوسٹ گارڈ زمانہ امن میں محکمہ داخلہ کے ذمے ہے اور دوران میں جنگ یہ بحری فوج کے ماتحت۔

امریکی فوج میں چودہ لاکھ افراد خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور کئی لاکھ مزید افراد ریزور اور نیشنل گارڈز کی صورت میں موجود ہیں۔ فوجی خدمات سر انجام دینا ایک رضاکارانہ فعل ہے تاہم بعض اوقات عام لام بندی کے احکامات بھی دیے جا سکتے ہیں۔ امریکا کی فوج دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور فوج ہے۔ اس کا بجٹ بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ امریکی فوجی بجٹ 2005 میں امریکا کے بعد آنے والے چودہ ممالک کے فوجی بجٹ سے زیادہ ہے۔ مزے کی بات کہ امریکا کا فوجی بجٹ کل ملکی آمدنی کا صرف چار فیصد ہے۔ امریکی فوج کے زیر انتظام 700 سے زیادہ مراکز ہیں۔ انٹارکٹیکا کے سوا دنیا کے ہر براعظم میں اس کے فوجی مراکز موجود ہیں۔

اڑتالیس ریاستیں، الاسکا اور ہوائی کے سوا، جو زمینی طور پر ایک ساتھ موجود ہیں، مل کر کانٹیننٹل ریاست ہائے متحدہ کہلاتی ہیں۔ کچھ ذرائع الاسکا کو بھی اس میں شامل سمجھتے ہیں کیونکہ یہ امریکا کی دیگر ریاستوں سے تو ہٹ کر ہے لیکن ہے براعظم شمالی امریکا کا حصہ ہی۔ ڈسٹرکٹ کولمبیا اس میں شمار ہوتا ہے۔ ہوائی، جسے پچاسویں ریاست کہا جاتا ہے، بحرالکاہل میں جزائر کی ایک پٹی کی صورت میں ہے۔

ریاست ہائے متحدہ کے پاس کئی دیگر علاقے موجود ہیں جن میں کولمبیا کی ڈسٹرکٹ بھی شامل ہے اور جہاں ملکی دارلحکومت واشنگٹن ڈی سی موجود ہے اور اس کے علاوہ سمندر پار بھی بہت سے علاقے امریکا کا حصہ ہیں۔

اس کے علاوہ بھی کئی ریاستیں ایسی ہیں جنہوں نے امریکا سے الحاق کیا ہوا ہے۔

امریکا میں 17000 سے زائد اقسام کے پودے اور درخت پائے جاتے ہیں جن میں سے 5000 صرف کیلیفورنیا میں ہیں۔ ان 5000 دنیا کے سب سے لمبے، سب سے بھاری اور سب سے پرانے درخت بھی شامل ہیں۔ امریکا کا ماحول خط استوائی ماحول سے لے کر ٹنڈرائی نوعیت کا ہے اور اس میں نباتات کی اقسام دنیا بھر کے کسی دوسرے ملک سے زائد ہیں۔ اگرچہ ہزاروں غیر ملکی نباتات کی وجہ سے اس ملک کی اپنی نباتات اور انسانوں پر منفی اثرات واقع ہوئے ہیں۔ 400 سے زائد ممالیا، 700 سے زائد پرندے، 500 ریپٹائل یعنی خزندے اور 90000 سے زائد حشرات الازض کو نوٹ کیا جا چکا ہے۔

بہت سے جانور اور پودے خاص جگہوں تک محدود ہیں اور بہت سی انواع معدوم ہونے والی ہیں۔ امریکا نے معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع کے تحفظ کے لیے 1973 میں قانون بنایا گیاہے کہ ان انواع کو ان کے قدرتی ماحول میں تحفظ دیا جائے۔

معدومیت کے خلاف تحفظ کے حوالے سے امریکی تاریخ بہت پرانی ہے۔ 1872 میں دنیا کا پہلا نیشنل پارک ییلو سٹون میں بنایا گیا۔ اس کے بعد اب تک 57 مزید نیشنل پارک اور سینکڑوں دیگر پارک اور جنگلات کو اس ضمن میں بنایا جا چکا ہے۔ ملک کے کچھ حصوں کو اس مقصد کے لیے مخصوص کر دیا ہے کہ ادھر کوئی تبدیلی واقع نہیں کی جا سکتی۔ امریکی ماہی پروری اور جنگلی حیات کے محکمے نے خطرے میں اور معدوم ہونے کے قریب موجود نسلوں کو ان کے قدرتی ماحول میں بچا کر الگ کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ امریکا کی حکومت 1020779 مربع میل کا علاقہ چلا رہی ہے جو کل رقبے کا 28 % ہے۔ اس زمین کو پارکوں اور جنگلات کے لیے مختص کیا گیا ہے لیکن اس کا کچھ حصہ تیل اور گیس کی دریافت، کان کنی اور مویشیوں کے فارمز کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

امریکا کی معیشت کی تاریخ دراصل ایک کہانی ہے جو نوآبادیاتی نظام کی معاشی ترقی سے شروع ہوئی اور ترقی کرکے اب بیسیوں اور اکیسویں صدی میں دنیا کی سب سے بڑی معاشی اور صنعتی طاقت بننے کی ہے۔

ریاست ہائے متحدہ کا معاشی نظام مخلوط سرمایہ دارانہ معاشی نظام ہے جس میں کارپوریشنیں، دیگر پرائیوٹ فرمیں اور افراد مل کر زیادہ تر مائیکرو اکنامک فیصلے کرتے ہیں اور حکومت اس سطح پر زیادہ مداخلت نہیں کرتی تاہم بحیثیت مجموعی تمام سطحوں پر حکومت کا عمل دخل بہت زیادہ ہے۔ ریاست ہائے متحدہ کے زیادہ تر کاروبار اور تجارت کارپوریشنیں نہیں ہیں اور ان کا کوئی پے رول نہیں ہے بلکہ وہ ذاتی ملکیت ہیں۔

امریکا میں اوسط گھریلو آمدنی 46326 ڈالر سالانہ ہے اور 25 سے 64 سال کی عمر کے افراد کی اوسط سالانہ انفرادی آمدنی 32611 ڈالر ہے۔

معاشی سرگرمیاں ملک میں بہت زیادہ متفرق ہوتی ہیں۔ نیو یارک شہر کو ملک کی معاشی، چھپائی، نشر و اشاعت اور اشتہاراتی مرکز کی حیثیت ہے جبکہ لاس اینجلس کو فلم اور ٹیلی ویژن کے لیے مشہور مانا جاتا ہے۔ سان فرانسسکو کی خلیج ٹیکنالوجی کے لیے بہت اہم ہے۔ وسطی مغربی علاقہ اپنی بھاری صنعتوں کے لیے مشہور ہے، ڈیٹرائیٹ امریکی موٹر گاڑیوں کی صنعت کے لیے تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور شکاگو اپنے علاقے میں تجارتی اور معاشی حوالے سے بہت اہم ہے۔ جنوب مشرق میں زراعت، سیاحت اور درختوں کی صنعت کے لیے مشہور ہے کیونکہ یہاں معاوضے ملک کے دیگر حصوں سے نسبتا کم ہوتے ہیں۔

امریکی معیشت کا زیادہ تر حصہ خدمات سے حاصل ہوتا ہے جہاں کل افراد کا تین چوتھائی حصہ کام کرتا ہے۔ صنعتی زوال کی وجہ سے 2011ء میں 22 ملین افراد حکومت کے ملازم تھے اور صناعی میں 11 ملین، جبکہ 1960ء میں صورت حال اس کے برعکس تھی۔

ملک کی معیشت کا بہت بڑا حصہ قدرتی ذرائع کی کثرت ہے جیسا کہ کوئلہ، تیل اور قیمتی دھاتیں۔ تاہم ابھی تک یہ ملک اپنی توانائی کے لیے زیادہ تر دیگر ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ زراعت میں مکئی، سورج مکھی، چاول اور گندم کی پیداوار کے لیے یہ ملک پہلے نمبر پر ہے۔ امریکا میں سیاحت کی کافی وسیع صنعت موجود ہے اور یہ دنیا میں تیسری نمبر پر آتی ہے۔ اس کے علاوہ ہوائی جہازوں، سٹیل، ہتھیاروں اور الیکٹرانکس کی مصنوعات کی برآمد کے لیے امریکا کا بہت بڑا حصہ ہے۔ کینیڈا امریکا کی بیرونی تجارت میں انیس فیصد کے ساتھ پہلے نمبر پے اور اس کے بعد چین، میکسیکو اور جاپان کے نمبر آتے ہیں۔

امریکا میں فی کس آمدنی کا شمار دنیا کی سب سے زیادہ آمدنیوں میں سے ہوتا ہے۔ اس کی فی کس آمدنی مغربی یورپ سے زیادہ ہے۔ 1975ء سے ملکی منڈی کی حقیقی آمدنی تقریباً ساری کی ساری بیس فیصد خاندانوں میں پہنچتی ہے ۔

امریکی معاشرے میں سماجی طبقات کی تبدیلی یورپی، سکینڈے نیویا کے ممالک اور کینیڈا سے کم ہے۔ بعض ماہرین کے خیال میں اس کی وجہ تعلیمی نظام ہے۔ امریکی تعلیمی نظام میں تعلیم کا خرچہ زیادہ تر ٹیکسوں سے اور بقیہ حصہ حکومتی خزانے سے ادا کیا جاتا ہے۔ اس لیے امیر علاقوں اور غریب علاقوں کی تعلیم میں زمین آسمان کا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ ایک سابقہ فیڈرل ریزرو بورڈ کے چئیرمین ایلن گرین سپین کے مطابق یہ آمدنیوں کا یہ فرق اور لوگوں کا معاشی ترقی کرنے کی کم ہوتی ہوئی رفتار بالآخر اس پورے نظام کو زمین بوس کر دے گی۔

امریکا اپنی سائنسی اور ٹیکنالوجی کی ایجادات کی وجہ سے اور نئی ایجاد ہونے والی مصنوعات کی پیداوار کے لیے بہت مشہور ہے۔ تحقیق و ترویج کے لیے فنڈز کا 69% حصہ پرائیوٹ سیکٹر سے ملتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں امریکا نے ایٹم بم کی ایجاد کے کام کی سربراہی کی اور نئے ایٹمی دور کی بنیاد قائم کی۔ سرد جنگ کے آغاز میں امریکا نے خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت کامیابیاں حاصل کیں اور خلائی دوڑ کا آغاز بھی کیا۔ اس دوران میں امریکا نے راکٹ، ہتھیاروں، مادی سائنسوں، کمپیوٹروں اور دیگر شعبوں میں ترقی کی۔ ٹیکنالوجی میں ترقی کی معراج تب دکھائی دی جب نیل آرم سٹرانگ نے پہلی بار جولائی 1969ء میں اپالو 11 کی مدد سے چاند پر قدم رکھا۔ اسی طرح امریکا نے انٹرنیٹ اور اس سے پہلے آرپا نیٹ کو بھی بنایا۔ امریکا اپنے زیادہ تر انفراسٹرکچر کو خود ہی کنٹرول کرتا ہے۔

سائنسی بالخصوص فزیالوجی اور میڈیسن میں امریکیوں نے بہت زیادہ نوبل پرائز حاصل کیے ہیں۔ قومی ادارہ برائے صحت بائیو میڈیسن کے لیے امریکا کا مرکز ہے اور پرائیوٹ فنڈ سے چلنے والا ادارہ سیلیرا جی نومکس نے انسانی جینیاتی پروجیکٹ کی تکمیل میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہوابازی اور خلا کے لیے ناسا کا کردار بہت اہم ہے۔ بوئنگ اور لاک ہیڈ مارٹن بھی بہت اہم ہیں۔

آٹو موبائل کی صنعت اکثر ممالک کی نسبت جلدی شروع ہوئی۔ ملکی ذرائع نقل و حمل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ہائی ویز ادا کرتے ہیں جن میں بہت بڑی تعداد میں مسافر گاڑیاں اور مال برداری کے ٹرک روزانہ گزرتے ہیں۔ 2004ء میں لیے گئے ڈیٹا کے مطابق امریکا میں 3982521 میل یعنی 6407637 کلو میٹر لمبی سڑکیں موجود ہیں جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہیں۔

عوام کے سفر کے لیے نظام بڑے شہروں میں موجود ہیں جیسا کہ نیو یارک میں دنیا کا بہت مصروف سب وے سسٹم موجود ہے۔ چند شہروں کے سوا، اکثر امریکی شہر نسبتا کم گنجان آباد ہیں اور اس کی وجہ سے اکثر خاندانوں کے پاس ذاتی گاڑیاں لازمی چیز بن گئی ہیں۔

امریکا پرائیوٹ مسافر ریل کی پٹڑیوں کے لیے بھی منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ 1970ء کے دوران میں حکومت نے مداخلت کرکے انہیں باقاعدہ کیا اور تمام پیسنجر سروسوں کو حکومتی ماتحت ایمٹریک کارپوریشن کے ماتحت کر دیا۔ امریکا کا ریلوے کا نظام دنیا میں سب سے بڑا نظام ہے۔

لمبے فاصلے کے لیے مسافر ہوائی سفر کو ترجیح دیتے ہیں۔ مسافروں کی تعداد کے لحاظ سے 2004ء میں دنیا کے تیس مصروف ترین ایئرپورٹس میں سے سترہ امریکی شمار ہوتے تھے۔ مسافروں کے لحاظ سے دنیا کا سب سے مصروف ائیر پورٹ ہارٹس فیلڈ جیکسن اٹلانٹا انٹرنیشنل ایئر پورٹ امریکا میں ہی ہے۔ اسی طرح سامان کی منتقلی کے لیے دنیا کے تیس مصروف ترین ائیر پورٹوں میں سے بارہ امریکا میں ہیں۔ سامان کی منتقلی کے لیے دنیا کا سب سے مصروف ایئر پورٹ ممفس انٹرنیشنل ائیر پورٹ ہے۔

دنیا کی کئی بڑی بندرگاہیں امریکا میں ہیں جن میں سے تین سب سے زیادہ مصروف ،کیلیفورنیا کی لاس اینجلس بندرگاہ، لانگ بیچ کی بندرگاہ اور نیویارک اور نیو جرسی کی بندرگاہ شامل ہیں۔ امریکا کے اندر بھی آبی نقل و حمل کے لیے سینٹ لارنس کی بحری گزرگاہ اور دریائے مسی سیپی بہت مشہور ہیں اٹلانٹک اور گریٹ لیک کے درمیان میں بننے والی پہلی نہر ایری کینال نے زراعت اور صنعت کو وسط مغربی امریکا میں بہت ترقی دی اور نیویارک شہر کو ملک کا معاشی مرکز بنا دیا۔

ریاست ہائے متحدہ کی ثقافت کی ابتدا انگریز نو آباد کاروں کی ثقافت سے ہوئی تھی۔ اس ثقافت نے بہت تیزی سے ارتقا کے مراحل طے کیے اور اپنی آزادانہ شناخت کے علاوہ مقامی اور سپینی-میکسیکو کے کاؤ بوائے ثقافت اور پھر بعد ازاں یورپی اور افریقی اور ایشیائی نو آباد کاروں نے بھی اس پر اپنے اثرات ڈالے۔ مجموعی طور پر یورپ میں جرمنی، برطانوی اور آئرش ثقافتوں نے اپنے اثرات دکھائے اور بعد ازاں اطالوی، یونانی اور اشکینازی (یہودی جو جرمنی اور مشرقی یورپ سے تعلق رکھتے ہیں) نے بھی کچھ نہ کچھ اثرات مرتب کیے۔ ابتدائی امریکی ثقافت میں افریقی غلاموں کی اولادوں نے بھی اپنے کچھ علاقائی اثرات ڈالے۔ جغرافیائی مقامات کے نام بھی انگریزی، ولندیزی، فرانسیسی، جرمن، ہسپانوی اور مقامی امریکی الفاظ سے مل کر بنے ہیں۔

ثقافتی حوالوں سے ہمیں دو مختلف ماڈل(خاکے) ملتے ہیں۔ روایتی 'میلٹنگ پاٹ' یا 'پگھلتے برتن' کاخاکہ جس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ تمام ثقافتیں کیسے مل کر ایک ہوئیں۔ اس کے مطابق ہر نئے آنے والے نے اپنی ثقافت کو امریکی معاشرے میں متعارف کرایا۔ اس کے بعد جس چیز کو قبول کر لیا گیا، وہ ایک بڑی ثقافت کا حصہ بنی۔ اس طرح یہ ایک 'یکجان آمیزے' کی طرح موجود ہیں۔ نیا ماڈل جسے 'سلاد کا پیالا ماڈل' یعنی 'سے لیڈ باؤل ماڈل' کہا جاتا ہے، کے مطابق ہر ثقافت آکر امریکی معاشرے میں اس طرح جمع ہوئی ہے جیسے مختلف سبزیوں سے بنا ہوا سلاد، جس میں ہرسبزی اس سلاد کا حصہ ہوتے ہوئے اپنی الگ شناخت بھی قائم رکھتی ہے۔ امریکی ثقافت کا ایک اہم جزو امریکی کا خواب ہے، جس کے مطابق اپنی معاشی حیثیت سے قطع نظر، سخت محنت، ہمت اور مقصد کی سچی لگن سے آپ بہتر زندگی کو حاصل کر سکتے ہیں۔

امریکی خوراک زیادہ تر قدیم امریکیوں سے آئی ہے جس میں ٹرکی، آلو، مکئی اور سکوائش شامل ہیں۔ اب یہ خوراکیں امریکی غذا کا لازمی جزو بن چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ایپل پائی، پیتزا اور ہیم برگر بھی یا تو یورپی خوراکوں سے آئے ہیں یا یورپی خوراکوں کو کچھ تبدیلی کے ساتھ اپنا لیا گیا ہے۔ بوریٹو اور ٹاکو میکسیکو سے آئے ہیں۔ سول فوڈ افریقی غلاموں کی پسندیدہ خوراک تھی جو اب امریکا میں بہت مشہور ہے۔ تاہم آج دنیا میں پسند کی جانے والی خوراکوں کا زیادہ تر حصہ یا تو امریکا سے شروع ہوا یا اسے امریکی باورچیوں نے تبدیلی کے ساتھ پیش کیا ہے۔
واضح رہے کہ پوری دنیا کے معصوم انسانوں بالخصوص مسلمانوں کا خون پینا امریکی ثقافت کا حصہ ہے۔

اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں امریکی فنون لطیفہ نے یورپ سے بہت اثر لیا۔ مصوری، مجسمہ سازی اور ادب کے لیے یورپ کی تقلید کی گئی اور پورپ سے اس کی قبولیت کو معیار بنایا گیا۔ امریکی خانہ جنگی کے اختتام تک امریکی ادب کی تخلیق شروع ہو گئی تھی۔ مارک ٹوئین، ایمائیلی ڈکنسن اور والٹ وہائٹ مین نے سب کچھ امریکی انداز میں پیش کرنا شروع کیا۔ بصری فنون میں امریکی اثرات بہت آہستہ روی سے مرتب ہوئے۔ 1913ء میں نیویارک میں ہونے والے آرمری شو کے دوران میں ایک نمائش منعقد ہوئی جس میں یورپی جدت پسند فنکاروں کا امریکا کے لیے کیا جانے والا کام سامنے لایا گیا اور اس نے نہ صرف عوام کو جھنجھوڑا بلکہ بیسوی صدی کے بقیہ حصے میں اپنے اثرات مرتب کیے۔ اس نمائش کے دو سطحی اثرات واقع ہوئے جس میں انہوں نے امریکی فنکاروں کو یہ دکھایا کہ فنون لطیفہ اپنے خیالات کا اظہار ہے اور یہ کوئی ادبی یا حقیقت پسندی کو ظاہر نہیں کرتی اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دکھایا کہ یورپ فنکاروں کے کام پر تنقید کے لیے اپنے قدیم خیالات کو چھوڑ چکا ہے جن میں فنکاروں کو سختی کے ساتھ اصولوں کی پاسداری کرنی پڑتی تھی۔ اس سے امریکی فنکاروں کو اپنی شناخت کا موقع ملا اور ایک جدت پسندی کی مہم چلی اور امریکی تہذیب ابھر کر سامنے آئی۔ ایلفرڈ سٹی گلیٹز (1864ء سے 1946ء) فوٹو گرافر، چارلس ڈی متھ (1883ء سے 1935ء) اور مارسڈین ہارٹلے (1877ء سے 1943ء)، دونوں مصوروں نے فنون لطیفہ کے حوالے سے امریکا کا مقام بنایا۔ ماڈرن آرٹ کے عجائب گھر، جو نیو یارک میں 1929ء میں بنایا گیا، امریکی اور بین الاقوامی فنون لطیفہ کا شوکیس بن گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے فیصلے کے بعد دنیا کے فنون لطیفہ کا مرکز پیرس سے منتقل ہو کر امریکا میں منتقل ہو گیا۔

ملکی موسیقی بھی مختلف شاخوں سے ہوتی ہوئی یہاں تک پہنچی ہے۔ راک، پاپ، سول، ہپ ہاپ، کنٹری، بلیوز اور جاز ابھی بھی اس ملک کے وہ ساز ہیں جو بین الاقوامی طور پر مانے جاتے ہیں۔ 19ویں صدی کے اختتام پر امریکی ریکارڈ شدہ موسیقی پوری دنیا میں پھیل چکی تھی اور امریکی موسیقی کی مشہور دھنوں کو آج بھی ہر جگہ سنا جا سکتا ہے۔

سینما کی ابتدا اور اس کی ترقی تقریباً ساری کی ساری امریکا میں ہی ہوئی۔ 1878ء میں پہلی بار سلسلہ وار کیمروں کی مدد سے ایک برطانوی فوٹو گرافر نے دوڑتے گھوڑے کی متحرک تصاویر بنائیں۔ اسی طرح کامک بک اور ڈزنی کی متحرک فلمیں آج بھی دنیا میں اپنا منفرد مقام رکھتی ہیں۔

کھیل ملکی تفریح کا ذریعہ ہیں اور ہائی سکولوں کی سطح پر خصوصا امریکی فٹ بال، بیس بال اور باسکٹ بال کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔ پروفیشنل سپورٹس کو امریکا میں ایک بہت بڑا کاروبار سمجھا جاتا ہے اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ معاوضہ بھی کھلاڑیوں کو یہیں ملتا ہے۔ چار مشہور کھیلوں میں بیس بال، امریکی فٹ بال، آئس ہاکی اور باسکٹ بال ہیں۔ بیس بال کو قومی کھیل کا درجہ حاصل ہے لیکن 1990ء کی دہائی کے شروع سے امریکی فٹ بال کو زیادہ شہرت ملی ہے۔ ہاکی بھی حال ہی میں اپنی شہرت کھو چکا ہے۔

دیگر کھیلوں میں کار ریسنگ، لیکروس، سوکر (فٹ بال) گالف اور ٹینس کے کھیلنے والے کافی ہیں۔ امریکا نے تین بورڈز والی کھیلوں پر اپنا اثر ڈالا ہے جن میں سرف بورڈنگ، سکیٹ بورڈنگ اور سنو بورڈنگ شامل ہیں۔ اب تک آٹھ اولمپک مقابلے امریکا میں منعقد ہو چکے ہیں۔ اب تک کے تمغوں کے لحاظ سے امریکا سرمائی کھیلوں میں 218 تمغوں کے ساتھ (78 طلائی، 81 چاندی کے اور 59 تابنے کے ) تیسرے نمبر پر اور 2321 تمغوں کے ساتھ (943 طلائی، 736چاندی کے اور 642 تابنے کے ) گرمائی کھیلوں میں پہلے نمبر پر ہے۔




#Article 29: روس (149 words)


روس ( یا  () جسے سرکاری طور پر روسی وفاق (Russian Federation) کہا جاتا ہے شمالی یوریشیائی ملک ہے۔ یہ ایک وفاقی جمہوریہ ہے۔ 

شمال مغرب سے جنوب مشرق کی طرف روس کی زمینی سرحدیں ناروے، فنلینڈ، استونیا، لٹویا، لتھووینیا اور پولینڈ (دونوں کیلننگراڈ اوبلاست)، بیلاروس، یوکرین، جارجیا، آذربائیجان، قازقستان، چین، منگولیا، اور شمالی کوریا سے ملتی ہیں۔ جبکہ اس کی آبی سرحدیں جاپان سے بواسطہ بحیرہ اخوتسک، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی ریاست الاسکا سے بواسطہ آبنائے بیرنگ اور کینیڈا کے بحر منجمد شمالی کے جزائر سے ملتی ہیں۔

روس ستمبر 2012ء کے مطابق 143 ملین افراد کے ساتھ دنیا کا نواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ 

روس ایک وفاق ہے جو 1 مارچ، 2008ء کے بعد سے 83 موضوعات میں تقسیم ہے۔ 

وفاقی موضوعات کی چھ اقسام ممیز ہیں۔ جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

ان کے علاوہ روس کی دیگر تقسیمات مندرجہ ذیل ہیں۔




#Article 30: توحید باری تعالٰی (214 words)


توحید کے معنی ہیں کہ خالق ومالک کائنات کو ایک جاننا۔ اللہ تعالٰی کی وحدانیت کو عموماً سمجھانے کی خاطر تین اجزاء میں تقسیم کیا جاتا ہے؛

یعنی خدا ایک اور اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔
دلیل: انتھائی سادہ دلیل (Argument) جو پیش کی جاسکتی ہے وہ قرآن میں بیان ہوئی ہے۔ اگر سادہ الفاظ میں سمجھنا ہو تو ہم کہ سکتے ہیں: اگر دو یا زیادہ خدا ہوتے تو انکی رائے میں کبھی نہ کبھی ضرور اختلاف ہوتا اور دنیا کے نظام میں خلل واقع ہوجاتا لیکن دنیا کے نظام میں خلل نہ ہونا اور ایک ہی قسم کے نظم کا نظر آنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کائنات کا مالک ایک ہی اور وہ خداوند متعال کی ذات اقدس ہے۔

قال تعالى:
لقد كفر الذين قالوا إن الله ثالث ثلاثة

بے شک انہوں نے کفر کر دیا جنہوں نے کہا کہ اللہ تین کا تیسرا ہے (القرآن)

قل لا يعلم من في السماوات والأرض الغيب إلا الله وما يشعرون ايّان يبعثون (سورة النمل)

آپ کہہ دیجیئے کہ آسمان وزمین والوں میں سے کوئی غیب جاننے والا نہیں سوائے الله کے اور ان کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ دوبارہ کب زندہ کیے جائیں گے۔

وأن المساجد لله فلا تدعوا مع الله أحدا (سورة جن آية ١٨)




#Article 31: جولائی (104 words)


جولائی گريگورين سال کا ساتواں مہينہ ہے۔ شمالی نصف کرہ میں اس مہينے ميں گرمی کا موسم ختم ہوتا ہے اور برسات کو موسم شروع ہوتا ہے۔ جولائی کا پرانا نام تھا جسے جولئیس سیزر (Julius Caesar) (قدیم تاریخ یونان و مصر کا ایک بہت بڑا لیڈر ان کھاتے میں بےشمار فتوحات ہیں قلوپطرہ اور پومپی کا ہم عصر تھا) کے نام پر بدل کر جولائی رکھا گیا کیونکہ وہ اس ماہ میں پیدا ہوا تھا۔ اس سے پہلے اسے لاطینی لفظ کویتیلیس (Quintilis) کہا جاتا تھا جس کا مطلب پانچواں کے ہوتے ہیں کیونکہ قدیم تقویم میں جولائی سال کا پانچواں مہینہ تھا۔




#Article 32: پنجابی زبان (513 words)


پنجابی(شاہ مکھی: پنجابی، گرمکھی: ਪੰਜਾਬੀ) ایک ہند یورپی زبان ہے جو باشندگانِ خطۂ پنجاب میں مروّج ہے۔ پنجابی بولنے والوں میں ہندو مت، سکھ مت، اسلام، اور مسیحیت کے پیروکار شامل ہیں۔ اول الذکر مذہب کے علاوہ باقی تینوں مذاہب میں اس زبان کو خاص حیثیت حاصل رہی ہے۔ پاکستان اور ہندوستان میں کیے گیے مردم شماریوں کے مطابق دنیا میں پنجابی بولنے والوں کی تعداد 14-15کروڑ سے زائد ہے ۔ اس زبان کے بہت سے لہجے ہیں جن میں سے ماجھی لہجے کو ٹکسالی مانا جاتا ہے۔ یہ لہجہ پاکستان میں لاہور، شیخوپورہ، گوجرانوالہ کے اطراف میں جبکہ ہندوستان میں امرتسر اور گرداسپور کے اضلاع میں مستعمل ہے۔ایس.آئی.ایل نژادیہ کے 1999ء کی شماریات کے مطابق پنجابی اور ہندی دُنیا میں گیارویں سب سے زیادہ بولی جانی والی زبان ہے۔

پنجابی پاکستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔ یہ ملک کی 60 فی صدی آبادی کی مادری زبان ہے، جبکہ 75 فیصد پاکستانی یہ زبان بولنا جانتے ہیں۔ پاکستان میں پنجابی بولنے والے لوگوں کی تعداد کم و پیش 12 کڑوڑ ہے۔ اس کے برعکس ہندوستان کی آبادی کا محض 3 فیصد ہی پنجابی جانتا ہے۔ تاہم پنجابی ہندوستان کی ریاست پنجاب کی سرکاری زبان ہے، جبکہ پاکستان میں پنجابی کو کسی قسم کی سرکاری پشت پناہی حاصل نہیں۔ مزید برآں پنجابی کو ہندوستانی ریاستوں ہریانہ اور دہلی میں دوم زبان کی حیثیت حاصل ہے۔

پنجابیامریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں اقلیتی زبان کے طور پر بولی جاتی ہے۔ پنجابی نے بھنگڑا اور موسیقی کی وساطت سے بھی کافی عالمی مقبولیت پائی ہے۔

پنجابی زبان کا اختراع اپبھرمش پراکرت زبان سے ہوا ہے۔ اس زبان میں ادب کا آغاز بابا فرید الدین گنج شکر سے ہوتا ہے۔ بعد ازاں سکھ مت کے بانی بابا گورو نانک کا نام آتا ہے۔ سکھوں کے پانچویں گورو ارجن دیو نے گورو گرنتھ صاحب کی تالیف کی تھی۔ یہ کتاب گورمکھی رسم الخط میں لکھی گئی تھی اور اس میں پنجابی کہ علاوہ برج بھاشا اور کھڑی بولی کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔
	
پندرھویں سے انیسویں صدیوں کے درمیان مسلمان صوفی بزرگوں نے پنجابی زبان میں بے مثال منظوم تحریریں رقم کیں۔ سب سے مقبول بزرگوں میں بابا بلہے شاہ شامل ہیں۔ ان کی شاعری کافیوں پر مشتمل ہے۔ قصہ خوانی بھی پنجابی ادب کی ایک مقبول صنف ہے۔ سب سے مشہور قصہ ہیر اور رانجھے کی محبت کا قصہ ہے جوکہ وارث شاہ کے قلم سے رقم ہو کر امر ہو چکا ہے۔ دیگر صوفی شعرا میں شاہ حسین، سلطان باہو، شاہ حسین اور خواجہ فرید شامل ہیں۔

تقسیم ہند کا سب سے برا اثر پنجابی زبان پر پڑا۔ایک طرف ہندو پنجابی جوکہ صدیوں سے پنجابی بولتے آئے تھے اب ہندی کو اپنی مادری زبان کہلوانے لگے۔ پاکستان میں پنجابی کو کسی قسم کی سرکاری حیثیت نہ دی گئی، جبکہ ہندوستان میں پنجابی کو سرکاری حیثیت دینے کی راہ میں رکاوٹیں حایل کی گئیں۔ تاہم اب ریاست پنجاب میں پنجابی سرکاری اور دفتری زبان ہے۔

پنجابی کے جدید ادباء میں موہن سنگھ، شو کمار بٹالوی، امرتا پریتم، سرجیت پاتر (ہندوستان سے)، منیر نیازی، انور مسعود، اور منو بھائی (پاکستان سے) شامل ہیں۔




#Article 33: ناول (419 words)


ناول اطالوی زبان کے لفظ ناولا (Novella) سے نکلا ہے۔ ناولا کے معنیٰ ہے نیا۔ لغت کے اعتبار سے ناول کے معانی نادر اور نئی بات کے ہیں۔ لیکن صنفِ ادب میں اس کی تعریف بنیادی زندگی کے حقائق بیان کرنا ہے۔ ناول کی اگر جامع تعریف کی جائے تو وہ کچھ یوں ہوگی کہ “ناول ایک نثری قصہ ہے جس میں پوری ایک زندگی بیان کی جاتی ہے”۔ ناول کے عناصر ِ ترکیبی میں کہانی، پلاٹ، کردار، مکالمے ،زماں و مکاں، اسلوب ،نکتہ نظر اور موضوع وغیرہ شامل ہیں۔
افسانہ کسی فرد کے زندگی کو ظاہر کرتا ہے ۔

ناول تمام ادبی صنفوں میں تازہ ترین ہے اگرچہ قدیم دور میں اس کی نظیر موجود ہے ، اس نے قرون وسطی تک اپنے آپ کو مستحکم اور منفرد انداز میں قائم کرنے کا انتظام نہیں کیا۔

ناول مغربی اثر کے ساتھ اردو میں آیا۔ ناول سے پہلے اردو میں داستان اور قصے کہانیاں موجود تھیں۔
اردو میں نذیر احمد کی کہانیاں کو ناول کا پہلا نمونہ کہا جاسکتا ہے۔ ان کی پہلی کہانی مرات العروس 1869ء میں شائع ہوئی۔ نذیر احمد اپنی کہانیوں کے ذریعے عورتوں کی اصلاح چاہتے تھے۔ بنات النعش، توبة النصوح، ابن الوقت وغیرہ نذیر احمد کی دوسری کتابیں ہیں۔
تاریخی اعتبار سے دوسرے اہم ناول نگار سرشار ہیں۔ ان کا ناول فسانۂ آزاد  اردو کا ایک شاہکار ہے۔ یہ 1879ء میں لکھا گیا۔
شرر نے اپنے ناولوں کے ذریعے سماج کی اصلاح کی۔ ان کا مشہور ناول فردوسِ بریں ہے۔ یہ 1999ء لکھا گیا ہے۔
سجاد حسین نے ناولوں میں مزاحیہ رنگ کا اضافہ کیا۔ حاجی بغلول، احمق الدین، میٹھی چھری وغیرہ ان کے مشہور ناول ہیں۔
مرزا رسوا کے ناولوں سے ایک نیا رنگ شروع ہوتا ہے۔ امراؤ جان ادا ان کا زندۂ جاوید ناول ہے۔
راشدالخیری نے اپنے ناولوں سے سماجی اصلاح کی کوشش کی۔ سمرنا کا چاند، شامِ زندگی، صبحِ زندگی وغیرہ ان کے مشہور ناول ہیں۔
سجاد ظہیر ترقی پسند تحریک کے بانیوں میں ایک ہیں۔ ان کا ناول لندن کی ایک رات بہت مشہور ہے۔
پریم چند کے اثر سے اردو میں ناول کو ترقی ہوئی۔ بازارِ حسن، چو گانِ ہستی، نرملا، گودان وغیرہ ان کے اہم ناول ہیں۔
کرشن چندر کا ناول شکست بہت مشہور ہے۔ انھوں نے اپنے زمانے کے مسائل کو ناولوں کے ذریعے پیش کیا۔
عصمت چغتائی کا مشہور ناول ٹیڑھی لکیر ہے۔
اردو کے جدید ناول نگاروں میں قُرت العین حیدر کا نام اہم ہے۔ ان کے مشہور ناولوں میرے بھی صنم خانے، آگ کا دریا، آخرِ شب کے ہم سفر وغیرہ اہم ہیں۔




#Article 34: قانون (219 words)


قانون دراصل اجتماعی اصولوں پر مشتمل ایک ایسا نظام ہوتا ہے کہ جس کو کسی ادارے (عموما حکومت) کی جانب سے کسی معاشرے کو منظم کرنے اور اس کو تضبیط کرنے کے لیے نافذ کیا جاتا ہے اور اس ہی پر اس معاشرے کے اجتماعی رویوں کا دارومدار ہوتا ہے۔

اگر الفاظ کو وسعت دی جائے تو یوں کہا جائے گا کہ قانون ؛ رسمی (official) اصول اور نظمیت کا ایک ایسا نظام ہے جو قانون اساسی، تشریع یعنی وضع قانون (legislation)، عدالتی راۓ اور اسبق جیسے شعبہ جات عدل و انصاف اور حکومتی تضبیط پر محیط ہوتا ہے اور اسے معاشرے پر لاگو کرنے یا نافذ کرنے کے لیے (جب اور جتنی ضرورت پڑے) ریاستی طاقت کو استعمال میں لایا جاسکتا (یا لایا جاتا) ہے۔

قانون چونکہ مکمل معاشرے پر لاگو کیا جاتا ہے اس لیے یہ اس معاشرے میں بسنے والے ہر ہر فرد کی زندگی پر اثرانداز ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک قانون عہد، جو ہر خریدی جانے والی چیز کی نظمیت کرتا ہے خواہ وہ ایک ٹیلی ویژن ہو یا ایک مالیاتی ادات سے متعلق کسی ماخوذہ بازار سے خریدا گیا کوئی مبادلیہ ہو۔

اسی طرح قانون جائیداد، جو غیرمنقولہ جائیداد جیسے گھر، عمارت اور جائیداد وغیرہ کو خریدنے، بیچنے اور کرایے پر دینے سے متعلق لوازمات اور فرائض کا تعین کرتا ہے۔




#Article 35: مسلمان (222 words)


مسلمان ، ،  سے مراد وہ شخص ہے جو دینِ اسلام پر یقین رکھتا ہو۔ اگرچہ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق اسلام خدا کا دین ہے اور یہ دین حضرت محمد  سے پہلے بھی موجود تھا اور جو لوگ اللہ کے دین پر عمل کرتے رہے وہ مسلمان ہیں۔ مثلاً قرآن کے مطابق حضرتابراہیم علیہ السلام بھی مسلمان تھے۔ مگر آج کل مسلمان سے مراد اسے لیا جاتا ہے جو حضرت محمد  کے لائے ہوئے دین پر عمل کرتا ہو اور یقین رکھتا ہو۔

پہلے پہل جو لوگ مسلمان ہوئے وہ اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ اللہ وحدہ لا شریک ہے اور حضرت محمد  اللہ کے رسول ہیں۔ اس طریقہ سے کوئی بھی شخص دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے۔ جب کوئی حضرت محمد  کو اللہ کا رسول مان لے تو اس پر واجب ہو جاتا ہے کہ ان کی ہر بات پر ایمان رکھے اور عمل کرنے کی کوشش کرے۔ مثلاً انہوں نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور یہ کہ وہ خدا کے آخری رسول ہیں تو اس بات پر ایمان رکھنا اسلام کے واجبات میں سے ہے۔ اسلام کے بنیادی عقائد جن پر مسلمانوں کے کسی فرقہ میں کوئی اختلاف نہیں، درج ذیل ہیں

اوپر دی گئی چیزوں پر ایمان رکھنے والے کو مسلمان کہتے ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر اختلافات فروعی و سیاسی ہیں۔




#Article 36: ریاضی (300 words)


ریاضی دراصل اعداد کے استعمال کے ذریعے مقداروں کے خواص اور ان کے درمیان تعلقات کی تحقیق اور مطالعہ کو کہا جاتا ہے، اس کے علاوہ اس میں ساختوں، اشکال اور تبدلات سے متعلق بحث بھی کی جاتی ہے۔ اس علم کے بارے میں گمان غالب ہے کہ اس کی ابتدا یا ارتقا دراصل گننے، شمار کرنے، پیمائش کرنے اور اشیاء کے اشکال و حرکات کا مطالعہ کرنے جیسے بنیادی عوامل کی تجرید اور منطقی استدلال (logical reasoning) کے ذریعہ ہوا۔

ریاضی داں ان تصورات و تفکرات کی جو اوپر درج ہوئے ہیں چھان بین کرتے ہیں اور ان سے متعلق بحث کرتے ہیں۔ ان کا مقصد نئے گمان کردہ خیالات (conjectures) کے لیے صیغے (formulae) اخذ کرنا اور پھر احتیاط سے چنے گئے مسلمات (axioms)، تعریفوں اور قواعد کی مدد سے ریاضی کے اخذ کردہ صیغوں کو درست ثابت کرنا ہوتا ہے۔

ریاضی کا لفظ ریاضت سے بنا ہے جس کا مطلب سیکھنا، مشق کرنا یا پڑھنا ہوتا ہے، جبکہ انگریزی میں بھی mathematics کا لفظ یونانی کے mathema سے ماخوذ ہے جس کا مطلب سیکھنا یا پڑھنا ہے۔

بنیادی قسم کی ریاضی کی معلومات کا استعمال زمانہ قدیم ہی سے رائج ہے اور قدیم مصر، بین النہرین اور قدیم ہندوستان کی تہذیبوں میں اس کے آثار ملتے ہیں۔ آج دنیا بھر میں علم ریاضی کو سائنس، ہندسیات، طب اور معاشیات سمیت تمام شعبہ ہائے علم میں استعمال کیا جا رہا ہے اور ان اہم شعبوں میں استعمال ہونے والی ریاضی کو عموما عملی ریاضی (applied mathematics) کہا جاتا ہے، ان شعبہ جات پر ریاضی کا نفاذ کرکے اور ریاضی کی مدد لے کر نہ صرف نئے ریاضیاتی پہلوؤں کی دریافتوں کا راستہ کھل جاتا ہے بلکہ بعض اوقات ریاضی اور دیگر شعبوں کے ملاپ سے ایک بالکل نیا شعبۂ علم وجود میں آجانے کی مثالیں بھی موجود ہیں۔




#Article 37: افریقا (957 words)


افریقا (africa) رقبے کے لحاظ سے کرہ ارض کا دوسرا بڑا بر اعظم، جس کے شمال میں بحیرہ روم، مشرق میں بحر ہند اور مغرب میں بحر اوقیانوس واقع ہے۔

دلکش نظاروں، گھنے جنگلات، وسیع صحراؤں اور گہری وادیوں کی سرزمین جہاں آج 53 ممالک ہیں جن کے باسی کئی زبانیں بولتے ہیں۔ 

افریقا کے شمالی اور جنوبی حصے نہایت خشک اور گرم ہیں جن کا بیشتر حصہ صحراؤں پر پھیلا ہوا ہے۔ خط استوا کے ارد گرد گھنے جنگلات ہیں۔ مشرقی افریقہ میں عظیم وادی الشق کے نتیجے میں گہری وادیاں تشکیل پائیں جن میں کئی بڑی جھیلیں بھی واقع ہیں۔

براعظم کے مغرب میں دریائے نائجر بہتا ہے جو وسیع دلدلی ڈیلٹا بناتا ہوا بحر اوقیانوس میں جا گرتا ہے۔ اس کے مشرق میں دریائے کانگو افریقا کے گھنے استوائی جنگلات سے گزرتا ہے۔ براعظم کے مشرقی حصے میں عظیم وادی الشق اور ایتھوپیا کے بالائی میدان ہیں۔ قرن افریقا براعظم کا مشرق کی جانب آخری مقام ہے۔

صحرائے اعظم شمالی افریقا کے بیشتر حصے پر پھیلا ہوا دنیا کا سب سے بڑا صحرا ہے۔ اس عظیم صحرا کا ایک چوتھائی حصہ ریتیلے ٹیلوں پر مشتمل ہے جبکہ بقیہ پتھریلے خشک میدان ہیں۔ براعظم کے دیگر بڑے صحراؤں میں نمیب اور کالاہاری شامل ہیں۔

صحرائے اعظم کے جنوب میں صحرائی اور جنگلی علاقوں کو چھوڑ کر پورے براعظم میں گھاس کے وسیع میدان ہیں جو سوانا کہلاتے ہیں۔ یہی میدان ہاتھی سمیت افریقا کے دیگر مشہور جانوروں کے مسکن ہیں۔

مشرق میں عظیم وادی الشق ہے، جو دراصل زمین میں ایک عظیم دراڑ کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ یہ عظیم دراڑ جھیل نیاسا سے بحیرہ احمر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اگر یہ دراڑ مزید پھیلتی گئی تو ایک دن قرن افریقا براعظم سے الگ ہو جائے گا۔ 

خط استوا کے ساتھ ساتھ بارشوں کے باعث گھنے جنگلات واقع ہیں یہاں کا موسم گرم اور نمی سے بھرپور ہے۔ 

افریقا کے 15 ممالک ایسے ہیں جن کی سرحدیں سمندر سے نہیں ملتیں جس کے باعث تجارت اور مواصلات کے رابطے محدود ہیں۔ 

افریقا کی بیشتر آبادی دیہات میں رہتی ہے لیکن چند بڑے شہر بھی ہیں جن میں قاہرہ قابل ذکر ہے، کی آبادی 65 لاکھ ہے اور یہ براعظم کا سب سے بڑا شہر ہے۔ شمالی اور مشرق کے بیشتر ممالک کا مذہب اسلام ہے اور وہ دنیا کے دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ عالمی اسلامی اخوت کے گہرے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ 

رقبے کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا براعظم ہونے کے باوجود افریقا کی آبادی زیادہ نہیں خصوصاً صحرائی علاقوں میں آبادی نہ ہونے کے برابر ہے۔ زیادہ تر آبادی پانی کے ذخائر اور زرخیز علاقوں میں ہے۔ افریقا میں شرح پیدائش بہت زیادہ ہے اس لیے آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

افریقا کی بیشتر عوام کا طرز زندگی انتہائی سادہ ہے لیکن مغربی اشیاء کے استعمال کے رحجان میں اب اضافہ ہو رہا ہے۔ کئی ممالک میں تعلیم عام کرنے کے منصوبہ جات کے تحت خواندگی اور صحت کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 

افریقا معدنیات سے مالا مال ہے اور نو آبادیاتی دور میں اسی دولت نے اسے غلامی کے طویل دور میں دھکیل دیا۔ یہاں پائی جانے والی معدنیات میں تیل، سونا، تانبا اور ہیرا خصوصاً قابل ذکر ہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ یہیں سے نکالا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں مالی میں دنیا میں پیدا ہونے والے نصف سے زائد سونا نکالا جاتا تھا۔ کئی ممالک میں کان کنی اہم ترین صنعت ہے۔

براعظم کے جنوبی علاقوں خصوصاً جنوبی افریقا میں سب سے زیادہ کانیں ہیں جہاں سے ہیرے، سونا، یورینیم اور تانبا نکالا جاتا ہے۔ تانبے کے سب سے زیادہ ذخائر جمہوریہ کانگو اور زیمبیا میں پائے جاتے ہیں۔ تیل الجزائر، انگولا، مصر، لیبیا اور نائجیریا میں نکلتا ہے۔

افریقا میں مختلف اقسام کے ماحول میں مختلف فصلیں بھی ہوتی ہیں۔ منطقہ حارہ کے علاقوں میں ربڑ اور کیلا اہم کاشت ہے جبکہ مشرقی افریقا چائے اور کافی کی کاشت کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے جن میں کینیا قابل ذکر ہے۔

افریقا کی بیشتر صنعتیں خام مال پر عمل پر انحصار کرتی ہیں۔ چند افریقی ممالک کی صنعت ایک ہی فصل یا معدنی وسیلے پر منحصر ہے لیکن کئی شہروں میں مختلف صنعتیں قائم کی جا رہی ہیں۔ شمالی افریقا کے ممالک، نائجیریا اور جنوبی افریقا میں سب سے زیادہ صنعتیں ہیں۔ براعظم میں سب سے زیادہ تیل شمالی افریقا کے مسلم ممالک اور مغرب میں بحر اوقیانوس کے ساتھ ساتھ واقع زیریں ممالک میں نکالا جاتا ہے۔

افریقا دنیا کا گرم ترین براعظم ہے جہاں صحرائے اعظم میں 122 ڈگری فارن ہائٹ تک درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے۔ شمالی ساحلی علاقے انتہائی گرم اور خشک ہیں اور بارش بہت کم ہوتی ہے۔ ساحلی علاقوں سے جنوب کی طرف صحرائے اعظم بیابان اور تیز خشک ہواؤں کا علاقہ ہے۔ اس کے جنوب میں ساحل کا علاقہ واقع ہے جہاں درختوں کی کٹائی صحرائے اعظم کو جنوب کی طرف مزید پھیلنے کا موقع دے رہی ہے۔ خط استوا کے قریب بہت زیادہ بارش ہوتی ہے اور اسی لیے مغربی اور وسطی علاقوں میں گھنے جنگلات ہیں۔ مزید جنوب میں موسم بہت خشک ہے اور قحط سالی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

زمین کے معیار کے مطابق افریقا میں مختلف اقسام کی زراعت ہوتی ہے۔ پہاڑی علاقوں جیسے روانڈا، یوگینڈا اور کینیا میں چائے کاشت کی جاتی ہے۔ شمالی میں جہاں پانی وافر مقدار میں موجود نہیں غذائی اجناس مقامی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کاشت کی جاتی ہے جبکہ نقد فصلیں جیسے پھل، کھجور اور زیتون برآمد کیے جاتے ہیں۔ مغربی افریقا میں مونگ پھلیاں، کوکوا اور کافی کاشت ہوتی ہے۔ جنوبی حصے میں جنوبی افریقا میں مختلف اقسام کی کاشت ہوئی ہے جن میں پھل برآمد کیے جاتے ہیں اور انگوروں سے شراب کشید کی جاتی ہے۔

دوسرے براعظم




#Article 38: بحر اوقیانوس (2589 words)


بحر اوقیانوس یا بحرِ اوقیانوسِ اطلس  دوسرا بڑا سمندر ہے جو سطح زمین کے 5/1 حصے کو گھیرے ہوئے ہے۔ اس کا انگریزی نام اٹلانٹک اوشن (Atlantic Ocean) یونانی لوک کہانیوں سے لیا گیا ہے۔ اٹلانٹک کا مطلب اطلس کا بیٹا ہے۔ یہاں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ دراصل عربی میں، --- اوقیانوس --- Ocean یا بحر ہی کو کہا جاتا ہے، لیکن اردو میں عموما اوقیانوس سے مراد Atlantic Ocean لی جانے لگی ہے لہذا یہاں بحر اوقیانوس کو Atlantic Ocean کے متبادل کے طور استعمال کیا گیا ہے۔ اور عربی میں بھی اگر اس کی اصل الکلمہ تلاش کی جائے تو تانے بانے ایک یونانی لفظ Okeanos تک لے جاتے ہیں کہ جس سے عربی کا اوقیانوس ماخوذ ہے اور پھر Okeanos کی ماخوذیت بذات خود ایک  تک جاتی ہے کہ جہاں د گا ئیا (Gaia) اور دیوتا یورنس (Uranus) کی جفت گیری سے ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام Oceanus تھا۔ 

 اس بحر کا حوض انگریزی کے حرف S کی شکل میں شمالا جنوبا لمبائی میں پھیلا ہوا ہے۔ اس کو استوا مخالف رو قریبا 8 درجے شمالی عرض بلد پر شمالی اوقیانوس اور جنوبی اوقیانوس میں تقسیم کرتی ہے۔ اس کو مغرب میں شمالی و جنوبی امریکا اور مشرق میں یورپ و افریقہ نے گھیرا ہوا ہے۔ یہ بحر شمال میں بحر منجمد شمالی اور جنوب میں آبنائے ڈریک کے ذریعہ بحر الکاہل سے ملا ہوا ہے۔ بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کے درمیان ایک مصنوعی رابطہ نہر پانامہ کے ذریعے قائم کیا گیا ہے۔ مشرق میں بحر اوقیانوس اور بحر ہند کو تقسیم کرنے والا خط 20 درجے مشرقی نصف النہار ہے جو کیپ اگلہاس سے انٹارکٹکا تک ہے۔ بحر اوقیانوس کو بحر منجمد شمالی سے ایک خط علاحدہ کرتا ہے جو گرین لینڈ سے شمال مغربی آئس لینڈ اور پھر شمال مشرقی آئس لینڈ سے سپٹسبرگن کی انتہائی جنوبی نوک تک اور پھر شمالی ناروے میں شمالی کیپ تک جاتا ہے۔ 

بحر اوقیانوس زمین کے قریبا 20٪ حصے کو گھیرے ہوئے ہے اور پھیلاؤ میں صرف بحر الکاہل سے چھوٹا ہے۔ اپنے ملحقہ سمندروں سمیت اس کا رقبہ تقریباً 106400000 مربع کلومیٹر (41100000 مربع میل) اور ان سمندروں کے بغیر اس کا رقبہ تقریباً 82400000 مربع کلومیٹر (31800000 مربع میل) ہے۔ ملحقہ سمندروں کے ساتھ‍ اس کا حجم 354700000 مکعب کلومیٹر (85100000 مکعب میل) اور ان کے بغیر اس کا حجم 323600000 مکعب کلومیٹر (77640000 مکعب کلومیٹر) ہے۔ 

بحر اوقیانوس کی اوسط گہرائی ملحقہ سمندروں سمیت 3332 میٹر (10932 فٹ) اور ان کے بغیر اوسط گہرائی 3926 میٹر (12881 فٹ) ہے۔ اس کی سب سے زیادہ گہرائی پورٹو ریکو گھاٹی میں ہے جہا ں اس کی گہرائی 8605 میٹر (28232 فٹ) ہے۔ بحر اوقیانوس کی چوڑائی متغیر ہے۔ اس کی کم سے کم چوڑائی برازیل اور لائیبیریا کے درمیان 2848 کلومیٹر (1770 میل) اور زیادہ سے زیادہ سے چوڑائی ریاستہائے متحدہ امریکا اور شمالی افریقہ کے درمیان 4830 کلومیٹر (3000 میل) ہے۔ 

بحر اوقیانوس کا ساحل کٹا پھٹا ہے اور بہت سی کھاڑیوں، خلیجوں اور سمندروں میں پھیلا ہوا ہے جن میں بحیرۂ کیریبین، خلیج میکسیکو، خلیج سینٹ لارنس، بحیرۂ روم، بحیرۂ اسود، بحیرۂ شمال، بحیرۂ لیبریڈور اور بحیرۂ نارویجن-گرین لینڈ شامل ہیں۔ بحر اوقیانوس میں موجود جزائر میں جزائر فارو، گرین لینڈ، آئس لینڈ، راکال، جزائر برطانیہ، آئر لینڈ، فرنینڈو ڈی نورونہا، ازورز، جزائر میڈیرا، کانریز، کیپ وردے، ساؤ ٹامے اور پرنسیپی، نیوفاؤنڈ لینڈ، برمودا، ویسٹ انڈیز، اسینشن، سینٹ ہیلینا، ٹرینڈاڈ، مارٹن واز، ٹرسٹن ڈا کنہا، جزائر فاک لینڈ، جزیرۂ جنوبی جارجیا شامل ہیں۔ 

ثقافتی اہمیت:
ماورائے اوقیانوس کا سفر امریکا مے ں مغربی تہذیب کے فروغ کا باعث بنا ہے، اس کے علاوہ شمالی امریکا اور یورپ کے مابین بحرِ اوقیا نوس کے لیے The Pond (تالاب) کی اصطلاح ثقافتی اور جغرافیائی صورت اختیار کر گئی ہے، چنانچہ اکثر امریکی،یورپ خصوصاً اہلِ برطانیہ کے لیے across The pond(تالاب پار) کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔

بحر اوقیانوس کے پیندے کی سب سے اہم خصوصیت وسط اوقیانوسی ارتفاع کا آبدوز پہاڑی سلسلہ ہے۔ یہ شمال میں آئس لینڈ سے قریبا 58 درجے جنوبی عرض بلد تک پھیلا ہوا ہے اور زیادہ سے زیادہ 1600 کلومیٹر (1000 میل) کی چوڑائی تک پہنچتا ہے۔ ایک عظیم شگافی وادی بھی اس ارتفاع کے بیشتر حصے کے ساتھ پھیلی ہوئی ہے۔ اس ارتفاع پر پانی کی گہرائی بہت سی جگہوں پر 2700 میٹر (8900 فٹ) سے کم ہے جبکہ بہت سی چوٹیاں پانی سے باہر نکلی ہوئی ہیں جن سے جزائر وجود میں آتے ہیں۔ جنوبی بحر اوقیانوس میں ایک اور ارتفاع بھی ہے جو والوس ارتفاع کہلاتا ہے۔ 

وسط اوقیانوسی ارتفاع بحر اوقیانوس کو دو عظیم نشیبوں میں تقسیم کرتا ہے جن کی گہرائی کی اوسط 3700 سے 5000 میٹر (12000 سے 18000 فٹ) کے درمیان ہے۔ براعظموں اور وسط اوقیانوسی ارتفاع کے درمیان پھیلے ہوئے ترچھے ارتفاع بحر اوقیانوس کے پیندے کو بہت سے حوضوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ شمالی اوقیانوس کے چند بڑے حوضوں میں گیانا، جنوبی امریکا، کیپ وردے، کانریز شامل ہیں۔ جنوبی اوقیانوس کے چند عظیم ترین حوض انگولا، کیپ، ارجنٹینا اور برازیل کے حوض ہیں۔ 

گہرے بحر کے فرش کو کافی ہموار سمجھا جاتا ہے گوکہ اس میں بہت سی پہاڑیاں بھی موجود ہیں۔ فرش بحر میں بہت سی گہرائیاں اور گھاٹیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ شمالی اوقیانوس میں پورٹو ریکو گھاٹی سب سے گہری ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ گہرائی8,605 میٹر(28,232 فٹ)ریکا رڈ کی گئی ہے۔ اوقیانوس کی دوسری گہری ترین گھاٹی ساﺅتھ سینڈوچ ٹرنچ(South Sandwich Trench)ہے،جنو بی اوقیانوس میں واقع یہ گھاٹی 8,428 میٹر(27,651 فٹ)گہری ہے،اس عظیم سمندر کی تیسری گہری ترین گھاٹی رومانچے ٹرنچ(Romanche Trench)ہے، خط ِاستواکے نزدیک واقع اس گھاٹی کی گہرائی 7,454 میٹر(24,455فٹ)بیان کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کینیڈا کے مشرقی ساحل پر زیرِآب 6,000میٹر گہری وادی کا بھی پتہ چلا ہے،سینٹ لارنس(Saint Lawrence )سے منسوب اس وادی کولورینٹن ابیز(Laurentian Abyss ) کا نام دیا گیا ہے۔ 

بحری گاد خاکزاد،بحرنشین اور معدن البحر مواد پر مشتمل ہے۔ خاکزاد مواد ریت، کیچڑ اور چٹانوں کے ذرات پر مشتمل ہے جو زمینی کٹاؤ، موسمی اثر اور آتش فشانی عمل کی وجہ سے زمین سے بہہ کر سمندر میں چلا جاتا ہے۔ یہ مواد زیادہ تر ساحلی ڈھلوانوں پر پایا جاتا ہے اور اس کی تہ دریاؤں کے دہانوں اور صحرائی ساحلوں پر سب سے موٹی ہوتی ہے۔ بحرنشین مواد ان مردہ حیوانات و نباتات کے بقایاجات پر مشتمل ہوتا ہے جو مر کر تہ میں چلے جاتے ہیں۔ اس مواد کی موٹائی 60 سے 3000 میٹر (200 سے 11000 فٹ) تک ہوتی ہے۔ معدن البحر مواد منگنزی گرہوں (manganese nodules) جیسے اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ مواد وہاں ہوتا جہاں گاد کے اکٹھا ہونے کا عمل سست ہوتا ہے یا اسے بحری رویں اکٹھا کرتی ہیں۔ 

کھلے بحر کی سطح کے پانی کا بلحاظ کمیت نمکیاتی تناسب 33 سے 37 فی ہزار حصص ہے اور عرض بلد اور موسم کی مطابق بدلتا رہتا ہے۔ گو کہ کم سے کم نمکیاتی تناسب خط استوا کے بالکل شمال میں پایا گیا ہے لیکن یہ تناسب عمومی طور پر اونچے عرض بلد اور ساحلوں کے قریب اس جگہ سب سے کم ہوتا ہے جہاں دریا آ کر سمندر میں ملتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ نمکیاتی تناسب 25 درجے شمالی عرض بلد پر ہوتا ہے۔ سطح کے نمکیاتی تناسب پر تبخیر، ترسیب، دریائی آمد اور سمندری برف کے پگھلاؤ جیسے عناصر اثرانداز ہوتے ہیں۔ 

سطح آب کے درجات حرارت عرض بلد، رووں کے نظام اور موسم کے لحاظ سے تبدیل ہوتا رہتا ہے اور شمسی توانائی کی شمالا جنوبا تقسیم کو واضح کرتے ہیں۔ یہ درجات حرارت 2‎ ‎− درجے سے کم سے 29 درجے سینٹی گریڈ (28 درجے فارن ہائیٹ سے 84 درجے فارن ہائیٹ) تک ہوتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ درجات حرارت خط استوا کے شمال میں اور کم سے کم قطبی علاقوں میں ہوتے ہیں۔ درمیانی عرض بلد کے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ درجات حرارت کی مقداریں متغیر ہیں اور 7 درجے سینٹی گریڈ سے 8 درجے سینٹی گریڈ (13 درجے فارن ہائیٹ سے 15 درجے فارن ہائیٹ) تک ہوتی ہیں۔ 

بحر اوقیانوس پانی کے چار بڑے ذخائر پر مشتمل ہے۔ شمالی اور جنوبی اوقیانوس کے مرکزی پانی سطحی پانیوں پر مشتمل ہیں۔ زیر اوقیانوسی وسطی پانی 1000 میٹر (3300 فٹ) کی گہرائی تک جاتا ہے۔ شمالی اوقیانوسی گہرا پانی 4000 میٹر (13200 فٹ) تک کی گہرائی تک جاتا ہے۔ 

شمالی اوقیانوس کے اندر پانی کے ذخیرے کا ایک لمبا جسم بحری رووں نے علاحدہ کر دیا ہے۔ پانی کا یہ ذخیرہ بحیرۂ سرگاسو کہلاتا ہے، جس میں نمکیاتی تناسب واضح طور پر زیادہ ہے۔ بحیرۂ سرگاسو میں سمندری گھاس بڑی مقدار میں موجود ہے اور یورپی مارماہی کی ایک اہم جائے تخم ریزی ہے۔ 

کوریولس اثر (Coriolis effect) کے باعث شمالی اوقیانوس میں پانی کی حرکت گھڑیال موافق (clockwise) سمت میں گردش کرتا ہے جبکہ جنوبی اوقیانوس میں پانی کی گردش گھڑیال مخالف ہوتی ہے۔ بحراوقیانوس کی جنوبی موجیں نصف یومی ہوتی ہیں یعنی ہر 24 قمری گھنٹوں دو اونچی موجیں آتی ہیں۔ موجیں ایک عام لہرہوتی ہیں جو جنوب سے شمال کی طرف حرکت کرتی ہے۔ 40 درجے شمال سے اونچے عرض بلد پر کچھ‍ شرقا غربا تغیر وقوف بھی عمل میں آتے ہیں۔ 

بحر اوقیانوس اور اس سے ملحق زمینی علاقوں کے موسم پر سطح آب اور بحری رووں کے درجۂ حرارت کے علاوہ پانیوں کے آرپار چلنے والی ہوائیں بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ چونکہ بحر میں بڑی مقدار میں گرمی کو اپنے اندر محفوظ رکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے اس لیے ساحلی علاقے مموسمیاتی تغیرات کی انتہا سے محفوظ رہتے ہیں۔ ساحلی علاقوں کے موسم کے اعداد و شمار اور ہوا کے درجۂ حرارت کے پانی کے درجۂ حرارت سے فرق سے بارش کی مقدار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بحار فضائی نمی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ یہ نمی عمل تبخیر سے پیدا ہوتی ہے۔ موسمی منطقے عرض بلد کے لحاظ سے تبدیل ہوتے ہیں۔ گرم ترین موسمی منطقہ بحر اوقیانوس پر خط استوا کے شمال میں پھیلا ہوا ہے۔ سرد ترین منطقے اونچے عرض بلد میں ہیں، ان میں سرد ترین علاقے وہ ہیں جو سمندری برف سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ بحری رویں سرد اور گرم پانیوں دوسرے علاقوں تک منتقل کر کے وہاں کے موسم پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ ملحقہ زمینی علاقے ان ہواؤں سے متاثر ہوتے ہیں جو ان رووں کے اوپر چلتی ہیں۔ مثال کے طور پر خلیجی دھارا (Gulf Stream) نامی ایک بحری رو جزائر برطانیہ اور شمال مغربی یورپ کی فظا کو گرم کرتی ہے اور سرد پانی رویں شمال مشرقی کینیڈا (گرینڈ بینکس کے علاقوں میں) اور شمال مغربی افریقہ کے ساحلوں پر گہری دھند کا باعث بنتی ہیں۔ 

سمندری طوفان شمالی بحر اوقیانوس کے جنوبی حصے میں کیپ وردے اور جزائر ونڈورڈ کی درمیان بنتے ہیں اور مغرب کی جانب بحیرۂ کیریبین تک جاتے ہیں اور بعض صورتوں میں شمالی امریکا کے مشرقی ساحل سے جا ٹکراتے ہیں اور کافی تباہی پھیلاتے ہیں۔ یہ طوفان مئی اور دسمبر کے درمیان بنتے ہیں لیکن بیشتر طوفان آخر جولائی سے اوائل نومبر تک آتے ہیں۔ شمالی بحر اوقیانوس میں طوفان شمالی سردی کی وجہ سے بہت عام ہیں جس وجہ سے اس عبور کرنا کافی مشکل اور خطرناک ہوتا ہے۔ 

بحرمنجمد جنوبی کے بعد بحر اوقیانوس شمالی دوسرا کم عمر بحر ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ بحر اوقیانوس آج سے 18 کروڑ سال پہلے موجود نہیں تھا۔ اس وقت سمندری فرش کے پھیلاؤ سے عظیم براعظم پینجیا (Pangaea) کے ٹوٹنے سے بننے والے براعظم ایک دوسرے سے دور ہٹ رہے تھے۔ بحر اوقیانوس کے ساحلی علاقوں کے آباد ہونے کے بعد سے اس کی بہت زیادہ سیاحت کی گئی ہے۔ اس کے مشور سیاحوں میں وائیکنگ، پرتگالی اور کرسٹوفر کولمبس شامل ہیں۔ کولمبس کے بعد یورپی سیاحت میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا اور بہت سے نئے تجارتی راستے قائم کیے گئے۔ نتیجتا بحر اوقیانوس یورپ اور امریکی براعظموں کے درمیان ایک اہم شاہراہ بن گیا اور ابھی تک اس یہ اہمیت برقرار ہے۔ اس بحر میں بہت سی سائنسی تحقیقات بھی کی گئیں ہیں۔ جرمن شہابی مہم، جامع کولمبیا کی لیمانٹ ارضیاتی رصدگاہ اور ریاستہائے متحدہ بحری فوج کا ہائیڈروگرافک آفس قابل ذکر ہیں۔ 

اس بحر نے ارد گرد کے مملک کی ترقی اور اقتصادیات میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ماورائے اوقیانوس (transatlantic) آمد و رفت اور سفری راستوں کے علاوہ اس کی ساحلی ڈھلوان میں رسوبی چٹانوں پائے جانے والے معدنی تیل اور دنیا مچھلی کے عظیم ترین ذرائع کی وجہ سے بھی بحر اوقیانوس کی وجہ سے بھی اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اس سے پکڑی جانے والی مچھلیوں کی اہم اقسام میں کاڈ، ہیڈاک، ہیک، ہیرنگ اور میکرل شامل ہیں۔ مچھلی کی سب سے زیادہ پیداوار والے علاقوں نیوفاؤنڈلینڈ کے گرینڈ بینکس، نوواسکاشیا کا ساحلی ڈھلوان کا علاقہ، کیپ کاڈ کے پاس جارجز بینک، بہاما بینکس، آئسلینڈ کے ارد کرد کے پانی، بحیرۂ آئرش، بحیرہ شمال کا ڈاگر بینک اور فاک لینڈ بینکس شامل ہیں۔ مارماہی، جھینگے اور وہیل بھی بڑی تعداد میں پکڑے گئے ہیں۔ یہ تمام عناثر بحر اوقیانوس کی تجارتی اہمیت کو بہت بڑھا دیتے ہیں۔ تیل بہنے، سمندری ملبے اور سمندر کے کنارے زہریلے کچرے کی خاکستری کی وجہ بحر اوقیانوس کو لاحق ماحولیاتی خطرات کی چند اقسام کو کسی حد تک کم کرنے کے لیے بہت سے بین الاقوامی معاہدے کیے گئے ہیں۔ 

بحر اوقیانوس سے منسوب چند اہم تاریخی واقعات یہ ہیں :

بحیرۂ لیبریڈور، آبنائے ڈنمارک اور بحیرۂ بالٹک کی سطح اکتوبر سے جون تک سمندری برف سے ڈھکی رہتی ہے۔ شمالی اوقیانوس میں گرم پانی کی گردش گھڑیال موافق گردش ہوتی ہے اور جنوبی اوقیانوس میں گرم پانی کی گردش گھڑیال مخالف ہوتی ہے۔ بحری فرش سب سے نمایاں خصوصیت وسط اوقیانوسی ارتفاع پھیلی ہے جو اوقیانوس کے پیندے پر شمال سے جنوب تک ایک منحنی لکیر کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔ اس ارتفاع کو چیلینجر مہم نے دریافت کیا تھا۔ 

تیل اور گیس کے ذخائر، مچھلی، سمندری پستانیہ جانور (سگ ماہی اور وہیل)، ریت اور بجری کے ذخائر، پلیسر کے ذخائر، کثیردھاتی گ رہیں، قیمتی پتھر

آبنائے ڈیوس، آبنائے ڈنمارک اور شمال مغربی اوقیانوس میں فروری سے اگست تک برفانی تودے عام ہیں۔ یہ تودے جنوب کی جانب برمودا اور جزائر میڈیرا تک پائے گئے ہیں۔ انتہائی شمالی اوقیانوس میں اکتوبر سے مئی تک بحری جہازوں کے عرشے پر برف جم جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ مئی سے ستمبر تک مسلسل رہنے والی سمندری کہر اور خط استوا کے شمال میں مئی سے دسمبر تک آنے والے سمندری طوفان ایک بڑا خطرہ ہیں۔ 

برمودا مثلث کے بارے مشہور ہے کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں بہت سے ہوائی اور بحری حادثے ہوئے جن کی وجوہ بظاہر ناقابل فہم اور پراسرار تھیں لیکن ساحلی محافظوں کی دستاویزات ان دعووں کی تائید نہیں کرتیں۔ 

خطرات سے دوچار جانوروں میں مینیٹی، سگ ماہی، سمندری شیر، کچھوے اور وہیل شامل ہیں۔ جال سے مچھلی پکڑنے سے ڈولفن، قطرس اور بہت سے دوسرے آبی پرندوں کی نسلیں ختم ہو رہی اور سمندر میں مچھلیوں کی تعداد میں تیزی سے کمی آ رہی ہے، جس بہت سے بین الاقوامی تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔ مشرقی ریاستہائے متحدہ، جنوبی برازیل اور مشرقی ارجنٹینا کے ساحلوں کو شہری کیچڑ نے آلودہ کر دیا ہے جبکہ بحیرۂ کیریبین، خلیج میکسیکو، جھیل میراکیبو، بحیرۂ روم اور بحیرۂ شمال میں تیل کی آلودگی ہے۔ اس کے علاوہ بحیرۂ بالٹک، بحیرۂ روم اور بحیرۂ شمال کو صنعتی فضلہ اور شہری پانی آلودہ کر رہا ہے۔ 

بحر اوقیانوس کی بڑی حفاظتی چوکیاں (چیک پوائنٹ) آبنائے جبل الطارق (جبرالٹر) اور نہر پانامہ ہیں ؛ آبنائے ڈوور، فلوریڈا کے آبنائے اور گزرگاہ مونا، اورسنڈ اور گزرگاہ ونڈورڈ حربی اہمیت کے حامل ہیں۔ سرد جنگ کے دوران نام نہاد شگاف گرین لینڈ-آئسلینڈ-متحدہ سلطنت حربی لحاظ سے ایک بڑا باعث فکر تھا اس لیے اس علاقے کے سمندر کی تہ میں ہائیڈروفون کا بہت بڑا نظام نصب کیا گیا تاکہ سوویت آبدوز جہازوں کا سراغ لگایا جا سکے۔ 




#Article 39: یورپ (314 words)


یورپ (europe) دنیا کے سات روایتی براعظموں میں سے ایک ہے تاہم جغرافیہ دان اسے حقیقی براعظم نہیں سمجھتے اور اسے یوریشیا کا مغربی جزیرہ نما قرار دیتے ہیں۔ اصطلاحی طور پر کوہ یورال کے مغرب میں واقع یوریشیا کا تمام علاقہ یورپ کہلاتا ہے۔

یورپ کے شمال میں بحر منجمد شمالی، مغرب میں بحر اوقیانوس، جنوب میں بحیرہ روم اور جنوب مشرق میں بحیرہ روم اور بحیرہ اسود کو ملانے والے آبی راستے اور کوہ قفقاز ہیں۔ مشرق میں کوہ یورال اور بحیرہ قزوین یورپ اور ایشیا کو تقسیم کرتے ہیں۔

یورپ رقبے کے لحاظ سے آسٹریلیا کو چھوڑ کر دنیا کا سب سے چھوٹا براعظم ہے جس کا رقبہ ایک کروڑ چالیس لاکھ مربع کلومیٹر ہے جو زمین کے کل رقبے کا صرف دو فیصد بنتا ہے۔ یورپ سے بھی چھوٹا واحد براعظم آسٹریلیا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ تیسرا سب سے بڑا براعظم ہے جس کی آبادی 71 کروڑ ہے جو دنیا کی کل آبادی کا 11 فیصد بنتا ہے۔

Within the above-mentioned states are several درحقیقت independent countries with محدود تسلیم شدہ ریاستوں کی فہرست۔ None of them are members of the UN:

Several dependencies and similar territories with broad autonomy are also found within or in close proximity to Europe. This includes Åland (a فن لینڈ کے علاقہ جات)، two constituent countries of the Kingdom of Denmark (other than Denmark itself)، three تاج توابع، and two برطانوی سمندر پار علاقے۔ Svalbard is also included due to its unique status within Norway, although it is not autonomous. Not included are the three مملکت متحدہ کے ممالک with devolved powers and the two پرتگال کے خود مختار علاقہ جات، which despite having a unique degree of autonomy, are not largely self-governing in matters other than international affairs. Areas with little more than a unique tax status, such as Heligoland and the جزائر کناری، are also not included for this reason.




#Article 40: نظام شمسی (4430 words)


نظام شمسی سورج اور ان تمام اجرام فلکی کے مجموعے کو کہتے ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر سورج کی ثقلی گرفت میں ہیں۔ اس میں 8 سیارے، ان کے 162 معلوم چاند، 3 شناخت شدہ بونے سیارے(بشمول پلوٹو)، ان کے 4 معلوم چاند اور کروڑوں دوسرے چھوٹے اجرام فلکی شامل ہیں۔ اس آخری زمرے میں سیارچے، کوئپر پٹی کے اجسام، دم دار سیارے، شہاب ثاقب اور بین السیاروی گرد شامل ہیں۔

عام مفہوم میں نظام شمسی کا اچھی طرح معلوم ( مرسوم / charted) حصہ سورج، چار اندرونی سیاروں، سیارچوں، چار بیرونی سیاروں اور کوئپر پٹی پر مشتمل ہے۔ کوئپر پٹی سے پرے کے کافی اجسام بھی نظام شمسی کا ہی حصہ تسلیم کیے جاتے ہیں۔

سورج سے فاصلے کے اعتبار سے سیاروں کی ترتیب یہ ہے: عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون۔ ان میں سے چھ سیاروں کے گرد ان کے اپنے چھوٹے سیارے گردش کرتے ہیں جنہیں زمین کے چاند کی مناسبت سے چاند ہی کہا جاتا ہے۔ چار بیرونی سیاروں کے گرد چھوٹے چٹانی اجسام، ذرات اور گردوغبار حلقوں کی شکل میں گردش کرتے ہیں۔ تین بونے سیاروں میں پلوٹو، کوئپر پٹی کا سب سے بڑا معلوم جسم؛ سیرس، سیارچوں کے پٹی کا سب سے بڑا جسم؛ اور ارس، جو کوئپر پٹی سے پرے واقع ہے؛ شامل ہیں۔ پلوٹو کو 2006 میں سیارے کے درجہ سے معزول کر دیا گیا۔ دیکھیں۔ پلوٹو کا نظام شمسی سے اخراج

سورج کے گرد چکر لگانے والے اجسام کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: سیارے، بونے سیارے (Dwarf planets) اور چھوٹے شمسی اجسام (Small Solar System bodies)۔

سیارہ سورج کے گرد مدار میں گردش کرنے والے کسی ایسے جسم کو کہتے ہیں جو درج ذیل خصوصیات کا حامل ہے

تسلیم شدہ آٹھ سیارے یہ ہیں: عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری، زحل، یورینس، نیپچون

بونے سیاروں کے مدار کے آس پاس عموما دوسرے چھوٹے اجسام پاے جاتے ہیں کیونکہ ان کی کشش ثقل اتنی مضبوط نہیں ہوتی کے وہ اپنے پڑوس میں صفائی (Clearing the neighbourhood) کر سکیں۔ کچھ دوسرے اجسام جو مستقبل میں بونے سیارے قرار دیے جا سکتے ہیں ان میں Orcus، Sedna اور Quaoar شامل ہیں۔

پلوٹو 1930ء میں اپنی دریافت سے 2006ء تک نظام شمسی کا نواں سیارہ تسلیم کیا جاتا تھا۔ لیکن بیسویں صدی کے آخر اور اکیسویں صدی کے اوائل میں پلوٹو سے ملتے جلتے بہت سے دوسرے اجسام بیرونی نظام شمسی میں دریافت کیے گئے، خصوصاً ارس، جو جسامت میں پلوٹو سے بڑا ہے۔

سورج کے گرد مدار میں باقی تمام اجسام چھوٹے شمسی اجسام (Small Solar System bodies) کے زمرے میں آتے ہیں۔

قدرتی سیارچے یا چاند وہ اجسام ہیں جو سورج کی بجائے دوسرے سیاروں، بونے سیاروں یا SSSBs کے گرد گردش کر رہے ہوں۔

کسی بھی سیارے کا سورج سے فاصلہ ہمیشہ یکساں نہیں رہتا کیونکہ سیاروں کے مدار عموماً بیضوی ہوتے ہیں۔ کسی سیارے کے سورج سے کم سے کم فاصلے کو اس کا حضیض (perihelion) کہتے ہیں اور اس کے زیادہ سے زیادہ فاصلے کو اس کا اوج (aphelion) کہتے ہیں۔

ماہرین فلکیات عام طور پر اجرام فلکی کے باہمی فاصلوں کی پیمائش کے لیے فلکیاتی اکائیاں (Astronomical Unit یا AU) استعمال کرتے ہیں۔ ایک فلکیاتی اکائی( AU ) تقریباًً سورج سے زمین تک کے فاصلے کے برابر ہوتی ہے۔ سورج سے زمین کا فاصلہ تقریباًً 149598000 کلومیٹر یا 93000000 میل ہے۔ پلوٹو سورج سے 38 فلکیاتی اکائیوں (AU) جبکہ مشتری تقریباًً 5.2 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر ہے۔ ایک نوری سال، جو ستاروں کے مابین فاصلوں کی معروف ترین اکائی ہے، تقریباًً 63,240 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے برابر ہوتی ہے۔

غیر رسمی طور پر نظام شمسی کو الگ الگ مَناطِق (zones) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اندرونی نظام شمسی میں پہلے چار سیارے اور سیارچوں کی پٹی شامل ہے۔ بعض فلکیات دان بیرونی نظام شمسی میں سیارچوں سے پرے تمام سیاروں اور دوسرے اجسام کو شامل کرتے ہیں،
جبکہ بعض کے نزدیک بیرونی نظام شمسی نیپچون کے بعد شروع ہوتا ہے اور مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون ایک علاحدہ درمیانی مِنطقہ (zone) کا حصہ ہیں۔

اس جدول سے پتہ چلتا ہے کہ اگر ایک بہت ہی بڑے تصوارتی سمندر میں چاند، سورج اور سب سیاروں کو پھینکا جائے تو صرف زحل تیرتا رہے گا باقی سب ڈوب جائیں گے۔

سورج، جو ایک main sequence G2 ستارہ ہے، نظام شمسی کا مرکزی جز ہے۔ سورج نظام شمسی کی معلوم کمیت میں سے 99.86 فیصد کا حامل ہے اور ثقلی طور پر دوسرے تمام اجسام پر حاوی ہے۔
مشتری اور زحل، جو سورج کے گرد گردش کرنے والے سب سے بڑے سیارے ہیں، باقی ماندہ کمیت کے 90 فیصد کے حامل ہیں۔ اورت بادل میں بھی، جو فی الحال ایک غیر ثابت شدہ نظریہ ہے، مادے کی کافی مقدار موجود ہو سکتی ہے۔

سورج کے گرد گردش کرنے والے سبھی سیاروں کے مدار (پلوٹو سیارہ نہیں ہے) زمین کے مدار کے تقریباًً متوازی ہیں یا اس سے بہت کم زاویہ بناتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں دم دار سیاروں اور کوئپر پٹی کے اجسام کے مدار زمین کے مدار سے کافی زاویے پر ہیں۔

سورج کے گرد گردش کے ساتھ ساتھ تمام سیارے اپنے محور پر بھی گردش کرتے ہیں۔ اگر سورج کے قطب شمالی کے عین اوپر سے معائنہ کیا جائے تو ماسوائے چند اجسام کے، جیسے ہیلی کا دمدار سیارہ، تمام سیارے اپنے محور کے گرد مخالف گھڑی وار سمت میں گردش کرتے ہیں۔

تمام اجسام سورج کے گرد کیپلر کے قانون کے مطابق حرکت کرتے ہیں۔ ہر جسم کا مدار بیضوی ہے اور اس بیضے کے ایک مرکز (focus) پر سورج واقع ہے۔

سورج کے قریب والے اجسام دور والے اجسام کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گردش کرتے ہیں۔ سیاروں کے مدار بہت کم بیضوی، بلکہ تقریباًً دائروی ہیں لیکن بہت سے دمدار سیاروں، سیارچوں اور کوئپر پٹی کے اجسام کے مدار انتہائی بیضوی ہیں۔

سیاروں کے مدار ایک دوسرے سے بہت زیادہ فاصلے پر واقع ہیں اور دو مداروں کے درمیانی فاصلے میں تغیر بھی بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ یہ فاصلے نقشوں میں دکھانا کافی مشکل ہے اس لیے عموماً نظام شمسی کے نقشوں میں سیاروں کو ایک دوسرے سے یکساں فاصلے پر دکھایا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت میں، کچھ مثالوں کے سوا، کوئی سیارہ سورج سے جتنا دور ہے، اس کے مدار کا اپنے سے پہلے والے سیارے کے مدار سے فاصلہ اتنا ہی زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر زہرہ کا مدار عطارد کے مدار سے 0.33 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر ہے، جبکہ زحل مشتری سے 4.3 فلکیاتی اکائی (AU) دور ہے اور نیپچون یورینس سے 10.5 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر ہے۔ سائنسدانوں نے ان فاصلوں کا باہمی تعلق معلوم کرنے کی کچھ کوششیں تو کی ہیں لیکن اب تک کوئی نظریہ متفقہ طور پر قبول نہیں کیا جا سکا ہے۔

نظام شمسی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ نیبولائی نظریے کے مطابق وجود میں آیا۔ یہ نظریہ عمانویل کینٹ نے 1755ء میں پیش کیا تھا۔ اس نظریے کے مطابق 4 ارب 60 کروڑ سال پہلے ایک بہت بڑے مالیکیولی بادل کے ثقلی انہدام (gravitational collapse) کی وجہ سے نظام شمسی کی تشکیل ہوئی۔ یہ بادل شروع میں اپنی وسعت میں کئی نوری سال پر محیط تھا اور خیال ہے کہ اس کے انہدام سے کئی ستاروں نے جنم لیا ہو گا۔ قدیم شہابیوں میں ایسے عناصر کی معمولی مقدار/ذرات(traces) پائے گئے ہیں جو صرف بہت بڑے پھٹنے والے ستاروں (نجومِ منفجر (exploding stars)) میں تشکیل پاتے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سورج کی تشکیل ستاروں کے کسی ایسے جھرمٹ (خوشۂ انجم (star cluster)) میں ہوئی جو اپنے قریب کے کئی سپر نووا دھماکوں کی زد میں تھا۔ ان دھماکوں سے پیدا ہونے والی لہروں (shock waves) نے اپنے آس پڑوس کے نیبیولا کے گیسی مادے پر دباؤ ڈال کر زیادہ گیسی کثافت کے خطے پیدا کر دیے جس سے سورج کی تشکیل کی ابتدا ہوئی۔ ان کثیف خطوں میں قوت ثقلی کو بہتر طور پر اندرونی گیسی دباؤ پر قابو پانے کا موقع ملا اور پھر یہ کشش ثقل پورے بادل کے انہدام (collapse) کا باعث بنی۔

اس گیسی بادل کا وہ حصہ جو بعد میں نظام شمسی بنا، اپنے قطر میں قریباً 7,000 سے 20,000 فلکیاتی اکائیوں (AU) پر محیط تھا اور اس کی کمیت سورج کی موجودہ کمیت سے کچھ زیادہ تھی۔ اسے ماہرین فلکیات قبل الشمس نیبیولا بھی کہتے ہیں۔ جیسے جیسے نیبیولا سکڑتا گیا، محافظۂ زاویائی معیار حرکت یعنی conservation of زاویائی معیار حرکت کے باعث اس کی گردش کی رفتار بڑھتی گئی۔ جوں جوں مادہ اس بادل کے مرکز میں اکٹھا ہوتا گیا، ایٹموں کے آپس میں ٹکرانے کی تکرار (تعدد (frequency)) بھی بڑھتی گئی اور اس وجہ سے مرکز میں درجہ حرارت بڑھنے لگا۔ مرکز، جہاں پر اب زیادہ تر مادہ اکٹھا ہو چکا تھا، گرم سے گرم تر ہوتا چلا گیا اور اس کا درجہ حرارت باقی ماندہ بادل کے مقابلے میں کافی زیادہ ہو گیا۔ گردش، کشش ثقل، گیسی دباؤ اور مقناطیسی قوتوں کے زیر اثر سکڑتا ہوا نیبیولا آہستہ آہستہ ایک گردش کرتی ہوئی قبل السیاروی طشتری میں تبدیل ہونا شروع ہو گیا جس کا قطر تقریباًً 200 فلکیاتی اکائیاں (AU) تھا اور جس کے مرکز میں ایک گرم اور کثیف (dense) جنم لیتا ہوا ستارہ تھا۔ 

تقریباًً 10 کروڑ سال بعد اس سکڑتے ہوئے نیبیولا کے مرکز میں ہائڈروجن کی کثافت اور اس کا دباؤ اتنا ہو گیا کہ یہاں پر مرکزی ائتلاف کا عمل شروع ہو گیا۔ مرکزی ائتلاف کی رفتار اس وقت تک بڑھتی رہی جب تک آبسکونی توازن (hydrostatic equilibrium) حاصل نہیں ہو گیا۔ اس موقع پر مرکزی ائتلاف سے پیدا ہونے والی توانائی/دباؤ کی قوت کشش ثقل کے برابر ہو گئی اور مزید سکڑاؤ کا عمل رک گیا۔ اب سورج ایک مکمل ستارہ بن چکا تھا۔

بادل کے باقی ماندہ گردوغبار اور گیسوں سے سیاروں کی تشکیل ہوئی۔ 

سورج نظام شمسی کا مرکزی ستارہ اور اس کا سب سے اہم حصہ ہے۔ یہ کمیت میں زمین کی نسبت 332,946 گنا بڑا ہے۔ اس کی بھاری کمیت اسے اتنی اندرونی کثافت فراہم کرتی ہے جس سے اس کے مرکز میں مرکزی ائتلاف(nuclear fusion) کا عمل ہو سکے۔ مرکزی ائتلاف کے نتیجے میں بہت بڑی مقدار میں توانائی پیدا ہوتی ہے جس کا زیادہ تر حصہ برقناطیسی لہروں (electromagnetic radiations) اور روشنی کی شکل میں خلا میں بکھر جاتا ہے

ویسے تو ماہرین فلکیات سورج کو ایک درمیانی جسامت کا زرد بونا ستارہ شمار کرتے ہیں، لیکن یہ درجہ بندی کچھ گمراہ کن ہے، کیونکہ ہماری کہکشاں کے دوسرے ستاروں کے مقابلے میں سورج نسبتاً بڑا اور چمکدار ہے۔ ستاروں کی درجہ بندی ہرٹزپرنگ-رسل نقشے(Hertzsprung-Russell diagram) کے مطابق کی جاتی ہے۔ اس گراف میں ستاروں کی چمک کو ان کے سطحی درجہ حرارت کے مقابل درج (plot) کیا جاتا ہے۔ عمومی طور پر زیادہ گرم ستارے زیادہ چمکدار ہوتے ہیں۔ اس عمومی خصوصیت کے حامل ستاروں کو رئیسی متوالیہ (main sequance) ستارے کہتے ہیں اور سورج بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ لیکن سورج سے زیادہ گرم اور چمکدار ستارے بہت کمیاب ہیں جبکہ سورج سے مدھم اور ٹھنڈے ستارے عام ہیں۔

 

سائنسدانوں کا خیال ہے کے اس وقت سورج اپنی زندگی کے عروج پر ہے اور ابھی اس میں جلانے کے لیے بہت ایندھن باقی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ سورج کی چمک میں اضافہ ہو رہا ہے؛ ابتدا میں سورج کی چمک اس کی موجودہ چمک کا صرف 75 فیصد تھی۔

سورج میں ہائڈروجن اور ہیلیم کے تناسب سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ابھی اپنی عمر کے درمیانی حصے میں ہے۔ وقت کے ساتھ سورج کی جسامت اور چمک میں اضافہ ہوتا جائے گا، اس کا درجہ حرارت کم ہوتا جائے گا اور رنگت سرخی مائل ہوتی جائے گی۔ تقریباً 5 ارب سال میں سورج ایک سرخ جن (giant) بن جائے گا۔ اس وقت سورج کی چمک اس کی موجودہ چمک سے کئی ہزار گنا زیادہ ہو گی

سورج اول آبادی (population I) کا ستارہ ہے؛ یہ کائناتی ارتقاء کے بہت بعد کے مراحل میں پیدا ہوا تھا۔ اس کی ساخت میں دوم آبادی (population II) کے ستاروں کی نسبت بھاری عناصر کی مقدار زیادہ ہے۔ ان بھاری عناصر کو فلکیات کی زبان میں دھاتیں کہتے ہیں گو کہ علم کیمیا میں دھات کی تعریف اس سے مختلف ہے۔ ہائڈروجن اور ہیلیم سے بھاری عناصر قدیم پھٹنے والے ستاروں کے مرکز میں بنے تھے؛ اس لیے کائنات میں ان عناصر کی موجودگی کے لیے ستاروں کی پہلی نسل (generation) کا مرنا ضروری تھا۔ قدیم ترین ستاروں میں دھاتوں کی بہت کم مقدار پائی جاتی ہے جبکہ نئے ستاروں میں ان کی مقدار زیادہ ہے۔ ماہرین فلکیات کے خیال میں سورج کی اونچی دھاتیت اس کے گرد سیاروں کی تشکیل کے لیے انتہائی اہم تھی کیونکہ سیارے دھاتوں کے ارتکام (accretion) سے ہی بنے ہیں۔

اندرونی نظام شمسی اس خطے کا روایتی نام ہے جس میں سورج، پہلے چار سیارے اور سیارچے آتے ہیں۔ یہ سیارے اور سیارچے سلیکیٹ اور دھاتوں سے ملکر بنے ہیں اور سورج سے نسبتاً قریب قریب ہیں؛ اس پورے خطے کا رداس مشتری اور زحل کے مابین فاصلے سے بھی کم ہے۔

نظام شمسی کے چار پہلے سیارے اپنی ساخت کی بنا پر باقی سیاروں سے مختلف ہیں۔ ان کی سطح عموماً چٹانوں اور اونچا نقطۂ انجماد رکھنے والی معدنیات، مثلاً سلیکیٹ وغیرہ سے بنی ہے۔ ان کی ٹھوس سطح کے نیچے انتہائی گرم اور نیم مائع مینٹل پایا جاتا ہے اور اس کا بھی غالب جز سلیکیٹ معدنیات ہی ہیں۔ ان کا مرکز لوہے اور نکل کا بنا ہوا ہے۔ چار میں سے تین سیاروں (زہرہ، زمین اور مریخ) میں کرہ ہوائی بھی موجود ہے۔ ان سب پر شہاب ثاقب ٹکرانے کی وجہ سے تصادمی گڑھے بھی پائے جاتے ہیں۔ چونکہ ان کی ٹھوس سطح کے نیچے مائع مینٹل زیر حرکت رہتا ہے، اس لیے ان کا سطحی قرش بھی وقتاً فوقتاً حرکت کرتا ہے۔ قرش کی اس حرکت کے باعث سطح پر آتش فشاں پہاڑ اور کھائیاں جنم لیتی ہیں۔

مکمل مضمون کے لیے دیکھیے سیارچوی پٹی

سیارچے عام طور پر چھوٹے اجرام فلکی ہوتے ہیں جو چٹانوں، دھاتوں اور اس طرح کی دوسرے ناقابل تبخیر و تصعید (non-volatile) مادوں سے بنے ہوتے ہیں۔ سیارچوی پٹی مریخ اور مشتری کے درمیان، سورج سے 2.3 سے 3.3 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر واقع ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اجسام نظام شمسی کی تخلیق کے وقت مشتری کی ثقلی مداخلت کے باعث اکٹھے ہو کر ایک سیارہ بننے سے رہ گئے تھے۔

سیارچے اپنی جسامت میں خوردبینی ذرات سے لیکر کئی سو کلومیٹر چوڑی دیوہیکل چٹانوں تک ہو سکتے ہیں۔ انتہائی بڑے سیارچوں، جیسے کہ سیرس، کے علاوہ تمام سیارچوں کو چھوٹے اجرام فلکی میں شمار کیا جاتا ہے۔ مستقبل میں مزید تحقیق کے بعد کچھ اور بڑے سیارچوں، مثلاً Vesta اور Hygieia، کو بھی بونے سیارے قرار دیا جا سکتا ہے۔

سیارچوی پٹی میں ایسے ہزاروں اور ممکنہ طور پر لاکھوں، اجسام پائے جاتے ہیں جن کا قطر ایک کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ اس کے باوجود اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ سیارچوں کی پٹی کی کل کمیت زمین کی کمیت کے ہزارویں حصے سے زیادہ ہو۔ پٹی میں سیارچے ایک دوسرے سے کافی دور دور ہیں اور خلائی جہاز عموماً اس خطے سے کسی تصادم کے بغیر آسانی سے گزر جاتے ہیں۔ چھوٹے سیارچے، جن کا قطر 10 میٹر سے لیکر 1 ملی میٹر تک ہو، شہاب ثاقب کہلاتے ہیں۔

 

نظام شمسی کے وسطی حصے میں دیو ہیکل گیسی سیارے، ان کے بڑے بڑے چاند اور کم مدت کے دمدار سیارے پائے جاتے ہیں۔ اس حصے کا کوئی روایتی نام نہیں ہے؛ بعض اوقات اسے بیرونی نظام شمسی کہا جاتا ہے لیکن عصر حاضر میں یہ نام زیادہ تر نیپچون سے پرے کے حصے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

سورج کے گرد گردش کرنے والے تمام مادے میں سے 99 فیصد چار بیرونی سیاروں یا گیسی جنات، میں موجود ہے۔ مشتری کی فضاء زیادہ تر ہائیڈروجن اور ہیلیم پر مشتمل ہے۔ یورینس اور نیپچون کی فضاء میں مختلف برفانی مادوں، جیسے کہ پانی، امونیا اور میتھین، کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔ ان برفانی مادوں کے باعث کچھ ماہرین فلکیات ان دو سیاروں کو ایک الگ ہی زمرے میں رکھتے ہیں جسے وہ یورانی سیارے یا برفانی جنات کہتے ہیں۔ ان چاروں سیاروں کے گرد حلقے ہیں لیکن صرف زحل کے حلقے زمین سے صاف طور پر دکھائی دیتے ہیں۔

مکمل مضمون کے لیے دیکھیے دم دار سیارے

دم دار سیارے چھوٹے اجرام فلکی ہوتے ہیں جن کا قطر عموماً چند کلومیٹر سے زیادہ نہیں ہوتا۔ یہ مختلف قسم کے منجمد مادوں سے بنے ہوتے ہیں۔ ان کے مدار انتہائی بیضوی ہوتے ہیں؛ عموماً ان کا حضیض (perihelion) اندرونی سیاروں کے مداروں کے اندر ہوتا ہے اور ان کا

edabہوتا ہے۔ جب کوئی دم دار سیارہ اندرونی نظام شمسی کی حدود میں داخل ہوتا ہے تو سورج کی حدت کے باعث اس کی سطح پر تصعید اور آئن سازی کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بخارات اور ذرات دم دار سیارے سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور گرد اور بخارات پر مشتمل ایک لمبی سی دم بناتے ہیں جو برہنہ آنکھ سے بھی دکھائی دیتی ہے۔

کم دورانیہ/عرصہ مدت والے دم دار سیارے ہر دو سو سال یا اس سے بھی کم عرصے میں نمودار ہوتے ہیں جبکہ لمبے دورانیے والے سیارے ہزاروں سال میں ایک بار دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کم دورانیے والے سیارے، جیسے ہیلی کا دم دار سیارہ، کوئپر بیلٹ سے آتے ہیں، جبکہ لمبے دورانیے والے سیارے، جیسے ہیل-باپ، اورٹ بادل سے آتے ہیں۔ دم دار سیاررں کے گروہ، جیسے کہ Kreutz Sungrazers، ایک سیارے کے ٹوٹنے سے بنتے ہیں۔ کچھ انتہائی لمبے دورانیے کے سیاروں کے بارے میں یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ نظام شمسی کے باہر سے آتے ہیں، لیکن ان کے مداروں کا درست تعین مشکل ہے اس لیے یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی۔ بعض پرانے دم دار سیارے بارہا سورج کے قریب سے گزرنے کے باعث اپنے منجمد مادے کھو چکے ہیں اور صرف ان کا چٹانی مرکز باقی بچا ہے۔ انہیں اکثر سیارچوں کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔

نیپچون سے پرے کا خطہ، جسے اکثر بیرونی نظام شمسی یا خطہ ماورا النیپچون بھی کہا جاتا ہے، زیادہ تر unexplored ہے۔ بظاہر یہ خطہ صرف برف اور چٹانی مادوں سے بنے چھوٹے اجسام پر مشتمل دکھائی دیتا ہے۔ اس خطے میں اب تک دریافت شدہ اجسام میں سب سے بڑا جسم قطر میں زمین سے پانچ گنا چھوٹا اور کمیت میں ہمارے چاند سے بھی بہت کم ہے۔

کوئپر پٹی، جو اس خطے کے شروع میں واقع ہے، سیارچوی پٹی کی طرح گردوغبار اور ملبے کا ایک بہت بڑا حلقہ ہے، لیکن سیارچوی پٹی کے برعکس یہ زیادہ تر برف پر مشتمل ہے۔ یہ حلقہ سورج سے 30 سے 50 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ خطہ کم مدت کے دمدار سیاروں، جیسے ہیلی کا دمدار سیارہ، کا منبع خیال کیا جاتا ہے۔ اس پٹی کے بیشتر اجسام نظام شمسی کے چھوٹے اجسام کے زمرے میں آتے ہیں لیکن ان میں سے بعض بڑے اجسام، جیسے Varuna ،Quaoar اور Orcus، کو مستقبل میں بونے سیارے بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق کوئپر پٹی میں 50 کلومیٹر سے زیادہ قطر والے ایک لاکھ سے زیادہ اجسام موجود ہیں، لیکن ان کے خیال میں اس پٹی کی مجموعی کمیت زمین کی کمیت کے دسویں یا ایک سویں حصے کے برابر ہے۔ اس پٹی کے اکثر اجسام کے ایک سے زیادہ چاند ہیں اور اکثر کے مدار زمین کے مدار سے کافی زاویے پر ہیں

کوئپر پٹی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؛ روایتی پٹی اور گمگی پٹی (resonant belt)۔ گمگی پٹی کے اجسام نیپچون سے ایک گمگی رشتہ (resonance relationship) میں جڑے ہوئے ہیں؛ یعنی سورج کے گرد ان کی گردش کا وقت دوران نپچون کی کشش ثقل کے زیر اثر ہے۔ نیپچون کے اپنے مدار میں ہر تین چکر پورا کرنے پر یہ اجسام سورج کے گرد اپنے دو چکر پورے کرتے ہیں یا پھر اس کے ہر دو چکروں کے مقابلے میں ایک۔ گمگی پٹی نیپچون کے مدار کے اندر ہی سے شروع ہوتی ہے۔ روایتی پٹی کے اجسام کا نیپچون کی گردش دوران سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ پٹی تقریباًً 39.4 سے 47.7 فلکیاتی اکائیوں (AU) تک پھیلی ہوئی ہے۔ روایتی پٹی کے اجسام کو کیوبیوانوز (cubewanos) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عجیب سا نام دراصل اس پٹی کے سب سے پہلے دریافت ہونے والے جسم کیو بی ون (QB1) کے نام پر رکھا گیا ہے جو 1992ء میں دریافت ہوا تھا۔

منتشر طشتری کوئپر پٹی سے overlap کرتی ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ منتشر طشتری کے اجسام کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کے یہ دراصل کوئپر پٹی سے ہی آئے ہیں اور نیپچون کی ابتدائی زندگی میں جب اس کا مدار سورج سے دور جا رہا تھا تو اس کی کشش ثقل کے زیر اثر یہ اجسام بے ترتیب مداروں میں چلے گئے۔ زیادہ تر منتشر طشتری کے اجسام کا حضیض (perihelion) کوئپر پٹی کے اندر واقع ہے، جبکہ ان کے اوج (aphelion) کا سورج سے فاصلہ 150 فلکیاتی اکائیوں (AU) تک ہے۔ ان کے مدار زمین کے مدار سے کافی زاویہ بناتے ہیں اور اکثر کے مدار زمین کے مدار کے عموداً (90 درجے کے زاویہ پر) واقع ہیں۔ بعض فلکیات دان منتشر طشتری کو کوئپر پٹی کا ہی حصہ سمجھتے ہیں اور اسے کوئپر پٹی کے منتشر اجسام کا نام دیتے ہیں۔

وہ نقطہ جہاں پر نظام شمسی ختم ہوتا ہے اور بین النجمی خلا (interstellar space) شروع ہوتی ہے کچھ ٹھیک طرح سے متعین نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ حد دو مختلف قوتیں طے کرتی ہیں: باد شمسی اور سورج کی کشش ثقل۔ باد شمسی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پلوٹو کے مدار کے چار گنا فاصلے پر ختم ہو جاتی ہے لیکن سورج کی کشش ثقل اس سے ہزار گنا فاصلے پر بھی اثر رکھتی ہے۔

کرہ شمسی (heliosphere) کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ باد شمسی اپنی پوری رفتار سے تقریباً 95 فلکیاتی اکائیوں (AU) یا پلوٹو کے مدار سے تین گنا فاصلے تک، جاتی ہے۔ یہاں اس کا تصادم مخالف سمت سے آنے والی بین النجمی واسطے کی ہواؤں سے ہوتا ہے۔ اس تصادم کے نتیجے میں بادشمسی کی رفتار میں کمی آتی ہے، اس کے کثافت بڑھ جاتی ہے اور یہ مزید بے سکون (turbulent) ہو جاتی ہے۔ اس مقام تک کرہ شمسی ایک درست کرے کی شکل کا ہے لیکن اس سے آگے یہ ایک بیضے کی شکل کا ہو جاتا ہے جسے شمسی نیام (heliosheath) کہتے ہیں۔ شمسی نیام کی شکل اور طرز عمل دونوں ایک دمدار سیارے کی دم کی طرح ہیں؛ یہ اس مقام سے کہکشاں میں سورج کی حرکت کی سمت میں تقریباً 40 فلکیاتی اکائیوں (AU) تک جاتی ہے لیکن اس سے مخالف سمت میں اس سے کئی گنا زیادہ فاصلے تک پھیلی ہوئی ہے۔ سکون شمسی، جو کرہ شمسی کی بیرونی حد ہے، وہ نقطہ ہے جہاں باد شمسی مکمل طور پر رک جاتی ہے اور بین النجمی خلا کا آغاز ہوتا ہے۔

آج تک کوئی خلائی جہاز سکون شمسی سے آگے نہیں گیا اس لیے یہ جاننا ناممکن ہے کہ اس سے آگے خلا میں کیا حالات ہیں۔ یہ بھی بخوبی معلوم نہیں کہ کرہ شمسی نظام شمسی کو نقصان دہ کائناتی اشعاع (cosmic rays) سے کس حد تک بچاتا ہے۔ کرہ شمسی سے باہر کے حالات معلوم کرنے کے لیے ایک خصوصی مہم زیر غور ہے۔

نظریاتی (hypothetical) اورت بادل کھربوں برفانی اجسام کا ایک بہت بڑا مجموعہ ہے جو نظام شمسی کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ یہ سورج سے 50,000 سے 100,000 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے پر پھیلا ہوا ہے اور خیال کیا جاتا ہے لمبے وقت دوران کے دمدار سیارے یہیں سے آتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے زیادہ تر اجسام دمدار سیارے ہیں جو اندرونی نظام شمسی سے بیرونی سیاروں کی کشش ثقل کے باعث خارج ہو گئے تھے۔ اورت بادل کے اجسام بہت آہستہ رفتار سے حرکت کرتے ہیں اور ان کی حرکت میں کبھی کبھار ہونے والے واقعات جیسے کہ دوسرے اجسام سے تصادم، کسی گزرتے ہوئے ستارے کی کشش ثقل یا کہکشاں کے مدوجذر، آسانی سے خلل پیدا کر سکتے ہیں۔

نظام شمسی کا ایک بڑا حصہ ابھی بھی نا معلوم ہے۔ سورج کی کشش ثقل کے بارے میں اندازہ ہے کہ یہ 2 نوری سال یا 125,000 فلکیاتی اکائیوں (AU)، کے فاصلے تک دوسرے ستاروں کی کشش ثقل پر حاوی ہے۔ اس کے مقابلے میں اورت بادل ممکنہ طور پر صرف 50,000 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے فاصلے تک پھیلا ہوا ہو سکتا ہے۔ سیڈنا جیسے اجسام کی دریافت کے باوجود کوئپر پٹی اور اورت بادل کے درمیان کا خطہ، جس کا رداس ہزاروں فلکیاتی اکائیوں پر محیط ہے، زیادہ تر غیر مرسوم (uncharted) ہے۔ سورج اور عطارد کے درمیانی خطے پر بھی ابھی تحقیقات جاری ہیں۔

نظام شمسی کے غیر مرسوم حصوں میں نئے اجسام کی دریافت کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

نظام شمسی جس کہکشاں میں واقع ہے اس کا نام جادہ شیر (Milky Way) ہے۔ یہ ایک barred spiral کہکشاں ہے۔ اس کا قطر ایک لاکھ نوری سالوں پر محیط ہے اور اس میں 2 کھرب ستارے موجود ہیں۔
ہمارا سورج اس کہکشاں کے بیرونی بازؤں میں سے ایک اورائن بازو یا مقامی spur میں موجود ہے۔
سورج سے ہماری کہکشاں کا مرکز تقریباً 25,000 سے 28,000 نوری سال کی دوری پر ہے اور یہ کہکشاں کے مرکز کے گرد تقریباً 220 کلومیٹر فی سیکنڈ کے رفتار سے گردش کر رہا ہے۔ اس رفتار سے اسے ایک چکر پورا کرنے میں اندازہً 22.5 سے 25 کروڑ سال لگتے ہیں۔ اس چکر کو نظام شمسی کا کہکشانی سال (galactic year) بھی کہتے ہیں۔

ماہرین کے خیال میں سورج کے اس محل وقوع کا زمین پر زندگی کے ارتقا میں بہت اہم کردار ہے۔ سورج کا مدار تقریباً دائروی ہے اور یہ اسی رفتار سے کہکشاں کے مرکز کے گرد گردش کر رہا ہے جس رفتار سے کہکشاں کے بازو گردش کرتے ہیں۔ رفتار کی اس یکسانی کے باعث سورج ان بازؤں میں سے کبھی کبھار ہی گزرتا ہے۔ چونکہ ان بازؤں میں خطرناک سپر نووا کی کافی کثرت پائی جاتی ہے، سورج کا ان میں سے نہ گزرنا زمین کو ان خطرناک اثرات سے نسبتاً محفوظ رکھتا ہے اور زندگی کو ارتقا کا موقع فراہم کرتا ہے۔
سورج ستاروں کی گنجان آبادی والے مرکزی خطے سے بھی کافی فاصلے پر ہے۔ اگر سورج مرکز کے قریب واقع ہوتا تو دوسرے ستاروں کے قریب ہونے کے باعث ان کی کشش ثقل اورت بادل کے اجسام کو مسلسل ان کے مداروں سے ہٹا کر اندرونی نظام شمسی کی جانب بھیجتی رہتی۔ ان میں سے بہت سے اجسام زمین سے ٹکرا کر زندگی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے تھے۔ کہکشاں کے مرکز سے آنے والی برقناطیسی لہریں پیچیدہ جانداروں کے ارتقا میں خلل انداز بھی ہو سکتی تھیں۔




#Article 41: عطارد (3953 words)


عطارد ہمارے نظام شمسی کا سب سے اندرونی سیارہ ہے جو سورج کے گرد ایک چکر زمینی اعتبار سے 87.969 دنوں میں پورا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ سورج کے گرد لگنے والے ہر دو چکروں میں عطارد اپنے محور کے گرد تین بار گردش کرتا ہے۔ چونکہ زمین سے عطارد ہمیشہ سورج کے قریب دکھائی دیتا ہے اس لیے عطارد کا مشاہدہ عموماً سورج گرہن کے دوران ہی کیا جاتا ہے۔ شمالی نصف کرے پر عطارد کو دیکھنے کے لیے غروب آفتاب کے فوراً بعد یا طلوعِ آفتاب سے ذرا قبل کا وقت مناسب ہوتا ہے۔

عطارد کے بارے نسبتاً بہت کم معلومات موجود ہیں۔ زمین سے دوربین سے کیے جانے والے مشاہدات سے ہلال کی شکل کا عطارد دکھائی دیتا ہے تاہم زیادہ تفصیل نہیں دکھائی دیتی۔ عطارد کو جانے والے دو خلائی جہازوں میں سے پہلا جہاز میرینر دہم تھا جس نے 1974 سے 1975 کے دوران عطارد کے 45 فیصد حصے کی نقشہ کشی کی تھی۔ دوسرا جہاز میسنجر تھا جو عطارد کے مدار میں 17 مارچ 2011 کو داخل ہوا اور بقیہ حصے کی نقشہ کشی میں مصروف ہو گیا ہے۔

عطارد شکل میں ہمارے چاند سے مشابہہ ہے اور شہابیوں کے گرنے سے پیدا ہونے والے گڑھے یہاں بے شمار ہیں۔ اس کا اپنا کوئی قدرتی چاند نہیں اور نہ ہی کوئی خاص فضاء ہے۔ تاہم چاند کے برعکس اس کے اندر بہت بڑی مقدار میں لوہا پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کا مقناطیسی میدان زمین کے مقناطیسی میدان کا محض ایک فیصد ہے۔اپنے چھوٹے حجم اور لوہے کے اندرونی ڈھانچے کے باعث عطارد بہت کثیف ہے۔ سطح کا درجہ حرارت منفی 183 سے 427 درجے تک رہتا ہے۔ سورج کی دھوپ والے حصے سب سے زیادہ گرم جبکہ قطبین کے نزدیک والے گڑھے سب سے سرد مقام ہیں۔

عطارد کے مشاہدات کے بارے ہمیں پہلی دستاویزات قبل از مسیح زمانے سے ملتی ہیں۔ چوتھی صدی قبل مسیح میں یونانی ماہرینِ فلکیات کا خیال تھا کہ یہ سیارہ دراصل دو مختلف اجرامِ فلکی ہیں۔ایک جرمِ فلکی صرف سورج نکلنے اور دوسرا سورج کےغروب ہونے پر دکھائی دیتا ہے۔ عطارد کا انگریزی نام مرکری ہے جو یونانی تہذیب سے مستعار لیا ہوا ہے۔ 

عطارد ہمارے نظام شمسی کے چار اندرونی سیاروں میں سے ایک ہے جو ارضی سیارے (terrestrial planets) کہلاتے ہیں۔اس کی ساخت پتھریلی ہے جو زمین سے مشابہ ہے۔ ہمارے نظام شمسی کا یہ سب سے چھوٹا سیارہ ہے اور اس کا استوائی رداس 2,439.7 کلومیٹر (1,516.0 میل) ہے۔ اس کا 70 فیصد حصہ دھاتی جبکہ 30 فیصد سلیکیٹ سے بنا ہے۔ عطارد کی کثافت 5.427 گرام فی مکعب میٹر ہے جو زمین کی کثافت (5.515 گرام فی معکب میٹر) سے ذرا سی کم اور نظام شمسی میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ہے۔ اگر عطارد اور زمین دونوں سے ثقلی دباؤ (gravitational compression) کے اثر کو ختم کر دیا جائے تو عطارد کا مادہ زمین کے مادے سے زیادہ کثیف ہوگا. عطارد کی کثافت کی مدد سے ہم اس کے اندرونی ساخت کے بارے جان سکتے ہیں۔ زمین کی کثافت کی سب سے بڑی وجہ اس کی کششِ ثقل کے دباؤ سے اس کا سکڑنا ہے۔ اسی وجہ سے زمین کا انتہائی کثیف مرکزہ (Core) وجود میں آیا ہے۔ زمین کی نسبت عطارد کا حجم انتہائی مختصر ہے اور اس کے اندرونی اجزاء اتنے سکڑے ہوئے نہیں ہیں۔ اس وجہ سے اس کے کثیف ہونے کا سبب اس کا بڑا مرکزہ اور اس میں لوہے کی کثرت ہے۔ ماہرین ارضیات کے مطابق عطارد کا مرکزہ  اس کے کل حجم کا 55 فیصد گھیرتا ہے۔ جبکہ زمین میں یہ شرح 17 فیصد ہے۔ 2007 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق عطارد کا مرکزہ مائع حالت میں ہے۔ مرکزے کے گرد 500 سے 700 کلومیٹر چوڑی تہہ ہے جسے غلاف (mantle) کہتے ہیں۔ یہ تہہ سیلیکٹس سے بنی ہے۔ میرنیر دہم سے حاصل ہونے والی معلومات اور زمین سے کیے گئے مشاہدات کی بناء پر یہ مانا جاتا ہے کہ عطارد کا قشر (crust) کلومیٹر تک چوڑا ہے۔ عطارد کی سطح کی ایک امتیازی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس پر کئی تنگ ناہموار سطحیں ہیں جو کہ کئی سو کلو میٹر تک پھیلی ہوئی ہیں. خیال کیا جاتا ہے کہ جب عطارد کا مرکزہ اور غلاف سرد ہونے شروع ہوئے تو بیرونی سطح پہلے سے ٹھنڈی ہو کر ٹھوس ہو چکی تھی اور اس کے سکڑنے کی وجہ سے اس طرح کی سطح وجود میں آئی۔ عطارد کے مرکزے میں ہمارے نظام شمسی کے دیگر اہم سیاروں کی نسبت بہت زیادہ لوہا پایا جاتا ہے۔ اس ضمن میں کئی نظریات بھی پیش کیے گئے ہیں۔ سب سے عام مانا جانے والے نظریئے کے مطابق عطارد میں دھات اور سیلیکٹ کی شرح ویسی ہے جیسی کونڈرائیٹ شہابیوں کی ہوتی ہے۔ اس نظریے کے مطابق ایک بہت بڑا شہابیہ عطارد سے ٹکرایا جس سے اس کے قشر اور غلاف کا بہت بڑا حصہ دھول بن کر اڑ گیا اور مرکزہ اس کی جسامت کے حساب سے بہت بڑا باقی رہ گیا ہے۔ زمین کے چاند سے متعلق بھی اسی طرح کا نظریہ پایا جاتا ہے۔ ایک اور نظریے کے مطابق عطارد کا جنم شمشی سحابیہ (solar nebula) سے ہوا تھا جب سورج کی توانائی کے اخراج کی شرح مستحکم نہیں ہوئی تھی۔ اس وقت عطارد کی کیمیت آج سے دو گنا زیادہ تھی۔ تاہم جب سورج سکڑنا شروع ہوا تو عطارد کا درجہ حرارت 2٫500 سے 3٫500 کیلون (سینٹی گریڈ میں کیلون منفی 273 ڈگری) تھا۔ عین ممکن ہے کہ یہ درجہ حرارت 10٫000 ڈگری کیلون رہا ہو۔ اس انتہائی بلند درجہ حرارت سے عطارد کی چٹانی سطح پگھل کر بخارات بن گئیں ان بخارات نے چٹانی کرہ ہوا بنایا جنہیں شمسی ہوا (solar wind) اڑا لے گی۔ تیسرے نظریے کے مطابق شمسی سحابیے (solar nebula) سے پیدا ہونے والی کشش کی وجہ سے عطارد کی سطح پر موجود ہلکے ذرات عطارد سے نکل گئے۔ اس طرح ہر نظریہ عطارد کے بارے نیا خیال پیش کرتا ہے۔ اگلے دو خلائی مشن میسنجر اور بیپی کولمبو انہیں نظریات کی تصدیق کریں گے.

بحیثیتِ مجموعی عطارد کی سطح ہمارے چاند سے بہت مماثل ہے۔ اس کے علاوہ یہاں مریخ جیسے بہت بڑے میدان اور کھائیاں موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہین کہ ارضیاتی اعتبار سے عطارد کئی ارب سالوں سے ساکن ہے۔ چونکہ عطارد کے بارے ہماری معلومات 1975 میں میرینر خلائی جہاز کے اس کے پاس سے گذرنے اور اس کی سطح کے مشاہدے تک محدود ہے جس کی وجہ سے ارضی سیاروں میں عطارد کے بارے ہماری معلومات سب سے کم ہیں۔ حال ہی میں میسنجر نامی خلائی جہاز اس کے قرب سے گذرا ہے جس سے امید ہے کہ ہماری معلومات کافی بڑھ جائیں گی۔ 

البیڈو کی خصوصیات مختلف جگہوں پر روشنی کے انعکاس کی مختلف مقداروں کو ظاہر کرتی ہیں۔ عطارد پر چاند کی طرح بلند میدان، کٹی پھٹی سطحیں، پہاڑ، میدان اور وادیاں وغیرہ پائی جاتی ہیں۔

عطارد پر گڑھوں کا حجم ایک پیالہ نما گڑھے سے لے کر کئی گڑھوں کے مجموعے تک ہو سکتا ہے جو کئی سو کلومیٹر طویل ہیں۔ یہ گڑھے ہر طرح کی حالت میں ملتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو بالکل تازہ ہیں جبکہ کچھ گڑھے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر تقریباً گم ہو چکے ہیں۔ عطارد کے گڑھے چاند کے گڑھوں سے اس وجہ سے فرق ہیں کہ عطارد کی کشش ثقل کی وجہ سے یہاں ان گڑھوں سے کم مواد نکلتا ہے۔ 

کلوریس بیسن عطارد پر موجود سب سے بڑا گڑھا ہے جو 1٫550 کلومیٹر قطر پر مشتمل ہے۔ اس گڑھے کے بننے کا عمل اتنا زبردست تھا کہ نہ صرف لاوا نکلا بلکہ بیرونی کنارہ دو کلومیٹر اونچا ہو گیا۔ 

مجموعی طور پر عطارد کی تصاویر سے ہمیں 15 ایسے گڑھے دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم گڑھا 400 کلومیٹر چوڑا ہے اور اس سے نکلنے والا لاوا 500 کلومیٹر دور تک پھیلا ہوا ہے۔ 

عطارد پر ہمیں دو مختلف اقسام کے میدانی علاقے ملتے ہیں۔ 

عطارد پر پائی جانے والی ایک اور اہم خاصیت یہ ہے کہ یہاں میدانوں میں دباؤ سے بننے والی لہریں نما سطحیں موجود ہیں۔ جوں جوں عطارد کا مرکزہ سرد ہونے لگا تو بیرونی سطح کی شکل بگڑنے لگی جس سے یہ لہریں نما سطحیں بنیں۔ یہ سطحیں میدانوں اور گڑھوں کی سطح پر بھی موجود ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لہریں بہت بعد میں بنی تھیں۔ 

عطارد کی سطح کا اوسط درجہ حرارت 442,5 ڈگری کیلون ہے۔ تاہم یہ درجہ حرارت دراصل 100 ڈگری کیلون سے 700 ڈگری کیلون تک ہو سکتا ہے کیونکہ عطارد کی اپنی کوئی فضاء نہیں اور قطبین اور خط استوا پر درجہ حرارت میں بہت فرق ہے۔ روشن سطح پر درجہ حرارت 550 سے 700 کیلون تک اور تاریک سطح پر درجہ حرارت تقریباً 110 ڈگری کیلون رہتا ہے۔

اگرچہ عطارد پر دن کے وقت درجہ حرارت انتہائی بلند ہوتا ہے تاہم اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ عطارد کی سطح پر برف پائی جاتی ہے۔ گہرے گڑھوں کی تہہ جہاں تک سورج کی روشنی براہ راست نہیں پہنچ سکتی، میں درجہ حرارت 102 کیلون سے نیچے رہتا ہے۔ آبی برف ریڈار پر چمکتی ہے۔ 70 میٹر والی گولڈ سٹون دوربین کی مدد سے اور وی ایل اے کی مدد سے عطارد کے قطبین کے قریب بہت ہی چمکدار سطحیں دکھائی دی تھیں۔ اگرچہ ان چمکدار سطحوں کا واحد سبب برف ہی نہیں ہے تاہم برف کے امکانات زیادہ ہیں۔ 

ان برفانی مقامات پر برف کی مقدار کا اندازہ 1014 تا1015 کلوگرام لگایا گیا ہے۔ زمین پر موجود قطب جنوبی کی برفانی تہہ کا وزن 4X1018 کلو لگایا گیا ہے۔ مریخ کے جنوبی قطب پر پانی کی مقدار کا اندازہ 1018 کلو لگایا گیا ہے۔ عطارد پر موجود برف کے ماخذ کے بارے یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم دو وجوہات ممکن ہیں۔ پہلی وجہ یہ کہ عطارد کی سطح سے پانی کا اخراج اور دوسری وجہ شہابی ٹکراؤ سے حاصل ہونے والی برف ہے۔

عطارد کا حجم بہت مختصر اور گرم ہے اور اس کی کشش ثقل اتنی نہیں کہ لمبے عرصے تک فضاء کو قابو میں رکھ سکے تاہم اس کی فضاء میں ہائیڈروجن، ہیلیم، آکسیجن، سوڈیم، کیلشیم، پوٹاشیم اور دیگر عناصر پائے جاتے ہیں۔ تاہم یہ فضاء مستحکم نہیں اور ایٹم مسلسل خلاء میں گم ہوتے رہتے ہیں۔ ان کی جگہ مختلف ماخذوں سے مزید ایٹم آتے رہتے ہیں۔ ہائیڈروجن اور ہیلیم کے ایٹم شمسی ہواؤں سے آتے ہیں اور عطارد کی فضاء کا حصہ بننے کے بعد پھر سے بخارات بن کر اڑ جاتے ہیں۔ عطارد کی بیرونی سطح میں ہونے والی تابکاری کی وجہ سے بھی ہیلئم کے علاوہ پوٹاشیم اور سوڈیم کے ایٹم بھی آتے ہیں۔ میسنجر خلائی جہاز کو عطارد پر بہت بڑی مقدار میں کیلشیم، ہیلیم، ہائیڈرو آکسائیڈ، میگنشیم، آکسیجن، پوٹاشیم، سیلیکان اور سوڈیم کے ثبوت ملے تھے۔ آبی بخارات بھی مختلف ذرائع سے آتے رہتے ہیں جیسا کہ شہابیوں کا ٹکراؤ، شمسی ہواؤں سے آنے والی ہائیڈروجن اور عطارد کی آکسیجن کے ملاپ سے بننے والے آبی بخارات، قطبین پر موجود جمی ہوئی برفیں وغیرہ اہم ہیں۔ 

سوڈیم، پوٹاشیم اور کیلشیم 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں دریافت ہو گئے تھے اور خیال کیا جاتا ہے کہ چھوٹے شہابیوں کے ٹکراؤ سے یہ پیدا ہوئے ہوں گے۔ 2008 میں اسی عمل سے عطارد پر آنے والی میگنیشیم بھی دریافت ہوئی ہے۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ سوڈیم بھی مقناطیسی قطبین پر موجود تھی۔ 

اپنے چھوٹے حجم اور سست 59 دن کے چکر کے باوجود عطارد پر تقریباً یکساں اور کافی طاقتور مقناطیسی میدان موجود ہے۔ میرنیر دہم کی پیمائشوں سے پتہ چلتا ہے کہ عطارد کا مقناطیسی میدان زمین کے مقناطیسی میدان کی نسبت محض ایک اعشاریہ ایک فیصد ہے۔ عطارد پر مقناطیسی میدان دو قطبی ہے۔ تاہم عطارد کے مقناطیسی قطبین اس کے محوری سروں پر واقع ہیں۔ میرنیر دہم اور میسنجر خلائی جہازوں کے مشاہدات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عطارد کی مقناطیسی طاقت اور مقناطیسی میدان مستحکم ہیں۔

عطارد کا مقناطیسی میدان اتنا طاقتور ہے کہ شمسی ہواؤں کو آنے سے روکتا ہے۔ اس طرح اس میدان نے عطارد کے گرد مقناطیسی کرہ بنایا ہوا ہے۔ یہ مقناطیسی کرہ اگرچہ اتنا چھوٹا ہے کہ زمین کے اندر سما سکتا ہے تاہم شمسی ہوا کے پلازمے کو جکڑ لیتا ہے۔ اس طرح عطارد کی سطح پر سپیس ویدرنگ ہوتی رہتی ہے۔

دیگر تمام سیاروں کے برعکس عطارد کا مدار منفرد ہے اور اسی وجہ سے سورج سے اس کا درمیانی فاصلہ چار کروڑ ساٹھ لاکھ سے لے کر سات کروڑ کلومیٹر تک رہتا ہے۔ اسے اپنے مدار میں ایک چکر پورا کرنے پر اٹھاسی دن لگتے ہیں۔ سورج سے گھٹتے بڑھتے فاصلے کی وجہ سے عطارد کا ایک دن اس کے دو سالوں کے برابر ہوتا ہے۔ زمینی اعتبار سے 176 دن لگتے ہیں۔ 

زمین کی نسبت عطارد کا مدار سات ڈگری جھکا ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے عطارد اوسطاً ہر سات سال بعد زمین اور سورج کے درمیان سے گزرتا ہے۔

عطارد کا محوری جھکاؤ تقریباً صفر ہے جس کی وجہ سے قطبین پر کھڑے ہوئے بندے کو سورج ہمیشہ افق کے پاس گردش کرتا دکھائی دے گا۔ 

بعض مقامات سے تو ایک ہی دن میں سورج طلوع ہو کر پھر واپس اسی جگہ غروب ہوتا اور طلوع ہوتا دکھائی دے سکتا ہے۔

بہت عرصے تک یہی سمجھا جاتا تھا کہ عطارد سورج کے ساتھ اس طرح جڑا ہوا ہے کہ جیسے زمینی چاند ہمیشہ زمین کی طرف ایک رخ کیے رہتا ہے، ویسے ہی عطارد کی ایک سمت سورج کی سمت رہتی ہے۔ تاہم 1965 میں ریڈار کے مشاہدے سے پتہ چلا ہے کہ یہ تین نسبت دو ہے۔ یعنی سورج کے گرد لگنے والے ہر دو چکر میں عطارد تین بار گھومتا ہے۔ یعنی عطارد کے دو سال عطارد کے تین دنوں کے برابر ہوتے ہیں۔ ماہرین فلکیات کی اس غلط فہمی کی وجہ یہ تھی کہ جب بھی عطارد کے مشاہدے کا بہترین وقت آتا، عطارد ہمیشہ ایک ہی جگہ اور ایک ہی رخ پر دکھائی دیتا تھا۔

کمپیوٹر پر تیار کیے گئے ماڈل سے پتہ چلتا ہے کہ دیگر سیاروں کی کشش کے باعث عطارد اپنے مدار پر تقریباً صفر (گول) سے 0.45 فیصد (بیضوی) میں کروڑوں سالوں میں گھومتا ہے۔ یہ اندازہ بھی لگایا گیا ہے کہ اگلے پانچ ارب سال کے دوران ایک فیصد امکان ہے کہ عطارد زہرہ سے ٹکرا جائے۔

عطارد پر طول بلد مغرب کی سمت بڑھتے ہیں۔ ہُن کل نامی شہابی گڑھے کو حوالے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا مرکزی مقام 20 ڈگری مغرب طول بلد پر ہے۔

عطارد کی ظاہری روشنی منفی 2.6 (سب سے روشن سیارے سیریئس سے بھی زیادہ روشن) سے لے کر +5.7 تک ہو سکتی ہے۔ اتنا زیادہ فرق سورج کے گرد گردش کے دوران اس کے مقام پر ہوتا ہے۔ عطارد کا مشاہدہ سورج کی وجہ سے ہمیشہ مشکل ہوتا ہے کہ زیادہ تر وقت سورج کی دمک سے یہ دکھائی نہیں دیتا۔ سو اس کے مشاہدے کا مختصر وقت طلوعِ آفتاب سے ذرا قبل یا غروب آفتاب کے تھوڑا بعد ہوتا ہے۔ خلائی دور بین ہبل اس کا مشاہدہ نہیں کر سکتی کیونکہ حفاظتی نکتہ نظر سے اس کا رخ سورج سے زیادہ قریب نہیں کیا جا سکتا۔ 

چاند کی مانند عطارد بھی ہلال سے بدرِ کامل اور پھر ہلال کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ 

عطارد کی زمین سے قریب ترین آمد 7 کروڑ 73 لاکھ کلومیٹر تک دیکھی گئی ہے۔

عطارد کو شمالی نصف کرے کی بجائے جنوبی نصف کرے سے زیادہ آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ سورج گرہن کے وقت بھی عطارد کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

عطارد کے مشاہدے کی قدیم ترین معلومات ہمیں عہدِ بابل سے ملنے والی تختیوں سے ملتی ہے۔ یہ مشاہدے 14ویں صدی قبل مسیح میں عاشوری فلکیات دان نے کیے تھے۔ بابلی اسے نابو کہتے تھے۔

قدیم یونانی بھی اس سے واقف تھے اور اسے پہلے سٹلبون اور بعد ازاں صبح دکھائی دینے پر اپالو اور رات کو دکھائی دینے پر ہرمیس کہتے تھے۔ رومیوں نے اسے قاصد دیوتا کے نام پر مرکری کہا جو یونانی ہرمیس کے برابر تھا کہ آسمان پر اس کی حرکت کسی بھی دوسرے سیارے سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔ مصری-رومی فلکیات دان بطلیموس نے سورج کے سامنے عطارد کے گزرنے کے بارے پہلی بار لکھا اور بتایا کہ ایسا مشاہدہ نہ ہو سکنے کی وجہ یا تو اس سیارے کا بہت چھوٹا ہونا ہے یا پھر کبھی کبھار سورج کے قریب سے ہی گزرنا تھا۔

قدیم چین میں عطارد کو چِن ژنگ یعنی گھنٹہ ستارہ کہا جا جاتا تھا اور اسے شمال کی سمت سے منسوب کیا گیا۔ تاہم جدید چینی، کورین، جاپانی اور ویت نامی ثقافتوں میں اسے آبی ستارہ کہا جاتا ہے۔ ہندو دیومالا میں اسے بدھا کہا گیا اور بدھ کے روز کا حکمران مانا جاتا ہے۔ جرمن مظاہر پرستوں میں عطارد اور بدھ کو اوڈن دیوتا سے جوڑا جاتا ہے۔ مایا لوگ عطارد کو اُلو سے ظاہر کرتے تھے (کبھی چار الو بھی استعمال ہوتے تھے جن میں سے دو صبح اور دو شام کو دکھائی دینے والے عطارد سے منسوب کرتے تھے) جو زیرِ زمین دنیا کا پیغام رساں کیا جاتا تھا۔

قدیم ہندوستانی فلکیات میں پانچویں صدی کے متن میں سریا سندھانتا نے عطارد کا قطر 3٫008 میل بتایا جو موجودہ پیمائش 3٫032 میل سے ایک فیصد سے بھی کم فرق ہے۔

قرونِ وسطیٰ کے اندلسی مسلمان ماہرِ فلکیات ابو اسحاق ابراہیم الذرقالی نے گیارہوین صدی میں عطارد کے مدار کو بیضوی بیان کیا جیسے انڈہ ہوتا ہے تاہم اس سے متعلقہ پیمائشیں اس سے متاثر نہیں ہوئیں۔ بارہویں صدی میں ابن باجا نے سورج پر بننے والے دو دھبوں کو سورج کے سامنے سے گزرنے والے دو سیارے قرار دیا۔ تیرہویں صدی میں مراغہ کے ماہرِ فلکیات قطب الدین شیرازی نے امکان ظاہر کیا کہ یہ شاید عطارد اور یا زہرہ کی وجہ سے دھبے بنے ہوں گے (یاد رہے کہ اب ایسے قدیم مشاہدات کو شمسی دھبے قرار دیے جاتے ہیں)۔ 

بھارت میں پندرہویں صدی کے کیرالا سکول کے ماہرِ فلکیات نیلا کنٹھا سومیاجی نے ایک سیاراتی نمونہ پیش کیا جس کے مطابق عطارد سورج کے گرد اور پھر سورج زمین کے گرد گھومتا ہے۔ اسی سے ملتا جلتا نظام سولہویں صدی میں ٹائکو براہی نے بھی پیش کیا۔

دوربین سے پہلی بار عطارد کا مشاہدہ سولہویں صدی میں گلیلیو نے کیا۔ اگرچہ اس نے زہرہ کے مختلف مراحل کو تو دیکھا مگر عطارد کے ایسے مشاہدے کے لیے اس کی دوربین مناسب نہیں تھی۔ 1631 میں پیئر گسنڈی نے دوربین سے عطارد کو سورج کے سامنے سے گزرتے دیکھا۔ اس کی پیش گوئی جوہانس کپلر کر چکا تھا۔ 1639 میں جیوانی زوپی نے دوربین کی مدد سے زہرہ اور چاند کی مانند عطارد کو بھی گھٹتے بڑھتے دیکھا۔ اس مشاہدے سے ثابت ہوا کہ عطارد سورج کے گرد گھومتا ہے۔

فلکیات میں ایک نایاب واقعہ اختفا کہلاتا ہے جس میں زمین سے مشاہدے کے وقت ایک جرمِ فلکی دوسرے کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔ عطارد اور زہرہ ہر چند صدی بعد ایک دوسرے کے سامنے سے گزرتے ہیں اور اس کا واحد مشاہدہ ابھی تک 28 مئی 1737 کو گرین وچ کی شاہی رصدگاہ میں جان بیوس نے کیا۔ اگلی مرتبہ زہرہ عطارد کے سامنے 3 دسمبر 2133 کو ہوگا۔ 

کم مشاہدات کی وجہ سے دیگر سیاروں کی نسبت عطارد کا مطالعہ بہت کم کیا گیا ہے۔

اطالوی فلکیات دان جیوسپو کولومبو نے دیکھا کہ محور اور مدار پر گردش کا تناسب دو اور تین کا ہے۔ میرینر دہم نے بعد میں اس کی تصدیق کی۔ 

ارضی بصری مشاہدوں سے عطارد کے بارے کچھ زیادہ معلومات نہیں ملتیں مگر ریڈیو فلکیات دان خورد موجی طولِ موج کو استعمال کرتے ہوئے عطارد کی سطح سے کئی میٹر نیچے تک کی کیمیائی اور طبعی خصوصیات کا جائزہ لے سکتے ہیں اور یہ سورج سے آنے والی ریڈی ایشن سے متاثر نہیں ہوتیں۔ تاہم پہلے خلائی جہاز کی آمد سے قبل یہاں کی طبعی خصوصیات کے بارے ہمیں زیادہ علم نہیں ہو پایا۔ حالیہ تکنیکی جدتوں کے باعث ارضی مشاہدے بہت بہتر ہوئے ہیں۔ لکی امیجنگ تکنیک کی مدد سے 2000 میں کیے گئے مشاہدات سے عطارد کی ایسی خصوصیات کا پتہ چلا ہے جو میرینر مشن سے بھی نہ پتہ چل پائی تھیں۔ 

زمین سے عطارد کو خلائی جہاز بھیجنا جانا تکنیکی اعتبار سے کافی مشکل ہے کیونکہ خلائی جہاز کو سورج کی انتہائی زیادہ کشش پر قابو پانا پڑتا ہے۔ عطارد کو جانے والے خلائی جہاز کو 9 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے دوران سورج کی کشش پر بھی قابو پانا پڑتا ہے۔ عطارد کی محوری گردش کی رفتار 48 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے جو زمین کی 30 کلومیٹر فی سیکنڈ سے زیادہ ہے۔ اس لیے جہاز کو اپنی رفتار میں کافی بڑی تبدیلی لانی پڑتی ہے جو کسی بھی دوسرے سیارے کو جانے والے جہاز سے زیادہ ہوتی ہے۔ 

سورج کی کشش کی وجہ سے خلائی جہاز کی رفتار اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اسے عطارد کے گرد مدار میں داخلے یا عطارد پر اترنے کے لیے کافی زیادہ ایندھن جلانا پڑتا ہے تاکہ اترنے کی رفتار مناسب حد تک کم ہو جائے۔ چونکہ عطارد کی فضا نہ ہونے کے برابر ہے، سو پیراشوٹ وغیرہ کا استعمال ممکن نہیں۔ اس لیے عطارد پر جانے کے لیے درکار ایندھن کی مقدار پورے نظامِ شمسی سے باہر نکلنے کے لیے درکار ایندھن سے زیادہ ہے۔ 

عطارد کا چکر لگانے والا پہلا خلائی جہاز ناسا کا میرینر دہم تھا جو 1974-75 میں بھیجا گیا۔ اس جہاز نے زہرہ کی کششِ ثقل کو استعمال کرتے ہوئے اپنی رفتار کو عطارد کے ساتھ جوڑا۔ اس طرح یہ جہاز پہلی بار ثقلی مدد استعمال کرنے والا اور ایک سے زیادہ سیاروں کو جانے والا جہاز قرار پایا۔ میرینر دہم نے پہلی بار عطارد کی سطح کی نزدیک سے تصاویر لے کر بھیجیں جس سے پتہ چلا کہ اس میں بہت زیادہ شہابی گڑھے اور جھریاں سی پائی جاتی ہیں جو شاید لوہے کے مرکزے کے ٹھنڈا ہونے اور سکڑنے سے بنی ہوں گی۔ بدقسمتی سے میرینر دہم کی گردش کچھ اس نوعیت کی تھی کہ ہر مرتبہ ایک ہی پہلو روشن دکھائی دیا جس کی وجہ سے محض 45 فیصد حصے کی نقشہ بندی ممکن ہو پائی تھی۔ 

خلائی جہاز تین مرتبہ عطارد کے قریب سے گزرا اور ایک مرتبہ اس کا فاصلہ عطارد کی سطح سے 327 کلومیٹر تھا۔ پہلے چکر پر آلات نے مقناطیسی میدان محسوس کیا۔ دوسرے چکر پر زیادہ توجہ تصاویر پر ہی رکھی گئی اور تیسرے چکر پر زیادہ سے زیادہ مقناطیسی پیمائش کی گئی۔ یہ بھی پتہ چلا کہ عطارد کا مقناطیسی میدان زمین سے مماثل ہے اور شمسی ہواؤں کو اطراف میں پھینکتا ہے۔ تاہم اس مقناطیسی میدان کی ابتدا کے بارے کئی متبادل نظریات ملتے ہیں۔

عطارد کی جانب ناسا کا دوسرا مشن میسنجر 3 اگست 2004 کو کیپ کینورل سے بوئنگ ڈیلٹا 2 راکٹ سے بھیجا گیا۔ اس نے اگست 2005 میں زمین، اکتوبر 2006 اور جون 2007 کو زہرہ کے چکر لگاتے ہوئے عطارد کے گرد اپنے مدار کی تصحیح کی۔ اس کا عطارد کے قریب سے پہلا چکر 14 جنوری 2008، دوسرا 6 اکتوبر 2008 کو اور تیسرا 29 ستمبر 2009 کو لگا۔ میرینر دہم سے پوشیدہ بقیہ نصف کرے کی نقشہ کشی میسنجر نے کی۔ 18 مارچ 2001 کو میسنجر خلائی جہاز نے عطارد کے گرد کامیابی سے بیضوی مدار اختیار کر لیا۔ 

اس مشن سے چھ بنیادی باتیں واضح ہونی تھیں: عطارد کی کثافت، اس کی جغرافیائی تاریخ، مقناطیسی میدان کی نوعیت، مرکزے کی بناوٹ، اس کے قطبین پر برف ہے یا نہیں اور اس کی معمولی سی فضا کہاں سے آئی۔ ان سوالات کے جوابات کے لیے میسنجر پر مطلوبہ آلات موجود ہیں۔

یورپی خلائی ایجنسی جاپان کے تعاون سے بپی کولمبو نامی ایک مشترکہ مشن تیار کر ہی ہے جس میں عطارد کے گرد دو خلائی جہاز ہوں گے، ایک کا کام سیارے کا نقشہ تیار کرنا ہوگا اور دوسرا مقناطیسی کرے کا مطالعہ کرے گا۔ روانگی کے بعد اندازہ ہے کہ 2019 تک یہ عطارد تک پہنچ جائے گا۔ اس کے علاوہ یہ عطارد کے مشاہدے کے لیے زیریں سرخ، بالائے بنفشی، ایکس رے اور گیما رے کا استعمال بھی کرے گا۔




#Article 42: زہرہ (4629 words)


زہرہ : سورج سے دوسرا سیارہ ہے اور سورج کے گرد ایک چکر زمینی وقت کے مطابق 224.7 دنوں میں مکمل کرتا ہے۔ اس کا نام قدیم رومن دیوی وینس زہرہ کے نام پر رکھا گیا ہے جو محبت و حسن کی دیوی کہلاتی تھی۔ رات کے وقت آسمان پر ہمارے چاند کے بعد دوسرا روشن ترین خلائی جسم ہے۔ اس کی روشنی سایہ بنا سکتی ہے۔ یہ سیارہ عموماً سورج کے آس پاس ہی دکھائی دیتا ہے۔ سورج غروب ہونے سے ذرا بعد یا سورج طلوع ہونے سے ذرا قبل زہرہ کی روشنی تیز ترین ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اسے صبح یا شام کا ستارہ بھی کہا جاتا ہے۔

زہرہ کو ارضی سیارہ بھی کہا جاتا ہے اور بعض اوقات اسے زمین کا جڑواں سیارہ بھی کہتے ہیں کیونکہ دونوں کا حجم، کششِ ثقل اور جسامت ایک جیسی ہیں۔ زہرہ کی سطح پر سلفیورک ایسڈ کے انتہائی چمکدار بادل موجود ہیں جن کے پار دیکھنا عام حالات میں ممکن نہیں۔ زہرہ کی فضاء تمام ارضی سیاروں میں سب سے زیادہ کثیف ہے جو زیادہ تر کاربن ڈائی آکسائیڈ پر مشتمل ہے۔ زہرہ پر کاربن سائیکل موجود نہیں جو کاربن کو چٹانوں اور دیگر ارضی اجسام میں جکڑ سکے اور نہ ہی اس پر نامیاتی زندگی موجود ہے جو کاربن کو اپنے استعمال میں لا سکے۔ ابتدائی دور میں زہرہ کے بارے خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں زمین کی طرح سمندر موجود تھے تاہم درجہ حرارت بڑھنے سے وہ خشک ہو گئے۔ زہرہ کی سطح زیادہ تر مٹیالی اور صحرائی نوعیت کی ہے اور پتھریلی چٹانیں پائی جاتی ہیں۔ زہرہ پر آتش فشانی عمل بھی جاری رہتا ہے۔ چونکہ زہرہ کا اپنا مقناطیسی میدان نہیں اس لیے ساری ہائیڈروجن خلاء میں نکل گئی ہے۔ زہرہ کا ہوا کا دباؤ زمین کی نسبت 92 گنا زیادہ ہے۔

زہرہ کی سطح کے بارے بہت ساری قیاس آرائیاں کی جاتی تھیں۔ تاہم 1990 تا 1991 جاری رہنے والے میگیلن منصوبے کے تحت کافی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ اس منصوبے کے تحت سارے سیارے کی نقشہ بندی کی گئی ہے۔ سطح پر کثیر آتش فشانی تحاریک کے آثار ملے ہیں۔ ماحول میں گندھک کی بہت بڑی مقدار سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حال ہی میں کوئی بڑا آتش فشاں پھٹا ہے۔ تاہم لاوے کے بہاؤ کے بارے کوئی ثبوت نہیں ملے جو ایک معما ہے۔ زہرہ کی سطح پر کچھ مقامات پر شہاب ثاقب کے گرنے کے آثار بھی موجود ہیں اور اندازہ ہے کہ اس کی سطح تقریباً 30 سے 60 کروڑ سال پرانی ہے۔ سطح کے نیچے پلیٹ ٹیکٹانکس کی کوئی شہادت نہیں ملی۔ شاید پانی کے نہ ہونے سے سطح بہت زیادہ ٹھوس ہو چکی ہے۔ تاہم سطح کے اوپر نیچے ہونے سے زہرہ کی زیادہ تر اندرونی حرارت ختم ہو جائے گی۔

ہمارے نظام شمسی کے چار ارضی سیاروں میں سے زہرہ ایک ہے جس کا مطلب ہے کہ ہماری زمین کی طرح زہرہ بھی پتھریلی نوعیت کا ہے۔ اس کا حجم اور وزن دونوں ہی زمین کے مماثل ہیں۔ اسے زمین کی بہن یا جڑواں سیارہ بھی کہا جاتا ہے۔ زہرہ کا قطر زمین کے قطر سے 650 کلومیٹر کم ہے اور اس کا وزن زمین کے وزن کا 81.5 فیصد ہے۔ تاہم سطح اور فضاء کی ساخت کے اعتبار سے زہرہ اور زمین میں بہت بڑا فرق ہے۔ زہرہ کی فضاء کا 96.5 فیصد حصہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جبکہ بقیہ ساڑھے تین فیصد کا زیادہ تر حصہ نائٹروجن پر مشتمل ہے۔

ارضیاتی مواد کے بغیر یا جمود کو جانے بغیر ہمیں زہرہ کی جیو کیمسٹری یا اندرونی ساخت کا محدود علم ہے۔ تاہم زمین اور زہرہ کے درمیان موجود مماثلت کی وجہ سے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ زہرہ بھی تین مختلف سطحوں یعنی مرکزہ، مینٹل اور کرسٹ پر مشتمل ہیں۔ زہرہ کا مرکزہ کسی حد تک مائع ہے کیونکہ زمین اور زہرہ ایک ہی رفتار سے ٹھنڈے ہوتے رہے ہیں۔ چھوٹی جسامت کی وجہ سے زہرہ کے مرکزہ پر کم دباؤ ہے۔ زہرہ کی سطح کے نیچے پلیٹ ٹیکٹانکس موجود نہیں۔ اس وجہ سے زہرہ سے حرارت کا اخراج کم رفتار سے ہوتا ہے۔

زہرہ کی سطح کا تقریباً 80 فیصد حصہ ہموار آتش فشانی میدانوں سے بنا ہے۔ ان میں سے 70 فیصد پر جھریاں سی موجود ہیں اور 10 فیصد بالکل ہموار ہے۔ باقی حصہ دو براعظموں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے ایک شمالی نصف کرے پر جبکہ دوسرا خط استوا کے ذرا جنوب میں ہے۔ شمالی براعظم کو اشتر ٹیرا کہتے ہیں۔ اس کا رقبہ آسٹریلیا کے برابر ہے۔ میکسویل مونٹس نامی پہاڑ اسی براعظم پر موجود ہے۔ اس کی چوٹی زہرہ کی اوسط بلندی سے 11 کلومیٹر بلند ہے۔ جنوبی براعظم کو ایفروڈائٹ ٹیرا کہتے ہیں۔ اس کا رقبہ براعظم جنوبی امریکہ کے لگ بھگ ہے۔ زیادہ تر جھریاں اور کھائیاں اسی براعظم میں پائی جاتی ہیں۔

شہاب ثاقب کے ٹکراؤ سے بننے والے گڑھوں ، پہاڑؤں اور دریاؤں کی موجودگی ارضی سیاروں پر عام پائی جاتی ہے تاہم زہرہ کی اپنی کچھ منفرد خصوصیات ہیں۔ ان میں مسطح چوٹیوں والے آتش فشاں ہیں جن کا قطر 20 سے 50 کلومیٹر تک ہو سکتا ہے اور ان کی بلندی 100 سے 1000 میٹر تک ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مکڑی کی جالے کی شکل کی کھائیاں وغیرہ بھی پائی جاتی ہیں۔ یہ تمام آثار آتش فشانی عمل کی یادگار ہیں۔

زہرہ کے زیادہ تر طبعی خد و خالوں کے نام دیومالائی زنانہ کرداروں سے لیے گئے ہیں۔ 

زہرہ کی سطح کا زیادہ تر رقبہ بظاہر آتش فشانی عمل سے بنا ہے۔ زہرہ پر زمین کی نسبت کئی گنا زیادہ آتش فشاں پائے جاتے ہیں اور 167 آتش فشاں 100 کلومیٹر سے زیادہ چوڑے ہیں۔زمین پر اس طرح کا واحد آتش فشانی مجموعہ ہوائی کے بگ آئی لینڈ پر واقع ہے۔ تاہم اس کی وجہ آتش فشانی سرگرمیاں نہیں بلکہ زہرہ کی سطح کا زیادہ پرانا ہونا ہے۔ زمین کی سطح تقریباً 10 کروڑ سال بعد بدلتی رہتی ہے جبکہ زہرہ کی سطح کم از کم 30 سے 60 کروڑ سال پرانی ہے۔

مختلف شہادتوں سے زہرہ پر جاری آتش فشانی عمل کے بارے ثبوت ملتے ہیں۔ روسی وینیرا پروگرام کے دوران وینیرا 11 اور 12 خلائی جہازوں نے متواتر ہونے والی بجلی کی چمک دیکھی جبکہ وینیرا 12 نے اترتے ہی بادلوں کی گرج سنی۔ یورپی خلائی ایجنسی کے وینس ایکسپریس نے بالائی فضاء میں بہت بجلی چمکتی دیکھی۔ زمین پر گرج چمک ، طوفان باد و باراں کو ظاہر کرتی ہے، زہرہ پر یہ بارش پانی کی بجائے گندھک کے تیزاب کی شکل میں ہوتی ہے۔ تاہم سطح سے 25 کلومیٹر اوپر ہی یہ تیزاب بخارات بن کر واپس لوٹ جاتا ہے۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ یہ آسمانی بجلی آتش فشانی راکھ سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک اور ثبوت سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مقدار سے بھی متعلق ہے۔ 1978 تا 1986 زہرہ کی فضاء میں اس کی مقدار دس گنا کم ہوئی ہے۔ عین ممکن ہے کہ کسی حالیہ آتش فشانی عمل سے سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مقدار اچانک بڑھ گئی ہو۔

زہرہ کی سطح پر شہاب ثاقب کے ٹکراؤ سے بننے والے ایک ہزار گڑھے موجود ہیں جو سطح پر یکساں پھیلے ہوئے ہیں۔ زمین اور چاند پر موجود اس طرح کے گڑھے وقت کے ساتھ ساتھ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ چاند پر اس ٹوٹ پھوٹ کی ذمہ داری بعد میں گرنے والے دیگر شہاب ثاقب ہوتے ہیں جبکہ زمین پر ہوا اور بارش کی وجہ سے ان گڑھوں کی شکل خراب ہوتی رہتی ہے۔ زہرہ پر موجود گڑھوں کی 85 فیصد تعداد انتہائی اچھی حالت میں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زہرہ کی سطح 30 سے 60 کروڑ سال قبل بدلی تھی جس کے بعد آتش فشانی عمل سست ہو گیا تھا۔ زمین کی سطح مسلسل حرکت میں رہتی ہے لیکن اندازہ ہے کہ زہرہ پر ایسا عمل نہیں ہوتا۔ پلیٹ ٹیکٹانکس کی عدم موجودگی کی وجہ سے زہرہ کا اندرونی درجہ حرارت بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ انتہائی گرم ہو کر اوپری سطح پھٹتی ہے اور تقریباً ساری سطح ہی ایک وقت میں بدل جاتی ہے۔

زہرہ کے گڑھوں کا حجم 3 سے 280 کلومیٹر تک ہو سکتا ہے۔ 3 کلومیٹر سے کم چوڑا گڑھا زہرہ پر نہیں پایا جاتا جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ زہرہ کی فضاء بہت کثیف ہے۔ ایک خاص حد سے کم رفتار والے اجسام کی رفتار اتنی کم ہو جاتی ہے کہ وہ گڑھا نہیں بنا پاتے۔ 50 میٹر سے کم چوڑے شہابیئے زہرہ کی فضاء میں ہی ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔

زہرہ کی فضاء انتہائی کثیف ہے جو زیادہ تر کاربن ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن کی معمولی مقدار سے بنی ہے۔ زہرہ پر ہوا کا دباؤ زمین کی نسبت 92 گنا زیادہ جبکہ فضاء کا وزن 93 گنا زیادہ ہے۔ یہ دباؤ اتنا زیادہ ہے جتنا کہ زمین کے سمندر کے ایک کلومیٹر نیچے ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بھری ہوئی فضاء اور سلفر ڈائی آکسائیڈ سے بنے موٹے بادلوں کی وجہ سے سطح کا درجہ حرارت 460 ڈگری رہتا ہے۔ اگرچہ زحل عطارد کی نسبت سورج سے دو گنا زیادہ دور ہے لیکن اس کا درجہ حرارت عطارد سے زیادہ رہتا ہے۔ زہرہ کی سطح کو عرف عام میں جہنم سے تشبیہ دی جاتی ہے۔

سائنسی مطالعے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کئی ارب سال قبل زہرہ کی فضاء آج کی زمین سے مماثل تھی اور عین ممکن ہے کہ زہرہ کی سطح پر پانی بکثرت پایا جاتا ہو۔ تاہم درجہ حرارت بلند ہونے کے ساتھ ساتھ ہی یہ سارا پانی بخارات بن کر اڑ گیا۔

زہرہ کی اپنے مدار پر انتہائی سست حرکت کے باوجود حرارتی جمود اور زیریں فضاء میں ہوا کی وجہ سے حرارت کی منتقلی کی وجہ سے زہرہ کی سطح کے درجہ حرارت پر دن یا رات کو زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ سطح پر ہوا کی رفتار زیادہ سے زیادہ چند کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے تاہم کثیف فضاء کے دباؤ کی وجہ سے یہاں انسان کا پیدل چلنا بہت مشکل ہے۔ آکسیجن کی کمی اور شدید گرمی اس پر مستزاد ہیں۔

بالائی فضاء میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بھاری مقدار اور سلفر ڈائی آکسائیڈ اور گندھک کے تیزاب سے بنے بادل سورج کی روشنی کا 60 فیصد حصہ واپس دھکیل دیتے ہیں۔ اس طرح خلاء سے زہرہ کی سطح کا براہ راست مشاہدہ کرنا ممکن نہیں۔ اگرچہ زہرہ زمین کی نسبت سورج کے زیادہ قریب ہے لیکن ان گہرے بادلوں کی وجہ سے اتنی روشنی نہیں پہنچتی۔ 300 کلومیٹر کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کی وجہ سے بادلوں کی اوپری چوٹیاں 4 سے 5 زمینی دنوں میں زہرہ کا چکر لگا لیتی ہیں۔ زہرہ پر ہوا کی رفتار اس کی محوری گردش سے 60 گنا زیادہ تیز ہیں جبکہ زمین پر ہوا کی تیز ترین رفتار محوری گردش کا محض 10 سے 20 فیصد ہوتی ہیں۔

زہرہ پر دن اور رات ، قطبین اور خط استوا کے درجہ حرارت تقریباً یکساں رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ زہرہ پر موسم بھی تقریباً یکساں ہی رہتا ہے۔ تاہم بلندی کے ساتھ ساتھ درجہ حرارت بدل سکتا ہے۔ 1995 میں ایک خلائی جہاز میگلن نے سب سے اونچے پہاڑ کی چوٹی پر چمک دیکھی جو زمینی برف کے مماثل تھی۔ یہ برف ممکنہ طور پر زمینی برف کے بننے کے عمل سے پید اہوئی تھی لیکن وہاں کے ماحول کا درجہ حرارت بہت بلند تھا۔ اندازہ ہے یہ برف لیڈ سلفائیڈ یا ٹیلیرئم سے بنی ہے۔

زہرہ کے بادلوں میں زمینی بادلوں کی نسبت زیادہ بجلی پیدا ہوتی ہے۔ اس کا پہلے پہل مشاہدہ روسی خلائی جہاز وینیرا نے کیا تھا۔ تاہم 2006 تا 2007 وینس ایکسپریس نے موسم سے متعلقہ تبدیلیاں دیکھیں۔ بجلی چمکنے کی شرح زمین کی نسبت نصف ہے۔ 2007 میں وینس ایکسپریس نے جنوبی قطب پر مستقل دوہرا قطبی طوفان دیکھا۔

طاقتور مقناطیسی میدان کی عدم موجودگی حیران کن ہے کیونکہ دیگر بہت سارے حوالوں سے زہرہ اور زمین ایک جیسے ہیں۔

زہرہ سورج کے گرد تقریباً 10 کروڑ 80 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر گردش کرتا ہے۔ ایک گردش پوری کرنے پر اسے 224.65 زمینی دن لگتے ہیں۔ اگرچہ تمام تر سیاروں کے مدار بیضوی ہوتے ہیں تاہم زہرہ کا مدار تقریباً گول ہے۔ زہرہ زمین اور سورج کے درمیان زمین کا قریب ترین سیارہ ہے اور اس کا اوسط فاصلہ زمین سے 4 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر ہے۔ مثال کے طور پر پہلے 5383 سال کے دوران زہرہ 526 مرتبہ زمین سے 4 کروڑ کلومیٹر سے کم فاصلے سے گذرا ہے۔ تاہم اگلے 60٫200 سال تک فاصلہ 4 کروڑ کلومیٹر سے کم نہیں ہوگا۔ زہرہ اور زمین کا کم سے کم فاصلہ 3 کروڑ 82 لاکھ کلومیٹر سے کم نہیں ہو سکتا۔

اگر سورج کے شمالی قطب سے دیکھا جائے تو تمام سیارے سورج کے گرد گھڑیال مخالف رخ گھومتے ہیں ۔ اسی طرح ان تمام سیاروں کی اپنے محور کے گرد گردش گھڑیال مخالف سمت ہوتی ہے تاہم زہرہ کی گردش گھڑیال موافق ہے۔

زہرہ 243 زمینی دنوں میں ایک بار گھومتا ہے۔ خط استوا پر اس کی حرکت کی رفتار ساڑھے چھ کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جو ہمارے نظام شمسی کے بڑے سیاروں میں سب سے کم ہے۔ زمین پر یہی رفتار 1٫670 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ زہرہ پر سورج مغرب سے نکلتا اور مشرق میں غروب ہوتا ہے۔ زہرہ کا ایک دن زمینی اعتبار سے 116.75 دنوں کے برابر ہے۔ اس طرح زہرہ کا ایک سال 1.92 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ زہرہ کا مدار اور اس کی گردش کچھ اس طرح کی ہے کہ ہر 584 زمینی دنوں میں زہرہ زمین کے قریب آ جاتا ہے۔ یہ مدت زہرہ کے 5 دنوں کے برابر ہے۔

اس وقت زہرہ کا اپنا کوئی چاند نہیں۔

زہرہ ہمیشہ دیگر ستاروں سے زیادہ روشن دکھائی دیتا ہے۔ سب سے زیادہ روشن یہ تب دکھائی دیتا ہے جب زمین کے قریب ہوتا ہے۔ جب سورج زہرہ کے عقب میں ہو تو اس کی روشنی کچھ ماند پڑ جاتی ہے۔ یہ سیارہ اتنا روشن ہے کہ عین دوپہر کے وقت جب مطلع صاف ہو تو اسے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت زہرہ کا مشاہدہ زیادہ آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ جب زہرہ کی آب و تاب عروج پر ہو تو کئی لوگ اسے غلطی سے اڑن طشتری سمجھ لیتے ہیں۔

اپنے مدار پر گردش کے دوران زہرہ بھی چاند کی طرح گھٹتا بڑھتا دکھائی دیتا ہے جو دوربین کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے۔

زہرہ کا مدار کچھ اس طرح کا ہے کہ یہ بہت کم سورج کے سامنے سے گذرتا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم اس وقت زہرہ کا مدار کچھ اس نوعیت کا ہے کہ ہر 243 سال میں ایک بار سورج کے سامنے سے گذرتا ہے۔ موجودہ حساب کے مطابق زہرہ ہر 105.5 یا 121.5 سال بعد گذرتا ہے۔ حال ہی میں جون 2004 میں زہرہ سورج کے سامنے سے گذرا تھا اور اس کا اگلا چکر جون 2012 میں لگے گا۔ اس سے قبل یہ واقعہ دسمبر 1874 اور دسمبر 1882 میں پیش آیا تھا۔ اگلی بار یہ واقعہ دسمبر 2117 اور دسمبر 2125 میں پیش آئے گا۔ تاریخی اعتبار سے زہرہ کا سورج کے سامنے سے گزرنا بہت اہم سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس سے سائنسدانوں کو فکلیاتی اکائی کی پیمائش کرنے کا موقع ملتا تھا جو نظام شمسی کی پیمائش کے لیے اہم تھا۔ آسٹریلیا کے مشرقی ساحل کی مہم جوئی سے قبل کیپٹن جیمز کک 1768 میں تاہیتی میں زہرہ کے سورج کے سامنے سے گذرنے کا مشاہدہ کیا تھا۔ 

زہرہ کو قدیم تہذیبوں میں صبح اور شام کے ستارے کے نام سے جانا جاتا تھا۔ تاہم ان دنوں صبح کا ستارہ اور شام کا ستارہ دو الگ الگ ستارے مانے جاتے تھے۔ قدیم بابلی تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ اہل بابل صبح اور شام کے ستارے کو ایک ہی ستارہ مانتے تھے اور اسے اپنی کتب میں آسمان کی چمکدار ملکہ کہتے تھے۔ یونانی اسے دو الگ الگ ستارے سمجھتے تھے لیکن فیثا غورث نے چھٹی صدی قبل مسیح میں اسے ایک ستارہ ثابت کیا۔

جب اطالوی طبعیات دان گلیلیو گلیلی نے پہلی بار 17ویں صدی میں زہرہ کا مشاہدہ کیا اور بتایا کہ چاند کی طرح زہرہ بھی گھٹتا بڑھتا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اس طرح گھٹنے بڑھنے سے واضح ہوتا ہے کہ زہرہ سورج کے گرد چکر لگاتا ہے۔ اس طرح پہلی بار کسی نے سائنسی بنیادوں پر بطلیموس کے اس دعوے کو رد کیا کہ نظام شمسی زمین کے گرد گردش کرتا ہے۔

امریکہ کی جانب سے بھی زہرہ کی ابتدائی مہم جوئی کی ناکام ابتداء ہوئی۔ میرینر اول جہاز بھیجا گیا تھا۔ میرینر دوم جہاز البتہ کافی کامیاب رہا اور زہرہ کے مدار میں 109 دن گردش کرنے کے بعد 14 دسمبر 1962 میں یہ زہرہ کی سطح سے 34،833 کلومیٹر دور پہنچا۔ زمین کی طرف سے ہونے والا یہ پہلا کامیاب مشن تھا۔ مائیکرو ویو اور زیریں سرخ ریڈیو میٹروں سے پتہ چلا کہ زہرہ کے بادلوں کی چوٹیاں اگرچہ ٹھنڈی ہیں تاہم اس کی سطح کا درجہ حرارت کم از کم 425 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ اس طرح زہرہ پر زندگی کی تمام تر امیدیں دم توڑ گئیں۔ اگرچہ میرینر دوم نے زہرہ کے مادے اور فلکیاتی اکائی کی کامیاب پیمائش کی لیکن کسی قسم کے مقناطیسی میدان یا تابکار پٹی کا کوئی ثبو ت نہیں ملا۔ 

روسی وینیرا سوم جہاز یکم مارچ 1966 کو زہرہ کی سطح سے ٹکرایا۔ پہلی بار انسان کا بنایا ہوا کوئی مصنوعی جسم کسی دوسرے سیارے کی فضاء میں داخل ہوا اور اس کی سطح سے ٹکرایا۔ تاہم کسی قسم کا مواد واپس بھیجنے سے قبل اس کا مواصلاتی نظام خراب ہو گیا تھا۔ زہرہ پر اگلا سیارہ وینیرا چہارم 18 اکتوبر 1967 کو پہنچا اور مدا رمیں داخل ہونے کے بعد اس نے کامیابی سے ڈھیروں سائنسی تجربات مکمل کئے۔ اس جہاز نے ثابت کیا کہ زہرہ کی سطح کا درجہ حرارت میرینر جہاز کے اندازے کے برخلاف زیادہ گرم تھا اور اس کی فضاء کا 90 سے 95 فیصد حصہ کاربن ڈائی آکسائیڈ پر مشتمل ہے۔ اس جہاز کے بنانے والوں کے اندازے کے برعکس زہرہ کی فضاء زیادہ کثیف تھی یعنی پیراشوٹ کی مدد سے جہاز کے سطح تک پہنچنے پر اندازے سے زیادہ وقت لگا اور اس کی بیٹریاں خالی ہو گئیں۔ اترتے وقت اس جہاز سے 93 منٹ تک مواد موصول ہوتا رہا۔ اس وقت جہاز سطح سے تقریباً 25 کلومیٹر اوپر تھا۔

اگلے ہی دن یعنی 19 اکتوبر 1967 کو میرینر پنجم جہاز زہرہ کے مدار میں داخل ہوا اور بادلوں کی چوٹیوں سے 4000 کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر گردش کرنے لگا۔ یہ جہاز دراصل مریخ پر بھیجے جانے والے میرینر چہارم کے متبادل کے طور پر تیار ہوا تھا۔ تاہم میرینر چہارم کی کامیابی کے بعد اس جہاز میں تبدیلیاں کر کے اسے زہرہ کی طرف روانہ کیا گیا۔ اس پر موجود سائنسی آلات میرینر دوم سے زیادہ جدید تھے اور اس نے زہرہ کی فضاء کی کثافت، دباؤ اور ساخت کے بارے قیمتی معلومات بھیجیں۔ بعد میں ان معلومات کو روسی جہاز سے حاصل شدہ معلومات کے ساتھ ملا دیا گیا اور روس اور امریکہ کے خلائی سائنسدانوں نے ان پر مشترکہ طور پر کام شروع کیا۔

وینیرا چہارم سے حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں وینیرا پنجم اور ششم کو پانچ دنوں کے وقفے سے جنوری 1969 میں زہرہ کو روانہ کیا گیا۔ ایک دن کے وقفے سے یہ جہاز 16 اور 17 مئی کو زہرہ تک پہنچے۔ ان جہازوں کو زیادہ دباؤ برداشت کرنے کے قابل بنایا گیا تھا اور ان پر پیراشوٹ بھی چھوٹے لگائے گئے تھے تاکہ اترنے کا عمل تیز ہو۔ ان جہازوں پر 25 بار جتنا دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت تھی۔ تاہم اس وقت کے اندازے کے مطابق زہرہ کی فضاء کا دباؤ 75 سے 100 بار تک تھا اس لیے ان جہازوں کی سطح تک پہنچنے کی کوئی امید نہیں تھی۔ 50 منٹ جتنا اترنے کے بعد اندازہً سطح سے 20 کلومیٹر اوپر زہرہ کے تاریک حصے پر دونوں جہاز تباہ ہو گئے۔ 

وینیرا ہفتم کو اتنا مضبوط بنایا گیا کہ وہ زہرہ کی فضاء کو برداشت کر سکے۔ اس جہاز میں 180 بار جتنا دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت تھی۔ اس کے علاوہ نیچے اترنے کے عمل سے قبل اس جہاز کو ٹھنڈا کیا گیا اور خصوصی پیراشوٹ لگایا گیا تاکہ یہ خلائی جہاز 35 منٹ میں سطح پر اتر جائے۔ 15 دسمبر 1970 کو اترتے وقت پیراشوٹ پھٹ گیا اور یہ جہاز کافی تیزی سے سطح سے ترچھے ٹکرایا۔ ٹکراؤ کے بعد 23 منٹ تک اس جہاز سے سگنل ملتے رہے۔ یہ سگنل پہلی بار کسی دوسرے سیارے کی سطح سے زمین پر موصول ہوئے۔

وینیرا منصوبے کے تحت وینیرا ہشتم بھیجا گیا جس کے سطح پر اترنے کے 50 منٹ تک معلومات بھیجتا رہا۔ وینیرا ہشتم 22 جولائی 1972 کو زہرہ کی فضاء میں داخل ہوا۔ وینیرا نہم 22 اکتوبر 1975 کو زہرہ کی فضاء میں داخل ہوا ۔ وینیرا دہم اس کے تین دن بعد یعنی 25 اکتوبر کو زہرہ کی سطح پر اترا اور دونوں نے پہلی بار زہرہ کے مناظر کی تصاویر بھیجیں۔ دونوں جہاز مختلف جگہوں پر اترے اور دونوں مقامات پر انتہائی مختلف قسم کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ وینیرا نہم 20 ڈگری ڈھلوان سطح پر اترا جہاں 30 سے 40 سم قطر کے پتھر موجود تھے جبکہ وینیرا دہم بسالٹ نما چٹانی سلیبوں پر اترا۔

اسی دوران امریکہ نے میرینر دہم عطارد کو بھیجا جو زہرہ کی کشش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گزرنا تھا۔ یہ جہاز زہرہ سے 5٫790 کلومیٹر کے فاصلے سے گذرا اور 4٫000 سے زیادہ تصاویر بھی بھیجیں۔ ان تصاویر کے مطابق عام روشنی میں زہرہ کی سطح پر کچھ نہیں دکھائی دیا لیکن بالائے بنفشی روشنی کی مدد سے زہرہ کے بادلوں کی ایسی تفاصیل ملیں جو پہلے کبھی زمینی دوربینوں سے نہیں دکھائی دیئے تھے۔

امریکی پائینیر وینس پراجیکٹ میں دو الگ الگ مشن تھے۔ پائینیر وینس آربٹر کو زہرہ کے مدار میں بیضوی مدار میں 4 دسمبر 1978 کو داخل کیا گیا جو وہاں تیرہ سال تک گردش کرتا رہا اور زہرہ کی فضاء کا ریڈار کی مدد سے مطالعہ اور سطح کی نقشہ کشی کرتا رہا۔ پائینیر وینس ملٹی پروب نے 9 دسمبر 1978 کو چار مختلف سیارچے زہرہ کی فضاء میں داخل کئے جنہوں نے اس کی ساخت، ہوا اور حدت کے بارے معلومات بھیجیں۔

اگلے چار سالوں میں چار مزید وینیرا جہاز بھیجے گئے۔ وینیرا گیارہ اور بارہ کا مقصد زہرہ کے برقی طوفانوں کاجائزہ لینا تھا اور وینیرا تیرہ اور چودہ یکم مارچ اور 5 مارچ 1982 کو کو سطح پر اترے اور پہلی بار ہمیں زہرہ کی رنگین تصاویر ملیں۔ ان چاروں جہازوں کو پیراشوٹ کی مدد سے اتارا گیا لیکن پیراشوٹ 50 کلومیٹر کی بلندی پر پیراشوٹ سے الگ ہو کر یہ جہاز کثیف فضاء سے ہوتے ہوئے آرام سے اتر گئے۔ وینیرا تیرہ اور چودہ کا کام جہاز پر موجود ایکس رے فلوریسینس سپیکٹرومیٹر کی مدد سے مٹی کے نمونوں کا جائزہ لینا تھا۔ وینیرا چودہ کا کیمرا بدقسمتی سے سطح سے ٹکرایا اور باقی سارا جہاز فضاء میں معلق ہو گیا جس سے مٹی کے تجزیے کا کام ٹھپ ہو گیا۔ وینیرا پروگرام 1983 میں وینیرا پندرہ اور سولہ کو زہرہ کے مدار میں چھوڑے جانے کے بعد ختم ہو گیا۔ان جہازوں کا مقصد سنتھیٹک اپرچر ریڈار کی مدد سے زہرہ کے طبعی خد و خال کا جائزہ لینا تھا۔

امریکہ کے میگلن سیارچے کو 4 مئی 1989 میں بھیجا گیا جس کا مقصد زہرہ کی سطح کی نقشہ کشی بذریعہ ریڈار کرنا تھا۔ پہلے ساڑھے چار سالوں کے دوران ملنے والی عمدہ تصاویر پہلے والی تصاویر سے کہیں بہتر تھیں۔اس سیارچے نے 98 فیصد سےز یادہ رقبے کی نقشہ کشی کامیابی سے کی۔ 1994 میں اپنے مشن کے خاتمے پر اس سیارچے کو زہرہ کی فضاء میں تباہ ہونے کے لیے بھیج دیا گیا۔ 

ناسا کے میسنجر مشن جب عطارد کو روانہ ہوئے تو اکتوبر 2006 اور جون 2007 میں زہرہ کے قریب سے گذرے تاکہ زہرہ کی کشش سے اپنی رفتار کم کر سکیں۔ یہ جہاز مارچ 2011 میں عطارد کے مدار پر داخل ہونے تھے۔ میسنجر نے دونوں بار گذرتے ہوئے سائنسی معلومات اکٹھی کیں۔

وینس ایکسپریس نامی خلائی جہاز کو یورپی خلائی ایجنسی نے بنایا تھا اور اسے 9 نومبر 2005 کو روسی راکٹ کی مدد سے بھیجا گیا۔ یہ جہاز کامیابی سے 11 اپریل 2006 کو زہرہ کے مدار میں داخل ہو گیا۔اس جہاز کا مقصد زہرہ کی فضاء، بادل ، طبعی خد و خال، پلازما کا جائزہ اور سطح کے درجہ حرارت وغیرہ کی پیمائش ہے۔ سب سے پہلے ملنے والی معلومات میں جنوبی قطب پر موجود دوہرا بڑا سائیکلون اہم ہے۔

جاپان کی خلائی ایجنسی نے زہرہ کے مدار کے لیے ایک جہاز اکاٹسوکی تیار کیا۔ اسے 20 مئی 2010 میں روانہ کیا گیا تاہم دسمبر 2010 میں یہ جہاز زہرہ کے مدار میں داخل ہونے میں ناکام ہو گیا۔ تاہم اندازہ ہے کہ یہ جہاز اپنے زیادہ تر نظام بند کر کے چھ سال بعد دوبارہ چالو ہو کر مدار میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا۔ اس جہاز کے مقاصد میں زیریں سرخ کیمرے کی مدد سے تصاویر لینا اور آسمانی بجلی کی موجودگی کی تصدیق اور موجودہ آتش فشانی سرگرمیوں کے وجود کا جائزہ لینا ہے۔

یورپی خلائی ایجنسی کو امید ہے کہ وہ 2014 میں بیپی کولمبو نامی مشن عطارد کو بھیجیں گے جو دو بار زہرہ کے قریب سے گذرے گا اور پھر 2020 میں عطارد کے مدار میں داخل ہو جائے گا۔

نیو فرنٹئیر پروگرام کے تحت ناسا زہرہ کو ایک جہاز بھیجے گا جو زہرہ کی سطح پر اتر کر اس کی مٹی کا عنصری اور معدنی اعتبار سے جائزہ لے گا۔ اس جہاز پر زمین میں سوراخ کرنے اور چٹانوں کا جائزہ لینے کے آلات بھی موجود ہوں گے۔وینیرا ڈی سیارچہ روس کے منصوبوں میں شامل ہے جسے 2016 میں روانہ کیا جائے گا جو خود تو زہرہ کے مدار میں رہ کر تحقیق جاری رکھے گا لیکن ایک سیارچہ سطح پر بھی بھیجے گا جو طویل عرصے تک وہاں رہ کر معلومات بھیجتا رہے گا۔ دیگر منصوبے زہرہ پر ہوائی جہاز، غبارے اور گاڑیاں بھیجنے سے متعلق ہیں۔

ناسا سیج نامی مشن کے تحت ایک خلائی جہاز زہرہ کو 2016 میں بھیجے گا۔ 

آسمان پر سب سے روشن جسم ہونے کی وجہ سے زہرہ کو قدیم زمانے سے انسان جانتا ہے اور انسانی ثقافت میں بھی اسے اہمیت حاصل رہی ہے۔ عہد قدیم کی بابلی تہذیب میں اس کا ذکر ملتا ہے جو 16ویں صدی قبل مسیح میں زہرہ کے مشاہدے کے بارے ہے۔

قدیم مصری زہرہ کو صبح اور شام کے ستارے کے نام سے دو الگ الگ ستارے مانتے تھے۔ قدیم یونانی بھی اسے دو الگ الگ اجرام فلکی مانتے تھے۔ تاہم بعد میں اسے ایک سیارہ تسلیم کر لیا گیا۔

ایرانی بالخصوص فارسی اساطیری کہانیوں میں زہرہ کا تذکرہ ملتا ہے۔ پہلوی ادب میں بھی اس کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ فارسی زبان میں زہرہ کو ناہید کہا جاتا ہے۔

مایا تہذیب میں بھی زہرہ کو بہت اہمیت حاصل رہی ہے۔ زہرہ کی حرکات پر ایک مذہبی کیلنڈر بنایا گیا تھا اور مختلف واقعات جیسا کہ جنگ وغیرہ کے بارے زہرہ کی حرکات سے پیشین گوئی کی جاتی تھی۔

قدیم آسٹریلیائی مذاہب میں بھی زہرہ کو اہمیت ملی ہوئی تھی۔

مغربی ستارہ شناسی میں زہرہ کو محبت اور زنانہ پن کی دیوی سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ یہ دیوی جنسی زرخیزی کے لیے مشہور مانی جاتی ہے۔ ہندو ویدک نجومی زہرہ کو شکرا کے نام سے جانتے ہیں جس کا مطلب سنسکرت زبان میں پاک، صاف یا روشن وغیرہ بنتا ہے۔ جدید چینی، کوریائی، جاپانی اور ویتنامی ثقافتوں میں زہرہ دھاتی ستارے کے نام سے منسوب ہے۔

ستارہ شناسی کے اعتبار سے زہرہ کی علامت وہی ہے جو حیاتیاتی طور پر زنانہ جنس کے لیے منسوب ہے یعنی گول دائرہ اور اس کے نیچے چھوٹی سی صلیب۔

چونکہ زہرہ کی سطح پر موسم انتہائی شدید ہے، اس لیے موجودہ ٹیکنالوجی کی مدد سے یہاں انسان کا رہنا ممکن نہیں۔ تاہم سطح سے تقریباً 50 کلومیٹر اوپر کی فضاء زمین کی سطح جیسی ہے۔ اس جگہ ہوا کا دباؤ اور ساخت زمین کی سطح جیسی ہے۔ انہی وجوہات کی بناء پر یہاں ہوا میں معلق آبادیاں بنانے کے بارے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔




#Article 43: زمین (971 words)


اگر آپ کسی اور صفحہ کی تلاش میں ہیں تو دیکھیں زمین (فرش)

زمین نظام شمسی کا وہ واحد سیارہ ہے جہاں پر زندگی موجود ہے۔ پانی زمین کی  سطح کو ڈھکے ہوئے ہے۔ زمین کی بیرونی سطح پہاڑوں، ریت اور مٹی کی بنی ہوئی ہے۔ پہاڑ زمین کی سطح کا توازن برقرار رکھنے کے لیے بہت ضروری ہیں۔ اگر زمین کو خلا سے دیکھا جائے تو ہمیں سفید رنگ کے بڑے بڑے نشان نظر آئیں گے۔ یہ پانی سے بھرے بادل ہیں جو زمین کی فضا میں ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ پچھلے چند سالوں سے ان بادلوں کی تعداد میں کمی آئی ہے جس کا اثر زمین کی فضا کو پڑا ہے۔ زمین کا صرف ایک چاند ہے۔ زمین کا شمالی نصف کرہ زیادہ آباد ہے جبکہ جنوبی نصف کرہ میں سمندروں کی تعداد زیادہ اور خشکی کم ہونے کی وجہ سے کم آبادی ہے، اِس کے علاوہ اور کئی وجوہات ہیں (جیسے پچھلے دور میں اُن علاقوں کا کم جاننا وغیرہ)۔ قطب شمالی اور قطب جنوبی پر چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات رہتی ہے۔ عام دن اور رات کا دورانیہ چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے۔

زمین کی انسانی آبادی سات ارب ساٹھ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اور انسان اس پر ہمہ وقت جنگوں میں مصروف رہتے ہیں۔

نظام شمسی میں پائے جانے والے قدیم ترین مواد کی تاریخ  ہے۔ آغاز میں زمین پگھلی ہوئی حالت میں تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ زمین کی فضا میں پانی جمع ہونا شروع ہو گیا اور اس کی سطح ٹھنڈی ہو کر ایک قرش(crust) کی شکل اختیار کر گئی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ہی چاند کی تشکیل ہوئی۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مریخ کی جسامت کا ایک جسم تھیا (Theia)، جس کی کمیت زمین کا دسواں حصہ تھی،
زمین سے ٹکرایا اور اس تصادم کے نتیجے میں چاند کا وجود عمل میں آیا۔ اس جسم کا کچھ حصہ زمین کے ساتھ مدغم ہو گیا، کچھ حصہ الگ ہو کر خلا میں دور نکل گیا، اور کچھ الگ ہونے والا حصہ زمین کی ثقلی گرفت میں آگیا جس سے چاند کی تشکیل ہوئی۔

پگھلے ہوئے مادے سے گیسی اخراج اور آتش فشانی کے عمل سے زمین پر ابتدائی کرہ ہوا ظہور پذیر ہوا۔ آبی بخارات نے ٹھنڈا ہو کر مائع شکل اختیار کی اور اس طرح سمندروں کی تشکیل ہوئی۔ مزید پانی دمدار سیاروں کے ٹکرانے سے زمین پر پہنچا۔ اونچے درجہ حرارت پر ہونے والے کیمیائی عوامل سے ایک (self replicating) سالمہ (molecule) تقریباً 4 ارب سال قبل وجود میں آیا، اور اس کے تقریباً 50 کروڑ سال کے بعد زمین پر موجود تمام حیات کا جد امجد پیدا ہوا۔

ضیائی تالیف کے ارتقاء کے بعد زمین پر موجود حیات سورج کی توانائی کو براہ راست استعمال کرنے کے قابل ہو گئی۔ ضیائی تالیف سے پیدا ہونے والی آکسیجن فضاء میں جمع ہونا شروع ہو گئی اور کرہ ہوا کے بالائی حصے میں یہی آکسیجن اوزون (ozone) میں تبدیل ہونا شروع ہو گئی۔ چھوٹے خلیوں کے بڑے خلیوں میں ادغام سے پیچیدہ خلیوں کی تشکیل ہوئی جنھیں (eukaryotes) کہا جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ یک خلوی جانداروں کی بستیاں بڑی سے بڑی ہوتی گئیں، ان بستیوں میں خلیوں کا ایک دوسرے پر انحصار بڑھتا چلا گیا اور خلیے مختلف کاموں کے لیے مخصوص ہوتے چلے گئے۔ اس طرح کثیر خلوی جانداروں کا ارتقاء ہوا۔ زمین کی بالائی فضا میں پیدا ہونے والی اوزون (ozone) نے آہستہ آہستہ زمین کے گرد ایک حفاظتی حصار قائم کر لیا اور سورج کی بالائے بنفشی شعاعوں (ultra violet rays) کو زمین تک پہنچنے سے روک کر پوری زمین کو زندگی کے لئیے محفوظ بنا دیا۔ اس کے بعد زندگی زمین پر پوری طرح پھیل گئی۔

انہدام کے باعث ٹکروں میں تقسیم ہو گیا سورج جو مرکز میں واقع تھا سب سے زیادہ گیس اس نے اپنے پاس رکھی ۔ باقی ماندہ گیس سے دوسرے کئی گیس کے گولے بن گئے ۔ گیس اور غبار کا یہ بادل ٹھندا تھا اور اس سے بننے والے گولے بھی ٹھندے تھے ۔ سورج ستارہ بن گیا اور دوسرے گولے سیارے ۔ زمین انہی میں سے ایک گولہ ہے ۔ سورج میں سارے نظام شمسی کا 99٪ فیصد مادہ مجتمع ہے ۔ مادے کی کثرت اور گنجانی کی وجہ سے اس میں حرارت اور روشنی ہے ۔ باقی ماندہ ایک فی صدی سے تمام سیارے جو نظام شمسی کا حصہ ہے بنے ۔
	نظام شمسی کے یہ گولے جوں جوں سکڑتے گئے ان میں حرارت پیدا ہونے لگی ۔ سورج میں زیادہ مادہ ہونے کی وجہ سے اس شدید سمٹاؤ کی وجہ سے اٹمی عمل اور رد عمل شروع ہوا اور اٹمی دھماکے شروع ہوئے ، جس سے شدید ایٹمی دھماکے ہوئے ، جن سے شدید حرارت پیدا ہوئی ۔ زمین میں بھی ان ہی اصولوںکے تحت حرارت پیدا ہوئی ۔ حرارت سے مادہ کا جو حصہ بخارات بن کر اڑا فضا کے بالائی حصوں کی وجہ سے بارش بن کر برسا ۔ ہزاروں سال یہ بارش برستی رہی ۔ ابتدا میں تو بارش کی بوندیں زمین تک پہنچتی بھی نہیں تھیں ۔ بلکہ یہ راستہ میں دوبارہ بخارات بن کر اڑ جاتی تھیں ۔ مگر لاکھوں کروڑں سال کے عمل سے زمین ٹھنڈی ہوگئی ۔ اس کی چٹانیں بھی صاف ہوئیں خشکی بھی بنی اور سمندر وجود میں آئے۔

زمین قطبین پر شلجم کی طرح تقریباً چپٹی گول شکل میں ہے۔ زمین کے گھومنے سے اس میں مرکز گریز اثرات شامل ہوجاتے ہیں۔ جس کے باعث یہ خط استوا کے قریب تھوڑی ابھری ہوئی ہے اور اس کے قطبین یا پولز قدرے چپٹے ہیں۔ ان مرکز گریز اثرات ہی کی وجہ سے زمین کے اندرونی مرکز سے سطح کا فاصلہ خط استوا کے مقابلے میں قطبین پر 33 فیصد کم ہے۔ یعنی مرکز سے جتنا فاصلہ خط استوا کے مقامات پر زمین کی سطح تک ہے مرکز سے قطبین کی سطح کا فاصلہ اس سے لگ بھگ ایک تہائی کم ہے۔




#Article 44: مریخ (1192 words)


مریخ نظام شمسی میں سورج سے فاصلے کے لحاظ سے چوتھا اور عطارد کے بعد دوسرا سب سے چھوٹا سیارہ ہے۔ قدیم رومی مذہب میں مریخ کو جنگ کا خدا کے نام سے پکارا جاتا تھا کیونکہ وہ مریخ کی پرستش کرتے تھے۔ مریخ کی سرخ رنگت کی وجہ سے اسے سرخ سیارہ  بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سرخ رنگ مریخ کی سطح پر آئرن آکسائڈ کی کثرت کی وجہ سے ہے۔ مریخ کی سرخی مائل رنگت اسے کھلی آنکھ سے نظر آنے والے دوسرے سماوی اجسام سے ممتاز کرتی ہے ۔ مریخ ایک زمین مماثل سیارہ ہے جو زمین کی نسبت ہلکا کرہ ہوائی رکھتا ہے۔ اس کے سطح پر زمین کے چاند کی طرح شھاب ثاقب یا کسی دوسرے سماوی جسم کے ٹکرانے سے بننے والے گڑھے موجود ہیں اور اس کی سطح پر زمین کی طرح وادیاں اور صحرا بھی موجود ہیں۔ زمین کی طرح اس کے قطبین پر بھی برف جمی رہتی ہے۔ مریخ کا محوری گردش کا دورانیہ اور موسموں کی گردش زمین جیسی ہے اور زمین کی طرح اس کا محور بھی جھکا ہوا ہے جو موسموں کے تغیر کا باعث بنتا ہے۔ مریخ پر ایک بہت بڑا آتش فشاں پہاڑ ہے جسے کوہ اولیمپس مونس کہتے ہیں یہ پہاڑ نظام شمسی کے سیاروں پر اب تک دریافت ہونے والے پہاڑوں میں سے سب سے بڑا پہاڑ ہے اور اس پر ایک بہت بڑی وادی جسے وادئ میرینرس] کہتے ہیں یہ وادی نظام شمسی کے سیاروں پر اب تک دریافت ہونے والی وادیوں میں سب سے بڑی وادی ہے۔ مریخ کے شمالی کرہ میں ایک ہموار طاس (جغرافیہ) ہے جسے بوریالس طاس کہتے ہیں یہ طاس مریخ کے 40 فی صد رقبے کو گھیرے ہوئے ہے اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کسی سماوی جسم جیسے شھاب ثاقب کے ٹکرانے سے بنا ہے ۔ مریخ کے دو چاند ہیں جنہیں فوبوس اور دیموس کہتے ہیں یہ چاند چھوٹے اور بے ترتیب شکل کے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بھی قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ چھوٹے سیارچے ہو سکتے ہیں جنہیں مریخ کی کشش ثقل نے پکڑ لیا ہو جس کی وجہ سے یہ مریخ کے گرد گھوم رہے ہیں ۔
مریخ پر سیاروی سکونت پذیریت پر تحقیقات ہو رہی ہیں جس میں ماضی میں مریخ پر زندگی کے آثار اور موجودہ دور میں مریخ پر حیات کے ممکنات پر تحقیقات شامل ہے۔ مستقبل میں مریخ پر فلکی حیاتیات کے منصوبوں کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے جن میں مریخ 2020 اور ایکسو مارس رور منصوبہ شامل ہے۔
مریخ کی سطح پر کم کرہ ہوائی دباؤ کی وجہ سے مائع پانی کا وجود نہیں ہے البتہ اس کے دونوں قطبین پر برف جمی ہے۔ اس کے جنوبی قطب پر برف کی اتنی مقدار ہے کہ اگر یہ برف پگھل کر پانی میں تبدیل ہوجائے تو یہ 11 میٹر (36 فٹ) کی گہرائی تک پورے مریخ کی سطح کو گھیر لے گا۔ نومبر 2016 میں ناسا نے مریخ کے اتوپیا پلانیٹیا نامی علاقے میں  بڑی مقدار میں زیر زمین برف دریافت کی اس کے پانی کے حجم کا اندازہ جھیل سپیریئر کے پانی کے برابر لگایا گیا ہے۔
مریخ کو زمین سے عام انسانی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔

مریخ کا قطر زمین کے قطر سے تقریباً آدھا ہے اور اس کا سطحی رقبہ زمیں کے کے خشک حصے کے کل رقبے سے تھوڑا سا کم ہے۔ مریخ زمین کی نسبت کم کثیف ہے اور یہ زمین کے حجم کا 15 فیصد، کیمیت کا 11 فی صد اور سطحی کشش ثقل کا 38 فی صد رکھتا ہے۔ اس کا سرخ نارنجی رنگ آئرن آکسائڈ کی وجہ سے ہے دوسرے عام سطحی رنگ جیسے سنہری بھورے اور سبزی مائل رنگ ان میں موجود معدنیات پر انحصار کر تے ہیں۔

زمین کی طرح مریخ کے اندرونی کثیف دھاتی مرکزہ کے اوپر کم کثیف دھاتی مرکزہ کا خول چڑھا ہوا ہے۔ اس کے اندرونی مرکزہ کا رداس 65 ± 1,794 کلو میٹر  (1,115 ± 40 میل) ہے۔ جو بنیادی طور لوہے اور نکل سے بنا ہے اور اس میں 16 سے 17 فی صد گندھک کی آمیزش ہے۔ مریخ کے اس آئرن سلفائڈ مرکزہ کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ زمین کے مرکزہ میں پائے جانے والے ہلکے عناصر کی نسبت دوگنے بھاری ہیں۔ مریخ کا مرکزہ کے گرد سلیکیٹ کا غلاف ہے جو سیارہ پر مختلف آتش فشانی اور ٹیکٹونک عمل سے بنا ہے لیکن یہ بے حس وحرکت نظر آتا ہے۔ سلیکون اور آکسیجن کے علاوہ مریخ کا قشر میں لوہا، میگنیشیم، الومینیم، کیلشیم اور پوٹاشیم، کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے۔ مریخ کے قشر کی اوسط موٹائی 50 کلومیٹر (32 میل) ہے جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ موٹائی 125 کلومیٹر (78 میل) ہے جبکہ قشر الارض کی موٹائی 40 کلومیٹر (25 میل) ہے۔

مریخ کا سورج سے اوسط فاصلہ 230 ملین کلومیٹر (143,000,000 میل)  ہے اور اس کی سورج کے گرد مداری گردش کا دورانیہ 687 (زمینی) دنوں کے برابر ہے۔ مریخ کا شمسی دن (سول) زمین کے شمسی دن  سے تھوڑا زیادہ ہوتا ہے یعنی مریخ کا ایک شمسی دن (سول) 24 گھنٹے 39 منٹ اور 35.244 سیکنڈ کا ہوتا ہے جبکہ زمین کا ایک شمشی دن 23 گھنٹے 56 منٹ اور 4.0916 سیکنڈ کا ہوتا ہے۔ مریخ کا ایک شمشی سال زمین کے 1.8809 سال کے برابر ہے یعنی مریخ کا ایک سال زمین کے 1 سال 320 دن اور 18.2 گھنٹوں کے برابر ہے۔
مریخ کا اس کے مستوی مدار سے محوری جھکاؤ 25.19 ڈگری ہے۔ جو زمین کے محوری جھکاؤ جیسا ہے جس کی وجہ سے مریخ پر موسم زمین جیسے ہیں لیکن موسم زمین کی نسبت تقریباً دوگنے ہیں کیونکہ ااس کک مداری دورانیہ طویل ہے۔ موجودہ دور میں مریخ کے شمالی قطب کا رخ ستاروں کے جھرمٹ ہنس (دجاجہ) کے ستارے دنب کی طرف ہے۔

مریخ پرانے زمانوں سے سرخ سیارے کے نام سے مشہور ہے۔ کیونکہ اس کی سطح سرخی مائل ہے۔ آج کل امریکہ اور یورپ کے بیشتر ممالک، مریخ کی سطح پر اُتر کر اس کی تحقیق کرنے والے خلائی جہاز بھیج رہیں ہے۔ امسال 2004 میں امریکہ کے دو خلائی جہاز مریخ کی سطح پر اترے ج جبکہ ہندوستان کا ایک خلائی جہاز مریخ کے مدار میں داخل ہوا۔ جنہوں نے وہاں کی تاذہ ترین تصاویر اور اس کی مٹی کی مشاہدات زمین کو بھیجیں۔ اس تحقیق کا مقصد مریخ میں پانی اور زندگی کے آثار ڈھونڈنا ہے۔ کیونکہ اکثر سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مریخ پر کسی زمانے میں زندگی موجود تھی۔ اس تحقیق اب تک یہی نتائج نکلے ہیں مریخ پر کسی زمانے میں پانی تو موجود تھا مگر اس میں زندگی نہ پیدا ہو سکی تھی۔ یورپ کے ممالک نے بھی اپنے تحقیقی خلائی جہاز مریخ پر بھیجے مگر وہ اس کی سطح پر اترنے سے پہلے ہی تباہ ہو گئے۔ امریکا میں اب اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ آیا مریخ میں کسی انسان کو بھیجا جائے یا نہیں؟!

مریخ  کے 2 چاند ہیں جو باقی چاندوں کی طرح گول نہیں بلکہ بڑے بڑے پتھر ہیں جنہیں (Asteroids) کہا جاتا ہے۔ یہ بڑے پتھر کسی زمانے میں مریخ اور مشتری کے درمیان واقع (Asteroid Belt) سے الگ ہو گئے تھے اور مریخ کی کشش ثقل میں آکر اس کے گرد چکر کاٹنا شروع کر دیا۔




#Article 45: اسلام آباد (916 words)


دار الحکومت بننے کے بعد اسلام آباد نے پاکستان بھر سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور ساتھ ساتھ دار الحکومت کے طور پر اس شہر نے کی اہم اجلاسوں کی ایک بڑی تعداد کی میزبانی بھی کی۔ اکتوبر 2005 کے کشمیر کے زلزلے میں شہر کو کچھ نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑا اور پھر جولائی 2007 میں لال مسجد کے محاصرے سمیت، جون 2008 میں دہشت گردی کے واقعات کی ایک سلسلے کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ڈنمارک کے سفارت خانے پر بم حملہ اور ستمبر 2008 میریٹ ھوٹل بم دھماکے بھی اسی شہر میں ہوئے۔ 28 جولائی2010 کو ائیربلیو کی پرواز 202 اور بھوجا ایئر کی پرواز کے المناک فضائی حادثات بھی اسلام آباد میں ہوئے۔

اسلام آباد سطح مرتفع پوٹوھار میں مارگلہ پہاڑی کے دامن میں واقع ہے۔ اس کی بلندی۔ ہے۔ یہ شہر اور قدیم شہر راولپنڈی ساتھ ہی واقع ہیں اور جڑواں شہر کہلاتے ہیں۔ ، اور دونوں کا کوئی سرحدی تعین نہیں ہے۔ اس کے شمال مشرق میں پہاڑی علاقہ مری وقع ہے اور جنوب مغرب میں ٹیکسلا کاہوٹہ، جنوب مشرق میں اٹک شمال مشرق میں یہ شہر ۔

اسلام آباد کی آب و ہوا پانچ موسموں پر مشتمل ہے : موسم سرما ( نومبر فروری)، موسم بہار ( مارچ اور اپریل )، موسم گرما ( مئی اور جون )، مانسون یعنی برسات ( جولائی اور اگست ) اور موسم خزاں ( ستمبر اور اکتوبر)۔ سب سے گرم مہینہ جون کا ہوتا ہے، سب سے ٹھنڈا مہینہ جنوری کا جبکہ جولائی کے مہینہ میں سب سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں۔ 23 جولائی2001ء کو اسلام آباد میں صرف دس گھنٹوں کو دوران میں 620 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جس نے گزشتہ 100 سال کے سب سے زیادہ بارش کے تمام ریکارڈز توڑ دیے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی جڑواں شہر ہیں اور مارگلہ کی پہاڑیوں کے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں موسم سردیوں میں کافی سرد ہو جاتا ہے لیکن 17 جنوری 1967 کو راولپنڈی میں تاریخ کی سب سے زیادہ سردی ریکارڈ کی گئی اور اس شہر کا درجہ حرارت منفی 3.9 ڈگری ریکارڈ کیا گیا اور اسی دن اسلام آباد میں منفی 6 ڈگری سردی پڑی اور یہ ان دونوں شہروں کی سب سے شدید سردی ہے جو اب تک ریکارڈ کی گئی۔

اسلام آباد اسٹاک ایکسچینج کی بنیاد 1989 ء میں رکھی گئی۔ اسلام آباد اسٹاک ایکسچینج، کراچی اسٹاک ایکسچینج اور لاہور اسٹاک ایکسچینج کے بعد پاکستان کی تیسری سب سے بڑی اسٹاک ایکسچینج ہے جس کا اوسط یومیہ کاروبار 1 ملین حصص سے زیادہ ہے۔ اسلام آباد میں دو سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کے ساتھ معلومات اور مواصلات ٹیکنالوجی کی قومی اور غیر ملکی کمپنیاں بھی بڑی مقدار میں کام کر رہی ہیں۔ پی آئی اے، پی ٹی وی، پی ٹی سی ایل، او جی ڈی سی ایل اور زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کی طرح پاکستان کی کئی سرکاری کمپنیاں بھی اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ اس طرح پی ٹی سی ایل، موبی لنک، ٹیلی نار، یوفون اور چائنا موبائل اور دیگر تمام اہم ٹیلی کمیونیکیشن آپریٹرز کے ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں واقع ہیں۔

وفاقی دار الحکومت میں متعدد میڈیا ہاؤسز یا پبلشنگ ہاؤسز بھی قائم ہیں۔ کیپیٹل ٹی وی، ، ، ، دی نیوز ٹرائب، ،  کے صدر دفاتر سمیت ملکی اور بین الاقوامی میڈیا ہاؤسز کے بیورو یا کنٹری آفسز بھی قائم ہیں۔

پاکستان کی آبادی کی مردم شماری تنظیم کے ایک اندازے کے مطابق اسلام آباد کی آبادی 2012 میں تقریباً 2 لاکھ تک پہنچ چکی تھی جبکہ 1998 کی مردم شماری کے مطابق اسلام آباد کی آبادی 805235 تھی۔ اردو زبان ملک کی قومی و سرکاری زبان ہونے کی وجہ سے شہر کے اندر بولی جاتی ہے جبکہ انگریزی بھی وسیع پیمانے پر استعمال کی جاتی ہے۔ شہر میں دیگر بولی جانے والی زبانوں میں پنجابی ، پشتو اور پوٹھوہاری میں شامل ہیں۔ آبادی کی اکثریت کی مادری زبان پنجابی ہے جو 68 فیصد ہے۔ آبادی کا 10 فیصد پشتو بولنے والے ہیں اور 8 فیصد دیگر زبانے بولنے والے ہیں۔ تقریباً 15 فیصد سندھی زبان بولنے والے ہیں۔ 20 فیصد بلوچی زبان بولنے والے ہیں۔ شہر کی آبادی کے لوگوں میں زیادہ پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔

آبادی کی اکثریت 15-64 سال کی عمر کے گروپ میں ہے۔ آبادی کا صرف 3 فیصد کی عمر 65 سال سے اوپر ہے جبکہ 37،90 فی صد 15 سے کم عمر کے ہے اور بے روزگاری کی شرح 15.70 فی صد ہے۔ اسلام 95،53 فیصد کے ساتھ، شہر میں سب سے بڑا مذہب ہے۔ شہری علاقے میں مسلمانوں کی شرح 93،83 فیصد ہے جبکہ دیہی علاقوں میں یہ تناسب، 98،80 فی صد ہے۔ دوسرا سب سے بڑا مذہب مسیحیت ہے جس کے بعد ہندو ہے۔

اسلام آباد کا بین الاقوامی ہوائی اڈا بینظیر بھٹو بین الاقوامی ہوائی اڈا کے نام سے جانا جاتا بے، جس کے ذریعے اسلام آباد دنیا بھر کے اہم مقامات سے منسلک ہے۔ بے نظیر بھٹو بین الاقوامی ہوائی اڈا پاکستان میں تیسرا سب سے بڑا ہوائی اڈا ہے اور چکلالہ راولپنڈی میں، اسلام آباد شہر کے باہر واقع ہے۔ مالی سال 2004-2005 میں بینظیر بھٹو بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 23436 ہوائی جہازوں کی نقل و حرکت ہوئی، جن میں 2.88 ملین سے زائد مسافروں نے سفر کیا۔

مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد سے باہر فتح جنگ کے علاقہ میں گندھارا بین الاقوامی ہوائی اڈا بھی تعمیر کیا گیا ہے، جو پاکستان میں سب سے بڑا ہوائی اڈا ہے۔ گندھارا بین الاقوامی ہوائی اڈا 400 ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔

پاکستان کے شہر




#Article 46: بنگلہ دیش (596 words)


بنگلہ دیش () جنوبی ایشیا کا ایک ملک ہے۔ میانمار کے ساتھ مختصر سی سرحد کے علاوہ یہ تین اطراف سے بھارت سے ملا ہوا ہے۔14 اگست 1947ء سے لے کر 1971ء تک یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا حصہ رہا ہے  اب جنوب میں اس کی سرحدیں خلیج بنگال سے ملتی ہیں۔ بھارت کی ریاست کو ملاکر بنگالی اسے اپنا نسلی وطن کہتے ہیں۔ بنگلہ دیش کا مطلب ہے بنگال کا ملک۔

بنگلہ دیش کی موجودہ سرحدیں 1947ء میں تقسیم ہند کے موقع پر وجود میں آئیں جب یہ پاکستان کے مشرقی حصے کے طور پر برطانیہ سے آزاد ہوا۔ پاکستان کے دونوں مشرقی و مغربی حصوں کے درمیان 1600 کلومیٹر (ایک ہزار میل) کا فاصلہ حائل تھا۔ مشترکہ مذہب ہونے کے باوجود پاکستان کے دونوں بازوؤں میں نسلی و لسانی خلیج بڑھتی گئی، جسے مغربی پاکستان کی عاقبت نا اندیش حکومت نے مزید وسیع کر دیا جو بالآخر 1971ء میں ایک خونی جنگ کے بعد شیخ مجیب الرحمٰن کی قیادت میں بنگلہ دیش کے قیام کا سبب بنی۔ اس جنگ میں بنگلہ دیش کو بھارت کی مکمل مدد حاصل رہی۔ اور بھارت کی سازش کے ذریعے بنگلہ دیش وجود میں آیا شیخ مجیب الرحمن کو بھارت نے ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا آج موجودہ بنگلہ دیش میں بہارت زبردستی اپنا حکم منواتا ہے اور بنگلہ دیش کی کٹھ پتلی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد انڈیا کی ایجنٹ بنی ہوئی ہے جس طرح اس کے والد کا انجام ہوا اس کا انجام بھی ویسا ہی ہوگا گا بنگلادیش کے لوگوں کے دلوں میں آج بھی پاکستان سے محبت بستی ہے۔

بنگلہ دیش اپنے قیام سے مستقل سیاسی افراتفری کا شکار ہے اور اب تک 13 مختلف حکومتیں بر سر اقتدار آ چکی ہیں اور کم از کم چار فوجی تاخت (مارشل لا) ہو چکے ہیں۔

بنگلہ دیش آبادی کے لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے اور تقریباً 144،000 مربع کلومیٹر کے ساتھ یہ رقبے کے لحاظ سے دنیا کا 94 واں ملک ہے۔ دنیا کا گنجان آباد ترین آبادی کے حامل ممالک میں سے ایک ہے بلکہ اگر چھوٹے موٹے جزائر یا شہری حکومتوں کو فہرست سے نکال دیا جائے تو یہ دنیا کا سب سے زیادہ گنجان آباد ملک بن جاتا ہے جس کے ہر مربع کلومیٹر پر 998.6 (یا ہر مربع میل پر 2،639 افراد) بستے ہیں۔ یہ تیسرا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک ہے لیکن اس کی آبادی ہندوستان میں مقیم اقلیتی مسلمانوں سے کچھ کم ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ دریائے گنگا و برہمپتر کے زرخیز دہانوں (ڈیلٹا) پر واقع ہے۔ مون سون کی سالانہ بارشوں کے باعث یہاں سیلاب اور طوفان معمول ہیں۔ بانگلادیش جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) اور BIMSTEC کا بانی رکن اور اسلامی کانفرنس کی تنظیم (او آئی سی) اور ترقی پزیر 8 (ڈی -8) کا رکن ہے۔

اسلام بنگلہ دیش کا ریاستی مذہب ہے۔ بنگلہ دیشی آئین مذہب کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور قطع نظر مذہب کے تمام بنگلہ دیشی شہریوں کو مساوی بنیادی حقوق دیتا ہے۔

بنگلہ یا بنگالی بنگلہ دیش میں بولی جانی والی اہم زبان ہے۔ اور اسے سرکاری زبان کی حیثیت حاصل ہے۔ 1971ء تک بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ تھا اور اس کی پہچان مشرقی پاکستان کے طور پر تھی۔ اردو کو یہاں کی مقامی بنگالی زبان کی طرح سرکاری حمایت حاصل تھی۔ تاہم 1971ء کے بعد کے واقعات جن کے بعد جب یہ ملک وجود میں آیا، اردو زبان کو یہاں کی پہچان سے متصادم سمجھا گیا اور یہاں کی بہاری آبادی جو اردوگو ہے، غیر شہری سمجھا گیا۔ موجودہ دور میں اردو داں آبادی کی تعداد چار لاکھ بتائی گئی ہے۔




#Article 47: محمد علی جناح (9897 words)


محمد علی جناح پیدائشی نام، محمد علی جناح بھائی، 25 دسمبر 1876ء – 11 ستمبر 1948ء) کے نامور وکیل، سیاست دان اور بانی پاکستان تھے۔ محمد علی جناح 1913ء سے لے کر پاکستان کی آزادی 14 اگست 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ رہے، پھر قیام پاکستان کے بعد اپنی وفات تک، وہ ملک کے پہلے گورنر جنرل رہے۔ سرکاری طور پر پاکستان میں آپ کو قائد اعظم یعنی سب سے عظیم رہبر اور بابائے قوم یعنی قوم کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔ جناح کا یوم پیدائش پاکستان میں قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔

کراچی کے پیدائشی اور لنکن ان سے بیرسٹری کی تربیت حاصل کرنے والے جناح، بیسویں صدی کے ابتدائی دو عشروں میں آل انڈیا کانگریس کے اہم رہنما کے طور پر ابھرے۔ اپنی سیاست کے ابتدائی ادوار میں انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کے لیے کام کیا۔ 1916ء میں آل انڈیا مسلم لیگ اور آل انڈیا کانگریس کے مابین ہونے والے میثاق لکھنؤ کو مرتب کرنے میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ جناح آل انڈیا ہوم رول لیگ کے اہم رہنماوں میں سے تھے، انہوں نے چودہ نکات بھی پیش کیے، جن کا مقصد ہندوستان کے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کا تحفظ کرنا تھا۔ بہر کیف جناح 1920ء میں آل انڈیا کانگریس سے مستعفی ہو گئے، جس کی وجہ آل انڈیا کانگریس کے موہن داس گاندھی کی قیادت میں ستیاگرا کی مہم چلانے کا فیصلہ تھا۔

پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے طور پر جناح نے اپنی حکومتی پالیسیوں کے قیام کے لیے کام کیا نیز انہوں نے ان لاکھوں لوگوں کے بہبود اور آباد کاری کے لیے بھی کام کیا جو تقسیم ہند کے بعد پاکستان کی جانب ہجرت کر چلے تھے، انہوں نے ان مہاجر کیمپوں کی ذاتی طور پر دیکھ بھال کی۔ جناح 71 سال کے عمر میں انتقال کر گئے جبکہ ان کے نوزائیدہ ملک کو سلطنت برطانیہ سے آزاد ہوئے محض ایک سال کا عرصہ ہوا تھا۔ ان کی سوانح عمری لکھنے والے لکھاری،اسٹینلی وولپرٹ لکھتے ہیں کہ، وہ (یعنی جناح) پاکستان کے عظیم ترین رہنما رہیں گے۔

جناح کا پیدائشی نام محمد علی جناح بھائی تھا اور وہ غالبا 1876ء میں ایک کرائے کے مکان وزیر مینشن کراچی کے دوسری منزل میں، جناح بھائی پونجا اور ان کی بیوی مٹھی بائی کے ہاں پیدا ہوئے۔ جناح کی جائے پیدائش پاکستان میں ہے لیکن یہ اس دور میں بمبئی کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ جناح کا تعلق گجراتی خوجا اسماعیلی شیعہ پس منظر سے تھا، لیکن بعد میں انہوں نے بارہ امامی   مسلک اختیار کر لیا۔ جناح کا تعلق ایک متوسط آمدنی والے گھرانے سے تھا۔ ان کے والد ایک تاجر تھے جو نوابی ریاستیں گونڈل (کاٹھیاواڑ، گجرات) کے گاؤں پنیلی میں ایک جولاہا خاندان میں پیدا ہوئے تھے ان کی والدہ کا تعلق بھی اسی گاؤں سے تھا۔ وہ 1875ء میں کراچی منتقل ہو گئے اور وہ اس سے قبل ہی رشتہ ازدواج میں بندھ گئے تھے۔ کراچی کی معیشت ان دنوں ترقی کر رہی تھی اور 1869ء میں نہر سوئز کنال کے کھلنے کا مطلب یہ تھا کہ کراچی بمبئی کے مقابلے میں یورپ سے 200 ناٹیکل میل قریب ہو گیا تھا۔

جناح کا اپنے بہن بھائیوں میں دوسرا نمبر تھا، ان کے تین بھائی اور تین بہنیں تھیں جن میں فاطمہ جناح بھی شامل تھی۔ ان کے والدین گجراتی زبان بولتے تھے جبکہ بچے کچھی زبان اور انگریزی بھی بولنے لگے تھے۔ سوائے فاطمہ کے، جناح کے باقی بہن بھائیوں کے متعلق کم ہی معلومات دستیاب ہیں جیسے کہ وہ کہاں رہے اور آیا کبھی وہ جناح کے وکالتی اور سیاسی میدان میں کامیابیوں کے دوران میں ان سے ملے بھی یا نہیں؟۔

لڑکپن میں جناح اپنی خالہ کے ہاں بمبئی میں بھی کچھ عرصہ رہے تھے جہاں شاید وہ گوکال داس تیج پرائمری اسکول میں پڑھے، بعد میں انہوں نے کیتھڈرل اینڈ جان کینون اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ کراچی میں وہ سندھ مدرسۃ الاسلام اور کرسچن مشنری سوسائٹی ہائی اسکول میں داخل رہے۔

انہوں نے میٹرک جامعہ بمبئی کے ہائی اسکول سے کیا۔ ان کے اگلے سالوں بالخصوص ان کے وفات کے بعد بانی پاکستان کے لڑکپن کے حوالے سے کئی کہانیاں گردش کرتی رہیں، جیسے وہ اپنے فراغت کے اوقات پولیس اسٹیشن میں قانونی کاروائیوں کو دیکھنے میں صرف کرتے تھے یا وہ گلی کی روشنی میں اپنے کتابیں پڑھتے تھے جس کی وجہ دیگر ذرائع سے محرومی تھی۔ ان کے سرکاری سوانح نگار ہکٹر بولیتھو نے 1954ء میں ان کے کئی لڑکپن کے ساتھیوں سے انٹرویو کیے، انہوں نے ایک کہانی سنی کہ جناح اپنے ساتھیوں کو کنچے کھیلنے سے منع کرتے تھے اور وہ انہیں کہا کرتے کہ وہ مٹی میں کنچے کھیل کر اپنے کپڑے گندے کرنے کی بجائے کرکٹ کھیلیں۔

اسی سال 1892ء میں وہ برطانیہ کی گراہم شپنگ اینڈ ٹریڈنگ کمپنی میں تربیتی پیش نامہ کے لیے گئے، یہ کام سر فریڈرک لیف کرو نے انہیں دلوایا تھا جو ان کے والد پونجا بھائی جناح کے کاروباری شراکت دار تھے تاہم برطانیہ جانے سے پہلے انکی والدہ کے دباؤ پر ان کی شادی ایک دور کی رشتہ دار ایمی بائی سے کردی گئی، جو جناح سے عمر میں دو سال چھوٹی تھیں۔ تاہم یہ شادی زیادہ عرصے نہ چل سکی کیونکہ آپ کے برطانیہ جانے کے کچھ مہینوں بعد ہی ایمی جناح اور ان کی والدہ وفات پا گئیں۔ 1893 میں جناح کے خاندان والے بمبئی منتقل ہو گئے۔ لندن جانے کے کچھ عرصہ بعد آپ نے ملازمت چھوڑ دی جس پر ان کے والد ان سے سخت ناراض ہوئے تھے جنہوں نے انہیں جانے سے قبل تین سال رہنے کا معقول خرچ فراہم کیا تھا۔ وہ بیرسٹر کی ڈگری سے متاثر تھے لہذا انہوں نے لنکن ان میں داخلہ لے لیا بعد میں انہوں نے اس ادارے کو انن آف کورٹ پر فوقیت دینے کی یہ وجہ بتائی کہ لنکن انن میں داخل ہونے پر ان تمام رہنماؤں کے نام لکھے تھے جنہوں نے دنیا کو قوانین سے متعارف کرایا تھا جن میں حضرت محمد کا نام بھی درج تھا۔ اگرچہ ان کے سوانح نویس اسٹینلی وولپرٹ نے ایسا کوئی نام نا دیکھا البتہ وہاں حضرت محمد کی تصویر ضرور موجود تھی اسٹینلی وولپرٹ نے بعد میں خیال کیا کہ شاید جناح نے یہ کہانی مختلف انداز میں اس لیے اپنائی کیونکہ مسلمان پیغمبروں کی تصویرکو برا خیال کرتے ہیں۔ جناح کے قانون کی تعلیم میں پیوپلیج (قانونی تربیتی پیش نامہ) نظام شامل تھا جو وہاں صدیوں سے لاگو تھا۔ قانون کا علم حاصل کرنے کے لیے وہ سینئر بیرسٹروں کی رہنمائی لیتے نیز وہ کئی قانونی کتابوں کا مطالعہ بھی کرتے۔ اس دور میں انہوں نے اپنا نام مختصر کر کے محمد علی جناح کر لیا تھا۔

اپنے طالب علمی کے دور میں وہ دیگر کئی ہندوستانی رہنماؤں کی طرح برطانوی روشن خیالی سے متاثر ہوئے۔ اس سیاسی رجہان میں جمہوری قومیت اور تعمیری سیاست بھی شامل تھی۔ مزید برآں وہ اس میدان میں ہندوستانی پارسی رہنما دادا بھائی نوروجی اور سر فیروز شاہ مہتہ سے متاثر ہونے لگے۔

اس دوران میں آپ نے دیگر ہندوستانی طلبہ کے ساتھ مل کر برطانوی پارلیمنٹ کے انتخابات میں سرگرمی کا مظاہرہ کیا۔ ان سرگرمیوں کا اثر یہ ہوا کہ جناح وقت کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی آئین ساز خود مختار حکومت کے نظریہ کے حامی ہوتے گئے اور آپ نے ہندوستانیوں کے خلاف برطانوی گوروں کے ہتک آمیز اور امتیازی سلوک کی مذمت کی۔ جب دادا بھائی نوروجی برطانوی ہندوستان کے پہلے رکن پارلیمنٹ بنے اور انہوں نے فنس بری سنٹرل میں تین ووٹوں کی اکثریت حاصل کی۔ تب جناح نے ناؤروجی کی تقریر ہاوس آف کامنز کے گیلری میں بیٹھ کر سنی۔

مغربی دنیا نے نا صرف جناح کی سیاست کو متاثر کیا، بلکہ نجی زندگی میں وہ مغربی لباس سے بھی متاثر تھے۔ وہ تمام زندگی عام لوگوں میں آتے ہوئے اپنے لباس کا خاص خیال رکھتے تھے۔ ان کے پاس 200 کے قریب سوٹ تھے، وہ کاٹن کے بھاری شرٹ زیب تن کرتے تھے جن پر وہ ڈیٹیچ ایبل کالر (علاحدہ کالر) استعمال کرتے تھے اور بطور بیرسٹر وہ اس بات پر فخر کرتے تھے کہ انہوں نے کبھی ایک ہی ریشمی ٹائی دو مرتبہ استعمال نہیں کی۔ حتیٰ کہ جب وہ قریب المرگ تھے تب بھی انہوں نے اپنی عادت برقرار رکھی اور کہا کہ میں اپنے پاجامے میں سفر نہیں کرتا۔ بعد کے ایام میں وہ قراقلی (ٹوپی) پہنتے تھے جو ان کی بدولت جناح کیپ سے معروف ہوئی۔

جناح قانون سے مطمئن نا تھے، لہذا وہ مختصر عرصے کے لیے شیکسپیرین کمپنی سے منسلک ہو گئے، لیکن جلد ہی مستعفی ہوئے جب انہیں اپنے والد کی جانب سے ایک سخت خط موصول ہوا اس خط میں انھیں واپسی کا کہا گیا کیونکہ والد کاروبار میں خسارے کے سبب ان کے اخراجات اٹھانے کے متحمل نا تھے۔ 1895ء میں، 19 سال کی عمر میں وہ برطانیہ میں سب سے کم عمر بار کہلانے والے پہلے ہندوستانی بنے۔ وہ جب واپس لوٹے تو انہوں نے کراچی میں مختصر عرصے قیام کیا پھر وہ بمبئی چلے گئے۔

بیس سال کی عمر میں جناح نے بمبئی میں وکالت کی مشق شروع کی وہ اس وقت شہر کے واحد مسلم بیرسٹر تھے۔ وہ عادتاً انگریزی زبان استعمال کرتے تھے اور یہ عادت تمام عمر رہی۔ ان کی وکالت کے ابتدائی تین سال 1897ء تا 1900ء کچھ خاص نا تھے۔ اس میدان میں ان کے روشن مستقبل کا آغاز اس وقت ہوا جب بمبئی کے ایڈوکیٹ جنرل، جان مولسورتھ مک پہتسن، نے انہیں اپنے چیمبر سے کام کرنے کے لیے مدعو کیا۔ سال 1900ء میں بمبئی کے پریزیڈنسی مجسٹریٹ پی۔ ایچ۔ داستور، کی نشست وقتی طور پر خالی ہو گئی اور اس نشست کو بطور قائم مقام حاصل کرنے میں جناح کامیاب ٹھہرے۔ چھ ماہ اس عہدے پر فائز رہنے کے بعد جناح کو 1500 روپے ماہانہ تنخواہ کی مستقل حیثیت ملی۔ جناح نے یہ کہہ کر اسے ٹھکرادیا، کہ وہ روزانہ 1500 روپے کمانا چاہتے ہیں- جو اس دور میں ایک بہت بڑی رقم تھی- اور انہوں ایسا کر کے بھی دکھایا۔ نا صرف یہ بلکہ بطور گورنرجنرل پاکستان انہوں نے زیادہ تنخواہ لینے کی بجائے صرف ماہانہ ایک روپیہ لینا پسند کیا۔
بطور وکیل جناح کی وکالت نے 1907ء میں بے پناہ شہرت پائی جس کی وجہ ماہرانہ طور پر کاوکس کا مقدمہ لڑنا تھا۔ یہ مسئلہ بمبئی کے میونسپل انتخابات میں کھڑے ہوئے جب یورپیوں نے اپنے کاوکس (سیاسی جماعت کا نمائندہ) کے ذریعے ہندوستانی عہدیداروں کو دھاندلی پر مجبور کیا تاکہ سر فیروز شاہ مہتہ کو کونسل سے باہر رکھا جاسکے۔ اگرچہ وہ اس مقدمہ کو جیت نہ سکے لیکن ان کے قانونی منطقوں اور وکالتی انداز نے انہیں مشہور کر دیا۔

ایک کامیاب وکیل کے طور پر اُن کی بڑھتی شہرت نے کانگریس کے معروف رہنما بال گنگا دھر تلک کی توجہ اُن کی جانب مبذول کرائی اور یوں 1905ء میں بال گنگا دھر تلک نے جناح کی خدمات بطور دفاعی مشیر قانون حاصل کیں تاکہ وہ اُن پر سلطنت برطانیہ کی جانب سے دائر کیے گئے، نقص امن کے مقدمے کی پیروی کریں۔ جناح نے اس مقدمے کی پیروی کرتے ہوئے، اپنے موکل کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہندوستانی اگر اپنے ملک میں آزاد اور خود مختار حکومت کے قیام کی بات کرتا ہے تو یہ نقص امن یا غداری کے زمرے میں نہیں آتا لیکن اس کے باوجود بال گنگا دھر تلک کو اس مقدمے میں قید با مشقت کی سزا سنائی گئی۔  لیکن جب 1916ء میں ان پر دوبارہ یہی الزام عائد کیا گیا تو جناح اس بار ضمانت لینے میں کامیاب ہوئے۔
بمبئی ہائی کورٹ کے ایک بیرسٹر جو جناح کے ہم عصر تھے کہتے ہیں کہ جناح کو اپنے آپ پر ناقابل یقین حد تک اعتماد تھا، انہوں نے یہ بات اس واقعے کے تناظر میں کہی جب ایک دن کسی جج نے غصے میں جناح کو کہا کہ مسٹر جناح یاد رکھو کہ تم کسی تھرڈ کلاس مجسٹریٹ سے مخاطب نہیں ہو جناح نے برجستہ جواب داغ دیا جناب والا مجھے بھی اجازت دیجئے کہ میں آپ کو خبردار کروں کہ آپ بھی کسی تھرڈ کلاس وکیل سے مخاطب نہیں ہیں۔

۔
جناح 1920ء کے ابتدائی برسوں تک وکالت کی مشق کرنے میں مصروف رہے تھے لیکن وہ سیاست میں بھی دلچسپی لیتے تھے۔ جناح نے دسمبر 1904ء میں بمبئی میں کانگریس کے بیسویں سالانہ اجلاس میں شرکت کر کے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ ان کا شمار کانگریس کے ان ارکان میں ہوتا تھا جو ہندو مسلم اتحاد کے حامی اور جدید خیالات کے مالک تھے ان میں مہتہ، ناروجی اور گوپال کرشنا گوکھالے شامل تھے۔ ان ارکان کے خیالات کی مخالفت کرنے والوں میں تلک اور لالا لجپت رائے شامل تھے جو آزادی کے لیے سریع رفتار عمل کے حامی تھے۔ 1906ء میں مسلمان رہنما جن میں آغا خان سوم شامل تھے نے گورنر جنرل ہند لارڈ منٹو سے ملاقات کی اور انہیں اپنی وفاداری کا یقین دلا کر ان سے دریافت کیا کہ آیا ان سیاسی اصلاحات میں میں انہیں بے رحم اکثریت [ہندوں] سے بچایا جائے گا۔ اس عمل سے اختلاف کرتے ہوئے جناح نے گجراتی اخبار کہ مدیر کو خط لکھا کہ یہ مسلمان رہنما کس طرح مسلمانوں کی قیادت کر رہے ہیں حالانکہ مسلمانوں نے انہیں نا منتخب کیا ہے بلکہ یہ اپنی تئیں ہی رہنما بن بیٹھے ہیں۔ جب یہ قائدین ڈھاکہ میں دوبارہ مل بیٹھ کر اپنے برادری کے مسائل کے حوالے سے آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام پر عمل کر رہے تھے تب بھی جناح نے اس کی مخالفت کی تھی۔
 ہندوستان کے اسوقت کے وائسرائے بھی مسلم لیگ کو مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ماننے کو تیار نا تھے کیونکہ لیگ تقسیم بنگال کی منسوخی(جو لیگ کے نزدیک مسلمانوں کے خلاف تھی) پر خود کو زیادہ پراثر ثابت نا کر پائی تھی۔

پہلی جنگ عظیم کے دوران میں جناح نے دیگر ہندوستانی ترقی پسندوں کے ساتھ برطانوی جنگ کی تائید کی، اس اُمید کے ساتھ کہ شاید اس کے صلے میں ہندوستانیوں کو سیاسی آزادی سے نوازا جائے۔

کانگریس میں جناح جیسے خیالات رکھنے والے ارکان کی کمی ہوئی جب مہتہ اور گوپال کرشنا گھوکھلے 1915ء میں انتقال کرگئے، اس تنہائی میں اسوقت مزید اضافہ ہوا جب دادابھائی نوروجی بھی لندن سدھار گئے جہاں وہ 1917ء یعنی اپنی موت تک رہے۔ اس کے باجود جناح نے مسلم لیگ اور آل انڈیا کانگریس کے درمیان میں فاصلوں کو مٹانے کی کوشش کی۔ 1916ء میں جب وہ مسلم لیگ کے صدر تھے، دونوں تنظیموں نے متفقہ طور پر میثاق لکھنو پر رضامندی ظاہر کی، اس کے تحت مختلف علاقوں میں ہندوں اور مسلمانوں کے لیے خاص کوٹے رکھے گئے۔ اگرچہ اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد نا ہو سکا لیکن اس نے دونوں جماعتوں میں تعاون کی راہ ہموار کی۔

جنگ کے دوران میں جناح نے ان ہندوستانیوں سے اتفاق کیا جنکا خیال تھا کہ برطانیہ کی ہمایت کرنے سے شاید گورے بطور انعام ہندوستانیوں کو آزادی دے دیں۔ 1916ء میں جناح نے آل انڈیا ہوم رول لیگ کے قیام کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے دیگر سیاسی رہنماوں جیسے اینی بیسنٹ اور بال گنگا دھر تلک کے ساتھ ہوم رول کا مطالبہ کیا جس کا مقصد ہندوستان کو سلطنت برطانیہ میں رہتے ہوئے کینیڈا، نیوزی لینڈ اورآسٹریلیا جیسی خومختاری حاصل کرنی تھی لیکن جنگ کے بعد گوروں کی دلچسپیاں ان ہندوستانی قانونی اصلاحات میں سرد پڑ گئی۔ برطانوی کیبنٹ وزیر ایڈون مونٹیگو اس دور کے جناح کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں جوان، مکمل طور پر باتمیز، متاثر کن- چہرہ، تیز لہجوں سے مسلح اور اپنے تمام منصوبے پر مصّر۔

گاندھی اور تحریک خلافت کے مابین موجود اتحاد زیادہ عرصے نا چل سکی اور مزاحمت کی یہ مہم امید سے کم ہی پر اثر ثابت ہوئی، جیسا کہ برطانوی ادارے بدستور کام کرتے رہے۔ جناح اس دور میں کانگریس کے مخالف میں ایک جماعت کھڑی کرنے اور نئے سیاسی خیالات کے متعلق سوچتے رہے۔ ستمبر 1923ء میں جناح بمبئی کے سنٹرل لیجسلیٹو اسمبلی کے مسلم رکن منتخب ہوئے۔ وہ ایک فعال رکن پارلیمنٹ بن کر سامنے آ ئے اور انہوں نے کئی ہندوستانی ارکان کو سورج پارٹی کے ساتھ کام کرنے کے لیے منظم کیا، انہوں اس دور میں انہوں نے ایک زمہ دار حکومت کا مطالبہ جاری رکھا ۔1925ء میں ان کے خدمات کے اعتراف کے طور پر روفس آئزکس جو وائسرائے کے عہدے سے سبکدوش ہونے والے تھے نے انھیں شہہ سوار کے خطاب سے نوازنے پر رضامندی ظاہر کی لیکن جناح نے جواب دیا، میں مسٹر جناح کو استعمال کرنا ترجیح دیتا ہوں۔

لیکن انہیں مسلم و ہندو رہنماؤں سے بائیکاٹ کے سوا کچھ نا ملا کیونکہ انہوں نے ان رہنماوں کو کمیشن میں شامل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ کچھ مسلم رہنماوں نے مسلم لیگ سے علیحدگی کا فیصلہ کیا کیونکہ مسلم لیگ نے اس کمیشن کو خوش آمدید کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن اکثریت نے جناح سے وفاداری دکھائی اور انہوں نے دسمبر 1927ءاور جنوری 1928ء کے اجلاسوں میں شرکت کی، ان اجلاسوں نے جناح کو آل انڈیا مسلم لیگ کی مستقل صدرات سونپ دی۔ جناح نے کمیشن کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہبرطانیہ پر ایک قانونی جنگ مسلط کی جاچکی ہے۔ مسئلے کے حل پر مفاہمت کا مطالبہ ہمارے طرف سے نہیں آیا۔۔۔ گوروں سے پُر ایک کمیشن کے قیام سے لارڈ برکنہڈ نے ہمیں خود مختار حکومت کو چلانے سے نا اہل قرار دیا ہے۔

۔ لیکن کانگریس اور انگریزوں نے ان کے ان نکات کو تسلیم نا کیا۔

بالڈون 1929ء کے برطانوی انتخابات میں ہار گئے اور لبرل پارٹی کے رامسے مکڈونالڈ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ انہوں نے ہندوستان کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے لندن میں ہندوستانی اور برطانوی سیاست دانوں کو مدعو کیا اس عمل کی حمایت جناح بھی کر چکے تھے۔ اس سلسلے میں تین گول میز کانفرنسیں اگلے کچھ سالوں تک ہوتےی رہیں۔ جناح کو آخری کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا ان کانفرنسوں سے مسئلے کے حل میں کوئی پیش رفت نا ہو سکی۔ جناح 1930ء تا 1934ء تک لندن میں قیام پزیر رہے اس دوران میں وہ پریوی کونسل میں بیرسٹر کی مشق کرتے رہے، وہ اس دوران میں ہندوستان سے متعلق کئی معاملات کو بھی نبٹاتے رہے۔ انکی زندگی کے متعلق لکھنے والوں کے نزدیک یہ بحث طلب موضوع ہے کہ آخر وہ اتنا عرصہ وہاں کیوں رہے۔ معروف مؤرخ اسٹینلے ولپرٹ لکھتے ہیں کہ شاید وہ مستقل سکونت اور برطانوی پارلیمنٹ کے رکن بننے میں دلچسپی لے رہے تھے۔ البتہ انکے اولین سوانح نگار اس بات سے متفق نہیں کہ وہ اس متعلق کچھ ارادہ رکھتے تھے جبکہ جسونت سنگھ کے نزدیک وہ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد سے رخصت پر تھے۔ ہیکٹر بولیتھو ان ایام کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جناح کہ یہ ادوار غورفکر اور تیاری کے سال تھے ابتدائی جدوجہد کے بعد ایک آخری فتح کے طوفان کی تیاری۔

محمد اقبال کے نظریات کا جناح پر بہت زیادہ اثر تھا ،اور اسی اثر کے نتیجے میں پاکستان کے قائم ہونے کی راہ ہموار ہوئی اور اس اثر کو مصنفین نے زبردست،طاقتور اور ناقابل انکار تک لکھا ہے۔۔محمد اقبال کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے جناح کو لندن میں خودساختہ جلاوطنی کو ختم کر کے ہندوستان کی سیاست میں شامل ہونے پر بھی رضامند کر لیا تھا۔ اگرچہ ابتدا میں اقبال اور جناح دو مختلف خیالات کے مالک تھے جناح کے بارے میں اقبال کا خیال تھا کہ وہ ہندوستان میں موجود اپنے مسلم برادری کے بحران سے کنارہ کشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اکبر صلاح الدین احمد کے مطابق اقبال کے خیالات میں بدلاؤ ان کے 1938ء میں وفات سے قبل نمودار ہوئے۔ اقبال آہستہ آہستہ جناح کے خیالات میں تبدیلی لانے میں کامیاب ٹھہرے اور جناح نے ان کی صلاح قبول کر لی۔ احمد نے جناح کی طرف سے اقبال کو بھیجے گئے خط کا حوالہ دیا جس میں جناح نے اقبال کہ اس نظرئے کہ مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن ہونی چاہئے پر اتفاق کیا
اقبال کی وجہ سے جناح کے نزدیک مسلم تشخص ایک قابل ستائش چیز بھی ٹھہری۔ احمد کہتے ہیں کہ جناح ناصرف اقبال سے اپنی سیاسی بلکہ ذاتی عقائد ہر بھی متفق ہو گئے تھےان اثرات کے ثبوت 1937ء سے ظاہر ہونے شروع ہوئے، اس دور میں جناح اپنے تقاریر میں اسلام کے نظریات پر بات کرتے، وہ عوامی مقامات میں اسلامی روایات کا ذکر کرتے۔ احمد کے نزدیک جناح کے قول و عمل میں کچھ چیزیں بالکل بدل گئی تھیں۔ لیکن جناح اب بھی اپنی تقاریر میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کی بات کرتے وہ پیغمبر اسلام محمدﷺ کی طرزِ حکمرانی کو نمونہ عمل سمجھتے۔ احمد کا دعویٰ ہے کہ جو مصنفین جناح کا ایک سیکولر خاکہ کھینچتے ہیں کو چاہئے کہ وہ ان کی تقاریر سنیں اور اسے اسلامی تاریخ اور ثقافت کے تناظر میں پرکھیں۔ یہی تبدیلی تھی جس نے جناح کی گفتگو میں ایک واضح فطری اسلامی مملکت کا سوال پیدا کیا تھا۔ اسی تبدیلی نے جناح کے آخری ایام تک انہیں اقبال کے نظریات کا طالب بنا دیا، وہ اقبالی نظریات جو کے اسلامی اتحاد، اسلامی نظریہ آزادی، انصاف اور مساوات ،معیشت اور حتیٰ کہ نماز کے پڑھنے تک سے متاثر نظر آنے لگے ۔
جناح اقبال کی سوچ سے کس حد تک متاثر تھے کا اندازہ 1940ء میں کی گئی ان کی ایک عوامی تقریر سے لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہاگر مستقبل میں ہندوستان میں ایک مثالی اسلامی مملکت قائم ہوئی اور مجھ سے کہا جائے کہ اس طرز حکمرانی اور اقبال کے کام میں بہتر کونسا ہے تو میں مؤخر الذکر کو ہی چنوں گا۔

اس حوالے سے جن رہنماوں نے جناح سے ملاقات کی ان میں لیاقت علی خان بھی شامل تھے جو بعد میں جناح کے قریبی مشیر طور پر سامنے آئے اور وہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کے عہدے پر بھی فائز ہوئے۔ جناح کی واپسی کے حوالے سے لیاقت علی خان نے کئی مسلم رہنماوں سے مشاورت کی اور ان کے پیغامات جناح تک پہنچائے۔ 1934ء کے ابتدا میں جناح نے ہیمپسٹیڈ میں موجود اپنا مکان بیچ دیا اور اپنے قانونی مشق ختم کردی تاکہ وہ واپس ہندوستان جاسکیں۔

بمبئی کے مسلمانوں نے اکتوبر 1934ء میں جناح کو مرکزی قانون ساز اسمبلی کے لیے اپنا نمائندہ نامزد کیا ۔ برطانوی پارلیمنٹ نے حکومت ہند ایکٹ 1935 کے تحت صوبوں کو کچھ اختیارات دئے، جبکہ دلی میں مرکزی اسمبلی بنائی گئی جس کے پاس اختیارات نا تھے مثلاً اس اسمبلی کو دفاع، خارجی امور اور بجٹ جیسے معاملات میں دخل کا حق حاصل نا تھا۔ وائسرائے کو اختیار کل کا مالک بنایا گیا اور وہ اپنی مرضی سے اسمبلی اور قوانین کو جب چاہیں تحلیل کر سکتے تھے۔ لیگ نے اس منصوبے کو قبول کیا لیکن ساتھ ہی کمزور پارلیمنٹ کے معاملے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ کانگریس نے 1937ء کے انتخابات کے لیے خوب تیاری کر رکھی تھی جبکہ مسلم لیگ ان انتخابات میں بری طرح ناکام ہوئی حتیٰ کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی انہیں قابل ذکر کامیابی نا مل سکی۔ اس جماعت نے دہلی میں اکثریت حاصل کی اور بنگال میں یہ فاتح جماعت کی اتحادی بنی۔ کانگریس اور ان کے اتحادی جماعتوں نے شمال مغربی سرحدی صوبہ (1901–1955) میں بھی حکومت بنائی حالانکہ اس صوبے میں رہنے والے تمام لوگ مسلمان تھے
۔
سنگھ کے مطابق یہ نتائج جناح کے لیے زبردست اور تقریباً صدمے تک کا باعث تھے۔ باوجود 20 سال تک جناح کے اس خیال کہ مسلمان متحدہ ہندوستان میں باوجود اقلیت میں ہونے کہ کچھ قانونی اصلاحات ،مسلم صوبوں کی حد بندی سے اپنے حقوق کا تحفظ کر سکتے ہیں ،جنکے متعلق جناح نے کبھی سوچا تھا کہ یہ مسلمانوں کی گروہی جھگڑوں سے ناکام ہوسکتا ہے۔ سنگھ مسلم رہنماوں پر 1937ء کے انتخابات میں ناکامی کے اثرات بیان کرتے ہوئے لکھتا ہےجب کانگریس نے تقریباً تمام مسلم سیٹوں سمیت حکمت بنائی تو غیر کانگریسی مسلمان رہنما جب ان کے مخالف اپوزیشن کرسیوں پر بیٹھے تو انہیں اچانک اس تلخ حقیقت کا ادراک ہوا کہ وہ کتنے بے اختیار ہیں۔ اگر کانگریس ایک بھی مسلم نشست نا جیتتی تو یہ ان کے لیے بے حد اطمینان کا سبب ہوتا ۔۔ جیسا کہ انہوں نے اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کر لی تھی لہٰذا وہ بلا شراکت غیر ے حکومت بنانے کے مجازتھے۔۔۔

اگلے دو سالوں تک جناح مسلم لیگ کے لیے مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کام کرتے رہے۔ وہ بنگال اور پنجاب کی حکومت میں موجود تھے لہٰذا وہ وہاں سے مسلمانوں کے لیے آواز اٹھاتے رہے۔ نیز انہوں نے مسلم لیگ کو وسیع کرنے پر بھی کام کیا۔ انہوں نے جماعت کے رکن بننے کی فیس کم کر کے دو آنے (⅛ روپے) کردی جو پھر بھی کانگریس کے ممبرشپ فیس سے آدھے سے زیادہ تھے۔ انہوں نے کانگریس کی طرز پر مسلم لیگ کی ساخت تبدیل کی اور ورکنگ کمیٹی کو بااختیار بنایا جنہیں وہ خود منتخب کیا کرتے تھے۔ دسمبر 1939ء میں لیاقت علی خان کے اندازے کے مطابق دو آنے والے ارکان کی تعداد تین ملین (تیس لاکھ) تھی۔

اگرچہ تمام کانگریسی رہنما ایک متحد طاقتور ملک کے لیے کام کر رہے تھے، کچھ مسلم رہنما جن میں جناح بھی شامل تھے، اس کے مخالف تھے۔ وہ ان نظریات کی حمایت اپنی مسلک کے حقوق کی تحفظ کے یقین دہانی نا مل سکنے کے سبب کر رہے تھے۔ اگرچہ تمام کانگریسی رہنما ایک متحد طاقتور ملک کے لیے کام کر رہے تھے ،کچھ مسلم رہنما جن میں جناح بھی شامل اس کے مخالف تھے وہ ان نظریات کی حمایت اپنی مسلک کے حقوق کی تحفظ کے یقین دہانی نا مل سکنے کے سبب کر رہے تھے۔ اس کے علوہ کچھ مسلم سیاست دان کانگریس کے ہم خیال بھی تھے ان سب کے باوجود اس منظر میں ایسے کئی ہندو سیاست دان بھی تھے جو آزادی کی صورت میں ہندوستان کو ہندو ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے (ان سیاست دانوں میں ولبھ بھائی پٹیل اور مدن موہن مالویا جیسے شامل تھے) ان کے نزدیک آزاد ہندوستان میں گائے کی قربانی پر پابندی اور ہندی کو سرکاری زبان کا درجہ ملنا تھا۔ ہندو نواز کالم نگاروں کو روکنے سے قاصر کانگریسی حمایتی مسلمانوں کو کئی طرح کے خدشات کو سامنا کرنا پڑا۔ پھر بھی 1937ء تک کانگریس کے حمایتی مسلم تعداد قابل قدر حالت میں تھی۔
ان دو گروہوں میں مزید جدائی سامنے آئی جب یہ دونوں جماعتیں 1937ء کے انتخابات میں متحدہ صوبوں میں اتحادی جماعت بنانے میں ناکام نظر آئے۔مورخ آیان ٹالبوٹ لکھتے ہیں کانگریس کی صوبائی حکومتوں نے مسلم آبادی کو سمجھنے اور ان کے مذہبی حساسیت کو احترام کرنے کے لیے کوئی بھی اقدام نا اٹھائے۔ جبکہ اس دور میں مسلم لیگ مسلمانوں کے حقوق کا دعویٰ کرتی تھی۔ اور بڑی بات یہ کہ مسلم لیگ نے اسی کانگریسی حکومتی ادوار کے فورا بعد پاکستان کا مطالبہ اٹھایا۔
بالراج پوری اپنے جریدے کو لکھے گئے مضمون میں جناح کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ،1937ء کے ووٹ کے بعد مسلم لیگ کے صدر کی توجہ تقسیم کی طرف گئی۔  تاریخ دان اکبر صلاح الدین احمد کی تجویز ہے کہ ان ادوار میں جناح کو کانگریس سے مزید مفاہمت کرنا بے سود لگ رہا تھا نیز ان دنوں وہ اسلامی تشخص کے بھی گرویدہ ہوتے چلے گئے تھے اور یہی ان کے نزدیک ایک الگ ،کافی اور مکمل پہچان تھی اور یہ بات ان کی اگلی زندگی سے بھی جھلکتی رہی۔ 1930 کے بعد سے وہ مشرقی لباس زیب تن کیے دکھائی دینے لگے تھے۔1937 کے الیکشن کے بعد جناح کا مطالبہ تھا کہ طاقت کی تقسیم کو پورے ہندوستان میں نافظ کیا جائے اور انہیں تمام مسلمانان ہند کے واحد ترجمان کے طور پر لیا جائے۔

برطانوی وزیر اعظم نوائل چیمبرلین نے 3 ستمبر 1939ء کو نازی جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا اور اس کے ساتھ ہی وائسرائے ہند وکٹر ہوپ نے ہندوستانی سیاست دانوں کو کسی خاطر میں لائے بغیرجنگ میں برطانیہ کا بھر پور ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس عمل پر برصغیر میں بڑے مظاہرے ہوئے۔ جناح سے ملاقات کے بعد وائسرائے نے یہ موقف اپنایا کہ جنگ کی وجہ سے خود مختار حکومت کا معاملہ معطل کیا گیا ہے۔ کانگریس نے ایک قانونی اسمبلی سے قانون کو بنانے اور آزادی کا مطالبہ کیا، جب اس مطالبے کو مسترد کیا گیا تو کانگریس 10 نومبر کو اپنے آٹھ صوبائی حکومتوں سے مستعفی ہو گئی ان صوبوں میں جنگ کے دوران معاملات کو گورنر چلاتے رہے۔ اس دوران میں جناح دوسری طرف انگریزوں کی حمایت کرنے لگے جس کے سبب انگریز انہیں مسلم آبادی کا نمائندہ سمجھنے لگے۔ جناح بعد میں کہتے ہیں کہ جنگ کے شروع ہونے کے بعد انگریز انہیں گاندھی کے برابر اہمیت دینے لگے۔ میں حیران تھا کہ مجھے گاندھی کی ساتھ والے نشست پر بٹھایا جاتا۔اگرچہ مسلم لیگ نے جنگ میں برطانیہ کی متحرک طور پر حمایت نا کی اور نا ہی انہوں نے اس میں رکاوٹ ڈالی۔

جب مسلمان گوروں سے مکمل تعاون کرنے لگے تو وائسرائے نے جناح سے حکومتی خود مختاری کے متعلق مسلم لیگ کی رائے پوچھی یہ سوچ کر کہ لیگ کے خیالات کانگریس سے مکمل مختلف ہونگے۔ اس مقام پر پہنچ کر لیگ کے ورکنگ کمیٹی نے فروری 1940ء میں چار دن قانونی کمیٹی کو بھیجنے والی سفارشات پر کام کیا۔ اس کمیٹی نے جو مطالبے سب کمیٹی کوبھیجے اسمیں کہا گیا کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں آزاد ریاست قائم ہو اور یہ معاملات سیدھے برطانیہ کی انتظام میں مکمل ہوں 6 فروری کو جناح نے وائسرائے کو آگاہ کیا کہ لیگ 1935 ایکٹ پر چلتے ہوئے وفاق کے ماتحت بننے کے تقسیم کا مطالبہ پیش کرے گی۔ قرارداد لاہور ( جو قرداد پاکستان کے نام سے معروف ہے اگرچہ اس میں یہ نام استعمال نہی کیا گیا) اسی سب کمیٹی کے کام پر مشتمل تھی نیز اس نے دو قومی نظریہ شمال مغربی مسلم اکثریتی علاقوں کے انضمام کے لیے اپنایا، جس میں انہیں مکمل خود مختاری دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی طرح کے حقوق کا مطالبہ مشرقی علاقوں کے لیے بھی مانگا گیا اس میں دیگر صوبوں میں موجود اقلیتوں کا بھی خاص ذکر کا گیا۔ اسے مسلم لیگ کے لاہور سیشن میں 23 مارچ 1940ء کو منظور کیا گیا۔
گاندھی نے اس عمل کو خاموش رہتے ہوئے حیران کن قرار دیا لیکن انہوں نے ساتھ ہی اپنے پیروکاروں سے کہا کہ مسلم اقوام بھی اپنے خود مختاری کا مطالبہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

جب کہ کانگریس کے دیگر رہنما نے اس پر بہت رد عمل دکھایا، جواہر لعل نہرو اسے جناح کے تخیلاتی تجاویز قرار دی جبکہ چکرورتی راجگوپال آچاریہ نے جناح کے تقسیم کی تجویز کو ذہنی بیماری کی علامت قرار دی۔ 1940ء میں جناح کے وائسرائے سے ملاقات ہوئی اور اسی دوران میں ونسٹن چرچل وزیر اعظم بنے ،انہوں نے اگست میں کانگریس اور لیگ دونوں کو یہ یقین دہانی کرائی کہ جنگ میں تعاون کرنے کے صلے میں وائسرائے ہندوستانی نمائندوں کو برطانیہ کے سامنے اپنے تجاویز رکھنے کی اجازت فراہم کرے گا۔ وائسرائے نے ان نمائندوں سے وعدہ کیا کہ جنگ کے بعد ہندوستان کی قسمت کا فیصلہ کیا جائے گا اور کسی بھی بڑی آبادی کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا، اگرچہ کانگریس اور لیگ کو ان وعدوں پر زیادہ اعتبار ناتھا لیکن جناح خوش تھے کہ گورے انہیں مسلمانوں کے معاملات میں ان کا نمائندہ سمجھ کر شریک کرتے ہیں ۔ جناح پاکستان کی سرحدی حدبندی، برطانیہ سے باقی برصغیر سے تعلق کے حوالے سے تجاویز دینے پر تذبذب کا شکار تھے کہ کہیں اس سے لیگ میں کہیں فرقہ نا بن پڑے۔
جاپانیوں نے دسمبر 1941ء کو پرل ہاربر حملہ کر کے امریکا کو جنگ میں کودنے کا موقع فراہم کیا اور انہی ادوار میں جاپانی فوجوں نے جنوب مشرقی ایشیا کی جانب پیش قدمی شروع کی تو برطانوی کیبنٹ نے ایک مشن جس کی قیادت سر سٹیفورڈ کرپس کر رہے تھے ہندوستان میں بھیجی اس مشن کا مقصد ہندوستانی رہنماؤں سے جنگ کے لیے بھرپور تعاون مانگنا تھا۔ کرپس نے کچھ صوبوں کو یہ بھی تجویز دی کہ ان کی مرضی آیا وہ کچھ عرصے کے لیے خود مختار رہیں یا ہمیشہ کے لیے یا مستقبل میں کسی بھی ملک کے ساتھ ضم ہوجائیں۔ چونکہ مسلم لیگ مشرقی بنگال کے ہندو علاقوں میں ووٹ نا لے سکتی تھی لہٰذا جناح نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ کانگریس نے بھی اس تجاویز کی مخالفت کی اور فوری مراعات دینے کا مطالبہ کیا جس کے لیے کرپس تیار نا تھے۔اس کے باوجود جناح اور لیگ کے رہنما کرپس کے معاملے کو پاکستان کے بنیادی مطالبے کوتسلیم کرنے سے تشبیہ دی۔

کرپس مشن کے ناکام ہونے پر کانگریس نے اگست 1942ء کو کوائٹ انڈیا مہم چلائی اور آزادی تک ستیاگرا کی مہم دوبارہ چلانے کا فیصلہ کیا۔ برطانیہ نے بدلے میں جنگ کے خاتمے تک تمام کانگریسی رہنماوں کو قید کیے رکھا۔ گاندھی کو گوروں نے آغا خان کے ایک محل سے گرفتار کیا اور انہیں گھر میں نظر بند رکھاگیا لیکن انکی طبیعت کی ناسازی کے سبب انہیں 1944ء میں رہا کر دیا گیا۔ کانگریس کے رہنماوں کی سیاسی منظرنامے سے گمشدگی کے دوران میں جناح نے تحریک پاکستان خوب چلائی۔ جناح نے اس دوران میں صوبوں میں بھی لیگ کو سیاسی طور پر مضبوط کیا۔ انہوں نے دلی سے 1940ء میں انگریزی اخبار ڈان کا اجرا کیا جس میں وہ لیگ کے پیغامات کو پھیلاتے اور بعد میں یہ پاکستان کے بڑے انگریزی اخبارات میں شامل ہوئی۔
گاندھی نے 1944ء میں اپنی رہائی کے بعد بمبئی کے مالابار پہاڑی میں موجود جناح کے گھر میں ان سے ملاقات کی۔ دو ہفتے چلنے والی اس ملاقات سے کوئی نتیجہ برآمد نا ہو سکا۔ جناح کو اصرار تھا کہ گوروں کے انخلا سے قبل ہی بر صغیر کو تقسیم کیا جانا چاہئے اور انکے انخلا کے فورا بعد ہی پاکستان کو آزادی حاصل ہونی چاہئے جبکہ گاندھی کا موقف یہ تھا کے انگریزوں کے انخلا کے بعد تقسیم کے لیے استصواب رائے معلوم کی جائے۔ 1945 میں جنگ کے بعد لیاقت علی خان اور بھلابھائی دیسائی میں ملاقات ہوئی دونوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ کانگریس اور لیگ ایک قائم مقام حکومت بنائی گی اور وائسرائے کے ایکزیکٹیو کونسل میں دونوں جماعت کے ارکان کی تعداد برابر ہوگی۔ جب 1945ء میں کانگریس کے دیگر ارکان جیل سے رہا ہوئے تو انہوں نے دیسائی کے عمل کی مخالفت کی اور کہا کہ دیسائی نے اپنے اختیار سے بڑھ کر کام کیا ہے۔

آرچیبالڈ ویول نے 1943ء میں سبکدوش ہونے والے وائسرائے کی جگہ لی۔ اس نئے وائسرائے نے جون 1945ء میں تمام جماعتوں کے معروف رہنماؤں کو شملہ میں مدعو کر کے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا۔ انہوں نے لیاقت اور دیسائی کی طرز پر ایک وقتی حکومت کی تجویز دی۔ لیکن وہ اس بات پر رضامند نا تھے کہ مسلمانوں کے لیے مختص نشستوں پر صرف مسلم امیدوار کھڑے کیے جائیں۔ تمام مدعو رہنماؤں نے اپنی اپنی جماعت کے امیدواروں کی فہرست وائسرائے کے ہاں جمع کی۔ لیکن انہوں نے جولائی کے وسط میں اس عمل کو روک دیا، جس کی وجہ چرچل حکومت کا خیال تھا کہ یہ عمل کامیاب نا ہو سکے گا۔

برطانوی عوام نے اگلے انتخابات میں لیبر پارٹی کے کلیمنٹ ایٹلی کو منتخب کیا۔ ایٹلی اور انکے مشیر برائے ہندوستان لارڈ پیتھک لارنس نے ہندوستانی حالات کے جائزے کے لیے ایک جائزہ لینے کا حکم جاری کیا۔ جناح نے برطانوی حکومت کی تبدیلی پر کوئی تبصرہ دینے کی بجائے ،اپنی ورکنگ کمیٹی کا ایک اجلاس بلایا جس میں انہوں نے ہندوستان کے لیے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا۔ اسوقت لیگ صوبائی سطح پر کافی جڑیں پکڑ چکی تھی نیز جناح کا خیال تھا کہ وہ اپنے دیگر اتحادیوں کے ساتھ انتخابات میں مسلم علاقوں کی نشستوں میں اکثریت حاصل کرکے اپنے مسلم اقوام کے واحد نمائندہ جماعت ہونے کے اس دعویٰ کو سچ ثابت کر سکے گی۔ وائسرائے نے لندن میں اپنے حکام سے مشارت کے بعد ستمبر میں ہندوستان کا رخ کیا اور اس کے فوراََ بعد صوبائی اور مرکز کے انتخابات کا اعلان کیا گیا۔ برطانیہ کا یہ عمل اس بات کا اشارہ تھا کہ قانون بننے کا عمل ووٹنگ کے بعد ہی شروع کیا جائے گا۔
مسلم لیگ نے یہ بات واضح کردی کہ وہ صرف پاکستان کے مطالبہ پر ہی انتخابی مہم چلائی گی۔۔احمد آباد میں جسلے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ دسمبر 1945ء کے کونسٹیٹیوینٹ اسمبلی آف انڈیا کے انتخابت میں مسلم لیگ نے مسلمانوں کے لیے مختص تمام نشستیں جیت لیں۔ جبکہ صوبائی نشستوں میں اس نے 75 فیصد زائد نشستیں جیتی جبکہ انہیں انتخابات میں اس نے 1937ء میں صرف 4۔4 فیصد جیتی تھی۔انکے سوانح نگار ہیکٹربولیتھو لکھتے ہیں یہ جناح کے انتہائی خوش کن لمحے تھے،انکے انتھک سیاسی مہمات، ان کا یقین اور دعوے، تمام کا ہی فیصلہ ہوچکا تھا۔ ولپرٹ کا خیال ہے انتخابات میں لیگ کی واضح جیت نے مسلمانوں کے مطالبہ آذادی کو ایک کائناتی حقیقت ثابت کر دیا تھا۔کانگریس اگرچہ اب بھی جنرل اسمبلی میں اکثریت میں تھی لیکن اب ان کے پچھلے چار نشستیں کم ہوگئیں تھی۔ اس دوران میں محمد اقبال نے جناح کو غلام احمد پرویز سے متعارف کروایا جنہیں جناح نے ایک میگزین طلوع اسلام کی ادارت کی زمہ داری سونپی، اس رسالے میں مسلمانوں کے علاحدہ ریاست کے مطالبے کا پرچار کیا جاتا تھا۔

فروری 1946ء میں برطانوی کیبنٹ نے ایک وفد ہندوستان بھیجا جس کا مقصد یہاں کے رہنماؤں سے مذاکرات کرنا تھا۔ اس کیبنٹ مشن پلان، 1946ء میں کرپس اور پیتھک لارنس بھی شامل تھے۔ اس اعلیٰ سطحی وفد نے مارچ میں دلی پہنچ کر مزاکرات میں موجود جمود ختم کرنے کی کوشش کی۔ ہندوستانی انتخابات کی وجہ سے پچھلے اکتوبر کے بعد سے کم ہی مذاکراتی عمل آگے بڑھ پایا تھا۔برطانوی حکومت نے مئی میں ایک منصوبہ جاری کیا جس کے تحت متحدہ ہندوستان جس میں کئی خود مختار ریاستیں بھی شامل تھی، نیز انہوں نے مذہب کی بنیاد پر کچھ صوبوں کے گروپ کو بنانے کی بات کی۔ بعض معاملات جیسے دفاع خارجہ امور اور آمدورفت کو ایک مرکزی حکومت کی ذمہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ صوبوں کو یہ مرضی دی گئی کہ وہ کسی بھی ریاست سے الگ تھلگ رہ سکتے ہیں اور اس پلان میں کہا گیا کہ لیگ اور کانگریس کے نمائندوں سے ایک قائم مقام حکومت بنائی جائے۔ جناح اور ان کے ورکنگ کمیٹی کے رہنماؤں نے اس پلان کو جون میں قبول کر لیا، لیکن وہ اس سوال پراٹک گئے کہ قائم مقام حکومت میں لیگ اورکانگریس کے نمائندوں کی کیا تعداد ہوگی نیزوہ کانگریس کا فیصلہ کہ ان کے نمائندوں میں ایک مسلم بھی موجود ہوگا پر پریشان تھے۔ اس وفد نے برطانیہ روانگی سے قبل یہ بات بھی کہی کہ اگرایک جماعت اس فیصلہ پر راضی نا بھی ہوتو وہ ضرور ایک ہی جماعت سے قائم مقام حکومت بنائی گی۔

کانگریس نے جلد ہی ہندوستانی وزارت میں شمولیت اختیار کر لی۔ البتہ لیگ نے اس معاملے میں سستی کا مظاہرہ کیا اور اکتوبر 1946ء سے پہلے وہ اس میں شامل نا ہوئی۔ لیگ کی حکومت میں شامل ہونے کی رضامندی کے سبب جناح کو کانگریس سے برابری اور مسلم معاملات میں ویٹو کے مطالبے سے دستبردار ہونا پڑا۔ اس نئی وزارت کی بنیاد مختلف فسادات خاص کر یوم راست اقدام کے منظر نامے میں رکھی گئی۔ کانگریس چاہتی تھی کہ وائسرائے قانونی اسمبلی کو سمن جاری کر کے قانون بنانے کا کہے نیز وہ محسوس کرتے تھے کہ لیگ کے وزراء کو اس معاملے میں ان کا ساتھ دینا چاہے یا مستعفی ہوجانا چاہئے۔ صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے وائسرائے نے جناح ،لیاقت ،نہرو کو دسمبر 1946ء میں لندن روانہ کیا۔ مزکرات کے آخر میں یہ اعلامیہ جاری کیا گیا کہ قانون کو ہندوستان کے کسی بھی علاقے کی منشا کے بغیر نافذ نہیں کیا جائے گا۔واپسی پر جناح اور لیاقت کئی دنوں کے لیے قاہرہ میں پان اسلامک اجلاس میں شرکت کے واسطے ٹھہر گئے۔
کانگریسنے کچھ معاملات کی وجہ سے ہونے والے اختلاف رائے پرلندن کے اس مذاکرات کی توثیق کردی۔ لیکن لیگ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور انہوں نے قانونی اجلاس میں شرکت نا کی۔ جناح اسوقت ہندوستان سے کچھ تعلقات جیسے مشترکہ دفاع یا آمدورفت کے ساتھ رکھنے کا خیال رکھتے تھے۔ لیکن دسمبر 1946ء میں انہوں نے ایک خود مختار پاکستان پر زور دیا۔
لندن معاہدے کی ناکامی کے بعد، جناح کو مذاکرات کرنے کی کوئی جلدی نا تھی وہ سمجھتے تھے کہ وقت کے ساتھ ساتھ وہ غیر منقسم پنجاب اور بنگال کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے، لیکن ان دولت مند، بڑے اور گنجان علاقوں کے بعض حصوں میں مسلم اقلیت میں تھے اور یہی ان کے خیال کو عملی جامہ پہنانے میں رکاوٹ تھے۔اٹیلی منسٹری نے اس دوران میں خواہش کی کہ وہ برطانیہ کے ہندوستان میں سے جلد انخلا کی خواہش رکھتے ہیں،لیکن ویول کی وجہ سے وہ کم حوصلہ مند تھے۔ دسمبر 1946ء کے ابتدا میں برطانیہ نے وائسرائے کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور جلد ان کی جگہ لوئس ماؤنٹ بیٹن نے لے لی، جو ایک جنگی رہنما اور ملکہ وکٹوریہ کے پوتے ہونے کے سبب کونزرویٹو کے ہاں مقبولیت رکھتے تھے نیز وہ اپنی سیاسی نظریات کے سبب لیبر پارٹی میں بھی مقبول تھے۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپنے حکومتی بریفنگ میں جناح کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے انہیں سب سے مشکل ترین گاہک قرار دیا اوربقول ان کے انہوں نے سب سے بڑی پرشانی کھڑی کر رکھی تھی نیز وہ کہتے اس ملک (ہندوستان) میں اب تک کوئی بھی جناح کے دماغ میں نہیں جھانک سکا تھا ۔5 اپریل سے پہلے یہ لوگ چھ مرتبہ ملے۔ اس ملاقات میں موجود تناؤ کی کیفیت میں اس وقت کمی آئی جب جناح نے وائسرائے اور ان کی بیگم کے درمیان میں کھڑے ہوکر تصویر کھینچوائی اور ازراہِ مذاق کہا دو کانٹوں کے درمیان میں ایک گلاب۔ اگرچہ وائسرائے نے اپنی بیگم کو درمیان میں رکھنے کا فیصلہ کیا ۔لیکن جناح کے اس مذاق کو وہ اس سے قبل ہی بھانپ گئے تھے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن جناح سے مثبت طور پر متاثر نا تھے اور انہوں نے اپنے ساتھیوں سے بھی مایوسی کا اظہا کیا تھا وہ جناح کے پاکستان پر کیے جانے والے اصرار پر بیزار ہو گئے تھے۔
جناح کو خوف تھا کہ برطانیہ ہندوستان میں اپنے آخری ایام میں اختیارات کو کانگریس کی طرف موڑ دے گی اور اس سے مسلمانوں کی خود مختاری کے مطالبے کو نقصان پہچے گا۔ جناح نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے برطانوی ہندی فوج کو آزادی سے قبل تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا جو ان کے خیال میں ایک سال تک وقت لے سکتی تھی۔ وائسرائے نے اس تقسیم کو آزادی کے بعد کرنے کا سوچا تھا لیکن جناح آذادی سے قبل اس کا اصرار کر رہے تھے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے جناح سے ملاقات کے بعد لیاقت علی خان سے ملاقات کی اور جو نتائج اخذ کیے انہیں وزیر اعظم کے ارسال کیے۔ انہوں نے لکھا کہ ایسا لگتا ہے کہ مسلم لیگ فوج کی جانب رجوع کرے گی اگر پاکستان اپنے اصل حال میں آذادی حاصل نا کر پائی۔ وائسرائے اسمبلی کے رپورٹ پر منفی مسلم رد عمل سے بھی متاثر تھے جو مرکز ی اسمبلی کو زیادہ اختیارا تفویض کرنے کا کہہ رہے تھے۔

ریڈکلف سرحدی کمیشن نے بنگال اور پنجاب کی تقسیم کا کام مکمل کر کے رپورٹ 12 اگست کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو بھجوا دی۔ اس آخری وائسرائے نے یہ نقشے اور رپورٹ 17 اگست تک اپنے پاس رکھے، کیونکہ وہ انہیں سامنے لاکر دونوں قوموں کی آزادی کی جشن کو خراب کرنا نہیں چاہتے تھے۔ چونکہ پہلے ہی سے ہجرت اور فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ لہذا ریڈکلف سرحدی کمیشن رپورٹ کا سامنے لانا ان فسادات میں اضافے کا سبب بن سکتا تھا۔ جو لوگ غلط حصے میں تھے یا تو قتل ہوئے یا قاتل بنے یا وہاں سے کوچ کرگئے، وہ واقعات کو پیدا کر کے کمیشن کے فیصلے کو بدلنا چاہتے تھے۔ ریڈ کلف نے لکھا کہ چونکہ انھیں معلوم تھا کہ دونوں ہی طرف سے اس تقسیم پر لوگ خوش نہیں ہونگے لہذا انہوں نے اپنے کام کا معاوضہ لینے سے انکار کر دیا۔ ریڈکلف کے ذاتی مشیر بیومونٹ لکھتے ہیں کہ لارڈ ماونٹ بیٹن کو بھی اس الزام کو اپنے سر لینی چاہئے- اگرچہ تمام کو نہی- ان پانچ لاکھ سے دس لاکھ مردوں، عورتوں اور بچوں کے قتل عام کا جو پنجاب سے گزرتے ہوئے فنا ہوئے۔ تقسیم کے بعد 14500،000 لوگوں نے بھارت اور پاکستان میں ہجرت کی۔ جناح نے پاکستان میں داخل ہونے والے اسی لاکھ لوگوں کی آباد کاری کے لیے جو ممکن ہوا وہ کیا باوجود 70 کے پیٹے میں ہونے اور پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا ہونے کہ انہوں نے مغربی پاکستان میں مہاجر کیمپوں کا دورہ کیا۔بقول احمد کہ جس چیز کی اس دور میں پاکستانیوں کو ضرورت تھی وہ ایک ریاست کی علامت تھی،جوانہیں متحد رکھتی اور کامیاب ہونے تک کا حوصلہ فراہم کرتی۔
جناح کو صوبہ سرحد کی جانب سے کچھ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 1947ء میں کیے گئے رائے دہی میں وہاں کی آبادی میں سے صرف دس فیصد لوگوں نے ہی ووٹ ڈالے تھے۔ ۔ 22 اگست 1947ء کو گورنر جنرل بننے کے صرف دو ہفتے بعد ہی جناح نے ڈاکٹر خان عبدالغفار خان کی حکومت کو تحلیل کر دیابعد میں پشتون اکثریتی اس صوبے میں ایک کشمیری خان عبدالقیوم خان کواس مقام پر فائز کیا۔12 اگست 1948ء کو چارسدہ میں خدائی خدمتگار سے منسلک 400 بابرا واقعے میں ہلاک ہوئے۔
پاکستان نے عوامی املاک کو پاکستان اور بھارت کے مابین تقسیم کرنے والے کمیشن میں لیاقت علی خان اور سردار عبدالرب نشترکو نمائندہ بنا کر بھیجا۔ پاکستان نے ان سرکاری املاک میں سے چھٹا حصہ لینا تھا اور اس میں بڑی احتیاط سے کام لیا گیا تھا اور یہاں تک کہ یہ بھی فیصلہ ہوا تھا کہ کس ملک نے کاغذوں میں کتنا حصہ لینا ہے۔ لیکن دوسری طرف نئی بھارتی حکومت سستی دکھا رہی تھی اور اس امید سے تھی کہ نوزائیدہ پاکستانی حکومت کب ٹوٹے اور دوبارہ بھارت میں شامل ہو۔ انڈین سول سروس اور انڈین پولیس سروس کے کچھ ہی لوگوں نے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا تھا لہذا پاکستان میں عملے کی کمی سامنے آئی۔ جبکہ کاشت کار جہاں اپنے اناج فروخت کرتے تھے وہ اب ایک عالمی سرحد میں تبدیل ہوچکی تھی۔ پاکستان میں اس وقت مشینری کی بھی کمی تھی۔ نئے آنے والے مہاجروں کے مسئلے کے ساتھ ،نئی حکومت نے خوراک کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی کام کرنا پڑا،ان دگروں حالات میں سیکیورٹی کا نظام بنالیا گیا اور جیسے تیسے بنیادی خدمات فراہم کی گئی۔ ماہر معاشیات یاسین نیاز محی الدین اپنے مطالعے میں کہتے ہیں،اگرچہ پاکستان کو وجود بحرانوں اور خونریزی کے دوران ملی تھی لیکن تقسیم کے بعد اس کا وجود صرف اس کے لوگوں کی قربانیوں اور قائدین کی بے غرض کوششوں سے برقرار رہ سکی۔
نوابی ریاستیں کو برطانیہ نے جاتے ہوئے یہ مرضی دے رکھی تھی کہ آیا وہ پاکستان میں شمولیت اختیار کریں یا بھارت میں۔ اکثر نے آزادی سے قبل ہی اپنی شمولیت ظاہر کردی تھی لیکن کچھ بڑی ریاستوں کا معاملہ لٹکا رہا۔ ہندو رہنما جناح سے اس بات پر خائف تھے کہ انہوں نے جودھ پور، ریاست بھوپال،اور اندور کی ریاستوں کے شہزادوں کو پاکستان میں شامل ہونے پر رضامند کر لیا تھا -ان ریاستوں کی سرحدیں پاکستان سے متصل نا تھیں اور نا انکی آبادی کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھے۔ جوناگڑھ کی ریاست جو ہندو اکثریت تھی نے ستمبر 1947ء میں پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اس ریاست کے حکمران دیوان کی موجودگی میں سر شاہ نواز بھٹو نے شمولیت کے کاغذات جناح کے حوالے کیے۔ بھارتی فوجوں نے نومبر میں اس علاقے میں داخل ہوکر یہاں کے نواب اور سر شاہنواز بھٹو کو پاکستان جانے پر مجبور کیا اور انھی بھٹو سے پاکستان کے ایک طاقتور سیاسی خاندان بھٹو خاندان کی ابتدا ہوتی ہے۔
ان تمام تنازعوں میں ریاست جموں و کشمیر کا تنازع سب سے بڑا ہونے ہونے والا تھا۔ اس ریاست کی آبادی میں مسلمان اکثریت میں تھے جس پر ایک ہندو مہاراجہ سر ہری سنگھ کی حکومت تھی اور انہوں نے اپنی شمولیت کا فیصلہ تعطل میں رکھا ہوا تھا۔ مقامی آبادی نے پاکستانی دخل اندازوں کی مدد سے اکتوبر 1947ء میں بغاوت کھڑی کردی جسے دیکھتے ہوئے مہاراجہ نے بھارت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ جناح نے اس عمل کی مخالفت کرتے ہوئے پاکستانی فوجوں کو کشمیر میں داخل ہونے کا حکم دیا۔ پاک فوج کے سربراہ اسوقت ایک برطانوی افسر جنرل سر ڈوگلاس گریسی تھے، جنھوں نے یہ حکم اس جملوں کو ادا کرتے ہوئے ماننے سے انکار کیا کہ وہ ایسے علاقوں میں داخل نا ہوگی جو ایک دوسرے ملک کی ہے نیز اس معاملے میں جب تک برطانیہ سے کوئی حکم نا آئے وہ کشمیر پر حملہ نہی کریں گے اس پر جناح نے اپنے احکامات واپس لے لیے۔ یہ ان حملوں کو نا روک سکی جو پاکستان اور بھارت میں جنگ کی صورت میں تبدیل ہو گئے تھے۔
کچھ مورخین جناح پر جوناگڑھ جیسی ہندو اکثریتی علاقوں کو حاصل کرنے کی کوششوں کی وجہ سے بدنیتی کا الزام دھرتے ہیں کیونکہ جناح نے مسلک کی بنیاد پر تقسیم کا مطالبہ کیا تھا۔ پٹیل اے لائف میں راج موہن گاندھی لکھتے ہیں کہ جناح نے جوناگڑھ میں عوامی اصتصواب رائے معلوم کروانی تھی جس میں انھیں یقینی شکست تھی لہازا وہ اسی بنیاد پر بعد میں کشمیر میں استصواب رائے کا مطالبہ کرنا چاہتے تھے۔اقوام متحدہ کی 47 ویں قرارداد جو بھارت کی استصواب رائے کی خواہش پر منظور کی گئی لیکن اس پر کبھی عمل نا ہو سکا۔
جنوری 1947ء میں بھارت نے پاکستان کو برطانوی وراثت میں حصہ دینے کا فیصلہ کیا۔ ان پر ذور گاندھی نے ڈالا تھا جنھوں نے تادم مرگ روزہ رکھنے کی دھمکی دی تھی۔ کچھ ہی دنوں بعد گاندھی کو قتل کر دیا گیا انکے قاتل ناتھورام گودسے تھے جو ایک ہندو قوم پرست تھے اور ان کے خیال میں گاندھی ایک مسلم حمایتی تھے۔ جناح نے اپنے تعزیتی پیغام میں گاندھی کے بارے میں کہا ہندو مسلک میں پیدا ہونے والے عظیم اشخاص میں سے ایک۔فروری 1948 میں امریکی عوام کو ریڈیو کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے جناح نے کہا:

مارچ میں جناح نے باوجود اپنی طبیعت کے خراب ہونے کہ مشرقی پاکستان کا دورہ کیا۔ جناح نے انگریزی میں تین لاکھ لوگوں سے خطاب میں کہا، اردو پاکستان کی واحد قومی زبان ہوگی،اور وہ یقین رکھتے تھے کہ ایسا کرنے سے قوم متحد رہ پائے گی۔ لیکن مشرقی پاکستان کے بنگالی زبان بولنے والے لوگوں نے بعد میں اس کی سخت مخالفت کی اور اس معاملے نے 1971ء میں بنگلہ دیش کے قیام میں ایک اہم کردار ادا کیا۔
قیام پاکستان کے بعد پاکستانی نوٹوں پر جارج پنجم کی تصویر چھپی ہوئی تھی۔ یہ نوٹ 30 جون 1949ء تک استعمال میں رہے۔ لیکن اپریل 1949ء کو ان نوٹوں پر حکومت پاکستان کے سٹیمپ ثبت کیے گئے اور انھیں قانونی اجازت فراہم کی گئی۔ اسی دن پاکستان کے وزیر خزانہ پاکستان ملک غلام محمد نے سات سکوں کا سیٹ گورنمنٹ ہاوس میں جناح کے سامنے متعارف کروایا (رو۔ 1، رو۔ 1⁄2، ر۔ 1⁄4، ا۔ 2، اے۔ 1، ا۔ 1⁄2 اورپائی۔ 1) یہ سکے حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے پہلے سکے تھے۔

کئی سال بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کہا کہ اگر انہیں جناح کی خرابی صحت کا معلوم ہوتا تو یقینا وہ انکی موت تک انتظار کرتے اور اس طرح تقسیم سے بچا جاسکتا تھا۔ فاطمہ جناح بعد میں لکھتی ہیں کہ، جناح اپنے کامیابیوں کے دور میں بھی سخت بیمار تھے۔۔ وہ جنون کی حد تک پاکستان کو سہارا دینے کے لیے کام کرتے رہے اور ظاہر سی بات ہے کہ انہوں نے اپنی صحت کو مکمل نظر انداز کر دیا تھا۔ جناح اپنے میز پر کراؤن اے سگریٹ اور کیوبا کا سگار رکھتے تھے اور پچھلے تیس سال میں انہوں نے سگریٹ نوشی بہت زیادہ کردی تھی۔ گورنمنٹ ہاوس کراچی کے پرائیویٹ حصے میں وہ لمبے وقفے آرام کے واسطے لینے لگے تھے اور فاطمہ جناح اور ذاتی عملے کو ہی ان کے قریب رہنے کی اجازت تھی۔
جون 1948ء میں وہ اور فاطمہ جناح کوئٹہ روانہ ہوئے جہاں کی ہوا کراچی کے مقابل سرد تھی۔ وہاں بھی انہوں نے مکمل آرام نا کیا بلکہ انہوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کے آفسروں کو خطاب کرتے ہوئے کہا آپ دیگر افواج کے ساتھ پاکستان کے لوگوں کی جانوں، املاک اور عزت کے محافظ ہیں۔ وہ یکم جولائی کو کراچی روانہ ہوئے جہاں انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جلسے سے خطاب کیا،اسی شام کینیڈا کے تجارتی کمیشن کی جانب سے آذادی کے حوالے سے منعقد تقریب میں شرکت کی جو انکا آخری عوامی جلسہ ثابت ہوا۔

بھارتی وزیر اعظم نہرو نے جناح کی وفات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا،ہمیں انہیں کیسے پرکھنا چاہئے؟ میں پچھلے کئی سالوں کے دوران میں ان پر سخت غصہ رہا تھا۔ لیکن اب میرے خیالوں میں ان کے لیے کوئی کڑواہٹ باقی نہی رہی،لیکن جو کچھ ہونے پر بڑی ندامت کے سوا۔۔ وہ اپنے مطالبے کو حاصل کرنے میں کامیاب ٹھہرا، لیکن کس قیمت پر اور کس اختلاف سے جو کچھ اس نے سوچا تھا۔ جناح کو 12 ستمبر 1948ء کو دونوں ملکوں بھارت اور پاکستان میں سرکاری سوگ کے درمیان میں دفنا دیا گیا۔ ان کے جنازے پر لاکھوں لوگ شریک ہوئے۔ بھارت کے گورنر جنرل راجہ گوپال اچاری نے اس دن ایک سرکاری تقریب کو اس مرحوم قائد کے اعزاز میں منسوخ کیا۔ آج جناح کراچی میں سنگ مرمر کے ایک مقبرے مزار قائد میں آسودہ خاک ہیں۔

جناح کی بیٹی دینا واڈیہ آزادی کے بعد میں نیویارک مستقل طور پر منتقل ہونے سے قبل بھارت میں قیام پزیر رہیں۔ 1965ء کے صدارتی انتخابات میں مادر ملت فاطمہ جناح نے ایوب خان کے مخالف جماعتوں کی جانب سے صدارتی امیدوار بننے کا فیصلہ کیا لیکن کامیابی حاصل نا کر پائی(آج بھی کئی سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ انتخابات دھاندلی سے پر تھے)۔
مالابار پہاڑی بمبئی میں موجود جناح کا مکان آج بھارتی حکومت کے انتظام میں ہے لیکن اس کی ملکیت کے بارے میں پاکستان اور بھارت تنازع کا شکار ہیں۔ جناح نے وزیراعظم نہرو سے درخواست کی تھی کہ وہ اس مکان کو حکومتی تحفظ دیں اس امید پر کہ جناح ایک دن ممبئی جائیں گے۔ اس عمارت کو پاکستانی قونصل خانے میں بدلنے کی تجاویز بھی گردش کرتی رہی ہیں، لیکن دینا واڈیہ نے بھی اس پر حق ملکیت کا دعوٰی کر رکھا ہے۔ جناح کی وفات کے بعد فاطمہ جناح نے جناح کے قانونی کاروائیوں کو شیعہ فقہ کے مطابق مکمل کرنے کا کہا۔ اس عمل سے جناح کے مسلک کے بارے میں پاکستان میں بحث چھڑی۔ ولی نثر کہتے ہیں جناح اگرچہ پیدائشی اسماعیلی (شیعہ) اور اعترافاََ بارہ امامی (شیعہ) تھے، لیکن وہ مذہب پر ظاہراََ نہیں چلتے تھے۔ 1970ء میں حسنین علی گنجی ولجی نے قانونی دعویٰ کیا کہ جناح نے سنی مسلک اختیار کر لیا تھا، لیکن ہائی کورٹ نے اسے مسترد کرتے ہوئے 1976ء میں جناح کے خاندان کے شیعہ مسلک پر ہونے کا فیصلہ دیا۔ ایک صحافی خالد احمد کے نزدیک جناح فرقہ پرستی کے مخالف تھے اور جناح نے ہندوستان کے مسلمانوں کو بنیادی اسلامی تشخص پر لانے کے لیے تکالیف اٹھائی نا کہ تقسیم زدہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر۔ احمد ایک انوکھے پاکستانی عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہیں جس میں لکھا ہے جناح ایک سیکولر مسلم تھے لہذا وہ شیعہ سنی کے زمرے میں داخل نہیں ہیں۔ اور 1984ء میں لیاقت ایچ مرچنٹ نے اس فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا  جناح نا سنی تھے، نا ہی شیعہ بلکہ وہ ایک سادہ مسلمان تھے۔

جناح کی وراثت پاکستان ہے۔ محی الدین کے بقول پاکستان میں جناح کا احترام و اہمیت ویسی ہی رہے گی جیسے امریکا میں جارج واشنگٹن کی پاکستان اپنے وجود کا حق انکے پرکھنے، چلانے اور استحکام کی وجہ سے رکھ پایا۔۔۔ قیام پاکستان میں جناح کی اہمیت ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے اوراسے ناپنا ممکن نہیں۔

اسٹینلی وولپرٹ نے 1998ء میں انکے اعزاز میں تقریر کرتے ہوئے انھیں پاکستان کا سب سے عظیم قائد قرار دیا۔

بقول سنگھ جناح کے وفات سے پاکستان نے اپنے صبح گنو ا دئے۔ جیسے بھارت میں گاندھی آسانی سے پیدا نہی ہوسکتا ،اسی طرح نا پاکستان میں کوئی جناح۔ ملک لکھتے ہیں جناح جب تک زندہ تھے، وہ علاقائی رہنماوں کو مشترکہ تجارت پر متفق اور حتیٰ کہ مجبور بھی کر سکتے تھے،لیکن انکے انتقال کے بعد، اتفاق رائے نا ہونے کے سبب سیاسی طاقت اور معاشی ذرائع تنازع کی جانب مڑ گئیں۔
محی الدین کے نزدیک، جناح کی وفات سے پاکستان ایک ایسے رہنما سے محروم ہوا جو توازن اور جمہوری حکومت کو برقرار رکھ سکتا تھا۔۔ پاکستان کی پتھریلی اور اس کے مقابل بھارت کی قدرے ہموار جمہوری سٹرک کے فرق کو اس نہایت قابل احترام اور کرپشن سے پاک قائد کو آزادی کے بعد بہت جلدی کھونے سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔

جناح کی تصویر تمام پاکستانی کرنسیوں پر موجود ہے اور انکے نام پر کئی سرکاری ادارے ہیں۔ کراچی کا پرانا ہوائی اڈا قائد اعظم انٹرنیشنل ائیر پورٹ اب جناح عالمی ہوئی اڈا کہلاتا ہے، جو پاکستان کا سب سے مصروف ہوائی اڈا ہے۔ ترکی کا سب سے بڑا شاہراہ شارع جناح کے نام سے موسوم ہے، جبکہ تہران میں ایک سڑک کا نام محمد علی جناح ایکسپریس وے رکھا گیا ہے۔ 1976ء میں ایران کی شاہی حکومت نے جناح کی تاریخ پیدائش پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجرا کیا۔ امریکی شہر شکاگو میں دیون ایوینیوں کا ایک حصہ محمد علی جناح سے منسوب ہے۔ مزار قائد کراچی کا ایک مشہور عوامی مقام ہے۔جناح مینار گنٹور اندھراپردیش میں جناح کی یاد میں تعمیر کیا گیا۔

پاکستان میں جناح پر تحقیق کرنے والے عالموں کی کمی نہی ہے اکبر۔ ایس۔ احمد کے نزدیک مقامی لکھاریوں کا کام بیرون ملک زیادہ مقبولیت نہیں رکھتا کیونکہ انکے کاموں میں جناح پر بہت کم تنقید کی جاتی ہے۔ احمد کے نزدیک بیرون ملک کتابوں میں کہا جاتا ہے کہ جناح شراب نوشی کرتے تھے جبکہ پاکستان میں اس بات کو کتابوں سے حزف کر دیا گیا ہے۔ احمد کے نزدیک شراب نوشی کے قصے کو سامنے لانے سے جناح کے اسلامی تشخص کو نقصان پہنچے گا،لیکن جو لوگ اس پر بات بھی کرتے ہیں تو ان کے نزدیک جناح نے عمر کے آخری حصے میں اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔

مورخ عائشہ جلال کے نزدیک پاکستان میں جناح کی شخصیت کو بیان کرتے ہوئے مبالغہ آمیزی سے کام لیا جاتا ہے جبکہ بھارت میں انھیں منفی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ احمد کے نزدیک بھارت کی نئی تاریخ میں جناح بدنام ترین شخصیت ہیں۔۔ بھارت میں بہت سے لوگ انھیں زمین تقسیم کرنے والے بھوت کے طور پر دیکھتے ہیں۔حتیٰ کہ بہت سے بھارتی اقلیتی مسلم انھیں اپنے رنج الم کا سبب سمجھتے ہیں۔کچھ لکھاریوں جیسے جلال، ایچ ایم سروائی اور جسونت سنگھ کے نزدیک جناح کبھی بھی تقسیم کے حامی نا تھے- یہ کانگریسی رہنماوں کی ضد تھی جو وہ مسلمانوں کے ساتھ اختیارات کی شراکت پر راضی نا تھے۔ انکے نزدیک جناح کی جانب سے مطالبہ پاکستان صرف مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ سیاسی حقوق دلانے کی خاطر تھا۔ بھارتی قوم پرست رہنما لال کرشن اڈوانی نے جناح کی توصیف بھی کی جس کی وجہ سے انکی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی میں کافی ہلچل ہوئی۔

مغرب کے لوگ جناح کے بارے میں کسی حد تک 1982ء کے فلم گاندھی میں موجود انکے کردار سر رچرڈ اٹنبورو سے بھی متاثر ہیں۔ اس فلم کو نہرو اور ماونٹ بیٹن کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے بنایا گیا تھا اور اس فلم کی حمایت نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی نے بھی کی تھی۔ اس فلم میں جناح کا کردار ( جسے لکھا الائق پدسی نے ہے) ایک ایسے شخص کا دکھایا گیا ہے جو گاندھی سے حسد کا شکار نظر آتا ہے۔ پدمسی نے بعد میں اقرار کیا کہ جناح کے کردار کو تاریخی تناظر میں درست نہی دکھایا گیا۔
پاکستان کے پہلے گورنر جنرل پر لکھے گئے ایک مضمون میں تاریخ دان آر جے موری، لکھتا ہے قیام پاکستان میں جناح کا مرکزی کردار کائناتی طور پر تسلیم شدہ ہے۔ ولپرٹ دنیا پر جناح کے اثر کو مختصراََ لکھتے ہیں:

ایک تحقیق  میں یوسف لکھتے ہیں کہ جناح کی طرز رہنمائی انکی سیاست کے بعد اور آزادی کے بعد بھی تمام ہندوستانی مسلمانوں کے واحد نمائندے کے طور پر رہی۔




#Article 48: چودھری رحمت علی (1108 words)


چودھری رحمت علی پاكستان كا نام تجويز كرنے والے ايك مخلص سیاست دان تھے۔ انہیں دنیا کا پہلا پاکستانی کہا جاتا ہے۔

چودھری رحمت علی 16 نومبر، 1897ء کو مشرقی پنجاب کے ضلع ہوشیار پور کے گاؤں مو ہراں میں ایک متوسط زمیندار جناب حاجی شاہ گجر کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے ایک مکتب سے حاصل کی جو ایک عالم دین چلا رہے تھے۔ میٹرک اینگلو سنسکرت ہائی اسکول جالندھر سے کیا۔ 1914ءمیں مزید تعلیم کے لیے لاہور تشریف لائے انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔1915ء میں ایف اے اور 1918ء میں بی اے کیا۔

اسلامیہ کالج کے مجلے دی کریسنٹ کے ایڈیٹر اور اور کئی دیگر طلبہ سے متعلق بزموں کے عہدیدار بھی رہے۔ اسلامیہ کالج میں بزم شبلی قائم کی، جس کے 1915ء کے اجلاس میں محض 18 برس کی عمر میں تقسیم ملک کا انقلاب آفرین نظریہ پیش کیا، جس کی مخالفت پر آپ اس بزم سے الگ ہو گئے۔ آپ نے یہ نظریہ پیش کرتے ہوئے فرمایا

اخبار کشمیر گزٹ میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے اپنے کیئریر کا آغاز کیا۔ آپ نے پاکستان دی فادرلینڈ آف پاک نیشن، مسلم ازم اور انڈس ازم وغیرہ کتابچے بھی لکھے۔ چوہدری رحمت علی ایچی سن کالج لاہور میں لیکچرار مقرر ہوئے اور جیفس کالج میں بھی ملازمت کی۔ آپ نے بعض اخباروں میں ملازمت بھی اختیار کی۔

ایسے وقت میں جب ہندو و مسلم قائدین لندن میں جاری گول میز کانفرنسوں کے دوران وفاقی آئین کے بارے میں سوچ رہے تھے، یکم اگست، 1933ء کو جوائینٹ پارلیمینٹری سلیکٹ کمیٹی نے چودھری رحمت علی کے مطالبہ پاکستان کا نوٹس لیتے ہوئے ہندوستان وفد کے مسلم اراکین سے سوالات کیے۔ جواباً سر ظفر اللہ، عبداللہ یوسف علی اور خلیفہ شجاع الدین وغیرہ نے کہا کہ یہ صرف چند طلبہ کی سرگرمیاں ہیں، کسی سنجیدہ شخصیت کا مطالبہ نہیں جس پر توجہ دی جائے۔ 1938ء میں آپ نے بنگال، آسام اور حیدرآباد دکن کی آزادی کے حق میں بھی آواز بلند کی اور سب کانٹیننٹ آف براعظم دینیہ  کا تصور پیش کیا۔ جن میں پاکستان، صیفستان، موبلستان، بانگلستان، حیدرستان، فاروقستان، عثمانستان وغیرہ شامل تھے۔ جن میں جغرافیائی محل وقوع کا تعین کیا گیا تھا اور با قاعدہ نقشے دیے گئے تھے۔ اور 8 مارچ، 1940ء کو کراچی میں پاکستان نیشنل موومنٹ کی سپریم کونسل سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے حیدرآباد دکن کے لیے عثمانستان کے نام سے آزاد اسلامی ریاست کا خاکہ پھر پیش کیا۔

آپ لاہور میں ہونے 23 مارچ 1940ء کے مسلم لیگ کے تاریخ ساز جلسے میں شرکت نہ کر سکے کہ خاکسار تحریک اور پولیس میں تصادم کے باعث اس کشیدہ صورت حال میں پنجاب حکومت نے آپ پر پنجاب میں داخلے کی پابندی عائد کر دی۔ جبکہ بعض حلقوں کے مطابق اس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی وجہ مسلم لیگ کے ساتھ آل انڈیا کے لفظ کا استعمال تھا۔ کیونکہ آپ اس کے سخت مخالف تھے اور اس خطے کا ذکر برصغیر یا دینیہ کہہ کرکرتے تھے۔ آپ مسلمانوں کو برصغیر کے اصل وارث سمجھتے تھے کیونکہ انگریزوں نے مسلمانوں سے ہی حکومت چھینی تھی اور تمام برصغیر کو ایک ریاست میں متحد کرنے والے بھی مسلم ہی تھے۔ اس جلسے میں اگرچہ آپ کا تجویز کردہ نام پاکستان شامل نہیں تھا مگر برصغیر کے ہندو پریس نے طنزاً اسے قرارداد پاکستان کہنا شروع کیا اور بالاخر یہ طنز سچ کا روپ دھار گیا۔

قیام پاکستان کے بعد آپ دو بار پاکستان تشریف لائے مگر نامناسب حالات اور رویوں کے باعث آپ دل برداشتہ ہو کر دوبارہ برطانیہ چلے گئے اسی دوران آپ کا 20 مئی 1948ء کو پاکستان ٹائمز میں انٹرویو بھی شائع ہوا۔

مورخ ڈاکٹر راجندر پرشاد اپنی کتاب India Divided میں رقمطراز ہیں کہ

مشہور ترک ادیبہ خالدہ خانم کی مشہور کتاب Inside India کا ایک باب چوہدری رحمت علی کے انٹرویو پر مشتمل ہے جو 1937ء میں پیرس میں شائع ہوئی۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ

اس طرح 1933ء میں انہوں نے برصغیر کے طلباءپر مشتمل ایک تنظیم پاکستان نیشنل لبریشن موومنٹ کے نام سے قائم کی۔ اسی سال چودھری رحمت علی نے دوسری گول میز کانفرنس کے موقع پر اپنا مشہور کتابچہ Now or Never۔۔ ابھی یا کبھی نہیں۔۔۔ شائع کیا جس میں پہلی مرتبہ لفظ پاکستان استعمال کیا۔ اسی طرح انہوں نے پاکستان، بنگلستان اور عثمانستان کے نام سے تین ممالک کا نقشہ بھی پیش کیا۔پاکستان میں کشمیر، پنجاب، دہلی سمیت، سرحد، بلوچستان اور سندھ شامل تھے۔ جبکہ بنگلستان میں بنگال، بہار اور آسام کے علاقے تھے اس کے علاوہ ریاست حیدرآباد دکن کو عثمانستان کا نام دیا۔ 1935ء میں انہوں نے کیمبرج سے ایک ہفت روزہ اخبار نکالا جس کا نام بھی پاکستان تھا۔ چودھری رحمت علی 23 مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے چونتیسویں سالانہ اجلاس میں لاہور تشریف لانا چاہتے تھے لیکن چند روز قبل خاکساروں کی فائرنگ کی وجہ سے اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب جناب سکندر حیات نے چودھری رحمت علی کے پنجاب میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔ وہ 1947ء میں اقوام متحدہ گئے اور کشمیر پر اپنا موقف بیان کیا۔۔

تصور پاکستان کے حوالے سے چودھری رحمت علی اگرچہ ایک بڑا نام تھے لیکن انہوں نے بلوغت کے بعد  اپنی زندگی کازیادہ تر حصہ برطانیہ میں گزارا۔

رحمت علی پاکستان میں رہنا چاہتے تھے  لیکن وزیر اعظم لیاقت علی خان نے انہیں ملک بدر کر دیا۔اُن کی ملکیتی چیزیں ضبط کر لی گئیں۔ اکتوبر 1948 میں انہیں خالی ہاتھ برطانیہ جانا پڑا۔

آپ کا آخری پتہ 114 ہیری ہٹن روڈ تھا اور آپ مسٹر ایم سی کرین کے کرائے دار تھے۔ مسٹر کرین کی بیوہ کے مطابق چوہدری رحمت علی اپنا خیال ٹھیک سے نہیں رکھتے تھے۔ جنوری کے مہینے میں سخت سردی کے دوران ایک رات آپ ضرورت کے کپڑے پہنے بغیر باہر چلے گئے اور واپسی پر بیمار ہو گئے۔ 29 جنوری نمونیہ میں مبتلا ہو کر شدید بیماری کی حالت میں آپ کو ایولائن نرسنگ ہوم میں داخل کرایا گیا لیکن صحت یاب نہ ہو سکے اور وہیں پر 3 فروری1951ء ہفتے کی صبح انتقال ہوا۔

ایمنوئیل کالج، کیمبرج شہر کے قبرستان اور کیمبرج کے پیدائش و اموات کے ریکارڈ کے مطابق 3 فروری، 1951ء بروز ہفتہ کی صبح اس عظیم محسن نے کسمپرسی کی حالت میں برطانیہ میں اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کر دی۔

وزراتوں، الاٹمنٹوں، کلیموں، ہوس اقتدار کے ماروں کو خبر بھی نہ ہوئی کہ ان کے ملک کی تحریک کے صف اول کا مجاہد 200 پونڈ کا قرض اپنی تجہیز و تکفین کی مد میں کندھوں پر لے چلا ہے۔ مگر سات دہائیوں کے بعد بھی یونہی دیار غیر میں چند گمنام مقبروں کے درمیان ابھی تک امانتاً دفن ہے۔

حکومتِ پاکستان نے ان کی یاد میں ہیروز آف پاکستان سیریز میں یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا تھا۔




#Article 49: پرویز مشرف (714 words)


جنرل (ر) پرویز مشرف (پیدائش: 11 اگست 1943ء، دہلی) پاکستان کے دسویں صدر تھے۔ مشرف نے 12 اکتوبر 1999ء کو بطور رئیس عسکریہ ملک میں فوجی قانون نافذ کرنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کو جبراً معزول کر دیا اور پھر 20 جون 2001ء کو ایک صدارتی استصوابِ رائے کے ذریعے صدر کا عہدہ اختیار کیا۔ جس سے قبل آپ ملک کے چیف ایگزیکٹو (chief executive) کہلاتے تھے۔ مشرف نے 18 اگست 2008ء کو قوم سے اپنے خطاب کے دوران میں اپنے استعفی کا اعلان کیا۔ انہوں نے متواتر آئین کی کئی خلاف ورزیاں کیں اور علی الاعلان اس کو مانا۔

جنرل پرویز مشرف نے بھارت کے ساتھ ہونے والی دونوں جنگوں یعنی پاک بھارت جنگ 1965ء اور پاک بھارت جنگ 1971ء میں حصہ لیا اور کئی فوجی اعزازات حاصل کیے لیکن پرویز مشرف کے سینیر آفیسر اور استاد جرنل حمید گل کا کہنا ہے کہ مشرف ان دونوں جنگوں میں سے کسی میں شریک نہیں ہوئے۔

جب 12 اکتوبر 1999ء میں نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو معطل کر کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل خواجہ ضیاء الدین کو نیا آرمی چیف مقرر کرنا چاہا تو اس وقت جنرل پرویز مشرف ملک سے باہر سری لنکا میں سرکاری دورے پر گئے ہوئے تھے اور ملک واپس آنے کے لیے ایک کمرشل طیارےپر سوار تھے۔ تب فوج کے اعلیٰ افسران نے ان کی برطرفی کو مسترد کر دیا اور بغاوت کر دی۔ وطن پہنچ کر جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی منتخب جمہوری حکومت کو معزول کر دیا اور ان کے خلاف ایک کیس تیار کر دیا۔ ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی اور تین سالوں میں الیکشن کروانے کا وعدہ کیا۔ بعض ذرائع کے مطابق یہ پلان پہلے سے ہی بنا ہوا تھا اور یہی وجہ تھی کہ مشرف کو معطل کیا جا رہا تھا۔

اس جنگ کے دوران میں پرویز مشرف نے امریکی ہدایات پر 689 افراد کو گرفتار کیا جن میں سے 369 افراد بشمول خواتین کو امریکا کے حوالے کیا گیا۔ جنرل مشرف اپنی یاداشت پر مبنی کتاب In The Line Of Fire میں اعتراف کرتے ہیں کہ ہم نے ان افراد کے عوض امریکا سے کئی ملین ڈالرز کے انعام وصول کیے۔ یہ جملہ انہوں نے بعد ازاں اردو ترجمہ سے حذف کر دیا۔ وہ MANHUNT نامی مضمون میں لکھتے ہیں۔

پرویز مشرف کے گرفتار اور امریکی کے حوالے کیے جانے والے افراد میں اکثریت ان عام افراد کی تھی جو افغانستان میں تعلیمی و فلاحی یا نجی کاموں سے گئے تھے جن کو امریکا نے گوانتا ناموبے میں کئی برس تک بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد بالآخر رہا کر دیا۔

اکتوبر 2002 میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ق) نے قومی اسمبلی کی اکثر سیٹیں جیت لیں۔ یہ جماعت اور جنرل پرویز مشرف ایک دوسرے کے زبردست حامی تھے۔ دسمبر 2003 میں جنرل پرویز مشرف نے متحدہ مجلس عمل کے ساتھ معاہدہ کیا کہ وہ دسمبر 2004 تک وردی اتار دیں گے لیکن انہوں نے اپنے اس وعدے کو پورا نہ کیا۔ اس کے بعد جنرل پرویز مشرف نے اپنی حامی اکثریت سے قومی اسمبلی میں سترہویں ترمیم منظور کروا لی جس کی رو سے انہیں پاکستان کے باوردی صدر ہونے کا قانونی جواز مل گیا۔

پرویز مشرف نے 18 اگست، 2008 کو قوم سے خطاب میں اپنے مستعفی ہو نے کا اعلان کیا۔ اُن کی جگہ آئین کے تحت سینٹ کے چیئر مین میاں محمد سومرو نے عبوری صدر کا عہدہ سنبھالا۔ پارلیمنٹ کو ایک مہینے کے اندر اندر نئے صدر کا انتخاب کرنا تھا۔ چنانچہ 18 فروری کے عام انتخابات 2008ء کے بعد نئی حکومت کے آصف علی زرداری نے نئے صدر کا حلف اٹھایا۔ بحیثیت صدر پرویز مشرف نے اپنی خود نوشت انگریزی میں بنام ان دی لائین آف فائر (انگریزی: In the Line of Fire) تحریر کی جس کو اردو میں سب سے پہلے پاکستان کے نام شائع کیا گیا۔

صدارت سے ہٹنے کے کچھ دیر بعد مشرف برطانیہ جا کر مقیم ہو گئے۔ 2011ء میں زرداری حکومت نے بے نظیر قتل مقدمہ کی تفتیش کی خاطر مشرف کو پاکستان واپس بھیجنے کا برطانیہ سے مطالبہ کیا جو برطانیہ نے رد کر دیا۔

فائل:Debt under Musharraf.png|تصغیر|سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مشرف کے دور حکومت میں پاکستان پر قرضوں کے بوجھ میں بڑی کمی آئی تھی۔




#Article 50: کمانڈر نیک محمد (404 words)


کمانڈر نیک محمد کا تعلق جنوبی وزیرستان کے احمد زئی وزیر قبیلے کے یار گل خیل خاندان سے تھا۔ انہوں نے تعلیم وانا کے ہائی سکول سے حاصل کی اور وانا میں لوگوں نے بتایا ہے کہ وہ تعلیم میں کوئی زیادہ نمایاں نہیں رہے۔ 

ابتدائی طور پر نیک محمد نے دینی مدرسے سے بھی تعلیم حاصل کی لیکن اسے مکمل نہ کرسکے۔ افغانستان سے اس کے رابطے شروع سے رہے ہیں۔ نیک محمد کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ افغانستان سے مختلف اشیاء لا کر وانا میں فروخت کرتے تھے جس سے ان کا گزر بسر چلتا

نیک محمد انیس سو پچانوے میں طالبان تحریک میں شامل ہو گئے اور بگرام میں شمالی اتحاد کے خلاف طالبان کے ہمراہ لڑائی میں حصہ لیااور فتح حاصل کی۔ اس کے بعد نیک محمد مسلسل مختلف محاذوں پر طالبان کے ساتھ رہا۔

نیک محمد نے طالبان کی شکست کے وقت افغانستان سے فرار ہو کر آنے والے جنگجوؤں کو پناہ بھی دی لیکن نیک محمد کے بارے میں دو مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ ایک یہ کہ نیک محمد نے امریکا کے خلاف جنگ میں خود حصہ لیا تھااور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ وانا آگیا تھا۔ دوسرا یہ کہ نیک محمد نے خود امریکا کے خلاف طالبان کی جانب سے جنگ نہیں لڑی لیکن خود طالبان کا بڑا حمایتی رہا ہے۔

امارت اسلامیہ افغانستان کے سقوط کے بعد، نیک محمد اور ان کے قبیلے نے عرب، ازبک، ئویغور اور دیگر مجاہدین کو پناہ دی جبکہ پاکستانی حکومت ان کو امریکا کے حوالے کرنا چاہتی تھی۔ پاکستانی فوج نے جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں نیک محمد اور ان کی امان میں موجود غیر ملکی مجاہدین کو قتل یا گرفتار کرنے کے لیے کارروائی شروع کی۔ یار گل خیل قبیلے پر اجتماعی سزائیں نافذ کی گئیں۔ کارروائی کے دوران کئی معصوم افراد فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے یا نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ 20 کے قریب فوجی بھی مقامی لوگوں کے ہاتھوں جاں بحق ہوئے۔

پاکستانی فوج نے شکائی میں نیک محمد کے ساتھ معاہدہ کیا۔ کچھ دن امن رہا، پھر امریکی ایما پر پاکستانی فوج نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وانا پر پھر سے دھاوا بول دیا۔
شب جمعہ 18 جون 2004ء کو 27 سالہ کمانڈر نیک محمد میزائل حملے میں جاں بحق ہوئے۔ ان کے قبیلے والوں کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ حملہ امریکی پریڈیٹر ڈرون Predator Drone سے کیا گیا، جبکہ پاکستانی فوج اسے اپنا کارنامہ بتاتی ہے۔




#Article 51: پاک فوج (1392 words)


پاک فوج، عسکریہ پاکستان کی سب سے بڑی شاخ ہے۔ اِس کا سب سے بڑا مقصد مُلک کی ارضی سرحدوں کا دِفاع کرنا ہے۔

پاکستان فوج کا قیام 1947 میں پاکستان کی آزادی پر عمل میں آیا۔ یہ ایک رضاکارپیشہ ور جنگجوقوت ہے۔ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز  کے مطابق اپریل 2013 میں پاک فوج کی فعال افرادی قوت 7،25،000 تھی۔ اس کے علاوہ ریزرو یا غیر فعال 5،50،000 افراد(جو 45 سال کی عمر تک خدمات سر انجام دیتے ہیں)کو ملاکر افرادی قوت کا تخمینہ 12،75،000افراد تک پہنچ جاتا ہے۔ اگرچہ آئین پاکستان میں جبری فوجی بھرتی کی گنجائش موجود ہے، لیکن اسے کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔ پاک فوج بشمولِ پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے دُنیا کی ساتویں بڑی فوج ہے۔

پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 243کے تحت، پاکستان کے صدر افواج پاکستان بشمول پاکستانی بری فوج، کے سویلین کمانڈر ان چیف یا سپاہ سالار اعظم کا منصب رکھتے ہیں۔ آئین کے مطابق صدرپاکستان، وزیر اعظم پاکستان کے مشورہ و تائید سے چیف آف آرمی سٹاف پاکستان آرمی یا سپہ سالارپاکستان بری فوج کے عہدے کے لیے ایک چار ستارے والے جرنیل کا انتخاب کرتے ہیں۔ فی الوقت پاک فوج کی قیادت جنرل قمر جاوید باجوہ چیف آف آرمی سٹاف کر رہے ہیں، جبکہ جنرل زبیر محمود حیات چئیرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کی زمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔

حالیہ بڑی کارروائیوں میں آپریشن بلیک تھنڈر سٹارم، آپریشن راہ راست اور آپریشن راہ نجات شامل ہیں۔

لڑائیوں کے علاوہ پاک فوج، اقوامِ متحدہ کی امن کوششوں میں بھی حصّہ لیتی رہی ہے۔ افریقی، جنوبی ایشیائی اور عرب ممالک کی افواج میں ا فواج پاکستان کا عملہ بطورِ مشیر شامل ہوتا ہے۔

پاکستانی افواج کے ایک دستے نے اقوام متحدہ امن مشن کا حصہ ہوتے ہوئے 1993ء میں موغادیشو، صومالیہ میں آپریشن گوتھک سرپنٹ کے دوران میں پھنسے ہوئے امریکی فوجیوں کی جانیں بچانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔

پاکستان فوج 3 جون 1947ء کو برطانوی ہندوستانی فوج یا برٹش انڈین آرمی کی تقسیم کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی۔ تب جلد ہی آزاد ہو جانے والی مملکت پاکستان کو6 بکتر بند، 8 توپخانے کی اور 8 پیادہ رجمنٹیں ملیں، جبکہ تقابل میں بھارت کو 12 بکتر بند، 40 توپخانے کی اور21 پیادہ فوجی رجمنٹیں ملیں۔

اس کے بعد، 1950ءکی دہائی میں، پاکستانی افوج کودو باہمی دفاعی معاہدوں کے نتیجے میں امریکا اور برطانیہ کی طرف سے بھاری اقتصادی اور فوجی امداد موصول ہوئی۔ یہ معاہدے معاہدہ بغداد یا بغداد پیکٹ، جو سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن یا سینٹو کے قیام کی وجہ بنا، اورساوتھ ایسٹ ایشین ٹریٹی آرگنائیزیشن یا سیٹو 1954ء میں ہوئے۔ اس امداد کے نتیجے میں افواج پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کا موقع ملا۔

پہلی بار پاکستانی فوج کی اقتدار میں شراکت جنرل ایوب خان کی 1958ء میں ایک پر امن بغاوت کے ذریعے دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے کنونشن مسلم لیگ بنائی، جس میں مستقبل کے وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو بھی شامل تھے۔

لائبریری آف کانگریس کے ملکی مطالعہ جات ،جو امریکی وفاقی تحقیقی ڈویژن نے کیے، کے مطابق جنگ غیر نتیجہ خیز ثابت ہوئی۔ اگرچہ پاکستان اور بھارت کے جنگی تقابل کے بعد، نسبتاْ کہیں زیادہ کمزور پاکستانی افواج کا بھارتی جارحیت کو محض روک لینا ہی مندرجہ بالا دعوے کی تردید کے لیے کافی ہے۔

جنرل یحییٰ خان کے دور حکومت میں، مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان کے ہاتھوں روا رکھی گئی مبینہ سیاسی،معاشرتی اورمعاشی زیادتیوں کے خلاف مقبول عوامی تحریک شروع ہوئی، جو بتدریج خلاف قانون بغاوت میں بدل گئی۔ ان باغیوں کے خلاف 25 مارچ 1971ء کو فوجی کارروائی کی گئی، جسے آپریشن سرچ لائٹ کا نام دیا گیا۔ منصوبے کے مطابق بڑے شہروں کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد تمام فوجی اور سیاسی بغاوت پر قابو پایا جانا تھا۔ مئی 1971ء کو آخری بڑے مزاحمتی شہر پر قابو پانے کے بعد آپریشن مکمل ہو گیا۔

آپریشن کے بعد بظاہر امن قائم ہو گیا، لیکن سیاسی مسائل حل نہ ہو سکے۔ آپریشن میں مبینہ جانی نقصانات بھی بے چینی میں اضافے کا باعث بنے۔

بے امنی دوبارہ شروع ہوئی اور اس دفعہ بھارتی تربیت یافتہ مکتی باہنی گوریلوں نے لڑائی کی شدت میں اضافہ جاری رکھا، تاآنکہ بھارتی افواج نے نومبر 1971ء میں مشرقی پاکستان میں دخل اندازی شروع کر دی۔ محدود پاکستانی افواج نے نا مساعد حالات میں عوامی تائید کے بغیر اس جارحیت کا مقابلہ جاری رکھا۔ مغربی پاکستان میں پاکستانی افواج کا جوابی حملہ بھی کیا گیا۔ لیکن بالآخر 16 دسمبر 1971ءکو ڈھاکہ میں محصور پاکستانی افواج کو لیفٹینینٹ جنرل امیر عبد اللہ خان نیازی کی قیادت میں ہتھیار ڈالنے پڑے۔

پہلی خلیجی جنگ کے دوران پاکستان نے ممکنہ عراقی جارحیت کے خلاف سعودی عرب کے دفاع کے لیے افواج فراہم کیں۔

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی جامع تعریف سٹیفن پی کوہن نے اپنی کتاب “آئیڈیا آف پاکستان“ میں کی ہے،
کوہن کے مطابق پاکستان کی یہ انصرامی قوت دراصل درمیانی راستے کے نظریہ پر قائم ہے اور اس کو غیر روایتی سیاسی نظام کے تحت چلایا جاتا ہے جس کا حصہ فوج، سول سروس، عدلیہ کے کلیدی اراکین اور دوسرے کلیدی اور اہمیت کے حامل سیاسی و غیر سیاسی افراد ہیں۔ کوہن کے مطابق اس غیر تسلیم شدہ آئینی نظام کا حصہ بننے کے لیے چند مفروضات کا ماننا ضروری ہے جیسے،

بھارت کے ہر قدم اور ہر چال کا منہ توڑ جواب دینا انتہائی لازم ہے۔
پاکستان کے جوہری منصوبے ہی دراصل پاکستان کی بقا اور وسیع تر حفاظت کی ضمانت ہیں۔
جنگ آزادی کشمیر جو تقسیم ہند کے بعد شروع ہوئی، کبھی بھی ختم نہیں ہونی چاہیے۔
وسیع پیمانے پر ہونے والی عمرانی اصلاحات، جیسے کہ زمینوں کی مفت تقسیم وغیرہ انتہائی ناپسندیدہ عمل ہیں۔
غیر تعلیم یافتہ اور مڈل کلاس طبقہ کو ہمیشہ پامال اور کچل کر رکھنا ہی حکمت ہے۔
اسلام پسند نظریہ ہونا انتہائی موزوں بات ہے لیکن اسلام کا مکمل طور پر نفاظ ممکن نہ رہے۔
اور یہ کہ امریکا کے ساتھ تعلقات استوار رہنے چاہیے لیکن کبھی بھی امریکا کو پاکستان پر مکمل طور پر گرفت حاصل نہ ہونے پائے۔
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ان کلیدی نکات میں یہ بھی اکثر شامل کیا جاتا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ہر حال میں ریاست کے انتظام، سیاست وغیرہ پر گرفت مضبوط رکھنی چاہیے۔ 
اس کے علاوہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی انتخابات اور انتظام پر اثر انداز ہونے کی پالیسی بھی شامل ہے، جس کے تحت پاکستان میں وقت کے ساتھ ساتھ کئی سیاسی جماعتیں اور اتحاد بنائے اور توڑے بھی جاتے رہے ہیں۔ پاکستان کے سیکولر اور لبرل خیالات کے حامل گروہ ان تمام اتحادوں اور سیاسی جماعتوں کی تشکیل میں پیش پیش رہتے ہیں، اس کی ایک مثال متحدہ مجلس عمل ہے جو پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں کا اتحاد تھا جس کی تشکیل اس وقت حکومت کے کرتا دھرتا فوجی حکمران تھے۔ 
اس سے پہلے جنرل ضیاء الحق نے بھی اسی طرح سے انصرامی سیاست کے تحت منطقی اتحاد اور پالیسیاں تشکیل دیں۔ جنرل ضیاء الحق نے اس کا استعمال سیاست اور فوجی حکمت عملی میں کیا۔ افغانستان پر سوویت افواج کے حملے کے بعد، جنرل ضیاء کی نظر میں افغانستان کا شمار پاکستان کی فوجی اور سیاسی پالیسیوں کا منبع بن گیا۔ ان کے مطابق پاکستان کی بقاء اور استحکام دراصل اس امر میں ہے کہ پاکستان افغانستان پر مکمل طور پر اثر انداز رہے۔

پاک فوج کا نصب العین ہے: ‘‘ایمان، تقویٰ اور ِجہاد فی سبیل اللہ۔

پاکستان آرمی مختلف شعبوں پر مشتمل ہے، جنہیں لڑاکا بازو، امدادی بازو یا امدادی خدمتی شعبوں میں بانٹا جاتا ہے۔ لڑاکا آرمز میں انفینٹری یا پیادہ فوج ،آرمر یا رسالہ/ بکتر بند فوج، آرٹلری یا توپخانہ اور ائیر ڈیفینس یا فضائی دفاعی فوج شمار کی جاتی ہیں۔

لڑاکوں کی امداد کرنے والی آرمز میں سگنلز کور یا مواصلاتی اور انجینئرز کور یا مہندسی فوج شامل ہے۔
لڑاکوں کی امداد کرنے والی سروسز میں کور آف الیکڑیکل اینڈ مکینیکل انجینئر ز، پاکستان آرمی میڈیکل کور، پاکستان آرمی ڈینٹل کور، سپلائی کور یا رسد و رسائل اور آرڈینینس کور یا سازو سامان والی فوج شامل ہے۔ پی ایم اے لانگ کورس کیڈٹ بطور سیکنڈلیفٹیننٹ الیکڑیکل اور مکینیکل انجینئر ،پاکستان آرمی میڈیکل کور اور پاکستان آرمی ڈینٹل کور کے علاوہ مندرجہ بالا کسی بھی فوجی شعبے میں شامل ہو سکتاہے۔

الیکڑیکل اور مکینیکل انجینئر ز، انجینئرز اور سگنلز کور میں پی ایم اے ٹیکنیکل گریجویٹ کورس کیڈٹس کوبعد تربیت براہ راست کیپٹن کے عہدے پر تعینات کیا جاتا ہے،جبکہ پی ایم اے آرمی میڈیکل کورس ( اے ایم سی ) کیڈٹس بطور کپتان پاکستان آرمی میڈیکل یا ڈینٹل کور میں کمیشن کیے جاتے ہیں۔




#Article 52: پیر بنیامین رضوی (162 words)


پیر سیّد محمد بنیامین رضوی کا تعلق پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے ضلع منڈی بہاؤالدین کے قصبہ پھالیہ سے تھا۔ 1991ء میں پنجاب صوبائی اسمبلی کے لیے نواز شریف کے قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے اور وزیر اعلٰی پنچاب کے مشیر رہے۔ 

جنرل پرویز مشرف کے حکومت سنبھالنے کے بعد پیر بنیامین ان چند مسلم لیگیوں میں شامل تھے جنہوں نے نواز شریف کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ آخری وقت تک پکستان مسلم لیگ پنجاب کے نائب صدر رہے۔ نومبر 2003ء میں پیر بنیامین نے مشرف حکومت پر دو سو سے زائد جنوبی وزرستان میں قتل ہونے والے بے گناہ شہریوں کو خفیہ طور پر اٹک کے مقام جنڈ میں اجتماعی قبر میں دفن کردینے کا الزام لگایا اور جنوبی وزیرستان میں جاری اپریشن کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بش کو خوش کرنے کے لیے مسلمانوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ ہفتہ 26 جون 2004ء کو دو نامعلوم موٹرسائکل سوار دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔




#Article 53: نواز شریف (856 words)


میاں محمد نواز شریف (ولادت: 25 دسمبر، 1949ء، لاہور) پاکستان کے سابقہ وزیر اعظم اور پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق سربراہ۔ نواز شریف تین بار 1990ء تا 1993ء، 1997ء تا 1999ء اور آخری بار ء2013 تا 2017ء وزیر اعظم پاکستان پر رہے۔ اس سے پہلے 1985 تا 1990 وزیر اعلیٰ پنجاب رہے۔

نواز شریف ایک درمیانی امیر گھرانے شریف خاندان میں پیدا ہوئے۔ اتفاق گروپ اور شریف گروپ کے بانی میاں محمد شریف ان کے والد اور تین بار وزیر اعلیٰ پنجاب رہنے والے شہباز شریف ان کے بھائی ہیں۔ نواز شریف نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے تجارت کی تعلیم اور 1970ء کی دہائی کے آخر میں سیاست میں داخل ہونے سے پہلے
پنجاب یونیورسٹی لا کالج سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ 1981ء میں محمد ضیاء الحق کی فوجی حکومت کے دوران میں پنجاب کے وزیر خزانہ بنے۔ کچھ حمایتیوں کے سبب، نواز شریف ضیا دور ہی میں، وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے، جس پر دوبارہ مارشل لا کے بعد 1988ء میں منتخب ہوئے۔ 1990ء میں اسلامی جمہوری اتحاد کی سربراہی کی، جس پر فتح ملی اور وزیر اعظم بنے۔ بعد میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی نے نواز شریف کے حق میں انتخابی عمل میں لاکھوں روپے کی رشوت سیاست دانوں میں تقسیم کی۔

پہلی شریف انتظامیہ کو غلام اسحاق خان نے بدعنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا، جس پر نواز شریف نے عدالت عظمیٰ پاکستان سے رجوع کیا۔ 15 جون 1993ء کو منصف اعلیٰ نسیم حسن شاہ نے نواز شریف کو بحال کر دیا۔ نواز شریف نے جولائی 1993ء میں ایک معاہدے کے تحت استعفا دے دیا جس کے باعث صدر کو بھی اپنا عہدا چھوڑنا پڑا۔ نواز شریف فروری 1997ء میں بھاری اکثریت سے دوبارہ اس عہدے پر فائز ہوئے۔ انہیں اکتوبر 1999ء میں جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کی فوجی بغاوت میں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

نواز شریف 25 دسمبر 1949ء کو پنجاب، لاہور میں کشمیری شریف خاندان میں پیدا ہوئے۔ نواز شریف کی والدہ کا تعلق پلوامہ سے تھا۔ ان کے والد میاں محمد شریف ایک کشمیری صنعت کار و تاجر تھے جن کا تعلق کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے تھا، وہاں سے ہجرت کر کے وہ جاتی عمرہ، امرتسر میں چلے گئے اور وہاں کاروبار شروع کیا، محمد علی جناح کی قیادت میں تحریک پاکستان جاری تھی، جس کے نتیجے میں 1947ء میں پاکستان آزاد ہو کيا تو، وہ امرتسر سے لاہور منتقل ہو گئے۔ میاں محمد شریف شروع میں ڈاکٹر طاہر القادری سے متاثر تھے، بعد ازاں وہ عدم تقلید کی طرف مائل ہو گئے۔
نواز شریف نے ابتدائی تعليم سينٹ اينتھنيز ہائیاسکول، لاہور سے حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے گريجويشن کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے قانون (وکالت) کی ڈگری حاصل کی۔

نوازشریف کی سیاسی تربیت پاکستان کے فوجی آمر جنرل محمد ضیاءالحق کے زیر سایہ ہوئی۔ ضیاء دور میں وہ لمبے عرصے تک پنجاب حکومت میں شامل رہے۔ وہ کچھ عرصہ پنجاب کی صوبائی کونسل کا حصہ رہنے کے بعد 1981ء ميں پنجاب کی صوبائی کابينہ ميں بطور وزيرِخزانہ شامل ہو گئے۔ وہ صوبے کے سالانہ ترقياتی پروگرام ميں ديہی ترقی کے حصے کو 70% تک لانے ميں کامياب ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ کھيلوں کے وزير بھی رہے اور صوبے میں کھيلوں کی سرگرميوں کی نئے سرے سے تنظيم کی۔

آمریت کے زیرِ سایہ 1985ء میں ہونے والے غیر جماعتی انتخابات ميں مياں نواز شریف قومی اور صوبایی اسمبليوں کی سيٹوں پہ بھاری اکثريت سے کامياب ہوئے۔ 9 اپريل ،1985ء کو انھوں نے پنجاب کے وزيرِاعلٰی کی حيثيت سے حلف اٹھايا۔ 31 مئی 1988ء کو جنرل ضياءالحق نے جونیجو حکومت کو برطرف کر دیا تاہم مياں نواز شريف کو نگران وزیراعلٰی پنجاب کی حیثیت سے برقرار رکھا گیا۔ یہ امر نوازشریف کے جنرل ضیاء سے قریبی مراسم کی نشان دہی کرتا ہے۔ جنرل ضیاء نے ایک بار نوازشریف کو اپنی عمر لگ جانے کی بھی دعا دی۔

فوج کی طرف سے ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد ان پر مقدمہ چلا، جو طیارہ سازش کیس کے نام سے مشہور ہوا۔ اس میں اغوا اور قتل کے الزامات شامل تھے۔ فوج کے ساتھ ایک خفیہ معاہدے کے بعد سعودی عرب چلے گئے۔ 2006ء میں میثاق جمہوریت پر بے نظیر بھٹو سے مل کر دستخط کیے اور فوج حکومت کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔ 23 اگست، 2007ء کو عدالت عظمٰی نے شریف خاندان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی وطن واپسی پر حکومتی اعتراض رد کرتے ہوئے پورے خاندان کو وطن واپسی کی اجازت دے دی۔

ایمرجنسی کے نفا ذ کے بعد نواز شریف اپنے خاندان کے ہمراہ سعودی عرب کے پرویز مشرف پر دباؤ کے نتیجے میں 25 نومبر، 2007ء کو لاہور پہنچ گئے۔

انقلاب مارچ کے دوران میں پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی مداخلت سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے دوران میں شہید ہونے والے 14 افراد کے قتل اور 90 سے زائد کے شدید زخمی ہونے والوں کو انصاف دلانے کے لیے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سمیت 9 افراد کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج ہوئی۔

نواز شریف پانامہ کیس کی سماعت کے بعد 28 جولائی 2017ء کو نااہل قرار پائے۔




#Article 54: گجرات (پاکستان) (728 words)


گجرات صوبہ پنجاب کا ایک شہر اور ضلع گجرات کا صدر مقام ہے۔ گجرات پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شمال میں واقع ہے۔ اس ضلع کے مشرق میں گرداسپور شمال مشرق میں جموں شمال میں بھمبر اور جہلم مغرب میں منڈی بہاؤالدین جنوب مغرب میں سرگودھا جنوب میں گوجرانوالہ اور جنوب مشرق میں سیالکوٹ واقع ہے۔ یہ شہر مشہور شاہرا ‎‎جی ٹی روڈ پر واقع ہے۔ اس ضلع کے جنوب سے دریائے چناب اور شمال سے دریائے جہلم ‎ گزرتا ہے۔ اس ضلع کی تین تحصیلیں گجرات کھاریاں اور سرائے عالمگیر ہیں۔

گُجرات دریائے چناب کے کنارے آباد ہے۔ لاہور سے 120 کلومیٹر جنوب میں ہے۔ آس پاس کے مشہور شہروں میں وزیرآباد، گوجرانوالہ، لالہ موسیٰ، جہلم، کوٹلہ، منڈی بہاوالدین اور آزاد کشمیر شامل ہیں۔ شہر سینکڑوں دیہاتوں میں گھِرا ہوا ہے۔ جہاں سے لوگ کام کاج کے لیے شہر کا رخ کرتے ہیں۔ ضلع گُجرات کے زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں۔

یہ قدیمی شہر دریاؤں دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیان واقع ہے۔ اسی وجہ سے یہاں کی زمین بہت ذرخیز ہے، زیادہ تر گندم، گنے اور چاول کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔ گجرات کے شمال مشرق میں جموں کشمیر اور شمال مغرب میں دریائے جہلم واقع ہے جو گجرات کو ضلع جہلم سے علاحدہ کرتا ہے۔ مشرق اور جنوب مشرق میں دریائے چناب جو ضلع گجرات کو ضلع گوجرانوالہ اور سیالکوٹ سے علاحدہ کرتا ہے اور جنوب میں منڈی بہاؤالدین واقع ہے- ضلع گجرات کا رقبہ تقریباً 3192 مربع کلومیٹر ہے اور یہ تین تحصیلوں،جن میں تحصیل گجرات، کھاریاں اور سرائے عالمگیر شامل ہیں۔

گجرات ایک قدیمی شہر ہے۔ برطانوی تاریخ دان Gen. Cunningham کے مطابق گجرات شہر 460 قبل مسیح میں گجر راجا بچن پال نے دریافت کیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اسکندر اعظم کی فوج کو ریاست کے راجا پورس سے دریائے جہلم کے کنارے زبردست مقابلے کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ راجا پورس گجر گوت پوڑ یا پواڑ سے تھا۔ آج بھی گجرات میں پوڑ یا پواڑ گجر کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ اسی راجا کی اولاد ہوں۔
شہر کے محکمانہ نظام کی بنیاد 1900میں برطانوی سامراج نے ڈالی، جو علاقہ کے چوہدری دسوندھی خان، جو محلہ دسوندھی پورہ کے رہنے والے تھے، کی مدد سے شروع کی گئی۔ مغلیہ دور میں، مغل بادشاہوں کا کشمیر جانے کا راستہ گجرات ہی تھا۔ شاہ جہانگیر کا انتقال کشمیر سے واپسی پر راستے میں ہی ہو گیا، ریاست میں بے امنی سے بچنے کے لیے انتقال کی خبر کو چھپایا گیا اور اس کے پیٹ کی انتڑیاں نکال کر گجرات میں ہی دفنا دی گئی، جہاں اب ہر سال شاہ جہانگیر کے نام سے ایک میلہ لگتا ہے۔ انگریزوں اور سکھوں کے درمیان دو بڑی لڑائیاں اسی ضلع میں لڑیں گئیں، جن میں چیلیانوالہ اور گجرات کی لڑائی شامل ہیں۔ اور گجرات کی لڑائی جیتنے کے فورا بعد انگریزوں نے 22فروری 1849 کو پنجاب کی جیت کا اعلان کر دیا۔

ایسی کئی تاریخی عمارتیں اور باقیات کھنڈروں کی شکل میں گجرات کے آس پاس موجود ہیں۔ گرینڈ ٹرنک روڈ جسے جی ٹی روڈ بھی کہا جاتا ہے، شیر شاہ سوری نے بنوائی تھی جو گجرات کے پاس سے گزرتی ہے، ابھی تک جوں کی توں موجود ہے- یہاں کے زیادہ تر لوگ گجر آرائیں مہر ،جٹ وڑائچ ہیں۔ قریبی قصبوں میں شادیوال، کالرہ کلاں، کنجاہ، ڈنگہ، کوٹلہ کری شریف، کڑیانوالہ اورجلالپور جٹاں شامل ہیں۔

اس ضلع کے تین فوجی جوان نشان حیدر حاصل کر چکے ہیں۔ جن میں راجہ عزیز بھٹی،میجر شبیر شریف شہید اور میجر محمد اکرم شہید شامل ہیں۔ جبکہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کا تعلق بھی گجرات سے ہی ہے۔ پاکستان کے مشہور سیاست دانوں چوہدری ظہور الٰہی فضل الہی چوہدری(سابق صدر پاکستان) چوہدری شجاعت حسین (سابق وزیر اعظم،سربراہ مسلم لیگ ق) ,چوہدری پرویز الٰہی (سابق وزیر اعلے،مسلم لیگ ق) چوہدری احمد مختار(پی پی پی) قمر زمان کائرہ(پی پی پی) چوھدری عابد رضا کوٹلہ (مسلم لیگ ن) کا تعلق اسی ضلع سے ہے۔

گجرات بجلى كے پنكھوں فرنیچر سازی برتن سازی اور جوتوں كی صنعت ميں ايك نام ركھتا ہے

گجرات جو آج بجلى كے پنكھوں اور جوتوں كی صنعت ميں ايك نام ركھتا ہے- مشرقِ وُسطٰی يورپ اور امریکا كے كسى بھى شہر ميں چلے جائيں آپ كو ضلع گُجرات کے لوگ مل جائيں گے۔ پنجاب كا ايك ایسا ضلع جہاں كے بہت سے لوگ بیرونِ مُلک كام كرتے ہيں اور وطنِ عزیز کو قیمتی زرِمبادلہ کما کر بھیجتے ہیں-




#Article 55: جاٹ (2307 words)


گنگا جمنا کے دوآبے اور راجپوتانے میں یہ جاٹ کہلاتے ہیں اور پنجاب میں یہ جٹ مشہور ہیں۔ اس طرح یہ جیٹ، جٹ، زت کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ پنجاب سے لے کر مکران کے ساحل تک گنگا کے کنارے تک جاٹ کثیر تعداد میں اور پنجاب میں ان کی اکثریت ہے۔ گو اب یہ مسلمان ہیں اور شمالی ہند میں یہ دوسری اقوام سے اور رجپوتانہ میں نصف کسان جاٹ ہوں گے۔ دریائے سندھ کے کنارے ان کی بہت سی قومیں مسلمان ہوچکی ہیں۔ غیر مستقیم پنجاب میں راوی کے مغربی اضلاع میں بیشتر جاٹ مسلمان تھے۔ لیکن وسطی پنجاب میں وہ اکثر سکھ اور جنوبی پنجاب میں وہ اکثر ہندو ہیں۔
جیمز ٹاڈ کا کہنا ہے کہ بلوچ بھی جاٹ نسل ہیں۔ بلوچ اور ان کا ایک بڑا قبیلہ جتوئی کی اصل جاٹ ہے۔ کیوں کہ بلوچ روایات کے مطابق میر جلال خان کی لڑکی جاتن سے منسوب ہے۔ جاتن جات کا معرب ہے۔ اس طرح جٹ اور جاٹ کے علاوہ جتک، جدگال اور دوسرے قبائل کی اصیلت جاٹ النسل ہے۔ یہ اگرچہ خود کو جاٹ نہیں مانتے ہیں اور بلوچ کہتے ہیں۔ سندھ کے سماٹ قبائل کی اکثریت جاٹ النسل ہے۔

جیمز ٹاڈ کا کہنا ہے ان کی اصل یوٹی یا جوٹی ہے اور ان کا اصل وطن دریائے جیحوں اور دریائے سیحوں کے درمیان تھا، جہاں سے یہ نکل کر برصغیر تک پھیل گئے۔ وسطی ایشیا کے رہنے والے جاٹ اب مسلمان ہیں۔ تیمور لنگ نے ان کے بڑے خان کوکل تاش تیمور کی اطاعت قبول کرلی تھی۔ یہ اس وقت بت پرست تھے اور بعد میں تیمور خود ان کا بڑا خان منتخب ہو گیا۔ مزید براں وہ کہتا ہے کہ جاٹ، تکشک یعنی ناگ بنسی اور چندر بنسی کے ہم نسل ہیں۔

لی بان کا کہنا ہے کہ یہ پنجاب و سندھ میں سب سے باوقت قوم ہے۔ ان میں شاز و نادر خارجی میل سے ٹھوڑا بہت تغیر پیدا ہوا ہے۔ تاہم ان کا عام ڈھانچہ حسب ذیل ہے۔ قد لمبا کاٹھی مظبوط چہرے سے ذہانت نمودار، جلد کس قدر سیاہ، ناک بڑی اور اونچی اور بعض اوقات خم دار اور ان کی آنکھیں چھوٹی اور سیدھی، گال کی ہڈیاں کم ابھری ہوئیں ہیں، بال سیاہ اور کثرت سے ڈاھاڑیاں چگی اور کم بالوں کی، بلند قامت خوش نظر، ان کی چال سیدھی اور شاندار۔
جٹ دراز قد ہوتے ہیں ان کا جسم گھٹا ہوا اور مظبوط ہوتا ہے اور رنگ سانولہ ہوتا ہے۔ یہ مانا جاسکتا ہے کہ جاٹ نسل کے لحاظ سے وہ آریا ہیں۔ اگرچہ بعض مصنفین نے انہیں اصل کے اعتبار کے لحاظ سے سیتھائی آریائی قرار دیا ہے۔ جس کی بڑی شاخ میں آگے چل کر مختلف قبائل کی آمزش ہو گئی ہے۔

اگرچہ جنرل کنگم کا کہنا ہے کہ جاٹ اندوسیتھک ہیں اور سکندر کے بعد آئے ہیں۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تورانی یا اندوسیتھک نہ ڈراویڈوں سے زیادہ ملی نہ آریوں سے۔ تاہم اس میل کا اثر جو وقوع میں آیا ہے، وہ جاٹوں میں موجود ہے۔ مثلاً بعض ان میں سیاہ فام ہیں اور بعض کا رنگ قدر صاف ہے، جیسا کہ راجپوتوں کا۔
کورو کی ایک شاخ جارٹیکا کے نام سے مشہور تھی اور پنجاب میں آباد تھی۔ یہ غالباً جٹوں کے اسلاف تھے۔ جیمز ٹاڈ کا کہنا ہے کہ جاٹوں کی روایات کے مطابق وہ پانچویں صدی عیسوی کے مابین دریائے سندھ کے مغرب سے آکر پنجاب میں آباد ہوئے تھے۔
جاٹ اگرچہ راجپوتوں کی چھتیس راج کلی میں شامل ہیں، لیکن راجپوت نہیں کہلاتے ہیں اور نہ ہی راجپوت جاٹوں سے شادی بیاہ کرتے ہیں۔ ان کا شمار نچلی اقوام میں ہوتا ہے۔ ان سے لڑکی لے لی جاتی ہے لیکن لڑکی نہیں دی جاتی ہے۔

لی بان کا کہنا ہے کہ خطۂ پنجاب کے اصل باشندے تورانی الاصل ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تورانی جات آریوں کی چڑھائی کے وقت سارے ملک کے مالک تھے اور باآسانی یہ ان کے محکوم ہو گئے۔ آریا فاتحین نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور ان کو درمیانی ذات ویش یا تجارت پیشہ ذات میں ان کو شامل کر دیا۔ برخلاف اس ملک کے اصل باشندوں کو شودر بنا دیا۔ گویا جاٹوں کی رضامندی سے آریا اس ملک کے حاکم بن گئے۔ اس باہمی رضامندی کا پتہ تخت نشینی کی رسم میں ملتا ہے۔ کیوں کہ بادشاہ تاج جاٹوں کے ہاتھوں سے لیتا تھا۔

ویمرے کا کہنا ہے کہ جیتی نام ان منگولوں کا تھا، جو منگولیا کی سرحد پر رہتے تھے۔ ان کی نسل کے جو لوگ ہیں وہ بروتی ہیں۔ وسط ایشیا میں اب ان منگولوں کو چیتے مغل (سرحدی مغل) کہتے ہیں۔ ترکی میں جیت سرحد کو اور منگول کو مغل کہتے ہیں۔

بی ایس ڈاہیا کہا کہنا ہے کہ جٹ یہ لفظ بدزات خود بہادری عمل اور پیش قدمی کی علامت ہے شمشیر زنی اور ہل لانے کے ماہر جاٹوں نے مشرق میں منگولیا سے چین سے لے کر مغرب میں اسپین اور انگلستان تک شمال میں سکنڈے نیوبا اور نوڈ گروڈ سے لے کر جنوب میں پاک و ہند ایران اور مصر تک ایشیا اور یورپ کی سرزمین پر تیر و تبر سے اپنا نام رقم کیا۔ برصغیر ایران روس اور جٹ یا جاٹ اور ترکی و مصر میں جاٹ عرب ممالک میں زظ یا جظ، منگولوں کی زبان میں جٹیہ سویڈن اور ڈنمارک میں گوٹ اور جرمنی اور دیگر زبانوں میں گوٹھ یا گوٹ، ینی میں یوچی (جس کا تلفظ گٹی ہے) کہلاتے ہیں۔
جینی مصنف وردھمان شاکا اور جرٹ قبائل کا ذکر کرتا ہے چندر گومن نے لکھا ہے کہ جاٹوں نے ہن قبائل کو شکست دی یشودھرمن اور گپت فرمانروا جاٹ تھے اور یہی لوگ تھے جنہوں نے ہنوں کو شکست سے دوچار کیا۔ اگرچہ ہن خود بھی جاٹ تھے۔

شاکا، کشان، ہن، کیداری، خیونی (چیونی) اور تکھر (تخار) جنیں الگ الگ نسل شمار کیا جاتا ہے، گو وسطی ایشائی میدانوں میں انہیں بعض اوقات ایک دوسرے کا پڑوسی ظاہر کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ان کی نسل تھی جاٹ، مگر ان کے حکمران خاندانوں نے اپنی حکومت قائم کرنے کے بعد اپنا قبائلی نام اختیار کیا۔
وسط ایشیا کا علاقہ آریائی اقوام کا اصل وطن ہے۔ یہی وجہ کہ برصغیر کی تمام روایات میں اس کے ساتھ تقدس وابستہ ہے۔ ویدی ادب سے لے کر تمام تحریروں میں شمال میں دیوتاؤں کی سرزمین ہے۔
مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ انڈو ایرانی، ساکا اور یورپی سیھتی ایک ہی تھے۔ ہسٹری آف ورلڈ کے مطابق سیتھی وسط ایشا اور شمالی یورپ کے ان قبائل کا نام ہے جو ہمیشہ اپنے پڑوسی نسلوں سے سرپیکار رہتے تھے۔ سیتھہ ایک قدیم علاقہ کا نام ہے جو جو بحیرہ اسود کے مشرق اور دریائے جیحوں و سیحون (دریائے آمو و سیر) کی وادی سے لے کر دریائے ڈینیوب اور دریائے ڈان تک پھیلا ہوا تھا۔ ہیروڈوٹس کہتا ہے کہ مساگیٹے سیتھی قوم کی اولاد ہیں۔

پی سائیکس گتی کہلانے والوں کا ذکر کرتا ہے۔ جنہوں نے 2600 م ق میں سمیر اور اسیریا وغیرہ پر قبضہ جما لیا تھا۔ چینی ماخذ میں بیان کیا گیا ہے کہ وی قبائل کی تاریخ 2600 ق م تک پیچھے جاتی ہے۔ چین کے وی، ایران کے داہی، یونان کے دائے اور موجودہ دور کے داہیا جاٹ ایک ہی ہیں جنوبی ایشیا کے کے جاٹ وہی لوگ ہیں جو ایران کی تاریخ میں گتی اور چینیوں کے یوچی (جس کا چینی تلفظ گتی ہے) کے طور پر سامنے آتے ہیں ان کا اصل وطن سرحدات چین سے لے کر بحیرہ اسود تک وسط ایشیا ہے۔ ہیروڈوٹس اور دیگر یونانی مورخ انہیں گیتے یا مساگیتے کہتے ہیں۔ موخر الذکر نام انہی قبائل کا بڑا عنصر۔

ولسن کا کہنا ہے کہ راجپوت قبائل، راٹھور، پوار اور گہلوٹ وغیرہ یہاں پہلے سے آباد تھے۔ یہ چاروں قبائل اصل میں جاٹ ہیں جنہیں بعد میں راجپوت کہا جانے لگا ہے۔ کیوں کے یہ اس وقت حکمران تھے۔ اس بنا پر راجپوت یا راج پتر یعنی راجاؤں کی اولاد کی اصطلاح وجود میں آئی۔ اس کی اصل پہلوی کلمہ وسپوہر (شاہ کا بیٹا) سے ہے۔ ولسن انہیں غیر ملکی تسلیم کرتا ہے۔ کیوں کہ ان لوگوں نے ساکا اور دیگر قبائل کے ساتھ مل کر برصغیر کی تسخیر کی تھی۔

جاٹوں نے کبھی برہمنی مذہب کی برتری اور بالادستی قبول نہیں کی اور یہی وجہ ہے انہوں نے رسمی انداز میں باقائدہ ہندو مت قبول نہیں کیا۔ یہی پس منظر تھا جس میں برہمنوں نے اور ان کی تقلید میں دوسری ذاتوں نے جاٹوں کو کشتریوں کا نچلا طبقہ بلکہ شودر خیال کرتے ہیں۔ لیکن جاٹوں نے کبھی اس کی پروا نہیں کی اور کتاب ہندو قبائل اور ذاتوں میں برصغیرٖٖٖٖٖٖٖٖ کی قدیم چھتیس راج کلی میں جاٹوں کا نام ضرور ملتا ہے لیکن کہیں بھی انہیں راجپوت ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ اس آخری جملے میں بنیاد یہ ہے کہ راجپوت رسمی طور پر ہندو مذہب میں داخل ہونے والے جاٹ اور گوجر ہیں جن لوگوں نے رسمی طور پر متصب برہمنی نظام کی شرائط اور قبول کرنے سے انکار کیا انہیں رسمی طور پر ہندو مذہب میں داخل نہیں کیا گیا اور وہ آج تک وہی جاٹ، گوجر اور آہیر ہیں۔ یہی وجہ ہے جاتوں اور راجپوتوں مشترک قبائلی نام ہیں۔
اس طرح راجپوت برہمنی رنگ میں رنگے جاٹ اور گوجر ہیں۔ یہی وجہ ہے ہم راجپوتوں کے ظہور سے بہت پہلے صرف جاٹوں اور گوجروں کو وسطی برصغیر، راجستان گجرات سندھ میں پاتے ہیں۔ اگر کوئی راجپوت کسی جاٹ عورت سے شادی کرلے وہ جاٹ نہیں بنے گا۔ لیکن اگر وہ یا اس کی اولاد بیواہ کی دوبارہ شادی کا طریقہ اپنالے تو وہ جاٹ بن جائے گا۔ یہ مسلے کا اصل نقطہ ہے ایک راجپوت اور جاٹ میں صرف بیواہ کی دوسری شادی کا ہے۔ بیواہ کی شادی ہر دور میں رہی ہے۔ لیکن راجپوتوں کو براہمنوں کے غلط، غیر اخلاقی اور غیر منصفیانہ نظریات کے تحت اس بارے میں سننا بھی گوارا نہ تھا۔
بیواہ کی شادی کی وہ اہم ترین نقطہ اختلاف تھا جو کوہ آبو کی قربانی کے موقع پر جاٹوں اور برہمنوں کا اختلاف ہوا۔ جن لوگوں نے برہمنوں کی پیش کردہ شرائط کو تسلیم کیا وہ راجپوت کہلائے۔ اس کے برعکس جنہوں نے بیواہ کی شادی کرنے پر اصرار کیا وہ ہندو مذہب میں داخل ہونے کے وجود جاٹ کہلائے۔

سلطان محمود غزنوی کو ہند پر حملوں کے دوران بڑا تنگ کیا۔ چنانچہ ایک حملہ خاص طور پر ان کے خاتمہ کے لیے کیا اور چھ سو کی تعداد میں خاص قسم کی کشتیاں تیار کرائیں جس میں تین تین برچھے لگے ہوئے تھے۔ ان کشتیوں کو دریائے سندھ میں ڈال کر ہر کشتی پر بیس بیس سپاہی تعنات کیے اور باقی ماندہ فوج کو دریائے سندھ کے کنارے پیدل چلنے کا حکم دیا۔
جاٹوں کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے بیوی بچے کسی جزیرے پر بھیج کرکوئی چار ہزار یا آٹھ ہزار کشتیوں پر سوار ہوکر محمود غزنوی کی فوج پر حملہ آور ہوئے۔ باوجود کثرت کے کثیر تعداد میں جاٹ مارے گئے۔ محمود غزنوی نے جزیرے پر پہنچ کر جاٹوں کے اہل و عیال کو گرفتار کر لیا۔

اورنگزیب جس زمانے میں دکن میں مصروف تھا، جاٹوں نے غنیمت جان کر اپنے سرداروں کی قیادت میں عام آبادی پر حملے کیے۔ یہاں تک انہوں نے اکبر کے مقبرے کو توڑنے کی کوشش کی۔ اورنگ زیب نے ان کی سرکوبی کے لیے مقامی فوجداروں کو مقرر کیا۔ لیکن جب اورنگ زیب کے بعد سلطنت مغلیہ کا شیرازہ بکھرنے لگا تو بھرت پور اور اس گرد نواح کے جاٹوں نے اپنے سردار سورج مل کی سردگی میں آگرہ اور دہلی کے درمیانی علاقہ میں دہشت پھیلادی۔ ان کے ظلم و ستم سے غضبناک ہوکر احمد شاہ ابدالی نے ان کی گوشمالی کی۔ لیکن ان کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں کرسکا۔ بعد میں رنجیت سنگھ ایک ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ ریاست مختصر عرصہ کے لیے قائم ہوئی تھی۔

سکھ جو اٹھارویں صدی کے آخر تک پنجاب کے حاکم بن چکے تھے۔ ان کی سلطنت کے قیام میں نادرشاہ افشار اور احمد شاہ ابدالی کے حملوں نے بھر پور مدد دی اور ان حملوں کی بدولت مغلیہ سلطنت نہایت کمزور ہو گئی اور سکھ ایک قوت کے ساتھ ابھرے اور انہوں نے مغلیہ سلطنت کے ذوال کو اس کے انجام تک پہنچایا۔ سکھوں کی اکثریت جاٹوں پر مشتمل تھی اور جاٹوں کا عمل دخل بہت تھا۔ بیسویں صدی کی ابتدا میں انگریزوں کے خلاف تحریک جلی جس کا مشہور سلوگن جٹا پگڑی سنھال جٹا تھا۔ اس تحریک میں حصہ لینے والے بھی سکھ تھے۔ اس کا روح رواں مشہور انقلابی بھگت سنگھ کا چچا۔

جاٹ گنوار پنے اور بے وقوفی میں ضرب مثل ہیں اور لین دین میں سادہ لوح ہوتے ہیں۔ اپنے ہم جنسوں کے مقابلے میں بھینسوں اور گایوں کا انہیں زیادہ خیال کرتے ہیں۔ ان کا پیشہ زیادہ تر کاشکاری ہے۔ وہ نہ صرف دلیر واقع ہوئے ہیں بلکہ اچھے سپاہی واقع ہوئے ہیں۔ محمد بن قاسم کے مقابلے میں انہوں نے مزاحمت کی تو محمد بن قاسم نے ان کی بڑی تعداد گرفتار کر لیا اور انہیں حجاج بن یوسف کے پاس بھجوا دیا۔
ہندو جاٹوں میں ایک سے زائد شادی کا رواج تھا۔۔ ۔
چچ نے جٹوں پر اچھوتوں کی طرح پابندیاں عاعد کیں تھیں۔ اس کے متعلق ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کا کہنا ہے کہ جاٹ سندھ کے قدیم باشندے تھے۔
چچ نامہ میں ہے کہ چچ نے لوہانہ کے جٹوں سے جو شرائط منوائیں ان میں مصنوعی تلوار کے علاوہ کسی قسم کا ہتھیار نہیں باندھیں گے، قیمتی کپڑے اور مخمل نہیں پہنیں گے، گھوڑے پر بغیر زین کے بیٹھیں گے، ننگے سر اور ننگے پیر رہیں گے، گھر سے باہر نکلتے وقت کتے ساتھ رکھیں گے، گورنر کے مطبخ کے لیے لکڑی کے علاوہ رہبری اور جاسوسی کے کام انجام دیں گے۔

جاٹوں میں تین مذہب کے لوگ ہیں۔ مسلمان جو دریائے سندھ کے نچلے والے حصہ میں رہتے ہیں، سکھ پنجاب میں اور ہندو جو راجپوتانہ میں رہتے ہیں۔

رائے،کھرل، کٹاری، کشوان، کھر، کھیر، کھرپ/ کھرب، کھتری، کھٹکل، کھوکھر، کلیر، کوہاد، کلار، کوندو، کنتل، کٹاریا/کٹار

،گرلات، گوندل، گسر، گوپی رائے، گکلن، گل/گیلانی، گزوا، گوھا




#Article 56: چودھری شجاعت حسین (1956 words)


چودھری شجاعت حسین (ولادت: 1946ء) پاکستان کے ایک سیاست دان ہیں۔ ان کا شمار چند اہم ترین سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ اور وزیر اعظم رہ چکے ہیں اور اس وقت مسلم لیگ (ق) کے صدر ہیں۔

چودھری شجاعت حسین کا تعلق گجرات کے جاٹ خاندان سے ہے جو تقریباً پچیس سال قومی سیاست میں سرگرم ہیں۔ ان کے خاندان نے جنرل ایوب خان، جنرل ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومتوں سے بھرپور تعاون کیا اور اپنی سیاسی قدر و قیمت بڑھاتا چلا گیا حالانکہ یہ خاندان پنجاب کے ان روایتی سیاسی خاندانوں میں شامل نہیں جو ملک بننے سے پہلے سے قومی سیاست میں نمایاں تھے۔

چودھری شجاعت حسین گجرات کے چودھری ظہور الٰہی کے بیٹے ہیں جو ایک عام نچلے متوسط طبقہ کے آدمی تھے۔ وہ ایوب دور میں سرکاری جماعت کنوینشن مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بنے اور ایوب کی فوجی حکومت کی سرپرستی میں پنجاب میں جاٹ برادری کے ایک نمایاں سیاست دان کے طور پر جانے لگے۔ سیاست میں آنے کے بعد ان کا شمار ملک کے نمایاں کاروباری خاندان کے طور پر ہونے لگا۔

ظہور الٰہی نے ذو الفقار علی بھٹو کی سخت مخالفت کی اور 1977کے انتخابات کے وقت وہ جیل میں تھے۔ جنرل ضیاءالحق کے مارشل لا میں ظہور الٰہی وفاقی وزیر بنائے گئے۔ جب بھٹو کو پھانسی دی گئی تو جنرل ضیاء نے جس قلم سے بھٹو کی پھانسی کے پروانہ پر دستخط کیے تھے اسے یادگار کے طور پر حاصل کر لیا۔ انہیں جنرل ضیاء کے دور میں ہی لاہور میں قتل کر دیا گیا تھا۔

شجاعت حسین نے اپنے والد کی وفات کے بعد سیاست میں قدم رکھا اور مجلس شورٰی کے رکن رہے۔ 1985 کے انتخابات میں وہ پہلی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر صنعت رہے۔ ان کے کزن چودھری پرویز الٰہی پرویز مشرف دور میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں، جنہیں صحیح معنوں میں ظہور الٰہی کا سیاسی جانشین سمجھا جاتا ہے۔

چودھری شجاعت حسین 1988، 1990 اور 1997 میں بھی رکن قومی اسمبلی بنے تاہم 1993اور 2008 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار اور معروف صنعت کار احمد مختار کے ہاتھوں شکست کھا گئے، لیکن بعد میں ق لیگ کے سینیٹر
بن گئے۔

نواز شریف جب تک اقتدار میں رہے انہوں نے چودھری خاندان کے سیاسی قد میں اضافہ نہیں ہونے دیا اور ان کی خواہش کے برعکس 1990 اور 1997 میں چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب کا وزیراعلیٰ نہیں بنوایا۔

شجاعت حسین نواز شریف کے دور میں وفاقی وزیر داخلہ رہے لیکن ان کی وزارت کے زیادہ تر اختیارات احتساب بیور کے سیف الرحمٰن کے پاس تھے یا خود وزیر اعظم کے پاس۔

جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو شجاعت حسین کو دو فائدے ہوئے۔ ایک تو جنرل مشرف سے ان کی واقفیت تھی کہ دونوں ایک زمانے میں لاہور کے ایف سی کالج میں پڑھتے رہے تھے او دوسری جنرل مشرف کے قریبی معتمد طارق عزیز چودھری خاندان کے دوست تھے۔

چودھری شجاعت حسین نے نواز شریف کی معزولی کے بعد ایک دم تو انہیں نہیں چھوڑا۔ وہ ایک سال تک شریف خاندان کی سربراہی میں مسلم لیگ سے وابستہ رہ کر حیلہ بہانہ سے نواز شریف کی سیاست سے اختلافات کرتے رہے لیکن جب نواز شریف کو سعودی عرب جلا وطن کر دیا گیا تو انہوں نے پرویز مشرف کی حمایت میں مسلم لیگ کی تقسیم میں کلیدی کردار ادا کیا اور اس کا الگ دھڑا قائم کر لیا جس کے صدر لاہور کے ارائیں اور سابق گورنر پنجاب میاں محمد اظہر بنے۔

میاں محمد اظہر نے نئی مسلم لیگ کو ایک جواز مہیا کیا کیونکہ وہ ایک بااصول اور کارکنوں کے دوست آدمی سمجھے جاتے تھے لیکن مسلم لیگ نواز شریف سے ٹوٹ کر منظم ہو گئی تو میاں محمد اظہر کو چودھری شجاعت حسین اور وزیر اعظم ظفراللہ جمالی نے مل کر صدر کے عہدے سے الگ کر دیا اور چودھری شجاعت حسین کو نئی جماعت کا صدر منتخب کر لیا گیا۔

ظفراللہ جمالی کو وزیر اعظم بنوانے میں چودھری شجاعت حسین کا خاصا ہاتھ تھا کیونکہ دو ہزار کے انتخابات کے بعد انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ وزیر اعظم چھوٹے صوبے سے آئے جو صاف طور پر جمالی تھے حالانکہ اس وقت متحدہ مجلس عمل شجاعت حسین کے وزیر اعظم بننے پر ان کی حمات کرنے کے لیے تیار تھی۔

تاہم چودھری شجاعت حسین کی زیادہ توجہ اس بات پر تھی کہ ان کے کزن پرویز الٰہی پنجاب کے وزیراعلیٰ بن جائیں جو ان کی دیرینہ خواہش تھی اور لوگ مذاق کرنے لگے تھے کہ ان کے ہاتھوں میں وزارت اعلیٰ کی لکیریں نہیں ہیں۔

وزیر اعظم جمالی سے شجاعت حسین کے اختلاف کی شروع ہوئے۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ شجاعت حسین جمالی کی کابینہ میں اپنے پسند کے وزرا بنوانا چاہتے تھے لیکن ظفراللہ جمالی اس بات پر رضامند نہیں تھے اور انہوں نے اس دباؤ کو قبول نہ کرنے کے لیے کابینہ کی توسیع ہی نہیں کی۔ یوں جمالی صاحب کو بھی اقتدار سے الگ کر دیا گیا۔

جمالی صاحب نے استعفی کے بعد چودھری شجاعت حسین کو2 مہینے کے وزیر اعظم بنا دیا گیا۔ اپنے دور اقتدار میں انہوں نے بہت سے سیاسی کام کیے۔ بدھ کو صدر پرویز مشرف نے کہا کہ ہمیں چوہدری شجات حسین کی سیاسی تدابیر اور شوکت عزیز کی اقتصادی مہارت پاکستان کی ترقی اور خوشخالی کے لیے راہ پر لانا ہو گی۔ ایوان صدر میں انہوں نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ ہمیں سیاست اور معیثت میں ایک معیارحاصل کرنا ہو گا۔ ایک سیاست دان اور ایک ماہر اقتصادیات کا مجموعہ ملک کے مستقبل کے لیے اچھا ہو گا۔ اسلام آباد : پاکستان مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے بدھ کے دن صبح پاکستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا اور دوپہر کو نیشنل اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔ وزیر اعظم ہاؤس کا حصہ بننے کے بعد 189 ارکان نے ان کے لیے ووٹ کیا۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے
زیر انتظام نئے وزیر اعظم اور ایک 27 رکنی وفاقی کابینہ سمیت سات وزراء نے حلف اٹھایا۔ وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین نے اسی کابینہ کے تحت کام کرنے کا فیصلہ کیا۔
جیسے ظفراللہ جمالی کے پیش رو کیا تھا۔ لیکن انہوں نے دو وفاقی وزیر منتحب کیے۔
سید غازی گلاب اور محمد اجمال خان وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات سے تھے۔
ان محکموں کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حلف برادری کی
تقریب کے بعد، صدر مشرف نے کہا اقتدار میں بجلی کی منتقلی پاکستان کی جمہوری تاریح
میں ایک تاریخی واقعہ تھا۔ انہوں نے کہا ملک میں بجلی کی اس طرح کی فراہمی کبھی نہی ہوئی۔
صدر نے کہا کہ اختلافی جماعتوں نے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی کہ یہ سیاسی بخران تھا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی خواہشات کے برعکس، سب کچھ آسانی سے ہو گیا۔
کراچی 7جولائی، بدھ کو وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ متحدہ قومی مومنٹ کے
قائد الطاف حسین کی پاکستان واپسی ہم سب کے لیے ایک بڑا تحفہ ہو گی۔ انہوں نے متحدہ کے
رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے نائن زیرو پر ایم کیو ایم کے صدر دفتر کے دورے
کے دوران میں خطاب کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے کہا ہم سب کو پاکستان کی ترقی اور خوشخالی کے لیے
مل بیٹھ کر کام کرنا ہو گا۔ ایک اجتماع سے حطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے الطاف حسین
سے فون پر بات کی جنہوں نے ہمارے دورے پر شکریا ادا کیا اور اس نے ہماری مبارکباد کو اس شرط پر
قبول کیا کہ وہ پاکستان لوٹ کر ہمیں تخفہ پیش کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح
امن و امان تھی اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی جماعت کی تنقید کے لیے سندھ میں حکومت
بنانے کے لیے پی پی پی کو مدعو کیا، لیکن پیپلز پارٹی نے ان کی اس پیش کش کی پروا نہ کی۔
مٹھی : چوہدری شجاعت نے کہا کہ کا کالا باغ ڈیم کو کسی بھی نام سے
(پیلے، سیاہ یا کسی دوسرے نام سے ) تعمیر کیا جائے۔ صدر پرویز مشرف کو یقین تھا
کہ پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ پانی کی قلت ہے اور اس مسئلے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل کرنے
کے لیے ڈیموں کی تعمیر لازمی ہے۔ شجاعت نے مٹھی کمپلیکس میں ایک انتخابی ایک ریلی کے دوران میں کہا : وزیر حزانہ شوکت عزیز، وفاقی وزراء شیخ رشید احمد، نصیر خان، خالد احمد، اویس لغاری،
سیئنر محمد علی درانی، وزیر اعلیٰ سندھ، ارباب غلام رخیم، صوبائی وزیر صدر الدین شاہ،
شبیر احمد، قائم خانی، ایم پی اے پونجمال بھیل، عبد الرزاق،
ایم این اے ڈاکٹر غلام حیدر اور سندھ اسمبلی کے سپیکر مظفر حسین بھی ریلی میں شامل تھے۔
اسلام آباد : اتوار کے دن وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ حدود و قوانین کی ترمیم
اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیج دی گئی ہیں۔ اور جلد ہی سی آئی آئی اور دینی علما سے مشاورت
کے بعد منظوری کے لیے کابینہ کو بھیج دی جائے گی۔ وزیر اعظم ہاؤس میں علما و مشائح کانفرس سے
خطاب کرتے ہوئے کہا، حکومت اسلامی نظریاتی کونسل اور دینی علما کو مدنظر رکھتے ہوئے
حدود قوانین میں ترمیم کر سکتی ہے۔ شجاعت نے کہا کہ مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال
کو محدود کرنے کے لیے علما کی مشاورت سے مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے متحدہ
مجلس عمل اور علما سے اپیل کی کہ وہ مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو محدود کرنے
کے فیصلے میں حکومت کا ساتھ دیں۔
اسلام آباد 16 جولائی : جمعہ کو حکومت نے قومی اسمبلی میں سیاست دانوں کو بیک وقت اور
پارٹی دفاتر کے انعقاد کے مقصد سے ایک بل پیش کیا۔ بل قواعد کو معطل کرنے کے بعد خزب اختلاف
کی طرف سے احتجاجً واک آؤٹ کیا۔ بل سے پولیٹکل پارٹیز آرڈر پی پی او، 2002 کی ترمیم کرنے کی
کوشش کی گئی۔ کہ سرکاری دفاتر کہ حامل سلاخکار سیاسی جماعت میں دفاتر انعقادکریں۔
اسمبلی کی طرف سے دفتر میں اپنے انتخاب کے بعد وزیر اعظم شجاعت حسین کی طرف سے بنائی گئی۔
پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وزیر اعظم چوہدری نوریز شکور نے اختجاجی شور اور شرمندگی
کے نعرے کے دوران میں سیاسی جماعتوں کے ترمیمی بل بلائے پی پی او کا پابندی کا مضمون
چھوڑنے کے لیے مخالف جماعت بلائی۔
اسلام آباد 17 جولائی : وزیر اعظم شجاعت حسین نے کاروکی ایک معاشرتی نسوار قرار کے معاملات کا
سنجیدگی سے نوٹس لیا اور ملک سے لعنت کے خاتمے کا وعدہ کیا۔ ہفتہ کو وزیر اعظم شجاعت حسین نے نمائندہ
گاہ جماعت سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ وفد کاروکی کے متاثرین کی حمایت کا وعدہ ہے۔
وزیر اعظم شجاعت حسین نے کہا کہ زندگی اور مال و جان کی حفاظت کا ذمہ حکومت کے سپرد ہے جو اسے
کسی بھی قیمت پر پورا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس لعنت سے نمٹنے کے لیے پارلیمنٹ میں جلد ہی
ایک بل متعارف کروایا جائے گا اور ملوث افراد کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔
اسلام آباد 27 جولائی : منگل کے دن وزیر اعظم شجاعت حسین نے کہا کہ عراق میں اپنی فوج بھیجنے
پر حکومت کی پالیسی واضح ہے اور کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے عوام اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا
جائے گا۔ پارلیمانی سیکرٹریوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پریمیئر شجاعت نے عراق
میں فوج بھیجنے کے سوال پر عوام میں غیر ضروری غلط فیہمی پیدا کرنے کی مخالفت کا الظام لگایا ہے۔
انہوں نے کہا ابھی تک ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور جب کبھی ایسا فیصلہ کرنے کی ضرورت محسوس
کی جائے گی تو امت مسلمہ کے مشورے کے مطابق پارلیمنٹ کے ارکان اور لوگوں کو بڑے پیمانے
پر نقطہ نظر میں رکھتے ہوئے لیا جائے گا۔




#Article 57: جاپان (31387 words)


جاپان (جاپانی:日本، نیپون، نیہون، یعنی سورج کا سرچشمہ) چڑھتے سورج کى سرزمین، براعظم ایشیا کے انتہائی مشرق میں جزیروں کے ایک لمبے سلسلے پر مشتمل ہے، جو شمال سے جنوب کی طرف پھیلے ہوئے ہیں۔

جاپانیوں کے ہاں اپنے آغاز کے بارے میں دیگر قومیتوں کی طرح کئى داستانیں موجود ہیں ۔ کہتے ہیں کہ جنت کے آقا نے اُن کی سرزمین پر دو جوان دیوتاؤں ایزاناگے اور اُن کی بیگم ایزانامے کو بھیجا جنہوں نے سمندر میں سے اُن کے لیے ایک خوبصورت ملک بنا ڈالا۔
ایک ماہرِ اثارِ قدیمہ اور اُس کے معاونین نے پتھر دور کی کچھ نشانیوں کی برآمدگی کا دعویٰ کیا تھا تاہم بعد میں تحقیق سے بات ثابت نہ ہو سکی ۔ 

تاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ چودہ ہزارسال قبل از مسیح سے 300 بی سی تک یہاں جومون دور گزرا ہے اور اُس دور کی تہذیب کے دریافت کیے گئے آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ پتھر، سمندری شِلز، لکڑی اور چمڑے کی بنی اشیاء استعمال کرتے تھے اور اُن کی زیادہ تر گزر بسر جنگلی یا سمندری حیات کی شکار پر ہوتی تھی ۔ اس دور کے بارے میں زیادہ تر شواہد 1992 کی اُس کھدائى کے دوران ملے جو ہانشو کے شمال میں واقع آموری علاقے میں بیس بال سٹیڈیم کی تعمیر کے لیے کی جارہی تھی ۔
کچھ ماہرین بشریات کا دعویٰ ہے کہ ہوکائیدو اور ہونشو جزائر کے باسی آئنو قبائل یہاں کے اصل قدیم لوگ ہیں ۔ اِن لوگوں کی آنکھیں بڑی ہیں اور جِسم پر بال زیادہ ہیں جبکہ موجودہ جاپان میں اکثریت آبادی والے جاپانیوں کے جِسم پر بال کم ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ آئنو ، موجودہ روس کے مشرقی سائبریا کا ایک نسلی گروپ ہے ۔ اب آئنو قبائل صرف ہوکائدو ہی تک محدود ہوچکے ہیں اور موجودہ تعداد تقریباً بیس ہزار بتائى جاتی ہے ۔ اُن کی زیادہ تر آبادی، اردگرد کے جاپانیوں کے ساتھ مدغم ہوچکی ہے ۔
چونکہ جاپان کے اردگرد چین اور کوریا کی سرزمین بھی ہے اِسلئے کہا جاتاہے کہ اِن دو اقوام کا جاپانیوں پر گہرا اثر رہا ہے ۔ مثال کے طور پر300 بی سی سے 250 عیسوی تک کے یایوئے دور کے بارے میں اثار قدیمہ کی کھدائیوں سے ملنے والی نشانیوں ، جیسے کپڑا بُننے، دھان کی کاشت ، شامان عقائدِ عبادات ، لوہے اور کانسی کے اوزار سے معلوم ہوا ہے کہ یہ فن چینیوں اور کوریائى لوگوں سے ہی یہاں پہنچا ہے بلکہ اِس بات کے شواہد ہیں کہ چین کے مشہور دریا یانگسی کے اردگرد علاقوں میں چاول کی کاشت آٹھ ہزار قبل از مسیح میں شروع ہوئى تھی اور ایک ہزار بی سی میں یہ جاپانی سرزمین پر پہنچی ۔
یایوئے نسل نے بڑی تعداد میں کوریا کی جانب سے چڑھائى کی ۔ اُنہوں نے آئنو قبائل کے خلاف کئى جنگیں لڑیں ۔ اُن کا دورِ معیشت ، جاگیردارانہ نظام کا ابتدائى دور سمجھا جاتا ہے ۔ اُمراء زمینوں پر قابض تھے اور کسان اور غلام کھیتی باڑی کرتے تھے ۔ علاقوں پر قبضہ جمانے کے لیے قبائل کی آپس میں جھڑپیں روز کا معمول تھا ۔ جاپان کے اِس دور کے اُمراء کو معاشرے میں تعظیم اور سیاسی اثر و رسوخ اِسلئے حاصل تھا کہ اُنہوں نے مسلح جنگجو پال رکھے تھے لیکن اُس دور میں چین میں صورت حال مختلف تھی اور وہاں دانشوروں کو بالادستی حاصل تھی ۔
سنہ 238 عیسوی کے لگ بھگ ، چینی تاجروں نے یایوئے لوگوں سے تجارت شروع کی ۔ چینی تاجر کیوشو کے علاقے میں آتے تھے ۔ اُس وقت چین میں ہان شاہی سلطنت قائم تھی ۔ اُس دور کے سفرناموں اور دیگر ریکارڈ کے مطابق اُس وقت کی جاپانی سرزمین 30 ریاستوں میں بٹی ہوئى تھی اور اِس میں سب سے مضبوط ریاست پر ہیمیکو کی حکمرانی تھی ۔ اُس وقت کے چینیوں نے اِسے سرزمینِ وا یعنی بونے یا پست قامت لوگوں کی سرزمین کے نام سے پکارا ہے جہاں پسماندگی ہے اور لوگ ان پڑھ ہیں اور بانس کی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں ۔ تاہم اُس دور کے جاپانیوں کو اپنی ثقافت پر بڑا فخر تھا اور اِس میں سب سے زیادہ اہمیت مالک سے وفاداری کو دی جاتی تھی ۔ چاول سے تیار کی ہوئى شراب ساکے بھی اُسی دور کی روایت ہے ۔
تاریخ کے طالب علموں کے لیے اُن چینی تاریخی کُتب کی بہت اہمیت ہےجنہیں ٹونٹی فور ہسٹریزکہا جاتا ہے جس میں 3000 بی سی سے 17 ویں صدی کی مِنگ دورِ حکومت تک کا تذکرہ ہے ۔ اتنے پرانے دور کے انسان کے پاس ایسی مہارت نہیں تھی کہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے تاریخ کا قیمتی اثاثہ سائنسی بینادوں پر مرتب کرتا اِسلئے اُس تاریخ میں داستانیں رقم کی گئى ہیں اور اُس میں جاپان کا ذکر بھی ہے ۔ ہمیں جاپان کی تحریری تاریخ کا ریکارڈ 57 عیسوی سے ملتا ہے جس کا ذکر چینی تاریخ کے سرکاری دستاویزات میں ہے ۔ یہ ریکارڈ فان یان نے پانچویں صدی عیسوی میں مرتب کیا تھا جس میں چین کے مشرقی ہان شاہی دور کے واقعات کو ریکارڈ کیا گیا ہے ۔

تاریخ میں لکھا گیا ہے کہ 250 عیسوی کے آس پاس کوفن دور کا آغاز ہوا ۔ یہ مضبوط فوجی ریاستوں کا دور تھا ۔ اِس دوران میں ایک گروپ جِسے غالباً ہنس کہاجاتا تھا اور تاریخ میں امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ کوریائى تھے جنہوں نے تسوشیما کے ساحل پر آکر یلغار کی ۔ اُن کے پاس گھوڑے تھے اور وہ لوہے سے بنے اعلیٰ معیار کے اسلحے سے لیس تھے ۔
کوفن دور کی فوجی صلاحیت میں اضافے سے اُن کا شمال مشرقی ایشیا کی جانب اثر و رسوخ پھیلنے لگا ۔ اب جاپان منظم اور مضبوط ریاست کی شکل اختیار کرتا جارہا تھا اور کوریا کے ذریعے اُس کا براعظم ایشیا کے دیگر علاقوں کے ساتھ رابطے ہونے لگے ۔ اُس دور میں ایک طاقتور قبیلہ یاماتو بھی تھا اِسلئے کئى مغربی تاریخ دان اِسے یا ماتو دور کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں ۔ اُس دور میں بدھ مت اور کنفیوشنیزم دونوں عقائد کے لوگ تھے ۔ چینی طرز پر مرکزی انتظامی حکومت ، شاہی عدالتی نظام ، مالیاتی پالیسی اور خزانے کا محکمہ تشکیل دیا گیا ۔ کوریا کے تین بادشاہتوں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے گئے ۔ سنہ 391 میں جنوب ۔ مغربی کوریا کے بادشاہ پیکچی نے تحفے تحائف بھیجے اور ہمسایہ علاقوں سے بچانے میں مدد کی درخواست کی ۔ اِس مدد کے عوض جاپان کو سونے اور جواہرات کے تحفے دئیے گئے اور ساتھ ساتھ چینی زبان کی ڈکشنری دی اور جاپانیوں کو لکھائى سیکھانے کے لیے اپنے دانشوروں کو بھیجا ۔ چونکہ چینی زبان کے لکھنے کا طریقہ مشکل تھا اِسلئے جاپانیوں نے لکھائى کا اپنا طریقہ بھی وضح کیا ۔

سنہ 538 میں آسوکا کا دور شروع ہوچکا تھا ۔ سیاسی اصلاحات شروع ہوچکی تھیں اورفن و ثقافت ترقی کرنے لگی ۔ کوریا کے ذریعے جاپان میں بدھ ازم متعارف ہوچکا تھا جس سے جاپانی معاشرہ بڑی حد تک متاثر ہوا ۔ اب ُملک وا کے بجائے نیہون کے نام سے پہچانا جانے لگا ۔ اُس وقت چین میں تانگ دور حکومت تھی جس کے جاپان کے ساتھ گہرے قریبی روابط استوار ہوئے ۔ اُس دور میں بادشاہ کوئى زیادہ طاقتور نہیں ہوتا تھا بلکہ اصل طاقت دربار کے اُمراء کے پاس تھی ۔ شہزادہ شوتوکُو نے اپنے آپ کو بُدھ مت کی پرچار کے لیے وقف کر دیا تھا جس سے جاپانی معاشرے میں تبدیلی آنے لگی اور امن وسکون ظاہر ہونے لگا ۔

جاپان میں 8 ویں صدی عیسوی میں نارا دور کا آغاز ہوتا ہے ۔ اِس سے قبل تک یہ روایت عام تھی کہ جب بادشاہ یا ملکہ کا شاہی محل میں انتقال ہوتا تھا تو روح کے اثر سے بچنے کے لیے وہ محل چھوڑ کرنیا تعمیر کیا جاتا تھا جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک مہنگا اور مشکل کام ہوتا گیا ۔ بالاخر جاپانیوں نے سوچا کہ بادشاہ تو چینیوں کے بھی مرتے ہیں لیکن اُنہوں اپنے محل یا دار الحکومت کو نہیں چھوڑا ، لہذا اِس عمل کو روکتے ہوئے نارا میں 710 عیسوی میں ایک مستقل دار الحکومت قائم کیا گیا ۔ یہ چین کے تانگ دور حکومت میں قائم دار الحکومت چانگ آن ، جو آج کل شیان کے نام سے پہچانا جاتا ہے، کے طرز پر بنایا گیا ۔ اِس شہر میں ہزاروں لوگ آباد ہوئے ۔ پکودا بنائے گئے، پارک تعمیر ہوئے اور ساکورا کے درخت لگائے گئے ۔ فن و ادب ترقی کرنے لگا ۔ زبان کی تحریری شکل پر جاپانی شاعری واکا بھی تحریر میں آنے لگی ۔
اقتصادی اور انتظامی معاملات میں اضافہ ہوا ۔ مرکزی دار الحکومت نارا اور صوبائى دارالحکومتوں کے مابین رابطہ سڑکیں تعمیر کی گئیں ۔ ٹیکس کی وصولی شروع ہوئى اور حکومتی سکہ رائج کیا گیا ۔ بدھ ازم اور شنتو ازم کے حوالے سے پائے جانے والے اختلاف کو یوں حل کیا گیا کہ اُس وقت کے بااثر بھکشو گیوگی کو اِس مسئلے کا حل ڈھونڈنے کا فریضہ سونپا گیا جنہوں نے اماتےراسو نامی عبادت گاہ کے دروازے پر سات شب و روز تک عبادت کی اور رائے طلب کی ۔ بالاخر سورج کی دیوی نے جواب دیا کہ یہ دونوں مذاہب ، ایک ہی عقیدے کے اظہار کے دو مختلف طریقے ہیں ۔ اُس کے بعد جاپان میں بدھ مت کی عبادت گاہیں تعمیر کی گئیں ۔
نارا ایک شاندار دار الحکومت کی شکل اختیار کر گیا لیکن انتظامی امور کمزور تھے ۔ آئنو قبائل اب بھی خطرہ تھے ۔ دوسری جانب بدھ مت کے دو کیو نام کے بھکشو نے ملکہ کوکین کے ساتھ معاشقہ شروع کیا اور ملکہ کو اپنے زیرِاثرکرلیا ۔ یہ بالکل ایسا ہی تھا جیسا روس میں رسپوتین نے اُس وقت کے بادشاہ کی ملکہ کے ساتھ جنسی تعلق بناکر انتظامی امور پر اثرڈالنا شروع کر دیا تھا ۔ بعد میں دوکیو نے ولی عہد یعنی کراؤن پرنس کو قتل کرکے خود کو وزیر اعظم اور اعلیٰ ترین بھکشو قرار دینے کا اعلان کیا ۔ اُس کی لالچ یہیں پر ختم نہیں ہوئى اور اُس نے شنتو مذہب کے ہاچی مِن کی عبادت گاہ سے جنگ کے دیوتا کا یہ حکم حاصل کیا کہ اگر اُسے آئندہ کا شہنشاہ منتخِب کیا گیا تو وہ جاپان میں دائمی امن کا وعدہ کرتا ہے ۔ ملکہ کو شک گزرا اور اُنہوں نے ہاچی مِن کے دیوتا سے معلوم کیا کہ کیا یہ درست ہے، تو جواب ملا کہ بھکشو کبھی شہنشاہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اُس کا شجرۀ نسب شہنشایت کا نہیں ہوتا ۔
حقائق معلوم ہونے پر نارا کے اُمراء نے بھکشو سے تمام خطابات واپس لیکر اُسے سزا کے طور پر دوراُفتادہ ایک چھوٹے سے جزیرے پر قید کر دیا ۔ اب جاپانیوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ کبھی خاتون کو منصبِ اقتدار نہیں سونپنا چاہیے ۔

سنہ 784 عیسوی میں دار الحکومت کو نارا سے ناگااوکا منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ تاہم گیارہ سال بعد اِس علاقے کو بد شگون قرار دے کر دار الحکومت کو ہیانکیو منتقل کیا گیا جو آج کل کیوتو کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔ یہ نارا کے مندر سے صرف 28 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔
سنہ 795 عیسوی میں ہیانکیو دور شروع ہوتا ہے ۔ اِس دور میں فیشن اور شعر و ادب میں خاصی ترقی ہوئى ۔ عورت کو ریاست کے معاملات ، اقتدار کی رسہ کشی اور سماجی سرگرمیوں میں موقع ملنے لگا ۔ اور مشہور داستانِ گینجی بھی موراساکی شیکیبو نامی خاتون ہی نے تحریر کی ۔ جس میں محبت کے کئى قصے رقم کیے گئے ہیں ۔ اِسی دور میں سمورائے جنگجووں کا اثر بڑہنے لگا ۔ اگرچے بادشاہِ وقت مطلق العنان ہوتا تھا لیکن دربار کے اُمراء ہی اصل اختیارات کے مالک تھے اور اُنہیں اپنے مفادات اور اپنے تحفظ کے لیے پولیس گارڈ اور سپاہیوں کی ضرورت ہوتی تھی اور یوں جنگجو طاقتور ہوتے گئے جن میں میناتو ، طائرہ ، فوجی وارا، اور تاچی بانا قبیلوں کو بہت طاقتور سمجھا جاتا تھا۔ 12 ویں صدی کے اواخر میں اِن قبیلوں کے مابین لڑائى نے اُس وقت خانہ جنگی کی صورت اختیار کرلی جب میناتو اور طائرہ قبائل کے مابین کیوتو اور مرکزی حکومت پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے لڑائى شروع ہوئى ۔ ہیان دور کے زوال پذیری کے ماہ وسال میں لاقانونیت اور تشدد کا دور دورۀ تھا ۔ جاگیر داروں نے اپنے بیٹوں اور ملازمین کو مسلح کر دیا اور تجربہ کار جنگجؤوں کی خدمات کرائے پر حاصل کی گئیں ۔ چونکہ لڑائی میں چھوٹے گروپوں کی شکست یقینی تھی لہذا ، اُنہوں نے اپنے قریب کے بڑے نوابوں کے ساتھ اتحاد کیا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اِسی طرح کے جاگیردارانہ نظام کا عکس اُس وقت یورپ میں بھی نظر آرہا تھا کہ جب مرکزی حکومت کمزور پڑتی تھی تو چھوٹی علاقائى طاقتیں امن و عامہ برقرار رکھتی تھیں ۔ اُسی دور میں سمورائے جنگجؤوں کے لیے ایک ضابطہ تحریر کیا گیا جسے بوشیدو کہتے تھے ۔ اِس کا مقصد اپنے مالک سے وفاداری کا عہد تھا ۔ اپنی وفاداری کو نبھاتے وقت اُس کی بیوی ، بچے یا والدین کی محبت تک حائل نہیں ہوگی اور اپنے آقا کے لیے ایک باعزت موت مرنا ہی اُس کی زندگی کا مقصد ہوگا ۔ عورتوں کے لیے بھی یہی اصول تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو اُنہیں بھی اپنے شوہروں کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے ایسی ہی موت قبول کرنی ہوگی ۔
فوجیوارا قبیلے کی زوال پذیری سے پیدا ہونے والا خلا ، طائرہ اور میناموتو قبائل نے پُر کیا ۔ اِن دونوں کے درمیان میں لڑی جانے والی پہلی جنگ 1156 سے 1160 تک چلتی رہی اور طائرہ کو فتح نصیب ہوئى ۔ اُس کے سربراہ ، کیوموری نے کیوتو کی جانب پیش قدمی کی اور بعد میں اپنی بیٹی کی شادی شاہی خاندان کے ایک شہزادے سے کرائى ۔ کیوموری کے مخالفین کو بے دردی سے قتل کیا گیا اور اُن کی جائدادیں ضبط کرلی گئیں تاہم میناموتو ، موجودہ ٹوکیو کے مغرب میں واقع زرخیز علاقے کانتو کی جانب بچ نکلا ۔ جو اُس وقت کیوتو کی مرکزی حکومت سے خاصا دور علاقہ تھا اور وہ اُس پر مضبوط کنٹرول نہیں ہو سکا ۔
تاریخ دان ، طائرہ کی دار الحکومت کی جانب پیش رفت کو اُس کے زوال کا سبب گردانتے ہیں اور اِسے انتہائى مہلک غلطی تصور کرتے ہیں کیونکہ وہ کیوتو کے علامتی جاہ و جلال میں کھوگئے تھے ۔ دوسری جانب میناموتو نے ایک بار پھر اپنی طاقت حاصل کرنا شروع کردی ۔ سنہ 1180 میں اُن کی فوجوں نے جنوب ۔ مغرب کی جانب پیش قدمی کی اور یکے بعد دیگرے فتوحات حاصل کیں اور یوں کرتے کرتے سنہ 1185کی ایک بحری جنگ میں طائرہ قبیلے کو مکمل شکست ہوئى ۔

اپنے آخری حریف کے خاتمے کے بعد ، میناموتو قبیلے کے اُس وقت کے سربراہ یوری تومو نے کاماکورا میں اپنا فوجی اڈا قائم کرتے ہوئے ایک جاگیردارانہ عسکری آمریت کی بنیاد ڈالی ۔ کاماکورا، سابق دار الحکومت کیوتو کے مشرق میں 300 میل کے فاصلے پر واقع ہے ۔ اِس حکومت کو باکوفو کہتے تھے ۔
سنہ 1192 میں شہنشاہِ جاپان نے یوری موتو کو شوگن یعنی فوج کے سربراہ کا خطاب دیا جس نے اپنے اقتدار کے دوران میں صوبوں کو نیم خودمختاری دی ۔ اُس وقت کے شہنشاہ کا عمل دخل صرف دربار کی حد تک تھا جبکہ فوجداری، عسکری اورعدالتی امور پرگرفت شوگن کی ہوا کرتی تھی ۔ گو کہ اُس کی حکومت قومی سطح کی نہیں تھی لیکن وہ ایک بڑے علاقے پر قابض رہا اور حقیقی اختیارات اُسی کے پاس تھے ۔ اُس نے مرکزی اور مغربی جاپان میں واقع طائرہ قبیلے کی جائیدادوں پر قبضہ کر لیا ۔ تاہم وہ شمال میں فوجیوارہ اور مغربی حصے کو فوجی کنٹرول میں لانے میں ناکام رہا ۔
اگرچہ یوری موتو نے کسی حد تک ایک مضبوط حکومت قائم کرلی تھی لیکن پھر بھی اُس پر اپنے قریبی رشتہ داروں اور بھائى کی جانب سے اقتدار سے بیدخلی کا خوف ہر وقت چھایا رہتا تھا ۔ وہ جاسوسوں سے بچنے اور کسی بھی بے یقینی کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا تھا ۔ اُس نے جو نظام اپنایا تھا اُس سے وہ اور اُس کا اقتدار تومحفوظ رہا لیکن وہ اپنا ایک اچھا سا جانشین تیار نہ کرسکا اور سنہ 1199 میں اچانک انتقال کے بعد اُس کے بیٹے یوری نے شوگن کا خطاب اور اپنے میناموتو قبیلے کی سربراہی حاصل کی ۔ لیکن اُس میں صلاحیتوں کی کمی تھی اور وہ مشرق میں آباد بوشی خاندانوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہا ۔

سنہ 1221 میں کیوتو اور کاماکورا کے مابین جنگ لڑی گئى جس میں ہوجو کی فوجوں نے باآسانی فتح پائى اور شاہی دربار کو براہ راست باکوفو کے کنٹرول میں لے لیا ۔ اب اُنہیں پہلے کی نسبت زیادہ اختیارات ملے اور شاہی دربار کو ہر کام کی کامورا کی حکومت کی جانب سے منظوری ضروری قراردى گئی ۔
کاماکورا کے دور کو خوشحالی اور ترقی کا دور کہاجاتا ہے ۔ چین کے ساتھ ساڑھے تین سو سال کے وقفے کے بعد تجارت شروع ہوئى ۔ کیوتو اور کاماکورا کے بیچ میں تجارت و کاروبار کو فروغ دیا گیا ۔ عسکری بہادری کے بارے میں مصوری اور داستان گوئى کی ثقافت ملک بھر میں مشہور ہوئى ۔ لیکن مذہبی لحاظ سے کئى پیچیدگیاں پیدا ہوئیں ۔ بھارت اور چین کی طرح جاپان میں بھی نظریات کے حوالے سے بُدھ ازم کے مختلف مسلک یا فرقے معرضِ وجود میں آئے ۔ جاپان میں بُدھ ازم کے اُس فرقے کو قبول کیا گیا جس کا آغاز چین سے ہوا تھا ، جس میں سب سے مشہور زین ہے ۔ بعد میں جاپانیوں نے اپنے مسلک بھی بنائے جِس میں مشہور جودو تھا ۔
دوسری جانب، باکوفو کے چین اور کوریا کے ساتھ باہمی تعلقات کافی کمزور تھے اور روابط کچھ زیادہ نہ تھے ۔ اگرچہ جنوبی چین کے ساتھ کسی حد تجارتی روابط تھے لیکن جاپانی بحری قزاقوں کی وجہ سے کھلے سمندر پُرخطرتھے ۔ اُسی دور میں یوریشیا کے زیادہ تر علاقے پر منگولوں کی حکمرانی تھی ۔ سنہ1286 میں یہ خبریں منظر عام ہونے لگیں کہ چین پر بھی منگول قابض ہوچکے ہیں ۔ چنگیز خان کے پوتے قُبلائى خان نے خراج وصول کرنے کے لیے شاہِ جاپان کو ایک مراسلہ بھیجا اور کہا کہ اگر سلطنتِ یوآن کو خراج پیش نہیں کیا گیا تو پھر انتقامی کاروائى کے لیے تیار ہوجاؤ ۔ کاماکورا کی حکومت نے جواب نہیں دیا لیکن کیوشو علاقے کے قریبی ساحلی علاقوں پر دفاعی اقدامات شروع کردئیے گئے۔ مقامی جنگجؤوں کو چوکس کر دیا گیا ۔ کوریا میں موجود جاسوسوں نے منگولوں کی فوجی سرگرمیوں پر نظر رکھنی شروع کردی ۔
بالاخر جس حملے کا خطرہ تھا وہ سنہ 1274 میں ہو گیا ۔ کوریا کے بنائے ہوئے تین سو بڑے بحری جہازوں اور چار سو سے پانچ سو تک چھوٹی کشتیوں پر سوار پندرہ ہزار منگول اور چینی سپاہی اور آٹھ ہزار کوریائى جنگجو حملہ آور ہوئے ۔ سمورائے چونکہ مقامی علاقے کی کیفیت سے آگاہ تھے اِسلئے اُنہوں نے ابتداء میں سخت مزاحمت کی لیکن بازی پھر بھی منگولوں کے حق میں پلٹی ۔ جس رات اُنہیں مکمل فتح نصیب ہونے والی تھی اُسی رات سمندر بپھر گیا اورتند و تیز موجوں نے منگولوں کی کشتیوں کو تہس نہس کر دیا اور یوں اُن کی کمر ٹوٹ گئى ۔
حملہ آور منگول تو بے مراد ہوکر واپس لوٹے ، لیکن کاماکورا شوگن کو پھر بھی فکر لاحق تھی کہ منگول دوبار حملہ کرسکتے ہیں ، لہذا، اِس خطرے کے پیش نظر دفاعی امور پر زیادہ توجہ دی جانے لگی ۔ کیوشو علاقے کے سمورائے کو بہتر انداز میں منظم کیا جانے لگا ۔ قَلعے اور پتھروں کی دیواریں تعمیر کی جانے لگیں ۔ اُن تمام علاقوں پر خصوصی توجہ دی گئى جہاں سے حملہ آوروں کے داخل ہونے کا امکان ہو سکتا تھا ۔ مذھبی عبادات بڑھا دی گئیں ۔ جن سمورائے نے منگول جارحیت کا دلیری سے مقابلہ کیا تھا اُنہیں انعامات سے نوازا گیا ۔
اگرچے قُبلائى خان پہلی یلغار کی ناکامی پر تھک گیا تھا لیکن منگولوں نے اپنے مشن سے پیچھے ہٹنے کا ابھی پوری طرح فیصلہ نہیں کیا تھا اور سنہ 1281 کے موسم بہار میں چینی بحری بیڑے کے ذریعے حملہ کیا گیا جس میں کوریائى بیڑا بھی شامل تھا ۔ کئى علاقوں پر خونریز جھڑپیں ہوئیں جِسے جنگ کوئن کہتے ہیں ۔ منگول افواج کو واپس اپنے بحری جہازوں کی جانب دھکیل دیا گیا ۔ اِسی دوران میں کیوشو کے ساحل پر ایک خوفناک سمندری طوفان اُمڈ آیا جس نے حملہ آور فوجوں کے چھکے چھڑا دئیے اور بحری بیڑا اور کشتیاں تِتربِتر ہوگئیں ۔ منگول سات سال کی مدت کے دوران میں اپنی منصوبہ بندیوں اور حملوں میں ناکامی کے بعد واپس ہوئے ۔ یہ اُن کی تاریخ کی بدترین شکست تھی ۔ جاپانیوں کے عقیدے کے مطابق کامی کازے یعنی مقدس طوفان نے اُن کی سرزمین کو بچا لیا ۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ کیوشو کے علاقے میں مضبوط دفاعی حکمت عملی نے بھی منگولوں کو فتح حاصل کرنے سے دور رکھا ۔
منگولوں کے ساتھ اِس جنگ نے جاپان کی معیشت پر منفی اثر ڈالا کیونکہ یہ دفاعی جنگ تھی اور اِس کے بدلے میں کچھ نہ ملا ۔ جاگیر داروں نے ٹیکس دینے سے انکار کر دیا جس سےحکومت کی آمدنیوں میں بڑی کمی آئى اور غربت بڑھ گئى تھی یوں کاماکورا کی حکومت لڑکھڑانے لگی اور روز بروز کمزور ہوتی چلی گئى ۔
انہی بدتر حالات میں سنہ 1318 میں ایک اور لیڈر، گو دائگوتِننو نے جاپان کے 96 ویں شہنشاہ کی حثیت سے تاج و تخت سنبھالا ۔ سنہ1333 میں ھوجو نے کاماکورا سے اپنے ایک جرنیل آشی کاگاتاکوجی، کو کیوتو پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا لیکن اِسی دوران میں اُس کے ذہن میں فتور آیا اوراُس نے بے وفائى کرتے ہوئے شہنشاہ کی حمایت کا اعلان کر دیا اور واپس کاماکورا کی جانب لوٹا آیا ۔
کئى جاگیرداروں اور سمورائے جنگجؤوں نے اِس جرنیل کی تائید کی اور اُنہوں نے حملہ کرکے اپنے آقا کی حکومت اور فوجی دار الحکومت کو تباہ و برباد کر دیا ۔
شہنشاہ گو دائگو ایک مضبوط آمریت کی بنیاد رکھتے ہوئے مشرق کا ایک بڑا حکمران بننا چاہتے تھے ۔ اُن کی خواہش تھی کہ چین کی طرح کی بادشاہت قائم کریں ۔ سنہ1335 میں شہنشاہ گودائگو اور جرنیل آشی کے مابین اُس وقت اختلافات پیدا ہوئے جب وہ ناکاسیندائى باغیوں کو کچلنے کے لیے بغیر شاہی فرمان کے مشرقی جاپان روانہ ہوا ۔ شاہی دربار نے اُسے نافرمانی کی سزا دینے کے لیے لشکر بھیجا لیکن آشی کاگا تاکوجی نے اُسے شکست دی ۔ شہنشاہ نے مزید دو کمانڈروں کی قیادت میں فوج بھیجی اور بالاخر آشی کو شکست ہوئى اور وہ کیوشو بھاگ نکلا ۔ لیکن اُس سے زیادہ دیر شکست برداشت نہیں ہوئى اور دوبار اپنی فوج کی صف بندی کرکے دار الحکومت کیوتو پر حملہ آور ہوا ۔ شاہی فوج کو شکست ہوئى اور شہنشاہ گو دائگو بھاگ نکلا ۔ آشی نے قابل بھروسا ایک کٹھ پُتلی شہنشہاہ مقرر کیا اور خود شوگن یعنی سمورائے کے انچارج کا خطاب حاصل کیا ۔
اب آشی کاگا تاکوجی ، اپنے ہمنواؤں اور وفاداروں سمیت دار الحکومت کیوتو میں براجمان تھا ۔ یہاں کی عیاش زندگی نے اُسے کمزور کر دیا اور اُس کی گرفت دیگر علاقوں پر کمزور پڑ گئى تھی ۔ بلکہ تاریخ بتاتی ہے کہ اِس بغاوت کے تقریباً 270 سال تک ،جاپان میں نہ تو کوئى ایسا شہنشاہ اور نہ ہی ایسا شوگن پیدا ہوا جس کا پورے ملک پر کنٹرول ہو ۔ صرف دار الحکومت کیوتو کے حدود تک اُن کے اقتداراعلیٰ کا اثر و رسوخ رہا ۔ ملک کے دیگر علاقوں میں مقامی جاگیر داروں جنہیں دائیمو کہا جاتا تھا، کا قبضہ رہا ۔ وہ اپنے علاقے کے قوانین خود مرتب کرتا تھا اور ہمسایوں کے خلاف جنگ و امن کے فیصلوں میں خود مختار تھا ۔ وہ مرکزی حکومت کو ٹیکس کی ادائیگی بھی نہیں کرتا تھا ۔
چودویں صدی میں تو یہ حالت اِس نہج پر جا پہنچی کہ دو حریف شہنشاہوں میں رسہ کشی ہوتی رہی ۔ مقامی جاگیرداروں کی مرضی پر منحصر تھا کہ وہ کس وقت کونسے شہنشاہ کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں ۔ اِسی میں موروماچی کا دور بھی رہا جس دوران میں چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی جنگیں جاری رہیں ۔ پندرھویں اور سولہویں صدی کو انتہائى خون خرابے والا خانہ جنگی کا دور کہا جاتا ہے ۔ اب وفاداری نام کی کوئى چیز نہیں رہی تھی اور جاسوسی ، دھوکا ، بغاوت اور بے دردی سے قتل و غارت کرنا زیادہ عام تھا ۔
ایسے وقت میں جب جاپان اندرونی خانہ جنگی کا شکار تھا یورپی ممالک نے دور اُفتادہ خطوں میں اپنی مہم جوئى شروع کرلی ہوئى تھی ۔ مارکوپولو 200 سال قبل کئى علاقوں کو دیکھ چکا تھا یا کئى کا ذکر سن چکا تھا ۔ جب کرسٹوفر کو لمبس نے کیوبا دریافت کیا تھا تو اُس وقت اُس نے یہ سوچا کہ شاید یہ جاپان ہے ۔
سنہ1543 میں پُرتگال کے تین سوداگر ایک چینی بحری جہاز پر سوار کیوشو کے جنوب میں واقع ایک چھوٹے سے جزیرے تانیگاشیما پہنچے ۔ وہ اپنے ساتھ باردوی بندوقیں لیکر آئے تھے جو جاپانیوں نے پہلی بار دیکھیں اور ہاتھوں ہاتھ خرید لیں ۔ یہ جنگ کی یقینی کامیابی کا ایک بڑا ذریعہ ثابت ہوسکنے والا جدید ہتھیار تھا ۔
پرتگالیوں کو بھارت اور جنوب مشرقی ایشیا میں تیزگرمی کی نسبت جاپان زیادہ خوشگوار ملک محسوس ہوا ۔ اُنہیں چین کی سرزمین بھی پسند تھی لیکن چینی لوگوں نے یورپ کے لوگوں کے ساتھ بیماری جیسا سلوک کرتے ہوئے اُنہیں صرف جنوبی بندرگاہ تک ہی محدود رکھا ۔ اُن کے خیال میں جاپان میں جاگیردارانہ نظام اور لوگوں کی دوست مزاج طبعیت کی وجہ سے اُنہیں سمجھنا آسان تھا ۔
سنہ1549 میں سپین سے پہلا عیسائى مبلغ جاپان کی سرزمین پر پہنچا اور ابتداء ہی میں کئى لوگوں نے مسیحیت قبول کرلی ۔ یورپی سوداگروں اور عیسائى مبلغین کو اُس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا جب مقامی عمائدین ایک دوسرے کے خلاف لڑتے تھے ۔ غیر مُلکی مبلغوں کے جانے کی صورت میں مقامی عیسائى دعوتِ تبلیغ کا کام کرتے تھے ۔ سنہ1569 میں شمال مغربی کیوشو کے ایک جاگیردار نے اپنے پندرہ سو نوکروں سمیت مسیحیت قبول کی اور غصہ میں آ کر بدھ مت کے ایک مقامی مندر کو آگ لگادی اور اِسی مقام پر چرچ تعمیر کیا ۔ جاگیردار کا یہ شہر ناگاساکی بعد میں یورپی تاجروں اور مسیحیوں کے لیے ایک نمایاں مقام بنا ۔
جاپانی لوگ سوائے آئنو قبیلے کے تمام ایک نسل، ایک زبان اور ایک ثقافت والے ہیں لہذا اگر کوئى رہنماء اِن کو متحد کرنے کی سنجیدہ کوشش کرتا تو یہ اتنا کٹھن ہدف نہ ہوتا ۔ سولہویں صدی میں تین نامور رہنماء گزرے ہیں جنہوں نے ملکی اتحاد میں اہم کردار ادا کیا ۔ اِن میں اُدانوبوناگا، تویوتومی اور توکُوگاوا ائیاسو شامل ہیں ۔ یہاں سے ایک سیاسی قیادت تلے جاپان کے عسکری وحدت اور استحکام کا عمل شروع ہوا ۔ پہلے اُدا نوبوناگا نے کئى مہم چلائیں جس دوران میں جاپان تقریباً متحد ہو گیا تھا اور جسے اُن کے جرنیلوں میں سے ایک جنرل تویوتومی ہیدے یوشی نے پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔
سنہ1568سے 1600 تک کے دور کو آزوچی مومویاما کا دور کہتے ہیں ۔
نوبوناگا ، نے سنہ1568 میں کیوتو پر قبضہ کیا اوراُس نے عسکری قیادت کے عہدے شُوگن پر ایک کٹھ پُتلی سپہ سالار مقرر کیا ۔ نوبوناگا، نے اپنے مخالفین کو بُری طرح کُچل ڈالا ۔ چونکہ کسی مذہبی عقیدے کے ساتھ اُن کی وابستگی نہیں تھی اِسلیے بدھ مت کے بھکشو اُن کے لیے رکاوٹ ِ راہ بن رہے تھے ۔ لہذا، اُنہوں نے ایسے عناصر کی بیخ کنی کے لیے تمام حربے استعمال کیے ۔ فطری طور پر اُنہوں نے دشمن کو زیر کرنے کے لیے عیسائى پیروکاروں اور مبلغین کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوششیں شروع کیں ۔ مغربی لباس، فن مصوری اور طرزِ معاشرت کی حوصلہ افزائى کی ۔ مسیحیوں کو قصبوں میں چرچ تعمیر کرنے کی اجازت دی ۔ مسیحی مبلغین نے مسیحیت قبول کرنے والوں کی تعداد میں بڑا اضافہ کرنے کے لیے نوبوناگا کو بھی مسیحیت کے دائرے میں لانے کی کوشش کی مگر اُس نے مسیحیت قبول نہیں کی، تاہم عیسائى مبلغین کو وہ تمام سہولیات اور مراعات دیں جو وہ چاہتے تھے ۔ کہا جاتا ہےکہ جب نوبوناگا کا انتقال ہوا تو اُس وقت تک جاپان میں مسیحیوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ چکى تھی جبکہ ملک کی کل آبادی دو کروڑ تھی ۔
سنہ1580 تک وہ وسطی ہانشو کا زیادہ تر علاقہ متحد کرچکا تھا ۔ دو سال بعد 1582میں نوبوناگا کے ایک منصب دار نے اُسے کیوتو کے مندر میں ہلاک کر دیا لیکن یہ منصب دار اپنے آقا کی حکومت پر قبضہ نہ کرسکا کیونکہ جب یہ خبر جنرل ہیدے یوشی تک پہنچی، جو اُس وقت ایک مخالف سے مزاکرات میں مصروف تھا واپس کیوتوآیا اور قاتل کا کام تمام کر دیا ۔ ہیدے یوشی مخالفین کیساتھ مذاکرات پر یقین رکھتا تھا ۔ اُس نے سنہ1590 میں آخری معرکہ فوجی پہاڑ کے نزدیک اوداوارا کے علاقہ میں لڑا جہاں اُس نے اپنے دور کے طاقتور خاندان ھوجو کے قلعے پر قبضہ کیا ۔
اب، ہیدے یوشی کو مسیحیوں کی بڑھتی طاقت کی فکر لگ گئى تھی ۔ اُس نے مسیحی مبلغین کے نام ایک سوال نامہ ارسال کیا کہ ایک مرد کے لیے ایک ہی عورت سے شادی کی پابندی کیوں ہے ؟ جبراً مذہب تبدیل کروانے کا کیا جواز ہے ؟ بدھ مت کے پیروکاروں کو کیوں قتل کیا گیا اور اُن کی عبادت گاہوں کو تباہ کیا گیا ؟ مسیحی ، بھیڑ بکریوں جیسے مفید جانوروں کو کیوں کھاتے ہیں ؟ سوداگر،جاپانی لوگوں کو غلام بناکر فروخت کرنے کے لیے کیوں باہر بھیجتے ہیں ؟
اِس سے پہلے کہ عیسائى پادری اِن سوالات کا جواب دیتا، ہیدیوشی نے تمام عیسائى مِشنوں کو جاپان چھوڑنے کا حکم دیا ۔
اُس وقت جاپان میں جنگجووں کی تعداد ضرورت سے زیادہ تھی اِس لیے ہیدی یوشی نے اِنہیں کام میں لاتے ہوئے کوریا، چین اور یہاں تک کہ ہندوستان اور فلپائن کو فتح کرنے کی نیت سے کوریا پر چڑھائى کی ۔ سنہ1592 میں ایک لاکھ 60 ہزار سمورائے جنگجووں نے کوریا پر حملہ کیا اور محض چھ ہفتوں میں کوریا پر قبضہ کر لیا ۔ تاہم کوریا کی بحریہ نے اپنے نئے بحری جہاز سے سمندر کے بہت سے علاقے کا موثر دفاع کیا ۔ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے چین نے اپنی فوجیں کوریا بھیج دیں ۔ چین کو بھی دو بار شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن مذاکرات نہ ہو سکے اور حالات جمود کا شکار ہوگئے۔ اِسی دوران میں سنہ1597 میں ہیدے یوشی نے مزید ڈیڑھ لاکھ فوجیں روانہ کیں ۔
اب جبکہ جنگ کا آغاز ہو گیا تھا کہ اِسی دوران میں ہیدے یوشی کی صحت خراب ہوگئى تو اُس نے پانچ رہنماؤں پر مشتمل کونسل کا اجلاس بُلایا اور اپنے پانچ سالہ بیٹے کو جانشین مقرر کرکے اِن رہنماؤں کو اقتدار سنبھالنے میں معاونت کی درخواست کی ۔ شدید علالت کے باعث، ہیدے یوشی کا تین ماہ بعد 18 ستمبر 1598 کوانتقال ہو گیا ۔ اِس کے بعد سمورائے جنگجووں نے جاپان واپسی کی، لیکن اِس مہم جوئى سے جاپان، کوریا اور چین کو پہنچنے والا نقصان پہلے سے کہیں زیادہ تھا ۔
پانچ سال کی عمر کا بچہ ہیدے یوری، بے اختیار تھا اور اصل طاقت دوسرے رہنماؤں کے پاس تھی۔ ہیدے یوشی کے انتقال کے بعد، توکوگاوا ا ئیاسو، سب سے طاقتور جاگیردار رہ گیا تھا ۔ اُس کی جاگیر، ہیدیوشی کے خاندان سے بھی زیادہ تھی ۔ اردگرد کے جاگیرداروں نے اُسے شکست دینے کی کوشش کی مگر سنہ1600 کی جنگ سیکیگاہارا میں اُن سب کو شکست ہوئى ۔ اور توکوگاوا ائیاسو نے ہیدے یوری کو اقتدار سے بے اختیار کر دیا اور جاگیردارانہ بنیادوں پر سخت حکومت قائم کی ۔
وہ انتہائى ہوشیار، شاطر اور ظالم حکمران تصور کیا جاتا رہا ہے ۔ اُس نے دار الحکومت کیوتو کی طرح کی پرسکون زندگی کو بالکل پسند نہ کیا اور دار الحکومت ایدو میں قائم کیا ۔

ایدو دور سنہ1603 سے سنہ1868 تک رہا ۔ ائیاسو، جاپان کی تاریخ کا کامیاب ترین حکمران مانا جاتا ہے ۔ اُس نے غداری سے کئى جنگیں جیتی تھیں ۔ اگرچہ جاپان میں ہمیشہ سے شہنشاہ ، ملک کا علامتی سربراہ ہوتا تھا لیکن اصل طاقت اور اختیار شوگن یعنی فوج کے سربراہ کے پاس ہوتا تھا لیکن ائیاسو نے جاگیر داری اور شہنشاہیت دونوں کی روایات پر مبنی نظام حکومت تشکیل دیا ۔ وہ ہیدے یوشی کی طرح پہلے تو مسیحیوں کے لیے دِل میں نرم گوشہ رکھتا تھا لیکن پرتگالی اور ہسپانوی سوداگر وہاں جاتے تھے جہاں کیتھولیک مشنری اُنہیں جانے کا کہتے تھے ۔ ائیاسو نے ہسپانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدوں کے لیے مذاکرات کرنے چاہے لیکن ہسپانیہ نے جاپانی جہازوں کو فلپائن یا میکسیکو کی بندرگاہوں پر جانے کی اجازت نہیں دی ۔ بعد میں ائیاسو کو معلوم ہوا کہ مسیحیوں میں ایک سے زیادہ فرقے ہیں۔ اِسی دوران میں سنہ1600 میں ایک ولیندیزی لیفدے نامی بحری جہاز جاپان کے کیوشو علاقے میں لنگر انداز ہوا ۔ اب جاپانیوں کو کیتھولک مسیحیوں کے بارے میں بھی علم ہوا ۔ مقامی جاگیرداروں نے ولندیزوں کا گرم جوشی سے خیر مقدم کیا ۔ بعد میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں بدھ ازم سے خطرہ نظر آنے لگا وہاں مسیحیوں کے بھی تیور بدلنا شروع ہوئے ۔
ائیاسو نے آخر کار سنہ1612 میں ایک حکمنامہ جاری کرتے ہوئے مسیحیت پر پابندی لگا دی ۔ تمام مسیحی تبلیغیوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے اور تمام جاپانی مسیحیوں کو بدھ مت قبول کرنے کا حکم دیا ۔ کئى نے ملک چھوڑ دیا اور کئى روپوش ہوگئے ۔ بہت سے جاپانی مسیحیوں کو تہ و تیغ کیا گیا ۔ مغربی ممالک کے ساتھ روابط میں کمی لائى گئى اور جاپانیوں کے غیر ممالک جانے پر پابندی لگادی ۔ نجی طور پرایسے بحری جہازوں کی تیاری پر پابندی لگائى گئى جو دور سمندر تک کا سفر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ سنہ1637 میں ناگاساکی کے قریب ہزاروں مسیحی مزارعوں نے خونریز بغاوت کی کیونکہ پرتگال نے اِس بغاوت کی کھلم کھلا حمایت کی ۔ اِس کے آئندہ چار سالوں میں تمام یورپیوں کو ملک سے بے دخل کر دیا گیا، ماسوائے کچھ ولندیزی سوداگروں کے جنہیں ناگاساکی کی بندر گاہ تک محدود رکھا گیا ۔
ایک ولندیزی بحری جہاز کو سال میں ایک بارجاپان آنے کی اجازت دی گئى ۔ اور جاپانی دانشور، ولندیزوں کے علم و دانش یعنی حساب، سائنس اور طب میں ہونے والی جدید ترقی کے بارے میں علم حاصل کرتے تھے ۔ جاپان کی دُنیا سے تنہائى کا یہ عمل آئندہ دو صدیوں تک چلتا رہا ۔
توکو گاوا ائیاسو ، نے سخت گیر نظام قائم کیا ۔ عوامی حرکت کو محدود رکھا اور ہر کسی کو ایک خاص کام و مقام تفویض کیا اور مزارعوں سے سر اٹھانے کے ہمت چھین لی گئى ۔ چھوٹے جاگیرداروں کو شادی کرنے، جانشین منتخب کرنے، یا اپنا نجی قلعہ مرمت یا تعمیر کرنے کے لیے حکومتی اجازت نامہ ضروری تھا۔ مخالف جاگیر داروں کو سڑکوں ، مندروں اور قلعوں کی تعمیر و مرمت کی ذمہ داری دی گئى ۔ اُنہیں ہر دو سال میں ایک بار دار الحکومت ایدو آنے کا پابند کیا ۔ اُن کے خاندانوں کو ایک طرح سے یرغمال بنایا کیونکہ اُنہیں سوائے اپنے علاقے کے کہیں دوسری جگہ رہنے کی اجازت نہیں تھی ۔
دار الحکومت ایدو کا علاقہ تیزی سے پھیلتا گیا اور اِس کی آبادی پانچ لاکھ تک جا پہنچی ۔ دار الحکومت کی جانب آنے والے تمام راستوں پر نگران چوکیاں تعمیر کی گئیں اور دار الحکومت کی جانب کسی بھی قِسم کے ہتھیاروں کی سمگلنگ پر کڑی نظر رکھی جانے لگی تاکہ کسی بھی قِسم کے بغاوت کا امکان نہ رہے ۔
سمورائے کی عزت کی جاتی تھی لیکن اب وہ معاشرے میں زیادہ ضروری نہیں سمجھے جاتے تھے، جس کی وجہ سے بہت سے سمورائے، زرداروں اور سوداگروں سے قرض لیکر زندگی گزارنے لگے ۔ نئى سڑکوں اور مواصلات کے بہتر انتظام سے تجارت پیشہ افراد کو فوائد پہنچنے لگے ۔ کاروبار اور تجارت بڑھنے سے سوداگر طبقہ ترقی کرنے لگا ۔ فنِ تعمیر میں جِدت آنے لگی اور شوخ رنگوں کا استعمال بڑھ گیا ۔
قَعلوں کے اندر لکڑی کے نقش و نگار کیے گئے اور سلائڈنگ دروازے اور فولڈ ہونے والے سکرین لگائے گئے اور دیواروں کو شوخ رنگوں سے پینٹ کیا گیا ۔ ائیاسو نے اپنے دربار میں کنفیوشن ازم کو دوبارہ زندہ کیا ۔ اگرچے ہنر مندوں اور کاروباری طبقے کے پاس پیسہ بہت آ گیا تھا تاہم ، معاشرے میں اُن کا مقام کسانوں سے نیچے رکھا گیا کیونکہ زراعت کو اب بھی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا تھا ۔ اگرچہ کسی وقت میں کسانوں کو طاقت کے بل بوتے پر کچل دیا گیا تھا لیکن دولت، تعلیم، اقتصادی ترقی اور بڑھتی ہوئى شہری آبادی سے نئى سماجی اور سیاسی تبدیلیاں رونما ہونے لگی تھیں اور کاروباری طبقے کے ساتھ ساتھ دانشوروں کا بھی ایک مضبوط کردار سامنے آنے لگا ۔
کبھی معاشرے کا کمزور طبقہ اب سمورائے سے زیادہ امیر ہو گیا تھا ۔ اُنیس ویں صدی تک شوگن کا اختیار اور طاقت خاصی کمزور ہوگئی تھی ۔ رُخ بدلتی شہری زندگی اور مغربی ممالک سے ملنے والی نت نئى معلومات نے روایتی معاشرے کو چلتا کر دیا ۔

میجی دور اور مغرب سے رابطے
جاپان کی تنہائى کی پالیسی تقریباً 200 سال تک جاری رہی ۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق، سنہ 1844ء میں ہالینڈ کے حکمرانِ وقت ویلیم دوم نے جاپان کو پیغام ارسال کیا کہ وہ اپنے بند دروازے بیرونی دُنیا کے لیے کھول دے ، تاہم اُس وقت کے عسکری سربراہ شوگن توکوگاوا نے اِس مطالبے کو مسترد کیا ۔
تقریباً دس سال بعد سنہ 1853ء میں بھاپ سے چلنے والے چار امریکی بحری جہاز ، کموڈور میتھیوپیری کی قیادت میں ایدو کے قریب لنگرانداز ہوئے ۔ جاپان نے اِن جہازوں کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا، لیکن پیری نے انکار کیا ، کہ وہ اُس وقت واپس نہیں ہونگے، جب تک وہ شہنشاہِ جاپان کو امریکی صدر کی جانب سے بھیجا گیا مراسلہ نہ پہنچائیں ۔ اِس مراسلے میں دوستی ، تجارت، کوئلے کی فراہمی وغیرہ جیسے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا تھا ۔ امریکی کموڈور نے مراسلہ دینے کے بعد کہا کہ وہ اِس کا جواب وصول کرنے کے لیے ایک سال بعد دوبارہ دورۀ کریں گے ۔ جاپانیوں نے اُس سال کافی غور و خوص کیا کہ وہ باقی دُنیا سے کتنا پیچھے ہیں ۔
اگلے سال 31 مارچ سنہ 1854ء کو کاناگاوا کنونشن کے موقع پر جب میتھیو پیری دوبارہ آیا، تو اُس وقت وہ سات بحری جہازوں کی قیادت کررہا تھا ۔ طرفین کے مابین چھ ھفتوں تک مذاکرات ہوتے رھے، اور بالاخر ایک معاہدہِ امن و دوستی دستخط کیا گیا ، اور یوں سفارتی تعلقات قائم کیے گئے ۔ یہ معاہدہ منظر عام ہونے پر برطانوی، روسی اور ولندیزی بھی مطالبہ کرنے لگے کہ اُن کے ساتھ بھی ایسا ہی معاہدہ کیا جائے ۔ 29 جولائى 1858ء کو امریکا کے ساتھ ہیریس ٹریٹی نامی معاہدہ دستخط ہوا، جس میں تجارت کے حوالے سے کئى امور پر اتفاق کیا گیا ۔ تجارت کے پہلے معاہدوں سے جاپان کواپنے غیر مُلکی تجارت اور محصولات کی پالیسوں سے دستبردار ہونا پڑا ، جس کی وجہ سے جاپان کی تجارت عدم توازن کا شکار ہوئى اور حالات مغرب کے حق میں ہوئے ، اور مزید یہ کہ اب غیرمُلکیوں کو علاقائى فوائد کے ساتھ جاپان میں رہنے کا حق حاصل ہوا، اور اُنہیں جاپانی قوانین سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ۔
چونکہ سامراجی قوتیں ایشیا کے زیادہ تر حصے پر اپنے پنجے گاڑ چکے تھے، اِیسے میں جاپان کا اُن کے نرغے میں آنا فطری بات تھی ۔ توکوگاوا شوگن کا عائد کردہ نظام اب وقت کے تقاضوں کے مطابق نہیں رہا تھا، اور ایک فرسودہ نظام کی شکل اختیار کرکے روبہ زوال ہوا، کیونکہ اِسے عوامی پذیرائى بھی نہیں مل رھی تھی ۔ کچھ جاپانی دانشور مشرقی اخلاقیات اور مغربی سائنس کے امتزاج سے جِدت لانے کی وکالت کرنے لگے ۔
سمورائے اِس قِسم کے کسی بھی نظریے کی مخالفت کرنے لگے اور اُنہوں نے ، مغربی لوگوں اور مغرب نواز جاپانیوں پر حملے شروع کردئیے ۔ شوگن کی قوت بھی لڑکھڑانے لگی اور اردگرد کے جاگیرداروں سے بغاوت کی بُو آنے لگی ۔ اِس دوران میں کچھ علاقائى جاگیرداروں نے مغربی جہازوں پر حملے کیے ۔ جواباً مغربی قوتوں نے توپ خانے سے گولہ باری کی، اور یوں جاپانی بحری جہازوں اور جنگی صلاحیت کو ختم کرتے ہوئے برطانیہ کی پہلی فوج 1863ء میں ساتسوما کے علاقائى دار الحکومت کاگوشیما پر اُتری ۔
ایک سال بعد یہی سلوک برطانوی ، فرانسیسی ، ولندیزی اور امریکی ٹاسک فورس نے چوشو بندرگاہ پر کیا ۔ شکست کے بعد سیتسوما اور چوشو کے علاقائى سرداروں نے مغربی قوتوں کے ساتھ دوستانہ روابط بڑھائے ۔ سیتسوما نے اپنی جدید بحریہ تشکیل دی ، جبکہ چوشو نے اپنے کسانوں کو مغربی فوج کی طرز پر تربیت دی اور امریکی خانہ جنگی میں بچ جانے والا اسلحہ خرید لیا ۔ اِن دونوں قوتوں نے سنہ 1866ء میں ایک اچھی فوج کی شکل اختیار کرلی ۔ اِس فوج نے شوگن کی روایتی فوج کا بڑے بھرپور انداز میں مقابلہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ۔
سنہ 1867ء میں ایک پندرہ سالہ شہنشاہ موتسوہیتو نے اقتدار سنبھالا اور اُنہوں نے سیتسوما اور چوشو سمیت جدید معاشرے کے خواہاں سرداروں کی حمایت کی اور نئے شوگن کے خلاف ایک اتحاد تشکیل دیا۔ اِس اتحاد کے تحت ، شوگن سے مستعفی ہونے اور ایدو کے شمال میں واقع اُن کی جائداد کی ضبطی کا مطالبہ کیا گیا ۔ انکار پر دونوں اطراف سے حملے شروع ہوگئے ، اور جاگیرداروں کی فوجوں نے کیوتو پر حملہ کرکے قبضہ کر لیا ۔ توکوگاوا کے کئى وفادار بھاگ نکلے اور شوگن کو بےدخل کر دیا گیا ۔ برطانوی پیادہ فوج نے شہنشاہِ وقت کو اپنی حفاظت میں لیکرایدو میں واقع شوگن کے قَلعے میں لے گئی ۔

شہنشاہ موتسوہیتو کے دور کو دورِمیجی یعنی روشن خیال دور کہا جاتا ہے ۔ اُن کا دور 45 سالوں پر محیط ہے ، جو سنہ 1867ء سے 1912ء تک رہا ہے ۔ اِس دور میں جاپان نے ڈرامائى ترقی کی ۔ جاگیرداری پر قائم صدیوں پرانے نظام کو بدلتے ہوئے جاپان کو ایک عالمی طاقت بنا دیا، جو غیر مغربی ثقافت پر مبنی جدید ترقی کی ایک کامیاب مثال بنا ۔ غیر مُلکی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں ، اور طالب علموں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ مُلک بھیجا گیا۔
اصلاحات کے تحت ، سنہ 1871ء میں جاگیریں ختم کرکے ، پرگنہ اور تعلقہ یعنی جاگیروں کو ریاستی ملکیت گردانا گیا ۔ سمورائے کی پنشن ختم کرکے اُن کے روایتی لباس پہننے اور تلوار لیکر چلنے کو ممنوع قرار دیا گیا ۔ تعلیم کو بڑی اہمیت دی گئى اور نئےاسکول تعمیر کیے گئے ۔ رہنمائى کے لیے کئى مغربی اداروں کا سہارا لیا گیا، اور فوج کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا اور جن سمورائے نے بغاوت کی کوشش کی، اُنہیں فوج سے شکست دی گئى ۔
فوجی تربیت کے لیے فرانسیسی مشیر مقرر کیے گئے ۔ قانونی نظام ، پارلیمانی ادارے ، آئین اور حکومت سازی کے لیے جرمنی ، فرانس اور امریکا سے استفادہ کیا گیا، اور یہاں تک کہ جاگیرداری اور شوگن کے خاتمے کے لیے مغربی طاقتوں سے براہِ راست مدد لی گئى ۔
اگرچہ جاپان وہ پہلا ایشیائى مُلک تھا، جس نے مغربی طرز پر جدید معاشرہ قائم کیا تھا، تاہم ، وہ 19 ویں صدی کے جرمنی کی طرح بیک وقت قدامت پسند بھی تھا ۔ مثال کے طور پر تعلیم پر حکومت کو مکمل کنٹرول تھا، اور اِسے ریاست کے لیے اطاعت شعار ملازمین تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ۔
پریس کو سختی سے کنٹرول کیا گیا ۔ فوج کو بغیر کسی پس وپیش کے شہنشاہ کی اطاعت کرنی ہوتی تھی ۔ سپاہیوں کو یہی تربیت دی جاتی تھی، کہ میدانِ جنگ میں موت ، سب سے مقدس ہے ۔ شِنتواِزم کو بدھ اِزم اور مسیحیت پر فوقیت دی گئى کیونکہ یہ نہ صرف اصل جاپانی عقائد پر مبنی تھا، بلکہ اِس میں شہنشاہ کی اطاعت پر زور دیا گیا تھا ۔

طاقت ور فوج کے قیام کے بعد ، مغربی سامراجیت سے جاپان میں بھی توسیع پسندی کا رجحان پھر سے پروان چڑھنے لگا ۔ جاپانی رہنماوں کو جزیرہ نماء کوریا کھٹکتا رہتا تھا۔ وہ چاہتے تھے، کہ یا تو کوریا مکمل طور ایک آزاد ملک بن جائے تاکہ کوئى غیر ملکی طاقت کوریا کے ذریعے جاپان پر حملہ نہ کرسکے اور یا پھر کوریا ، جاپان کے زیر تسلط آجائے ۔ اِس کے لیے ضروری تھا کہ جاپانی سرحدوں کو اصل حدود سے کہیں دور تک پھیلا دیا جائے تاکہ کسی بھی قِسم کے بیرونی حملوں کا باہر مقابلہ کیا جاسکے اوریوں مُلکی معیشت کی ترقی میں کوئى روکاوٹ نہ آئے ۔ اِس مقصد کے حصول کے لیے پہلا ہدف کوریا بنا ۔ یہ بھی کہاجاتا ہےکہ چونکہ کوریا میں کوئلے اور لوہے کے ذخائر تھے اِس لیے جاپان چاہتا تھا کہ وہ اپنی صنعتی ترقی کے لیے اِن وسائل سے کسی طرح سے استفادہ کرسکے ۔ کوریا اور منچوریا میں فوجی کاروائى کے سبب ہی جاپان ۔ چین پہلی جنگ یکم اگست سنہ 1894ء سے17 اپریل 1895ء تک ، چین کے چِن عہدِ حکومت اور میجی جاپان کے مابین لڑی گئى ۔
اُس دور میں کوریا ، چین کے زیر اثر تھا ۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف سوچ اُبھرنے لگی ۔ کچھ کے خیال میں روایتی انداز سے چین کے ساتھ منسلک رہا جائے، جبکہ کچھ کا موقِف تھا ، کہ جاپان اور مغربی ممالک سے تعلق قائم کیا جائے ۔
چِن دور حکومت میں ، چین کی سلطنتِ برطانیہ کے خلاف لڑی جانے والی جنگِ افیون 1839ء–1842ء اور 1856ء–1860ء اور فرانس کے خلاف جنگ اگست 1884ء سے اپریل 1885ء تک سے ، چین کمزور ہو گیا تھا اور مغربی ممالک کی جانب سے سیاسی مداخلت کو نہ روکا جا سکا ۔ شاید جاپان کے لیے یہ بہتر موقع تھا کہ وہ جزیرنماء کوریا پر چینی اثرورسوخ کو چیلنج کردے ۔
سنہ 1882ء میں کوریا میں قحط آیا ۔ غذائى اجناس کی قلت پیدا ہوئى، حکومت دیوالیہ ہوگئى، قرضوں کی ادائیگی مشکل ہوئى اور وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے فوج ڈانواڈول ہونے لگی ۔ اِسی اثناء میں سئیول میں فوجی بغاوت بڑھک اُٹھی ، فسادات پُھوٹ پڑے، گوداموں پر حملے کیے گئے اور اگلی صبح مظاہرین نے شاہی محل کو نشانہ بنایا ۔ اُس کے بعد ہجوم نے جاپانی سفارت کاروں پر حملہ کیا ، تاہم کچھ سفارت کار ،سروے کرنے والے فلائنگ فش نامی ایک برطانوی بحری جہاز کے ذریعے نکلنے میں کامیاب ہوئے ۔ جوابی اقدام کے طور پر ، جاپان نے چار جنگی جہاز اور ایک بٹالین فوج روانہ کی تاکہ جاپانی مفادات کا تحفظ کیا جا سکےاور تاوان طلب کی جائے ۔
جاپانی حملے کو روکنے کے لیے چین نے بھی 4500 فوجی روانہ کیے ۔ تاہم کشیدگی کا خاتمہ اُس وقت ہوا، جب ایک معاہدے کے تحت سازشیوں کو سزا اور مرنے والے جاپانیوں کے خاندانوں کو 500٫000 ین دینے پر اتفاق ہوا ۔ جاپان سے باقاعدہ معافی مانگی گئى اور اُسے یہ اختیارحاصل ہواکہ وہ سئیول میں اپنے سفارتی عملے کے تحفظ کے لیے حفاظتی چوکیاں قائم کرے اور اپنے سیکورٹی گارڈز متعین کرے ۔
دو سال بعد ، جاپان کے حمایتی اصلاح پسندوں نے ایک خونی بغاوت میں اقتدار پر قبضے کی کوشش کی ، لیکن چینی فوج کے جنرل یوآن شیکائی کی مدد سے مخالف گروپ نے خون خرابا کرتے ہوئے اصلاح پسندوں کو ناکام بنا دیا ۔ اِس خونی بغاوت میں کئى لوگ زندگی گنوا بیٹھے ۔ جاپان کو یہ چینی مداخلت ناگوار گزری، کیونکہ یہ چین کی جانب سے اُن کے اثر کو پنپنے سے روکنے کی ایک اور کوشش تصورکی گئى ۔ اِسی جنرل پر یہ الزام بھی تھا ، کہ اُس کے ایجنٹوں نے 28 مارچ 1894 کو شنگھائى میں جاپان نواز کوریائى انقلابی رہنماء کیم اوکیون کو قتل کیا تھا ۔
تاریخ بتاتی ہے کہ بعد میں مقتول کی لاش ایک چینی بحری جہاز کے ذریعے کوریا لاکر دوسرے مخالفین کو عبرت دینے کے لیے سرعام رکھی گئى ۔ جاپان کو یہ اقدام پسند نہیں آیا اور حالات میں مزید تناؤ اُس وقت پیدا ہوا جب چینی حکومت نے کوریا کے شہنشاہ کی درخواست پر تونگھاک باغیوں کی سرکوبی کے لیے فوج بھیجنے کے فیصلے سے جاپان کو آگاہ کرتے ہوئے ،جنرل یوآن کی قیادت میں 2800 فوجی روانہ کیے ۔ جاپان نے اِس بات کی مخالفت کی ، کہ یہ کنونش کی خلاف ورزی ہے اور فوج کشی کردی ۔ جاپان کے 8000 فوجیوں نے شہنشاہِ کوریا کو ہٹا کر 8 جون سنہ 1894 میں شاہی محل پر قبضہ کیا اور جاپان حمایتی گروپ کو اقتدار سونپا ۔
نئى حکومت نے چینی فوجیوں کو مُلک سے نکل جانے پر مجبور کیا اور اِسی دوران میں جاپان نے مزید افواج بھیج دیں ۔ جاپان کی بروقت اور کامیاب کاروائى سے اِسے بالادستی حاصل ہوئى اور معاہدۀ شیمونو سیکی کے تحت کوریا کو چین سے آزادی ملی ۔ جاپان کو تائیوان اور پیسکادوریس کے جزیروں پر قبضہ کرنے اور منچوریا کے جنوبی سر ے پر بحری اڈا بنانے کا اختیار مل گیا ۔
کئى مغربی ممالک کو جاپان کی بڑھتی ہوئى طاقت پر حیرانی ہورہی تھی ۔ دوسری جانب روس کے شہنشاہ )زارِ روس( نکولس دوم بھی منچوریا اور کوریا پر اقتصادی بالادستی حاصل کرنے پر کام کررہا تھا اِس لیے موجودہ صورت حال ، سلطنتِ روس اور سلطنتِ جاپان میں رسہ کشی کا سبب بنا ۔ دونوں قوتوں نے جزیرہ نماء لیاؤ دونگ ، موکدین اور کوریا اور جاپان کے سمندری علاقوں کے آس پاس اور دریائے زرد میں ایک دوسرے کے خلاف کاروائیاں شروع کیں ۔
روس کی پالیسی تھی کہ وہ اپنی بحریہ اور بحری تجارت کی غرض سے بحرالکاہل تک رسائى کے لیے گرم پانیوں کی بندرگاہ حاصل کرلے، کیونکہ روس کی ولاڈیواسٹوک کی بندرگاہ ، صرف موسم گرما میں قابل استعمال تھی جبکہ جزیرہ نماء لیودونگ کی بندرگاہ، پورٹ آرتھر سارا سال کُھلی رہتی تھی ۔ 30 جنوری 1902 کو جاپان نے برطانیہ کے ساتھ اِینگلو۔ جاپانی اتحاد کا معاہدہ دستخط کیا ۔ یہ ایک فوجی معاہدہ تھا جس سے روس اور جرمنی خطرہ محسوس کرنے لگے ۔
آٹھ فروری 1904 کو جاپانی بحریہ نے کوریا کے ساحل کے نزدیک روسی جہازوں پر حملہ کر دیا ۔ پھر اُنہوں نے آرتھر بندرگاہ کا محاصرہ کیا اور بحرالکاہل میں واقع روسی بندرگاہ ولاڈیواسٹوک کی ناکہ بندی کردی ۔ یہی نہیں جاپانی فوجوں نے کوریا اور منچوریا پر بھی یلغار کردی، تاکہ سائبیریا سے آنے والی روسی فوجوں کا راستہ روکا جاسکے ۔ اِس ساری صورت حال میں چین بے بس تماشائى بنا رہا ۔ روس نے اپنے بالٹک بحری بیڑے کو حرکت دی جو یورپ اور افریقہ سے گزرتا ہوا ایشیا پہنچا، لیکن جاپانی بحری بیڑے نے پہلے سے اپنی حکمتِ عملی تیار کرلی ہوئى تھی اور روسی بیڑے کے آتے ہی حملہ کر دیا جس میں جاپان کو مکمل فتح نصیب ہوئى اور روس کے 40 بحری جہازوں میں سے صرف دو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ۔
ایک اندازے کے مطابق ، اِس جنگ میں جاپان کے 47 ہزار سے زیادہ ، روس کے لگ بھگ 70 ہزار اور چین کے تقریباً 20 افراد لقمہ اجل بنے ۔ کہا جاتا ہے کہ اِس جنگ میں مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے ۔ امریکی صدر روزویلٹ نے دونوں ممالک مابین پورٹسماوت کے امریکی بحری اڈے پر مزاکرات کا اہتمام کیا اور ثالث کا کردار ادا کیا ، جس کی بدولت 5 ستمبر 1905 کو ایک امن معاہدہ دستخط ہوا ۔ معاہدے میں طے ہوا کہ پورٹ آرتھر اور سخالین جزیرے کا آدھا جنوبی حصہ جاپان کے زیرِ قبضہ ہو اور کوریا کو جاپان کی کٹھ پُتلی ریاست بنا دیا گیا۔ امریکی صدر کو اِن خدمات کے صِلے میں نوبل امن انعام سے بھی نوازا گیا ۔
روسی عوام بھی زارِ روس کی بدعنوانیوں سے بددِل ہوتے گئے اور سیاسی انتشار پھیلتا گیا ۔ دہشت گردانہ حملے اور مزارعوں کے مظاہرے روز کا معمول بن گئے تھے، اور یوں انقلابِ روس کی راہ ہموار ہوتى گئى ۔ جاپان میں بھی عوامی سطح پر اِس امن معاہدے پر اعتراض کیا گیا کیونکہ وہ اِسے مہنگی فتح تصور کرتے تھے اور مطالبہ یہ تھا کہ سخالین کا پورا علاقہ جاپان کے قبضے میں آنا چاہیے تھا ۔
جاپان اب ایشیا میں ایک نئے مشرقی طاقت کے طور پر اُبھر رہا تھا اور تجزیہ نگاروں نے اندازہ لگالیا تھا کہ اگر ایشیا میں مغربی طاقتوں کو کوئى مُلک شکست سے دوچار کر سکتا ہے تو وہ جاپان ہی ہے ۔ جاپان کے قومی وقار میں زبردست اضافہ ہوا۔
چین اور روس کے خلاف فتوحات کے بعد ، جاپانی سامراجیت نے مزید علاقوں کی شمولیت کا رجحان اختیار کیا ۔

جنگ عظیم اول سنہ 1914 سے 1918 تک لڑی گئى جو تاریخ میں انسانیت سوز واقعات سے بھری پڑی ہے ۔ انسانی تاریخ میں پہلی بار کیمیائى ہتھیار اور زہریلی گیس استعمال کی گئى ۔ شہری آبادی پر بڑے پیمانے پر بمباری کی گئى اور تاریخ میں پہلی بار بڑی تعداد میں فوج کو حرکت میں لایا گیا ۔
اِس جنگ نے قدیم یورپ کو مٹا کر نئے یورپ کو جنم دیااور آمریت کا خاتمہ ہو گیا ۔ یہ انسانی تاریخ کی ایک تباہ کُن جنگ تھی جس میں 90٫000٫00 سے زیادہ مرد ، میدانِ جنگ میں ہلاک ہوئے اور اتنے ہی عام افراد غربت ، بھوک، قحط ، بیماری اور نسل کشی جیسے واقعات کی نذر ہوئے ۔
تاریخ کچھ یوں بتاتی ہے کہ 19 ویں صدی کے اواخر میں یورپ میں اتحاد بننے لگے تھے ۔ سنہ 1879 میں آسٹریا ۔ ہنگری جواُس وقت ایک ملک تھا اور جرمنی نے روس سے بچنے کے لیے آپس میں اتحاد کیا جِسے دی ڈول ایلائنس کہتے ہیں ۔
سنہ 1881 میں آسٹریا۔ہنگری نے سربیا کے ساتھ بھی اتحاد کیا اور اِس کا مقصد بھی روس کی سربیا کی جانب پیش قدمی کو روکنا تھا ۔ ایک سال بعد سنہ 1882 میں دی ٹرپل ایلائىنس نامی اتحاد معرض وجود میں آیا جس میں جرمنی اور آسٹریا۔ہنگری نے اٹلی کے ساتھ معاہدہ کیا ۔ اِس اتحاد کا مقصد اٹلی کو روس کے ساتھ شامل ہونے سے روکنا تھا ۔
اِن بدلتے حالات میں روس نے بھی اپنی حکمت عملی بدلتے ہوئے سنہ 1894 میں فرانس کے ساتھ فرنکو۔رشین ایلائنس کے نام سے ایک اتحاد بنایا جس کا مقصد جرمنی اور آسٹریا ۔ ہنگری سے اپنا دفاع کرنا تھا ۔
سنہ 1904 میں فرانس اور برطانیہ نے اینتات کورڈئیل کے نام سے ایک معاہدہ کیا جو باقاعدہ اتحاد تو نہیں تھا تاہم قریبی تعلقات کے لیے بہت اہمیت کے حامل تھا ۔ اِسی طرح کا ایک معاہدہ ، برطانیہ اور روس کے مابین سنہ 1907 میں اینگلو۔رشین اینتات کے نام سے دستخط ہوا ۔ جرمنی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے اِسی سال یعنی سنہ 1907 میں ٹرپل اینتات کے نام سے ایک معاہدہ ہوا جس میں روس ، فرانس اور برطانیہ شامل تھے ۔ اب یورپ تقسیم ہو گیا تھا یعنی ایک جانب جرمنی ، آسٹریا ۔ ہنگری ، سربیا اور اٹلی ، جبکہ دوسری جانب روس ، فرانس اور برطانیہ تھے ۔
چونکہ جاپان سنہ 1902 میں برطانیہ کے ساتھ معاہدہ کرچکا تھا اِس لیے اُس نے برطانیہ کی طرفداری کرتے ہوئے اعلان جنگ کیا اور جرمنی کو دھمکی دی کہ وہ فوری طور پر مشرقی بعید سے اپنے جنگی بحری جہاز باہر کردے اور چین کے علاقے کیاوچو، جو موجودہ چِینداؤ کے نام سے پہچانا جاتا ہےمیں واقع اڈے سے دستبردار ہو جائے ۔ جب جرمنی نے کوئى جواب نہیں دیا تو جاپان نے اعلان جنگ کر دیا ۔
جاپان کو بہت کم جانی نقصان کے بدلے فتح نصیب ہوئى ۔ اب جاپان کا ایشیا میں اثر مزید بڑھنے لگا اور اُس نے بحرالکاہل اور اردگرد زیر قبضہ علاقوں پر اپنی گرفت کو مزید تقویت دی ۔ سنہ 1915 میں جاپان نے چین سے 21 مطالبے کیے ۔ چونکہ اُس وقت چین خاصا کمزور ہو گیا تھا اِسلئے بغیر کسی مزاحمت کے زیادہ تر مطالبات مان لیے اور شمال مشرقی چین میں جاپانی اختیار کو تسلیم کر لیا ۔ جاپان نے اپنی زیر قبضہ علاقے اور ریل کی پٹڑی کو منچوریا تک وسعت دی ۔
سنہ 1917 میں جاپان کے اتحادیوں نے اُس کی جانب سے جنگی حمایت کرنے پر جاپانی قبضوں اور دعوؤں کی خُفیہ طور حمایت کرنے پر اتفاق کیا ۔
جنگ عظیم اول ابھی جاری تھی کہ اِس دوران میں سنہ 1917 میں روس میں انقلاب آیا اور خانہ جنگی شروع ہوگئى ۔ اِس بدنظمی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے امریکا، برطانیہ اور جاپان نے اپنی افواج ولاڈیواسٹوک میں اُتار دیں اور ٹرانس سائبیریا ریلوئے تک کے کئى سو کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر لیا ۔ سرکاری طور پر تو یہ کہا گیا کہ اِس آپریشن کا مقصد اتحادیوں کے وہ ہتھیار برآمد کرنا ہیں جو روس لیجائے گئے ہیں ۔ لیکن اِس کا اصل مقصد انقلاب روس یا بالشویک ریولوشن کے مخالفین کی مدد کرنا تھا۔
ابتداء میں ہر مُلک نے 7000 ہزار فوجی سائبیریا بھیجنے کا فیصلہ کیا لیکن جاپان نے فوری طور پر زیادہ ملوث ہونے کے لیے 72٫000 اہلکار روانہ کیے ۔ برطانیہ اور امریکا کو اب خدشہ ہونے لگا کہ یوں جاپان وہاں پر مستقل اڈے بنا سکتا ہے اور پھر وہاں سے جاپان کو نکالنے میں وقت لگے گا ۔
اُدھر یورپ میں جنگ عظیم اول ایک بڑی تباہی کے بعد ختم ہونے لگی ۔ جنگ لڑنے والے تمام ممالک اب تصفیہ کرنے لگے تھے اور اِس مقصد کے لیے فرانس کے شہر ورسائلز میں ایک کانفرنس بُلائى گئى ۔ جاپان بھی اِس کانفرنس میں مدعو تھا ۔ سنہ 1919 میں ٹریٹی آف ورسائلز نامی معاہدہ دستخط ہوا ۔ اِسی کانفرنس میں جاپان کو نئے بین الاقوامی نظام میں سرکاری طور پر دُنیا کے پانچ بڑے ممالک میں سے ایک تسلیم کیا گیا ۔ جاپان نے نئى بین الاقوامی تنظیم لیگ آف نیشن میں شمولیت اختیارکی ۔ جاپان کی منچوریا اور سخالین میں عملداری کو تسلیم کیا گیا اور بعد میں یہ آخری اتحادی تھا ، جس نے روس سے سنہ 1925 میں انخلا کیا ۔
جب جولائى سنہ 1914 میں جنگ عظیم اول چِھڑگئى تو یورپ کے ممالک ایک دوسرے پر حملے کرنے لگے جس کی وجہ سے اُن کی بین الاقوامی تجارت معطل ہوگئى تھی ۔ اب وہ باقی دُنیا کو کپڑا، مشینری اور کیمیکل برآمد کرنے سے قاصر تھے ۔ اِن حالات میں جاپانی مصنوعات کی مانگ بڑھ گئى جس سے جاپانی تاجر اور سرمایہ کار اچانک امیر ہوگئے اور اُنہوں نے سرمایہ کاری میں تیزی سے اضافہ کیا ۔ ہزاروں فیکٹریاں تعمیر کی گئیں اور جاپانی ٹیکسٹائل کی برآمد میں بہت اضافہ ہوا ۔
چونکہ جاپانی مصنوعات اِس سے قبل سستی اور غیر معیاری ہوتی تھیں ، لہذا سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں نے پیداواری معیار کو بہتر کرنے کے لیے بیرونی ممالک سے جدید مشینری اور جدید تکنیک حاصل کی ۔ یوں کئى بڑی کمپنیاں معرضِ وجود میں آئیں اور مُلکی دولت کا بڑا حصہ اُن کے ہاتھ آیا ۔ جاپان میں قدرتی وسائل کی کمی اور تیزی سے بڑھتی ہوئى آبادی ایک لمحہء فکر بنتا جارہا تھا ۔ سنہ 1920 میں جاپان کی آبادی ساڑھے پانچ کروڑ سے زیادہ تھی جو گیارہ سال بعد ساڑھے چھ کروڑ تک جا پہنچی ۔ اُس دور میں آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح دس لاکھ تھی ۔
جاپانی معیشت کو روزگار کے سالانہ ڈھائى لاکھ مواقع پیدا کرنے کی ضرورت تھی ۔ جاپان نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے اپنی برآمدات میں اضافہ کیا ۔ لیکن سنہ 1929 سے سنہ 1931 تک عالمی کسادبازاری یا مندی یعنی گریٹ ڈیپریشن کا دور دورۀ تھا ۔ عالمی تجارت کی حالت دگرگوں تھی ۔ مُلکوں نے درآمدات میں کمی کردی تھی ۔ بے روزگاری میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ، اُجرتوں میں کمی کی گئى ۔ نتیجتاً مظاہروں نے زور پکڑ لیا اور یورپ مایوسیوں کے بادلوں میں گِھرگیا ۔ اِنہی حالات نے جاپان پر بھی اثر کرنا شروع کر دیا تھا ۔
سنہ 1920 کی دھائى میں جاپان کی جمہوری تحریک نے بھی زور پکڑا جسے تائىشو جمہوریت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ 30 جولائى کو شہنشاہ میجی کے انتقال کے بعد تائىشو نے جاپان کے 123 ویں شہنشاہ کی حثیت سے منصب سنبھالا جن کا دور30 جولائى 1912 سے 25 دسمبر1926 تک رہا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جاپان میں شہنشاہ اپنے اصلی نام سے نہیں بلکہ اعزازی نام سے پہچانا جاتا ہے اور تاریخ میں اُن کے دور کواِنہی ناموں لکھا جاتا ہے تو یوں تائىشو بھی اعزازی نام ہے ۔
میجی دور میں بڑے پیمانے پر اندرون و بیرون مُلک سرمایہ کاری اور دفاعی پروگراموں پر کثیر اخراجات کی وجہ سے سرمایے کی قلت ہونے لگى اور نوبت یہاں تک آ گئى کہ بیرونی قرضے لوٹانے کے لیے مناسب رقوم کی دستیابی مشکل بنتی جارہی تھی ۔ جاپان کے اندر سیاسی اور معاشی دباؤ بڑھتا جا رہا تھا ۔ اندرون ملک پیچیدگی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جاپان نے سائبیریا کی مہم جوئى سے کچھ خاص حاصل نہیں کیا تھا اِسلئے فوج کا ملکی سطح پر اثر کم ہونے لگا ۔
واشنگٹن میں سنہ 1921–22 میں ہونے والی کانفرنس میں اتحادی ممالک نے جاپان پر زور ڈالا کہ وہ بحریہ کے حوالے سے 3-5-5 کی شرح کا معاہدہ دستخط کرے یعنی ہر پانچ امریکی اور پانچ برطانوی بحری جنگی جہازوں کے مقابلے میں جاپان کوتین جہاز رکھنے کی اجازت ہوگی ۔ یہ جاپان کی سفارت کاری میں شکست کا ایک بڑا واقعہ سمجھا جاتا ہے ۔
سنہ 1920 کے بعد کا جاپانی دور اندرونی بدامنی کا شکار رہا ۔ خراب اقتصادی حالات کی وجہ سے ملکی سیاسی عدم استحکام بڑھتا گیا اور کئى سیاست دانوں بشمول ایک وزیراعظم کے قتل کردئے گئے ۔ فوج پر نہ تو پارلیمنٹ اور نہ ہی حکومت کو کنٹرول تھا اور یہاں تک کہ شہنشاہ بھی بے بس تھا ۔ بلکہ حکومت کی باگ دوڑ عوامی حکومت کی بجائے فوج کے ہاتھوں میں تھی ۔
جاپانی سیاسی پارٹیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ یہ اپنے مفاد کی خاطر قوم کو متحد کرنے کے بجائے منقسِم کرنے کی وجہ بن گئى ہیں ۔ بالاخر تمام پارٹیوں نے اپنے آپ کو تحلیل کرنے پر رضامندی ظاہرکرکے یک جماعتی تنظیم امپریل رول اسیسٹینس ایسوسیشن قائم کی جس میں سیاسی جماعتوں ، پریفیکچروں، جو ایک ضلع جتنا علاقہ ہوتا ہے، میں قائم خواتین اور ہمسایوں کی تنظیموں نے شمولیت کی ۔ لیکن اِس تنظیم میں مربوط سیاسی ایجنڈے کی کمی تھی لہذہ ، گروپوں کی باہمی چپقلش اور جھڑپیں بدستور جاری رہیں ۔
دراصل اِس تنظیم کے قیام کی وجہ جہاں مُلکی بدحالی تھی وہاں ساکورائے بلاسم سوسائٹی بھی تھی ۔ یہ قوم پرستوں کی ایک خُفیہ تنظیم تھی جو د سمبر 1930 میں جاپان کی شاہی فوج میں شامل لیفٹینٹ کرنل کینگورو ہاشی موتو، نے دیگر کئى نوجوان افسروں کے ساتھ ملکر بنائى تھی ۔ اِس کا مقصد ریاست کو عسکری خطوط پر منظم کرنا تھا اور اِس مقصد کے لیے اگر بغاوت کرنے کی ضرورت پڑ جائے تو اُس پر بھی عمل درآمد کیا جائے گا۔ ہاشی موتو، اُن دِنوں میں جاپانی شاہی فوج میں روسی شعبہء کے سربراہ تھے ۔ ابتداء میں اِس خفیہ تنظیم کے تقریباً دس ارکان تھے جو فروری 1931 میں پچاس سے زیادہ ہوگئے تھے ۔ ایک اندازے کے مطابق اکتوبر میں اِن کی تعداد سینکڑوں ہوگئى ۔ اُنہوں نے ملک کے سیاسی اور معاشی نظام کو بدعنوان قراردیا اور وہ ریاستی سوشلزم لاکر نئى تبدیلی لانا چاھتے تھے ۔ لیکن دو واقعات میں ناکامی کے بعد اِس تنظیم کی قیادت کوگرفتار کر لیا گیا اور تنظیم توڑی دی گئى ۔
اُدھر یورپ میں حالت کچھ یوں رُخ اختیار کر رہے تھے کہ سنہ 1930 کی دھائى میں ابتدائى چند سالوں تک کساد بازاری رہنے کے بعد حالات سنھبلنے پر کئى مُلکوں میں مطلق العنان حکومتیں قائم ہوچکی تھیں جن میں ایڈولف ہٹلر سرفہرست تھے ۔ وہ سنہ 1933 میں جرمنی کے چانسلر یعنی ریاستی سربراہ بن چکے تھے ۔ اُن کی توسیع پسندانہ پالیسیوں سے بے چینی بڑھتی جارہی تھی ۔ ایک طرف جرمنی پولینڈ کو قبضے میں لینے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا تو دوسری جانب اٹلی نے ایتھوپیا پر قبضہ کر لیا تھا ۔
جاپان اور چین کے تعلقات میں بھی کشیدگی پیدا ہوگئى تھی کیونکہ جاپان کے زیرِقبضہ علاقے منچوریا میں واقع جاپانی ریلوئے لائن پر ایک دھماکا ہوا ۔ جاپانیوں نے اِس تخریب کاری کا الزام چینیوں پر لگایا لیکن کچھ کا خیال ہے کہ جاپانیوں نے خود دھماکا کرکے منچوریا پر فوجی کشی کا جواز بنایا تاکہ معیشت کے لیے مزید وسائل، جاپانیوں کی آباد کاری اور مصنوعات کی فروخت کے لیے منڈیاں حاصل کی جائیں اور ایشیا پر اپنی ثقافتی بالادستی قائم کی جائے ۔ بحرحال اِس دھماکے کی وجوہات ابتک متنازع ہیں۔ یہ واقعہ تاریخ میں مکدین انسیڈنٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔
جاپانی فوج نے سنہ 1931 میں لیفٹیننٹ کرنل کانجی ایشی وارا کی قیادت میں منچوریا پر چڑھائى کی اور چین اور اندرون منگولیا کے علاقوں پر مشتمل منچوریا میں مانچو کو نامی ایک آزاد ریاست قائم کردی جو دراصل ایک کٹھ پُتلی حکومت تھی ۔ اُس وقت چین میں قوم پرست رہنماء چیانگ کائی شیک کی ایک کمزور حکومت قائم تھی جو مختلف دھڑوں کے مابین لڑی جانے والی اندرونی خانہ جنگی سے مشکلات کا شکار تھی اور قحط سالی اور بدعنوانی نے حکومتی بُنیادوں کو کُھوکھلا کر دیا تھا لیکن اِن میں کمیونسٹوں کے حوصلے بلند تھے ۔
منچوریا میں جاپانی حمایت یافتہ نئى حکومت کو چین کی کومنتانگ حکومت نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔ عالمی سطح پر کسی بھی بڑی طاقت نے جاپانی جارحیت کو روکنے کی کوشش نہیں کی ۔ چین نے لیگ آف نیشن سے مدد مانگی جس نے سنہ 1933 میں ایک تفتیشی کمیٹی مقرر کی ۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں جارحیت کی مذمت کی لیکن جاپان کو اشتعال دینے سے گریز کیا ۔ یہ تنظیم ، جاپانی جارحیت کو روکنے میں ناکام رہی اور اُسے ایک رُکن کی حثیت سے بھی برقرار نہ رکھ سکی ۔ برطانیہ اور فرانس نے کوئى کردار ادا نہیں کیا کیونکہ وہ دونوں ممالک اپنے معاشی اور سیاسی گرداب میں پھنس چکے تھے جب کہ امریکا کُلی طور پربین الاقوامی کساد بازاری سے نبردآزما تھا ۔
عالمی برادری نے جاپان کی جانب سے کیے جانے والے بے دریغ قتل عام اور اپنی مرضی کی حکومت بنانے پر مزمت کی ۔ کہاجاتا ہے کہ یہیں سے جاپان اور امریکا کے مابین اختلافات کی خلیج بڑھتی چلی گئى بلکہ اِسے کسی بڑے ٹکراؤ کا پہلا قدم سمجھا جاتا ہے ۔
جرمنی اور جاپان نے روس کے بنائی ہوئی بین الاقوامی کمیونسٹ تنظیم کومنٹرن کے خلاف 25 نومبر 1936 کو اینٹی کومنٹرن معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت اگر روس جرمنی یا جاپان پر حملہ کرے گا تو دونوں ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے سے مشاورت کریں گے ۔ دونوں مُلکوں نے روس کے ساتھ کسی بھی قِسم کا سیاسی معاہدہ نہ کرنے پر اتفاق کیا اور اِس کے علاوہ جرمنی نے جاپان کے زیر اثر مانچو کو، کو تسلیم کیا ۔
منچوریا کی لڑائى اور اِسی نوعیت کے دیگر واقعات نے جاپان اور چین کے مابین دوسری جنگ کی راہ ہموار کردی ۔ شنگھائى کے مارکو پولو پُل کے رونماء ہونے والے واقعہ کو بھی اس جنگ کی وجہ سمجھا جاتا ہے ۔ واقعہ کچھ یوں تھا کہ جون 1937 سے جاپانی افواج نے مارکوپولوپُل کے مغربی علاقے میں رات کی تاریکی میں فوجی تربیت جیسی سرگرمیاں بڑھادی تھیں ۔ چینی حکومت نے کہا کہ چونکہ اِس شو و غل سے مقامی آبادی متاثر ہورہی ہے لہذا ایسی سرگرمیوں کے بارے میں پہلے سے آگاہی دی جائے ۔ گو کہ جاپانی حکومت نے اس چینی درخواست سے اتفاق کیا تاہم 7 جولائى 1937 کی رات جاپانی افواج نے بغیر اطلاع دئیے ایک بار پھر اپنی سرگرمیاں شروع کیں جس پر علاقے میں متعین مقامی چینی فورسز چوکس ہوئیں کہ شاید جاپانی فوج کسی حملے کی تیاری کر رہی ہے ۔ لہذا ، اُنھوں نے متنبہ کرنے کے لیے ہوائى فائرنگ کی ۔ اِسی اثناء میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور اِس کی آواز دور تک سُنی گئى ۔ جب اُس علاقے میں متعین جاپانی فوجی اپنے رجمنٹل کمانڈر کو رپورٹ دینے میں ناکام ہوا تو میجر کیوناؤ ایچیکی کو شک ہو گیا تھا کہ اُس کا سپاہی، چینیوں کے ہتھے چڑھ گیا ہے ۔ جاپانی فوج نے چینی رجمنٹل کمانڈر کو فون کیا کہ وہ اپنا جوان ڈھونڈنے کی غرض سے علاقے کی تلاشی لینا چاہتے ہیں ۔ گو کہ مذکورہ فوجی مل گیا تھا لیکن پھر بھی جاپانی ملٹری انٹیلیجنس نے چینی جنرل چن دیچون سے یہی مطالبہ دوہرایا جس کے جواب میں کہا گیا کہ چونکہ فوجی سرگرمی بغیر اطلاع دیے ہورہی تھی اس لیے وہ خود تلاشی لیں گے ۔ مگر جاپانی فوج بضد رہی کہ وہ خود ہی تلاشی لیں گے اور اُنہوں نے دو گھنٹے بعد الٹیمیٹم جاری کر دیا ۔

اُس وقت کے جاپانی وزیراعظم کونوئىے کی حکومت نے چینیوں کو سزا دینے کے لیے چین کے دار الحکومت نانجنگ سمیت شمالی اور مشرقی ساحلی علاقوں پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ فوجی کاروائى کرتے ہوئے چینیوں سے ہتھیار ڈالنے کا کہا گیا لیکن اُنہوں نے انکار کر دیا ۔ جاپانی وزیراعظم کو فتح حاصل کرنے کی اُمید تھی مگر یہ سب مشکل بنتا جارہا تھا کیونکہ چین میں قوم پرستی اور خود انحصاری کا جذبہ زور پکڑ چکا تھا ۔ چینیوں نے اس جنگ کو جنگ مزاحمت جاپان کے طور پر لے لیا تھا۔
جاپان پر الزام ہے کہ اُس نے نانجنگ پر قبضے کے دوران میں بے دریغ قتل عام کیا ۔ نانجنگ اس وقت چین کا دار الحکومت تھا ۔ ہزاروں عورتوں کی آب رویزی کی اور سینکڑوں ہزاروں لوگوں کا قتل کیا ۔ ایک اندازے کے مطابق یہ قتل عام اس وقت سے شروع ہوئى جب جاپانی فوج نومبر کے وسط میں جیانگ سو میں داخل ہوئى اور یہ سلسلہ مارچ 1937 کے اؤاخر تک چلتا رہا ۔ مرنے والوں کی تعداد میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ مشرق بعید کیلۓ قائىم بین الاقوامی فوجی ٹربیونل کا اندازہ ہے کہ 2 لاکھ 60 ہزار افراد ہلاک ہوئے ۔ چین کے سرکاری اعداد و شمار میں یہ تعداد 3 لاکھ بتائى ہے جبکہ جاپان کے تاریخ دانوں نے ایک لاکھ اور دو لاکھ کے درمیان میں بتائى ہے ۔
جولائى 1937 میں جب بیجنگ کے قریب جنگ لڑی جارہی تھی تو اِس کے ساتھ ہی ایک ماہ بعد شنگھائى میں بھی لڑائى نے زور پکڑلیا ۔ جاپان مکمل طور پر اعلان جنگ نہیں کر رہا تھا کیونکہ اُسے برطانیہ اور امریکا کی جانب سے مداخلت کا خطرہ تھا ۔
جاپانی پراپیگنڈے میں چین کے خلاف جنگ کو جنگ مقدس کہا جارہا تھا ۔ اب وزیراعظم کونوئىے نے جنوب مشرقی ایشیا کے لیے ایک نئے آرڈر کا اجراء کیا ۔ یہ ایشیائى عوام پر سپریم جاپانی حکمرانی قائم کرنے کا منشور تھا ۔ دوسال کی مدت میں رونماء ہونے والے پے درپے واقعات کی وجہ سے امریکا نے چین کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے جاپان سے مطالبہ کیا کہ وہ چین سے نکل جائے اور اسے تنہا چھوڑ دے ۔ جب جاپان نے پوری طرح عمل درآمد نہیں کیا تو امریکا نے جاپان کے ساتھ تیل اور لوہے کی تجارت روک دی ۔ جنگِ شنگھائى میں چین نے سخت مزاحمت کا مظاہرہ کیا ۔ چین اور جاپان دونوں کا بہت زیادہ جانی نقصان ہوا اور چینی افواج نے نان جینگ سے پسپائى اختیار کی لیکن تاثر یہ ملا کہ اب انہیں شکست دینا مشکل ہوتا جارہا ہے ۔ اب چینی حکمت عملی یہ تھی کہ جنگ کو اس وقت تک طول دیا جائے جب تک امریکا جنگ میں شامل نہ ہو ۔ جاپانی فوج کی پیش قدمی سست کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جانے لگے مثلاً جاپانی فوج کو مشکلات میں ڈالنے کے لیے پانی کے ڈیم توڑدیئے گئے جس سے سیلاب آ گیا تھا ۔ وہ جاپانی فوج کو اُس حد تک بڑھنے دے رہے تھے جہاں اُنہیں گھیرے میں لیکر حملہ کیا جائے اور اِس کی مثال انہوں نے سنہ 1939 کے چانگشا کی دفاع کے دوران میں پیش کی ۔
سنہ 1940 میں چین کی سرخ فوج نے ملک کے شمال میں ایک بڑا حملہ کیا اور ریلوئے لائنیں اُڑا دیں اور کوئلے کی بڑی کان تباہ کردی ۔ اب جاپانی فوج سخت مایوسی اور گومگو کی کیفیت میں تھی اور اُنہوں نے سب کو قتل کرو، لوٹو اور جلاؤ کی پالیسی اختیار کرلی اور وسیع پیمانے پر جنگی جرائم کیے ۔
دوسری جانب جاپان کے سوویت یونین کے ساتھ بھی تعلقات خراب تھے اور دونوں ملکوں نے سنہ 1938 میں جھیل خسان کی لڑائى لڑی جس کی وجہ یہ تھی کہ جاپان نے مانچو کوو میں اس علاقے کو شامل کیا جس پر روس کا دعویٰ تھا ۔ لڑائى اس وقت شروع ہوئى جب جاپان نے سوویت یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ خاسان نامی جھیل کے مغرب اور پری موریئى کے جنوب میں واقع پہاڑوں سے اپنی سرحدی فوج ہٹا لے ۔ یہ علاقہ ولاڈیواسٹوک سے زیادہ دور نہیں ۔ روس نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا ۔ جاپانی فوج نے ھلکے اور درمیانی ٹینکوں کی مدد سے حملہ کیا اور روس نے بھی ٹینکوں اور آرٹرلی کی مدد سے فوری جوابی حملہ کر دیا ۔ جاپان نے اپنی فوجی قوت بڑھانے کے لیے مزید کمک بھیجی لیکن کامیابی حاصل نہ ہوئى اور جاپانی فوجوں کو سوویت علاقائى حدود سے پیچھے دھکیل دیا گیا ۔ جاپان کو کامیابی نصیب نہیں ہوئى اور اُس نے نئى حکمت عملی کے ساتھ سوویت یونین پر ایک اور بھرپور حملہ کرنے کی منصوبہ بندی شروع کردی ۔
جب جاپان نے مانچو کوو کی ریاست قائم کی تو اِس نئى ریاست اور منگولیا کے مابین خلخیان نامی دریا کو سرحد کی حد بندی قرار دیا ۔ اُس وقت کی قابض جاپانی فوج کے آئى جے اے 23 ویں ڈویژن کو مُلک کی بہترین یونٹس میں سے شمار کیاجاتا تھا ۔ لڑائى اُس وقت شروع ہوئى جب 11 مئى 1939 کو منگول فوج کے گھوڑ سوار یونٹ کے تقریباً 90 سپاہی مانچو کوو کے متنازع علاقے میں داخل ہوئے ۔ مقامی فوج نے حملہ کرکے اُنہیں پسپا کر دیا لیکن دو دِن بعد منگولوں نے بڑی تعداد کے ساتھ حملہ کیا جس کو روکنا مانچو کوو کی فوج کے بس کا کام نہیں تھا لہذا جاپانی فوج کی مدد طلب کی گئى ۔ جاپانی فوج کی آمد پر منگول تواُس علاقے سے نکل گئے تاہم 28 مئى کو سوویت اور منگول فوجوں نے مشترکہ طور پر حملہ کیا ۔ جاپانی فوج نے لیفٹینٹ کرنل یا اوزو آزوما کی قیادت میں مقابلہ کیا لیکن 8 افسروں اور 97 جوانوں کی ھلاکت کے بعد اُسے شکست ہوئى ۔ جاپانی فضائیہ نے منگولیا میں واقع سوویت یونین کے ہوائى اڈوں پر حملے کیے اور کئى جہاز مار گرائے لیکن یہ حملے ٹوکیو میں واقع شاہی جاپانی فوج کے ہیڈ کوارٹرکی اجازت کے بغیر کیے گئے تھے ۔ لہذا ، اطلاع ملنے پر مزید فضائى حملے نہ کرنے کا حکم جاری کیا گیا ۔
جون کے مہینے میں سوویت یونین کے نئے لیفٹینٹ جنرل گیورگی زوخوف پہنچے ۔ ماہ بھر سوویت اور منگول فوجوں کی دریائے نومونھان کے اِرد گرد کاروائیاں جاری رہیں ۔ دخل اندازوں کی سرکوبی کے لیے جاپانی لیفٹینٹ جنرل میچی تارو کو ماتسو بارا کو کاروائى کرنے کی اجازت دے دی گئى ۔ جاپان کی مختلف رجمنٹوں نے کئى محاذوں سے حملے کیے لیکن سوویت افواج نے سخت مزاحمت کی ۔ اِن جھڑپوں میں جاپانی فوج کے پانچ ہزار فوجی ہلاک ہوئے اور اسلحہ و گولہ بارود کی کمی محسوس ہونے لگی ۔ گو کہ اب جاپان کو 75000 فوجی اور سینکڑوں جہازوں کی قوت حاصل تھی تاہم جاپانی فوج نے کچھ وقت کے لیے پسپائى اختیار کی اور 24 اگست کو ایک بار پھر نئى صف بندی کرتے ہوئے تیسرے بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی ۔
دوسری جانب سوویت اور منگول افواج نے ٹینک بریگیڈز، انفنٹری ڈویژن، کیولری، ائر ونگ اور 50٫000 فوج کو حرکت دی ۔ دریائے خلخیان کے آس پاس مختلف محاذوں پر گھمسان کا رن پڑا ۔ مخالف فوجوں نے جاپانیوں کے مواصلاتی رابطے منقطع کرتے ہوئے گھیرے میں لیکر پے درپے حملے کیے ۔ بالاخر 31 اگست 1939 کو شکست جاپانی فوج کا مقدر بنی اور بچ جانے والے یونٹس نے نوموھان کے مشرق کی جانب پسپائى اختیار کی ۔ ایک اندازے کے مطابق اِس جنگ میں جاپان کے 45٫000 جبکہ سوویت یونین کے 17٫000 فوجی ہلاک ہوئے ۔
اگلے دِن یعنی یکم ستمبر 1939 کو ہٹلر کی فوجوں نے پولینڈ پر فوج کشی کرکے جنگ عظیم دوم کا آغاز کر دیا ۔

جاپان پر یہ بات عیاں ہوچکی تھی کہ سائبیریا اور منگولیا کی مہم جوئى ایک لاحاصل عمل ہے ۔ چونکہ ایشیا میں برطانیہ، فرانس ، ہالینڈ وغیرہ کا اثر و رسوخ کئى عشروں سے چھایا ہوا تھا اور یہ جاپانی مفادات کے برعکس تھا کیونکہ وہ بھی اپنے زیرقبضہ علاقوں پر گرفت مضبوط کرنے اور مزید علاقوں پر اثر بڑھانے کا خواہش مند تھا اِسلئے اُس نے جرمنی اور اٹلی کے ساتھ معاہدہ کرنے کو ترجیح دی اور یوں جاپان نے 27 ستمبر 1940 کو جرمنی اور اٹلی کے ساتھ اےکسےزپکٹ کے نام سے ایک معاہدہ دستخط کیا ۔ یہ وہ فوجی اتحاد تھا جسے یورپ ، افریقہ ، مشرقی اور جنوب مشرقی اور بحرالکاہل کے بڑے حصے پر بالادستی حاصل تھی ۔
اُدھر یورپ میں جرمنی نے پولینڈ کو شکست دینے کے بعد، برطانیہ اور فرانس کے خلاف جنگ شروع کردی تھی اِسلئے روس نے ضروری سمجھا کہ اپنی دفاع کے لیے زیادہ توجہ یورپ پر دے ۔ اُس نے مشرقی بعید سے بہتر تعلقات کے لیے 13 اپریل 1941 کو جاپان کے ساتھ عدم جارحیت کا سویت ۔ جاپانیز نان اگریشن پکٹ نامی معاہدہ دستخط کیا ۔
اُس وقت جنوب مشرقی ایشیا میں فرانس اور ہالینڈ کے نوآبادیاتی حکمرانی تھی ۔ سائبیریا اور منگولیا جیسے خطوں کی نسبت یہاں پر قدرتی وسائل زیادہ تھے اِسلئے جاپان نے اِس جانب بڑھ کر علاقوں پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنالیا ۔ جرمنی نے فرانس اور ہالینڈ کو شکست دینے کے بعد بحری اور فضائى طاقت سے برطانیہ کا محاصرہ کر لیا تھا ۔ اب جاپان کے لیے راہ ہموار تھی کہ وہ جنوب مشرقی ایشیا کی جانب پیش قدمی کرے ۔
انڈو چائنہ )ویت نام ، لاؤس،کمبوڈیا( فرانس کی کالونی تھی اور اُس وقت فرانس میں ویچی فرنچ کی حکومت تھی جو ہٹلر کی مرضی کی ایک کٹھ پُتلی حکومت تھی کیونکہ فرانس کو جرمنی کے ہاتھوں شکست کے بعد دونوں کے مابین جنگ بندی ہوگئى تھی ۔ جاپان نے انڈو چائنہ میں داخلے کی اجازت مانگی اور22 ستمبر 1940 میں ویچی فرنچ کی انتظامیہ اور جاپان کے مابین ایک معاہدہ دستخط ہوا جس کے تحت جاپان کو اڈے قائم کرنے اور مال کی ترسیل کی اجازت مل گئى ۔ جاپان کا مقصد جنوب مشرقی ایشیا میں اتحادیوں کو شکست دینے کے لیے فوجی اڈے قائم کرنا تھا ۔
معاہدے کے چند گھنٹوں بعد جاپان کی پانچویں ڈویژن فوج لیفٹینٹ جنرل آکی ہیتو ناکامورا کی قیادت میں ہلکے اور درمیانے ٹینکوں اور 30٫000 فوج سمیت چین سے نکل کرانڈو چائنہ میں تین اطراف سے داخل ہوگئى ۔
فرانسیسی اور انڈوچائنیز نوآبادیاتی فوج نے مزاحمت کی کوشش کی مگر جاپان جیسی بڑی اور طاقت ور فوج کا مقابلہ کرنا ناممکن تھا ۔ انڈو چائنیزحکومت نے جاپان سے احتجاج کیا کہ یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے مگر سب بے سود ۔ 26 ستمبر کی شام ، جنگ منطقی انجام کو پہنچی کیونکہ جاپان ھنوئى کے باہر واقع گیلام ہوائى اڈے پر قبضہ کرچکا تھا ۔ اِس قبضے کی بدولت ، جاپان نے سوائے برما کے چین کی ہر طرف سے ناکہ بندی مکمل کرلی تھی ۔
جاپان کو امریکا کے ساتھ بڑھتی ہوئى کشیدگی کی وجہ سے جنگ چِھڑنے کا خطرہ محسوس ہورہا تھا اِسلئے جاپان نے 27 ستمبر 1940 کو جرمنی کے شہر برلن میں جرمنی اور اٹلی کے ساتھ مل کر ایک عسکری معاہدہ ٹرائپارٹائٹ پکٹ پر دستخط کیا ۔ اِس معاہدے پر جرمنی کے چانسلر ایڈولف ہٹلر، اٹلی کے وزیر خارجہ گلیزو سیانو اور جاپانی سفیر سابورو کوروسو نے دستخط کیے ۔ یہ تینوں مُلک اب ایکسیز پاور کے نام سے پہچانے جانے لگے ۔ اُنہوں نے دس سال تک ایک دوسرے کی سیاسی ، اقتصادی اور فوجی حمایت اور باہمی مفادات کا تحفظ کرنے پر اتفاق کیا ۔ بعد میں ہنگری ، رومانیہ ، سلواکیہ ، بلغاریہ ، یوگوسلاویہ اور کروشیا نے بھی شمولیت اختیار کی ۔

امریکا کو جاپان کا انڈو چائنہ پر قبضہ اور پھر جرمنی اور اٹلی سے معاہدہ ایک آنکھ نہیں بھایا ۔ 25 جولائى 1941 کو امریکا نے جاپان کے تمام اثاثے منجمد کرنے کا حُکم دیا ۔ چونکہ جاپان کو نئے قدرتی وسائل ڈھونڈنے کے لیے اپنی مہم جوئى جاری رکھنی تھی اور اِس عمل کے لیے فوجی کاروائى ناگزیر تھی تو امریکا نے جاپان کے لیے تیل کی سپلائى بھی روک دی جس سے جاپانی فوج اور خصوصاً بحریہ بہت متاثر ہوئى ۔
کہاجاتا ہے کہ جاپانی وزیراعظم کونوے فومی مارو سمیت کئى جاپانی رہنماؤں کا خیال تھا کہ امریکا سے جنگ کا انجام اُن کی شکست ہوگی لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ امریکا نے جو مطالبات کیے ہیں اُس کو پورا کرنے سے جاپان عالمی طاقت نہیں رہے گا اور وہ مغربی طاقتوں کا شکار ہو جائے گا ۔
اب جاپان کے پاس تین راہیں تھیں اول یہ کہ چین اور انڈو چائنہ سے انخلا کرنے کے امریکی مطالبے کو پورا کیا جائے ۔ دوم ، شرائط میں نرمی کرنے کے لیے امریکا سے مزاکرات کیے جائیں اور سوم ، مغربی طاقتوں سے پنجہ آزمائى کی جائے ۔ جاپان ایک عجیب مخمصے کا شکار ہوچکا تھا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چار بڑے فوجی جرنیلوں اوسامی ناگانو، کوتوہیتو کانین، ہاجیمے سوگی یاما اور ہیدیکی توجو نے اظہار خیال کیا کہ اب امریکا کے ساتھ جنگ ناگزیر ہے اور اُنہوں نے اُس وقت کے شہنشاہ شوا کو جنگی منصوبے پر دستخط کرنے کے لیے رضامند کیا ۔ نومبر1941 میں امریکا ، برطانیہ اور ہالینڈ کے خلاف جنگی منصوبے کی منظوری دے دی گئى ۔ جنگ سے قبل کچھ جرنیلوں نے متنبہ کیا کہ جنگ شروع کرنے کے بعد جاپان کے لیے چھ ماہ تک موافق حالات ہونگے اور اگر جنگ نے طول پکڑا تو پھرجاپان کی شکست یقینی ہے ۔
امریکا نے بھی جاپان کے بدلتے تیور کا اندازہ لگا لیا تھا اور خُفیہ رپورٹوں سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ممکن ہے جاپان، فلپائن پر حملہ کردے لہذا امریکا نے وہاں فوجی صف بندی شروع کردی ۔ امریکا کو یقین نہیں تھا کہ جاپان اتنی بہادری دیکھائے گا کہ وہ اُس کی سرزمین پر حملہ کردے لیکن 7 دسمبر 1941 کو جاپان نے پرل ہاربر پر حملہ کرکے امریکا کے سارے اندازوں کو غلط ثابت کر دیا ۔
جاپان کی شاہی بحریہ نے وائس ایڈمرل چوایچی ناگومو کی قیادت میں علی الصُبح میڈگیٹ سب میرینز سے بحری جبکہ طیاروں سے فضائى حملہ کیا جو نہ صرف امریکا بلکہ دُنیا بھر کے لیے ایک چونکادینے والا واقعہ تھا ۔ اِس حملے میں جاپانی افواج نے اُس علاقے میں امریکا کے تمام ہوائى اڈوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ۔ زمین پر موجود تقریباً ہر امریکی طیارے کو تباہ کیا گیا جن کی تعداد 155 بتائى جاتی ہے ۔ اِس حملے میں 2٫403 امریکی بھی ہلاک ہوئے ۔ امریکی بحری جنگی جہاز یو ایس ایس اریزونا دھماکے سے پھٹ گیا اور اُس پر سوار عملے کے 1٫100 افراد ہلاک ہوگئے ۔ بمباری شروع ہونے کے بعد جن پانچ سب میرینز نے امریکی بحری جنگی جہاز کو نشانہ بنایا وہ بھی واپس نہیں لوٹیں اور اُس پر سوار دس افراد میں سے صرف ایک جاپانی کازو او ساکاماکی زندہ بچا جِسے امریکا نے گرفتار کر لیا تھا اور وہ جنگ عظیم دوم میں پہلا جاپانی جنگی قیدی بنا ۔
جاپان کی حکمت عملی یہ تھی کہ اگر امریکی بحریہ کو بحرالکاہل میں بِے دست و پا کیا گیا تو اُنہیں ایشیائى خطے میں فوجی کاروائیاں کرنے میں آسانی رہے گی ۔ 8 دسمبر1941 کو امریکی کانگرس نے جاپان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ۔ جاپانی حملے کے فوری بعد11 دسمبر1941 کو جرمنی نے بھی امریکا کے خلاف اعلان جنگ کر دیا اور امریکیوں کے لیے حیران کُن بات یہ تھی کہ ایکسیز پکٹ کے تحت جرمنی پابند بھی نہیں تھا ۔ اب امریکی انتظامیہ اور عوام کو پختہ یقین ہو گیا تھا جنگ عظیم دوم اُن کے گلے پڑچکی ہے ۔
جاپان کا اندازہ درست ثابت ہوتے ہوئے قلیل مدتی فائدہ یہ ہوا کہ اُسے ایشیا میں کاروائیاں کرنے میں آسانی ہوئى ۔ جاپان پہلے ہی منچوریا، شنگھائى ، فرنچ انڈو چائنہ اور تائیوان کو کالونی بنا چکا تھا اور بڑھتے بڑھتے برٹش ملایا یعنی برونائى ، ملائشیا ، سنگاپور اور ہالینڈ کے ڈچ ایسٹ انڈیز یعنی انڈونیشیا پر قبضہ کر لیا جبکہ تھائى لینڈ نے جاپان کے ساتھ ایک معاہدہ دستخط کیا ۔ یہی نہیں جاپان نے برما کو بھی فتح کر لیا تھا اور اب وہ برصغیر کی سرحد تک پہنچ گیا تھا ۔ جاپان چاھتا تھا کہ وہ اپنی فتوحات کے ثمرات سمیٹنا شروع کردے لیکن یہ سب کچھ ادھورا رہا کیونکہ امریکا نے اپنی معیشت کو جنگی معیشت میں بدل دیا تھا ۔ بڑے پیمانے پر جنگی طیارے، بحری جہاز اور جدید اسلحہ تیار ہونے لگا تھا اور پوری فوج کو حرکت دے دی گئى تھی ۔

جنگ عظیم دوم پوری طرح چِھڑنے کے بعد جاپانی بحریہ نے حکومت کو شمالی آسٹریلیا پر چڑھائى کرنے تجویز دی تاکہ اُس خطے کو بحرالکاہل میں جاپان کے جنوبی دفاعی لائن کے خلاف کسی بھی حملے میں استعمال ہونے سے بچایا جاسکے ۔ جنوبی بحرالکاہل میں تعینات جاپانی بحریہ کے چوتھے بیڑے کے وائس ایڈمرل شیگے یوشی انویے نے خیال ظاہر کیا کہ اگر جنوب مشرقی سولومن جزائر، چھوٹے جزیرے تولاگی اور نیو گِنی میں بندر گاہ موریس بے پر قبضہ کر لیا جائے تو یہ مقامات جاپان کے دفاع میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ مزید یہ کہ اگر نیو کالیڈونیا، فیجی اور ساموا پر قبضہ کر لیا گیا تو امریکا اور آسٹریلیا کے درمیان میں رسد کی فراہمی اور مواصِلاتی رابطے ختم کیے جاسکتے ہیں ۔
جاپانی فوج اور بحریہ نے اپریل 1942 کو آپریشن ایم او کے نام سے جنگی حکمت عملی ترتیب دے دی جس کا مقصد آسٹریلیا اورنیوزی لینڈ کا اتحادیوں سے رابطہ منقطع کرنا اور اپنے حالیہ بحری علاقائى قبضے کا مضبوط طور پر دفاع کرنا تھا ۔
مارچ 1942 تک ، امریکی بحریہ کا کمیونیکیشن سیکورٹی سیکشن ، جاپان کی خُفیہ پیغام رسانی کو تقریباً 15 فیصد تک سمجھ لیتا تھا اور یہ صلاحیت اپریل میں 85 فیصد تک پہنچ گئى تھی ۔ 5 اپریل کو امریکا نے ایک پیغام پکڑا جِسے ڈی کوڈ کرنے پر معلوم ہوا کہ جاپان نے اپنے بحری بیڑے اور دیگر بڑے بحری جہازوں کو وائس ایڈمرل اینوۓ کے آپریشن ایریا تک پہنچنے کا حُکم دیا ہے ۔ اِس دوران میں 13 اپریل کو برطانیہ نے بھی آپریشن ایم او کے بارے میں ایک جاپانی پیغام ڈی کوڈ کرکے فوری طور پر امریکا کو دیا جس کے بعد اتحادیوں کو پورا یقین ہوا کہ جاپان مئى کے اؤائل میں جنوب مغربی بحرالکاہل میں بندرگاہ مورس بے پر کوئى بڑی کاروائى کرنے والا ہے ۔
یہ بندرگاہ ، اتحادیوں کی جانب سے جوابی کاروائى کے لیے خاصی اہمیت کے حامل تھی اِسلئے امریکا اور دیگر اتحادیوں کے مابین مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اُس وقت دستیاب چار بحری بیڑوں کو کورل سی کے محاذ پر روانہ کر دیا جائے ۔ 27 اپریل کو پکڑے جانے والے خفیہ جاپانی پیغامات سے مزید معلومات حاصل ہوئیں ۔
جاپان نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ وسطی بحرالکاہل میں صرف ایک امریکی بحری بیڑا ہے جبکہ باقی کے بارے اُسے کوئى معلومات حاصل نہیں تھیں ۔ اپریل کے اؤاخر میں دو جاپانی جاسوس سب میرینزآراو 33 اورآراو 34 نے اُس علاقے کا جائزہ لیا جہاں فوجوں نے اُترنا تھا ۔ اُنہیں اردگرد علاقے میں کوئى اتحادی بحری جہاز نظر نہیں آیا ۔ دو مئى کو اتحادیوں نے جاپانی فوج کو آتے ہوئے دیکھ لیا تھا ۔ اگرچہ جاپان اپنی منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھ رھا تھا تاہم خراب موسم کی وجہ سے ائرفورس کے زیرو نامی جنگی طیاروں کو بحری بیڑے پر اُتارنے میں مشکل پیش آرہى تھی جس کی وجہ سے اُنہیں دو دِن انتظار کرنا پڑا ۔
جاپانی بحریہ تولاگی کی جانب بڑھ رھی تھی اور اتحادیوں نے اپنا نقصان کم رکھنے کے لیے کوئى مزاحمت نہیں کی ۔ امریکی ٹاسک فورس 17 کے کمانڈر ایڈمرل فلیچر اپنی فوج کو دشمن کی نظروں سے اوجھل رکھنا چاھتے تھے تاکہ جب وہ اپنی کاروائى کا آغاز کرے تو تب جوابی حملہ کیا جائے ۔
جاپانی فوج 3 اور 4 مئى کو کامیابی سے تولاگی میں اُتر گئیں ۔ حالانکہ اِس دوران میں ایڈمرل فلیچر نے 4 مئى کو ٹاسک فورس 11 کے ایڈمرل فیچ کے ساتھ اہم ملاقات کے بعدتولاگی کے جنوب میں پہنچنے والی جاپانی فوج پراپنے بحری بیڑے یورک ٹاون سے 40 بمبار طیاروں کے ذریعے حملہ بھی کیا جو جاپانی ایڈمرل شیما کے لیے حیران کن حملہ تھا ۔ اُس وقت جاپان کے دس بحری جہاز پانی میں موجود تھے لیکن اُن کے پاس فضائى طاقت ابھی نہیں پہنچی تھی ۔ اُن پر صبح اور دوپہر میں تین بار حملہ کیا گیا جس میں اتحادیوں کے صرف 3 طیارے تباہ ہوئے ۔ اِن حملوں میں جاپان کا ایک تباہ کُن جہاز اور تین چھوٹے جہاز تباہ ہوئے ۔ 5 مئى کو امریکا کی دونوں ٹاسک فورسز نے مشترکہ حملے کے لیے بہتر فارمیشن ترتیب دی ۔
اب چونکہ جاپانی بحریہ کو اِس علاقے میں امریکی جنگی بیڑوں کی موجودگی کا علم ہو گیا تھا لہذا اپنے جہازوں کو کورل سی میں جانے کا حُکم دیا تاکہ اتحادی افواج کو ڈھونڈ کر ٹھکانے لگایا جائے ۔ 7 مئى کو دونوں افواج نے ایک دوسرے پر مسلسل دو دِن حملے کیے جس میں جاپان کا ہلکا بحری بیڑا شوھو غرقاب ہو گیا جبکہ دوسری جانب امریکا کے تیل بردار بڑے بحری جہاز کو بُری طرح نقصان پہنچا۔ اگلے دِن جاپانی جہاز شوکاکو کو کافی حد تک ناکارہ کر دیا گیا ۔ جاپان نے حملوں میں تیزی لاکر امریکا کے طیارہ بردار بحری بیڑے لیکس ینگٹن کو غرق کرنے اور یورک ٹاون کو بڑی حد تک نقصان پہنچانے میں کامیابی حاصل کى یوں دونوں اطراف کو بھاری نقصان اُٹھانا پڑا۔
جنگ کورل سی چار سے آٹھ مئى 1942 تک لڑی گئى ۔ یہ اُن چار جنگوں میں سے پہلی جنگ تھی جس میں بحری بیڑوں کا نہ تو آمنا سامنا ہوا اور نہ ہی ایک دوسرے پر براہِ راست فائرنگ کی بلکہ بیڑے پر موجود طیاروں نے ایک دوسرے پر حملے کیے ۔ ایک اور تبدیلی یہ تھی کہ اب اتحادیوں نے دفاع کی بجائے جارحیت کی پالیسی اختیار کرلی تھی ۔

جاپان کی تاریخ میں جنگ مڈوے کو بھی کبھی نظر انداز نہیں جاسکتا جو پرل ہا ربر پر حملے کے چھ ماہ بعد 4 سے 7 جون 1942 تک بحرالکاہل میں واقع امریکا کے ایک چھوٹے جزیرے کے آس پاس لڑی گئى تھی ۔ جاپان نے اپنی طرف سے منصوبہ تیار کیا کہ بحرالکاہل کی بڑی بحری طاقت امریکا کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ایک فیصلہ کُن حملہ کیا جائے ۔ جاپان اپنی دفاعی سرحدوں کو بڑھاتے ہوئے اُسے مزید امریکا کے قریب کرنا چاہتا تھا ۔
جاپانی بحریہ کی حکمت عملی یہ تھی کہ اگر امریکا پر ایک بھر پور وار کر دیا جائے تو پھر جاپان کے مقابلے کی کوئى طاقت بحرالکاہل میں نہیں رہے گی اور اگر مڈوے علاقے پر قبضہ کر لیا گیا تو جاپانی افواج مشرقی بحرالکاہل میں اہم امریکی بندرگاہ ھوائى کے قریب تر ہو جائیں گی ۔ جاپانی بحریہ اتنی مضبوط ہوچکی تھی کہ وہ کسی بھی وقت کہیں بھی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔ جاپانی بحریہ کے ایڈمرل یاماموتو کی بُنیادی حکمت عملی یہ تھی کہ امریکا کے بچ جانے والے طیارہ بردار بحری بیڑوں کا خاتمہ کرکے جنگی مہم میں اصل رکاوٹ کا خاتمہ کر دیا جائے ۔ کیونکہ 18 اپریل 1942 کو امریکا کی جانب سے جاپان پر پہلے فضائى حملے سے خطرات بڑھ گئے تھے ۔ یہ حملہ ھونشو کے علاقے پر کیا گیا تھا اور تاریخ میں ڈولٹل ریئڈ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ اِس فضائى حملے کی منصوبہ بندی لیفٹینٹ کرنل جیمز جیمی ڈولٹل ریئڈ نے کی تھی ۔
ایڈمرل ایسوروکو یاماموتو، امریکا کے ساتھ جنگ لڑنے کے حق میں نہیں تھا لیکن چونکہ فیصلہ کر لیا گیا تھا لہذا حملے کی تیاریاں شروع کردی گئیں ۔ جاپانی جنگی حکمت عملی قدرے پیچیدہ تھی کیونکہ انٹیلیجنس ذرائع سے اندازہ لگا لیا گیا تھا کہ امریکی بحریہ کے پاس بحرالکاہل کے لیے فی الوقت بحری بیڑے یو ایس ایس انٹرپرئز اور یو ایس ایس ھومٹ ہی رھ گئے ہیں کیونکہ ایک ماہ قبل لڑی جانے والی جنگ کورل سی میں بحری بیڑا یو ایس ایس لیکس ینگٹن غرق ہوچکا تھا اور یو ایس ایس یورک ٹاون کو بڑی حد تک نقصان پہنچا تھا لیکن جاپان کا خیال تھا کہ وہ بھی ڈوب چکا ہے ۔ جاپانیوں کو یہ بھی معلوم ہوچکا تھا کہ امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس ساراتوگا کی مرمت کی جارہی ہے کیونکہ ایک آبدوز کے حملے میں اُسے نقصان پہنچا تھا ۔
ایڈمرل یاماموتو، کو یہ اندازہ بھی تھا کہ پے درپے شکست کے بعد امریکی فوج کے حوصلے پست ہوچکے ہیں ۔ اُنہوں نے مڈ وے کے محاذ کی امداد کے لیے پہنچنے والے کسی بھی کمک کو راستے ہی میں نیست و نابود کرنے کی منصوبہ بندی بھی کرلی تھی ۔ لیکن افسوس کہ وہ یہ معلوم نہ کرسکا کہ امریکا نے جاپانی بحریہ کے خفیہ پیغام رسانی کے کوڈ ورڈز معلوم کرلیے تھے ۔
امریکی بحریہ کے بحرالکاہل کے کمانڈر اِن چیف ایڈمرل چیسٹر ڈبلیو نیمٹز نے بھی جنگ کی بھر پور تیاریاں شروع کیں ۔ بحری بیڑے انٹرپرایز اور ھومٹ کے علاوہ بحری بیڑے یورک ٹاون کی مرمت پر دن رات کام ہورہا تھا اور 72 گھنٹوں کی محنت کے بعد ، یہ بیڑا جنگ کے لیے تیار ہو گیا تھا ۔ اِس کے علاوہ ، مڈوے جزیرے پر مختلف نوعیت کے جنگی طیارے تعینات کردیئے گئے ۔
جاپانی جنگی بیڑے شوکاکو کو جنگ کورل سی میں خاصا نقصان پہنچا تھا اور اُس کی مرمت کے لیے کئى ماہ درکار تھے جبکہ طیارہ بردار بیڑا زویے کاکو، جاپان کے کورے بندرگاہ پر لنگر انداز تھا اور وہ ائیر گروپ کی تبدیلی کا منتظر تھا لیکن تربیت یافتہ افراد کی بروقت ٹرینگ مکمل نہ ہونے کی وجہ سے مشکل پیش آرہی تھی ۔ البتہ بمبار طیارے آیچی ڈی تھری اے ون ، اور ناکاجیما بی فایو این ٹو تیار تھے ۔ جاپان کے وہ طیارے جو نومبر1941 سے زیر استعمال تھے اُنہیں بہترین حالت میں رکھا گیا تھا ۔
جاپان کی جنگی تیاری کے دوران میں امریکا نے ایک خُفیہ کوڈ جے این 25 کو معلوم کر لیا تھا جو ایڈ مرل نیمٹز کے لیے ایک بڑی کامیابی تھی ۔ امریکی بحریہ کو معلوم ہو گیا تھا کہ جاپان کہاں ، کب اور کس طاقت کے ساتھ حملہ آور ہوگا جبکہ جاپان کو امریکی حکمت عملی اور قوت کا درست اندازہ نہیں تھا ۔
مڈ وے، شمالی بحرالکاہل میں 6.2 کلومیٹر کا ایک جزیرہ ہے جو امریکا کے مغربی ساحل کی دفاع کے لیے ھوایی جزیرے کے بعد دوسرے نمبر پر اہمیت رکھتا ہے ۔ 3 جون 1942 کو رات ساڑھے بارہ بجے امریکی بی 17 طیاروں نے مڈ وے سے اُڑان بھر کر پہلا فضائى حملہ کیا لیکن حملے عین ہدف کو نشانہ بنانے میں زیادہ کامیاب نہیں ہوئے اِسلئے کوئى زیادہ نقصان بھی نہ ہوا ۔ 4 جون صُبح ساڑھے چار بجے ، جاپان کے وائس ایڈمرل ناگومو کے طیارہ بردار بحری بیڑے سے پہلا حملہ کیا گیا ۔ ایک اور بھر پور حملہ صبح چھ بجکر بیس منٹ پرکیا گیا جس سے امریکی اڈے کو بھاری نقصان پہنچا ۔ ابتدائى چند منٹوں میں امریکا کے کئى طیاروں کو مار گِرایا گیا ۔ امریکی انٹی ائیر کرافٹ گنز نے بھی کئى جاپانی طیاروں کو گِرایا ۔ 7 جون تک امریکی طیارے مڈوے جزیرے کو ایندھن بھرنے اور حملہ کرنے کے لیے استعمال کرتے رہے ۔ جب جاپانی طیارے کامیاب حملے کے بعد واپس لوٹے تو ایڈمرل ناگومو نے مڈوے پر ایک اور حملہ کرنے کے لیے طیاروں پر اسلحہ لوڈ کرنے کا حکم دیا ہی تھا کہ اِس دوران مشرق کی جانب امریکی بحری جہازوں انٹرپرایز اور ھورنٹ کی موجودگی کی نشاندھی کی گئى ۔ جس وقت یہ پیغام جاپانی بحریہ کو دیا جارہا تھا اُس وقت انٹرپرائز کے کوڈ بریکر نے یہ پیغام انٹرسیپٹ کیا کہ دُشمن کو ہماری موجودگی کا علم ہو گیا ہے ۔ یہ پیغام ملنے کے بعد جہاں ایڈمرل ناگومو نے امریکی بحری جہازوں پر حملہ کرنے کے لیے طیاروں پر لوڈ کیا جانے والا اسلحہ تبدیل کرنے کا حکم دیا ۔ اُسی لمحے انٹرپرئز سے 14 اور یشرک ٹاون سے 12 طیارے ، جاپانی بحریہ پر حملہ کرنے کے لیے محوِ پرواز ہوچکے تھے ۔ چونکہ طیاروں پر اسلحہ لوڈ کرنے کے لیے 30 سے 40 منٹ درکار تھے اِسلئے سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا اور حملہ ہو گیا ۔ جاپانی بیڑے کی انٹی ائر کرافٹ گنوں سے بھی جوابی حملہ کیا گیا ۔ اُدھر جاپانی بحری بیڑے ھیریو سے اُڑے طیاروں نے امریکی جہاز یورک ٹاون پر حملہ کر دیا جس سے یورک ٹاون کو شدید نقصان پہنچا اور وہ کام کا نہ رھا ۔
سات جون کو ایک جاپانی سب میرین آیی 168 نے سامنے آکر چار تارپیدو داغے جس میں ایک یو ایس ایس ہممان کو لگا جو دو ٹکرے ہو گیا اور دو تارپیدو بحری بیڑے یورک ٹاون کے لیے تباہ کُن ثابت ہوئے ۔ سب میرین نے اِن کا کام تمام کرتے ہوئے راہِ فراراختیار کرلی ۔ دوسری جانب یو ایس ایس انٹرپرائز سے طیاروں نے جاپانی بحری جہاز ھیروۓ پر ایک طاقتور حملہ کیا اور اُسے آگ کے شعلوں میں لپیٹ دیا اور تباہ کن جاپانی جہاز ایسوکازے کو خاصا نقصان پہنچایا ۔ اِسی طرح کے حملے جاپانی کروز موگامے اور میکوما پر بھی کیے گئے جس سے اُنہیں ناکارہ بنا دیا گیا ۔
اب مڈوے کا محاذ سرد پڑگیا تھا اور جاپان کے چھ میں سے چار طیارہ بردار جہاز تباہ ہوچکے تھے ۔ جاپان کی بحرالکاہل میں مہم جوئى اور توسیع پسندی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا تھا جس سے وہ دفاعی پوزیشن میں چلا گیا تھا کیونکہ صرف دو بحری بیڑے شوکاکو اور زوۓکاکو ہی رھ گئے تھے جبکہ دیگر بحری جہاز ریوجو، جونیو اور ھیو مؤثر ہونے کے لحاظ سے دوسرے درجے کے تھے ۔
اِس جنگ میں جاپان پر یہ ایک الزام بھی لگایا گیا کہ اُس نے تین امریکی ہوا بازوں کو گرفتار کرکے بعد میں قتل کر دیا تھا اور یوں جاپانی بحریہ جنگی جرم کا مرتکب پائى گئى ۔ جاپانی مؤقف تھا کہ مذکورہ افراد انتقال کر گئے تھے اور اُنہیں سمندر برد کر دیا گیا تھا ۔

سنہ 1942 میں جاپان کو بحرالکاہل میں اپنی طاقت منوانے میں کوئى خاص کامیابی نہ ہوئى لیکن اُس کے اتحادی، جرمنی نے یورپ اور دوسرے خطوں میں کئى کامیابیاں حاصل کرلی تھیں ۔ جرمن فوجوں نے جون میں لیبیا پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا لیکن نومبر میں برطانوی فوجوں نے ایک بار پھر اُنہیں شکست دی ۔ جرمن اور برطانوی فوجوں کے مابین شمالی افریقہ میں بھی جنگ ہورہی تھی کہ اِسی دوران میں اتحادی افواج نے چڑھائى کردی اور امریکی فوجیں الجیریا میں اُتار دی گئیں ۔ جرمنوں نے سینکڑوں ہزاروں یہودیوں کو وارسا سے تریبلنکا کے اذیتی کیمپوں میں منتقِل کرنا شروع کر دیا ۔ برازیل نے بھی جرمنی اور اٹلی کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا تھا۔ جبکہ بحرالکاہل میں امریکی اور آسٹریلوی افواج نے میک آرتھرکی زیرِقیادت ، نیو گِنی میں گونا کے مقام پر لڑائى کا آغاز کر دیا ۔

کوکودا ٹریک کی مہم جوئى
اِس سے پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ جاپان، مورسبے بندرگاہ پر قبضے کا خواہشمند تھا تاکہ وہاں سے شمال مشرقی آسٹریلیا پر حملہ کرکے بحرالکاہل اور بحر ہند کے مابین روٹ پر کنٹرول حاصل کرسکے ۔ اِس سے پہلے جنگ کورل سی میں جاپان قِسمت آزمائى کرچکا تھا لیکن کامیابی حاصل نہ کرسکا اور جنگ مڈوے نے جاپانی بحریہ کی طاقت کو بڑی حد تک کمزور کر دیا تھا لیکن پھر بھی جاپان اِس علاقے کی اہمیت کے پیش نظر اسے چھوڑ نہیں سکتا تھا۔ اتحادیوں کو بھی اس بات کا عِلم تھا کہ جاپانی فوج ایک بار پھر جنوبی بحرالکاہل کی جانب پیش قدمی کرسکتی ہے لہذا جنوب ۔ مغربی بحرالکاہل خطے کے اعلیٰ اتحادی کمانڈر جنرل ڈگلس میک آرتھر کی قیادت میں نیو گینیا میں عسکری تیاریاں شروع کردی گئیں ۔ اتحادیوں کو اندیشہ تھا کہ جاپان، رابول کے اڈے سے جارحیت کر سکتا ہے ۔ یہ بھی معلوم تھا کہ اگر جاپانی افواج بوندا میں اُتریں گیئں تو کوکودا اور مورسبے بندرگاہیں خطرے میں پڑ جائیں گیں ۔ ایسے میں بندا اور کوکودا کا دفاع ضروری ہو گیا تھا ۔
کوکودا ، مورسبے بندرگاہ کے قریب واقع ایک ایسا ٹریک ہے جہاں دِن کے وقت زیادہ تر گرمی اور حبس جبکہ راتیں ٹھنڈی ھوتی ہیں ۔ سالانہ اوسطاً 5 میٹر یعنی تقریباً 16 فٹ بارش ہوتی ہے اور روزانہ 25 سنٹی میٹر یعنی 10 اِنچ بارش ایک عام سی بات ہے ۔ گھنے جنگلوں کی وجہ سے دشوار گزار چڑھائیاں اور گہری کھائیاں ہیں ، جس کی وجہ سے صرف پیدل ہی سفر کیا جاسکتا ہے ۔ رسد پہنچانا اور وہاں پائے جانے والے بے تحاشہ مچھروں کا مقابلہ کرنادل گردے کا کام سمجھا جاتا ہے ۔ ملیریا ، دستوں کی بیماری، گیلے کپڑے اور چپچپا جسم زندگی اجیرن کردیتا ہے ۔
جاپان کا منصوبہ تھا کہ وہ نیو گینیا اور سولمن جزائر کے قبضہ کیے ہوئے علاقے میں ایک بحری اڈا تعمیر کرے جس کے ذریعے امریکا اور آسٹریلیا کے مابین کسی بھی امداد کو روکا جاسکے ۔ جاپان کی حکمت عملی تھی کہ اس کی جنگل کی سخت تربیت یافتہ فوج ، میجر جنرل تومیتارو ہوریئے کی سرپرستی میں پاپوا کے شمالی ساحل پر واقع گونا اور بونا کے قصبوں کے قریب اتر کر کوکودا پر قبضہ کرلے گی اور پھر وہاں سے اوون سٹینلے رینج تک پہنچ جائے گی جہاں سے مورسبے بندرگاہ نشانے پر آجائے گی ۔
دوسرا حملہ پاپوا کے مشرقی حصے میں خلیج مائلنے سے کیا جائے گا جہاں جاپانی میرین فوج اتاری جائے گی کیونکہ وہاں پر امریکی اور آسٹریلوی فوجیں 28 جون سنہ 1942 سے ایک ائربیس تعمیر کرنے میں مصروف تھیں ۔ یہی اڈا جاپان کے لیے فضائى اور بحری اڈے کے طور پر استعمال کرکے میجر جنرل ہورئیے، جاپانی فضائیہ اور سی بارن فوج کی قیادت کرتے ہوئے بندرگاہ مورسبے پر حملہ کرکے قبضہ کرلے گا ۔
جاپانیوں کے مقابلے میں آسٹریلوی فوجی تعداد میں زیادہ تھی لیکن جنگل کی لڑائى کے لیے تربیت، جدید اسلحہ اور وسائل کی کمی تھی ۔اکیس جولائى سنہ 1942 کو 1500 سے 2000 تک جاپانی فوج، پاپوا کے شمال مشرقی ساحل پر اُتر گئی اور بونا، گونا اور سانانندا کے مقامات پر اپنی تنصیبات کی تعمیر شروع کردی ۔ اگلے روز آسٹریلوی فوج کو جاپانیوں کی آمد کا عِلم ہو گیا اور اِس کی اطلاع جنرل میک آرتھر اور جنرل بلامے کو دی گئى ، جس پر دشمن کو مصروف کرنے کی ہدایت جاری کی گئیں ۔ رات کو 40 فوجی ، جاپانی فوج پر حملہ کرکے جنگل میں واپس آ گئے ۔ انہی سلسلہ وار جھڑپوں کے دوران میں دونوں جانب سے افواج کی مختلف بٹالینز جمع ہوتی گئیں ۔ انتیس جولائى 1942 کو علی الصبح ڈھائى بجے 500 جاپانیوں پر مشتمل ایلیٹ فورس نے بھاری مشین گنوں سے مسلح ہوکر آسٹریلن فوج پر بھرپور حملہ کرکے کوکودا کے رن وے پر قبضہ کر لیا ۔ اس شکست کے بعد آسٹریلیا نے اپنی نفری بڑھادی ۔
آسٹریلوی فوج کے39 ویں انفنٹری بٹالین کے کمانڈرلیفٹینٹ کرنل رالپ ہونر نے کوکودا کا علاقہ واپس لینے کا فیصلہ کیا لیکن دو دن کی لڑائى میں اُسے کامیابی نصیب نہ ہوئى ۔ چھبیس اگست تک جاپانی فوج کی تعداد ساڑھے تیرہ ہزار تک پہنچ گئى ۔ اب ان کا ہدف بندرگاہ مورسبے تھا ۔ اگرچہ جاپانی اور آسڑیلوی فوجوں کے مابین اسوراویا ، بریگیڈ ہِل،آوریبیوا اور ایمیتا میں بھی شدید چھڑپیں ہوئیں جس میں آسٹریلیا کو سخت جانی نقصان پہنچایا گیا لیکن طول پکڑتی ہوئى لڑائى جاپان کے حق میں نہیں تھی کیونکہ یوں جنرل ھورئیے کا بندرگاہ مورسبے پر قبضے کا شیڈول متاثر ہورہا تھا۔
سات اگست 1942 سے 9 فروری 1943 تک کی مدت میں جنگ گوادال کینال لڑی گئى ۔ یہ بحرالکاہل میں لڑی گئى شدید جنگوں میں سے ایک تھی جس میں بری، بحری اور فضائى افواج نے حصہ لیا جو جاپان کے خلاف اتحادی افواج کی پہلی جارحیت تھی ۔سات اگست سے اتحادی افواج جن میں اکثریت امریکیوں کی تھی، گوادال کینال، تولاگی، اور جنوبی سولومن جزائر کے فلوریڈا میں انگیلا سولے علاقے پر اُترنا شروع ہوئیں تاکہ امریکا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے مابین رابطے توڑنے کی جاپانی منصوبے کو ناکام بنانے کی بھرپور کوشش کی جائے ۔ اتحادی چاھتے تھے کہ گوادال کینال اور تولاگی کو مرکزی اڈوں کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جاپان کے راباول اڈے کو ختم کر دیا جائے ۔ اس وقت اتحادیوں کی تعداد، جاپانیوں سے کہیں زیادہ تھی ۔ اتحادیوں نے جاسوسی ذرائع سے معلوم کر لیا تھا کہ جاپانی فوج، ھینڈرسن کے ہوائى اڈے کو دوبارہ قبضے میں لینے کی تیاری کر رہی ہے ۔ جاپانی فوج نے اپنی قوت بڑھانے کے لیے مزید کُمک طلب کی تو یاماموتو نے 38 انفنٹری ڈویژن سے خوراک ، ایمونیشن اور دیگر ضروری سازوسامان سمیت ، گیارہ ٹرانسپورٹ جہازوں کے ذریعے 7٫000 فوجی روانہ کیے ۔
اتحادیوں اور جاپانی افواج کے مابین 25 ستمبر کی شدید چھڑپوں میں تین ہزار جاپانی فوجی ہلاک ہوئے ۔ اُن کی رسد کی فراہمی بھی متاثر ہورہی تھی اور فوجی مسلسل لڑائى لڑکر تھک گئے تھے ۔
نومبر1942 کے دوسرے ہفتے سے جاپانی فوج نے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کئى حملے کیے لیکن وہ ہنڈرسن فیلڈ کو ناقابل استعمال بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ اتحادیوں نے فیلڈ کی اہمیت کے پیش نظر اِس کا بھرپوردفاع کیا ۔ اِن جھڑپوں کے دوران میں دونوں افواج نے ایک دوسرے کے کئى بحری جہاز ڈبوئے، طیارے مار گرائے اورکئى فوجی ہلاک کردئیے ۔
جاپانی فوج کے لیے مناسب مقدار میں خوراک کی فراہمی کا مسئلہ مسلسل درپیش تھا اور وہ اتحادی افواج کی تباہ کن بمباری کی وجہ سے وسطی سولومن میں نئے اڈے تعمیر کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے تھے ۔ بالاخر جاپانی بحریہ نے کافی غور و خوض کے بعد 12 دسمبر 1942 کو گوداکینال کی مہم ترک کرکے واپسی کا فیصلہ کیا اور جنرل ھاجیمے سوگی یاما اور ایڈمرل اوسامی ناگانو نے ذاتی طور پر شہنشاہ ھیروھیتو کو اِس فیصلے سے آگاہ دی ۔
جاپانی فوج جس علاقے میں برسرپیکار تھی یہ ایک کٹھن اور دشوار گزار علاقہ تھا ۔ کئى سپاہی ملیریا اور دست کی بیماری میں مبتلا ہوچکے تھے اور خوراک کی شدید قِلت تھی ۔ بلکہ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ وہ جڑی بوٹیاں اور پتے کھانے پر مجبور ہوگئے تھے ۔
جاپان اور امریکا کے مابین سلسلہ وار بحری جنگوں نے دونوں ممالک کے اعصاب کو تھکا دیا تھا ۔ دونوں ملکوں نے بہترین بحری طاقت کا مظاہرہ کیا تھا بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ اُس وقت جاپان کی بحری قوت کا مقابلہ کرنا صرف امریکا ہی کے بس کا کام تھا ۔ امریکا کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اگر جاپان کو شکست سے دوچار کرنا ہے تو اپنی بحری قوت کو مزید فروغ دینا ہوگا اور اِس مقصد کے لیے فروری سے نومبر 1943 تک کی درمیانی مدت میں بحری قوت بڑھانے پر بھرپور توجہ دی گئى ۔ وسیع پیمانے پر بحری بیڑے اور بحری جنگی جہازوں کی تیاری سے امریکا کو جاپان پر سبقت حاصل ہوگئى جبکہ جاپانی بحریہ کی کمر خاصی حد تک کمزور ہوچکی تھی ۔

ایڈمرل یاماموتو، 4 اگست 1884 کو ناگااوکا میں پیدا ہوے تھے ۔ اُنہوں نے سنہ 1919 سے 1921 تک ہاورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور سنہ 1925 میں ایک سفارتی مشِن پر امریکا میں رھ چکے تھے ۔ وہ امریکا پر حملے کے مخالف تھے تاہم اسے حکومتی فیصلے کے مطابق پرل ہاربر پر حملے کی منصوبہ بندی کرنی پڑی ۔
جنوری 1943 سے موسم گرما 1944 کے دوران میں نارمنڈی میں اتحادیوں کے قدم جمانے تک کی مدت کو جنگ عظیم دوم کا وسطی عرصہ سمجھا جاتا ہے ۔ اب امریکا اور اس کے اتحادیوں نے جارحانہ پالیسی اختیار کرلی ہوئى تھی ۔ امریکی فوج اور فوجی سازوسامان کی ترسیل میں بہت اضافہ ہوچکا تھا ۔ سوویت یونین نے جرمن جارحیت سہنے کے بعد جوابی کاروائیاں شروع کردی تھیں ۔ قوت توازن امریکا اور سویت یونین کے حق میں جارہا تھا ۔ سویت یونین اور مغربی یورپ کے سروں پرخطرے کی تلوار اب بھی لٹک رہی تھی ۔
چودہ جنوری 1943 میں دس روز کے لیے کاسابلانکا کانفرنس منعقد ہوئى جہاں برطانوی اور امریکی مندوبین کے مابین یورپ اور بحرالکاہل سے متعلق پالیسی امور پرکئى اختلافات سامنے آئے ۔ امریکا، بحرالکاہل میں جاپان کے خلاف کارروائی کی اہمیت پر زور دے رہا تھا جبکہ برطانیہ بحیرہ قذوین میں حکمت عملی مرتب کرنے کا خواہاں تھا ۔ امریکا چاہتا تھا کہ جاپان کے خلاف اپنے حالیہ فتوحات کے بعد اپنے دشمن پر گرفت مزید مضبوط کرلے ۔
امریکی جنرل مارشل سمجھتا تھا کہ جاپان کی کسی بھی سرگرمی کا بروقت جواب دینے کے لیے بڑے بحری بیڑے، مضبوط فضائیہ اور زیادہ قوت کی حامل زمینی فوج کی ہر وقت موجودگی ضروری ہے ۔ اگرچہ جاپان اب دفاعی پوزیشن میں چلا گیا تھا تاہم اس کے بحری بیڑے سے امریکا کے مغربی ساحل پر فضائى حملوں کا خدشہ بدستور موجود تھا کیونکہ امریکا کو علم تھا کہ جاپانی ہتھیار ڈالنے کا نظریہ نہیں رکھتے اور وہ آخری شکست تک اپنی جارحیت جاری رکھیں گے ۔
کاسابلانکا کانفرنس میں اتفاق کیا گیا کہ تمام دشمن قوتوں یعنی ایکسیز پاورز سے کہا جائے گا کہ وہ غیر مشروط طور پرہتھیار ڈال دیں ۔ اسی کانفرنس میں سوویت یونین کی سسلی اور اٹلی پر چڑھائى میں مدد دینے پر بھی رضا مندی ظاہر کی گئى ۔
یورپ میں حالات کچھ یوں بدلتے جارہے تھے کہ 31 جنوری 1943 کو جرمن فوج نے سٹالن گراڈ میں ہتھیار ڈال دیے تھے کیونکہ نومبر سے جاری محاصرے کی بناء پر بھوک اور غذائى کمی سے ان کی حالت بگڑ چکی تھی ۔ ایک اندازے کے مطابق، بھوک اور خراب موسمی حالات سے 90 ہزار سے زیادہ جرمن فوجی ہلاک ہوچکے تھے ۔ جرمن فیلڈ مارشل وون پاولس کے پاس اس کے سوا کوئى چارہ نہ تھا کہ وہ بھوک کی شکار اپنی فوج کو ہتھیار پھینک دینے کا کہیں ۔ ادھر جرمنی پر اتحادیوں کی دِن رات فضائى بمباری جاری تھی ۔ 12 ستمبر 1943 کو اتحادی افواج ، اٹلی میں داخل ہوئیں ۔

اگر اتحادیوں کی جانب سے ایک طرف یورپ میں جنگ تیز ہوچکی تھی تو دوسری طرف مشرق بعید میں بھی جاپانیوں اور امریکیوں کے مابین مختلف محاذوں پر جنگ شدت اختیار کرچکی تھی ۔ امریکی زیر قیادت اتحادی فوج اور جاپانیوں کے مابین فلپائن کے جزائر لیٹی، سامار اور لوزون کے آس پاس پانیوں میں 23 سے 26 اکتوبر 1944 تک جنگ لیٹی لڑی گئى ۔
امریکا نے 20 اکتوبر کو اپنی فوج جزیرہ لیٹی پر اِس وجہ سے اُتاردی تاکہ جاپان کو اپنے جنوب مشرق ایشیا کے زیر قبضہ علاقوں سے منقطع کیا جاسکے اور خصوصاً تیل کی ترسیل روک دی جائے ۔ شاہی جاپانی بحریہ نے تقریباً اپنے تمام بحری جہازوں کو اتحادی افواج کے خلاف برسر پیکار کر دیا تاہم وہ فتح حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ امریکا کے تیسرے اور ساتویں بحری بیڑے نے جاپانی حملوں کو پسپا کر دیا تھا ۔ جاپان کو اتنا بھاری نقصان اُٹھانا پڑا کہ وہ دوبارہ متوازی طاقت کا حملہ کرنے کی طاقت نہ دکھا سکا۔ اُس کے بڑے بحری جہازوں کے پاس تیل کی کمی تھی جس کی وجہ سے وہ بحرالکاہل کی بقیہ جنگوں کے دوران میں اپنے اڈوں پر ہی رہے ۔
خلیج لیٹی میں چار بڑے معرکے ہوئے جن میں بحر سیبویان، آبنائے سوریگاؤ، کیپ اینگانو اور سامار کی لڑائى شامل ہے ۔ بحرالکاہل مہم کے دوران میں امریکا اور فلپائن کی فوجوں نے جاپانی فوج کے خلاف جنگ لیٹی لڑ کر فتح حاصل کی ۔ یہ جنگ سترہ اکتوبر سے اکتیس دسمبر تک لڑی گئى جس سے تقریباً 3 سالہ جاپانی قبضے کا خاتمہ ہو گیا ۔
فلپائن ، جاپان کے لیے ربڑ کی فراہمی کا ایک بڑا ذریعہ تھا ۔ اِس کے علاوہ بورنیو اور سوماترا کے جانب سمندری گزرگاہوں پر بھی جاپان کا کمانڈ تھا جہاں سے اُسے پیٹرولیم کی ترسیل ہوتی تھی اِس لیے فلپائن پراپنی گرفت مضبوط رکھنا اُس کے لیے بہت اہمیت کا حامل تھا ۔
لیٹی پر فوجی چڑھائى کرنے کے لیے امریکی جنرل میک آرتھر کو بری، بحری اور فضائیہ کا سپریم کمانڈر بنایا گیا ۔ امریکی اور اتحادی افواج، مشہور زمانہ ساتویں بحری بیڑے پر مشتمل تھیں ۔سات سو ایک بحری جہازوں میں سے 157 بحری جنگی جہاز تھے اس کے علاوہ بری فوج میں مختلف کیولریز اور انفنٹری ڈویژنز شامل تھیں ۔ سترہ اکتوبر کو اتحادی افواج نے بارودی سرنگوں کی صفائى شروع کی اور لیٹی کے اردگرد مختلف چھوٹے جزائر کی جانب پیش قدمی کا آغاز کیا ۔ بیس اکتوبر کو مسلسل چار گھنٹوں کی بحری گولہ باری کے بعد ، اتحادی ساحلی علاقے میں اُترنا شروع ہوئے اور اِسی دوران میں جاپانی فوج سے جھڑپیں چھڑ گئیں ۔ کئى شب و روز سخت لڑائى کے بعد دونوں اطراف سے بھاری جانی نقصان ہوا ۔ جوبیس اکتوبر کو گھمسان کی فضائى جنگ ہوئى اور دِن رات کی دوطرفہ بمباری مزید چار روز تک جاری رہی ۔ جاپان نے اپنی قوت بڑھانے کے لیے مزید 34 ہزار فوجیوں اور 10٫000 ٹن دیگر سازوسامان کی کُمک سپلائى کی ۔ آٹھ نومبر 1944 کو طوفان آیا اور موسلادار بارش ہوئى ۔ تیز جھکڑ چلنے سے درخت جڑوں سے اکھڑ گئے اور بارش سے مٹی کے تودے گرنے لگے ۔ لڑائى ، اب ساحل سے پہاڑوں تک پھیل گئى تھی ۔ اگرچہ جاپانی فوج نے اتحادی افواج کی سخت مزاحمت کی اور اِس دوران میں کئى حملوں کو پسپا کیا تاہم 10 دسمبر کو اتحادی افواج اورموک شہر میں داخل ہوگئیں ۔ جاپانی فوج کی قوت آہستہ آہستہ کمزور ہوتی جارہی تھی ۔ لہذا انہوں نے فیصلہ کن جنگ لڑنے اور اتحادی افواج کو بھرپور نقصان پہنچانے کے لیے کامیکازے پائلٹوں کے ذریعے خودکش حملے شروع کیے ۔ اُنہوں نے کئى بحری جہازوں کو تباہ کیا ، جن میں آسٹریلیا کا ایک بحری جہاز ایچ ایم اے ایس آسٹریلیا بھی شامل تھا جس میں 30 آسٹریلوی ہلاک اور 64 زخمی ہوئے ۔
اکتیس جنوری 1945 کو امریکی فوج نے جنوبی لوزون پر اُتر کر منیلا کی جانب پیش قدمی کی ۔

اگر اتحادی ایک جانب فلپائن میں جاپانیوں سے لڑ رہے تھے تو دوسری جانب اُنہوں جاپان پر بھی فضائى بمباری شروع کردی ہوئى تھی اور اِن کاروائیوں میں امریکی فضائیہ کے بی ۔ 29 طیاروں کو نہایت کارآمد سمجھا جاتا تھا کیونکہ اِس میں 20٫000 پونڈ بم لے جانے کی صلاحیت تھی اور یہ 2000 میل تک کا راونڈ ٹریپ طے کر سکتا تھا ۔ اِس طیارے نے جاپان میں اسلحہ فیکٹری پر حملہ کرنے کے لیے پہلی پرواز 15 جون 1944 کو چین سے کی ۔ یہ اپریل 1942 کے ڈولٹل فضائى حملے کے بعد جاپانی سرزمین پر دوسرا فضائى حملہ تھا ، جو جاپان پر سٹرٹیجیک بمبارمنٹ کی مہم کا باقاعدہ آغاز تھا ۔ آپریشن میٹرھارن کے نام سے حکمت عملی طے کی گئى تھی کہ بھارت اور چین میں موجود اڈوں سے جاپانی سرزمین اور جاپان کے چین اور جنوب ۔ مشرقی ایشیا میں موجود اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا ۔ تاہم بعد میں 1944 کے اواخر میں امریکی طیاروں نے ماریانا جزائر سے فضائى حملے شروع کردئیے ۔امریکیوں کا خیال تھا کہ شمال مغربی بحرالکاہل میں واقع چھوٹے جزیروں سے فضائى بمباری زیادہ آسان اور سود مند رہے گی ۔ان میں سئپن، تینیان اور گوام کے جزیروں کو خاص اہمیت حاصل تھی ۔ دراصل یہ جزیرے جاپان کے زیرقبضہ تھے اور مئى 1943 میں امریکی بحریہ کے ایڈمرل ارنیسٹ کنگ نے اِسے فتح کرنے کی تجویز دی تھی ۔
وقت گذرنے کے ساتھ امریکی فوج کا یہ احساس مضبوط ہونے لگا کہ بی ۔ 29 طیاروں کے لیے اِن جزیروں پر رن وے کی تعمیر سے حملوں میں آسانی رہے گی ۔ چنانچہ گیارہ جون 1944 کو ان جزائر پر مسلسل چار روز تک بحری اور فضائى حملے کیے گئے ۔ ایک اندازے کے مطابق کئى ہفتوں تک جاری لڑائى میں 3٫000 امریکی جبکہ 24٫000 جاپانی ہلاک ہوئے ۔ تئیس جولائى تک امریکا نے تینوں جزائر پر قبضہ کر لیا تھا جہاں سئپن جزیرے پر بی ۔ 29 طیاروں کے لیے فوری طور پر ائرفیلڈ کی تعمیر شروع کی گئى اور 27 اکتوبر 1944 کو اِس مقام سے جاپانی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ۔
اب جاپانی سرزمین کی تباہی کا آغاز ہو چکا تھا ۔ امریکی فضائیہ نے اپنے حربے بدلتے ہوئے وسیع پیمانے پر بربادی کرنے کی حکمت عملی اختیار کرلی ہوئی تھی ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ 9 اور 10 مارچ 1945 کی شب 335 امریکی بی ۔ 29 طیارے فضا میں بلند ہوئے جن میں 279 طیاروں نے تقریباً 1700 ٹن بم برسائے ۔ اِن میں 14 طیارے لاپتہ ہوئے جبکہ مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ بتائى جاتی ہے تاہم بعد میں کیے گئے امریکی سروے میں یہ تعداد 88٫000 بتائى گئی ہے ۔ علاوہ ازیں 41 ہزار افراد زخمی جبکہ دس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے تھے ۔
یورپ میں چار سے گیارہ فروری 1945 تک یالٹا کانفرنس منعقد کی گئى جس میں امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ ، برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل اور سوویت یونین کے سربراہ جوزف سٹالن نے شرکت کی ۔ گو کہ اِس سربراہ کانفرنس میں زیادہ تر یورپ کے معاملات پر غور کیا گیا ، البتہ سٹالن نے اتفاق کیا کہ وہ جرمنی کے شکست کے 90 دن بعد جاپان کے خلاف جنگ میں شریک ہوگا ۔

امریکا نے نہ صرف ٹوکیو پر بے دریغ بمباری کی بلکہ کئى دیگر شہروں کو بھی نشانہ بنایا جہاں فوجی تنصیبات کی تباہی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر عام شہری بھی ہلاک ہوئے ۔ اب امریکی فوج ، جاپانی سرزمین پر اترنے کی منصوبہ بندی کرنے لگی اور اس مقصد کے لیے پہلے اوکیناوا کا انتخاب کیا گیا ۔ اوکیناوا ایک جزیرہ ہے جو جاپان کے مین لینڈ سے 340 میل کے فاصلے پر واقع ہے ۔ اتحادی فوجوں نے اِس علاقے پر قبضہ کرکے اِسے جاپان پر بھرپور جارحیت کرنے کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ۔
امریکی افواج نے اترنے سے پہلے اوکیناوا پر 7 روز تک ہزاروں آرٹلری شیلز اور راکٹ فائر کیے اور بے دریغ فضائى بمبارکی ۔ امریکی فوج نے پہلے ھاگوشی اور چنتان کے ساحلی علاقوں پرفوج اُتارنے کا فیصلہ کیا ۔ بحرالکاہل کی سب سے خوفناک جنگ چھڑنے کا وقت آن پہنچا تھا۔ امریکا نے اپنے اِس مشن کو آئس برگ کا نام دیا تھا ۔ حملہ آور امریکیوں کی تعداد ایک لاکھ 83 ہزار تھی جبکہ اپنی سرزمین کی دفاع کے لیے 77٫000 جاپانی موجود تھے جن کی قیادت لیفٹینٹ جنرل میتسورو اوشی جیما کر رہے تھے ۔
یکم اپریل 1945 کو پو پھٹنے سے پہلے جب پہلی بار 60٫000 امریکی فوجی اُترے تو اُنہیں کسی قِسم کی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑا کیونکہ جاپانی فوج نے مکمل جنگ لڑنے کے بجائے دفاعی حکمت عملی اختیار کی ہوئى تھی ۔ اِس سے پہلے کئى جنگوں میں جاپانی فوج بے دھڑک لڑکر جان و مال اور وقت کا ضیاع کرچکی تھی اِسلئے روایتی حکمت عملی تبدیل کی گئى ۔ جاپانی فوج نے اپنے آپ کو خفیہ رکھنے کے لیے غاریں اور خندقیں کھودی تھیں ۔ اوکیناوا میں بارش اور بادلوں سے دھند چھائى ہوئى تھی اور دور علاقہ صاف نظر نہیں آرہا تھا ۔
جاپانی فوج کے خود کش حملہ آور طیاروں کامی کازے نے چھ اپریل کو 193 طیاروں سے ساحل پر موجود امریکی بحریہ پرجوابی حملہ کیا ، جس میں چھ بحری جہاز ڈوبے ، سات کو شدید اور چار دیگر کو کم نقصان پہنچا ۔ جاپانی فوج نے اتحادی بحری جہازوں پر حملہ کرنے کے لیے کائتن تارپیڈو بھی تیار کیے تھے ۔ کائتن کا مطلب ہے ، جنت کا رُخ ۔
دوسری جانب اتحادی افواج کی قوت کم ہونے کے بجائے بڑھتی جارھی تھی ۔ جاپانی افواج نے اپنے سب سے بڑے بحری جہاز یاماتو، ایک کروزر اور 8 تباہ کن بحری جہازوں کو خود کش مشن پر روانہ کیا ۔ اِس آپریشن کو تن گو ساکوسین کا نام دیا گیا تھا اور ایڈمرل سیچی ایتو کو اِس مشن کی کمانڈ دی گئى ۔ فورس کے لیے حُکم تھا کہ وہ پہلے ساحل پر موجود اتحادی بحریہ پر حملہ کرے اور پھر ساحل پر اتری ہوئى امریکی فوج سے پنجہ آزمائى کرے ۔
اتحادی افواج کسی بھی جاپانی حملے کے خطرے کے پیش نظر بہت چوکس تھیں اور جونہی جاپانی فوج اپنے حدود سے روانہ ہوئى ، اتحادی افواج کی آبدوزوں نے اُسے معلوم کرکے اپنے کمانڈ کو فوری اطلاع دی ۔ اتحادی جنگی طیاروں نے بغیر کسی وقت ضائع کیے فضائى حملہ کر دیا ۔ اِس حملے میں 300 طیاروں نے حصہ لیا اور مسلسل دو دِن بمباری کرکے جاپان کے دُنیا کے بڑے بحری جنگی جہاز کو اوکیناوا پہنچنے سے قبل 7 اپریل 1945 کو ڈوبو دیا ۔ اِس حملے میں کروزر یاھاگی اور چار دیگر جنگی بحری جہاز بھی تباہ ہوئے ۔ ایک اندازے کے مطابق اِس حملے میں ایڈمرل ایتو سمیت جاپانی شاہی بحریہ کے عملے کے 3700 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔
اتحادی افواج نے وسطی اور شمالی جانب سے پیش قدمی شروع کی ۔ جاپانی فوجوں نے مزاحمت شروع کی تو اتحادیوں نے جنوب کی طرف سے بھی اپنی فوجوں کو حرکت دی ۔ کئى روز کی خونریز جھڑپوں کے بعد اتحادی افواج نے شمالی اوکیناوا کے کئى حصوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب حاصل کیں ۔ شمال کے ساتھ ساتھ جنوب کی جانب بھی گمسان کی لڑائى ہورہی تھی اور جاپانی افواج ہرخطے پر سخت مزاحمت کا مظاہرہ کررہی تھیں ۔ ہر طرف مشین گنوں کی تھڑ تڑاہٹ ، طیاروں کی گھن گرج اور اور توپوں کے گولوں کی آوازیں گونج رہی تھیں ۔ کہیں کسی کی لاش تو کہیں کوئى زخموں سے چور پڑا تھا ۔ جاپانی فوج اب بھی غاروں اور خندقوں سے اپنی سرزمین پر آئى ہوئى اتحادی فوج پر پے در پے حملے کر رہی تھی ۔ بارہ اپریل کو جاپانی فوجوں نے امریکی فوج کے پورے فرنٹ پر حملہ کر دیا ۔ اب کی بار جاپانیوں نے منظم انداز میں بھاری حملہ کر دیا تھا اور وہ استقامت کا بھرپور مظاہرہ کر رہے تھے بلکہ تاریخ بتاتی ہے کہ اِس موقع پر انتہائى سخت دست بدست لڑائى چھڑ چکی تھی ۔ چودہ اپریل کو جاپانیوں نے ایک اور بھر پور حملہ کیا جس سے امریکیوں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ رات کی تاریکی میں جاپانی حملے اُن کے لیے تباہ کُن ثابت ہورہے ہیں کیونکہ جاپانی فوج نے خوفناک شکل اختیار کرلی ہوئی تھی ۔
امریکا کی 27 ویں انفنٹری ڈویژن نے اوکیناوا کے مغربی ساحل سے پیش قدمی شروع کی ۔ امریکی جنرل ھوج نے 9 اپریل کو بھاری ہتھیاروں سے ایک بڑا حملہ کر دیا ۔ دوسری جانب بحری جنگی جہازوں، کروزر اور تباہ کُن جہازوں نے اپنی فضائیہ کے ساتھ مل کر جاپانی فوج پر بے تحاشہ گولہ باری کی اور بے دریغ بم برسائے ۔ نیپام بموں ، عام بموں، راکٹوں اور مشین گنوں کے مسلسل حملے سے جاپانی فوج کے حوصلے اب ھچکولے کھانے لگے ۔ اگرچہ اِس دوران میں جاپانیوں نے ٹینکوں کے ایک بڑے حملے کو ناکام بناتے ہوئے 22 ٹینکوں کو تباہ اور ساڑھے سات سو امریکیوں کو ہلاک کر دیا تھا ۔ 4 مئى کو جاپانی فوج نے جنرل اوشی جیما کے زیرِقیادت ایک اور جوابی حملہ کیا۔ یہ بحری حملہ ساحل پر موجود امریکی فوج کی پشت پرکیا گیا جس میں 13 ہزار روانڈ فائر کیے گئے تاہم امریکا کے بروقت اور موثر جواب سے یہ حملہ ناکام بنادیا گیا ۔
مئی کے اواخر میں مون سون کی بارشیں شروع ہوئیں جس کی وجہ سے کیچڑ اور پانی نے جنگی کاروائیوں سمیت زخمی فوجیوں کے لیے مہیا کی جانے والی طبی امداد میں روکاوٹیں پیدا کرنا شروع کردیں ۔ سیلاب سے بھرے راستوں سے زخمی فوجیوں کو نکالنا انتہائى مشکل ہو گیا تھا ۔
جاپانی فوج پر چونکہ یہ حقیقت آشکارا ہورہی تھی کہ اتحادی افواج کے مقابلے میں اُن کی قوت کمزور ہے لہذا مارچ ہی میں اوکیناوا میں جاپانی کمانڈ نے اندازہ لگالیا تھا کہ اب ایشیما ائرفیلڈ اور ملٹری کمپلیکس کا دفاع مشکل ہوتا جارہا ہے اِسلیے جزیرے پر موجود تمام ائرفیلڈز کو تباہ کرنے کا حُکم صادر کیا گیا تاکہ اُن کے فوجی تنصیبات دشمن کے ہاتھ نہ آئیں ۔ تاہم ماہِ مئى میں جاپانی فوج نے اپنے فضائى حملے جاری رکھے بلکہ 20 مئى کو 35 جاپانی طیاروں نے بروقت حملہ کیا ۔ ستائیس اور اٹھائیس مئى کی شب مطلع صاف تھا اور چاند پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رھا تھا کہ اِس دوران میں جاپانی فضائیہ نے 2 اور 4 طیاروں کی گروپوں کی شکل میں 56 بار حملے کیے اور ایک اندازے کے مطابق اِن حملوں میں 150 طیاروں نے حصہ لیا اور اِسی رات جاپانی خودکش ہوابازوں کامیکازے نے 9 امریکی بحری جہازوں کو تباہ کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ اوکیناوا کی جنگ میں 896 بار فضائى حملے کیے گئے جس میں تقریباً 4000 جاپانی طیاروں نے حصہ لیا ۔
جاپانی فوج نے شورے کے محاذ سے پسپائى کی حکمت عملی اختیار کی کیونکہ کونیکل پہاڑ کے مشرقی اور جنوبی حصوں پرجاپانی دفاعی پوزیشن کمزور پڑنے سے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ یا تو آخری دم تک تمام وسائل کے ساتھ لڑاجائے اور یا پھر انخلا کیا جائے ۔ جنرل اوشی جیما نے اِس صورت حال پر غور کرنے کے لیے شورے قلعے میں اجلاس بلایا جہاں مختلف پہلووں پر غور کیا گیا اور آخری فیصلہ یہ تھا کہ جنوب کی جانب انخلا کیا جائے ۔ یہ انخلا بہت منظم اور خفیہ انداز میں تھا اور کئى روز تک امریکی فوج اپنے جاسوس طیاروں سے مسلسل نگرانی کے باوجود معلوم نہ کرسکی کہ جاپانی فوج وہاں سے نکل چکی ہے ۔
اوکیناوا میں 5 جون کو بارشوں کا سلسلہ تھم گیا تھا ۔ نئے دفاعی علاقے میں اوشی جیما کو منتقل ہوئے کئى دِن گزر چکے تھے لیکن اسلحے کی قلت اور مواصلاتی رابطوں میں پیش آنے والی مشکلات سے فوج کی کارکردگی پر اثر پڑ رہا تھا اور جب وہ اپنی فوج کے ہمراہ شورے سے منتقل ہورہے تھا تو اُس وقت اُن کے پاس صرف 20 دِن کا راشن موجود تھا ۔ کہتے ہیں کہ انخلا کے وقت جن زخمی فوجیوں کو ساتھ نہیں لے جایا جاسکا اُنہیں مارفین کا انجیکشن لگا کر خود ہی ہلاک کیا گیا یا اُنہیں وہیں چھوڑ دیا گیا تھا ۔
اٹھارہ جون کی شام جنرل اوشی جیما نے جاپانی فوج کے وائس چیف آف سٹاف کوانابے تورا سیرو اور دسویں ایریا آرمی آن تائیوان کے کمانڈر آندو ریکیچی کے نام الوداعی پیغام بھیجا اور پیغام کے آخر میں چند اشعار رقم کیے کہ :
جزیر ے کی سرسبز و شاداب گھاس
جو سو کھی ہے خزاں کے انتظار میں
پھرسے لے جنم
ہمارے معززوطن کی بہاروں میں
اُنہوں نے19 جون کو آخری آرڈر جاری کیا اور اپنی زیرِقیادت تمام یونٹوں کی بہادری اور حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ اسلحے اور مواصلاتی رابطوں کی انتہائى کمی ہے لہذا جو جہاں ہے وہیں پر اپنی حکمت عملی کے مطابق صورت حال کا مقابلہ کرے اور اپنے کسی سینئر افسر کا انتظار نہ کرے ۔ اُنہوں نے حُکم دیا، آخری دم تک لڑو ۔ اُن کے آخری حکم میں جاپانی فوج کو ہتھیار ڈالنے کا کوئى حکم نہیں تھا ۔
اب جاپانی فوج نے بکھر کر گوریلہ جنگ لڑنی شروع کرلی تھی چونکہ اُنہیں اپنے جنرل نے ہتھیار ڈالنے کا حکم نہیں دیا تھا لہذا جاپانی فوج کے سامنے دو راستے تھے کہ یا تو لڑکر مرا جائے یا خودکشی کرلی جائے ۔ امریکی فوج شورے پر قبضے کے بعد ناھا کے ائر فیلڈ پر بھی کنٹرول حاصل کرچکی تھی اور جنوب کی جانب پیش قدمی کی جارہی تھی لیکن جاپانی فوج کو پوری طرح سرنِگوں کرنا ابھی بہت دور کی بات تھی ۔ بائیس جون صبح 3 بجکر 40 منٹ پر لیفٹینٹ جنرل اوشی جیما اور جنرل ایسامو چو نے جنوب کی جانب پہاڑ 89 کے نزدیک خود کُشی کرلی ، جسے ھارا کیرے کہتے ہیں یعنی باعزت موت مرنا ۔ اسے سیپوکو بھی کہتے ہیں ۔ سمورائے جنگجووں کے لیے بھی ضروری تھا کہ وہ شکست کو خودکُشی پرترجیح دیں ۔
دوسری جانب امریکی فوج کے لیفٹینٹ جنرل سائمن بی بکنر بھی فوجی محاذ پر نگرانی کے دوران میں جاپانی فوج کے ایک شل کے پھٹنے سے ہلاک ہوگئے تھے ۔ یہ وہی جنرل بکنر تھے جنہوں نے اوشی جیما کو ہتھیار ڈالنے کا پیغام بھیجا تھا ۔ جنگ لڑنے والی فوجوں کے اعلیٰ جنرل اب اِس دُنیا میں نہیں تھے ۔
جاپانی فوج کے کرنل ھیرو میچی یاھارا رھ گئے تھے ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یاھارا نے بھی خودکشی کی اجازت مانگی تھی لیکن اوشی جیما نے یہ کہتے ہوئے اجازت نہیں دی کہ اگر تُم بھی نہ رہے تو پھر اوکیناوا کی جنگ کے حقائق بیان کرنے والا کوئى نہیں ہوگا ۔ یاھارا کو بعد میں امریکی فوج نے جنگی قیدی بنالیا تھا ۔
اوکیناوا کی جنگ کا آخری مرحلہ بہت درد ناک رہا اور انسانی ضیاع کے لحاظ سے یہ بحرالکاہل کی سب سے زیادہ تباہ کن جنگ تھی ۔ اِس جزیرے پرانسانی خون کی ایک دردناک تاریخ موجود ہے جہاں امریکی اور جاپانی افواج کے نقصان پر کئى متضاد اعداد و شمار موجود ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اِس جنگ میں 50 ہزار امریکی اور ایک لاکھ جاپانی فوج اور اوکیناوا کے عام شہری ہلاک ہوئے تھے جبکہ جزیرے پر موجود عمارتوں میں 90 فیصد تباہ ہوگئی تھیں ۔ یہ خوبصورت جزیرہ 82 روزہ جنگ سے دلدل اور مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا تھا ۔ خوبصورت جنگل و پہاڑ اور ندیاں اب انسانی بربریت کا عکاس بن چکی تھیں ۔ کچھ فوجی مورخین کا خیال ہے کہ اوکیناوا کی سخت جنگ ، ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹمی حملے کا سبب بنی ۔
جاپان میں اب بھی یہ بات متنازع ہے کہ اوکیناوا کی جنگ میں جاپانی فوج نے مقامی باشندوں کو حُکم دیا تھا کہ وہ خودکشیاں کریں تاکہ وہ امریکی قیدی بننے سے بچ جائیں ۔ اوکیناوا پریفیکچرل امن یاد گار عجائب گھر میں بہت سی ایسی نشانیاں موجود ہیں جو اُس وقت کے افسوسناک لمحات کی کہانی بیان کرتی ہیں ۔

یورپ میں جاپان کے ساتھی ممالک جرمنی اور اٹلی مسلسل شکست سے دوچار ہو رہے تھے ۔ 27 اپریل کو اتحادی افواج اٹلی کے شہر میلان میں داخل ہوئیں اور وہاں کے فاشسٹ حکمران بینتو میسولینی کو اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ سویزرلینڈ کی جانب راہِ فرار اختیار کر رہا تھا ۔ اُسے اٹلی کی تحریک مزاحمت اٹالین پارٹیزنز کی فورس نے گرفتار کیا اور اگلے روز اٹھائیس اپریل کو پھانسی دیکر اُس کی اور دیگر افراد کی لاشوں کو میلان شہر کے ایک بڑے چوراہے پر نشانِ عبرت بنانے کے لیے لٹکایا ۔
دوسری جانب اتحادی افواج جرمنی میں داخل ہوکر جنگِ برلن لڑ رہی تھیں ۔ ہٹلر کو میسولینی کے انجام کا علم ہو گیا تھا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اُس کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہو ۔ تاریخ کے اوراق کچھ یوں گواہی دیتے ہیں کہ 30 اپریل 1945 کو ہٹلر نے اپنی محبوبہ ایوا براون کے ساتھ شادی کرنے کے چند گھنٹوں بعد مشترکہ طور پر ایک بنکر میں خودکشی کرلی ۔ مرنے سے پہلے ہٹلر نے کارل ڈونٹز کو جرمنی کا صدر اور جوزف گویبلزکو جرمنی کا چانسلر مقرر کیا ۔ لیکن گویبلزنے یکم مئى کو خودکشی کرلی تھی ۔ دو مئى کو جنگِ برلن ختم ہوئى اور اگلے چند روز میں اٹلی ، ڈنمارک اور ہالینڈ میں موجود جرمن فوجوں نے ہتھیار ڈال دیے ۔ اب مختلف محاذوں پر جرمن فوج کے ہتھیار ڈالنے کی خبریں تواتر کے ساتھ آنے لگیں تھیں اور بالاخرآٹھ مئى کو اتحادیوں نے فتح حاصل کرنے کا اعلان کیا ۔
جرمنی اور اٹلی کی شکست کے بعد اب سہ فریقی اتحاد میں صرف جاپان رھ گیا تھا۔
چھبیس جولائى 1945 کو امریکی صدر ٹرومین اور دوسرے اتحادی ممالک کے رہنماؤں نے پوسٹ ڈیم اعلامیہ جاری کیا ، جس میں جاپان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے بعد پیش کیے جانے والے شرائط کا خاکہ دیا گیا تھا ۔ یہ دراصل جاپان کے لیے ایک الٹیمیٹم تھا ، بصورت دیگر جاپان پر ایک بڑا حملہ کر دیا جائے گا ۔ دو دِن بعد جاپانی اخبارات میں یہ خبریں نمایاں تھیں کہ جاپان ایسے مطالبات کو مسترد کرتا ہے ۔
جاپانی وزیراعظم کانتارو سوزوکی نے سہ پہر کو ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ ہم پوسٹ ڈیم کانفرنس کے اعلامیے کو نظر انداز کرتے ہیں ۔ شہنشاہ ہیروہیتو ، نے بھی اپنے موقِف میں کوئى تبدیلی نہیں کی اور اکتیس جولائى کو اپنے مشیر کوایچی کیدو کے ذریعے واضح کیا کہ ہر قیمت پر جاپان کا دفاع کیا جائے گا ۔
امریکا دو ماہ قبل ایٹمی حملے کے لیے کیوتو، ہیروشیما، یوکو ہاما اور کوکورا پر ممکنہ ہدف کے طور پر غور کرچکا تھا ۔ فیصلہ یہ تھا کہ ہدف تین میل سے زیادہ قطر کا ہو ، موثر طور پر تباہی مچا سکے اور فوجی مقاصد کا یہ حملہ، اگست سے پہلے نہ کیا جائے ۔ دراصل اِن شہروں پر امریکی فضائیہ کی جانب سے رات کی بمباری ابھی تک نہیں کی گئى تھی کیونکہ اتحادی کمانڈ ، اِن شہروں کا پورا اندازہ لگا کر اس کے لیے مطلوبہ مقدار کے اسلحے کی تیاری کر رہا تھا ، کیونکہ ہیروشیما کے بارے میں باورکیا گیا تھا کہ یہاں جاپانی فوج کا بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود موجود ہے اور یہ بندرگاہی شہر ایک بڑا صنعتی علاقہ بھی ہے ۔
ساحل سمندر پر ہونے کی وجہ سے ہیروشیما کا ریڈار میں آنا آسان تھا، لہذا یہاں بڑے پیمانے پر بربادی و تباہی مچانے کا امکان موجود تھا۔ یہاں اتنے وسیع پیمانے پر حملے کا منصوبہ تھا کہ اُس کے بعد جاپان پوسٹ ڈیم اعلامیے کے مطابق غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دے ۔ اِس حملے کا مقصد یہ بھی تھا کہ جاپان پر نفسیاتی غلبہ پایا جائے اور یہاں پر حملے میں استعمال ہونے والے اسلحے کی اہمیت کو بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کروایا جائے ۔ گو کہ ٹوکیو کا شاہی محل بھی ہدف بنایا جاسکتا تھا لیکن درد بھرے مناظر یہاں نہیں بلکہ ہیروشیما میں زیادہ بہتر طور پیدا کیے جاسکتے تھے ۔
جنگ عظیم دوم کے اؤائل میں ہیروشیما میں آبادی 3 لاکھ 81 ہزار تھی لیکن چونکہ یہ فوجی سازوسامان کی پیداوار کا ایک اہم شہر تھا اسلئے جاپانی فوجی نے بڑے پیمانے پر عام شہریوں کا انخلا کیا اور حملے کے وقت یہاں پر کُل آبادی کا تخمینہ 2 لاکھ 55 ہزار لگایا گیا ہے ۔
امریکا نے مین ہٹن منصوبے کے تحت جس ایٹم بم پر تحقیق کی تھی اُس میں برطانیہ اور کنیڈا کا اشتراک بھی تھا ۔ اِس منصوبے کے تحت امریکا، ایٹمی اسلحہ کا تجربہ سولہ جولائى 1945 کو نیو میکسیکو میں ٹرینٹی پرچکا تھا اور اب اِس کے عملی استعمال کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا تھا ۔
یہ 6 اگست کی صبح تھی ، اور ہیروشیما کے عوام چند لمحوں بعد آنے والے دردناک قیامت سے بے خبر اُٹھنے کی تیاری کر رہے تھے ۔ اُنہیں معلوم نہیں تھا کہ اینکولہ گیے نامی وہ بی ۔ 29 طیارہ جو اُن کے لیے موت کا پیغام لیکر آرہا ہے وہ تینیان جزیرے کے ہوائى اڈے سے اپنی اُڑان بھر چکا ہے ۔ اِس طیارے کی حفاظت کے لیے دو مزید طیارے ہمراہ تھے جنہوں نے جاپانی فضائیہ کے کسی حملے سے بچاؤ کے لیے اقدامات کرنے تھے ۔ طیارہ اپنی مطلوبہ بلندی حاصل کرچکا تھا کیونکہ پائلٹ کرنل پاول تیبتس کے لیے حُکم تھا کہ شکار کے قریب پہنچنے سے پہلے کی بلندی اکتیس ہزار فٹ ہونی چاہیے ۔ سفر کے دوران میں نیوی کیپٹن ولیم پارسنز اور اُن کے معاون سیکنڈ لیفٹینٹ مورس جیپسن نے ایٹم بم میں مطلوبہ تبدیلیاں کیں اور آخر میں سیفٹی پِن نکال کر اُسے حملے کے لیے مکمل طورپر تیار کر لیا تھا ۔
ہیروشیما تک پہنچتے پہنچتے صبح ہوگئى تھی ۔ یہ پیر کی صبح تھی اور سورج نکل چکا تھا ۔ صبح آٹھ بجے کے قریب ہیروشیما کے ریڈار آپریٹر نے اطلاع دی کہ تین طیاروں پر مشتمل ایک چھوٹا قافلہ شہر کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ چونکہ امریکی فضائى بمباری میں طیاروں کے بڑے بڑے غول اُڑ کر حملہ آور ہوتے تھے اِسلئے چند جہازوں پر کوئى خاص توجہ نہیں دی گئى اور ایمرجنسی ختم کرنے کا سائرن بجایا گیا اور ویسے بھی بمباری رات کو ہوتی تھی اور اب رات کا اندھیرا چھٹ چکا تھا اِسلئے لوگوں نے بے خطر ہوکر معمول کے کام کاج شروع کردینے تھے ۔
لیکن طیارہ اینکولہ گیے اُن کے لیے موت کا فرشتہ بن کر چند لمحوں میں اُنہیں نیست و نابود کر دینے کے لیے تقریباً پہنچ چکا تھا ۔ طیارے پر لدا ہوا نو ہزار سات سو پونڈ وزنی یورینیم سے تیار کردہ لٹل بوائے نامی ایٹمی بم ہیروشیما کیا پوری دُنیا میں تہلکہ مچا دینے کے لیے تیار تھا اور پائلٹ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پُر عزم تھا ۔
صبح کے 8 بجکر15 منٹ تھے کہ طیارے سے ایٹم بم ، زمین کے رُخ پر چھوڑ دیا گیا اور 43 سیکنڈ بعد انسانی تاریخ کا ایک بہت بڑا دھماکا ہوا ۔ یہ اتنا بڑا دھماکا تھا کہ فضا میں ساڑھے گیارہ میل بلندی پر اینکولہ گیے بھی ہچکولے کھانے لگا ۔ شہر پر دھواں چھا گیا، کسی کو نہ تو کچھ دکھائى دے رہا تھا اور نہ ہی کچھ سمجھ آرہا تھا ۔ سب کچھ سخت تپیش سے پگھل چکا تھا ۔ نہ تو فضا میں پرندے بچ گئے اور نہ ہی زمین پر انسان و حیوان ۔ جہاں بم گرا وہاں ارد گرد ایک میل کے دائرے میں کوئى عمارت موجود نہ رہی ۔ آگ کے شعلوں کا ایک ایسا جھکڑ چلنے لگا جس نے شاید کسی کو زندہ نہ چھوڑنے کا تہیہ کیا ہوا تھا ۔ آگ نے شہر کا ساڑھے 4 میل تک کا علاقہ اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا ۔ چونکہ سب کچھ ملیامیٹ ہوچکا تھا لہذا ریڈیو اور ٹیلی گرافک رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے خود جاپان کے دوسرے علاقوں کو بھی معلوم نہیں تھا کہ اُن کے ہم وطن کس حال میں ہیں ۔ نہ باپ رہا نہ بیٹا ، نہ ماں رہی نہ بیٹی ۔ اتنی تباہی مچی کہ کوئى آہ و بکا کرنے والا بھی نہیں تھا ۔ دھماکے اور آگ سے اُڑتی گرد و دھول کو ابھی بیٹھنے میں وقت لگے گا ، کیونکہ دھماکے سے اُٹھنے والے آگ اور دھوئیں کا مرغولہ 45000 فٹ بلندی تک پہنچا تھا اور اِس آگ کے گولے کا قطر 1200 میٹر تھا ۔
آرمی کنٹرول سٹیشن نے ہیروشیما کے بیس سے رابطے کی جدوجہد کی لیکن کوئى کامیابی حاصل نہ ہوئى ۔ فوجی قیادت کی سمجھ سے سب کچھ بالاتر تھا کہ نہ تو کوئى بڑا فضائى حملہ ہوا ہے اور نہ ہی ہیروشیما میں گولہ بارود کا اتنا بڑا ذخیرہ تھا جس سے بڑی تباہی کا امکان ہو ۔ جاپانی فضائیہ کے ایک سٹاف آفیسر کو حُکم دیا گیا کہ وہ طیارہ لیکر سروے کرے اور حقائق معلوم کرکے اطلاع دے ۔ ہیروشیما پر کیا گزری ہے یہ جاننے کے لیے طیارہ تقریباً 100 میل دور فاصلے سے اڑا تھا اور 3 گھنٹوں تک مسلسل پرواز کرتا رہا ، لیکن مخمصے کا شکار یہ طیارہ بغیر کچھ دیکھے واپس لوٹ گیا اور اپنے آقاؤں کو صرف یہ خبر دے سکا کہ وہاں سوائے بادلوں اور دھوئیں کے کچھ نظر نہ آتا ۔
ٹوکیو میں جاپان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کو یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ ہیروشیما کا ریڈیو سٹیشن خاموش ہوچکا ہے ۔ اُنہوں نے ایک اور ٹیلیفون لائن استعمال کرتے ہوئے رابطہ بحال کرنے کی کوشش کی مگر بے سود ۔ اگرچہ ہیروشیما سے 10 میل دور کے ریلوئے سٹیشنوں سے یہاں تک کی رپورٹیں موصول ہوئیں کہ وہاں ایک بڑے دھماکے کی آواز سُنی گئى ہے تاہم تفصیلات معلوم نہیں تھیں ۔ اِسی طرح ریلوئے کے محمکے نے ریل روڈ ٹیلی گراف کے بند ہونے کی اطلاع دی ۔
وہاں کیا ہوا تھا اِس کا علم اُس وقت ہوا جب امریکی صدر ٹرومین کا تیار شُدہ پیغام ، واشنگٹن ڈی سی کے مقامی وقت کے مطابق 6 اگست دِن گیارہ بجے ریڈیو پر سنائى دینے لگا ۔ دُنیا کو 16 گھنٹے بعد علم ہوا کہ امریکا ہیروشیما پر حملہ کرچکا ہے ۔ امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے جاپانی شہر ہیروشیما پر قطعی طور پر ایک نئے بم ”ایٹم بم“ سے حملہ کیا ہے
ایک محتاط اندازے کے مطابق، پہلے دھماکے ، تپیش اور تابکاری سے 70٫000 افراد موت کے منہ میں جاچکے تھے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئى اور اگر کینسر اور لمبے عرصے تک بیماری کے بعد مرنے والوں کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد دو لاکھ تک پہنچی ۔
ایٹمی حملے کے آرکائیوز ریکارڈ کے مطابق، 60 فیصد افراد آگ کے شعلوں سے جھلس کر ہلاک ہوئے جبکہ 30 فیصد ملبہ گرنے اور 10 فیصد دیگر وجوہات سے موت کے منہ میں چلے گئے ۔ کہا جاتا ہے کہ آگ کے شعلوں نے 16 مربع میل تک کا علاقہ اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا ۔
بحرالکاہل کی جنگیں ، فلپائن کی جنگ ، اوکیناوا جنگ ، اتحادیوں کے بے رحمانہ فضائى بمباری اور ہیروشیما پر ایٹمی حملے سے جاپان کے جسم پر کئى گہرے زخم آچکے تھے ۔ جاپان لڑکھڑاتے دیکھ کر روس نے بھی اس پر حملہ کر دیا ۔ یہ 9 اگست تھا ۔ وہی تاریخ جب جاپان پر دوسرا ایٹمی حملہ کیا گیا ۔

ناگاساکی ، جنوبی جاپان میں ایک بڑا بندرگاہی شہر تھا ۔ یہاں بہت صنعتیں موجود تھیں جہاں اسلحہ سازی، جہاز سازی ، آبدوزیں ، دیگر جنگی اور فوجی سازوسامان تیار ہوتا تھا ۔ یہاں کی زیادہ تر عمارتیں لکڑی سے بنی تھیں بلکہ کارخانوں کی عمارتیں بھی لکڑی سے بنائى گئیں تھیں ۔
ایٹمی حملے سے پہلے تک جنگ عظیم دوم کے دوران میں اِس شہر پر کوئى بڑا فضائى حملہ نہیں ہوا تھا ۔ البتہ اگست کے مہینے میں کچھ روایتی بارود سے بھرے بموں سے حملے ہوئے تھے جن میں اپنے دور کے مشہور متسوبشی سٹیل اینڈ آرمز ورکس کے کارخانے کو بھی نشانہ بنایا گیا، لیکن بد قسمتی سے چھ بم ، ناگاساکی میڈیکل سکول اور ہسپتال پر بھی گِرے ۔
نواگست کی صبح 3 بجکر 47 منٹ پر امریکا کا طیارہ بی ۔ 29 بوک کار سکوارڈن کمانڈر میجر چارلس ڈبلیو سوینی کی قیاد میں تینیان کے ہوائى اڈے سے ایٹم بم لیکر اُڑا ۔ اِس ایٹم بم کا کوڈ نام فیٹ مین رکھا گیا تھا ۔ اِس حملے کا پہلا ہدف کوکورا ، جبکہ دوسرا ہدف ناگاساکی تھا ۔ اِس طیارے کی پرواز سے دو گھنٹے قبل دو طیارے موسم اور حفاظتی اقدامات کے طور پر پہلے اُڑ چکے تھے تاکہ حملہ کرنے میں کوئى رکاؤٹ پیش نہ آئے ۔ کچھ دیر بعد حفاظتی طیاروں نے اطلاع دی کہ دونوں اہداف واضح ہیں اور کسی قِسم کی دھند یا بادل نہیں ہیں ۔ جب حملہ آور طیارہ اُس حد تک پہنچا جہاں پرایٹم بم سے سیفٹی پِن نکال کر اُسے حملہ کے لیے تیار کردینا تھا کہ اِسی اثناء میں معلوم ہوا کہ ایک محافظ طیارہ بگ سٹنک لاپتہ ہو گیا ہے ۔ چونکہ سوینی پہلے ہی اپنے مقررہ وقت سے 30 منٹ لیٹ تھا لہذا محافظ طیارے کے بغیر سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اور جب یہ حملہ آورطیارہ بی ۔ 29 اپنے پہلے ہدف کوکورا پہنچا تو اُس وقت شہر کے اردگرد 70 فیصد علاقے پر دھواں اور دھند چھائی ہوئی تھی اور مطلع ابرآلود ہونے کی وجہ سے شہر صاف دیکھائى نہیں دے رہا تھا ۔
شہر پر تین چکر لگائے گئے اور اِس دوران معلوم ہوا کہ طیارے میں تیل کی مقدار کم ہوتی جارہی ہے کیونکہ تیل کے ذخیرہ ٹینک سے پائپ میں تیل نہیں آرہا تھا ۔ اب حتمی فیصلہ یہ کیا گیا کہ ناگاساکی پر حلمہ کیا جائے ۔ اِس پر بھی سوچا گیا تھا کہ اگر کوئى مزید دِقت پیش آئی تو ایٹم بم کو واپس لے جاکر بحرالکاہل میں پھینک دیا جائے گا ۔
جاپان کے مقامی وقت کے مطابق ، صبح 7 بجکر 50 منٹ پر ناگاساکی شہر سائرن کی آوازوں سے گونجنے لگا ۔ تاہم 40 منٹ بعد سب اچھا کا سائرن بجا ۔ جاپانیوں نے یہ طیارہ 10 بجکر 53 منٹ پر دیکھا تو ریڈار سروس نے اندازہ لگالیا کہ شاید سراغرسانی کرنے والا کوئى جاسوس طیارہ ہے ۔ اِن بے خبر جاپانیوں کو علم نہیں تھا کہ ہیروشیما کے تین روز بعد ، ایک اور قیامت ٹوٹنے والی ہے ۔
تاریخی اوراق میں ذکر ہے کہ دِن کے گیارہ بجکر ایک منٹ پر حملہ آور طیارے نے شہر پر چھائے ہوئے بکھرے بادلوں میں سے ناگاساکی شہر کو دیکھ لیا تھا ۔ اب شکاری نے اپنے شکار پر جھپٹنا تھا ۔ اِسی لمحے جہاز کے سفاک کپتان نے بٹن دبایا اور فیٹ مین طیارے سے نکل کر شہر کے صنعتی علاقے کی جانب تیزی سے گرنے لگا ۔ یورنیم ۔ 239 پر مشتمل یہ ایٹم بم 14.1 پونڈ یعنی 6.4 کلوگرام کا بتایا جاتا ہے ۔
تینتالیس سیکنڈ بعد ناگاساکی شہر کے اوپر 1٫650 فٹ کی بلندی پر فضا میں ایک انتہائى خوفناک اور زوردار دھماکے سے فیٹ مین پھٹ گیا ۔ یہ دھماکا 21 کلو ٹن ٹی این ٹی کے برابر تھا ۔ ایٹمی سائنس دانوں کے مطابق، یہ دھماکا ہیروشیما کے دھماکے سے کہیں بڑا تھا ۔ اور آپ یقیناً سن کر حیران ہونگے اِس سے پیدا ہونے والی تپیش کی درجہ حرارت 3٫900 ڈگری سیلسیس یا 7٫000 ڈگری فارن ہائٹ تھی اور اس سے پیدا ہونے والے آگ کے شعلوں کی رفتار 1005 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی ۔
ناگاساکی کا بڑا علاقہ اب جل کر راکھ کا ڈھیر بن چکا تھا اور جہاں دھماکا ہوا تھا وہاں ایک مربع کلومیٹر کے علاقے پر انسان و حیوان موقع ہی ہلاک ہوئے ، اور آگے شعلے 10٫000 فٹ تک کے علاقے پر پھیل چکے تھے ۔ تقریباً 20٫000 عمارتیں مکمل یا بڑی حد تک تباہ ہوچکی تھیں ۔ صرف 12 فیصد مکانات بچ گئے تھے ۔ ایک اندازے کے مطابق ، اِس ایٹمی حملے میں 40٫000 افراد ہلاک اور 60٫000 زخمی ہوئے تھے اور جنوری 1946 تک اندازہ لگایا گیا تھا کہ 70٫000 افراد ہلاک ہوچکے تھے ۔

پندرہ اگست 1945 کو جاپان کے شہنشاہ ہیرو ہیتو نے ریڈیو ٹوکیو پر قوم سے خطاب کرتے کہا کہ اُن کا مُلک پوسٹ ڈیم اعلامیے کو قبول کرتا ہے ۔ اِس اعلامیے میں جاپان سے کہا گیا تھا کہ وہ غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دے جو جاپانی فوج کے لیے یہ بہت بڑے صدمے کی بات تھی ۔ اِس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کچھ فوجیوں نے 14 اور 15 اگست کی رات بغاوت برپا کی ۔ وہ اتحادیوں کے سامنے کسی بھی صورت میں ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہیں تھے ، اور وہ یہ فیصلہ واپس لینے پر بضد تھے ۔ وہ چاھتے تھے کہ ٹوکیو شاہی محل پر قبضہ کرکے شہنشاہ کو محل میں نظر بند کردیں ۔ اِس کاروائى کے دوران میں شاہی گارڈ کے لیفٹینٹ جنرل تاکیشی موری ہلاک ہوئے ۔ لیکن یہ باغی عناصر پوری فوج میں حمایت حاصل نہیں کر پا سکے اور بغاوت ناکام ہوئى ۔ کئى فوجی اِس افسوس ناک لمحے کو برادشت نہ کرتے ہوئے خودکشی کر گئے اور کئى نے 15 اور 16 اگست کو 100 سے زیادہ امریکی جنگی قیدوں کو قتل کر ڈالا ۔ برطانوی اور آسٹریلوی کے فوجیوں کو بھی قید کے دوران میں ہلاک کیا گیا ۔
ایٹمی حملے جاپان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکے تھے ۔ امریکن ملٹری ہسٹری کے مطابق ، اگرچے فضائى حملوں نے جاپان کی جنگی صلاحیت کو خاصا کمزور کر دیا تھا لیکن پھر بھی ہتھیار ڈالتے وقت جاپان کے پاس 2٫000٫000 فوج تھی ۔ گو کہ جاپانی فوج نے دفاعی پوزیشن اختیار کرلی ہوئى تھی لیکن وہ ایک سخت زمینی جنگ لڑنے کے لیے تیار تھی اور اِس کے علاوہ جاپان کے پاس 3٫000 لڑاکا طیارے بھی تھے ۔ جاپانی شاہی بحری بیڑے کے کمانڈرایڈمرل ایسوروکو یاماموتو نے جنگ شروع ہونے کے موقع پر جذباتی ہوتے ہوئے اُنگلی اُٹھا کر کہا تھا ، ” یہی کافی نہیں کہ ہم گوام ، فلپائن یا یہاں تک کہ ہوائی یا سان فرانسِسکو کو فتح کریں بلکہ ہمیں اِس سے بھی آگے واشنگٹن تک مارچ کرنا چاھیے اور معاہدے پر دستخط وائٹ ہاوس میں ہونے چاھیں“ ۔ لیکن جاپانی ایسا نہ کرسکے اور اب اُن کی نہیں بلکہ امریکا کی مرضی سے جنگ ختم ہونے کا معاہدہ ہوگا ۔
جاپان کو دراصل مسلسل دو سال سے مختلف محاذوں پر شکست کا سامنا رہا ۔ جنوب مغربی بحرالکاہل ، ماریاناس مہم ، فلپائن مہم، اور سائپن میں ناکامی سے جاپان کو کافی نقصان ہوا ، اور پھر آؤجیما اور اوکیناوا جزائر پر امریکی قبضے سے اتحادی افواج جاپانی سرزمین پر داخل ہوچکی تھیں ۔
چونکہ جاپان کے پاس اپنے قدرتی وسائل انتہائى کم ہیں اِسلئے وہ زیادہ تر خام مال ایشیائى ممالک سے درآمد کرکے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے لہذا جنگ کی صورت میں خام مال کی درآمد میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ اور پھر اتحادیوں کی جانب سے جاپان کے بڑے کارخانوں پر فضائى بمباری سے بھی بہت نقصان ہوچکا تھا ۔ آخر میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملہ جاپان کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا ۔
اُس وقت کے جاپانی وزیر اعظم کنتارو سوزوکی ، کی کابینہ ہتھیار ڈالنے دینے کی مخالف تھی ۔ وہ چاھتے تھے کہ جنگ جاری رہے کیونکہ جاپانیوں کے لیے شکست تسلیم کرنا ایک ایسا فعل تھا جس کا اُنہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا ۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ گزشتہ 2000 سالوں میں نہ تو کوئى جاپان پر جارحیت کرسکا تھا اور نہ ہی اُسے کسی جنگ میں شکست ہوئی تھی ۔

امریکی ایٹمی حملے سے قبل تک ، جاپان نے سوویت یونین کے توسط سے امریکا اور اتحادیوں کے ساتھ امن کی راہ نکالنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئى کیونکہ سوویت یونین خود اتحادیوں سے وعدہ کرچکا تھا کہ جرمنی کی شکست بعد وہ جاپان کے خلاف اعلان جنگ کردے گا حالانکہ سوویت یونین اور جاپان کے مابین عدم جارحیت کا معاہدہ بھی ہوا تھا ، لیکن بعد میں سوویت یونین نے اِس معاہدے کی تجدید نہیں کی ۔
جاپان کو یہ خدشہ تھا کہ ممکن ہے امریکا اور مغربی طاقتوں نے جاپان کے خلاف جنگ شروع کرنے کے لیے سوویت یونین کو کچھ رعایتوں کی پیش کش بھی کی ہو۔ لہذا جاپان کے وزیر خارجہ شیگی نوری توگو، نے سوویت یونین پر زور دیا کہ وہ جاپان کے معاملے میں غیر جانبدار رہے ۔ جاپان کو خدشہ تھا کہ روس کسی بھی وقت منچوریا پر ایک بڑا حملہ کر سکتا ہے اِسلئے وزیرخارجہ توگو نے ماس کو میں جاپان کے سفیر نااُوتاکے، کو 30 جون 1945 کو اِس پیغام کے ساتھ بھیجا :

ہیرو شیما پر 6 اگست کو ایٹمی حملے کے تین دِن بعد 9 اگست کو صبح 4 بجے یہ اطلاع ٹوکیو پہنچی کہ سوویت یونین نے غیر جانبداری کے معاہدے کوتوڑتے ہوئے جاپان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے اور اُس کی فوجوں نے منچوریا میں جاپان کی کٹھ پتلی حکومت مانچو کواو پر حملہ کر دیا ہے ۔ یہ جاپان کے لیے ہیروشیما کے بعد دوسرا بڑا دھچکہ تھا ۔
وزیراعظم سوزوکی نے شہنشہاہِ جاپان سے ملاقات کرنے کے بعد صبح ساڑھے دس بجے سپریم کونسل کا اجلاس بلایا ۔ ابھی اجلاس جاری تھا کہ دِن گیارہ بجے یہ خبریں آئیں کہ امریکا نے ناگاساکی پر دوسرا ایٹمی حملہ کر دیا ہے ۔ ڈھائى بجے ہونے والے جاپانی کابینہ کے مکمل اجلاس میں زیادہ تر بحث ہتھیار پھینکنے کے معاملے پر ہوتی رہی لیکن تین گھنٹوں کی بحث و مباحثے کے بعد بھی کوئى اتفاقِ رائے نہ ہو سکا ۔ سہ پہر چار بجے سے رات دس بجے تک ایک اور اجلاس ہوا لیکن پھر بھی کوئى نتیجہ برآمد نہ ہوا ۔ 8 اور 9 اگست 1945 کی رات، وزیراعظم سوزوکی اور وزیر جارجہ توگو، نے شہنشاہ سے ملاقات کی اور وزیرِ جنگ کوریچی کا آنامی ، کا سپریم کونسل کے اجلاس سے تیار کردہ چار نکاتی مجوزہ مسودۀ پیش کیا ۔ 10 اگست کی صبح دو بجے وزیراعظم سوزکی نے شہنشاہ پر فیصلہ چھوڑ دیا کہ وہ کیا آخری فیصلہ کرتے ہیں ۔
کچھ تاریخی اوراق سے معلوم ہوا ہے کہ شہنشاہ نے کہا کہ جنگ جاری رکھنا ہماری قوم کی تباہی ، خون خرابا اور ظلم کے سواء کچھ نہیں ۔ میں اپنے معصوم عوام کو مزید مصیبت جھیلتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا ۔ گو کہ یہ ناقابل برداشت ہے کہ جاپان کی بہادر اور وفادار فوج کسی کے سامنے غیر مسلح ہو ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ناقابل برداشت کو برداشت کریں ۔ میں اپنے غم کے آنسو پیتے ہوئى وزیرِ خارجہ کے تیار کردہ خاکے کی بنیاد پر اتحادیوں کے اعلان کی منظوری دیتا ہوں ۔
پندرہ اگست 1945 کو دوپہر 12 بجے شہنشاہِ جاپان کا پیغام ریڈیو پر نشر ہوا ۔ اُنہوں نے اپنی خطاب میں کہا کہ ہماری جراءت مند فوج کی بہادری اور عوام کے پُرخلوص خدمات کے باوجود حالات ایسا رُخ اختیار کر گئے ہیں جو جاپان کے حق میں نہیں ۔ مزید یہ کہہ دشمن نے ایسے ظالمانہ بموں کا استعمال شروع کیا ہوا ہے کہ اُن سے ہونے والی تباہی ان گِنت ہے ۔ اگر ہم جنگ جاری رکھتے ہیں تو اِس سے جاپانی قوم کے لیے مزید تباہی پیدا ہوگی ۔ ہم نے لاکھوں کروڑوں عوام کو بچانا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اتحادیوں کے مشترکہ اعلامیہ کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
سترہ اگست کو شہنشاہِ جاپان نے وزیراعظم سوزوکی کو ہٹا کر اپنے چچا پرنس ہیگاشی کونی ناروہیکو، کو 43 ویں وزیراعظم کی حثیت سے ذمہ داریاں سونپ دیں تاکہ مزید بغاوت یا قاتلانہ حملوں کو روکا جاسکے ۔ اِسی طرح وزیر خارجہ توگو کو بھی ہٹایا گیا اور اُن کی جگہ یہ فرائض ماموروشیگے میتسو کو دے دی گئیں ۔ شیگے متسو کی ایک ٹانگ مصنوعی تھی اور وہ لنگڑا کر چلتا تھا اور اُن کے ایک ہاتھ میں چھڑی ہوتی تھی کیونکہ 29 اپریل 1932 کو کوریا کی آزادی کے ایک کارکُن یون بونگ ۔گل نے اُن پر بم حملہ کیا تھا جس سے اُن کی ایک ٹانگ کٹ گئى تھی ۔ اُس وقت وہ شنگھائى میں جاپان کے وزیر مقرر تھے ۔
جاپان کی فوجیں اب بھی سوویت اور چینی افواج کے خلاف لڑ رہی تھیں ۔ جنگ جاری تھی اور اُنہیں جنگ بندی اور ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا تحال ممکن نہیں تھا ۔ یہ لڑائى ستمبر کے اوائل تک چلتی رہی جب سوویت یونین کے افواج نے کوریل جزائر پر قبضہ کر لیا ۔

جاپان کی شکست کے دستاویزات پر جاپان ، امریکا ، سوویت یونین ، چین ، آسٹریلیا ، کینڈا ، فرانس ، ہالینڈ اور نیوزی لینڈ نے دستخط کیے ۔ دستاویزات پر دستخط کی تقریب 2 ستمبر 1945 کو خلیجِ ٹوکیو میں لنگرانداز امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس میسوری پر منعقد کی گئى جو 23 منٹ تک جاری رہی اور اِسے دُنیا بھر میں نشر کیا گیا ۔ جاپان کے وزیر خارجہ مامورو شیگے میتسو ، نے شہنشاہِ جاپان اور جاپانی حکومت کی جانب سے دستخط کیے ۔ دستاویزات پر دستخط کرنے والا وہ پہلا فرد تھا اِس کے بعد جاپانی فوج کے چیف آف آرمی جنرل سٹاف، جنرل یوشی جیرواُمیزو اور تیسرے نمبر پر امریکی جنرل ڈگلس میک آرتھر نے دستخط کیے ۔
معاہدے میں درج تھاکہ :
جاپانی افواج جہاں کہیں ہیں وہ اتحادی افواج کے سامنے غیر مشروط طور پر ہتھیار پھینک دیں ۔
جاپانی افواج جہاں کہیں ہیں اپنی مخالفانہ سرگرمیاں ترک کردیں تاکہ بحری جہازوں ، طیاروں ، فوجی اور شہری تنصیبات کو نقصان نہ پہنچے ۔
جاپانی حکومت اپنے جنرل ہیڈکوارٹرز کو حُکم دے کہ وہ اتحادی افواج کے تمام جنگی قیدیوں اور زیر حراست شہریوں کا آزاد کرے
چونکہ جاپانی فوج بحرالکاہل، جنوب مشرقی ایشیا اور چین سمیت کئی علاقوں میں بکھری ہوئى تھی اِسلئے اُن محاذوں پر یہ اطلاع نہ پہنچ سکی کہ اُن کے مُلک نے ہتھیار ڈال دئیے ہیں ۔ کئى جاپانی افواج کو یقین نہیں آرہا تھا اور وہ اِسے اتحادی افواج کا پروپیگنڈہ تصور کرکے مسترد کرچکے تھے اور کئى نے تو شکست کی وجہ سے اپنے مُلک واپسی کو بالکل ترجیح ہی نہیں دی ۔ ایک اندازے کے مطابق ، جاپان کے 5٫400٫000 فوجیوں اور 1٫800٫000 بحری فوجیوں کو جنگی قیدی بنالیا گیا تھا جن میں 60٫000 جنگی قیدی چین کے پاس تھے ۔
یہ جاپان کی تاریخ میں پہلی بار تھا کہ غیر مُلکی افواج اُس کی سرزمین پر قبضہ کررہی ہیں ۔ جنگ کے دوران میں اتحادی افواج نے منصوبہ بنایا تھا کہ جس طرح مقبوضہ جرمنی کے حصے بخرے کرکے اتحادیوں کے مابین بانٹ دیا گیا وہی سلوک جاپان کے ساتھ بھی کیا جائے گا ۔ تاہم امریکا نے آخری منصوبے میں جاپان کو اپنے زیرِ قبضہ رکھا ، اور ساتھ ساتھ جنوبی کوریا ، اوکیناوا ، اور آمامی جزائر پر بھی اپنا تسلط رکھا ۔
جبکہ سوویت یونین کو شمالی کوریا ، سخالین اور کوریل جزائر کا قبضہ دیا گیا ۔

جاپان اُنسویں صدی سے لیکر بیسویں صدی کی وسط تک کئى جنگی جرائم کا مرتکِب ہوا ۔ جن میں عام شہریوں کا استحصال اور ہلاکت، جنگی قیدیوں سے ناروا سلوک اور دُشمن فوج کے ساتھ لڑتے ہوئے نیوریمبرگ چارٹر کے معین کردہ قوانین کی خلاف ورزی شامل تھی ۔ اگرچے جاپان نے جنیوا کنونشن پر دستخط نہیں کیے تھے تاہم جنگ عظیم دوم کے دوران میں اُس کی فوج نے خود اپنے فوجی قوانین کی خلاف ورزی کی ۔ جاپانی فوج نے سن 1899 اور سن 1907 کے ہیگ کنونشن جیسے بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری بھی نہیں کی جس میں کیمیائى ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی ہے اور جنگی قیدیوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے ۔
تاریخ دان چالمرز جونس لکھتے ہیں کہ جاپان نے چین، فلپائن ، ملایا، ویت نام، کمبوڈیا، انڈونیشیا اور برما میں تین کروڑ افراد کو ہلاک کیا، جن میں چینوں کی تعداد دو کروڑ تیس لاکھ تھی ۔ لاکھوں افراد سے جبری مشقت لی اور مقبوضہ علاقوں کے اثاثوں اور وسائل کو لوٹا ۔ جنگی محاذوں پر لڑنے والے جاپانی فوجیوں کی جنسی تسکین کے لیے عورتوں کا بے دردی سے استحصال کیا ۔ اِن سب واقعات میں سب سے دردناک واقعات چین کے اُس وقت کے دار الحکومت نان کینگ میں رونماء ہوئے جہاں جاپانی فوج نے عام شہریوں کا انتہائى سفاکانہ انداز میں قتل عام کیا ۔ مشرقی بعید کے لیے قائم فوجی ٹربیونل جِسے ٹوکیو ٹرائل بھی کہتے ہیں کی تحقیقات کے مطابق سنہ 1937–38 میں جاپانی فوج نے دو لاکھ عام شہریوں اور جنگی قیدیوں کا قتل عام کیا ۔
جاپان کے خصوصی فوجی یونٹوں نے چین میں عام شہریوں اور جنگی قیدیوں پر تجربات کیے ۔ انسانی جسِم کے اندر کے نظام کا جائزہ لینے کے لیے بغیر بے ہوشی کے اُنہیں چیرلیا جاتا تھا ، یا پیوند کاری کے لیے اعضاء کاٹ لیے جاتے تھے اور یا زندہ انسان کے اعضاء کو سخت سردی کے موسم میں منجمد کر دیا جاتا تھا ۔ کیمیائى ہتھیاروں کے اثرات دیکھنے کے لیے کئى تجربات کیے گئے ۔ اِن میں زیادہ تر تجربات جاپانی فوج کے بدنام زمانہ یونٹ 731 نے کیے جس کے سربراہ شیروایشی تھے جو ایک مائیکروبائلوجسٹ اور اِس یونٹ کے لیفٹینٹ جنرل تھے ۔ اُنہیں قابض امریکی فوج نے تجربات سے حاصل کردہ کیمیائى ڈیٹا دینے کے بدلے میں معاف کیا اور کوئى جنگی مقدمہ نہیں چلایا، بلکہ کہا جاتا ہے کہ بعد میں اُسے کیمیائى ہتھیاروں پر مزید تحقیق کے لیے امریکا بلوایا گیا ۔
لیکن اُس کی بیٹی کا کہنا تھا کہ وہ جاپان ہی میں رہے اور 67 کی عمر میں سنہ 1959 میں گلے کے کینسر کی وجہ سے انتقال کر گئے ۔ جاپانی فوج پر یہ الزام بھی تھا کہ اُس کے فوجیوں نے جنگی قیدیوں کا گوشت بھی کھایا اور کئى کو اِس مقصد کے لیے گولی مار کر ہلاک کیا گیا ۔ جنگی جرائم کے ٹربیونل میں کئى سابق فوجیوں نے گواہی دے کہ وہ ایسے واقعات کے چشم دید گواہ ہیں کہ جاپانی فوج نے انسانی گوشت کھایا ۔ اُن میں ہندوستان کے ایک جنگی قیدی حوالدار چنگدی رام کا بیان بھی ہے جس میں اُنہوں کہا ہے کہ 12 نومبر 1944 کو جاپانی فوجیوں نے اتحادی فوج کے ایک گرفتار پائلٹ کا پہلے گلہ کاٹا اور بعد میں اُس کے اعضاء بھون کر کھائے ۔ اِسی طرح ایک حلفیہ بیان لانس نائیک حاتم علی کا بھی ہے جو سنہ 1947 میں برصغیر کی آزادی کے بعد پاکستان کا شہری بنا ۔ علی نے نیوگِنی میں ہونے والے واقعات کے بارے میں کہا کہ جاپانی فوج ہر روز ایک قیدی کو باہر نکال کر لے جاتی تھی اوراُسے قتل کرکے کھا جاتے تھے ۔ اُن کے مطابق ، اِس طرح سے سو قیدیوں کو قتل کیا گیا ۔
جاپانی فوج نے مقبوضہ علاقوں میں جبری مشقت لینے کے لیے ہزاروں لاکھوں لوگوں کو غلام بنایا ۔ تاریخ دانوں کی ایک مشترکہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ صرف چین میں ایک کروڑ سے زیادہ افراد سے جبری مشقت لی گئى ۔ اِسی طرح برما ۔ سیام ریلوئے لائن کی تعمیر کے دوران میں دس لاکھ عام شہری اور جنگی قیدی ہلاک ہوئے ۔ انڈونیشیا کے جاوا جزیرے پر چالیس لاکھ سے زیادہ افراد سے جبری مشقت لی گئى ۔ یہی نہیں جاپانی فوج نے انڈونیشیا اور چین کے کئى علاقوں میں مقامی عورت کی آبرویزی کی اور خواتین کو جنگی محاذوں پر جبراً بھیج کر فوجیوں کے جنسی حوس کا نشانہ بنایا گیا ۔ ایسی خواتین جنگی تاریخ میں کمفرٹ وومن کے نام سے پہچانی جاتی ہیں اور اُن میں کئى نے بعد میں جاپانی حکومت پر ہرجانے کا دعویٰ بھی کیا ۔

یہ ٹربیونل ، ٹوکیو ٹرائل کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے ۔ اِس عدالت نے 3 مئى 1946 سے اپنے کام کا آغاز کیا ۔ عدالت میں جج کے فرائض سرانجام دینے والوں کا تعلق آسٹریلیا ، کنیڈا، چین ، فرانس، برٹش انڈیا ، ہالینڈ ، نیوزی لینڈ، فلپائن، برطانیہ ، امریکا اور سوویت یونین سے تھا ۔ جاپان کے جنگی جرائم کو تین زمروں میں تقسیم کیا گیا جن میں کلاس اے میں امن کے خلاف جرائم، کلاس بی میں جنگی جرائم اور کلاس سی میں انسانیت کے خلاف جرائم ۔
جن افراد کو مقدمات کے لیے ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا اُن پر ایک رہنماء کی حثیت سے جارحانہ جنگ شروع کرکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ۔ ملزمان پر چین ، امریکا، دولت مشترکہ برطانیہ، ہالینڈ ، فرانس (انڈوچائنہ) اور سوویت یونین کے خلاف جنگ شروع کرنے ، جنگی قیدیوں اور عام شہریوں سے غیر انسانی سلوک کرنے اور قتل و غارت کو نہ روک کر اپنے فرائض میں غفلت برتنے کا الزام لگا کر ٹوکیو جنگی جرائم مقدمے کے سامنے پیش کیا گیا ۔
تین مئى 1946 کو سرکاری استغاثہ کے بیان سے مقدے کا باقاعدہ آغاز ہوا ۔ استغاثہ نے پندرہ مراحل میں شہادتیں پیش کیں ۔ شہادتیں جمع کرنے کا عمل بہت کٹھن تھا کیونکہ جاپانی فوج نے اپنی شکست سے پہلے اپنا بہت سا فوجی ریکارڈ ضائع کر دیا تھا ۔ 24 جنوری 1947 کو اسغاثہ کی جانب سے عدالتی کاروائى مکمل کی گئى اور 27 جنوری سے مدعالیان کی جانب سے دفاعی کاروائى کا آغاز کیا گیا ۔ اِن کی دفاع کے لیے سو اٹارنی مقرر تھے ، جنہوں نے عدالتی کاروائى کے آزاد، شفاف اور غیر جانبداری پر شکوک و شبہات کا اظہارکیا ۔ اُنہوں نے بین الاقوامی قانون میں امن کے خلاف جرائم، سازش، جارحانہ جنگ کی تشریحات کو بھی چیلنج کیا ۔ دفاعی اٹارنیز نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بمباری کو بھی جنگی جرائم میں شامل کرنے کے بارے میں دلائل دئیے تاہم اُسے نظر انداز کیا گیا جس کی وجہ سے یہ عدالت سخت تنقید کا نشانہ بنی ۔ اُنہوں نے اپنی جانب سے مقدمے کی کاروائى 225 دِنوں میں مکمل کی ۔
مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لیے چھ ماہ تک مزید کاروائى جاری رہی اور 1٫781 صحفات تیار کیے گئے ۔ مسلسل چار روز تک فیصلے سنوائے گئے 12 نومبر 1948 کو عدالتی کاروائى اختتام پزیر ہوئی ۔
ایک اندازے کے مطابق پانچ ہزار جاپانیوں پر مقدمات چلائے گئے جن میں زیادہ سے زیادہ 900 کو پھانسی دی گئى اور آدھے سے زیادہ کو عمر قید کی سزا سنائى گئى ۔ جاپان کے جن سرکاری عہدے داروں کو سزا سنوائى گئى اُن میں وزرائے اعظم ، وزرائے خارجہ ، وزرائے جنگ ، چیف کابینہ سکریٹری، گورنرِ کوریا ، وزرائے بحریہ ، جرمنی کے لیے سفیر، چیف آف ملٹری بیورو افیئرز ، اٹلی کے لیے سفیر ، کابینہ پلاننگ بورڈ کے صدر اور وزیرِ مالیات شامل تھے ۔ فوجی عہدے داروں میں شاہی جاپانی بحریہ جنرل سٹاف ، چیف آف انٹیلجنس ، کمانڈر برائے برما ، کمانڈر برائے شنگھائى ، کمانڈر برائے فلپائن اور دیگر شامل تھے ۔ اِن میں چھ جنرل کے عہدے دار تھے اور ایک کرنل تھا ۔ اِس کے علاوہ ایک سیاسی فلاسفرشومئے اوکاوا کو بھی سزا سنوائى گئى تھی ۔
چیف آف انٹیلیجنس جنرل کینجی دوئى ہارا ، وزیرخارجہ کوکی ہیروتا ، وزیرِجنگ جنرل سیشیرو ایتاگاکی، جنگی کمانڈر جنرل ہیتارو کیمورا، جنگی کمانڈر جنرل ایوانے ماتسوئے اور جنگی کمانڈر جنرل ہیدے کیتو(جو بعد میں وزیراعظم بنے تھے) کو سزائے موت دی گئى ۔
نیوریمبرگ ٹرائیلز کی طرح ٹوکیو ٹرائیلز پر بھی خاصی تنقید کی گئى کہ مقدمات میں سنوائے گئے فیصلے فاتح مُلکوں کا انصاف تھا ، جو حق بجانب نہیں ہو سکتا ۔ یہ تنقید بھی کی گئى شاہی خاندان کو کیونکر بری اُلذمہ قرار دیا گیا ۔ اُن پر کیوں مقدمات نہیں چلائے گئے ۔اتحادی افواج کے سپریم کمانڈر ڈگلس میک آرتھر اور اُن کے عملے نے شہنشاہ شوا، اور اُس کے شاہی خاندان کو مقدمات سے بچانے کے لیے بنیادی کردار ادا کیا ۔ شاہی خاندان کے شہزادہ چی چیبو، شہزادہ تسونی یوشی ، شہزادہ آساکا ، شہزادہ ہیگاشی کونی اور شہزادہ ہیرویاسو فوشیمی کو ٹوکیو ٹرائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ میک آرتھر نے بیکٹرئیلوجیکل ریسرچ یونٹوں کے سربراہ شیروایشی اور اُن کے عملے کو بھی مقدمات سے مبرا رکھا ۔

جب جاپان کو جنگ عظیم دوم میں شکست ہوئى تو امریکا نے جاپان کے تمام انتظامی امور اپنے ہاتھ میں لیکر امریکی افواج نے شاہی جاپانی فوج اور بحریہ کے اڈوں پر قبضہ کر لیا تھا ۔ جاپانی مسلح افواج کی ہر طرح کی سرگرمی مکمل طور پر ختم کی گئى ۔ امریکی فوج بشمول اتحادی افواج کا منصوبہ تھا کہ جاپان کو فوج سے قطعی طور پر صاف کیا جائے اور ایک ایسا آئین مرتب کیا جائے جس میں فوج رکھنے کی کوئى شِق نہ ہو ۔
سن 1950 میں کوریا کی جنگ شروع ہوئى تو جاپان میں اتحادی افواج کے کمانڈر ڈگلس میک آرتھر نے جاپانی حکومت کو پیرا ملٹری ریزرو پولیس رکھنے کی اجازت دی گئى جو بعد میں جاپان کی سیلف ڈیفینس فورس کے نام سے پہچانی جانے لگی ۔ جب معاہدہ سان فرانسیسکو ہوا تو جاپان کی خود مختاری بحال کردی گئى اور اُسے ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا گیا ۔
معاہدہ سان فرانسیسکو ، امن معاہدے کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے ۔ جاپان نے اتحادی ممالک کے ساتھ اِس معاہدے پر 8 ستمبر1951 کو دستخط کیے جس سے جاپان اور اتحادی ممالک کے درمیان میں جنگ کے خاتمے کا باضابطہ طور پر اعلان کیا گیا ۔ اِس معاہدے کے تحت جاپان نے اتحادی ممالک کے عام شہریوں اور سابق جنگی قیدیوں کو معاوضہ دینے پر رضامندی ظاہر کی ۔ اِس کانفرنس میں امریکا، جاپان، برطانیہ، فرانس، انڈونیشیا، آسٹریلیا اور پاکستان سمیت 52 ممالک نے شرکت کی ۔ برما ، بھارت یوگوسلاویہ کو بھی مدعو کیا گیا تھا تاہم اُنہوں نے شرکت نہیں کی ۔ عوامی جمہوریہ چین اور تائیوان نے بھی خانہ جنگی کی وجہ سے حصہ نہیں لیا ۔ سوویت یونین نے اِس معاہدے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ امریکا اور برطانیہ نے جو امن مسودۀ تیار کیا ہے اُس میں روس کے مفادات کا خیال نہیں رکھا گیا اور نہ ہی مشورہ کیا ۔ سوویت یونین کے نائب وزیرِ خارجہ آندرے گرومیکو اور اُن کے وفد نے کئى بار کاروائى روکنے کی کوشش کی اور جس روز معاہدہ دستخط ہورہا تھا اُس روز گرومیکو نے اعتراضات بھرا ایک تفصیلی بیان جاری کیا ۔ سوویت یونین کو یہ اعتراض بھی تھا کہ اِس معاہدے کے بعد جاپان، امریکا کا فوجی اڈا بن جائے گا جس سے سوویت یونین کی سلامتی کو براہِ راست خطرہ ہے ۔
معاہدے کے مطابق، بونین اور ریوکیو کے جزائر جن میں اوکیناوا،عمامی، میاکو اور یائی یاما کے جزیرے بھی شامل تھے، امریکا کے تسلط میں دئیے گئے ۔ جاپانی حکومت، کمپنیوں، تنظیموںاور عام شہریوں کے تمام اثاثوں کو ضبط کیا گیا ۔ ایک اندازے کے مطابق، جاپان کے کوریا میں اثاثوں کی مالیت 46 کروڑ 80 لاکھ امریکی ڈالر سے زیادہ تھی ۔ تائیوان میں 2 ارب 84 کروڑ61 لاکھ ڈالر،شمال مشرقی چین میں 9 ارب 76 کروڑ88 لاکھ،شمالی چین 3 ارب 69 کروڑ 58 لاکھ،وسطی جنوبی چین میں 2 ارب 44 کروڑ 79 لاکھ ڈالر جبکہ دیگر علاقوں میں ایک ارب 86 کروڑ 76 لاکھ ڈالر تھی ۔
جاپان كواثاثوں کے ضبط کرنے کے علاوہ پابند کیا گیا کہ وہ برما کو 20 کروڑ ڈالر، فلپائن کو 55 کروڑ، انڈونیشیا کو 22 کروڑ 30 لاکھ 80 ہزار اور ویت نام کو 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا معاوضہ ادا کرے گا ۔
اِس معاہدے کے شِق نمبر5 کے تحت ، جاپان نے اپنے آپ کو پابند کر لیا کہ وہ اپنے بین الاقوامی تنازعات کوپرامن طریقوں سے حل کرے گا ۔ کسی ملک کی خودمختاری یا سیاسی آزادی کے خلاف دھمکی یا طاقت کے استعمال سے گریز کرے گا ۔ اقوام متحدہ کے اپنے چارٹر کے مطابق کی جانے والی کاروائیوں میں معاونت کرے گا ۔

جب امریکا نے جاپان پر قبضہ کر لیا تو جنگ عظیم دوم کے اختتام پر اتحادیوں نے کوریا سے پوچھے بغیر،اُن کی سرزمین کو یک طرفہ طور پر امریکا اور سوویت یونین کے مابین اڑتیئس متوازئ خط پرتقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ۔ چونکہ مشرق و مغرب اور سوشلسٹوں اور سرمایہ داروں کے مابین سرد جنگ شروع ہوچکی تھی اِسلئے نہ صرف یورپ اور افریقہ بلکہ ایشیا کے کئى حصوں پر ایک اور عالمی جنگ چھڑنے کے آثار خاصے گہرے ہوتے جارہے تھے، بلکہ خدشہ تھا کہ اب ایک ایٹمی جنگ ہونے والی ہے کیونکہ سنہ 1949 کے اواخر میں سوویت یونین ایٹمی صلاحیت کا تجربہ کرچکا تھا ۔ جزیرہ نماء کوریا پرجنگ کے بادل تیزی کے ساتھ چھاگئے تھے کیونکہ جنوبی کوریا ، امریکا کے زیرِ عتاب تھا جبکہ شمالی کوریا، سوویت یونین اور چین کے زیرِ اثر تھا ۔ کوریا کے اِن دونوں حصوں نے اپنے قانونی ہونے کا دعویٰ کیا ۔
گو کہ جاپان نے کوریا پر سنہ 1910 میں قبضہ کر لیا تھا لیکن اِس سے کافی عرصہ پہلے وہ جاپان کے اثر و رسوخ کے تحت رہا ۔ کوریائى لوگوں نے جاپانی قبضے کے خلاف خاصی طویل جدوجہد کی ۔ جاپان کے خلاف لڑنے والے گوریلہ گروپ کے ایک رہنماء کم ال سنگ تھے جنہیں سوویت یونین سے تربیت اور مالی اور فوجی اعانت ملتی تھی ۔
جب جاپان ایٹمی حملے کے بعد شکست کھانے لگا تھا تو اُسی دوران میں سوویت افواج نے شمالی کوریا کی جانب سے حملہ کیا اور اُس کی فوجیں بڑھتے بڑھتے اڑتیس متوازی خط تک پہنچ گئیں تھیں جہاں پر جزیرہ نماء کوریا کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ۔ گوریلہ لیڈر کیم ال سنگ ، شمالی کوریا کے رہنماء بنے اور اُنہوں نے مُلک کو سوشلسٹ بُنیادوں پر استوار کرنا شروع کر دیا ۔ اُنہیں سوویت یونین سے بدستور امداد ملتی رہی لیکن جنوبی کوریا کو امریکا کی جانب سے کوئى خاص مدد نہیں مل رہی تھی ۔ سنہ 1949 کے اوائل میں جاپان سے آزادی حاصل کرتے وقت کیم ال سنگ نے سوویت یونین کے رہنماء جوزف سٹالن سے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جنوبی کوریا پر چڑھائى کرکے اُس پر قبضہ کر لیا جائے ۔
جون 1950 میں شمالی کوریا ئى حکومت نے دونوں کے ادغام کے لیے تجاویز دیں لیکن جنوبی کوریا نے مسترد کیں ۔ پانچ روز بعد ایک اور تجویز پیش کی گئى لیکن وہ بھی مناسب نہ ہونے کی بناء پر مسترد کردی گئى اور اِسی اثناء شمالی کوریا کی فوجوں نے خطِ تقسیم کے مختلف علاقوں سے حملہ کر دیا اور مختصر وقت اُن کی پیش قدمی جنوبی کوریا کے دار الحکومت سیئول تک پہنچی ۔ اُن کا ارادہ تھا کہ پُسان کی بندرگاہ پر قبضہ کرکے بیرونی کُمک کا راست روک دیا جائے ۔ ستائیس جون 1950 کو سلامتی کونسل نے ایک قرارداد کے ذریعے شمالی کوریا کی جارحیت کی مذمت کی اور اُس کے خلاف فوجی کاروائى کا حکم دیا ۔ سوویت یونین اور چین نے مخالفت کی ۔ اقوام متحدہ کی زیرِ قیاد فوجوں نے بھرپور تیاری کے ساتھ جوابی کاروائى شروع کی ۔ امریکا اور اقوام متحدہ کی افواج کی خوش قِسمتی تھی کہ جاپان اگلے محاذ کے لیے بہترین اڈے کے طور پر موجود تھا ۔ جاپان کی بندرگاہیں، ہوائى اڈے اور دیگر تنصیبات کے ساتھ ساتھ ایک تعلیم یافتہ اور جفاکش جاپانی قوم سے بھی استفادہ کیا جاسکا ۔ امریکی بحریہ کے لیے جاپان کے مغربی کیوشو میں بندرگاۀ ساسیبو کافی مدد گار ثابت ہوئى کیونکہ یہ علاقہ کوریا کے جنوب سے تقریباً 165 سمندری میل کے فاصلے پر تھا ۔ اِسی طرح ٹوکیو کے نزدیک یوکوسوکا کا علاقہ جنگی سازو سامان کی صفائى اور مرمت کے لیے بہترین اڈا تھا ، حالانکہ یہ جنگی محاذ سے 700 سمندری میل کے فاصلے پر تھا ۔

جنگِ کوریا سے جاپان کو اقتصادی طور پر بڑے فوائد حاصل ہوئے ۔ چونکہ اقوام متحدہ کی افواج نے زیادہ تر جنگی کاروائیوں کے لیے جاپان کی سرزمین استعمال کی لہذا یہاں کے کارخانوں اور فیکٹریوں کی پیداوار میں بھر پور اضافہ ہوا کیونکہ ضروریات یہیں سے خرید کر پوری کی جاتی تھیں ۔ روزگار میں تیزی سے اضافہ ہوا اور تعمیراتی کا بڑے پیمانے پر ہوا ۔ چونکہ جاپان، امریکا کے فوجی دفاعی چھتری تلے رہ رہا ہے اِسلئے اُسے دفاع پر نہ ہونے کے برابر خرچ کرنا پڑا اور تمام فنڈز معاشی ترقی، سرمایہ کاری، صنعتوں کے قیام اور بہتر معاشرتی زندگی پر خرچ ہونے لگے ۔
چونکہ جاپان خطے کے ایک اہم قوت کے طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا اِسلئے معاہدہ سان فرانسیسکو کے ذریعے اُس کے بین الاقوامی وقار کو بحال کیا ۔ بعد میں اِسی معاہدے پر نظرثانی کرکے باہمی تعاون اور سلامتی کا ایک نیا معاہدہ دستخط کیا گیا ۔

جنگ کوریا اور سوویت یونین اور چین کی فوجی طاقت نے امریکا کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ اپنے دشمن مُلک جاپان کے ساتھ باہمی تعاون اور سلامتی کی بنیاد اپنے روابط کو مزید مضبوط کردے ۔ چونکہ جاپان کی کوریا سمیت چین اور روس کے ساتھ ماضی کے ادوار کئى تلخیوں سے بھرے پڑے تھے لہذا یہ پیش رفت دونوں ممالک کے مفاد میں تھی ۔
جاپان اور امریکا نے سنہ 1951 کے سلامتی کے معاہدے پر نظر ثانی کرنے اور ایک نیا معاہدہ دستخط کرنے کے لیے سنہ 1959 میں مذاکرات کا آغاز کیا اور بالاخر 19 جنوری 1960 کو دونوں مُلکوں نے واشنگٹن ڈی سی میں باہمی تعاون اور سلامتی کے معاہدے پر دستخط کیے ۔ لیکن توقعات کہیں زیادہ خراب صورت حال اُس وقت سامنے آئى جب یہ معاہدہ منظوری کے لیے 5 فروی کو جاپانی پارلیمان میں پیش کیا گیا ۔ حزب اختلاف نے اِس معاہدے کی بھرپور مخالفت کی اور ایوان نمائندگان میں تند و تیز بحث ہوئى ۔ جاپان سوشلسٹ پارٹی نے اُس وقت کی حکمراں جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے قانون سازوں کو ایوانِ زریں میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی ۔ بڑی تعداد میں پولیس فورس بُلوائى گئى ۔ طالب علموں اور مزدور انجمنوں نے مُلک بھر میں وسیع پیمانے پر مظاہرے شروع کیے ۔ صورت حال یہاں تک ابتر ہوئى کہ امریکی صدر آئیزن ہاور کا طے شُدہ وقت کے مطابق دورہ نہ ہو سکا ۔ یہ جنگ عظیم دوم کے بعد جاپان کا سب سے بڑا اندرونی سیاسی انتشار سمجھا جاتا ہے ۔ اِسی معاہدے کی وجہ سے جاپان کے وزیرِاعظم کیشی نوبوسوکی کو بھی مستعفی ہونا پڑا ۔
سولہ جون کو معاہدہ منظور ہوا، جس کے مطابق اگر جاپانی انتظامیہ کے ماتحت کسی علاقے پر مسلح حملہ ہوا تو دونوں ممالک ایک دوسرے کی مدد کرنے کے پابند ہونگے ۔ چونکہ جاپان کو صرف خود دفاعی فوج رکھنے کی اجازت ہے اِسلئے وہ امریکی سرزمین پر امریکا کی مدد کا اختیار نہیں رکھتا ۔ جاپان میں موجود امریکی افواج اگر کسیقِسم کی فوجی نقل و حمل کرے گی تو وہ جاپانی حکومت کو پہلے سے اطلاع دے گی ۔ اِس کے علاوہ بین الاقوامی تعاون اور باہمی اقتصادی تعاون کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ۔ یہ معاہدہ دس سال کے لیے دستخط کیا گیا ۔
ٹوکیو اولمپک 1964
جاپان میں گرمائى اولمپک کھیلوں کا انعقاد سن 1964 میں کیا گیا تھا ۔ گو کہ اِس سے پہلے سن 1940 کے اولمپک کھیلوں کی میزبانی بھی جاپان کو دینے کی منظوری مل گئى تھی ، مگر جاپان کی جانب سے چین پر حملے کے باعث یہ اعزاز ہیلسنکی کو دیا گیا تاہم کھیلوں کا انعقاد نہ ہو سکا کیونکہ جنگ عظیم دوم کی وجہ اِن کھیلوں کی منسوخی کا اعلان کیا گیا ۔
ٹوکیو اولمپک میں امریکا نے 36 گولڈ کے ساتھ پہلے ، سوویت یونین نے 30 گولڈ میڈل کے ساتھ دوسرے اور جاپان نے 16 گولڈ میڈلز کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی تھی ۔ یہ ایشیا میں منعقد ہونے والے پہلے اولمپک کھیل تھے ۔ ایک اندازے کے مطابق ، ٹوکیو میں کھیلوں کے انعقاد کے لیے تقریباً 3 بلین امریکی ڈالرز خرچ کیے گئے ۔

امریکی قبضے اور ٹوکیو اولمپک کھیلوں کے بعد جاپانی معاشرہ تیزی سے مغربی انداز اپنانے لگا۔ امریکی موسیقی، لباس اور اندازِ زندگی اپنایا جانے لگا ۔ جاپان کے کئى دانشوروں کی تخلیقات کو یورپ اور امریکا میں پذیرائى ملنے لگی ۔ جاپانی انیمیشن کارٹون اور مانگا کامِک کتابیں دُنیا بھر میں مشہور ہونے لگیں ۔ کہا جاتا ہے کہ 1960 کی دہائى میں جاپان نے اتنی بہترین معاشی پالیسیاں مرتب کیں کہ اُس کا سالانہ اقتصادی شرح نمو 9 فیصد تک پہنچا ۔ خاص طور پر آٹوموبائل اور الیکٹرانکس کی صنعت نے زیادہ ترقی کی ۔ بندرگاہوں، سڑکوں اور ریلوئے لائنوں کی تعمیر کی گئى ، جس کی وجہ سے جاپانی برآمدات تیزی سے بڑھانے میں بہت زیادہ مدد ملی ۔ سرکاری اخراجات میں کمی کی گئى اور ٹیکس آمدنی کو عوامی فلاحی منصوبوں کے لیے بہتر طور پر استعمال کیا جانے لگا ۔ چونکہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کو اکثریت حاصل تھی جس نے 1963 کے انتخابات میں 55 فیصد ووٹ جیتے تھے اور ایوانِ زریں میں 60 فیصد نشیستیں جیت لیں تھی اِسلئے اُسے بہتر پالیسیاں تشکیل دینے میں خاصا اختیار حاصل تھا اور اُس نے مُلک کو بڑی اقتصادی ترقی سے ہمکنار کیا ۔ اُسی دور میں شنکانسن ٹرین کا آغاز کیا گیا ۔ سن 1964 میں آغاز کرنے والے توکائیدو شنکانسن کی ابتداء میں رفتار 210 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی جس کی رفتار سن 2003 میں مقناطیسی نظام کے تحت ورلڈ ریکارڈ 581 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچی ۔
سنہ 1960 کی دہائى میں جاپانی گاڑی ساز صنعت نے تیزی سے ترقی کرنی شروع کی اور کہا جاتا ہے کہ جاپانی وزارتِ بین الاقوامی تجارت و صنعت نے اِس حوالے سے کلیدی کردار ادا کیا ۔ 1950 کی دہائى کی وسط میں “عوامی گاڑی” تیار کرنے کے لیے کئى اعانتیں دیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب بین الاقوامی سطع پر مسابقت سازی میں تیزی آئى تو وزارت نے 60 کی دہائى کی وسط میں جاپانی گاڑی سازوں کے ادغام پر زور دیا اور نسان نے پرنس موٹرز اور اِسی طرح ٹویوٹا نے ہینو اور ڈائیاہتسو کو ضم کیا ۔ اِس فیصلے کے بہت دور رس نتائج سامنے آئے اور جاپان چند سالوں میں دُنیا کا گاڑیاں بنانے کا چھٹا بڑا ملک بنا ۔
جنگ عظیم دوم کے بعد جاپانی الیکٹرانکس مصنوعات میں بھی تیزی سے ترقی ہوئى اور معیار و پیداوار دونوں میں اضافہ ہوا ۔ اِس میدان میں سونی نے بڑا کردار ادا کیا ۔ یہ کمپنی سنہ 1946 میں ماسارو ایبوکا اور آکیو موریتا نے قائم کی تھی ۔ سونی نے جدید الیکٹرانکس میں بڑی تیزی سے ترقی کی اور پہلا پاکٹ سائز ریڈیو ایجاد کرکے سونی نے جاپان اور دُنیا بھر میں بڑا نام کمایا ۔ بعد میں جاپانی کمپنیوں نے ٹرانزسٹرز کے بعد سیمی کنڈکٹرز کی پیداوار شروع کی جس کی دُنیا بھر میں بہت مانگ رہی ۔
جاپانی مصنوعات نے بہتر معیار کی وجہ سے دُنیا کر ہر مارکیٹ پر غالبہ پانے کی کوشش کی جس کی وجہ سے اُسے امریکا اور یورپ کے مصنوعات کے مقابلے میں ترجیح دی جانے لگی ۔
عموماً کہا جاتا ہے کہ جاپان کی ترقی میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے ۔ اِس پارٹی کا سنہ 1955 میں اُس وقت قیام عمل میں لایا گیا جب جناب یوشیدا شیگیرو کی زیرِقیادت لبرل پارٹی اور جناب ایچیرو ہاتویاما کی قیادت میں جاپان ڈیموکریٹک پارٹی کا ادغام کیا گیا ۔ یہ دونوں قدامت پسند جماعتیں تھیں اور اِن کا مقصد جاپان سوشلسٹ پارٹی کے خلاف ایک مضبوط اتحاد قائم کرنا تھا ۔ اِسی اتحاد کی بدولت اُنہوں نے بائیں بازوکی جماعتوں کے خلاف اکثریت حاصل کرکے اقتدار سنبھالا ۔
ایل ڈی پی پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ امریکی انٹیلیجنس ایجنسی سی آئى اے سے بھرپور مالی معاونت حاصل کرتی رہی ہے تاکہ سوشلسٹ اور کمیونسٹ نظریات والی بائیں بازو کی جماعتیں اقتدار میں نہ آئیں ۔ امریکی پالیسی تھی کہ جاپان میں کسی بھی صورت میں سوشلسٹوں اور کمیونسٹوں کا زور نہ بڑھے کیونکہ جاپان کے ہمسایہ ممالک سوویٹ یونین ، شمالی کوریا اور چین پہلے ہی سوشلزم کا نظام رائج کرچکے تھے اور امریکا ، یورپ میں بھی سوشلزم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقتصادی اور فوجی اقدامات کرچکا تھا ۔
امریکی جنرل میک آرتھر نے 6 جون 1950 کو اُس وقت کے وزیر اعظم یوشیدا کے نام ایک خط بھیجا تھا جس میں اعلٰی سرکاری عہدوں پر تعینات کمیونسٹ نظریات کی حامل شخصیات نکالنے کی تاکید کی گئى تھی ۔ جریدے ایشیا پیسیفیک کے مطابق، 1948 سے 1950 تک کی مدت میں انتظامی عہدوں، سرکاری سکولوں کے اساتذہ اور یونیورسٹی پروفیسروں اور نجی کمپنیوں سے سوشلسٹ نظریات کے 27 ہزار سے زائد افراد کو نکال دیا گیا تھا ۔

جاپان نے اُن ایشیائى ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی بھرپور کوشش کی جن پر جاپانی شاہی فوج کا قبضہ رھا یا جاپانی جارحیت کا شکار رہے ۔ گو کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تعلقات میں بہری آئى ہے تاہم یا یاسکونی زیارت کا ذکر کرنا تمہید کے طور پر ضروری ہے کیونکہ یہ معاملہ اب بھی کبھی کبھار اُس وقت تنازعہ کی صورت اختیار کرلیتا ہے جب جاپانی پارلیمنٹ کے اراکین یا مقتدر شخصیات اِس زیارت کا دورۀ کرتے ہیں ۔
یہ شنتو مذہب کی زیارت ہے جواُن افراد کی روحوں کی یاد کے لیے ہے جنہوں نے سنہ 1867 سے 1951 تک سلطنتِ جاپان کی خدمت کی یا لڑتے ہوئے مرگئے ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق ، زیارت کے ریکارڈ بُک میں چوبیس لاکھ ، چھیاسٹ ہزار پانچ سو بتیس روحوں کا اندراج کیا جا چکا ہے ۔ اِس میں ایک ہزار اڑسٹھ وہ افراد بھی ہیں جنہیں جنگ عظیم دوم میں جنگی جرائم کے پاداش میں اتحادیوں کے قائم کردہ ٹربیونلز نے سزائے موت سنا دی تھی ۔
جاپانیوں کو یہ افسوس زندگی بھر رہے گا کہ اُن کے افراد کو جنگی جرم کی بناء پر سزائے موت دی گئى لیکن ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملے میں لاکھوں بے گناہ افراد کو ہلاک وہ زخمی کرنے کے جرم میں کسی امریکی کو سزاء نہیں دی گئى ۔ جاپان کے اراکین پارلیمنٹ یا وزیراعظم نے جب بھی اِس زیارت کا دورۀ کیا ہے تو چین، شمالی و جنوبی کوریا اور تائیوان سمیت کئى حلقوں سے تنقید بھری آوازیں اُٹھتی ہیں کہ جن لوگوں نے اِن ممالک کے عوام کے خلاف جنگی جرائم کیے ہیں اُنہیں کسی بھی صورت میں تعظیم پیش نہ کی جائے ۔ جاپان کے سابق وزیر اعظم جُن ایچیرو کوئى زومی اِس حوالے سے خاصے تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں جنہوں نے سنہ 2001 سے 2006 تک باقاعدگی سے یاسکونی زیارت کا نجی طور پردورۀ کیا ۔
جنگ عظیم دوم کے بعد ، جاپانی خارجہ پالیسی نے کروٹ لی اور جنوب مشرقی ایشیا کے جن ممالک کو جاپانی عسکریت پسندی سے بہت نقصان پہنچا تھا اُن کے ساتھ سنہ 1950 کی دہائى میں روابط بحال اور مضبوط کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ۔ سنہ 1954 میں جاپان نے کولمبو منصوبے میں حصہ لیا اور کئى جاپانی تکنیکی اور زرعی ماہرین کو خطے کے مختلف ممالک میں تربیت اور رہنمائى فراہم کرنے کے لیے بھیجا ۔ اُسی سال کاروباری تنظیم ایشین ایسوسیشن قائم کی گئى جس کا مقصد، جاپانی آلات اور اور ٹیکنالوجی کو ایشیا کے ترقی پزیر ممالک کو بہم پہنچانا تھا ۔ ایک سال بعد، جاپان نے اقوام متحدہ کے اقتصادی کمیشن برائے ایشیا اور مشرقِ بعید میں شمولیت اختیار کی، اور سنہ 1955 ہی میں جاپان نے ایشیا۔افریقہ کانفرنس کے لیے وفد بھیجا ۔ جب لبرل ڈیموکریٹک پارٹی معرِض وجود میں آئى تو اُس وقت کے وزیر خارجہ نے خیال ظاہر کیا کہ اُن کا مُلک ، جنوب مشرقی ایشیا میں استحکام پیدا کرنے کے لیے طویل مدتی اقتصادی منصوبوں کا ارادہ رکھتا ہے ۔ اُسی دہائى میں جاپان نے جنگ کے نقصانات کا ازلہ کرنے کے لیے سنہ 1960 سے پانچ سالہ مدت میں جنوبی ویت نام کو 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کیا ۔ اِسی طرح چھ سالہ مدت میں لاؤس کو 20 لاکھ 80 ہزار ڈالر، کمبوڈیا کو پانچ سال میں 40 لاکھ 20 ہزار ڈالر اور تھائى لینڈ کو 2 کروڑ 68 لاکھ ڈالر کی ادائیگی پر رضامندی ظاہر کی گئى ۔
چونکہ اِسی دہائى میں جنگِ ویت نام شروع ہوگئى تھی جو 30 اپریل 1975 تک جاری رہی ، تاہم جاپان نے اپنا غیر جانبدار موقف اپنایا ۔ اِس جنگ میں کوریا کی تاریخ دہرائى گئى جہاں شمالی ویت نام کی کمیونسٹ اتحادیوں نے مدد کی جبکہ جنوبی ویت نام کی امریکا اور جنوب مشرقی ایشیائى معاہدہ تنظیم سیٹو نے مدد کی ۔ اِس جنگ میں ویت نامیوں نے امریکی استعمار کے خلاف گوریلہ جنگ لڑی جو امریکا کے لیے بہت مہنگی پڑی اور بالاخر اُسے وہاں سے نکلنا پڑا ۔
ویت نام کی جنگ میں جاپان نے فوجی کردار ادا نہیں کیا بلکہ مزاکرات کے عمل کو آگے بڑہانے کی حوصلہ افزائى کی ۔ امن قائم ہونے کے بعد جاپان اور ویت نام کے سفارتی تعلقات اگست 1975 میں قائم ہوئے ۔

جاپان اور چین کی تاریخ کئى باہمی رشتوں اور رنجشوں سے بھری پڑی ہے ۔ کیونکہ جغرافیائى لحاظ سے دونوں ممالک کے مابین پانی کی ایک تنگ سی پٹی حائل ہے اِسلئے ایک دوسرے پر اثر انداز ہونا ایک فطری سی بات ہے ۔
جنگ عظیم دوم کے بعد ، دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں اُس وقت تیزی آئى جب 1960 کی دھائى میں روس اور چین کے تعلقات خراب ہوئے جس کی بناء پر روس نے اپنے تمام ماہرین واپس بلوا لیے اور ایسے میں چین کے پاس بہتر راستہ یہی تھا کہ وہ جاپان کی تکنیکی مہارت اور مستحکم مالی حثیت سے استفادہ کرے ۔ اِس سلسلے میں پہلا بڑا قدم لیؤ۔ تاکاساکی معاہدہ تھا جس کی بدولت جاپان ، چین کو صنعتی کارخانوں کی خرید کے لیے مالی معاونت دینے پر رضامند ہوا اور چین کو ٹوکیو میں اپنا تجارتی مِشن کھولنے کی اجازت دی گئى ۔ دونوں مُلکوں کے باہمی تعلقات میں اُس وقت تیزی پیدا ہوئى جب 1972 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے عوامی جمہوریہ چین کا پہلی بار دورۀ کیا ۔ یہ دورۀ اُس وقت طے پایا جب اُس وقت کے امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر ھنری کسینجر نے پاکستان کے توسط سے خُفیہ طور پر بیجنگ کا جاکر باہمی تعلقات میں بہتری لانے کے لیے نکسن کے دورے کا اہتمام کیا ۔ جاپان کے اُس وقت کے وزیر اعظم تاناکا کاکوئے نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بیجنگ کا دورۀ کیا اور ستمبر 1972 میں دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات قائم ہوئے ۔ ماؤژے دونگ کی وفات کے بعد چین میں اقتصادی اصلاحات کو آغاز ہوا تو ٹوکیو اور بیجنگ کے تعلقات میں وسعت لانے کی مزید گنجائش پیدا ہوئى ہے، کیونکہ اب چین میں نجی ملکیت کے کاروبار کو ترقی ملنے لگی تھی اور یوں جاپانی سرمایہ کاروں کو سرمایہ لگانے کے کئى شعبے پیدا ہوئے ۔
جاپان اور چین کے مابین امن معاہدے کے لیے سنہ 1974 میں بھی کوشش کی گئى تھی لیکن کچھ شِقوں پر اختلاف کی وجہ سے یہ سلسلہ رُک گیا تھا ۔ شمالی تائیوان میں واقع سینکا کو جزائر پر اور ریوکیو جزائر کے جنوبی حصے پربھی اختلاف تھا ۔ چار سال بعد دونوں ممالک نے امن عمل کو ایک بار پھر بڑھایا اور 12 اگست 1978 کو امن اور دوستی کے معاہدے پر دستخط ہوئے ۔ چین کے رہنماء ڈینگ ژیاؤپنگ اور جاپان کے وزیراعظم فوکودا تاکئو نے اِس معاہدے پر دستخط کیے اور یوں ایشیا کی دو بڑی طاقتوں کے مابین پرانی دشمنی دوستی میں بدلنے کی راہ ہموار ہوئی۔

جاپان تقریباً 3000 سے زائد جزیروں پر مشتمل ہے۔انتہاى شمالى جزیرہ ہوکائیدو کہلواتا ہے اس کے بعد ہونشو، شیکوکو کیوشو اور اکیناوا ہے۔ جاپان آٹھ علاقہ جات میں منقسم جو سرکاری انتظامی اکائیاں نہیں ہیں، لیکن روایتی طور ایک بڑی تعداد میں جاپان کی علاقائی تقسیم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

جاپان میں پارلمانی جمہوریت ہے مگر یہ ملک شہنشاہ جاپان کی ملکیت ہے شہنشاہ معظم کی رہائیش جاپانی شاہی محل میں ہے

جاپان کا اہم ترین مذہب شنتومت کہلاتا ہے، جس کو انگریزی میں Shintoism کہا جاتا ہے۔ اسلام یہاں کم تعداد میں موجود ہے، لیکن یہاں پر مساجد ضرور واقع ہیں، جن میں مسجد کوبے سب سے پرانی اور مشہور مسجد ہے۔




#Article 58: تلونڈى موسیٰ خان (451 words)


تلونڈی موسیٰ خان  پاکستان کا ایک رہائشی علاقہ جو ضلع گوجرانوالہپنجاب، پاکستان میں واقع ہے۔ یہ ایک یونین کونسل بھی ہے۔

تلونڈی موسى خان ـ پسرور روڈ پر واقع ہے پسرور روڈ بهى پرانے زمانے ميں دينا نگر روڈ كہلواتا تها مگر تقسيم كے بعد دينانگر نام كا وه قصبہ ہندوستان ميں چلا گيا ـ اور اس سڑک كا نام پسرور روڈ ہوگيا ـ گوجرانوالہ شہر ميں شيرانوالے باغ سے لے کر چهچهر والی نہر کے پُل تک اب بهی اس سڑک کو دينا نگر روڈ کہتے ہيں اور چهيچهر والی نہر کے پل کے بعد اسی سڑک کانام پسرور روڈ ہو جاتا ہے اس كے علاوه اس قصبے تلونڈی كى وجہ شہرت يہاں كے ذيلدار چوهدرى بهى تهے ـ تلونڈى كے چيمہ جاٹوں ميں سے ايك خاندان نے برطانوى راج سے وفادارى كے صلے ميں ذيلدارى كا خطاب پايا تهاـ اور يہ خاندان علاقے كا انتہائى طاقتور چوہدرى خاندان ہوا كرتا تها ـ 

تلونڈى موسے خان تحصيل گوجرانواله كا ايک قصبه گوجرانوالہ سے مشرق كى طرف صرف پانچ كلو ميٹر كے فاصلے پر پسرور روڑ پر واقع ہے! گلوب يعنى زمين پر اس قصبے كى جغرافيائى پوزيشن32.2ارض بلداور74.3طول بلد پر واقع ہے اردو كے مشہور شاعر عبدالحميد عدم كى جائے پیدائش بهى ہے!قصبے ميں ٹيلى فون ايكسچينج سركارى ہسپتال اور لڑكيوں اور لڑكوں كے ليے ہائی اسكول تک كی تعليم كى سہولت موجود ہے جہاں سے قريبى ديہات كے لوگ بهى مستفيد ہيں گوجرانوالہ كے صنعتى علاقے كا يہ قصبہ تلونڈى موسے خان بهى ايک زرعى اور صنعتى قصبہ ہے اس وقت تلونڈی موسے خان كى سب سے بڑى صنعت باسمتی چاول كى تيارى ہے!باسمتى چاول يا دوسرى قسم كے چاول كو كهيت سے اٹها كر خشک کر کے چهڑاي پيكنگ ايكسپورٹ كرنے تک ايک سيٹ اپ موجود ہے! ايک كلو سے لے كر لاكهوں كلو چاول كى خريدارى يہاں ممكن ہے سرجيكل كے آلات يہاں كى دوسرى بڑى صنعت ہے ليكن يہ آلات اور فٹ بالز كى سلائی صرف سيالكوٹ كے ايكسپوٹروں كے ليے ہوتى ہے اس كے علاوه يہاں ٹيوب ويلوں كے پائپ اور ويٹ تهريشر بهی تيار كيے جاتے ہيں ٹرانسسٹر ريڈيو اور آڈيو كيسٹ ريكاڈر بهي بنائے جاتے ہيں۔

چیمہ ــ گھمن ــ ناگرہ ــ ڈوگر ــ منڈ ــ

كھوكھر ــ مغل ــ بھٹی ــ انبالوی آرئیں۔.انصاری

كميار ــ لوهار ــ تركهان ــ

گورنمنٹ ہائى اسكول فار بوائے—گورنمنٹ ہائى اسكول فار گرلز—گورنمنٹ پرائمرى اسكول فار بوائز—گورنمنٹ پرائمرى اسكول فار گرلز --

پيرو چک ــ ٹھٹہ اعظم خاں ــ گگڑكے ــ ہوئے والی ــ گنڈم ــ باسى والا ــ نوئن كے ــ چک خلیل ــ موکھل سندھواں ــچک نظام۔۔ چک بوڑہ والاــ باورے ـ بھٹی بھنگو

، تلونڈی موسے خان کی ویب سائٹ، یہاں تلونڈی اور ملحقہ دیہات کی خبریں باتیں اور تازہ ترین لکھی جاتی ہیں




#Article 59: جنوبی ایشیا (1139 words)


جنوبی ایشیا  براعظم ایشیا کے جنوبی علاقوں کو کہا جاتا ہے جو برصغیر پاک و ہند اور ان سے ملحقہ علاقوں پر مشتمل ہے۔ یہ علاقہ (مغرب سے مشرق کی جانب) مغربی ایشیا، وسط ایشیا، مشرقی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے درمیان میں واقع ہے۔جس کے ایک طرف دنیا کا تیسرا بڑا سمندری حصہ  بحر ہند  ہے ۔اور دوسری جانب قدرتی طور پر بلند ترین دنیا کی چھت تصور کیا جانے والا پہاڑی سلسلہ ہمالیہ جو نیپال سے لے کر بشمول پاکستان اور وسط ایشیا تک چلا جاتا ہے یہ ایک طویل ترین قدر خلیج بھی ہے ۔جو برصغیر اور چائنہ کو الگ کرتی ہے 

جنوبی ایشیا ان ممالک پر مشتمل ہے :

علاوہ ازیں ثقافتی وجوہات کی بنا پر کبھی کبھار تبت (عوامی جمہوریۂ چین) کو بھی جنوبی ایشیا میں شمار کیا جاتا ہے 

برصغیر کی اصطلاح اس علاقے کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ہندی پرت پر قائم ہے جس کے شمال میں یوریشین پرت ہے۔ جبکہ سیاسی اصطلاح کے طور پر یہ نام برصغیر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس میں ہندی پرت کے باہر کے علاقے بھی شامل کیے جاتے ہیں خصوصا افغانستان جس کے اپنے پڑوسی پاکستان کے ساتھ سیاسی، سماجی و نسلی (پشتون) طور پر قدیم تعلقات ہیں۔ جبکہ پاکستان میں دریائے سندھ کے مغرب میں واقع علاقے تاریخی وجوہات کی بنا پر کبھی کبھار وسط ایشیا میں شمار کیے جاتے ہیں۔ جس کی ایک مثال بلوچستان ہے جو ہندی پرت پر قائم نہیں بلکہ سطع مرتفع ایران کے کناروں پر واقع ہے۔

چونکہ جنوبی ایشیا تاریخ میں ہمیشہ بیرونی حملہ آوروں کی زد میں رہا ہے اس لیے یہاں کی ثقافت بھی مختلف قوموں کے ملاپ سے بنی ہے۔ تاہم اکثریت ہندو مت اور اسلام پر ایمان رکھتی ہے اس لیے جنوب ایشیائی ثقافت پر دونوں مذاہب کی گہری چھاپ ہے۔

جنوبی ایشیا دنیا کے گنجان آباد ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ تقریباً 1.6 ارب افراد یہاں رہتے ہیں جو دنیا کی کل آبادی کا پانچواں حصہ ہے۔ علاقے میں آبادی کی کثافت 305 افراد فی مربع کلومیٹر ہے جو دنیا بھر کی اوسط کثافت سے 7 گنا زیادہ ہے۔

اپنی زرخیزی کے باعث یہ علاقہ ہمیشہ بیرونی حملہ آوروں کی زد میں رہا ہے لیکن اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ دیگر اقوام کی یہ حکومتیں ہی اس سرزمین کے ماضی کو عظیم بناتی ہیں۔ ماضی کی کئی حکومتوں خصوصا وسط ایشیا کے مغلوں نے اس خطے کی ثقافت، مذہب اور روایتوں پر بہت اثر ڈالا ہے۔ اور ان کے عظیم دور کی جھلک آج بھی برصغیر کے چپے چپے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ان کے دور حکومت میں یہ علاقہ دنیا بھر میں سونے کی چڑیا کے طور پر مشہور ہو گیا۔

زمانہ ہائے قدیم میں دریائے سندھ کی تہذیب دنیا کی ترقی یافتہ ترین تہذیبوں میں سے ایک تھی جو آج سے تقریباً 5 ہزار سال قبل قائم تھی۔

بعد ازاں یورپی نو آبادیاتی دور میں یہ خطہ برطانیہ کے قبضے میں آگیا جبکہ چند چھوٹے علاقوں پر پرتگال، ہالینڈ اور فرانس کا قبضہ بھی رہا۔ بہرحال 1940ء کی دہائی کے اواخر میں خطہ آزاد ہو گیا۔

سر زمین جنوبی ایشیا جہاں کئی متضاد ثقافتوں اور تہذیبوں کا گہوارہ ہے وہیں جغرافیائی طور پر بھی گوناگوں خصوصیات کی حامل سر زمین ہے۔ شمال میں حالیہ کی بلند ترین چوٹیوں سے جنوب میں عظیم میدانوں، غیر آباد وسیع صحراؤں اور منطقہ حارہ کے گھنے جنگلات اور ناریل کے درختوں سے سجے ساحلوں تک ہر علاقہ اس سرزمین کی رنگا رنگی میں اضافہ کرتا جاتا ہے۔

جغرافیائی و سیاسی طور پر بنگلہ دیش، بھارت، بھوٹان، پاکستان، سری لنکا اور نیپال کو جنوبی ایشیا کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ جو آپس میں علاقائی تعاون کی ایک تنظیم سارک کے بندھن میں بندھے ہیں۔ حال ہی میں افغانستان کو بھی اس تنظیم کا رکن بنایا گیا ہے۔

جنوبی ایشیا کے شمال میں ایک عظیم سلسلہ کوہ ہمالیہ ہے جو برف سے ڈھکی ایک عظیم دیوار کی طرح ایستادہ ہے اور اسے براعظم ایشیا کے دیگر علاقوں سے جدا کرتا ہے۔ ہمالیہ نقشے میں ایک کمان کی طرح نظر آتا ہے۔ دریائے سندھ، گنگا اور برہم پترا کے عظیم زرخیز میدان اور ڈیلٹائی علاقے ان پہاڑی علاقوں کو جزیرہ نما سے الگ کرتے ہیں۔ وسط میں دکن کی عظیم سطح مرتفع ہے جس کے دونوں جانب ساحلوں کے ساتھ ساتھ مشرقی گھاٹ اور مغربی گھاٹ نامی دو پہاڑی سلسلے ہیں۔

دوسری جانب بنگلہ دیش کا بیشتر حصہ دریائے برہم پترا اور گنگا کے عظیم ڈیلٹائی علاقے پر واقع ہے۔ گرمائی مون سون میں موسمی بارشوں اور ہمالیہ سے پگھلنے والے پانی کے باعث ان دریاؤں میں سیلاب آ جاتے ہیں جس کے باعث بنگلہ دیش کئی مرتبہ زبردست سیلابوں کا نشانہ بنا جن میں لاکھوں افراد موت کا نشانہ بنے۔

کیونکہ جنوبی ایشیا کی آبادی کی اکثریت کا ذریعہ معاش زراعت ہے اس لیے دریاؤں کے زر خیز میدان، پہاڑی وادیاں اور ساحلی علاقے انتہائی گنجان آباد ہیں لیکن اب دیہات سے شہروں کو ہجرت کے رحجان میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کی بڑی وجہ شہروں میں روزگار کی فراہمی ہے۔ اس کے باعث شہروں میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں، خصوصا رہائش کی مطلوبہ سہولیات نہ ہونے کے باعث آبادی کی بڑی تعداد کچی آبادیوں میں رہنے پر مجبور ہے جہاں ضروریات زندگی کی بنیادی سہولیات تک موجود نہیں ہوتیں۔ ممبئی، کولکتا اور کراچی خطے کے سب سے بڑے شہر ہیں۔

جنوبی ایشیا کی 60 فیصد آبادی کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے لیکن اس کے باوجود خطے میں صرف اتنی فصل ہی کاشت ہو پاتی ہے جو ملک کی غذائی ضروریات کو پورا کر سکے بلکہ کئی مرتبہ تو ان ممالک کو بیرون ممالک سے غذائی اجناس درآمد بھی کرنا پڑتی ہیں۔ اس کی اہم وجہ زراعت کے قدیم روایتی طریقوں کا استعمال اور جدید طریقوں تک عدم رسائی ہے۔ بنیادی طور پر اجناس کاشت کی جاتی ہیں جن میں مشرق اور مغرب کے ان علاقوں میں چاول کاشت کیا جاتا ہے جہاں پانی وافر مقدار میں موجود ہے جبکہ سطح مرتفع دکن پر باجرہ، شمالی علاقوں میں گندم کاشت کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں چائے اور پٹ سن اہم نقد فصلیں ہیں۔

حالیہ چند سالوں میں بھارت انتہائی تیزی سے صنعتی ترقی کر رہا ہے جس میں خصوصا کاریں، ہوائی جہاز، کیمیا، غذائی اور مشروبات قابل ذکر ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان میں پارچہ بافی، کان کنی، بنکاری اور قالین سازی کی صنعتیں معروف ہیں جبکہ بھارت، مالدیپ، سری لنکا اور پاکستان میں سیاحت بھی تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ چھوٹے پیمانے پر گھریلو صنعتیں بھی مقامی آبادی کی ضروریات پوری کرتی ہیں لیکن ان صنعتوں میں تیار ہونے والی چند اشیا خصوصا ریشمی و سوتی کپڑے، ملبوسات، چمڑے کی اشیاء اور زیورات بیرون ملک برآمد بھی کیے جاتے ہیں۔

جنوبی ایشیا ہند-یورپی زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے اردو،ہندی،بنگلہ،پشتو اور فارسی قومی و دفتری زبانیں ہیں۔

خطے میں ہزاروں زبانیں بولی جاتی ہیں جن کے کئی لہجے ہیں۔




#Article 60: ایشیا (1195 words)


ایشیا دنیا کے سات براعظموں میں سے ایک سب سے بڑا اور زیادہ آبادی والا براعظم ہے۔ یہ زمین کے کل رقبے کا 8.6 فیصد، کل بری علاقے کا 29.4 فیصد اور کل آبادی کے 60 فیصد حصے کا حامل ہے۔ یہاں پر دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی آباد ہے 

ایشیا روایتی طور پر یوریشیا کا حصہ ہے جس کا مغربی حصہ یورپ ہے۔ ایشیا نہر سوئز کے مشرق، کوہ یورال کے مشرق اور کوہ قفقاز،یعنی ہمالیہ قراقرم اور کوہ ہندوکش  بحیرہ قزوین اور بحیرہ اسود کے جنوب میں واقع ہے۔ 

قرون وسطیٰ سے قبل یورپی ایشیا کو براعظم نہیں سمجھتے تھے تاہم قرون وسطیٰ میں یورپ کی نشاۃ ثانیہ کے وقت تین براعظموں کا نظریہ ختم ہو گیا اور ایشیا کو بطور براعظم تسلیم کر لیا گیا۔ افریقہ اور ایشیا کے درمیان سوئز اور بحیرہ قلزم کو سرحد قرار دیا گیا جبکہ یورپ اور ایشیا کے درمیان سرحد درہ دانیال، بحیرہ مرمرہ، باسفورس، بحیرہ احمر، کوہ قفقاز، بحیرہ قزوین، دریائے یورال اور کوہ یورال سے بحیرہ کارہ تک پہنچتی ہے۔ 

عام طور پر ماہر ارضیات و طبعی جغرافیہ دان ایشیا اور یورپ کو الگ براعظم تصور نہیں کرتے اور ایک ہی عظیم قطعہ زمین کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ 

جغرافیہ میں دو مکتب فکر ہیں ایک تاریخی حوالہ جات کے تحت یورپ اور ایشیا کو الگ براعظم قرار دیتا ہے جبکہ دوسرا یورپ کے لیے براعظم اور ایشیا کے لیے خطے کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ تنازع ایشیا بحرالکاہل خطے پر بھی کھڑا ہوتا ہے جہاں موجود جزائر میں سے چند براعظم آسٹریلیا کا حصہ مانے جاتے ہیں جبکہ چند ایشیا میں تسلیم کیے جاتے ہیں اس لیے ایشیا کی حدود کا درست تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ایشیا دنیا کا سب سے بڑا بر اعظم ہے۔ جہاں دنیا کا سب سے اونچا، سب سے نیچا اور سب سے سرد ترین مقام پایا جاتا ہے (ماؤنٹ ایورسٹ دنیا کی بلند ترین چوٹی، مغرب کی جانب بحیرہ مردار سطح سمندر سے سب سے نچلا مقام اور شمالی سائبیریا کے مقامات)۔ ایشیا میں کسی بھی براعظم سے زیادہ افراد رہائش پزیر ہیں جن میں سے ایک اعشاریہ دو ارب آبادی چین اور 94 کروڑ بھارت میں آباد ہے۔ 

براعظم کا شمالی حصہ قدیم پہاڑوں اور سطح ہائے مرتفع پر مشتمل ہے جبکہ وسطی علاقہ کوہ ہمالیہ اور سطح مرتفع تبت نے گھیرا ہوا ہے۔ ہمالیہ دنیا کے دیگر پہاڑی سلسلوں کی نسبت زیادہ قدیم نہیں اور اب بھی یہ اونچائی کی جانب رواں ہے۔ یہ سلسلہ تب تشکیل پایا جب برصغیر ایشیا سے ٹکرایا۔ 

جنوب مشرقی ایشیا میں ہزاروں جزائر ہیں جہاں آتش فشانوں کا پھٹنا اور زلزلے آنے روز کا معمول ہیں۔ ان جزائر میں کئی جزائر آتش فشانوں پر واقع ہیں۔ ان زلزلوں میں سب سے زیادہ خوفناک دسمبر 2005ء میں بحر ہند میں آنے والا زیر آب زلزلہ تھا جس سے پیدا ہونے والی لہروں سونامی نے بحر ہند کے گرد بسنے والے ممالک کے لاکھوں نفوس نگل لیے۔ 

جنوب مشرقی ایشیا میں منطقہ حارہ کے جنگلات بھی بڑی تعداد میں واقع ہیں خصوصاً تھائی لینڈ، بورنیو کے جزائر، سلاویسی، جاوا اور سماٹرا کے جنگلات مشہور ہیں۔ 

ایشیا میں دنیا کے کئی مشہور صحرا بھی واقع ہیں جن میں صحرائے عرب (ربع الخالی)، صحرائے شام، دشت کویر، دشت لوط، تھر، تھل، کراکم، ٹکلا مکان، گوبی دنیا کے عظیم صحراؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ 

ایشیا میں دنیا کے کئی بڑی دریا بھی واقع ہیں جن میں دریائے زرد، یانگزے، سندھ، گنگا، جمنا، برہم پترا، اراوتی، میکانگ، فرات، دجلہ، جیحوں، سیحوں، ارتش، اوب، لینا دنیا کے عظیم دریاؤں میں سے ہیں۔ 

جھیلوں میں جھیل قزوین جسے اس کے عظیم حجم کے باعث بحیرہ قزوین بھی کہا جاتا ہے، دنیا کی سب سے بڑی جھیل ہے۔ علاوہ ازیں جھیل ارال (بحیرہ ارال)، جھیل بالکش، جھیل بیکال، جھیل وان، جھیل ارمیہ دنیا بھر میں جانی جاتی ہیں۔ 

جزیرہ سماٹرا، بورنیو اور نیو گنی دنیا کے بڑے جزائر میں شمار ہوتے ہیں جبکہ دنیا کے بڑے جزیرہ نما اناطولیہ اور عرب بھی یہیں واقع ہیں۔ 

ایشیا مختلف تہذیبوں کا مسکن ہے، یہاں کی زمین، لوگوں اور روایتوں میں بڑا تنوع پایا جاتا ہے۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے سے یہاں قازقستان,تاجکستان، ترکمانستان اور|کرغزستان کی نئی ریاستیں وجود میں آئیں۔ جنوب مغرب کے بیشتر ممالک کے عوام مسلمان ہیں لیکن قومیت اور مسالک کی بنیادوں پر تقسیم ہیں۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جبکہ چین دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معاشی و عسکری قوت ہے۔

براعظم کی بیشتر آبادی عظیم دریاؤں کے کناروں پر آباد ہے جس کی وجہ یہاں کی بیشتر آبادی کا ذریعۂ معاش زراعت ہونا ہے۔ گنگا، سندھ، برہم پتر، زرد، یانگزے اور دیگر دریاؤں کے ارد گرد کے علاقے انتہائی گنجان آباد ہیں۔ دوسری جانب معدنی دولت کے حصول کے لیے لوگ ایسے علاقوں میں بھی رہائش پزیر ہیں جہاں آبادی بہت کم ہے مثلاً تیل کی تلاش کے لیے عرب کے صحرا اور سائبیریا کے سرد میدان۔ 

براعظم ایشیا کے صحرا اور پہاڑی علاقے تقریباً غیر آباد ہیں خصوصاً روس میں کثافت آبادی بہت کم ہے۔ جاپان اور بھارت دنیا کے گنجان آباد ترین علاقوں میں سے ایک ہیں۔ چین دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور دنیا بھر کی آبادی کا تقریباً 20 فیصد چین میں رہتا ہے جبکہ بھارت میں بھی آبادی میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور وہ جلد چین کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ 

جہاں یہاں کی تہذیبوں کی تنوع میں پایا جاتا ہے وہیں عوام کے معیار زندگی میں بھی بہت زیادہ تفریق پائی جاتی ہے۔ ایک طرف جاپان اور مشرقی وسطی کی خلیجی ریاستوں کے عوام طرز زندگی کے اعلی معیار اپنائے ہوئے ہیں وہیں دنیا کے چند غریب ترین ممالک بھی ایشیا میں ہی پائے جاتے ہیں جن میں شمالی کوریا، بنگلہ دیش، افغانستان اور لاؤس قابل ذکر ہیں۔ ایشیا کی غریب ممالک کی معیشت کو خانہ جنگیوں، قحط، سیلاب، قدرتی آفات اور زراعت کے لیے جدید طریقۂ کار اختیار نہ کرنے کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ایشیا کی بیشتر آبادی کا ذریعۂ معاش زراعت ہے اور چند ممالک میں تو صنعتیں بہت ہی کم ہیں۔ مشرقی چین اور روس میں بھاری صنعتیں قائم ہیں لیکن سب سے صنعتی پیداوار کے لحاظ سے جاپان سرفہرست ہے۔ جاپان برقی و جدید ٹیکنالوجی کی صنعت میں عالمی قائد سمجھا جاتا ہے جبکہ تائیوان، جنوبی کوریا اور سنگاپور بھی برقی مصنوعات تیار کرتے ہیں۔ حالیہ سالوں میں تائیوان اور ملائیشیا کی معیشتوں نے بڑی ترقی کی ہے اور انہیں ایشین ٹائیگر کہا جاتا ہے۔ 

ایشیا کی زمین کا بیشتر حصہ بانجھ مٹی یا سخت یا خشک موسم کے باعث ناقابل کاشت ہے جیسے سطح مرتفع تبت، سائبیریا اور جزیرہ نما عرب کا بیشتر حصہ کاشت کے قابل نہیں۔ براعظم کی سب سے زیادہ زرخیز زمینیں چین، ہندوستان اور پاکستان میں دریاؤں کے ساتھ ساتھ واقع ہیں جہاں چاول کاشت کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ نقد فصلیں بھی کاشت کی جاتی ہیں جیسے جنوب مغربی ایشیا میں کھجوریں، جنوب مشرقی ایشیا میں ربڑ، بھارت، چین اور سری لنکا میں چائے اور جنوب مشرقی ایشیا کے جزائر میں ناریل۔ کھجوریں جزیرہ نما عرب اور ملحقہ علاقوں کی اہم نقد فصل ہے جہاں یہ زمانۂ قدیم سے کاشت ہوتی ہے۔ 

شمالی ایشیا

وسط ایشیا

جنوب مغربی ایشیا

جنوبی ایشیا

مشرقی ایشیا

جنوب مشرقی ایشیا

دوسرے براعظم




#Article 61: دل دل پاکستان (473 words)


دل دل پاکستان غالبا پاکستان کا مشہور ترین ملی نغمہ ہے۔ یہ گیت 1987ء میں منظر عام پر آیا۔ اس کو پاکستان کے مشہور عالم سابق پاپ گروپ وائٹل سائنز (Vital Signs) نے گایا۔ اس کو 1989ء میں وائٹل سائنز کی پہلی البم وائٹل سائنز 1 میں بھی شامل کیا گیا۔ اس کو پاکستان کا دوسرا قومی ترانہ بھی کہا جاتا ہے۔

دل دل پاکستان اپنے منظر عام پر آنے کے فورا بعد ہی عوام میں بے پناہ مقبول ہو گیا۔ اس کی شہرت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے اس کو عملی طور پر پاکستان کے پاپ ترانہ یا دوسرے الفاظ میں ثانوی قومی ترانہ کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔

اس کی ویڈیو پاکستان کے دار الحکومت شہر اسلام آباد میں فلمائی گئی۔ یہ ویڈیو پاکستان کی چند اولین پاپ ویڈیوز میں سے ہے۔ اپنی ہمعصر دوسری ویڈیوز کی نسبت دل دل پاکستان کی ویڈیو نہ صرف سادہ تھی بلکہ اسلام آباد کے دلکش مناظر نے اس کو چار چاند لگا دیے تھے۔

ویڈیو کے بیشتر مناظر میں وائٹل سائنز کے ارکان کو سائیکل اور کہیں کہیں ایک جیپ (گاڑی) چلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ایک منظر میں وائٹل سائنز کو ایک پہاڑی ڈھلوان پر کھڑے ہو کر گاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اختتام پر تمام ارکان ایک سٹوڈیو میں دکھائی دیتے ہیں اور اس کے بعد ویڈیو ختم ہو جاتی ہے۔

اس گیت کی شاعری پاکستان کے دوسرے ملی نغموں کی نسبت سادہ ہے اور اس میں وہ مبالغہ آرائی نہیں پائی جاتی جو پاکستانی ملی نغموں کا خاصہ رہا ہے۔ اس گیت میں سادہ الفاظ میں ایک عام پاکستانی کے اپنے وطن کے بارے میں جذبات کا اظہار کیا گیا ہے۔

دل دل پاکستان کے شاعر کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن یہ بات یقین سے کی جاسکتی ہے کہ اس گیت کو عوام تک لانے میں اس کے پیش کار شعیب منصور کا بہت بڑا ہاتھ‍ ہے، تاہم اس کے بول لکھنے والے نثار ناسک تھے۔

وائٹل سائنز کے پیشرو گلوکار جنید جمشید کے مطابق وائٹل سائنز اور شیب منصور اصل میں ایک رومانوی گانے پر غور کر رہے تھے جو کسی طرح بن نہیں پا رہا تھا، بالآخر شعیب منصور نے رومانوی گیت کا ارادہ ترک کر کے ایک ملی نغمہ پر کام کرنے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجہ میں دل دل پاکستان وجود میں آیا۔

یوں تو یہ گیت بے مثال شہرت کا حامل ہے اور وائٹل سائنز کے ٹوٹ جانے کے باوجود اب بھی ہر عوامی محفل میں جنید جمشید سے اس کی فرمائش کی جاتی ہے لیکن اس کے دو بول دل دل پاکستان، جاں جاں پاکستان شاید ہی کوئی ایسا پاکستانی ہو جو نہ جانتا ہو۔ یہی وجہ ہے اس گیت کی شہرت کے ابتدائی دنوں میں جنید جمشید کے نونہال پرستاروں نے اس کو پاکستان یا دل دل پاکستان کے نام سے پکارنا شروع کر دیا۔




#Article 62: ابو رافع (383 words)


ابو رافع کنیت کا نام ابراہیم یا اسلم ہے،آپ حضور کے آزاد کردہ غلام ہیں،آپ نسلًاقبطی ہیں، عباس بن عبد المطلب کی ملک میں تھے،انہوں نے بطور نذرانہ حضور کی ملک میں دے دیا۔ جب عباس اسلام لائے تو انہوں نے ہی حضور کو آپ کے اسلام کی خبر دی،حضور نے اس خوشی میں ان کو آزاد کر دیا۔ آپ سوائے جنگ بدر کے باقی تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے،خلافت مرتضوی میں وفات پائی۔ (مرقاۃ واشعۃ اللمعات)

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آزاد تو فرما دیا مگر ان کے دل میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جو محبت تھی، اس محبت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور نہیں ہونے دیا چنانچہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے، بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی ان کو اپنے خاندان میں شامل فرما لیا تھا، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مولى القوم من أنفسہم کہ آدمی کا آزاد کردہ غلام اس کے خاندان میں سے ہے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی شادی بھی اپنی آزاد کردہ باندی سلمٰی سے کرادی۔

کسی وجہ سے غزوہ بدر تک مکہ مکرمہ میں رہے، اس کے بعد ہجرت کی اور پھر سفر وحضر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے۔ غزوہ احد اور اس کے بعد والے غزوات میں برابر شریک ہوتے رہے، بعض سرایا میں بھی شامل رہے۔ ہر وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہونے کی بنا پر اللہ تعالٰی نے ان کو علوم کا وافر حصہ عطا فرمایا تھا جس کی وجہ سے ان سے فیضیاب ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، بہت سے صحابہ کرام تک ان سے مرجعت کرتے تھے۔ غرض یہ کہ ابو رافع اگرچہ غلاموں میں سے تھے مگر جب انہوں نے اپنے دل کو کفر وشرک سے آزاد کیا اور محبت نبی سے اپنے دل کو معمور کیا تو مرجع خلائق بن گئے۔

جی ہاں! یہ ابو رافع جن کے نام میں اختلاف ہے، کسی نے اسلم کسی نے اور کچھ کہا ہے، ان کی زندگی میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق پنہاں ہے کہ وہ غلام، بے یارومددگار اور نام ونسب کے بغیر دین وعلم کی اتنی خدمت کر گئے جن پر آزادوں کی آزادیاں قربان کی جاسکتی ہیں۔




#Article 63: بلوچی زبان (388 words)


بلوچی زبان (Balochi language) بلوچ قوم کی زبان ہے۔ ہند یورپی خاندانِ السنہ کی ایک شاخ ہند ایرانی جو مروجہ فارسی سے قبل رائج تھی، کی ایک بولی ہے۔ پاکستانی صوبہ بلوچستان ایرانی بلوچستان، سیستان، کردستان اور خلیج فارس کی ریاستوں میں بولی جاتی ہے۔

بلوچی ادب کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلا رند دور جو 1430ء سے 1600ء تک کے عرصے پر محیط ہے۔ دوسرا خوانین کا دور جس کی مدت 1600ء سے 1850ء تک ہے۔ تیسرا دور برطانوی دور جو 1850ء سے شروع ہوا اور اگست 1947ء میں تمام ہوا۔ چوتھا ہمعصر دور جس کا آغاز قیام پاکستان سے ہوا۔

رند یا کلاسیکی دور میں بلوچ شعرا نے چار بیت طرز کی رزمیہ داستانیں اور مشہور بلوچ رومان نظم کیے۔ اُس دور کے شعرا میں سردار اعظم میرچاکرخان رند، میر بیو رغ رند، سردارگوہرام لاشاری، میر ریحان رند، شے مرید، میر شہدادرند، میر جمال رند اور شے مبارک قابل ذکر ہیں۔ خوانین قلات کے دور میں خان عبد اللہ خان، جیئند رند، جام درک ڈومبکی، محمد خان گیشکوری، مٹھا خان رند اور حیدربالاچانی شعرا نے شہرت پائی۔ برطانوی دور نے ملا فضل رند ،ملاقاسم رند، مست توکلی ، رحم علی،پلیہ کھوسہ ،محمد علی چگھا،رحمن چاکرانی ،جوانسال بگتی، بہرام جکرانی، حضور بخش جتوئی ،ملاعبدالنبی رند، ملاعزت پنجگوری، نور محمد بمپُشتی، ملاابراہیم سربازی، ملا بہرام سربازی اور اسماعیل پل آبادی جیسے شعرا اور ادبا پیداہوئے۔

قیام پاکستان کے بعد بلوچی ادب کی ترقی و فروغ کے لیے موثر کوشیشیں کی گئیں۔ 1949ء میں بلوچستان رائٹر ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں آیا۔ 1951ء میں بلوچ دیوان کی تشکیل ہوئی اور بلوچی زبان کاایک ماہوار مجلہ اومان کا اجرا ہوا۔ کچھ عرصے بعد ماہنامہ بلوچی جاری کیا گیا۔ اس کے فوری بعد ماہنامہ اولس اور ہفت روزہ ’’دیر‘‘ شائع ہوئے۔ 1959ء میں بلوچی اکیڈیمی قائم ہوئی جس کے زیر اہتمام متعدد بلوچی کلاسیکی کتب شائع ہو چکی ہیں۔

ہمعصر بلوچی شعرا میں سیّد ظہور شاہ ہاشمی، عطا شاد، مراد ساحر، میرگل خان نصیر، مومن بزدار، اسحاق شمیم، ملک محمد طوقی، صدیق آزاد ،اکبر بارکزئی،مراد آوارانی، میرعبدالقیوم بلوچ، میر مٹھا خان مری اور ملک محمد پناہ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ نئی پود میں امان اللہ گچکی، نعمت اللہ گچکی، عبد الحکیم بلوچ، عبد الغفار ندیم ،اللہ بخش بزدار،قاضى مبارک ،سيدخان بزدار،عيدالغفور لغارى اور صورت خان مری نے بلوچی ادب کے ناقدین کو کافی متاثر کیا ہے۔




#Article 64: انگریزی زبان (333 words)


انگریزی (English) انگلستان سمیت دنیا بھر میں بولی جانے والی ایک وسیع زبان ہے جو متعدد ممالک میں بنیادی زبان کے طور پر بولی جاتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں ثانوی یا سرکاری زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔ انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی اور سمجھی جانے والی زبان ہے جبکہ یہ دنیا بھر میں رابطے کی زبان سمجھی جاتی ہے۔

مادری زبان کے طور پر دنیا کی سب سے بڑی زبان جدید چینی ہے جسے 70 کروڑ افراد بولتے ہیں، اس کے بعد انگریزی ہے جو اکثر لوگ ثانوی یا رابطے کی زبان کے طور پر بولتے ہیں جس کی بدولت دنیا بھر میں انگریزی بولنے والے افراد کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہو گئی ہے۔

دنیا بھر میں تقریباً 35 کروڑ 40 لاکھ افراد کی ماں بولی زبان انگریزی ہے جبکہ ثانوی زبان کی حیثیت سے انگریزی بولنے والوں کی تعداد 15 کروڑ سے ڈیڑھ ارب کے درمیان میں ہے۔ پاکستان،انڈیا اور بنگلہ دیش میں زبان آہستہ آہستہ وسعت پکڑ رہی ہے۔

انگریزی مواصلات، تعلیم، کاروبار، ہوا بازی، تفریحات، سفارت کاری اور انٹرنیٹ میں سب سے موزوں بین الاقوامی زبان ہے۔ یہ 1945ء میں اقوام متحدہ کے قیام سے اب تک اس کی باضابطہ زبانوں میں سے ایک ہے۔

انگریزی بنیادی طور پر مغربی جرمینک زبان ہے جو قدیم انگلش سے بنی ہے۔ سلطنتِ برطانیہ کی سرحدوں میں توسیع کے ساتھ ساتھ یہ زبان بھی انگلستان سے نکل کر امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ سمیت دنیا بھر میں پھیلتی چلی گئی اور آج برطانیہ یا امریکا کی سابق نو آبادیوں میں سے اکثر میں یہ سرکاری زبان ہے جن میں پاکستان، گھانا، بھارت، نائجیریا، جنوبی افریقا، کینیا، یوگینڈا اور فلپائن بھی شامل ہیں۔

سلطنتِ برطانیہ کی وسیع سرحدوں کے باوجود انگریزی 20 ویں صدی تک دنیا میں رابطے کی زبان نہیں تھی بلکہ اسے یہ مقام دوسری جنگ عظیم میں امریکا کی فتح اور دنیا بھر میں امریکی ثقافت کی ترویج کے ذریعے حاصل ہوا خصوصا ذرائع مواصلات میں تیز ترقی انگریزی زبان کی ترویج کا باعث بنی۔




#Article 65: بلوچستان (1100 words)


بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اس کا رقبہ 347190 مربع کلو میٹر ہے جو پاکستان کے کل رقبے کا43.6فیصد حصہ بنتا ہے جبکہ اس کی آبادی 1998ءکی مردم شماری کے مطابق 65لاکھ65ہزار885نفوس پر مشتمل تھی۔ اس وقت صوبے کی آبادی ایک محتاط اندازے کے مطابق90لاکھ سے ایک کروڑ کے درمیان میں ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال بلوچستان محل وقوع میں اہم ترین صوبہ ہے مگر افسوس حالیہ یو،این عالمی ادارے کے سروے کے مطابق بلوچستان دنیا کا سب سے پسماندہ اور غریب ترین علاقہ ہے اس کے شمال میں افغانستان، صوبہ خيبر پختون خوا، جنوب میں بحیرہ عرب، مشرق میں سندھ اور پنجاب جبکہ مغرب میں ایران واقع ہے۔ اس کی 832کلو میٹر سرحد ایران اور 1120کلو میٹر طویل سرحد افغانستان کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ جبکہ 760کلو میٹر طویل ساحلی پٹی بھی بلوچستان میں ہے۔

ایران میں بلوچوں کا علاقہ جو ایرانی بلوچستان کہلاتا ہے اور جس کا دار الحکومت زاہدان ہے، ستر ہزار مربع میل کے لگ بھگ ہے - بلوچوں کی آبادی ایران کی کل آبادی کا دو فی صد ہے - اس کے علاوہ افغانستان میں زابل کے علاقہ میں بھی بلوچوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے -

آثار قدیمہ کی دریافتوں سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ بلوچستان میں پتھروں کے دور میں بھی آبادی تھی۔ مہر گڑھ کے علاقہ میں سات ہزار سال قبل مسیح کے زمانہ کی آبادی کے نشانات ملے ہیں۔ سکندر اعظم کی فتح سے قبل بلوچستان کے علاقہ پر ایران کی سلطنت کی حکمرانی تھی اور قدیم دستاویزات کے مطابق یہ علاقہ ُ ماکا، کہلاتا تھا۔ تین سو پچیس سال قبل مسیح میں سکندر اعظم جب سندھو کی مہم کے بعد عراق میں بابل پر حملہ کرنے جا رہا تھا تو یہیں مکران کے ریگستان سے گزرا تھا۔ اس زمانہ میں یہاں براہوی آباد تھے جن کا تعلق ہندوستان کے قدیم ترین باشندوں، دراوڑوں سے تھا-

موجودہ پاکستانی بلوچستان امیرالمومنین عمر بن خطاب کے دور میں فتح ہوا تھا اور یہ مکمل طور پر خلافت راشدہ کے زیر اقتدار تھا۔ پورے بلوچستان میں صرف قیقن نام کا ایک قصبہ تھا جو عمر بن خطاب کی دور میں فتح نہیں ہوا تھا تاہم یہ قصبہ بھی بعد میں علی ابن ابو طالب کی دور میں فتح ہوا۔ عبد الرحمان بن سمرہ نے زمراج کو اپنا صوبائی دار الخلافہ بنایا اور وہ 654ء سے لے کر 656ء تک ان علاقوں کے گورنر رہے۔ امیرالمومنین علی بن ابی طالب کے دور میں بلوچستان کے جنوبی حصوں میں ایک بغاوت برپا ہونے لگی لیکن خانہ جنگی کے باعث 660ء تک خلیفہِ وقت علی بن ابی طالب نے ان علاقوں میں باغیوں کے خلاف کچھ نہیں کیا۔ 660ء میں علی بن ابی طالب نے حارث ابن مرہ کی قیادت میں فوج بھیجی انہوں نے بلوچستان کے شمالی علاقوں سے شروع کرتے ہوئے شمال مشرقی علاقوں تک بلوچستان فتح کیا اس کے بعد بلوچستان کے جنوبی علاقے بھی فتح کیے گئے۔

پاكستان كے ساحل كا ذيادہ تر بلوچستان كا ساحلی علاقہ ہے۔ قیام پاکستان کے وقت یہ مشرقی بنگال، سندھ، پنجاب اور صوبہ خيبر پختونخوا کی طرح برطانوی راج کا باقاعدہ حصہ نہیں تھا بلکہ 1947 تک پاکستان کا موجودہ بلوچستان کا صوبہ پانچ حصوں میں منقسم تھا۔ پانچ میں سے چار حصوں میں شاہی ریاستیں تھیں جن کے نام قلات، خاران، مکران اور لسبیلہ ایک برٹش انڈیا کا علاقہ برٹش بلوچستان تھا۔ قلات، خاران، مکران اور لسبیلہ پر برطانوی ایجنٹ بھی نگران تھے۔ قلات، لسبیلہ،خاران اور مکران کا علاقے وہی تھے جو آج بھی اسی نام کی ڈویژن کی صورت میں موجود ہیں۔ برٹش بلوچستان میں موجودہ بلوچستان کی پشتون پٹی(لورالائی، پشین، مسلم باغ، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبد اللہ، ژوب، چمن) کے علاوہ کوئٹہ اور بلوچ علاقہ ضلع چاغی اور بگٹی اور مری ایجنسی (کوہلو) کے علاقہ شامل تھے۔ اس وقت گوادر خلیجی ریاست عمان کا حصہ تھا جو خان آف قلات نے عمان کو دیا تھا۔
مکران اور لسبیلہ کے پاس سمندری پٹی تھی جبکہ باقی تین علاقہ قلات، خاران اور برٹش بلوچستان خشکی ميں گھرے تھے۔ قیام پاکستان کے وقت تین جون کے منصوبہ کے تحت برٹش بلوچستان نے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ شاہی جرگہ اور کوئٹہ میونسپل کمیٹی کے اراکین نے کرناتھا۔ اور انہوں نے پاکستان کو بھارت پر ترجیح دی جبکہ باقی چاروں علاقوں لسبیلہ، خاران، قلات اور مکران کے حکمرانوں نے بھارت یا پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کرنا تھا۔ لسبیلہ، خاران اور مکران کے حکمرانوں نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کر دیا جبکہ قلات نے ایسا نہیں کیا۔ قلات میں گو کہ خان آف قلات حکمران تھے مگر دو منتخب ایوان بھی تھے اور ان دونوں ایوانوں نے پاکستان سے الحاق کی اکثریت سے مخالفت کی تھی۔ تاہم ان ایوانوں کی حیثیت مشاورتی تھی اصل فیصلہ خان آف قلات نے ہی کرنا تھا۔ جب لسبیلہ، مکران اور خاران کے حکمرانوں نے پاکستان سے الحاق کر لیا تو قلات کی ریاست مکمل طور پر پاکستانی علاقہ میں گھر گئی۔ انگریزی میں ایسے علاقہ کو انکلیو کہا جاتا ہے۔ سب سے آخر میں مارچ 1948 میں قلات نے بھی پاکستان سے الحاق کا اعلان کر دیا۔ خان آف قلات میراحمد یار خانکے اس فیصلے کے خلاف ان کے چھوٹے بھائی شہزادہ میر عبدالکریم نے مسلح جدوجہد شروع کردی جس میں انہیں افغانستان کی پشت پناہی حاصل تھی۔ اس مسلح جدوجہد کا نتیجہ پاکستان کی فوجی کارروائی کی صورت میں نکلا۔ یہ فوجی کارروائی صرف قلات تک محدود تھی۔ کارروائی کے نتیجے میں شہزادہ میر عبدالکریم افغانستان فرار ہو گیا۔
بعد میں برٹش بلوچستان کو بلوچستان کا نام دے دیا گیا۔ جب کہ قلات، مکران، خاران اور لسبیلہ کو ایک اکائی بنا کر بلوچستان اسٹیٹس یونین کا نام دیا گیا۔ 1955 میں ون یونٹ کے قیام کے وقت برٹش بلوچستان کا نام کوئٹہ ڈویژن کر دیا گیا اور بلوچستان اسٹیٹس یونین کا نام قلات ڈویژن کر دیا گیا اور یہ دونوں علاقے مغربی پاکستان صوبے کا حصہ بن گئے۔ 1958 میں اس وقت کے وزیر اعظم ملک فیروزخان نون جن کا تعلق پنجاب سے تھا، نے عمان سے کامیاب مذاکرات کر کے گوادر کے علاقہ کی ملکیت بھی حاصل کر لی۔ 1969 میں ون یونٹ کو توڑا گیا اور چار صوبے بنے تو قلات ڈویژن، کوئٹہ ڈویژن اور گوادر کو ملا کر موجودہ صوبہ بلوچستان وجود میں آیا۔ سن چھپن کے آئین کے تحت بلوچستان کو مغربی پاکستان کے ایک یونٹ میں ضم کر دیا گیا سن ستر میں جب عام انتخابات ہوئے اس میں پہلی بار بلوچستان ایک الگ صوبہ بنا بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی فاتح رہی اور سن بہتر میں پہلی بار بلوچستان میں منتخب حکومت قائم ہوئی۔ سن 1973 تک بلوچستان گورنر جنرل کے براہ راست کنٹرول میں رہا۔

بلوچستان کے 33 اضلاع ہیں۔




#Article 66: تقلید (اصطلاح) (4245 words)


مشترک قوانین کا ایسا مجموعہ جو استنباط حکم شرعی میں فقیہ کو مسئلہ کشف کرنے کے لیے درکار ہوتا ہے

[//en.wikipedia.org/wiki/Taqlid تقلید] کا معنی لغت میں پیروی ہے اور لغت کے اعتبار سے تقلید، اتباع، اطاعت اور اقتداء کے سب ہم معنی ہیں۔
 : 758،  : 1 / 264 - 265، : ا - ت]

تقلید کے لفظ کا مادہ قلادہ ہے۔ جب انسان کے گلے میں ڈالا جائے تو ہار کہلاتا ہے۔

تقلید کا مادہ قلادہ ہے، باب تفعیل سے قلد قلادۃ کے معنی ہار پہننے کے ہیں؛ چنانچہ خود حدیث میں بھی قلادہ کا لفظ ہار کے معنی میں استعمال ہوا ہے:

حضرت عائشہ رضي الله عنہا سے مروی ہے:

(بخاری، كِتَاب النِّكَاحِ،بَاب اسْتِعَارَةِ الثِّيَابِ لِلْعَرُوسِ وَغَيْرِهَا،حدیث نمبر:4766، شامله، موقع الإسلام)
ترجمہ:انہوں نے حضرت اسماءؓ سے ہار عاریۃً لیا تھا۔

اصولین کے نزدیک تقلید کے اصطلاحی معنی:

دلیل کا مطالبہ کیے بغیر کسی امام مجتہد کی بات مان لینے اور اس پرعمل کرنے کے ہیں،

قاضی محمدعلی لکھتے ہیں:

(کشف اصطلاحات الفنون:1178)

ترجمہ: تقلید کے معنی یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی دوسرے کی قول و فعل میں دلیل طلب کیے بغیر اس کو حق سمجھتے ہوئے اتباع کرے۔

اسلام میں کسی بھی امام نے شخصی تقلید کی شرعی حیثیت بیان نہیں کی اگر دیکھا جائے تو چاروں ائمہ کرام نے صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل بیان کیے ہیں لیکن دین اسلام کے پچیدہ مسائل میں اپنی ذاتی رائے بھی شامل کی ہے اسی بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے چاروں اماموں نے اپنی تقلید کرنے سے بھی منع فرمایا ہے چنانچہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر میرا قول قرآن و حدیث کے مطابق نہ ہو تو اسے دیوار سے مار دو اسی طرح باقی ائمہ کرام کا بھی یہ موقف ہے کہ پیروی صرف قرآن و صحیح احادیث کی جائز ہے کیونکہ ائمہ اربعہ سے اجتہادی غلطیوں کا خدشہ بہرحال موجود ہے اس لیے عمل اسی بات پر کیا جائے گا جس کا حکم ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو دیا ہے اور فرد واحد کی تقلید نہیں کی جائے گی۔

جس طرح لغت کے اعتبار سے کتیا کے دودھ کو بھی دودھ ہی کہا جاتا ہے اور بھینس کے دودھ کو بھی دودھ کہتے ہیں۔ مگر حکم میں حرام اور حلال کا فرق ہے اسی طرح تقلید کی بھی دو قسمیں ہیں۔ اگرحق کی مخالفت کے لیے کسی کی تقلید کرے تو یہ مذموم ہے جیسا کہ کفار و مشرکین، خدا اور رسول ﷺ کی مخالفت کے لیے اپنے گمراہ وڈیروں کی تقلید کرتے تھے۔ اگر حق پر عمل کرنے کے لیے تقلید کرے کہ میں مسائل کا براہ راستی استنباط نہیں کر سکتا اور مجتہد کتاب و سنت کو ہم سے زیادہ سمجھتا ہے۔ اس لیے اس سے خدا و رسول ﷺ کی بات سمجھ کر عمل کرے تویہ تقلید جائز اور واجب ہے ۔

علامہ خطیب بغدادی شافعی رح (٣٩٢-٤٦٢ھ) فرماتے ہیں:

 احکام کی دو قسمیں ہیں: عقلی اور شرعی۔

عقلی احکام میں تقلید جائز نہیں، جیسے صانع عالم (جہاں کا بنانے-والا) اور اس کی صفات (خوبیوں) کی معرفت (پہچان)، اس طرح رسول الله صلے الله علیہ وسلم اور آپ کے سچے ہونے کی معرفت وغیرہ۔
عبید الله بن حسن عنبری سے منقول ہے کہ وہ اصول_دین میں بھی تقلید کو جائز کہتے ہیں، لیکن یہ غلط ہے اس لیے کہ الله تعالٰیٰ فرماتے ہیں کہ تمہارے رب کی طرف سے جو وحی آئی اسی پر عمل کرو، اس کے علاوہ دوسرے اولیاء کی اتباع نہ کرو، کس قدر کم تم لوگ نصیحت حاصل کرتے ہو(٧:٣).

اسی طرح الله تعالٰیٰ فرماتے ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ الله کی اتاری ہوئی کتاب کی اتباع کرو تو وہ لوگ کہتے ہیں یا نہیں، ہم اس چیز کی اتباع کرینگے جس پر ہم نے اپنے باپ دادہ کو پایا، چاہے ان کے باپ دادا بے عقل اور بے ہدایت ہوں(٢:١٧٠)

اسی طرح الله تعالٰیٰ فرماتے ہیں کہٹھہرالیا اپنے عالموں اور درویشوں کو خدا (یعنی الله کے واضح احکام_حلال و حرام کے خلاف ان کو حاکم - حکم دینے والا), اللہ کو چھوڑ کر۔..(٩:٣١)

دوسری قسم: احکام_شرعیہ اور ان کی دو قسمیں ہیں:

١) دین کے وہ احکام جو وضاحت و صراحت سے معلوم ہوں، جیسے نماز، روزہ، حج، زكوة اسی طرح زنا و شراب کا حرام ہونا وغیرہ تو ان میں تقلید جائز نہیں ہے کیونکہ ان کے جاننے میں سارے لوگ برابر ہیں، اس لیے ان میں تقلید کا کوئی معنی نہیں۔

٢) دین کے وہ احکام جن کو نظر و استدلال کے بغیر نہیں جانا جاسکتا، جیسے: عبادات، معاملات، نکاح وغیرہ کے فروعی مسائل، تو ان میں تقلید کرنی ہے۔

اللّہ تعالٰیٰ کے قول پس تم سوال کرو اہل_علم (علما) سے، اگر تم نہیں علم رکھتے(١٦:٤٣، ٢١:٧) کی دلیل سے .

اور وہ لوگ جن کو تقلید کرنی ہے (یہ) وہ حضرات ہیں جن کو احکام_شرعیہ کے استنباط (٤:٨٣) کے طریقے معلوم نہیں ہیں، تو اس کے لیے کسی عالم کی تقلید اور اس کے قول پر عمل کے بغیر چارہ نہیں ہے۔ الله تعالٰیٰ کا ارشاد ہے: پس تم سوال کرو اہل_علم (علما) سے، اگر تم نہیں علم رکھتے(١٦:٤٣، ٢١:٧)

حضرت ابن_عباس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی رسول الله صلے الله علیہ وسلم کے دور میں زخمی ہو گئے، پھر انھیں غسل کی حاجت ہو گئی، لوگوں نے انھیں غسل کا حکم دے دیا جس کی وجہ سے ان کی موت ہو گئی۔ اس کی اطلاع نبی صلے الله علیہ وسلم کو ہوئی تو آپ نے فرمایا: الله ان کو قتل (برباد) کرے کہ ان لوگوں نے اس کو قتل کر دیا۔، ناواقفیت کا علاج (اہل_علم سے ) دریافت کرنا نہ تھا؟...الخ (سنن أبي داود » كِتَاب الطَّهَارَةِ » بَاب فِي الْمَجْرُوحِ يَتَيَمَّمُ، رقم الحديث: ٢٨٤(٣٣٦)

دوسری اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ اہل_اجتہاد میں سے نہیں ہے تو اس پر تقلید ہی فرض ہے۔ جیسے نابینا، جس کے پاس ذریعہ_علم نہیں ہے تو قبلے کے سلسلے میں اس کو کسی دیکھنے والے(بینا) کی بات ماننی ہوگی۔

مومن (اسلام کے ماننے والے) باپ دادا کی اتباع:
اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی (راہ) ایمان میں ان کے پیچھے چلی۔ ہم ان کی اولاد کو بھی ان (کے درجے) تک پہنچا دیں گے۔..(٥٢:٢١)

تقلید کی دوقسمیں ہیں: (1) تقلیدِ مطلق (2) تقلیدِ شخصی۔

تقلید مطلق سے مراد یہ ہے کہ مسائل و احکام کی تحقیق میں انسان کسی ایک فقیہ کا پابند ہوکر نہ رہ جائے؛ بلکہ مختلف مسائل میں مختلف اصحاب علم سے فائدہ اٹھائے، یہ تقلید ہر زمانہ میں ہوتی رہی ہے، خود قرآن اس تقلید کا حکم دیتا ہے، ارشادِ خداوندی ہے:

ترجمہ:اے ایمان والو! اللہ اور رسول اللہ (صلی الله علیہ وسلم) کی اطاعت کرو اور تم میں جوصاحب امر ہیں ان کی اطاعت کرو۔

اس آیتِ کریمہ میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کے بعد أُولِي الْأَمْرِ کی اتباع کا حکم فرمایا گیا ہے أُولِي الْأَمْرِ سے کون لوگ مراد ہیں؛ اگرچہ اس میں علما کی رائیں مختلف ہیں؛ لیکن اکثرمفسرین اس سے فقہا اور علما مراد لیتے ہیں، حاکم نے حضرت عبد اللہ ابن جابر کا قول نقل کیا ہے:

ترجمہ: أُولِي الْأَمْرِ سے مراد اصحابِ فقہ وخیر ہیں۔

ترجمان القرآن میں حضرت ابن عباسؓ کی بھی یہی تفسیر نقل کی گئی ہے:

ترجمہ: أُولِي الْأَمْرِ سے اصحاب فقہ اور اہلِ دین مراد ہیں۔

فَإِن تَنٰزَعتُم فى شَيءٍ فَرُدّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسولِ إِن كُنتُم تُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ ۚ ذٰلِكَ خَيرٌ وَأَحسَنُ تَأويلًا {4:59}

پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو لوٹاؤ طرف اللہ کے اور رسول کے اگر یقین رکھتے ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر یہ بات اچھی ہے اور بہت بہتر ہے اس کا انجام۔

مفسر امام ابو بکر جصاص رح نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہیں کہ:

...پس تم سوال کرو اہل_علم (علما) سے، اگر تم نہیں علم رکھتے۔

اس آیت میں یہ اصولی ہدایت دیدی گئی ہے کہ جو لوگ کسی علم و فن کے ماہر نہ ہوں، انھیں چاہیے کہ اس علم و فن کے ماہرین سے پوچھ پوچھ کر عمل کر لیا کریں، یہی چیز تقلید کہلاتی ہے چنانچہ علامہ آلوسی بغدادی (الحنفی) رح اس طرح فرماتے ہیں:
اور اس آیت میں اس بات پر بھی استدلال کیا گیا ہے جس چیز کا علم اسے خود نہ ہو اس میں علما سے رجوع کرنا واجب ہے۔ اور علامہ جلال الدین السیوطی (الشافعی) رح اقلیل میں لکھتے ہیں کہ اس آیت میں اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ عام آدمیوں کے لیے فروعی مسائل میں تقلید جائز ہے۔[تفسیر روح المعانی: ١٤/١٤٨،سورہ النحل]

حضرت جابر (رضی الله عنہ) سے روایت ہے رسول الله صلے الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عالم (دینی بات جاننے والے) کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ جانتے ہوئے خاموش رہے اور جاہل (نہ جاننے والے) کے لیے مناسب نہیں ہے کہ اپنی جہالت پر خاموش رہے۔
الله تعالٰیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
... پس تم سوال کرو اہل_علم (علما) سے، اگر تم نہیں علم رکھتے۔ (النحل:٤٣)
[المعجم الأوسط للطبراني » بَابُ الْمِيمِ » مَنِ اسْمُهُ : مُحَمَّدٌ، رقم الحديث: ٥٥١١(٥٣٦٥) بحوالہ تفسیر_در_منثور]
تابعین میں، جیسے عطاء، حسن بصریؒ وغیرہ سے بھی أُولِي الْأَمْرِ کے معنی اہلِ علم اور اصحاب فقہ کے منقول ہیں، آیتِ مذکورہ کے علاوہ قرآن پاک کی بعض اور آیات (النساء، التوبۃ) میں بھی اس کی طرف اشارہ موجود ہے، حدیثیں تواس پرکثرت سے شاہد ہیں اور صحابہ م اجمعین کا طرزِ عمل بھی تقلید مطلق کی تائید میں ہے۔

تقلید کی دوسری قسم تقلید شخصی ہے، یعنی کسی ناواقف عامی (غیر عالم شخص) کا کسی متعین شخص کے علم و کمال پر بھروسا کر کے اسی کے بتائے ہوئے طریقہ کار پر عمل کرنے کو تقلید شخصی کہتے ہیں۔

مشہور حدیث ہے کہ رسول اللہ (صلی الله علیہ وسلم) نے حضرت معاذ ابنِ جبل کو یمن کا حاکم بناکر بھیجا؛ تاکہ وہ لوگوں کو دین کے مسائل بتائیں اور فیصلہ کریں:

[سنن ابوداؤد:جلد سوم: فیصلوں کا بیان :قضاء میں اپنی رائے سے اجتہاد کرنے کا بیان;
(جامع ترمذی، كِتَاب الْأَحْكَامِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَاب مَاجَاءَ فِي الْقَاضِي كَيْفَ يَقْضِي،حدیث نمبر:1249، شاملہ، موقع الإسلام]

ترجمہ: جب حضور اکرم نے حضرت معاذ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجنے کا ارادہ کیا فرمایا تم کس طرح فیصلہ کرو گے جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ پیش ہو جائے انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا آپ نے فرمایا اگر تم اللہ کی کتاب میں وہ مسئلہ نہ پاؤ تو فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر سنت رسول میں بھی نہ پاؤ تو اور کتاب اللہ میں بھی نہ پاؤ تو انہوں نے کہا کہ اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور اس میں کوئی کمی کوتاہی نہیں کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سینہ کو تھپتھپایا اور فرمایا کہ اللہ ہی کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس نے اللہ کے رسول کے رسول (معاذ) کو اس چیز کی توفیق دی جس سے رسول اللہ راضی ہیں۔

پس گویا اہلِ یمن کو حضرتِ معاذؓ کی شخصی تقلید کا حکم دیا گیا۔

درج بالہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر مجتہد کوئی مسئلہ کتاب و سنت میں نہ پائے تو اجتہاد کر سکتا ہے اور لوگوں کے لیے اس کی اتباع و تقلید ضروری ہوگی۔

مثال کے طور پر چند جدید مسائل_اجتہادیہ؛ جن کا واضح حکم نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں:

١. ٹیلیفون کے ذریعے نکاح

٢. انتقال_خون(خون کا کسی مریض کو منتقل کرنا)

٣. اعضاء کی پیوند-کاری

٤. حالت_روزہ میں انجیکشن کا مسئلہ

٥. لاؤڈ-اسپیکر پر اذان کا مسئلہ

٦. ڈیجیٹل تصویر کا مسئلہ وغیرہ

ظاہر ہے مسائل اجتہاديہ میں مجتہد کی ہی تقلید کی جائے گی اور مجتہد کا اعلان ہے کہ

 قیاس مظہر لامثبت (شرح عقائد نسفی)

یعنی ہم کوئی مسئلہ اپنی ذاتی رائے سے نہیں بتاتے بلکہ ہر مسئلہ کتاب و سنت و اجماع سے ہی ظاہر کر کے بیان کرتے ہیں

مسائل اجتہادیہ میں کتاب وسنت پر عمل کرنے کے دو ہی طریقے ہیں:

جو شخص خود مجتہد ہو گا وہ خود قواعد اجتہادیہ سے مسئلہ تلاش کر کے کتاب و سنت پر عمل کرے گا

اور غیر مجتہد یہ سمجھ کر کہ میں خود کتاب و سنت سے مسئلہ استنباط کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا، اس لیے کتاب و سنت کے ماہر سے پوچھ لوں کہ میں کتاب و سنت کا کیا حکم ہے۔ اس طرح عمل کرنے کو تقلید کہتے ہیں۔ اور مقلد ان مسائل کو ان کی ذاتی رائے سمجھ کرعمل نہیں کرتا بلکہ یہ سمجھ کر کہ مجتہد نے ہمیں مراد خدا اور مراد رسول ﷺ سے آگاہ کیا ہے۔

 ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا:

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنِي أَبُو حَسَّانَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، وَرَّثَ أُخْتًا وَابْنَةً فَجَعَلَ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا النِّصْفَ، وَهُوَ بِالْيَمَنِ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَيٌّ .(تیسیر کلکتہ : صفحہ#٣٧٩، کتاب الفرائض، فصل ثانی)

ترجمہ: أسود بن يزيد سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ ہمارے پاس معاذ (بن جبل رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ) یمن میں معلم اور امیر ہو کر آئے تو ہم نے ان سے اس شخص کے متعلق پوچھا جو فوت ہو گیا اور ایک بیٹی اور ایک بہن چھوڑ کر گیا تو انہوں نے بیٹی کو نصف اور بہن کو نصف دلایا۔

فائدہ:
اس حدیث سے تقلید_شخصی ثابت ہوتی ہے اور وہ بھی حیات_رسول الله صلے الله علیہ وسلم میں۔ کیونکہ جب رسول الله صلے الله علیہ وسلم نے تعلیم_احکام اور فیصلوں کے لیے قاضی مقرر کرتے حضرت معاذ (رضی الله عنہ) کو یمن بھیجا تو يقينا اہل_یمن کو اجازت دی کہ ہر مسئلے میں ان سے رجوع کریں اور یہی تقلید_شخصی ہے، جیسا ابھی اوپر بیان ہوا۔

[صحيح مسلم » كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ » بَاب مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ ...رقم الحديث: 4405(2388)]

ترجمہ: حضرت محمد بن جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کا سوال کیا تو آپ نے اس عورت کو دوبارہ آنے کے لیے فرمایا، اس عورت نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میں پھر آؤں اور آپ کو (موجود) نہ پاؤں؟ (یعنی آپ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہوں تو؟) آپ نے فرمایا اگر تو مجھے نہ پائے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ کے پاس آ جانا (اس حدیث سے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ کی خلافت بلا فصل اور تقلید_شخصی ثابت اور واضح ہے، اس عورت کو آپ صلے الله علیہ وسلم سے مسئلہ ہی تو پوچھنا تھا۔[جن احادیث میں سوال کا لفظ واضح لکھا ہے:

فائدہ:

[صحيح البخاري » كِتَاب الْفَرَائِضِ » بَاب مِيرَاثِ ابْنَةِ الِابْنِ مَعَ بِنْتٍ، رقم الحديث: 6269]

ترجمہ: حضرت هذيل بن شرحبيل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ رضی الله عنہ سے ایک مسئلہ پوچھا گیا پھر وہی مسئلہ حضرت ابن_مسعود رضی الله عنہ سے پوچھا گیا اور حضرت ابو موسیٰ رضی الله عنہ کے فتویٰ کی بھی ان کو خبر دی گئی تو انہوں نے اور طور سے فتویٰ دیا، پھر ان کے فتویٰ کی خبر حضرت ابو موسیٰ رضی الله عنہ کو دی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ جب تک یہ عالم متبحر تم لوگوں میں موجود ہیں تم مجھ سے مت پوچھا کرو۔- روایت کیا اس کو بخاری، ابو داود اور ترمذی نے

فائدہ:
حضرت ابو موسیٰ رضی الله عنہ کے اس فرمانے سے کہ ان کے ہوتے ہوئے مجھ سے مت پوچھو، ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ہر مسئلہ میں ان سے پوچھنے کے لیے فرمایا ہے اور یہی تقلید_شخصی ہے کہ ہر مسئلہ میں کسی مرجح کی وجہ سے کسی ایک عالم سے رجوع کر کے عمل کرے۔

اس بات میں ذرہ برابر بھی گنجائش نہیں کہ نبی صلے الله علیہ وسلم کے جملہ صحابہ کرام رضی الله عنہ شرف_صحبت_نبوی کے فیض و برکت سے سب کے سب عادل، ثقه، متقی، خدا-پرست اور پاکباز تھے، مگر فہم_قرآن، تدبر_حدیث اور تفقہ فی الدین میں سب یکساں نہ تھے، بلکہ اس لحاظ سے ان کے آپس میں مختلف درجات اور متفاوت مراتب تھے۔

امام الفقیہ اور احد الاعلام حضرت امام مسروق رح (المتوفی ٢٣-ہجری) سے مروی ہے کہ میں نے اصحاب_رسول الله صلے الله علیہ وسلم کے علم کی خوشبو حاصل کی تو میں نے ان کے علم کی انتہا چھ (٦) پر پائی، حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبد الله، حضرت معاذ(بن جبل)، حضرت ابو درداء اور حضرت زید بن ثابت رضی الله عنہم۔ میں نے ان کے علم کی خوشبو پائی تو مجھے تو مجھے ان کے علم کی انتہا حضرت علی اور حضرت عبد الله (بن مسعود) رضی الله عنہم پر ملی۔، تذكرة الحفاظ:١/٢٤ و مقدمه ابن صلاح:٢٦٢ مع شرح العراقي، مستدرك حاكم:٣/٤٦٥ اور اس روایت پر امام حاکم اور امام ذہبی رح خاموش رہے یعنی جرح نہیں فرمائی]

معلوم ہوا کہ صحابہ_کرام رض بھی فقہ_دین (قرآن=٩:١٢٢) پر عمل-پیرا تھے اور اپنے دور کے چھ بڑے معتبر اصحاب کی تقلید کرتے تھے۔ کتب_احادیث مصنف عبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، تہذیب الآثار طبری، شرح معانی الآثار طحاوی، کتاب الآثار امام محمّد، کتاب الآثار امام ابی یوسف میں صحابہ اور تابعین کے ہزا رہا فتاویٰ درج ہیں جن کے ساتھ دلائل مذکور نہیں، انہوں نے بلا-ذکر_دلیل یہ فتاویٰ صادر فرماتے اور سب لوگوں نے بلا-مطالبہ_دلیل ان پر عمل کیا، یہ عمل اسلام میں پہلے دن سے آج تک تواتر سے ثابت ہے۔

اسی لیے امام غزالی (شافعی) رح فرماتے ہیں: تقلید تو اجماع_صحابہ سے بھی ثابت ہے، کیونکہ وہ عوام کو فتویٰ دیتے اور عوام کو یہ حکم نہیں دیتے تھے کہ تم (خود عربی دان ہو) اجتہاد کرو اور یہ بات ان کے علما اور عوام کے تواتر سے مثل_ضروریات_دین ثابت ہے [المستصفى:٢/٣٨٥]

ائمہ اربعہ میں کسی ایک کی تقلید پر امت کا اجماع ہوچکا ہے اور امت کے اجماع کی دو صورتیں ہیں:

اول یہ کہ امت کے قابل قدر علما متفق ہوکر یہ کہیں کہ ہم نے اس مسئلہ پر اجماع کر لیا ہے، جب کہ مسئلہ کا تعلق قول سے ہو یا اگر مسئلہ کا تعلق کسی فعل سے ہے تو وہ اس فعل پر عمل شروع کر دیں۔

دوسری صورت یہ ہے کہ امت کے کچھ بڑے علما مذکورہ طریقہ پر اجماع کریں اور دوسرے قابل قدر علما اس پر سکوت کریں اور اس پر ان کی طرف سے کوئی رد نہ ہو اس کو اجماعِ سکوتی کہتے ہیں۔

اجماع کی یہ دونوں صورتیں معتبر ہیں۔ نور الانوار میں ہے: رکن الإجماع نوعان: عزیمة وھو التکلم منھم بما یوجب الاتفاق أي اتفاق أي الکل علی الحکم بأین یقولوا أجمعنا علی ھذا إن کان ذلک الشيء من باب القول أو شروعھم في الفعل إن کان من بابہ․ ورخصة: وھو أن یتکلم أو یفعل البعض دون البعض وسکت الباقون منھم ولا یردون بعد مضي مدة التأمل وھی ثلاثة أیام ومجلس العلم ویسمی ھذا إجماعا سکوتیًا وھو مقبول عندنا: 219۔

چنانچہ جب علما نے دیکھا کہ جو تقلید کا منکر ہوتا ہے وہ شتر بے مہار کی طرح زندگی بسر کرتے ہوئے اپنی خواہشات پر عمل کرتا ہے، اس لیے علما نے ائمہ اربعہ میں کسی ایک کی تقلید پر اجماع کیا، اگرچہ ان کا یہ اجماع ایک جگہ متفق ہوکر نہیں ہوا؛ لیکن ان سب کے ائمہ اربعہ میں کسی ایک کی تقلید کرنے اور عدم تقلید پر نکیر کرنے کی وجہ سے یہ اجتماع منعقد ہوا ہے، چنانچہ اس سلسلہ میں بہت سے بڑے بڑے علما نے عدم تقلید پر اپنی آراء کا اظہار کیا اور امت کے سامنے عدم تقلید کے مفاسد کو کھل کر بیان کیا۔ اس کی چند مثالیں یہ ہیں:

وعلی ھذا ما ذکر بعض المتأخرین منع تقلید غیر الأربعة لانضباط مذاھبھم وتقلید مسائلھم وتخصیص عمومہا ولم یدر مثلہ في غیر ہم الآن لانقراض اتباعھم وہو صحیح۔

ترجمہ: اور اسی بنیاد پر ائمہ اربعہ ہی کی تقلید متعین ہے نہ کہ دوسرے ائمہ کی، اس لیے کہ ائمہ اربعہ کے مذاہب مکمل منضبط ہو گئے ہیں اور ان مذاہب میں مسائل تحریر میں آچکے ہیں اور دوسرے ائمہ کے مذاہب میں یہ چیز نہیں ہے اور ان کے متبعین بھی ختم ہوچکے ہیں اور تقلید کا ان یہ چار اماموں میں منحصر ہوجانا صحیح ہے۔ (التحریر في اصول الفقہ: 552)

وما خالف الأئمة الأربعة فھومخالف للإجماع

یعنی ائمہ اربعہ کے خلاف فیصلہ اجماع کے خلاف فیصلہ ہے۔ (الأشباہ: 131)

أما في زماننا فقال أئمتنا لا یجوز تقلید غیر الأئمة الأربعة: الشافعي ومالک وأبي حنیفة وأحمد رضوان اللہ علیھم أجمعین

یعنی ہمارے زمانے میں مشائخ کا یہی قول ہے کہ ائمہ اربعہ یعنی امام شافعی، مالک، ابوحنیفة اور احمد ہی کی تقلید جائز ہے اور ان کے علاوہ کسی اور امام کی جائز نہیں (فتح المبین 166)

و أما في ما بعد ذلک فلا یجوز تقلید غیر الأئمة الأربعة

یعنی دورِ اول کے بعد ائمہ اربعہ کے سوا کسی کی تقلید جائز نہیں۔ (الفتوحات الوہبیہ: 199)

فإن أھل السنة والجماعة قد افترق بعد القرن الثلثة أو الأربعة علی أربعة المذاھب، ولم یبق في فروع المسائل سوی ھذہ المذھب الأربعة فقد انعقد الإجماع المرکب علی بطلان قول من یخالف کلھم․ یعنی تیسری یا چوتھی صدی کے فروعی مسائل میں اہل سنت والجماعت کے مذاہب رہ گئے، کوئی پانچواں مذہب باقی نہیں رہا، پس گویا اس امر پر اجماع ہو گیا کہ جو قول ان چاروں کے خلاف ہے وہ باطل ہے (تفسیر مظہری:2/64)

وھذہ المذاھب الأربعة المدونة المحررة قد اجتمعت الأمة أو من یعتد بھا منھا علی جواز تقلیدھا إلی یومنا ھذا یعنی یہ مذاہب اربعہ جو مدون ومرتب ہو گئے ہیں، پوری امت نے یا امت کے معتمد حضرات نے ان مذاہب اربعہ مشہورہ کی تقلید کے جواز پر اجماع کر لیا ہے۔ (اور یہ اجماع) آج تک باقی ہے۔ (حجة اللہ البالغہ: 1/361)# شارح مسلم شریف علامہ نووی فرماتے ہیں:

أما الاجتہاد المطلق فقالوا اختتم بالأئمة الأربعة الخ یعنی اجتہاد مطلق کے متعلق علما فرماتے ہیں کہ ائمہ اربعہ پر ختم ہو گیا حتی کہ ان تمام مقتدر محققین علما نے ان چار اماموں میں سے ایک ہی امام کی تقلید کو امت پر واجب فرمایا ہے اور امام الحرمین نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ (نور الہدایہ: 1/10)

اصول دین یعنی عقائد میں تقلید جائز نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اصول دین میں ظن اور گمان پر اکتفا نہیں کیا جا سکتا ہے، اس لیے کہ اعتقاد، دلیل و یقین محکم کا نام ہے اس کے برعکس احکام اور فروع دین میں تقلید کافی ہے،
قابل ذکر بات ہے کہ اسلامی عقائد اور اعتقادات کے دو حصے ہیں- اس کا ایک حصہ اصول دین ہے اور اس کا اعتقاد رکھنا ضروری ہے، اسلام کے محقق ہونے اور ایک انسان کے مسلمان ہونے کے لیے اس کی ضرورت ہوتی ہے ،مثلاًتوحید ورسالت کا اقرار-اللہ تعالیٰ کے وجود کا اعتقاد یا انبیا علیهم السلام کی نبوت اور حضرت محمد صلی الله علیه وآلہ وسلم کی رسالت کا اعتقاد، معاد و قیامت کا اعتقاد کہ انسان مرنے کے بعد دوباره زنده ہوں گے، تاکہ اپنے اعمال کی جزا پا سکیں، جیسے اصولوں پر اعتقاد رکھنا علم و یقین پر مبنی ہونا ہے، اس سلسلہ میں گمان اور دوسروں کی تقلید کرنا کافی نہیں ہے-
عقائد کا دوسرا حصہ، اصول دین کی تفصیل اور جزئیات ہیں، مثال کے طور پر کہ کیا اللہ تعالیٰ کی صفات اس کی عین ذات ہیں؟ اللہ تعالیٰ کی صفات کی کتنی قسمیں ہیں، صفات فعلی کے کیا معنی ہیں؟ اشیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علم کی
کیفیت کیا ہے کیا نبوت میں عصمت ضروری ہے یا نہیں؟ عصمت کے حدود کیا ہیں؟ کیا معاد جسمانی ہے یا روحانی؟ بہشت کی کیفیت کیا ہے؟ کیا اهل دوزخ ہمیشہ دوزخ میں ہوں گے یا نہیں؟ مشرکانہ باتیں کیا ہیں ،کفریہ اعمال کیا ہیں -
اگرچہ یہ بھی عقائد و اعتقادات میں شمار ہوتے ہیں، جن کو ہم اعتقاد کے فروعی مسائل کہہ سکتے ہیں ان فروعی مسائل میں ہم باعتبار تعلیم ہم کسی مستند اور معتبر عالم کی اقتدا کرسکتے ہیں۔
۔ واضح ہے کہ انسان، اصول دین کے بارے میں اعتقاد اور یقین حاصل کرنے کے لیے ۔۔۔ تعبدی و نقلی دلیل کے عنوان سے ۔۔۔ آیات و روایات کی طرف رجوع نهیں کر سکتا ہے، کیونکہ اس صورت میں تسلسل لازم آتا ہے- اس کے برخلاف احکام اور فروع دین کو آیات و روایات کی طرف رجوع کیے بغیر حاصل کرنا ممکن نہیں ہے- اس بنا پر، عقائد کا احکام سے موازنہ کرنا ایک بے جا موازنہ ہے- جس چیز کو احکام اور فروعات سے موازنہ کیا جا سکتا ہے، وہ عقائد کی تفصیلات اور جزئیات ہیں کہ ان میں تقلید کرنا جائز ہے، اگرچہ ان میں سے بہت سی چیزوں میں تقلید کرنا واجب اور ضروری نہیں ہے-
مجتہد کی طرف رجوع کرنے اور مرجع تقلید کو پہچاننے کے سلسلہ میں دَور اور تسلسل لازم نهیں آتا ہے، کیونکہ مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کے لیے علم و فقہ میں مہارت اور اس مجتہدکے ساتھ معاشرت کی ضرورت نهیں ہے، بلکہ معاشره میں شائع ہونے اور مشہور ہونے یا چند قابل اعتماد افراد کے بیان جیسی راہوں سے بھی مجتہد و
اعلم کوپہچانا جا سکتا ہے-

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو یہ چاہتا ہے کہ اس کی حیات انبیا جیسی ہو اور موت شہیدوں جیسی ہو اور رحمان کی بنائی ہوئی جنت اس کا ٹھکانہ ہو تو اس پر لازم ہے کہ اقرار ولایت کے ساتھ علی سے محبت کرے اور اس کے بعد آنے والے ائمہ کی تقلید کرے یہ تمام میری عترت اور طینت سے خلق ہوئے ہیں۔ اے اللہ ان کو میرا علم و فہم عطا کر اور ان کے جو مخالفین میری امت میں ہیں ان کو جہنم میں داخل کر دے اور اے اللہ ان مخالفین کو تو میری شفاعت سے محروم کر دے۔




#Article 67: پنجاب، پاکستان (532 words)


پنجاب پاکستان کا ایک صوبہ ہے جو آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ پنجاب میں رہنے والے لوگ پنجابی کہلاتے ہیں۔ پنجاب جنوب کی طرف سندھ، مغرب کی طرف خیبرپختونخواہ اور بلوچستان،lrm;شمال کی طرف کشمیر اور اسلام آباد اور مشرق کی طرف ہندوستانی پنجاب اور راجستھان سے ملتا ہے۔ پنجاب میں بولی جانے والی زبان بھی پنجابی کہلاتی ہے۔ پنجابی کے علاوہ وہاں اردو، سرائیکی اور رانگڑی بھی بولی جاتی ہے۔ پنجاب کا دار الحکومت لاہور ہے۔

پنجاب فارسى زبان كے دو لفظوں پنج بمعنی پانچ(5) اور آب بمعنی پانی سے مل کر بنا ہے۔ 
ان پانچ درياؤں كے نام ہيں:

پنجاب کا صوبائی دار الحکومت لاہور، پاکستان کا ایک ثقافتی، تاریخی اور اقتصادی مرکز ہے جہاں ملک کی سنیما صنعت اور اس کے فیشن کی صنعت ہے۔

عید الفطر، عید الاضحی، شبِ برات اور عید میلاد النبی پنجاب کے علاوہ پورے پاکستان میں خاص تہوار ہیں اور پورے جوش و خروش سے منائے جاتے ہیں۔ ان تہواروں کے علاوہ رمضان کا پورا مہینہ بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔
مگر بسنت ایک ایسا تہوار ہے جو پنجاب سے منسلک ہے۔ یہ تہوار بہار کے موسم کو خوش آمدید کہنے کا ایک خاص طریقہ ہے۔ جس میں لوگ پتنگ اڑا کر اور پنجاب کے خاص کھانے بن ا کر اور کھا کراس تہوار کو مناتے ہیں۔ مگر بہت سے لوگ بسنت منانے کے خلاف ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے کئی معصوم لوگ اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

پنجاب رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا دوسرا بڑا صوبہ ہے جبکہ آبادی کے لحاظ سے پہلا۔ پنجاب کی صوبائی سرحد گلگت بلتستان کے سوا تمام دیگر پاکستانی علاقوں اور صوبوں سے ملتی ہے۔ پنجاب کے شمال میں وفاقی دارالحکومت،اسلام آباد، شمال مغرب میں صوبہ خیبر پختونخوا ہے ،مغرب میں قبائلی علاقوں کا چھوٹا سا حصہ،جنوب میں صوبہ سندھ، جنوب مغرب میں بلوچستان ہے۔ پنجاب کا صوبائی دار الحکومت لاہور ہے جو برطانوی دور کے بڑے پنجاب کا بھی دار الحکومت رہا ہے۔ پنجاب کی جغرافیہ میں سب سے خاص بات یہ ہے کہ پاکستان کے پانچوں بڑے دریاؤں کا گھر ہے۔ وہ پانچ دریا یہ ہیں:

اس کے علاوہ اس خطے میں ریگستان بھی موجود ہیں جو پاک بھارت سرحد کے قریب ہیں خاص طور پر بھارتی صوبے راجستھان کے پاس۔ دیگر ریگستانوں میں صحرائے تھل اور صحرائے چولستان شامل ہیں۔

فروری سے پہلے پنجاب میں بہت سردی ہوتی ہے اور پھر اس مہینے سے موسم میں تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہے اور موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے۔ فروری سے اپریل تک بہار کا موسم رہتا ہے اور پھر گرمی شروع ہونے لگتی ہے۔

گرمی کا موسم مئی سے شروع ہوتا ہے تو اکتوبر کے آخر تک رہتا ہے۔ جون اور جولائی سب سے زیادہ گرم مہینے ہیں۔ سرکاری معلومات کے مطابق پنجاب میں C° 46 تک درجہ حرارت ہوتا ہے مگر اخبارات کی معلومات کے مطابق پنجاب میںC°51 تک درجہ حرارت پہنچ جاتا ہے۔ سب سے زیادہ گرمی کا ریکارڈ ملتان میں جون کے مہینے میں قلمبند کیا گیا جب عطارد کا درجہ حرارت   C°54 سے بھی آگے بڑھ گیا تھا۔ اگست میں گرمی کا زور تھوڑا ٹوٹ جاتا ہے اور پھر اکتوبر کے بعد پنجاب میں شدید سردی کا موسم شروع ہوجاتا ہے۔




#Article 68: مغلیہ سلطنت (1638 words)


مغلیہ سلطنت 1526ء سے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کی بنیاد ظہیر الدین بابر نے 1526ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی، یعنی موجودہ دور کے افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک پر مشتمل خطے پر انکا دور دورہ تھا۔-

سلطنتِ مغلیہ کا بانی ظہیر الدین بابر تھا، جو تیمور خاندان کا ایک سردار تھا۔ ہندوستان سے پہلے وہ کابل کا حاکم تھا۔ 1526ء کو سلطنتِ دہلی کے حاکم ابراہیم لودھی کے خلاف مشہورِ زمانہ پانی پت جنگ میں بابر نے اپنی فوج سے دس گُنا طاقتور افواج سے جنگ لڑی اور انہیں مغلوب کر دیا کیونکہ بابر کے پاس بارود اور توپیں تھیں جبکہ ابراہیم لودھی کے پاس ہاتھی تھے جو توپ کی آواز سے بدک کر اپنی ہی فوجوں کو روند گئے۔ یوں ایک نئی سلطنت کا آغاز ہوا۔ اس وقت شمالی ہند میں مختلف آزاد حکومتیں رائج تھیں۔ علاوہ ازیں وہ آپس میں معرکہ آرا تھے۔

یہ بات واضح ہے کہ مغل سلطنت کا سرکاری مذہب اسلام تھا تاہم اکبراعظم کے دور میں کچھ عرصے تک اکبر کا ایجاد کردہ مذہب (دین الٰہی ) رائج کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن اس کا عوام پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ بہت جلد ہی ختم ہو گیا۔ باقی تمام شہنشاہوں کے دور میں اسلام ہی سرکاری مذہب تھا اور مغل شہنشاہان اسلام کے بہت پابند ہوا کرتے تھے۔ ان میں اورنگزیب عالمگیر زیادہ شہرت رکھتے تھے۔ باقی شہنشاہ بھی اسلام کی پیروی کے لحاظ سے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف اسلامی قوانین رائج کیے اور اسلامی حکومت کو برصغیر کے کونے کونے میں پھیلانے کی بھرپور کوشش کی۔

مغل ثقافت بھی عمومًا اسلام پر مشتمل تھی۔

چغتائی ترکی مغل سلطنت کے بانی ظہیر الدین محمد بابر کی مادری زبان قرار دی جاتی ہے۔ اس زبان میں مغل سلطنت کے دفتری امور تو سر انجام نہیں دئے جاتے تھے اور نہ ہی سلطنت کے لیے اہمیت رکھتی تھی تاہم بابر اس میں شعر و شاعری لکھتے تھے۔

فارسی کو مغل سلطنت میں دفتری اور رسمی زبان تھی لیکن جب اردو زبان وجود میں آئی تو اردو دفتری زبان بنی۔

مغلیہ سلطنت کے دور میں اردو عوام کی زبان تھی۔ جبکہ سرکاری کام کاج کے لیے فارسی کا استعمال کرتے تھے۔ ولی اورنگ آبادی اورنگ زیب کے دورِ حکومت میں دہلی آئے۔ یہ اردو میں بڑے پیمانے پر شعروشاعری کا باعث بن گیا۔

تیموری روایت تھی کہ بادشاہ کہ مرنے کے بعد شاہی تخت کا وارث بادشاہ کا بڑا بیٹا ہی ہو لیکن تخت کی لالچ نے اس روایت کو روند ڈالا۔ایک بادشاہ کے مرنے کے بعد اس کے بیٹوں اور رشتہ داروں کے درمیان جنگ چھڑ جاتی جو شہزادہ اپنے حریفوں کو شکست دے دیتا وہ تخت مغلیہ کا وارث بن جاتا۔ بابر کو اپنے ماموں اور چچا سے لڑنا پڑا، اس کا بھائی جہانگیر مرزا بھی اس کے لیے دردر سر بن گیا ۔بابر کی موت کے بعد اس کا بیٹا ہمایوں بادشاہ بنا اسے اپنے بھائیوں کی دشمنی اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ہر محاذ پر اس کے ساتھ دشمنی کی ہمایوں کو افغان سرداروں کی مخالفت کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا مگر اس کے بھائی اسے شکست دے کر تخت دہلی حاصل کرنا چاہتے تھے انہوں نے قدم قدم پر اسے پریشان کیا افغان سردار شیر خان سوری نے اسے شکست دے کر دہلی چھوڑنے پر مجبور کیا ہمایوں دہلی چھوڑ کر لاہور پہنچا، افغان فوج نے اسے لاہور سے بھی بھگا دیا، ہمایوں شکست کھا کر ملتان جاپہنچا ۔کامران مرزا نے ملتان میں قیام کے دوران اس کی خواب گاہ کو توپ سے اڑانے کی کوشش کی۔ مگر ہمایوں محفوظ رہا بالآخر وہ سندھ کے راستے ایران جاکر پناہ گزین ہوا۔ پندرہ سال بعد 1555ء میں اس نے ایک بار پھر مغل سلطنت حاصل کی مگر ایک سال سے کم عرصہ میں اس کا انتقال ہو گیا ہمایوں کے بعد اکبر بادشاہ بنا۔ کسی نے اکبر کی مخالفت نہیں کی صرف اس کا سوتیلا بھائی مرزا عبد الحکیم سازشی امرا کے بھڑکانے پر فوج لے کر لاہور پر حملہ آور ہوا مگر اکبری فوج نے اسے شکست دے کر گرفتار کر لیا اس نے تمام عمر قید میں گزاری۔

اکبر کے بعد اس کا بیٹا جہانگیر تخت نشین ہوا، اس کے بیٹے خسرو نے جہانگیر کے خلاف بغاوت کردی۔ جہانگیر نے باغی فوج کو شکست دے کر باغیوں کو سرعام پھانسی دی اور شہزادہ خسرو کو اندھا کروا دیا اس نے تمام عمر قید میں گزاری۔جہانگیرکے بعد شہزادہ خرم شاہجہان کے لقب سے تخت نشین ہوا اس کی مخالفت اس کے بھائی شہزادہ شہر یار اور شہزادہ داور بخش نے کی مگر شاہجہان کے وفاداروں نے انہیں شکست دے کر گرفتار کر لیا۔ شہزادے شہریار کو اندھا کر دیا گیا جبکہ شہزادہ داور بخش مارا گیا ۔

مغل حکومت کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر بہت سے صوبے دار باغی ہو گئے۔ انہوں نے مرکز کی اطاعت سے انکار کر دیا۔ بنگال کے صوبے دار علی وردی خان نے بنگال کے حکمران ہونے کا اعلان کر دیا۔ مرکزی حکومت میں اتنی ہمت نہ تھی اس کو سزا دی جاتی۔ حیدرآباد دکن کا صوبہ نظام الملک کے زیرحکومت تھا۔ اس نے بغاوت کرکے خود کو وہاں کا حاکم قرار دیا۔ مرکز نے اس کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہ کی۔ پنجاب میں سکھ اور درانی حکومت کر رہے تھے۔ روہیل کھنڈ کی ریاست روہیلہ سرداروں کے ماتحت تھی۔ بعض علاقوں میں مرہٹے چھائے ہوئے تھے۔ سلطنت مغلیہ سمٹ کر دہلی کے گردونواح تک رہ گئی تھی۔ کوئی ایسا مضبوط حکمران نہ تھا جو ان باغیوں کی سرکوبی کرکے یہ علاقے دوبارہ مرکز کا حصہ بناتا۔

مرہٹے جنوبی ہند سے تعلق رکھتے تھے، مذہب کے لحاظ سے ہندو تھے، متعصب اور متشدد تھے۔ ان کی سرکوبی کے لیے اورنگ زیب کو کئی سال خرچ کرنا پڑے۔ ان کا سردار سیوا جی ایک عام سردار سے زیادہ نہ تھا، مگر اس نے مقامی حکمرانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر کئی شہروں اور قلعوں پر قبضہ کر لیا اور اپنی حکومت کو مضبوط کیا۔

شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کی وفات (1707ء)کے بعد مغل شہزادے تخت کے حصول کے لیے جنگوں میں الجھ گئے۔ اس دوران سکھ سرداروں نے اپنی عسکری طاقت کو مضبوط کر لیا۔ انہوں نے بہادر شاہ اول کے دور میں مغل حکومت کے خلاف چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر دیں۔ انہیں ایک متشدد، ظالم اور مسلم دشمن قائد مل گیا، جس کا نام بندہ بیراگی تھا، جو تاریخ کے اوراق میں بابا بندہ کے نام سے مشہور ہوا۔ اس نے پنجاب کے علاقوں جالندھر،گرداسپور، فیروزپور، پٹھان کوٹ کو تباہ و برباد کیا اور قتل وغارت کی انتہا کر دی۔ اس کے ظلم کا نشانہ مسلمان بنتے تھے۔ اس نے مسلمان عورتوں، بچوں، بوڑھوں کو وسیع پیمانے پر موت کے گھاٹ اتارا۔ اس کے ظلم کی داستانیں دہلی دربار تک پہنچ گئیں۔ اس پر بادشاہ نے اس کے خلاف شاہی فوجیں روانہ کیں۔ شاہی فوج کی کارروائیوں پر یہ لوگ جنگلوں میں چھپ جاتے اور موقع ملتے ہی چھاپہ مار کارروائیوں سے شاہی فوج کو نقصان پہنچاتے۔ یہ فتنہ 1718ء میں فرخ سیر کے دور میں ختم ہوا، جب بندہ بیراگی مارا گیا، مگر سکھ فتنہ کا مکمل خاتمہ نہ ہو سکا۔

پنجاب کے گورنر میر معین الملک عرف میر منو نے سکھوں کے اس فتنہ کے تدراک کی کوششیں کیں۔ وہ قصور میں سکھوں کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے گیا، سکھ اس کی آمد کی خبر سن کر بوکھلا گئے۔ جنگ کے بعد وہ اپنی گھوڑی پر سواری کا لطف اٹھا رہا تھا کہ گھوڑی بے قابو ہو گئی۔ میر معین نے اسے قابو کرنے کی کوشش کی، مگر ناکامی ہوئی۔ اس حادثہ میں میر معین مارا گیا۔ بعض لوگوں نے اسے سازش قرار دیا، مگر حقائق سامنے نہ آسکے۔

اس کی موت کے بعد اس کی بیوی مغلانی بیگم نے اپنے تین سالہ نابالغ بیٹے کی سر پرستی کی اور پنجاب کی حکمران بن گئی۔ یہ دور سازشوں کا دور تھا، ہر شخص حاکم پنجاب بننے کے خواب دیکھ رہاتھا۔ اس دوران احمد شاہ درانی نے پنجاب پر حملے کیے تاکہ سکھوں کا زور توڑا جائے، مگر سکھ سردار جونہی اس کی آمد کی خبر سنتے جنگلوں اور اپنے محفوظ مقامات پر چھپ جاتے۔ مگر جونہی شاہی فوج واپس ہوتیں سکھ ایک بار پھر کارروائیاں شروع کردیتے۔ احمد شاہ درانی نے اپنے بیٹے تیمور شاہ کو حاکم پنجاب مقرر کیا اور مغلانی بیگم کو جاگیر دے کر حکومتی امورسے دستبردار کر دیا۔

اس دوران مرہٹے اور سکھ متحد ہو گئے۔ انہوں نے مل کر ایسا بھرپور حملہ کیا کہ افغان سپاہ کے پاؤں اکھڑ گئے، انہوں نے بھاگ کر اپنی جانیں بچائیں اور دریائے سندھ پارکرکے دم لیا۔ پنجاب کے صوبے دار آدینہ بیگ نے ان کا بھر پور مقابلہ کیا۔ لاتعداد سکھ اس کا مقابلہ کرتے ہوئے مارے گئے۔ چنانچہ سکھوں نے رات کے اندھیرے میں اس کی رہائش گاہ پر شب خون مارا، جس سے آدینہ بیگ جاں بحق ہو گیا۔

اب سکھوں کا راستہ روکنے ولاکوئی نہ تھا اور مغل شہنشاہ بالکل بے بس تھے۔ لاہور شہر کے عوام تین سکھ سرادروں (لہنا سنگھ، چڑت سنگھ اور گوجر سنگھ) کے درمیان ظلم وستم کا نشانہ بنتے رہے اور ان کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔

اسلحہ رکھنے کی فی الحال انہیں اجازت نہیں دی گئی مگر پہرے داروں کی شکل میں برطانوی تاجروں نے تربیت یافتہ سپاہ تیار کرلی۔ انہوں نے مختصر وقت میں گوا،چٹاگانگ اوربمبئی میں اپنے تجارتی ٹھکانے بنا لیے۔ انہوں نے پرتگیز ،ڈچ،اسپینی تجارتی کمپنیوں نے جہازوں پر حملے کیے تاکہ ان کی طاقت کو توڑا جائے اس طرح انہوں نے سورت،مدراس،کلکتہ میں اپنی طاقت مستحکم کر لی۔ انہوں نے فورٹ ولیم،فورٹ سینٹ جارج اور بمبئی کا قلعہ آباد کیے انہوں نے مقامی آبادی کے لوگوں کو اپنا ملازم رکھا مقامی آبادی کے لوگ ان کے اخلاق اور دیانت داری کے قائل ہو گئے۔

 

 




#Article 69: حیاتیات (6309 words)


حیاتیات  وہ فطری علم ہے جس میں حیات اور زندہ نامیات، بشمول ان کے طبیعی خدوخال، کیمیائی عوامل، سالماتی تعملات، فعلیاتی طریقہ کار، نشونما اور ارتقا کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

حیاتیات لفظ ’’حیات‘‘ (زندگی) اور یات (یاء نسبتی بشکل جمع یعنی زندگی سے متعلق چیزیں) کا مرکب ہے جسے بائلوجی اور بیالوجی کے نام سے زیادہ جانا جاتا ہے۔ یہ سائنس کی شاخوں میں سے ایک انتہائی اہم شاخ ہے جس میں اس عالم کے تمام تر جانداروں کے بارے میں علم حاصل کیا جاتا ہے اس میں جانداروں کی اشکال، حرکات، اندرونی و بیرونی اعضات، طب، علاجات وغیرہ کے بارے میں علم حاصل کیا جاتا ہے۔

سائنس کی پیچیدگی کے باوجود کچھ ایسے یکساں تصورات بھی ہیں جو ان کو ایک شعبے میں میں مربوط کرتے ہیں۔ حیاتیات میں خلیہ، زندگی کی اور وراثہ، نسب کی بنیادی اکائی ہے۔ حیاتیات کی حرحرکیاتی تشریح اس طرح کی جاسکتی ہے کہ ارتقا اس انجن کی ماند ہے جو جانداروں کے انواع کی تخلیق اور معدومیت کو دھکیل کر آگے بڑھتا ہے۔ زندہ نامیات وہ کھلے نظام ہیں جو اپنے توانائی کے انتقال اور مقامی انٹروپی کی کمی کی وجہ سے بقا رکھتے ہیں اور ایک مستحکم حیات بخش حالت یا خودکار حیاتیاتی نظام قائم کرتے ہیں۔
حیاتیات کی ذیلی شعبے تحقیقی طریقے اور نظام کی قسم کے مطابق اخذ کیے جاتے ہیں۔ نظریاتی حیاتیات میں ریاضیاتی طریقہ کار استعمال کر کے مقداری نمونہ جات تجویز کیے جاتے ہیں جبکہ تجرباتی حیاتیات میں عملی تجربات کر کے تجویز کردہ حیاتیاتی نظریات کی تصدیق کی جاتی ہے۔ اس میں حیات کی اس طریقہ کار کو سمجھا جاتا ہے کہ کس طرح 4 ارب سال پہلے زندگی غیر جاندار مادے سے نمودار ہوئی اور ترقی کر کے ایک پیچیدہ حیاتیاتی نظام میں تبدیل ہو ئی۔

حیاتیات کی تین تقسیمیں ہیں:

حیوانیات کی ذیلی شاخ جس میں حیوانی طرزِ عمل کا سائنسی مطالعہ کیا جاتا ہے.

حیوانیات کی ذیلی شاخ جس میں زمین پر رینگنے والے جانوروں، خزندوں اور جل تھلیوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

حیوانیات کی ذیلی شاخ جو حشرات کی ساخت، عادات اور درجہ بندی سے تعلق رکھتی ہے۔

حیوانیات کی ذیلی شاخ جس میں مچھلیوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

حیوانیات کی ذیلی شاخ جس می ممالیہ یعنی دودھ پلانے والے جانداروں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

حیوانیات کی ذیلی شاخ جس میں پرندوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

نباتیات کی ایک ذیلی شاخ ہے جس میں طحالب کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

حیاتیات کے شعبہ نباتیات کی ذیلی شاخ ہے، جو نباتات کےافعال یا فعلیات سے متعلق ہے-

خرد حیاتیات کی ذیلی شاخ جس میں جراثیم کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

خرد حیاتیات کی ذیلی شاخ جس میں فُطر (پھپھوند) کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

خرد حیاتیات کی ذیلی شاخ جس میں طفیلیوں، اُن کے میزبانوں اور دونوں کے درمیان باہمی تفاعل کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

خرد حیاتیات کی ذیلی شاخ جس میں وائرس کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

تینوں ابواب کے ساتھ ساتھ حیاتیات کو مختلف شاخوں میں تقسیم کیا جاچکا ہے تاکہ پڑھنے میں آسانی ہو۔ وہ شاخیں یہ ہیں:

حیاتیات کی ایک شاخ ہے جس میں جانداروں کی شکل اور ساخت کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس میں ان کی بناوٹی خصوصیات کا مطالعہ شامل ہے۔

حیاتیات اور طب سے تعلق رکھنے والا ایک ایسا علم ہے جس میں جاندار (حیوان اور نبات دونوں) کے جسم کی ساخت اور اس میں موجود مختلف اعضاء کی بناوٹ کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

حیاتیات کے شعبہ تشریح الاعضا کی وہ شاخ ہے جس میں جانداروں کے مختلف انواع کے ارتقا کے دوران ان کی تشریح میں مماثلت اور اختلاف کا مطالعہ کیا جاتا ہےـ

حیوانات اور نباتات کے نسیجات یا بافتوں کی خوردبینی تشریح کا مطالعہ ہے۔

علمِ حیاتیات کی ایک شاخ ہے جس میں خلیہ کے بارے میں مطالعہ کیا جاتا ہے۔

جانداروں کےجسم، اعضاء اور خلیات کے میکانیکی و حیاتی کیمیائی افعال کے مطالعے کو کہا جاتا ہے۔

وراثوں (genes) کی ساخت، ان کے افعال اور ان کے رویے کے مطالعے کو کہا جاتا ہےـ

جانداروں کو نام دینے اور اُن کی جماعت بندی کرنے کا علم ہے۔ 

اس علم میں قدیم اور کسی حد تک محفوظ شدہ حالت میں ملنے والی باقیات (رکاز) کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

حیاتیات کی ایک شاخ ہے جس میں جانداروں کا ایک دوسرے اور ماحول کے مابین تفاعل کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

حیاتیات کی ایک شاخ ہے جس میں ارتقائی حیاتیات کے اُصولوں کے مطابق انسانی اور حیوانی معاشرتی رَویّے کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

ٹیکنالوجی اور حیاتیات کے باھم اشتراک سے حاصل ہونے والا علم یا سائنس ہے۔

حیاتیات اور طب کی ایک وسیع شاخ ہے جس میں تمام جانداروں کے مدافعتی نظام کی تمام پہلوؤں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

ایسا علم جس میں ادویات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

طب کا ایک شعبۂ اختصاص (speciality) ہے جس میں امراض کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

یہ فلکیات، حیاتیات اور ارضیات کی معلومات کے مدغم استفادہ سے نمودار ہونے والا شعبہءِ علم ہے، جو بطورخاص زندگی کے آغاز، اس کے پھیلاؤ اور ارتقاع سے مطالق بحث کرتا ہے۔

یہ حیاتی طرزیات میں اصول حیاتیات اور انجینئری کے ادغام سے تشکیل پانے والا ایک ایسا شعبۂ علم ہے جس میں انجینئری کی تادیبات سے استفادہ کرتے ہوئے حیاتیاتی نظامات اور علم طب کے مسائل پر تحقیق کی جاتی ہے۔

حیات کی کیمیائی ترکیب کا مطالعہ حیاتی کیمیاء (Biochemistry) کہلاتا ہے۔

انواع حیات کی جغرافیائی طور پر ارضیاتی وقت میں ماحولیاتی خطہ کے مطابق تقسیم کا مطالعہ ہے۔

اِس شعبۂ علم میں طبیعیاتی اور ہندسیاتی تصوّرات کے تحت جسمانی اعضاء کی حرکت اور اُن پر عمل کرنے والی قوّتوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

ایک متعدد الاختصاصات (interdisciplinary) علم ہے جو نظریہ جات اور طریقہ ہائے طبیعیات کو استعمال میں لاکر حیاتیاتی نظامات پر تحقیق کرتی ہے۔

حیاتیات کا وہ شعبہ ہے جس میں اس عمل کا مطالعہ کیا جاتا ہے جس سے جانور اور پودے نشو و نما پاتے ہیں-

نشونمائی حیاتیات کا ایک ذیلی شاخ جس میں جانداروں (نباتات و حیوانات) کے نئے بننے والے بچوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

نشونمائی حیاتیات کی ایک ذیلی شاخ جس میں جس میں ضعیفی (aging) سے وابستہ معاشری، نفسیاتی اور حیاتیاتی پہلوؤں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

حیاتیات کی ایک ذیلی شاخ ہے جس میں ان ارتقائی طریقہ ہائے کار کے اصول و قوانین مطالعہ کیا جاتا ہے۔

بحری حیاتیات کھارے اور میٹھے پانی میں پائے جانے والی حیات کے مطالعہ کو کہا جاتا ہے۔

یہ ایک نسبتاً نیا مگر انتہائی تیز رفتاری سے وسیع ہونے والا شبعہءِ علم ہے جس میں حیاتیاتی معلومات و مواد (data) کو شمارندی ٹیکنالوجی (computer technology) کی مدد سے ذخیرہ و تجزیہ کیا جاتا ہے۔

حیاتیات کا سالماتی (molecular) سطح پر مطالعہ سالماتی حیاتیات کہلاتا ہے

اعصابی نظام (nervous system) کے مطالعے کو کہا جاتا ہے۔

ایک ایسا علم ہے جس میں حیاتیاتی اُصولوں کے مطابق ذہنی عمل و کارکردگی (نفسیات) کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

سالماتی حیاتیات کی ایک شاخ جو بڑے حیاتیاتی سالمات کی شکل و طرزِ تعمیر کے مطالعہ سے متعلق ہے۔

حیاتیات کی وہ شاخ ہے جس میں زندہ نامیات میں دَوری مظاہر کو جانچا جاتا ہے۔

حیاتیات کی شاخ جس میں انسان سمیت تمام جانداروں کے عقل و فہم کے حیاتیاتی افعال کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

حیاتیات کی ایک شاخ ہے جس میں جانداروں پر بہت گرے ہوئے درجہ حرارت یا بہت زیادہ سردی کے اثرات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

جانداروں کے بقا اور معدومیت کا مطالعہ

وہ علم جس میں حیاتیات اور زبان کے ارتقا کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

حیاتیات ایک قدرتی ان کی ساخت، تقریب میں، ترقی، اصل، ارتقا، تقسیم اور چننے سمیت زندگی اور زندہ حیاتیات، کے
مطالعہ سے متعلق سائنس ہے۔ حیاتیات وسیع بہت سے تقسیم، موضوعات اور مضامین پر مشتمل موضوع ہے۔ سب سے زیادہ اہم موضوعات میں سے پانچ ایسی متحدہ اصول ہے کہ جدید حیاتیات کے بنیادی axioms ہونا نہیں کہا جا سکتا ہے۔

حیاتیات کے نائب مضامین کے پیمانے پر جو حیاتیات کا مطالعہ کیا اور طریقے ان کے مطالعہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کی بنیاد پر تسلیم کر رہے ہیں : حیاتی کیمیاء کی زندگی کے ابتدائی کیمیکل کی جانچ پڑتال، سالماتی حیاتیات کی تعلیم حیاتیاتی انووں کے نظام کی پیچیدہ گفتگو ؛ خلیاتی حیاتیات کی جانچ پڑتال کی بنیادی تمام زندگی، سیل کے عمارت کے ٹکڑے ؛ فیجیولاجی ؤتکوں، اعضاء اور ایک پیکر کے اعضاء کے نظام کی جسمانی اور کیمیائی افعال کا جائزہ اور ماحولیات کا جائزہ کس طرح مختلف حیاتیات اور ان کے ماحول کے ساتھ شریک بات چیت۔

مواد (چھپانا)

جدید حیاتیات کے 2 بنیاد

ساختی 3.1
فزیالوجیکل 3.2

حیاتیات کے 4 شاخیں

تاریخ

ارنسٹ ہے Haeckel زندگی کے اس درخت (1879) اس جدید معنوں میں یہ لفظ حیاتیات گیا کارل فریڈرک Burdach (1800)، Gottfried Reinhold Treviranus (Biologie oder Philosophie ڈیر lebenden Natur، 1802) اور جین Baptiste - Lamarck (Hydrogéologie کی طرف سے ہے آزاد پیش نظر، 1802) [4] [5]. یہ ایک کلاسیکی Greek لفظ βίος کی طرف سے حوصلہ افزائی صحن ہے، بایوس، زندگی اور - لاحقہ λογία، logia -، کا مطالعہ کیا۔

اگرچہ اس کی جدید شکل میں حیاتیات ایک نسبتا حال ہی میں ترقی، متعلقہ اور کرنے کے اندر اندر اسے دیا گیا ہے قدیم دور کے بعد سے مطالعہ شامل سائنس ہے۔ فطری فلسفہ میسوپوٹامیا، مصر، بر صغیر اور چین کی قدیم تہذیبوں کے طور پر ابتدائی طور پر مطالعہ کیا گیا۔ تاہم، جدید حیاتیات کے ماخذ اور اس کی فطرت کے مطالعہ کرنے کے نقطہ نظر اکثر قدیم یونان میں واپس کر رہے ہیں پتہ لگایا [6] جب دوائی کی باقاعدہ مطالعہ Hippocrates واپس تاریخوں۔ (ca. 460 قبل مسیح --. سیی 370 قبل مسیح)، یہ تھا ارسطو (384 قبل مسیح—322 قبل مسیح) جو بیالوجی کی ترقی میں سب سے زیادہ بڑے پیمانے پر شراکت۔ خاص طور سے اہم ہیں جانور اور دوسرے کا کام ہے جہاں وہ پرکرتیوادی leanings اور بعد میں مزید آخباخت کا کام ہے کہ حیاتیاتی causation اور زندگی کے تنوع پر مرکوز دکھائی کی اس تاریخ ہیں۔ لائسیم، Theophrastus، یہاں تک کہ قرون وسطی میں نباتیات کہ پلانٹ کی سائنس کے دور کی سب سے اہم کردار کے طور پر بچ گیا پر کتابوں کی ایک سیریز لکھی، میں ہے ارسطو کے جانشین۔ اس مطالعہ اور حیاتیات کی ترقی میں اہم پیش رفت اس طرح مسلمان ڈاکٹروں کی پرانیشاستر میں افریقی عرب عالم رحمہ اللہ تعالٰی نے Jahiz (781-869) کے طور پر کوششوں کے ذریعے فروغ دیا گیا [7] میں نے کرد جیواشتھانی امام Dinawari (828-896) نباتیات، [8] اور فارس کی اناٹومی اور فیجیولاجی میں ڈاکٹر Rhazes (865-925). یہ دارشنیکون پر وضاحت، وسیع اور Greek حیاتیاتی اصولوں اور systematics بہتر۔ طبی خاص طور پر اچھی طرح سے اسلامی Greek فلسفی روایات میں کام کرنے والے علما کرام نے بیان کا مطالعہ کیا گیا، جبکہ قدرتی تاریخ Aristotelian سوچا پر بہت زیادہ خاص طور پر زندگی کا ایک مقررہ درجہ بندی کو برقرار رکھنے میں لوٹ گئے، ،.

حیاتیات میں تیزی سے اور ینٹنی وین ہے Leeuwenhoek خوردبین کی ڈرامائی بہتری کے ساتھ ترقی کی ترقی شروع کیا۔ یہ تو تھا کہ علما کرام شکرانو، بیکٹیریا، infusoria اور خرد کی زندگی کے محض ویچترتا اور تنوع کی تلاش۔ جنوری Swammerdam کی طرف سے تحقیقات حشریات میں نئی دلچسپی کی وجہ سے اور خرد ویچرچھیدن اور کی بنیادی ٹیکنالوجی staining بنایا۔ [9]

مائکروسکوپی میں پیشگی بھی حیاتیاتی پر گہرا اثر ہی سوچ رہا تھا۔ ابتدائی 19th صدی میں biologists کی ایک بڑی تعداد سیل کے مرکزی اہمیت کی طرف اشارہ کیا۔ 1838 اور 1839 میں، Schleiden اور Schwann کے خیالات کو فروغ دے کہ (1) حیاتیات کے بنیادی یونٹ نے سیل ہے اور شروع (2) اس شخص کے خلیات اپنی زندگی کے سارے خصوصیات ہیں، حالانکہ وہ اس کے خیال کی مخالفت (3) تمام خلیوں میں آیا ہے کہ دیگر خلیات کی تقسیم سے . 1860s سب سے زیادہ biologists کی طرف سے رابرٹ Remak اور روڈولف Virchow کے کام بہر حال، کی وجہ سے جو سیل اصول کے طور پر نام سے جانا گیا کے تمام تین اصولوں کو قبول کیا۔ [10]

دریں اثنا، چننے اور درجہ بندی کے قدرتی تاریخ کے مطالعہ میں ایک توجہ بن گئے۔ Carolus Linnaeus قدرتی دنیا کے لیے 1735 (مختلف حالتوں میں سے جس کے بعد سے استعمال میں دیا گیا ہے) میں ایک بنیادی اصول صنف بندی شائع کی ہے، 1750s میں اور اس کے تمام ذات کے لیے (11) جارج لوئس - Leclerc، Comte ڈی Buffon ،. علاج پرجاتیوں سائنسی نام متعارف مصنوعی اقسام اور رہنے کے فارم کے طور پر جیسا کہ malleable سے بھی عام کے اترنے کا امکان تجویز۔ تاہم انہوں نے ترقی کی مخالفت کی تھی، Buffon ارتقا کی تاریخ نے سوچا کہ میں ایک اہم شخصیت ہے اور اس کا کام دونوں Lamarck اور ڈارون کے ارتقا کے نظریات سے متاثر [12].

شدید ارتقا سوچ جین Baptiste - Lamarck کے کام کے ساتھ شروع ہوا۔ تاہم، اس نے برطانوی پرکرتیوادی ڈارون تھا، Humboldt، Lyell کے uniformitarian ارضیات کے biogeographical کے قریب جمع، آبادی میں اضافہ پر تھامس ہے Malthus تحریریں اور وہ اپنے ہی صرفی مہارت کہ ایک سے زیادہ کامیاب ارتقا کے قدرتی انتخاب کی بنیاد پر اصول پیدا کیا اسی طرح کی دلیل اور ثبوت الفریڈ رسیل والیس آزاد اسی نتیجہ تک پہنچنے کے لیے قیادت کی [13].

آخونشکتا کی جسمانی نمائندگی کی تلاش ارتقا کے اصولوں اور آبادی جینیات کے ساتھ آئے تھے۔ 1940s اور جلد 1950s میں تجربات گنسوتروں کی اتحادی ہے کہ جین منظم طور پر ڈی این اے کی طرف اشارہ کیا۔ نئی طرح ساتھ ڈی این اے کی 1953 میں ڈبل کنڈلت ڈھانچے کی دریافت سے وائرس اور بیکٹیریا، جیسا کہ ماڈل حیاتیات، پر توجہ مرکوز آناخت جینیات کے زمانے کی تبدیلی کا نشان لگا دیا۔ موجودہ وقت کو 1950s سے، حیاتیات گیا ہے vastly آناخت ڈومین میں توسیع۔ جینیاتی کوڈ ہریانہ گووند Khorana، رابرٹ ڈبلیو Holley اور مارشل وارن Nirenberg کی طرف سے ٹوٹ کے بعد ڈی این اے codons کنٹرول کرنے کے لیے سمجھا گیا تھا۔ آخر میں، انسانی جینوم پروجیکٹ عام انسانی جینوم میپنگ کے مقصد کے ساتھ 1990 ء میں شروع کیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ بنیادی طور پر 2003 میں مکمل کر لیا گیا، مزید تجزیہ کے ساتھ (14) آج بھی شائع کیا جا رہا ہے۔ انسانی جینوم پروجیکٹ ایک عالمی انسانی جسم کا ایک فعال، سالماتی تعریف اور دیگر حیاتیات کے جسم میں حیاتیات کی جمع علم کو شامل کرنے کی کوششوں میں سب سے پہلا قدم تھا۔

جدید حیاتیات کے جدید biologyMuch کی بنیاد پانچ ایسی متحدہ کے اصولوں کے اندر اندر ہو احاطہ میں لے رکھا کر سکتے ہیں :. سیل اصول، ارتقا، جینیات، استتباط، شمسی اور نیوکلیائی توانائی (2)

سیل theoryMain مضمون : سیل اصول

ثقافت میں سیل، keratin (دھونک دھونک کر) اور ڈی این اے کے داغ (سبز رنگ) سیل اصول ریاستوں کہ سیل کی زندگی کا بنیادی یونٹ ہے اور جو تمام زندہ اجسام یا ایک سے زیادہ خلیے یا ان خلیات (گولوں مثال کے طور پر کی secreted مصنوعات پر مشتمل ہیں ). تمام خلیات کو سیل ڈویژن کے ذریعے دیگر خلیات سے اٹھتا۔ multicellular حیاتیات میں ہے پیکر جسم کے ہر خلیے ایک نشیچیت انڈے میں ایک خلیہ سے آخر حاصل ہے۔ سیل بھی کئی pathological عمل میں بنیادی شے [15] اس کے علاوہ ،. توانائی کے بہاؤ کا عمل مراحل میں خلیات کے چیاپچی کے طور پر جانا جاتا تقریب کا حصہ ہیں میں پایا جاتا ہے سمجھا جاتا ہے۔ آخر میں، خلیات ونشاخگت معلومات (ڈی این اے) کو جو سیل کی جانب سے خلیات کے خلیات کی تقسیم کے دوران منظور کیا جاتا ہے پر مشتمل۔

ارتقا
سیاہ coloration.Main مضمون کے لیے آبادی کے قدرتی انتخاب : ارتقا
حیاتیات میں ایک مرکزی تنظیم کا مرکزی خیال ہے کہ زندگی میں تبدیلی ہے اور ارتقا کے ذریعے ترقی اور یہ کہ تمام زندگی معلوم فارم ایک عام اصل ہے۔ جین Baptiste - ڈی Lamarck کی طرف سے 1809 میں سائنسی ڈکشنری، [16] ارتقا ڈارون پچاس سال کی طرف سے قائم کی بعد میں کیا گیا ایک قابل عمل اصول کے طور پر جب اس نے اس کی اصل طاقت جوڑ میں متعارف کرانے :. قدرتی انتخاب [17] [18] (الفریڈ رسیل والیس ہے اس کے تصور کی سہ discoverer کے طور پر پہچان لیا ہے کیونکہ وہ ارتقا کے تصور کے ساتھ تحقیق اور تجربے کی مدد کی) [19] ارتقا اب زمین پر پایا زندگی کی سب سے بڑی تبدیلیوں کی وضاحت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈارون theorized کہ ذات اور نسل کے گھوڑوں کو قدرتی انتخاب اور مصنوعی انتخاب یا مخصوص عمل کے عمل کے ذریعے تیار کیا [20] جینیاتی آلگائے کے اصول کے جدید ترکیب میں۔ ارتقا کی ترقی کی ایک اضافی نظام کے طور پر قبول کیا تھا۔ [21]

ذات کا ارتقا کی تاریخ، جس میں مختلف ذات سے جس نے اسے ہر ہے اس phylogeny طور پر جانا جاتا نسل پر اس کے ونشاولی تعلقات کے ساتھ ساتھ، اترا کی خصوصیات کی وضاحت۔ بڑے پیمانے پر نقطہ نظر مختلف حیاتیات phylogeny کے بارے میں معلومات حاصل۔ یہ ڈی این اے کی سالماتی حیاتیات یا جینومکس کے اندر اندر منعقد کی تسلسل کا آپس میں موازنہ اور fossils یا paleontology میں قدیم حیاتیات کے دیگر ریکارڈ کا آپس میں موازنہ شامل ہیں [22] Biologists اور phylogenetics، phenetics، cladistics اور سمیت مختلف طریقوں کے ذریعے ارتقا کے رشتے کا تجزیہ منظم۔ (زندگی کی ترقی میں اہم واقعات کا خلاصہ کے طور پر فی الحال biologists کو سمجھ، ارتقا کے ٹائم لائن ملاحظہ کریں۔)

ارتقا کے اصول postulates کہ زمین کے دونوں زندہ اور ختم، پر سب حیاتیات ایک عام اجداد یا ایک آبائی جین پول سے اترا ہے۔ تمام حیاتیات کی یہ آخری عالمی عام پرکھا 3.5 ارب سال پہلے شائع کی ہے خیال کیا جاتا ہے [23] Biologists عام طور پر عالمی عام کے اترنے کا اصول کے حق میں تمام بیکٹیریا، archaea کے لیے universality اور واضح دلیل کے طور پر جینیاتی کوڈ کا ubiquity سلسلے۔ اور (دیکھ : زندگی کا اصل) eukaryotes [24].

GeneticsMain مضمون : جینیات

ایک Punnett دو مٹر (ب) جامنی رنگ اور سفید کے لیے heterozygous پودوں کے درمیان ایک حد سے تجاوز ظاہر مربع (ب) blossomsGenes سب حیاتیات میں وراثت کا بنیادی یونٹ ہے۔ ایک جین آخونشکتا کی ایک یونٹ ہے اور ڈی این اے کے ایک علاقے کہ مخصوص طریقوں سے ایک پیکر کی صورت یا کام کے اثرات سے میل۔ بیکٹیریا کی طرف سے سب جانوروں کو حیاتیات،، حصہ اسی بنیادی مشینری کہ کاپیاں اور پروٹین میں ترجمہ کیا ڈی این اے۔ سیل جین کی ایک آرینی ورژن میں ایک ڈی این اے جین نقل کرنا اور ایک وقت ribosome ترجمہ ایک پروٹین میں آر این اے، امینو ایسڈ کی ایک فہرست۔ آر این اے codon سے ترجمہ امینو ایسڈ کے لیے کوڈ کی سب سے زیادہ حیاتیات کے لیے ایک ہی ہے، لیکن کچھ کے لیے تھوڑا مختلف ہے۔ مثال کے طور پر، ڈی این اے کا ایک سلسلہ ہے کہ انسلن کے لیے بھی انسانوں کوڈ میں انسلن جب ایسے پودے کے طور پر [25] [26]. دوسرے حیاتیات، میں درج کے لیے کوڈ

ڈی این اے کی عام طور پر eukaryotes میں لکیری گنسوتروں اور prokaryotes میں سرکلر گنسوتروں کے طور پر پایا جاتا ہے۔ ایک گنسوتر ایک منظم ڈی این اے اور histones پر مشتمل ڈھانچہ ہے۔ ایک سیل اور کسی دوسرے ونشاخگت معلومات میں گنسوتروں کا قائم mitochondria، chloroplasts میں ملا یا دیگر مقامات پر اجتماعی اس کے جینوم کے طور پر جانا جاتا ہے۔ eukaryotes میں جینومک ڈیینی سیل مرکز میں ساتھ mitochondria اور chloroplasts میں تھوڑی مقدار کے ساتھ واقع ہے ،. prokaryotes میں ڈی این اے cytoplasm میں ایک انیدوست سائز کا جسم کے اندر منعقد کیا جاتا ہے nucleoid بلایا [27] ایک جینوم میں جینیاتی معلومات ہے جین کے اندر منعقد کیا اور ایک پیکر میں اس کی معلومات کا مکمل مجموعہ اس جینوٹائپ کہا جاتا ہے 28. [.. ]

HomeostasisMain مضمون : استتباط

hypothalamus CRH، جس کے پییوشکا غدود کی ہدایت ACTH چھپانا کو secretes. بدلے میں، ACTH ادورکک ایسے cortisol کے طور پر glucocorticoids، چھپانا کو پرانتستا ہدایت۔ جینٹلمین کیڈٹوں تو hypothalamus کی طرف سے سراو کی شرح اور پییوشکا غدود کو کم ایک بار جینٹلمین کیڈٹوں کے لیے کافی رقم جاری کی ہے [29] استتباط سے ایک کھلا نظام کی صلاحیت اپنے اندرونی ماحول کو ایک سے زیادہ متحرک کے ذریعے مستحکم حالات کو برقرار رکھنے کے لیے ریگولیٹری ہے۔ توازن ایڈجسٹمنٹ interrelated ریگولیٹری نظام کے ذریعے کنٹرول کیا۔ سب رہنے والے حیاتیات، unicellular یا multicellular، نمائش استتباط چاہے۔ [30]

کرنے کے لیے متحرک توازن کو برقرار رکھنے اور مؤثر طریقے سے باہر کچھ کام کرنا ایک ایسا نظام کا پتہ لگانے اور perturbations کا جواب چاہیے۔ ایک perturbation کا پتہ لگانے کے بعد منفی رائے کے ذریعے ایک حیاتیاتی نظام عام طور پر جواب دینا ہے۔ یہ یا تو کم یا ایک عضو یا نظام کی سرگرمیوں میں اضافہ کے ذریعے حالات کو مستحکم کرنے کا مطلب ہے۔ اس کی ایک مثال glucagon جب شوگر کی سطح بہت کم ہیں کی رہائی ہے۔

توانائی
توانائی اور ایک پیکر کی انسانی life.The بقا کی بنیادی جائزہ توانائی کے مسلسل سرمایہ کاری پر انحصار کرتا ہے۔ کیمیاوی رد عمل ہے کہ اس کی ساخت اور کام کے لیے ذمہ دار ہیں عناصر کی طرف سے توانائی کو نچوڑ کر دیکھتے ہیں کہ اس کا کھانا اور کے طور پر کام ان کی مدد کے نئے خلیے فارم اور انہیں جاری رکھنے پر لوٹا۔ اس عمل میں، کیمیائی مادہ کا مالیکیول ہے کہ کھانا کھیلنے دو کردار کی تشکیل، پہلی، وہ توانائی ہے کہ حیاتیاتی، کیمیاوی رد عمل کے لیے تبدیل کر سکتے ہیں پر مشتمل ؛ دوسرا، انہوں نے نئے آناخت biomolecules سے بنا ڈھانچے کی ترقی۔

ایک ماحول میں توانائی کے تعارف کے لیے ذمہ دار حیاتیات سازوں یا autotrophs کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ حیاتیات کی تقریباً تمام اصل میں سورج سے توانائی کی اپنی طرف متوجہ [31] پودے اور دیگر phototrophs ایک ایسی یٹیپی کے طور پر نامیاتی انو،، جن کی بانڈ توانائی کی رہائی کے لیے توڑ کیا جا سکتا ہے میں خام مال میں تبدیل سنشلیشن کے طور پر جانا جاتا عمل کے ذریعے شمسی توانائی کا استعمال کریں۔. [ 32) کچھ پارستیتیکی نظام، تاہم، متین، sulfides یا دیگر غیر luminal - توانائی کے ذرائع سے chemotrophs کی طرف سے نکالا توانائی کے بارے میں مکمل طور پر انحصار کرتے ہیں۔ 33 []

قبضہ انرجی کے کچھ زندگی برقرار رکھنے کے لیے اور اضافہ اور ترقی کے لیے توانائی فراہم بایڈماس پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس توانائی کے آرام کی اکثریت کی گرمی اور فضلات کے سالموں کے طور پر کھو دیا ہے۔ زندگی برقرار رکھنے کے لیے مفید توانائی میں کیمیائی مواد میں پھنس کر توانائی تبدیل کرنے کے لیے سب سے اہم عمل چیاپچی [34] اور سیلولر شوسن ہیں۔ [35]

عام جانوروں کی مختلف organelles اور structures.Main مضامین ظاہر سیل کے یوجنابدق : سالماتی حیاتیات، سیل بیالوجی، جینیات اور ترقیاتی حیاتیات
سالماتی حیاتیات ایک آناخت سطح پر حیاتیات کا مطالعہ ہے۔ [36] یہ حیاتیات کے دوسرے علاقوں کے ساتھ میدان میں خاص طور سے جینیات اور حیاتی کیمیاء کے ساتھ overlaps ،. سالماتی حیاتیات بنیادی طور پر خود کو ایک سیل کے مختلف ڈی این اے، آر این اے کی interrelationship سمیت نظام اور پروٹین سنشلیشن اور سیکھنے کی کہ کس طرح یہ بات چیت کنٹرول کر رہے ہیں کے درمیان باہمی روابط کو سمجھنے کے ساتھ تشویش۔

سیل حیاتیات کی تعلیم کے خلیات کی ساخت اور نفسیاتی ان کے طرز عمل، بات چیت اور ماحول سمیت خصوصیات ،. یہ اس صورت میں اسی طرح بیکٹیریا ایسے انسان کے طور پر multicellular حیاتیات میں خصوصی سیل کے طور پر دونوں ایک celled - حیاتیات کے لیے خرد اور سالماتی کی سطح پر کیا جاتا ہے۔ خلیات کی ساخت اور کام کی تفہیم حیاتیاتی سائنس کے سب سے بنیادی ہے۔ مماثلت اور خلیات کی اقسام کے درمیان اختلافات خاص طور پر سالماتی حیاتیات سے متعلق ہوتے ہیں۔

اناٹومی ایسے اعضاء اور اعضاء کے نظام کے طور پر macroscopic ڈھانچے کی فارم پر غور [37].

جینیات جین، آخونشکتا کی، سائنس اور حیاتیات کی تبدیلی ہے [38] [39] جین synthesizing پروٹین، (، بہت سے واقعات میں اگرچہ، تعین مکمل طور پر نہیں) ہے جس کے نتیجے میں متاثر کرنے میں ایک بڑا کردار ادا کے لیے ضروری معلومات ضابطہ کاری کریں۔ حیاتیات کے آخری phenotype. جدید تحقیق میں جینیٹکس ایک خاص جین یا جینیاتی بات چیت کے تجزیہ کی تقریب کی تحقیقات میں اہم آلات فراہم کرتا ہے۔ حیاتیات کے اندر اندر، جینیاتی معلومات عام طور پر گنسوتروں، جہاں اسے خاص طور پر ڈی این اے انو کی کیمیائی ساخت میں نمائندگی کی ہے میں سوار کر لیا ہے۔

ترقیاتی حیاتیات کی تعلیم کے عمل کے ذریعے جو حیاتیات اور تیار ہو جاتے ہیں۔ برانناشتھان میں ابتدائی، جدید ترقیاتی حیاتیات کی تعلیم سیل میں اضافہ، فرق اور morphogenesis ، جو اس عمل میں کرمک ؤتکوں، اعضاء اور اناٹومی کو جنم دیتی ہے کے جینیاتی کنٹرول۔ ترقیاتی حیاتیات کے لیے ماڈل حیاتیات کا بھی طواف کرم Caenorhabditis elegans شامل ہیں، (40) درخت کے پھل کی Drosophila melanogaster پرواز، [41] zebrafish Danio rerio، [42] ماؤس کے قرآن musculus، [43] اور گھاس Arabidopsis thaliana. [44] [45] (ایک ماڈل پیکر ایک ذات ہے کہ بڑے پیمانے پر خاص طور سے حیاتیاتی واقعات کو سمجھنے کی تعلیم حاصل کی ہے امید ہے کہ اس پیکر میں نے تلاش دیگر حیاتیات کے کام کاج میں بصیرت مہیا کے ساتھ ہے ،.) [46]

PhysiologicalMain مضمون : فیجیولاجی
فیجیولاجی سمجھ میں کس طرح ڈھانچے کے سب ایک مکمل طور پر کام کرنے کی کوشش کر کے زندہ حیاتیات کی میکانی، جسمانی اور جیو کیمیائی عمل کے مطالعہ۔ کا موضوع ڈھانچہ تقریب میں حیاتیات کے مرکز میں ہے۔ نفسیاتی مطالعہ روایتی طور پر کیا گیا ہے پلانٹ فیجیولاجی اور جانور فیجیولاجی میں تقسیم کر دیا، لیکن فیجیولاجی کے کچھ اصول یونیورسل ہیں، کوئی بات نہیں خاص طور سے جو پیکر ہے کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، خمیر کے خلیات کے فیجیولاجی انسانی خلیات کی درخواست بھی دے سکتے ہیں کے بارے میں جو کچھ سیکھا ہے۔ جانور فیجیولاجی کے علاقے آلات اور انسانی غیر انسانی نسل پر فیجیولاجی کے طریقوں میں لاگو ہو گا۔ پروگرام فیجیولاجی دونوں تحقیق علاقوں سے تراکیب لیتی۔

فیجیولاجی مطالعہ مثال کے طور پر عصبی، مائرکن، endocrine، سانس اور مواصلات کے نظام، کام اور کس طرح بات چیت۔ ان کے نظام کا مطالعہ اس طرح عصبی سائنس اور immunology کے طور پر طبی اعتبار سے مضامین کے ساتھ اشتراک کیا جاتا ہے۔

EvolutionaryEvolutionary تحقیق ذات کے اصل اور اترنے کے ساتھ ساتھ وقت پر ان کی تبدیلی سے متعلق ہے اور بہت سے taxonomically پر مبنی مضامین سے سائنسدانوں پر مشتمل ہے۔ مثال کے طور پر، یہ عام طور پر سائنسدانوں کو جو اس طرح mammalogy، ornithology، نباتیات یا herpetology کے طور پر خاص طور سے حیاتیات میں خصوصی تربیت ہے، لیکن نظام کے طور پر ان لوگوں کو حیاتیات ارتقا کے بارے میں عمومی سوالات کے جواب دینے کا استعمال شامل ہے۔

ارتقائی حیاتیات جزوی طور پر paleontology، جو حیاتیاتی ریکارڈ کا استعمال کرتا ہے کے موڈ اور ترقی کی رفتار کے بارے میں سوالات کا جواب دینا اور جزوی طور علاقوں میں ایسی آبادی جینیات کے طور پر واقعات پر [47] کی بنیاد پر ہے [48] اور ارتقا کے اصول۔ ترقیاتی حیاتیات دوبارہ 1980s میں،، اس جدید اتفاق سے ابتدائی اخراج سے ارتقا کے ترقیاتی حیاتیات کے مطالعہ کے ذریعہ سے ارتقائی حیاتیات میں داخل [49] متعلقہ اکثر غور ارتقائی حیاتیات کے حصہ کے علاقوں phylogenetics، systematics اور چننے ہیں۔

تمام زندہ اجسام کی ایک phylogenetic درخت، rRNA جین ڈیٹا کی بنیاد پر، تین ڈومین بیکٹیریا، archaea کی علیحدگی دکھایا اور جیسا کہ کارل Woese کی طرف سے ابتدائی طور پر eukaryotes بیان کیا۔ درخت کی تعمیر کے ساتھ دوسرے جین عام طور پر ایک ہی ہے، اگرچہ وہ کچھ ابتدائی branching گروپ کی جگہ بہت مختلف طریقے سے، شاید تیزی سے rRNA ترقی کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ تین ڈومینز کے عین مطابق تعلقات اب بھی debated.Main مضمون کیا جا رہا ہے : Systematics
ایک سے زیادہ پرجاتیکرن واقعات پرجاتیوں کے درمیان تعلقات کے ایک درخت کا ڈھانچہ نظام تشکیل دیں۔ systematics کا کردار ان کے تعلقات اور اس طرح اختلاف ذات اور ذات کے گروہوں کے درمیان اور مماثلت کے مطالعہ کے لیے ہے [50] تاہم، systematics تحقیق کا ایک فعال میدان۔ تھے بہت پہلے ارتقا سوچ عام تھی۔ [51] درجہ بندی چننے کی اور حیاتیاتی حیاتیات کے nomenclature جانوروں، پودوں اور جراثیم کے لیے جانوروں کی Nomenclature، بین الاقوامی وانسپتیک Nomenclature کے کوڈ کے بین الاقوامی ضابطہ ہے اور بیکٹیریا کی Nomenclature کے بین الاقوامی ضابطہ کے زیر انتظام ہے، بالترتیب۔ وائرس، viroids، prions اور دوسرے تمام ذیلی وائرل - ایجنٹ ہے کہ حیاتیاتی خصوصیات کا مظاہرہ کا درجہ بندی کے درجہ بندی کے بین الاقوامی ضابطہ وائرس کی اور nomenclature کی طرف سے کیا جاتا ہے [52] [53] [54] [55] تاہم کئی دوسرے وائرس کی درجہ بندی۔ نظام موجود ہے۔

. ؛ Protista ؛ کوک ؛ Plantae ؛ Animalia [56] Monera : روایتی طور سے، زندہ اجسام دیا گیا ہے پانچ ریاستوں میں تقسیم کر دیا

تاہم بہت سے سائنسدانوں کو ابھی غور یہ پانچ ریاست کا نظام فرسودہ۔ جدید متبادل کی درجہ بندی کا نظام عام طور پر تین ڈومین کے نظام کے ساتھ شروع : Archaea (اصل Archaebacteria) ؛ بیکٹیریا (اصل Eubacteria) ؛ Eukaryota (protists، کوک، پودوں اور جانوروں، بشمول) [57] یہ ڈومینز کی عکاسی ہے کہ خلیات ہے نابیک یا نہیں، سیل exteriors کی کیمیائی ساخت میں بھی فرق۔ [57]

اس کے علاوہ، ہر ریاست نیچے تکراری طور پر ٹوٹ گیا ہے یہاں تک کہ ہر ذات الگ الگ درجہ بندی کی ہے۔ یہ حکم ہے : ڈومین ؛ برطانیہ ؛ Phylum ؛ کلاس ؛ آرڈر ؛ خاندان ؛ اجناس ؛ نوع۔

اس کے علاوہ ہے intracellular پرجیویوں ہے کہ زندگی کے کنارے پر کر رہے ہیں کا سلسلہ چیاپچی سرگرمی کے لحاظ سے (58)، جس کا مطلب ہے کہ بہت سے سائنسدانوں کا یہ ڈھانچے اصل کے طور پر نہیں کی درجہ بندی زندہ ہے، کی وجہ سے کم سے کم ایک یا ایک سے زیادہ ان کی کمی بنیادی کام ہے کہ زندگی کی وضاحت کریں۔ وہ وائرس، viroids، prions یا مصنوعی سیارہ طور پر درجہ بندی کر رہے ہیں۔

ایک پیکر کا سائنسی نام اس کی ذات اور ذات سے پیدا ہے۔ مثال کے طور پر، انسانوں sapiens ہوموسیکسال کے طور پر درج کر رہے ہیں۔ ہوموسیکسال پرجاتیوں جینس اور sapiens ہے۔ جب ایک پیکر کا سائنسی نام لکھا ہوا ہے، جینس کے پہلے حرف کو فائدہ کے لیے اور چھوٹے میں ذات کی تمام ڈال مناسب ہے۔ اس کے علاوہ، سارے لفظ یا اٹالک کردہ سکتا ہے پر زور دیا [59] [60].

غالب کی درجہ بندی کا نظام Linnaean چننے کہا جاتا ہے۔ یہ درجات اور دو رقمی nomenclature شامل ہیں۔ حیاتیات ہے ایسے وانسپتیک Nomenclature کے بین الاقوامی ضابطہ (ICBN)، بین الاقوامی پرانی Nomenclature کے کوڈ (ICZN) اور بین الاقوامی بیکٹیریا کی Nomenclature (ICNB) کے کوڈ کے طور پر بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے کنٹرول کس طرح کے نام ہیں۔

ایک ولی کا مسودہ، BioCode، ایک ان تین علاقوں میں nomenclature کے معیار کی کوشش میں 1997 میں شائع کیا گیا تھا، لیکن ابھی تک باقاعدہ منظور کرنے [61] BioCode ڈرافٹ 1997 کے بعد سے بہت ہی کم توجہ حاصل کی ہے۔. اس نے 1 جنوری کی اصل منصوبہ بندی کے عمل کی تاریخ 2000،، کسی کا دھیان نہیں گزر چکا ہے۔ تاہم، ایک 2004 سے cyanobacteria سے متعلق کاغذ ایک BioCode کے مستقبل کو اپنانے اور عبوری کوڈ کے درمیان اختلافات کو کم کرنے پر مشتمل اقدامات کی وکالت کرتا ہے [62] بین الاقوامی وائرس کی درجہ بندی اور (ICVCN) Nomenclature کے کوڈ BioCode سے باہر رہتا ہے۔

ماحولیات
جینس Amphiprion کی کلاؤنفش کے درمیان باہمی symbiosis کہ اشنکٹبندیی سمندر anemones کے tentacles میں رہنے والے ہیں۔ علاقائی مچھلی anemone کھانے کی مچھلی سے anemone کی حفاظت کرتا ہے اور میں anemone کے چوبنے tentacles باری اس predatorsMain مضامین سے جوکر مچھلی کی حفاظت : پارستیتیکیی، Ethology، رویہ اور Biogeography
ماحولیات کی تعلیم کی تقسیم اور زندہ حیاتیات کی کثرت اور حیاتیات اور ان کے ماحول [63] ایک پیکر کی رہائش گاہ کی جگہ ایسی آب و ہوا اور ماحول کے طور پر مقامی abiotic عوامل کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے اس کے علاوہ میں، دوسرے حیاتیات اور biotic عوامل کے درمیان بات چیت یہ حصہ اس کے ماحول۔ [64] اس کی ایک وجہ ہے کہ حیاتیاتی نظام مشکل سے مطالعہ کیا جا سکتا ہے کہ دوسرے حیاتیات اور ماحول کے ساتھ بہت سے مختلف بات چیت ممکن ہو بھی کانٹے کا سب سے چھوٹا پر۔ ایک خرد ایک مقامی چینی ڈھال کا جواب دینے کے جراثیم زیادہ کے طور پر ایک شعر اس ماحول کا جواب دینے کے جب اس نے افریقی savanna میں کھانے کے لیے تلاش کرتا ہے جیسا کہ اس کے ماحول کا جواب ہے۔ کسی بھی ذات کے لیے، رویے سہ آپریشن، ناگوار، پرجیوی یا سہجیوی کیا جا سکتا ہے۔ معاملات مزید پیچیدہ جب دو یا دو سے زیادہ مختلف پرجاتیوں ایک ماحول میں بات چیت ہو۔ اس قسم کا مطالعہ ماحولیات کے صوبے کے اندر ہو۔

ماحولیاتی نظام میں کئی مختلف سطحوں پر مطالعہ کیا جاتا ہے اور انفرادی سطح پر آبادی سے پارستیتیکی نظام اور biosphere سے . کی اصطلاح آبادی حیاتیات اکثر آبادی ماحولیات کے ساتھ interchangeably استعمال کیا جاتا ہے، تاہم آبادی حیاتیات کو زیادہ کثرت سے استعمال کیا جب مطالعہ کے امراض، وائرس اور جرثوموں، جبکہ آبادی کے ماحولیات سے زیادہ عام ہے جب پودوں اور جانوروں کا مطالعہ ہے۔ جیسا کہ surmised کیا جا سکتا ہے، ماحولیاتی ایک سائنس ہے کہ کئی امور پر لے کر لوٹے ہے۔

Ethology (خاص طور پر کہ اس طرح کی primates اور canids کے طور پر سماجی جانوروں کی) تعلیم جانوروں کے رویے اور ہے کبھی کبھی حیوانیات کی ایک شاخ تصور۔ Ethologists ہے خاص طور پر کیا گیا ہے رویے کی ترقی اور قدرتی انتخاب کے اصول کے لحاظ سے رویے کی سمجھ بوجھ کے ساتھ تعلق۔ ایک لحاظ سے، سب سے پہلے جدید ethologist ڈارون،، جن کی کتاب انسان اور جانور میں جذبات کی اظہار تھا، کو متاثر کیا بہت سے ethologists آنا۔ [65]

Biogeography زمین پر حیاتیات کے مقامی تقسیم مطالعہ، [66] پلیٹ tectonics، ماحولیاتی تبدیلی، بازی اور منتقلی اور cladistics جیسے موضوعات پر توجہ مرکوز کی۔

biologyMain مضمون کی شاخیں : حیاتیات مضامین کی فہرست
[67] [68] : یہ حیاتیات کے بنیادی شاخیں ہیں

Aerobiology—ہوائی نامیاتی ذرات کا مطالعہ
زراعت—ملک سے فصلوں کی پیداوار کے عملی پروگرام پر زور دیا کے ساتھ مطالعہ،
اناٹومی—فارم پودوں، جانوروں میں اور تقریب میں، کا مطالعہ اور دیگر حیاتیات یا خاص طور پر میں انسان
Astrobiology - ارتقا، تقسیم کا مطالعہ، exobiology، exopaleontology کے طور پر کائنات کو بھی - معلوم میں اور زندگی کے مستقبل اور bioastronomy
حیاتی کیمیاء—کیمیائی رد عمل کا مطالعہ کرنے کے لیے وجود میں زندگی اور تقریب میں، عام طور پر موبائل کی سطح پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے
Bioengineering—لاگو علم پر زور دینے کے ساتھ انجینئری کے ذریعہ سے حیاتیات کی تعلیم اور خاص طور پر جیو ٹیکنالوجی سے متعلق
Bioinformatics—جینومک اور دیگر حیاتیاتی اعداد و شمار کا مطالعہ، جمع اور محفوظ کرنے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال
Biomathematics یا ریاضیاتی حیاتیات—حیاتیاتی عمل کی مقدار یا حساب کا مطالعہ ماڈلنگ پر زور دینے کے ساتھ،
Biomechanics—اکثر ادویات کی ایک شاخ تصور کیاجاتاہے، جاندار کے میکینکس کے prosthetics یا orthotics کے ذریعے درخواست کی استعمال پر زور دیا کے ساتھ مطالعہ،
حیاتیاتی تحقیق—صحت اور بیماری میں انسان کے جسم کا مطالعہ
Biophysics—طبیعیات کے ذریعے حیاتیاتی عمل کے مطالعہ کے اصولوں اور طریقوں کے اطلاق کی طرف سے روایتی طور پر جسمانی سائنس میں استعمال
حیاتی ٹیکنالوجی—حیاتیات کی ایک نئی اور کبھی کبھی متنازع شاخ ہے کہ مطالعہ کے معاملے کو زندہ نہیں اور جینیاتی تبدیلی اور مصنوعی حیاتیات سمیت کی توڑ
عمارتی حیاتیات—ڈور رہنے والے ماحول کا مطالعہ
نباتیات—پودوں کا مطالعہ
سیل حیاتیات—ایک مکمل اکائی کے طور پر سیل کا مطالعہ اور انو اور کیمیائی بات چیت ہے کہ ایک زندہ خلیات کے اندر اندر ہو
تحفظ حیاتیات—کے تحفظ کی حفاظت، کے مطالعہ یا قدرتی ماحول، قدرتی پارستیتیکی نظام، نباتات، سبزے کی بحالی اور جنگلات کی زندگی
Cryobiology—جانداروں پر عام طور پر ترجیح کا درجہ حرارت سے نیچے کے اثرات کا مطالعہ۔
ترقیاتی حیاتیات—عمل کا مطالعہ کیا ہے جس کے ذریعے ایک پیکر کے فارم، zygote سے مکمل ڈھانچہ
ماحولیات—ایک دوسرے کے ساتھ اور ان کے ماحول کی غیر رہتے عناصر کے ساتھ رہنے والے حیاتیات کے ساتھ روابط کا مطالعہ
برانناشتھان—برانن (fecundation سے جنم) کی ترقی کا مطالعہ۔ یہ بھی topobiology دیکھو۔
حشریات—کیڑوں کا مطالعہ
ماحولیاتی حیاتیات—قدرتی دنیا کا مطالعہ کیا، ایک مجموعی طور پر یا کسی خاص علاقے میں، خاص طور پر انسانی سے متاثر
جانپدک—عوامی صحت کی تحقیق کا ایک اہم اتحادی، مطالعہ آبادی کی صحت پر اثر انداز عوامل
Ethology—جانوروں کے رویے کا مطالعہ
ارتقائی حیاتیات—اصل کے وقت پر اس مطالعہ اور ذات کا نزول
جینیات—جین اور آخونشکتا کا مطالعہ
Herpetology—رینگنے والے جانور amphibians کا مطالعہ
Histology—سیلز اور ٹشوز کے مطالعہ، اناٹومی کا خرد شاخ
Ichthyology—مچھلی کا مطالعہ
ایکیکرت حیاتیات—پوری حیاتیات کا مطالعہ
غدیریات—دیشی پانی کا مطالعہ
Mammalogy—ستنداری کا مطالعہ
سمندری حیاتیات—سمندر پارستیتیکی نظام، پودوں، جانوروں کا مطالعہ کیا اور دوسرے جاندار
ٹھیک ٹھیک حیاتیات—خرد حیاتیات (microorganisms) اور دوسرے زندہ چیز کے ساتھ ان کی بات چیت کا مطالعہ
سالماتی حیاتیات—آناخت سطح پر حیاتیات اور حیاتیاتی افعال کا مطالعہ کیا، حیاتی کیمیاء کے ساتھ پر کچھ حد سے تجاوز
Mycology—کوک کا مطالعہ
Neurobiology—اناٹومی فیجیولاجی اور اخترتیاشتھان سمیت عصبی نظام کا مطالعہ
سمندر سائنس—سمندر کی زندگی، ماحول، جغرافیہ، موسم سمیت سمندر میں، کا مطالعہ اور دوسرے سمندر کو متاثر پہلو
ونکولاجی—وائرس یا اتپریورتن oncogenesis، angiogenesis اور ٹشوز remoldings سمیت کینسر کے عمل کو، کا مطالعہ
Ornithology—پرندوں کا مطالعہ
آبادی حیاتیات—conspecific حیاتیات کے گروپوں کا مطالعہ کیا، جس میں شامل
آبادی ماحولیات—کا مطالعہ کیسے آبادی حرکیات اور ختم ہو جانے کے
آبادی آخونشکی—آبادیوں میں تبدیلی کے حیاتیات کے جین کی تعدد میں مطالعہ
Paleontology—fossils کے مطالعہ اور پراگیتہاسک زندگی کا کبھی کبھی جغرافیائی ثبوت
Pathobiology یا اخترتی—امراض کا مطالعہ کیا اور وجہ سے، عمل، فطرت اور بیماری کی ترقی
Parasitology—پرجیویوں اور parasitism کا مطالعہ
فارمیسی—مطالعہ اور تیاری کا استعمال کرتے ہیں، کا عملی کی درخواست اور ادویات اور مصنوعی دواؤں کے اثرات
فیجیولاجی—زندہ حیاتیات اور اعضاء اور حیاتیات رہنے کے حصے کے کام کاج کا مطالعہ
Phytopathology—پلانٹ کی بیماریوں کا مطالعہ (بھی کہا جاتا ہے پلانٹ پیتھالوجی)
Psychobiology—نفسیات کی حیاتیاتی اڈوں کا مطالعہ
Sociobiology—اقبال عظیم کے حیاتیاتی اڈوں کا مطالعہ
ساختی حیاتیات—سالماتی حیاتیات، حیاتی کیمیاء کی ایک شاخ ہے اور حیاتیاتی بڑے انووں کی سالماتی ساخت کے ساتھ تعلق biophysics
وائرس سائنس—وائرس کا مطالعہ کیا اور کچھ دوسرے وائرس کی طرح کا ایجنٹ
حیوانیات—جانوروں کی درجہ بندی، فیجیولاجی، ترقی اور طرز عمل کو (بھی دیکھو، حشریات، Ethology، Herpetology، Ichthyology، Mammalogy اور Ornithology) بھی شامل ہے کا مطالعہ ،




#Article 70: محرم (مہینہ) (634 words)


محرم اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے۔ اسے محرم الحرام بھی کہتے ہیں۔ اسلام سے پہلے بھی اس مہینے کو انتہائی قابل احترام سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے یہ احترام جاری رکھا۔ اس مہینے میں جنگ و جدل ممنوع ہے۔ اسی حرمت کی وجہ سے اسے محرم کہتے ہیں۔ اس مہینے سے نئے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے۔

یکم محرم سن ٢٤ ہجری_ شہادت خلیفہ دوم امیرالمومنین فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ 

یقینا محرم الحرام کا مہینا عظمت والا اوربابرکت مہینا ہے، اسی ماہ مبارک سے ہجری قمری سال کی ابتدا ہوتی ہے اوریہ ان حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے :

اور ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: 
اسلامی سال یعنی قمری سال یا ہجری سال کا پہلا مہینا محرّم الحرام بابرکت اور مقدس مہینا ہے
محرم کو محرم اس لیے بھی کہا جا تا ہے جب سے اس نے آسمان و زمین بنائے ہیں؟

ایک بار کسی نے آ قا سے عرض کی کہ یا رسو ل اللہ  فرض نماز کے بعد کون سی نماز افضل ہے اور رمضان کے فرض روزے کے بعد کس مہینے کے روزے افضل ہیں، حضور نے ا ر شاد فرمایا کہ 

جو شخص محرّم کی پہلی رات کو دو رکعت نماز اس طرح ادا کرے کہ سورہ فاتحہ کے بعد سورہ کے؟

اورمحرم کو محرم اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ حرمت والا مہینا ہے اوراس کی حرمت کی تاکید کے لیے اسے محرم کانام دیا گياہے ۔

اوراللہ سبحانہ وتعالی کا یہ فرمان :
 اس کا معنی یہ ہے کہ:یعنی ان حرمت والے مہینوں میں ظلم نہ کرو کیونکہ ان میں گناہ کرنا دوسرے مہینوں کی بنسبت زيادہ شدید ہے ۔

اورابن عباس رضي اللہ تعالٰی عنہ سے اس آيت “لہذا تم ان مہینوں میں اپنے آپ پرظلم وستم نہ کرو“ کے بارے میں مروی ہے :

اورقتادہ رحمہ اللہ تعالٰی اسی آیت :“لہذا تم ان مہینوں میں اپنے آپ پر ظلم وستم نہ کرو“ کے بارے میں کہتے ہيں :

اورقتادہ  کہتے ہيں:
 

ابوہریرہ  بیان کرتے ہيں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :

 شہر الله یعنی اللہ تعالٰی کا مہینا، یہاں مہینا کی اضافہ کی اضافت اللہ تعالی کے جانب تعظیماً کی گئي ہے؛ یہ اضافت تعظیمی کہلاتی ہے ۔

ملا علی قاری کا قول ہے : ظاہر ہے کہ یہاں سب حرمت والے مہینے مراد ہيں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے رمضان المبارک کے علاوہ کسی بھی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھے، لہذا اس حدیث کومحرم میں کثرت سے روزے رکھنے پرمحمول کیا جائے گا نہ کہ پورے محرم کے روزے رکھنے پر ۔

اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شعبان کے مہینا میں کثرت سے روزہ رکھا کرتے تھے، ہو سکتا ہے کہ محرم کی فضیلت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آخری عمر میں وحی کی گئی ہو اورآپ روزے نہ رکھ سکے ہوں۔

اللہ سبحانہ و تعالٰی ہی جگہ اور زمانے و اوقات سے جو چاہے اختیار کر لیتا ہے۔

عزبن عبد السلام رحمہ اللہ تعالٰی کہتے ہیں :

جگہوں اورزمانے کی فضیلت دوقسموں کی ہوتی ہے :

ایک قسم تو دنیاوی ہے اوردوسری دینی، جو اللہ تعالٰی کی طرف لوٹتی ہے جس میں اللہ تعالٰی اپنے بندوں پر ان اوقات اورجگہوں میں عمل کرنے والوں کو اجر و ثواب عطا کرتا ہے، مثلا رمضان المبارک کے روزوں کوب اقی سارے مہینوں کے روزوں پرفضیلت حاصل ہے، اوراسی طرح عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کی فضلیت۔ تواس کی فضیلت اللہ تعالٰی کی جود و سخا اور اپنے بندوں پراحسان کی طرف لوٹتی ہے ۔




#Article 71: اسلام آباد وفاقی دارالحکومت علاقہ (260 words)


اسلام آباد وفاقی دار الحکومت علاقہ ایک انتظامی خطہ ہے، جس کے اندر اسلام آباد شہر ہے جو وفاقی دار الحکومت ہے یعنی پوری حکومت کا نظام یہاں سے چلایا جاتا ہے۔ قومی اسمبلی اور دوسرے اجلاس اور دوسرے ادارے بھی یہاں اپنے امور و کارروائیاں سر انجام دیتے ہے۔ اسلام آباد کو شین چمن بھی کہا جاتا ہے جس کا مطلب سرسبز و شاداب چمن (باغ سا) ہے۔ اسلام آباد دوسرے صوبائی دارالحکومتوں (پشاور،لاہور،کراچی،کوئٹہ) پر فوقیت رکھتا ہے کیونکہ اصل حکومت یہاں سے ہوتی ہے اور صوبائی حکومت کا درجہ اس کے بعد آتا ہے۔اسلام آباد کو تمام صوبوں سے منقطع (الگ) رکھا گیا ہے۔اور یہ پختونخوا اور پنجاب کے مابین واقع ہے۔ اس کی بنیاد 1960 میں رکھی گئی جب صدر پاکستان اس وقت ایوب خان تھے۔ جب دیکھا گیا کہ اس وقت کی دار الحکومت یعنی کراچی میں معیشت اور دیگر کارئی تیزی سے ترقی کر رہی ہے تو حکومت کو ایک ایسے جگہ منتقل کیا جائے جہاں پر رش و بھیڑ اور آلودگی و فسادات کم ہو تاکہ حکومت کو صحیح طور پر سنبھالاجاسکے تو یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک نیا جگہ منتخب کیا جائے۔ ایوب خان نے پورے ملک میں سے یہ جگہ منتخب کیا جہاں آج اسلام آباد قائم ہے اور پھر اس پر کام شروع ہوا۔ جب تک اسلام آباد کی تعمیرات مکمل نہ ہوئی تب تک راولپنڈی کو عارضی طور پر دار الحکومت بنایا گیا اور یہاں سے حکومت کا بھاگ دوڑ سنبھالا گیا پھر جب اسلام آباد کی تعمیراتی کام مکمل ہوا تو دار الحکومت اسلام آباد منتقل کیا گیا۔




#Article 72: دریائے ستلج (251 words)


دریائے ستلج  پنجاب کے دریاؤں ميں سے ایک دریا کا نام ہے۔ یہ تبت کی ایک جھیل راکشاستلسے نکلتا ہے اس کی کل لمبائی 1448 کلومیٹر ہے ستلج کو یونانی زبان میں سرخ دریا بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا قدیم نام ستادری ہے تبت کے مقامی لوگ اسے دریائے ہاتھی بھی کہتے ہیں دریائے ستلج ہمالیہ کی گھاٹیوں سے گزر کر ہماچل پردیش کی ریاست میں 900 میل تک کے علاقے کو سیراب کرتا ہوا، ضلع ہوشیار پور کے میدانی علاقوں میں آ جاتا ہے۔ یہاں سے ایک بڑی نہر کی شکل میں جنوب مغرب کی طرف بہتا ہوا دریائے بیاس میں گر کر پاکستانی پنجاب کے ضلع قصور میں پاکستانی علاقہ میں داخل ہوتا ہے اور اوچ شریف سے ہوتا ہوا پنجند کے مقام پر دریائے چناب میں ضم ہوجاتا ہے یہ مقام بہاولپور سے 62 کلومیٹر مغرب میں ہے۔ دیپالپور کے نزدیک ہیڈ سیلمانکی سے گزرتا ہوا بہاولپور اور بہاولنگر کے اضلاع کی زمینوں کو سیراب کرتا ہے۔ نواب بہاولپور نے اپنی ریاست کو زرخیز بنانے کے لیے دریائے ستلج سے نہریں نکالیں، جن کا پانی نہ صرف زمینوں کو سیراب کر رہا ہے بلکہ صحرائے چولستان کے کچھ علاقوں میں فصلیں اگانے میں استعمال ہوتا ہے۔

اس دریا کے پانی سے بھارتی صوبوں پنجاب، ہریانہ اور راجستھان میں زرعی زمین سیراب کی جاتی ہے۔ دریائے ستلج میں بھارت سے پاکستانی علاقے میں پانی اب صرف سیلاب کی صورت میں داخل ہوتا ہے کیونکہ بھارت اسے Flood Release River کے طور پر استعمال کرتا ہے۔




#Article 73: ابن صفی (1072 words)


 

ابن صفی کا اصل نام اسرار احمد تھا۔ آپ اردو ادب کے نامور ناول نگار اور شاعر تھے۔ آپ کے تحریراتی کاموں میں جاسوسى دنيا فریدی حمیدسیریزاور عمران سیریز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آپ افسانے اور طنز و مزاح بھی لکھتے تھے۔

ابن صفی 26 جولائی 1928ء کو الٰہ آباد، اتر پردیش کے ایک گاؤں نارا میں صفی اللہ اور نذیرا (نضیراء) بی بی کے گھر پیدا ہوئے۔ اردو زبان کے شاعر نوح ناروی رشتے میں ابن صفی کے ماموں لگتے تھے۔ ابن صفی کا اصل نام اسرار احمد تھا۔ اگست 1952ء میں ابن صفی اپنی والدہ اور بہن کے ہمراہ پاکستان آ گئے جہاں انہوں نے کراچی کے علاقے لالو کھیت کے سی ون میں 1953ء سے 1958ء تک رہائش اختیار کی۔ ان کے والد 1947ء میں کراچی آچکے تھے۔ 

انہوں نے ابتدائی تعلیم نارا کے پرائمری اسکول میں حاصل کی۔ میٹرک ڈی اے وی اسکول الہ آباد سے کیا جبکہ انٹرمیڈیٹ کی تعلیم الہ آباد کے ایونگ کرسچن کالج سے مکمل کی۔ 1947ء میں الہ آباد یونیورسٹی میں بی اے میں داخلہ لیا۔ اسی اثنا میں برصغیر میں تقسیم کے ہنگامے شروع ہو گئے۔ ہنگامے فرو ہوئے تو تعلیم کا ایک سال ضائع ہوچکا تھا لہذا بی اے کی ڈگری جامعہ آگرہ سے یہ شرط پوری کرنے پر ملی کہ امیدوار کا عرصہ دو برس کا تدریسی تجربہ ہو۔ 

سن 1948ء میں عباس حسینی نے ماہنامہ نکہت کا آغاز کیا۔ شعبہ نثر کے نگران ابن سعید (پروفیسر مجاور حسین رضوی) تھے جبکہ ابن صفی شعبہ شاعری کے نگران مقرر ہوئے۔ رفتہ رفتہ وہ مختلف قلمی ناموں سے طنز و مزاح اور مختصر کہانیاں لکھنے لگے۔ ان قلمی ناموں میں طغرل فرغان اور سنکی سولجر جیسے اچھوتے نام شامل تھے۔ سن 1948ء میں نکہت میں ان کی پہلی کہانی فرار شائع ہوئی۔ 

ناول بھیانک آدمی کو ماہانہ جاسوسی دنیا نے نومبر 1955ء میں کراچی کے ساتھ ساتھ الٰہ آباد سے بیک وقت شائع کیا تھا۔ اکتوبر 1957ء میں ابن صفی نے اسرار پبلیکیشنز کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس کے تحت جاسوسی دنیا کا پہلا ناول ٹھنڈی آگ شائع ہوا۔ 1958ء میں ابن صفی، لالو کھیت سے کراچی کے علاقے ناظم آباد منتقل ہو گئے۔ جنوری 1959ء میں ابن صفی اسرار پبلیکیشنز کو فردوس کالونی منتقل کرچکے تھے اور یوں انہیں اپنی تخلیقات کو پروان چڑھانے کے لیے ایک آرام دہ ماحول میسر آ گیا۔ ناظم آباد کی رہائش گاہ میں وہ 1980ء میں اپنے انتقال تک مقیم رہے۔ 

ابن صفی کے بقول، ان کے صرف آٹھ ناولوں کے مرکزی خیال کسی اور سے مستعار لیے ہیں باقی کے 245 ناول مکمل طور پر ان کے اپنے ہیں۔ 

عباس حسینی کی ملکیت میں الٰہ آباد کے نکہت پبلیکیشنز کے تحت بھارت میں ابن صفی کے ناولوں کی اشاعت عمل میں آتی تھی۔ عباس حسینی نے کانپور سے ابن صفی کے کرداروں پر جعلی ناشروں کے خلاف زبردست مہم چلائی تھی۔

ابن صفی کس حد تک عباس حسینی سے دلی وابستگی رکھتے تھے، اس کا اندازہ اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے :

جناب ابن صفی بلاشبہ اردو کے سب سے بڑے جاسوسی ناول نگار گزرے ہیں اور ان کی تحریروں میں ایسا جادو ہے کہ 50 سال قبل لکھے گئے ناول جب آج کے دور کا انسان بھی پڑھتا ہے تو وہ سب بھول جاتا ہے۔ ابن صفی کا لگایا ہوا پودا عمران سیریز اس قدر تناور ہوا کہ آج تک یہ ثمر بار ہے اور کئی ایک مصنفین اس سلسلے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ 

اردو میں آزادی کے بعد لکھے جانے والے ناولوں کے دور پر بہت کم لکھا گیا ہے پھر بھی ڈاکٹر اعجاز حسین نے ’’اردو ادب آزادی کے بعد‘‘ اور ڈاکٹر علی حیدر نے ’’اردو ناول سمت و رفتار‘‘ میں ان کا ذکر کیا ہے۔ پاکستان میں ڈاکٹر سلیم احمد نے اپنی کتاباردو ادب کی مختصر ترین تاریخ میں  ابن صفی کا مختصر ترین ذکر کیا ہے۔ ابن صفی کے فن کو سراہنے والی ادبی شخصیات میں بابائے اردو مولوی عبد الحق، پروفیسر مجنوں گورگھپوری، محمد حسن عسکری، کالم نگار حسن نثار، شاعر امجد اسلام امجد، صحافی و ادیب قاضی اختر جوناگڑھی، سیاسی شخصیات میں فیلڈ مارشل ایوب خان اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب جیسے نام شامل ہیں۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر خان نے ابن صفی کے حوالے سے محقق و ادیب راشد اشرف کے نام 2009ء میں اپنے ایک پیغام میں اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ جن دنوں وہ (ڈاکٹر خان) بڑا میدان، ناظم آباد، کراچی کے قریب رہا کرتے تھے، ابن صفی کے ناولز ان کے زیر مطالعہ رہتے تھے۔ ابن صفی کے فن کا اعتراف کرنے والی مغربی شخصیات میں خاتون ناول نگار اگاتھا کرسٹی، اردو زبان کی جرمن اسکالر خاتون کرسٹینا اوسٹر ہیلڈ اور نارویجیئن پروفیسر فن تھیسن شامل ہیں۔ کرسٹینا اوسٹر ہیلڈ نے ابن صفی کے فن کے بارے میں کہا تھا:
 

پروفیسر ڈاکٹر سید محمد ابوالخیر کشفی نے ابن صفی کو یوں خراج تحسین پیش کی میں نے کبھی ابن صفی کے ناولوں کو کتابوں کے درمیان چھپا کر نہیں رکھا۔ ہمارے انٹلکچوئل اسے ایک سب اسٹینڈرڈ مواد گردانتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی ابن صفی کے تخلیقی ذہن کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ آپ ابن صفی کے ناول کیوں پڑھتے ہیں تو میں جواب دیتا ہوں، کیونکہ ابن صفی ہمارے کئی ناول نگاروں سے بہتر زبان لکھتے ہیں۔  جب محمد حسن عسکری نے یہ شکایت کی کہ اردو نثر کا فن زوال پزیر ہے اور کوئی اچھی زبان نہیں لکھ رہا ہے تو میں نے انہیں اب صفی کی جاسوسی دنیا کا ایک ناول پڑھنے کو دیا۔ اس کے بعد وہ ہر ماہ پوچھتے تھے کشفی صاحب، ابن صفی کا نیا ناول آ گیا؟

ابن صفی کے فرزند، احمد صفی، اپنے والد کی وفات کے جانکاہ سانحے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :

نکہت پبلیکیشنز کی جانب سے ابن صفی کے انتقال کے بعد دو ناول ان ہی نام موسوم کر کے چھپے تھے۔ ان کے نام سایے کا قتل اور روشنی کی آواز تھے۔ ان ناولوں کی زبان اور انداز بیان کو دیکھ کر ان کے مصنف ابن صفی ہونے پر شبہ کا اظہار کر رہے تھے۔ مثلاً ابن صفی کے ہر ناول میں لفظ دفعتًا بکثرت مستعمل تھا۔ اس کے برعکس ان ناولوں میں ایکدم اس کی جگہ مستعمل تھا۔ اس کے علاوہ سوقیانہ اور بھونڈی زبان بھی ناولوں میں رواں تھی۔

ابن صفی پر ایک نئی کتاب-جون 2012ء میں شائع ہوئی۔ مکمل تفصیلات مع تصاویر یہاں ملاحظہ کیجیے :

ابن صفی پر شائع ہونے والی کتابوں کی مکمل تفصیل: (2016ء)




#Article 74: عمران سیریز کے ناولوں کی فہرست (240 words)


عمران سیریز پاکستانی مصنف ابن صفى كا لكھا ہوا افسانوی ناولوں كا ایک سلسلہ ہے جس كا تقریباً ہر ناول ایک مكمل کہانی ہوتا تھا۔ البتہ، چند کہانیاں ایسی بھی ہیں جو دو کتابوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ان كى لكھى ہوئى یہ سیریز پاكستان سے شائع ہوتى تھی۔ اس سیریز کا پہلا ناول، خوفناک عمارت 1955ء میں لکھا گیا تھا۔

عمران سیریز کا مرکزی کردار، علی عمران، ایک ایسا کھلنڈرا اور شریر انسان ہے جسے اپنے ملک سے بہت محبت ہے اور وہ اس کی خلاف کسی بھی قسم کی سازش برداشت نہیں کر سکتا۔ عمران نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کی ہے۔ اس کے والد رحمان ایک تفتیشی ایجنسہ کے سربراہ ہیں لیکن ان کے اپنے بیٹے عمران سے مختلف امور پر شدید اختلافات ہیں جس کی وجہ سے عمران گھر چھوڑ دیتا ہے اور اپنے نوکر سلمان کو ساتھ علاحدہ رہائش اختیار کر لیتا ہے۔

عمران ملکی تحفظ کے لیے ایک خفیہ ایجنسی قائم کرتا ہے۔ بطور سربراہ وہ ایکس ٹو (X2) کا نام اختیار کرتا ہے لیکن اس ایجنسی کے کسی کارکن کو بھی عمران کی اصلیت کا معلوم نہیں ہے۔ یہ حقیقت عمران کے علاوہ صرف دو افراد جانتے ہیں۔ ایک ملک کی سب سے سپریم شخصیت اور دوسرے سیکریٹری خارجہ سر سلطان جو عمران سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔

یہ ایجنسی مختلف ناولوں میں مختلف کارنامے سر انجام دیتی ہے۔ اس سیریز کے چند اہم کرداروں کے کے نام یہ ہیں:




#Article 75: نصرت فتح علی خان (426 words)


نصرت فتح علی خان عظیم پاکستانی قوال، موسیقار اور گلوکار فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد فتح علی خان اور تایا مبارک علی خان اپنے وقت کے مشہور قوال تھے۔ ان کے خاندان نے قیام پاکستان کے وقت مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر سے ہجرت کرکے فیصل آباد میں سکونت اختیار کی تھی۔ استاد نصرت فتح علی خان نے اپنی تمام عمر قوالی کے فن کو سیکھنے اور اسے مشرق و مغرب میں مقبول عام بنانے میں صرف کر دی۔ انہوں نے صوفیائے کرام کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا اور ان کے فیض سے خود انہیں بے پناہ شہرت نصیب ہوئی۔آپ کی دادا افغانستان کے درالحکومت کابل کے رھنے والے پٹھان کے شاخ نورزئی سے تعلق رکھتے تھے جو بعد میں بھارت مشترکه ھندوستان کے صوبے مشرقی پنجاب کی شھر جلندھر میں آبسے۔

پاکستان میں نصرت فتح علی خان کا پہلا تعارف اپنے خاندان کی روایتی رنگ میں گائی ہوئی ان کی ابتدائی قوالیوں سے ہوا۔ ان کی مشہور قوالی ’علی مولا علی‘ انہی دنوں کی یادگار ہے۔ بعد میں انہوں نے لوک شاعری اور اپنے ہم عصر شعرا کا کلام اپنے مخصوص انداز میں گا کر ملک کے اندر کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور اس دور میں ’سن چرخے مٹھی مٹھی مٹھی کوک ماہی مینوں یاد آوندا‘ اور ’سانسوں کی مالا پہ سمروں میں پی کا نام‘ نے عام طور پر قوالی سے لگاؤ نہ رکھنے والے طبقے کو بھی اپنی طرف راغب کیا اور یوں نصرت فتح علی خان کا حلقہ اثر وسیع تر ہو گیا۔

 آپ صحیح معنوں میں شہرت کی بلندیوں پر اس وقت پہنچے جب پیٹر جبریل کی موسیقی میں گائی گئی ان کی قوالی ’دم مست قلندر مست مست‘ ریلیز ہوئی۔ اس مشہور قوالی کے منظر عام میں آنے سے پہلے وہ امریکہ میں بروکلن اکیڈمی آف میوزک کے نیکسٹ ویوو فیسٹول میں اپنے فن کے جوہر دکھا چکے تھے، لیکن ’دم مست قلندر مست مست‘ کی ریلیز کے بعد انہیں یونیورسٹی آف واشنگٹن میں موسیقی کی تدریس کی دعوت دی گئی۔

بین الاقومی سطح پر صحیح معنوں میں ان کا تخلیق کیا ہوا پہلا شاہکار 1995ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’ڈیڈ مین واکنگ‘ کا ساؤنڈ ٹریک تھا۔ بعد میں انہوں نے ہالی وڈ کی فلم ’دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ‘ اور بالی وڈ میں پھولن دیوی کی زندگی پر بننے والی متنازع فلم ’بینڈٹ کوئین‘ کے لیے بھی موسیقی ترتیب دی۔ نصرت فتح علی خان نے جدید مغربی موسیقی اور مشرقی کلاسیکی موسیقی کے ملاپ سے ایک نیا رنگ پیدا کیا۔ اور نئی نسل کے سننے والوں میں کافی مقبولیت حاصل کی۔




#Article 76: محمد اقبال (5223 words)


ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (ولادت: 9 نومبر 1877ء - وفات: 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ دا ریکنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ ان اسلام کے نام سے انگریزی میں ایک نثری کتاب بھی تحریر کی۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاست دان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انہوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔

علامہ اقبال کے والد شیخ نور محمد نے خواب دیکھا تھا کہ ”لق ودق میدان ہے۔ ایک سفید کبوتر براق فضا میں چکّر لگا رہا ہے۔ کبھی اتنا نیچے اترآتا ہے کہ بس اب زمین کی قسمت جاگی اور کبھی ایسی اونچائی پکڑتا ہے کہ تارا بن کر آسمان سے جڑ گیا۔ ادھر بہت سے لوگ ہاتھ اٹھا اٹھا کر اسے پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سب کے سب دیوانے ہو رہے ہیں مگر وہ کسی کے ہاتھ نہیں آتا۔ کچھ وقت گزر گیا تو اچانک اس نےغوطہ لگایا اور میری جھولی میں آن گرا۔ آسمان سے زمین تک ایک قوس بن گئی“۔جب شیخ نور محمد یہ خواب دیکھ کر اٹھے تو اپنے دل کو اس یقین سے بھرا ہوا پایا کہ خدا انھیں ایک بیٹا آتا کرے گا جو دین اسلام میں بڑا نام پیدا کرے گا۔ 

اقبال کے والد شیخ نور محمد، کشمیر  کے سپرو برہمنوں کی نسل سے تھے۔ غازی اورنگ زیب عالمگیر کے عہد میں ان کے ایک جد نے اسلام قبول کیا۔ اقبال کےآباء و اجداد اٹھارویں صدی کے آخر یا انیسویں صدی کے اوائل میں کشمیر سے ہجرت کر کے سیالکوٹ آئے اور محلہ کھیتیاں میں آباد ہوئے۔ ہر پشت میں ایک نہ ایک ایسا ضُرور ہوا جس نے فقط دل سے راہ رکھی۔ یہ بھی انہی صاحب دلوں میں سے تھے۔ بزرگوں نے کشمیر چھوڑا تو سیالکوٹ میں آ بسے۔ شیخ نور محمد کے والد شیخ محمد رفیق نے محلہ کھٹیکاں میں ایک مکان آباد کیا۔ کشمیری لوئیوں اور دُھسّوں کی فروخت کا کاروبار شروع کیا۔ لگتا ہے کہ یہ اور اقبال کے والد کے چھوٹے بھائی شیخ غلام محمد یہیں پیدا ہوئے، پلے بڑھے۔ بعد میں سہج رام سپرو  بازار چوڑیگراں میں اُٹھ آئے جو اب اقبال بازار کہلاتا ہے۔ ایک چھوٹا سا مکان لے کر اس میں رہنے لگے اور مرتے دم تک یہیں رہے۔ اقبال کے دادا سہج رام سپرو کی وفات کے بعد شیخ نُور محمد نے اس سے ملحق ایک دو منزلہ مکان اور دو دکانیں خرید کر مکانیت کو بڑھا لیا۔

اقبال 9 نومبر 1877ء (بمطابق 3 ذوالقعدہ 1294ھ) کو برطانوی ہندوستان کے شہر سیالکوٹ میں شیخ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ ماں باپ نے نام محمد اقبال رکھا۔ مختلف تاریخ دانوں کے مابین علامہ کی تاریخ ولادت پر کچھ اختلافات رہے ہیں لیکن حکومت پاکستان سرکاری طور پر  9 نومبر 1877ء کو ہی اقبال کی تاریخ پیدائش تسلیم کرتی ہے۔

شیخ نور محمد دیندار آدمی تھے۔ بیٹے کے لیے دینی تعلیم ہی کافی سمجھتے تھے۔ سیالکوٹ کے اکثر مقامی علما کے ساتھ دوستانہ مراسم تھے۔ اقبال بسم ﷲ کی عمر کو پہنچے تو انھیں مولانا غلام حسن کے پاس لے گئے۔ مولانا ابوعبد ﷲ غلام حسن محلہ شوالہ کی مسجد میں درس دیا کرتے تھے۔ شیخ نُور محمد کا وہاں آنا جانا تھا۔ یہاں سے اقبال کی تعلیم کا آغاز ہوا۔ حسبِ دستور قرآن شریف سے ابتدا ہوئی۔ تقریباً سال بھر تک یہ سلسلہ چلتا رہا کہ شہر کے ایک نامور عالم مولانا سید میر حسن ادھر آ نکلے۔ ایک بچّے کو بیٹھے دیکھا کہ صورت سے عظمت اور سعادت کی پہلی جوت چمکتی نظر آ رہی تھی۔ پوچھا کہ کس کا بچّہ ہے۔ معلوم ہوا تو وہاں سے اُٹھ کر شیخ نور محمد کی طرف چل پڑے۔ دونوں آپس میں قریبی واقف تھے۔ مولانا نے زور دے کر سمجھایا کہ اپنے بیٹے کو مدرسے تک محدود نہ رکھو۔ اس کے لیے جدید تعلیم بھی بہت ضروری ہے انھوں نے خواہش ظاہر کی کہ اقبال کو ان کی تربیت میں دے دیا جائے۔ کچھ دن تک تو شیخ نور محمد کو پس و پیش رہا، مگر جب دوسری طرف سے اصرار بڑھتا چلا گیا تو اقبال کو میر حسن کے سپرد کر دیا۔ ان کا مکتب شیخ نور محمد کے گھر کے قریب ہی کوچہ میر حسام الدین میں تھا۔ یہاں اقبال نے اردو، فارسی اور عربی ادب پڑھنا شروع کیا۔ تین سال گزر گئے۔ اس دوران میں سید میر حسن نے اسکاچ مشن اسکول میں بھی پڑھانا شروع کر دیا۔ اقبال بھی وہیں داخل ہو گئے مگر پرانے معمولات اپنی جگہ رہے۔ اسکول سے آتے تو استاد کی خدمت میں پہنچ جاتے۔ میر حسن ان عظیم استادوں کی یادگار تھے جن کے لیے زندگی کا بس ایک مقصد ہوا کرتا تھا : پڑھنا اور پڑھانا۔ لیکن یہ پڑھنا اور پڑھانا نری کتاب خوانی کا نام نہیں۔ اس اچھے زمانے میں استاد مرشد ہوا کرتا تھا۔ میرحسن بھی یہی کیا کرتے تھے۔ تمام اسلامی علوم سے آگاہ تھے، جدید علوم پر بھی اچھی نظر تھی۔ اس کے علاوہ ادبیات، معقولات، لسانیات اور ریاضیات میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ شاگردوں کو پڑھاتے وقت ادبی رنگ اختیار کرتے تھے تاکہ علم فقط حافظے میں بند کر نہ رہ جائے بلکہ طرزِ احساس بن جائے۔ عربی، فارسی، اردو اور پنجابی کے ہزاروں شعر از بر تھے۔ ایک شعر کو کھولنا ہوتا تو بیسیوں مترادف اشعار سنا ڈالتے۔

مولانا کی تدریسی مصروفیات بہت زیادہ تھیں مگر مطالعے کا معمول قضا نہیں کرتے تھے۔ قرآن کے حافظ بھی تھے اور عاشق بھی۔ شاگردوں میں شاہ صاحب کہلاتے تھے۔ انسانی تعلق کا بہت پاس تھا۔ حد درجہ شفیق، سادہ، قانع، متین، منکسر المزاج اور خوش طبع بزرگ تھے۔ روزانہ کا معمول تھا کہ فجر کی نماز پڑھ کر قبرستان جاتے، عزیزوں اور دوستوں کی قبروں پر فاتحہ پڑھتے۔ فارغ ہوتے تو شاگردوں کو منتظر پاتے۔ واپسی کا راستہ سبق سننے اور دینے میں کَٹ جاتا۔ یہ سلسلہ گھر پہنچ کر بھی جاری رہتا، یہاں تک کہ اسکول کو چل پڑتے۔ شاگرد ساتھ لگے رہتے۔ دن بھر اسکول میں پڑھاتے۔ شام کو شاگردوں کو لیے ہوئے گھر آتے، پھر رات تک درس چلتا رہتا۔ اقبال کو بہت عزیز رکھتے تھے۔ خود وہ بھی استاد پر فدا تھے۔ اقبال کی شخصیت کی مجموعی تشکیل میں جو عناصر بنیادی طور پر کارفرما نظر آتے ہیں ان میں سے بیشتر شاہ صاحب کی صحبت اور تعلیم کا کرشمہ ہیں۔ سید میر حسن سر سید کے بڑے قائل تھے۔ علی گڑھ تحریک کو مسلمانوں کے لیے مفید سمجھتے تھے۔

ان کے زیر اثر اقبال کے دل میں بھی سرسید کی محبت پیدا ہو گئی جو بعض اختلافات کے باوجود آخر دم تک قائم رہی۔ مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ تو خیر اقبال کے گھر کی چیز تھی مگر میر حسن کی تربیت نے اس جذبے کو ایک علمی اور عملی سمت دی۔ اقبال سمجھ بوجھ اور ذہانت میں اپنے ہم عمر بچوں سے کہیں آگے تھے۔ بچپن ہی سے ان کے اندر وہ انہماک اور استغراق موجود تھا جو بڑے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ مگر وہ کتاب کے کیڑے نہیں تھے۔ کتاب کی لت پڑ جائے تو آدمی محض ایک دماغی وجود بن جاتا ہے۔ زندگی اور اس کے بیچ فاصلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ زندگی کے حقائق اور تجربات بس دماغ میں منجمد ہوکر رہ جاتے ہیں، خونِ گرم کا حصّہ نہیں بنتے۔ انھیں کھیل کود کا بھی شوق تھا۔ بچوں کی طرح شوخیاں بھی کرتے تھے۔ حاضر جواب بھی بہت تھے۔ شیخ نُور محمد یہ سب دیکھتے مگر منع نہ کرتے۔ جانتے تھے کہ اس طرح چیزوں کے ساتھ اپنائیت اور بے تکلفی پیدا ہوجاتی ہے جو بے حد ضروری اور مفید ہے۔ غرض اقبال کا بچپن ایک فطری کشادگی اور بے ساختگی کے ساتھ گزرا۔ قدرت نے انھیں صوفی باپ اور عالم استاد عطا کیا جس سے ان کا دل اور عقل یکسو ہو گئے، دونوں کا ہدف ایک ہو گیا۔ یہ جو اقبال کے یہاں حِس اور فِکر کی نادر یکجائی نظر آتی ہے اس کے پیچھے یہی چیز کارفرما ہے۔ باپ کے قلبی فیضان نے جن حقائق کو اجمالاً محسوس کروایا تھا استاد کی تعلیم سے تفصیلاً معلوم بھی ہو گئے۔ سولہ برس کی عمر میں اقبال نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ فرسٹ ڈویژن آئی اور تمغا اور وظیفہ ملا۔

اسکاچ مشن اسکول میں انٹرمیڈیٹ کی کلاسیں بھی شروع ہوچکی تھیں لہذا اقبال کو ایف اے کے لیے کہیں اور نہیں جانا پڑا، وہیں رہے، یہ وہ زمانہ ہے جب ان کی شاعری کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے۔ یوں تو شعر و شاعری سے ان کی مناسبت بچپن ہی سے ظاہر تھی، کبھی کبھی خود بھی شعر موزوں کر لیا کرتے تھے مگر اس بارے میں سنجیدہ نہیں تھے، نہ کسی کو سناتے نہ محفوظ رکھتے۔ لکھتے اور پھاڑ کر پھینک دیتے۔ لیکن اب شعر گوئی ان کے لیے فقط ایک مشغلہ نہ رہی تھی بلکہ روح کا تقاضا بن چکی تھی۔ اس وقت پورا برصغیر داغ کے نام سے گونج رہا تھا۔ خصوصاً اُردو زبان پر ان کی معجزانہ گرفت کا ہر کسی کو اعتراف تھا۔ اقبال کویہی گرفت درکار تھی۔ شاگردی کی درخواست لکھ بھیجی جو قبول کر لی گئی۔ مگر اصلاح کا یہ سلسلہ زیادہ دیر جاری نہ رہ سکا۔ داغ جگت استاد تھے۔ متحدہ ہندوستان میں اردو شاعری کے جتنے بھی رُوپ تھے، ان کی تراش خراش میں داغ کا قلم سب سے آگے تھا۔ لیکن یہ رنگ ان کے لیے بھی نیا تھا۔ گو اس وقت تک اقبال کے کلام کی امتیازی خصوصیت ظاہر نہ ہوئی تھی مگر داغ اپنی بے مثال بصیرت سے بھانپ گئے کہ اس ہیرے کو تراشا نہیں جاسکتا۔ یہ کہہ کر فارغ کر دیا کہ اصلاح کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ مگر اقبال اس مختصر سی شاگردی پر بھی ہمیشہ نازاں رہے۔ کچھ یہی حال داغ کا بھی رہا۔

مارچ 1899ء میں ایم اے کا امتحان دیا اور پنجاب بھر میں اوّل آئے۔ اس دوران میں شاعری کا سلسلہ بھی چلتا رہا، مگر مشاعروں میں نہ جاتے تھے۔ نومبر 1899ء کی ایک شام کچھ بے تکلف ہم جماعت انھیں حکیم امین الدین کے مکان پر ایک محفلِ مشاعرہ میں کھینچ لے گئے۔ بڑے بڑے سکّہ بند اساتذہ، شاگردوں کی ایک کثیر تعداد سمیت شریک تھے۔ سُننے والوں کا بھی ایک ہجوم تھا۔ اقبال چونکہ بالکل نئے تھے، اس لیے ان کا نام مبتدیوں کے دور میں پُکارا گیا۔ غزل پڑھنی شروع کی، جب اس شعر پر پہنچے کہ :

تو اچھے اچھے استاد اُچھل پڑے۔ بے اختیار ہو کر داد دینے لگے۔ یہاں سے اقبال کی بحیثیت شاعر شہرت کا آغاز ہوا۔ مشاعروں میں باصرار بُلائے جانے لگے۔ اسی زمانے میں انجمن حمایتِ اسلام سے تعلق پیدا ہوا جو آخر تک قائم رہا۔ اس کے ملّی اور رفاہی جلسوں میں اپنا کلام سناتے اور لوگوں میں ایک سماں باندھ دیتے۔ اقبال کی مقبولیت نے انجمن کے بہت سارے کاموں کو آسان کر دیا۔ کم از کم پنجاب کے مسلمانوں میں سماجی سطح پر دینی وحدت کا شعور پیدا ہونا شروع ہو گیا جس میں اقبال کی شاعری نے بنیادی کردار ادا کیا۔

ایم اے پاس کرنے کے بعد اقبال 13 مئی 1899ء کو اورینٹل کالج میں میکلوڈ عربک ریڈر کی حیثیت سے متعین ہو گئے۔ اسی سال آرنلڈ بھی عارضی طور پر کالج کے قائم مقام پرنسپل مقرر ہوئے۔ اقبال تقریباً چار سال تک اورینٹل کالج میں رہے۔ البتہ بیچ میں چھ ماہ کی رخصت لے کر گورنمنٹ کالج میں انگریزی پڑھائی۔ اعلی تعلیم کے لیے کینیڈا یا امریکا جانا چاہتے تھے مگر آرنلڈ کے کہنے پر اس مقصد کے لیے انگلستان اور جرمنی کا انتخاب کیا۔ ١٩٠۴ء کو آرنلڈ جب انگلستان واپس چلے گئے تو اقبال نے ان کی دوری کو بے حد محسوس کیا۔ دل کہتا تھا کہ اُڑ کر انگلستان پہنچ جائیں۔
اورینٹل کالج میں اپنے چار سالہ دورِ تدریس میں اقبال نے اسٹبس کی ’’ارلی پلائجنٹس‘‘اور واکر کی ’’پولٹیکل اکانومی‘‘ کا اردو میں تلخیص و ترجمہ کیا، شیخ عبد الکریم الجیلی کے نظریۂ توحیدِ مطلق پر انگریزی میں ایک مقالہ لکھا اور ’’علم الاقتصاد‘‘ کے نام سے اردو زبان میں ایک مختصر سی کتاب تصنیف کی جو 1904ء میں شائع ہوئی۔ اردو میں اپنے موضوع پر یہ اولین کتابوں میں سے ہے۔

اورینٹل کالج میں بطور عربی ریڈر مدت ملازمت ختم ہو گئی تو 1903ء میں اسسٹنٹ پروفیسر انگریزی کی حیثیت سے اقبال گورنمنٹ کالج میں تقرر ہو گیا۔ بعد میں فلسفے کے شعبے میں چلے گئے۔ وہاں پڑھاتے رہے یہاں تک کہ یکم اکتوبر 1905ء کو یورپ جانے کے لیے تین سال کی رخصت لی۔

سر عبدالقادر بھی یہیں تھے۔ اسی زمانے میں کیمبرج کے استادوں میں وائٹ ہیڈ، میگ ٹیگرٹ، وارڈ، براؤن اور نکلسن جیسی نادرۂ روزگار اور شہرۂ آفاق ہستیاں بھی شامل تھیں۔ میگ ٹیگرٹ اور نکلسن کے ساتھ اقبال کا قریبی ربط ضبط تھا بلکہ نکلسن کے ساتھ تو برابر کی دوستی اور بے تکلفی پیدا ہو گئی۔ البتہ میگ ٹیگرٹ کی جلالت علمی کے ساتھ ان کی عمر بھی تھی، وہ اقبال سے خاصے بڑے تھے جب کہ نکلسن کے ساتھ سن کا کوئی ایسا تفاوت نہ تھا۔

میگ ٹیگرٹ ٹرنٹی کالج میں کانٹ اور ہیگل کا فلسفہ پڑھاتے تھے۔ خود بھی انگلستان کے بڑے فلسفیوں میں گِنے جاتے تھے۔ براؤن اور نکلسن عربی اور فارسی زبانوں کے ماہر تھے۔ آگے چل کر نکلسن نے اقبال کی فارسی مثنوی اسرار خودی کا انگریزی ترجمہ بھی کیا جو اگرچہ اقبال کو پوری طرح پسند نہیں آیا مگر اس کی وجہ سے انگریزی خواں یورپ کے شعری اور فکری حلقوں میں اقبال کے نام اور کام کا جزوی سا تعارف ضرور ہو گیا۔ انگلستان سے آنے بعد بھی اقبال کی میگ ٹیگرٹ اور نکلسن سے خط کتابت جاری رہی۔

آرنلڈ جو کیمبرج میں نہیں تھے، لندن یونیورسٹی میں عربی پڑھاتے تھے، لیکن اقبال بڑی باقاعدگی سے ان سے ملنے جایا کرتے تھے۔ ہر معاملے میں ان کا مشورہ لے کر ہی کوئی قدم اُٹھاتے۔ انہی کے کہنے پر میونخ یونیورسٹی میں پی۔ ایچ۔ ڈی کے لیے رجسٹریشن کروایا۔ کیمبرج سے بی اے کرنے کے بعد جولائی 1907ء کو ہائیڈل برگ چلے گئے تاکہ جرمن زبان سیکھ کر میونخ یونیورسٹی میں اپنے تحقیقی مقالے کے بارے میں اس زبانی امتحان کی تیاری ہو جائے جو اسی زبان میں ہوتا تھا۔ یہاں چار ماہ گزارے۔ ایران میں ما بعد الطبیعیات کا ارتقا کے عنوان سے اپنا تحقیقی مقالہ پہلے ہی داخل کرچکے تھے، ایک زبانی امتحان کا مرحلہ ابھی رہتا تھا، اس سے بھی سرخروئی کے ساتھ گزر گئے۔ 4 نومبر 1907ء کو میونخ یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری دے دی۔ 1908ء میں یہ مقالہ پہلی بار لندن سے شائع ہوا۔ انتساب آرنلڈ کے نام تھا۔

ڈاکٹریٹ ملتے ہی لندن واپس چلے آئے۔ بیرسٹری کے فائنل امتحانوں کی تیاری شروع کردی۔ کچھ مہینے بعد سارے امتحان مکمل ہو گئے۔ جولائی 1908ء کو نتیجہ نکلا۔ کامیاب قرار دیے گئے۔ اس کے بعد انگلستان میں مزید نہیں رُکے، وطن واپس آ گئے۔

لندن میں قیام کے دوران میں اقبال نے مختلف موضوعات پر لیکچروں کا ایک سلسلہ بھی شروع کیا، مثلاً اسلامی تصوّف، مسلمانوں کا اثر تہذیب یورپ پر، اسلامی جمہوریت، اسلام اور عقلِ انسانی وغیرہ بدقسمتی سے ان میں ایک کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں ملتا۔

ایک مرتبہ آرنلڈ لمبی رخصت پر گئے تو اقبال ان کی جگہ پر لندن یونیورسٹی میں چند ماہ کے لیے عربی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔

مئی 1908ء میں جب لندن میں آل انڈیا مسلم لیگ کی برٹش کمیٹی کا افتتاح ہوا تو ایک اجلاس میں سیّد امیر علی کمیٹی کے صدر چُنے گئے اور اقبال کو مجلسِ عاملہ کا رُکن نامزد کیا گیا۔

اسی زمانے میں انھوں نے شاعری ترک کردینے کی ٹھان لی تھی، مگر آرنلڈ اور اپنے قریبی دوست شیخ عبد القادر کے کہنے پر یہ ارادہ چھوڑ دیا۔ فارسی میں شعر گوئی کی ابتدا بھی اسی دور میں ہوئی۔

قیامِ یورپ کے دوران میں اقبال کے دو بنیادی خیالات تبدیل ہونے شروع ہوئے۔ اقبال وطنی قومیّت اور وحدتِ الوجود کی طرف میلان رکھتے تھے۔ اب وہ میلان گریز میں بدلنے لگا تھا۔ خاص طور پر وطنی قومیت کے نظریے کے تو اس قدر خلاف ہو گئے جسے نفرت کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔

یورپ پہنچ کر انھیں مغربی تہذیب و تمدّن اور اس کی روح میں کارفرما مختلف تصوّرات کو براہ راست دیکھنے کا موقع ملا۔ مغرب سے مرعوب تو خیر وہ کبھی نہیں رہے تھے، نہ یورپ جانے سے پہلے نہ وہاں پہنچنے کے بعد۔ بلکہ مغرب کے فکری، معاشی، سیاسی اور نفسیاتی غلبے سے آنکھیں چرائے بغیر انھوں نے عالمی تناظر میں امتِ مسلمہ کے گزشتہ عروج کی بازیافت کے لیے ایک وسیع دائرے میں سوچنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ ان پر مغربی فکر اور تہذیب کا چھپا ہوا بودا پن منکشف ہو گیا۔

جولائی 1908ء میں وطن کے لیے روانہ ہوئے۔ بمبئی سے ہوتے ہوئے 25 جولائی 1908ء کی رات دہلی پہنچے۔

ابتدا میں آپ نے ایم اے کرنے کے بعد اورینٹل کالج لاہور میں تدریس کے فرائض سر انجام دیے لیکن آپ نے بیرسٹری کو مستقل طور پر اپنایا۔ وکالت کے ساتھ ساتھ آپ شعر و شاعری بھی کرتے رہے اور سیاسی تحریکوں میں بھرپور انداز میں حصہ لیا۔ 1922ء میں حکومت کی طرف سے سر کا خطاب ملا۔ اقبال انجمن حمایت اسلام کے اعزازی صدر بھی رہے۔

اگست 1908ء میں اقبال لاہور آ گئے۔ ایک آدھ مہینے بعد چیف کورٹ پنجاب میں وکالت شروع کردی۔ اس پیشے میں کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایم ۔ اے ۔ او کالج علی گڑھ میں فلسفے اور گورنمنٹ کالج لاہور میں تاریخ کی پروفیسری پیش کی گئی مگر اقبال نے اپنے لیے وکالت کو مناسب جانا اور دونوں اداروں سے معذرت کرلی۔ البتہ بعد میں حکومت پنجاب کی درخواست اور اصرار پر 10 مئی 1910ء سے گورنمنٹ کالج لاہور میں عارضی طور پر فلسفہ پڑھانا شروع کر دیا، لیکن ساتھ ساتھ وکالت بھی جاری رکھی۔ ہوتے ہوتے مصروفیات بڑھتی چلی گئیں۔ کئی اداروں اور انجمنوں سے تعلق پیدا ہو گیا۔

بیسویں صدی کے عشرہ اول میں پنجاب کی مسلم آبادی ایک ٹھہراؤ میں مبتلا تھی۔ کہنے کو مسلمانوں کے اندر دو سیاسی دھڑے موجود تھے مگر دونوں مسلمانوں کے حقیقی تہذیبی، سیاسی اور معاشی مسائل سے بیگانہ تھے۔ ان میں سے ایک کی قیادت سر محمد شفیع کے ہاتھ میں تھی اور دوسرا سر فضل حسین بھی اپنے اپنے حمایتیوں کو لے کر پہنچے، طے پایا کہ پنجاب میں صوبائی مسلم لیگ قائم کی جائے۔ اس فیصلے پر فوری عمل ہوا۔ میاں شاہ دین صدر بنائے گئے اور سر محمد شفیع سیکرٹری جنرل۔ سر فضل حسین عملاً الگ تھلگ رہے۔ اقبال ان سب قائدین کے ساتھ دوستانہ مراسم تو رکھتے تھے مگر عملی سیاست سے انھوں نے خود کو غیر وابستہ ہی رکھا۔

تقسیم بنگال کی منسوخی کا اعلان ہوا تو یکم فروری، 1912ء کو موچی دروازہ لاہور میں مسلمانوں نے ایک احتجاجی جلسہ منعقد کیا، جس میں اقبال بھی شریک ہوئے۔ مقررین نے بڑی جذباتی اور جوشیلی تقریریں کیں۔ اقبال کی باری آئی تو مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کا مینار بن کر اُٹھے اور فرمایا:

اس تقریر سے مجمع میں رواں دواں لمحاتی اور بے جہت جوش و خروش اپنی قوم کے زندہ تشخص کے لیے درکار ایک بامعنی قوت میں بدل گیا جو ابھی محدود تھی مگر آگے چل کر اسے وسعت پکڑنی تھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ مسلمانوں کے چند حلقوں میں بیداری کے آثار پیدا ہوچلے تھے، مگر اس بیداری کے مراکز ایک دوسرے سے لاتعلق چھوٹے چھوٹے جزیروں کی طرح بٹے ہوئے تھے۔ متفقہ ملّی قیادت میسر نہیں تھی۔ نتیجتہً مسلمانوں کے اندر متحدہ ہندی قومیت کا رجحان پیدا ہوچلا تھا۔ مسلم لیگ اور ہندو کانگریس کے اجلاس ساتھ ساتھ ہونے لگے تھے۔ ابھی اقبال عملی سیاست سے الگ تھے مگر مسلم قومیت کے اس اصول پر پوری طاقت کے ساتھ قائم تھے جو ان پر قیامِ انگلستان کے زمانے میں منکشف ہوا تھا۔

یورپ سے واپسی کے بعد 1914ء تک کا زمانہ اقبال کی بنیادی فکر کی تشکیل و تکمیل کا زمانہ ہے۔

یورپ میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوچکی تھی۔ اس کے اثرات ہندوستان میں بھی نمایاں ہوئے۔ انگریزی حکومت کا رویہّ سخت سے سخت تر ہوتا گیا جو جنگ کے خاتمے کے بعد بھی برقرار رہا۔ انگریزی حکومت کے خلاف تحریکوں نے زور پکڑ لیا تھا۔

ہر زائر چمن سے یہ کہتی ہے خاک پاک

غافل نہ رہ جہان میں گردوں کی چال سے

سینچا گیا ہے خون شہیداں سے اس کا تخم

تو آنسوؤں کا بخل نہ کر اس نہال سے

عبدالمجید سالک اپنی کتاب ’’ذکر اقبال‘‘میں تحریر کرتے ہیں:

اسی سال ستمبر کے مہینے میں مولانا محمدعلی جوہر چار سالہ نظر بندی کاٹ کے آل انڈیا مسلم کانفرنس کے اس مشہور احتجاجی جلسے میں شرکت کے لیے لکھنؤ پہنچے جس میں خلاف کانفرنس کا قیام عمل میں آیا۔ خلافت کانفرنس کی تشکیل سے مسلمانوں نے بڑی امیدیں باندھ رکھی تھیں مگر بدقسمتی سے آگے چل کر اس نے کانگریس سے اتحاد کر لیا اور اس کے لیڈروں نے گاندھی کو اپنا قائد مان لیا۔ اقبال صوبائی خلافت کمیٹی کے رُکن تھے لیکن حالات کی اس تبدیلی نے ان کا قائدینِ خلافت سے شدید اختلاف پیدا کر دیا۔ وجہ اختلاف دو باتیں تھیں:

اوّل یہ کہ اقبال اس حق میں نہ تھے کہ خلافت وفد مذاکرات کے لیے انگلستان جائے، وہ اسے انگریز کی چال سمجھتے تھے۔

دوم یہ کہ وہ ہندوؤں کے ساتھ مل کر عدم تعاون کی تحریک چلانے کو مسلمانوں کے لیے مضر خیال کرتے تھے کیونکہ کسی قابلِ قبول ہندو مسلم معاہدے کے بغیر محض انگریز دشمنی کی مشترکہ بنیاد پر متحدہ قومیت کا ناقص تصّور مسلمانوں کی جداگانہ ملّی حیثیت کو ختم کر دے گا۔

یہ اختلافات حل نہ ہوئے تو اقبال صوبائی خلافت کمیٹی سے الگ ہو گئے۔ اقبال کی بصیرت نے بھانپ لیا تھا کہ خود خلافتِ عثمانیہ کا مستقبل مخدوش ہے لہذا مسلمان اقوام کے ملّی اتحاد کی بنیاد اس کی بجائے کسی اور اصول پر رکھنی چاہیے۔

جنوری 1923ء کو اقبال کر سَر کا خطاب ملا۔ ان کے پُرانے دوست میر غلام بھیک نیرنگ نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اب آپ شاید آزادیٔ اظہار سے کام نہ لے سکیں تو اقبال نے جواب میں تحریر کیا:

دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی

افق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابی

خلافت کانفرنس نے برصغیر کے مسلمانوں کے جذبات ابھار کر انھیں اس طرح اپنی گرفت میں لے رکھا تھا کہ مسلم لیگ کا وجود آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ ١٩٢۴ء میں قائد اعظم محمد علی جناح کی لگاتار کوششوں سے اس کا احیاء ہوا۔ ادھر پنجاب میں بھی مسلم سیاست بحران کا شکار تھی۔ مسلمانوں کے اندر شہری اور دیہاتی جھگڑا کھڑا ہو گیا تھا، جس نے یونینسٹ پارٹی کو جنم دیا۔ 1923ء کے صوبائی انتخابات کے موقع پر اقبال سے اصرار کیا گیا کہ لیجسلیٹو کونسل کا الیکشن لڑیں مگر انھوں نے انکار کر دیا کیونکہ ان کے قریبی دوست میاں عبد العزیز بیرسٹر اسی حلقے سے اپنی امیدواری کا اعلان کرچکے تھے جو اقبال کے لیے تجویز کیا جا رہا تھا۔ اقبال حسبِ معمول وکالت میں مصروف تھے کہ 1926ء آ گیا۔ اس سال پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے دوبارہ انتخابات ہونے تھے۔ دوستوں نے پھر زور ڈالا۔ اس مرتبہ میاں عبد العزیز نے بھی کہہ دیا کہ وہ اقبال کے مقابلے میں کھڑے نہ ہوں گے بلکہ ان کی مدد کریں گے۔ اس بار اقبال مان گئے۔ امیدواری کا باقاعدہ اعلان چھاپ دیا گیا۔ الیکشن ہوئے، ظاہر ہے کہ اقبال ہی کو کامیاب ہونا تھا۔ کونسل کے اندر یونینسٹ پارٹی اکثریت میں تھی۔ اس کی قوّت کو مسلمانوں کے قومی مفاد میں استعمال کرنے کے لیے اقبال یونینسٹ پارٹی میں شامل ہو گئے مگر جب اس جماعت کی ناقابلِ اصلاح خرابیاں مشاہدے میں آئیں تو اقبال نے علیحدگی اختیار کرلی۔ باقی مدت ایک تنہا رُکن کی حیثیت سے گزار دی۔ اسی سال پنجاب کی صوبائی مسلم لیگ کے سیکرٹری بنائے گئے جس سے برّصغیر کی مسلم سیاست کا دروازہ ان پر کھل گیا۔ اب اقبال عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھ چکے تھے۔

ہندوؤں کی طرف شدھی اور سنگھٹن کی رُسوائے زمانہ تحریکوں کا زور تھا جس کی وجہ سے قدم قدم پر ہندو مسلم فسادات ہو رہے تھے۔ ان فتنوں کا تدارک کرنے کے لیے مسلمانوں میں بھی مختلف تبلیغی مشن بنائے جا رہے تھے۔ غلام بھیک نیرنگ نے ایسی ہی ایک جماعت کی مدد کے لیے لکھا تو علامہ نے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے تحریر کیا:

دیکھنے میں تو یہ سیدھے سادے دو جملے ہیں مگر علامہ کے اس ارشاد میں تحریکِ پاکستان کا جوہر سمایا ہوا ہے۔

جنرل نادر خان کو مالی امداد فراہم کرنے کے لیے اقبال نے برّصغیر کے مسلمانوں کے نام ایک اپیل شائع کی جسے دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آج ہم بھی اس کے مخاطب ہیں:

فلسطین میں یہودیوں بڑھتے ہوئے پُرتشدّد غلبے اور خاص طور پر مسجدِ اقصیٰ پر ان کے ناپاک قبضے کے خلاف ہندوستان بھر میں مسلمانوں کے احتجاجی جلسے ہو رہے تھے، 7 ستمبر 1929ء کو اقبال کی صدارت میں ایسا ہی ایک عظیم الشان جلسہ ہوا۔ اقبال نے اپنے خطبے میں فرمایا:

برطانوی حکومت نے دوسری گول میز کانفرنس میں اقبال کو بھی مدعو کیا۔ لندن جانے کے لیے ٨ ستمبر 1931ء کو لاہور سے روانہ ہوئے۔ اگلی صبح دہلی پہنچے۔ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ہزاروں کا مجمع استقبال کو موجود تھا۔

برّصغیر میں مسلم سیاسی جماعتیں سخٹ انتشار اور افتراق میں مبتلا تھیں۔ اپنا اپنا راگ الاپا جا رہا تھا۔ مسلمانوں کے قومی مستقبل کا مسئلہ عملاً فراموش کیا جا چکا تھا۔ قائد اعظم مایوس ہو کر لندن جا چکے تھے، یہ سب دیکھنے اور کُڑھنے کو ایک اقبال رہ گئے تھے، لیکن قدرت کو مسلمانوں کی بہتری منظور تھی، اقبال اور دوسرے مخلصوں کے اصرار پر قائداعظم ہندوستان واپس آ گئے اور 4 مارچ 1934ء کو مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے۔ لیگ کے تن مردہ میں جان پڑ گئی اور برّصغیر کے مسلمانوں کے دن پھرنے کا آغاز ہو گیا۔

علامہ اقبال مولانا رومی کو اپنا روحانی استاد مانتے تھے اور انہیں پیر رومی کے نام سے یاد کرتے۔

جنوبی ایشیا کے اردو اور ہندی بولنے والے لوگ محمد اقبال کو شاعر مشرق کے طور پہ جانتے ہیں۔ محمد اقبال حساس دل و دماغ کے مالک تھے آپ کی شاعری زندہ شاعری ہے جو ہمیشہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے مشعل راہ بنی رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کلام اقبال دنیا کے ہر حصے میں پڑھا جاتا ہے اور مسلمانان برصغیر اسے بڑی عقیدت کے ساتھ زیر مطالعہ رکھتے اور ان کے فلسفے کو سمجھتے ہیں۔ اقبال نے نئی نسل میں انقلابی روح پھونکی اور اسلامی عظمت کو اجاگر کیا۔ ان کے کئی کتب کے انگریزی، جرمنی، فرانسیسی، چینی، جاپانی اور دوسری زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ جس سے بیرون ملک بھی لوگ آپ کے متعرف ہیں۔ بلامبالغہ علامہ اقبال ایک عظیم مفکر مانے جاتے ہیں۔

مزید دیکھیے: آثار اقبال

صرف اولین اشاعتوں کے سنیں دیے گئے ہیں ۔

علامہ محمد اقبال 21 اپریل 1938ء بمطابق ۲۰، صفر المصفر ۱۳۵۷ء کو فجر کے وقت اپنے گھر جاوید منزل میں طویل علالت کے باعث  خالق حقیقی سے جا ملے اور ان کو لاہور میں بادشاہی مسجد کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔

علامہ اقبال کا مزار لاہور میں شاہی مسجد کے ساتھ واقع ہے۔

مزار تکمیل کے آخری مراحل میں تھا کہ 13 جون 1949ء کو اسے محکمہ اوقاف کی تحویل میں لے لیا گیا اور اُس سے اگلے سال 1950ء میں (علامہ اقبال کے انتقال کے تقریباً 12 سال بعد) کوئی ساڑھے چار سال کے عرصے میں مزار کی تعمیر مکمل ہوئی۔

مزار کے اندر چاروں دیواروں پر چھت سے کچھ نیچے قرآن کی منتخب شدہ ایک پوری آیت اور تین آیات کے بعض حصے بڑی نفاست سے کندہ ہیں، جن میں سنگ موسیٰ بھرا ہوا ہے۔ یہ آیات الٰہی ملک کے نامور خطاط اور صاحبِ طرز خوشنویس حافظ محمد یوسف سدیدی (ولادت:1930ء) کے قلم کا کرشمہ ہیں۔
مشرقی دیوار پر سورۂ انبیا ء کی ایک پوری آیت(نمبر105) تزئینی خط ثلث میں لکھی ہوئی ہے: وَلَقَدْ کَتَبْنَا فی الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِالذَّکْرِأَنَّ الْأَرْضَ یَرِثُھَاعِبَادیَ الصَّالِحُونَ۔ َ (اور زبور میں ہم لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے)۔
شمالی دیوار میں اسی بلندی پرخط ثلث تزئینی ہی میں سورۂ ابراہیم کی چوبیسویں آیت کا ٹکڑا درج ہے جو علامہ اقبال کو بہت پسند تھا: کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِبَۃٍ أَصْلُھَاثَابِتٌوَفَرْعُھَا فِی السَّمَاءِ (پاکیزہ بات کی مثال پاکیزہ درخت کی سی ہے جس کی جڑیں مضبوط اور ٹہنیاں آسمان میں ہوتی ہیں)۔

جنوبی دیوارمیں سورہ ابراہیمؑ ہی کی ستائیسویں آیت کا یہ حصہ خط ثلث تزئینی میں درج ہے: یُثَبِّتُ الَّلہُ الَّذِینَ آمَنُوبِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ (ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قول ثابت کی بنیاد پردنیا اور آخرت، دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے)۔

مزار کی مغربی دیوار پرسورہ توبہ کی چالیسویں آیت کا یہ ٹکڑا خط کوفی تزئینی میں لکھا ہواہے:

کَلِمَۃُ الّٰلہِ ھِیَ الْعُلْیَا 

ترجمہ:اللہ کا بول تو اونچا ہی ہے۔

بیرون مزار شمالی جانب مرمریں جالی کے اوپر ایک تختی پر ”ارمغان حجاز“ سے ماخوذ درج ذیل فارسی رباعی کندہ ہے جس میں بے عمل مذہبی دعویداروں پر سخت تنقید کی گئی ہے :

بیا تا کار ایں امت بسازیم

قمار زندگی مردانہ بازیم

چناں نالیم اندر مسجد شہر

کہ دل در سینۂ ملا گدازیم

ترجمہ: آؤ اس امت کی کارسازی کریں،زندگی کی بازی جوان مردوں کی طرح کھیلیں۔شہرکی مسجد میں اس طرح سے روئیں کہ مُلا(کم علم پیشوائے دیں)کے سینے میں دل پگھلا کررکھ دیں۔
اندرون مزار چھت پر حاشیائی حصے میں چاروں طرف علامہ اقبالؒ کی کتاب ”زبور عجم“ سے منتخب کی گئی چھ اشعار پر مشتمل مکمل غزل درج ہے۔ چھت کے مغربی حصے پر پہلے دو شعر، جنوبی حصے پر تیسرا شعر، مشرقی حصے پر چوتھا اور پانچواں جبکہ شمالی حصے پر مقطع کندہ ہے۔

دم مرا صفتِ بادِ فروردیں کردند

گیاہ را ز سرشکم چو یاسمیں کردند

نمود لالۂ صحرا نشیں ز خوننابم

چنانکہ بادۂ لعلے بساتگیں کردند

بلند بال چنانم کہ سپہر بریں

ہزار بار مرا نوریاں کمیں کردند

فروغ آدم خاکی ز تازہ کاری ہاست

مہ و ستارہ کنند آنچہ پیش ازیں کردند

چراغ خویش برا فروختم کہ دست کلیم

دریں زمانہ نہاں زیر آستیں کردند

در آ بسجدہ ویاری زخسرواں مطلب

کہ روز فقر نیاگان ماچنیں کردند

ترجمہ

(1) میری سانس کو بادِ بہاراں کی سی صفت عطا ہوئی ہے اور گھاس کے تنکوں کو میرے اشکوں نے چنبیلی کی سی مہک عطا کی ہے۔

(2) صحرا نشین لالہ کی نمود میرے لہو سے ہوئی ہے اس طور پر کہ جیسے ایک بڑا پیالۂ یاقوت جسے سرخ رنگ کی شراب سے بھر دیا گیا ہو۔

(3)میں اس قدر بلند پرواز ہوں کہ آسمانوں میں فرشتوں نے مجھے ہزار بار زیر دام لانے کی کوشش کی ہے۔

(4) آدم خاکی کا فروغ نئے نئے کاموں سے ہے جب کہ چاند ستارے اپنی پرانی روش پر چل رہے ہیں۔

(5) اس زمانے میں دستِ کلیم آستینوں میں چھپا ہے،اس لیے میں نے اپنا چراغ جلایا ہے۔

(6) رب کے آگے سجدہ ریز ہو اور شاہان وقت سے سروکار نہ رکھو،کہ آزمائش میں ہمارے اسلاف یہی کرتے رہے ہیں۔

یہ اشعار سنگ موسیٰ سے ہی پچی کیے گئے ہیں۔ مشہور خطاط ابن پروین رقم نے ان اشعار کو اس قدر حسن و زیبائی کے ساتھ رقم کیا کہ 1950ء میں جب رضا شاہ پہلوی شہنشاہ ایران مزار اقبال پر فاتحہ خوانی کے لیے آئے تو ان اشعار کو دیکھ کر بے ساختہ اُن کی زبان سے یہ فقرہ نکل گیا…… ”خوشخطی خوب است“۔




#Article 77: مستنصر حسين تارڑ (1532 words)


مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے مشہور سفر نامہ نگار ہیں۔ اب تک پچاس سے زیادہ کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کی وجہ شہرت سفر نامے اور ناول نگاری ہے۔ اس کے علاوہ ڈراما نگاری، افسانہ نگاری اور فن اداکاری سے بھی وابستہ رہے۔ مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ادیب ہیں۔

مستنصر کا آبائی تعلق گجرات سے ہے لیکن اس وقت لاہور میں رہتے ہیں۔ بچپن میں قیام پاکستان کو دیکھنے کا موقع ملا ۔

مستنصر حسین تارڑ کے والد رحمت خان تارڑ گجرات کے ایک کاشت کار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ مستنصر صاحب نے اپنے والد سے گہرا اثر قبول کیا۔

مستنصر حسین تارڑ 1 مارچ 1939ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ بیڈن روڈ پر واقع لکشمی مینشن میں اُن کا بچپن گزرا جہاں سعادت حسن منٹو پڑوس میں رہتے تھے۔ اُنھوں نے مشن ہائی اسکول، رنگ محل اور مسلم ماڈل ہائی اسکول میں تعلیم حاصل ک۔ میٹرک کے بعد گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ ایف اے کے بعد برطانیہ اور یورپ کے دوسرے ممالک کا رخ کیا، جہاں فلم، تھیٹر اور ادب کو نئے زاویے سے سمجھنے، پرکھنے اور برتنے کا موقع ملا۔ پانچ برس وہاں گزارے اور ٹیکسٹائل انجنئیرنگ کی تعلیم حاصل کرکے وطن واپس لوٹے۔

ٹی وی ڈراموں میں کام کیا ہے۔ متعدد سفر کیے۔ آج کل اخبار جہاں میں ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ناول کے حوالے سے بھی وہ ایک اہم نام ہے۔ انہوں نے بہاؤ، راکھ (ناول)، خس و خاشاک زمانے اور اے غزال شب جیسے شہرہ آفاق ناول تخلیق کیے۔ اس کے علاوہ آپ نے ٹی وی پروگراموں کی میزبانی بھی کرتے رہے ہیں۔ پی ٹی وی نے جب پہلی مرتبہ 1988ء میں صبح کی نشریات صبح بخیر کے نام سے شروع کیں تو مستنصر حسین تارڑ نے ان نشریات کی کئی سال تک میزبانی کے فرائض سر انجام دیے۔ ریڈیو پروگرام کی بھی میزبانی کی ۔

پاکستان لوٹنے کے بعد جب ان کے اندر کا اداکار جاگا، تو انھوں نے پی ٹی وی کا رخ کیا۔ پہلی بار بہ طور اداکار ”پرانی باتیں“ نامی ڈرامے میں نظر آئے۔ ”آدھی رات کا سورج“ بہ طور مصنف پہلا ڈراما تھا، جو 74ءمیں نشر ہوا۔ آنے والے برسوں میں مختلف حیثیتوں سے ٹی وی سے منسلک رہے۔ جہاں کئی یادگار ڈرامے لکھے، وہیں سیکڑوں بار بہ طور اداکار کیمرے کا سامنا کیا۔ پاکستان میں صبح کی نشریات کو اوج بخشنے والے میزبانوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ بچوں کے چاچا جی کے طور پر معروف ہوئے۔

ناول اور سفرناموں کے علاوہ مستنصر صاحب نے ڈرامے بھی تحریر کیے جن میں قابل ذکر یہ ہیں :

اوائلِ عمر میں سوویت یونین کے سفرنامے لنڈن سے ماسکو تکسے انہوں نے سفر ناموں کی ابتدا کی۔ اس کے بعد نکلے تیری تلاش میں سے انہوں نے اردو ادب میں سفرنامہ لکھنے کے لیے ایک ایسا انداز متعارف کروایا جس کی اقتدا میں کئی سفرنامے لکھے گئے۔ انہوں نے سفرنامہ کو دلچسب، پُر مزاح، آسان اور سلیس تحریر سے ادب میں سفرناموں کے قارئین کی ایک کثیر تعداد پیدا کی۔ منظر نگاری کرتے ہوئے وہ الفاظ کی ایسی جادوئی بنت کرتے ہیں کے پڑھنے والا اس مقام و منظر سے بھرپور واقفیت حاصل کرلیتا ہے۔نکلے تیری تلاش کے بعد انہوں نے مڑ کر نہیں دیکھا اور اندلس میں اجنبی، خانہ بدوش، کے ٹو کہانی،نانگا پربت، یاک سرائے، رتی گلی،سنو لیک، چترال داستان، ہنزہ داستان، شما ل کے سفرناموں سے ایسے سفرنامے تحریر کیے جن کو پڑھ کر کئی لوگ آوارہ گرد بن کر ان مقاموں کو دیکھنے ان جگہوں تک جا پہنچے۔غار حرا میں ایک رات اور منہ ول کعبہ شریف ان کے وہ سفر نامے ہیں جوحجاز مقدس کے بارے میں تحریر کیے گئے ہیں۔نیو یارک کے سو رنگ،ماسکو کی سفید راتیں،پتلی پیکنگ کی،سنہری الو کا شہر بھی یادگارسفر نامے کہے جا سکتے ہیں ۔

سفرنامے کے میدان میں اپنا سکہ جما کر ناول نگاری کی جانب آ گئے۔ اولین ناول پیار کا پہلا شہر ہی بیسٹ سیلر ثابت ہوا۔ اب تک اِس کے پچاس سے زائد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ یوں تو ہر ناول مقبول ٹھہرا، البتہ راکھ اور “بہاؤ” کا معاملہ مختلف ہے۔ خصوصاً “بہاؤ” میں اُن کا فن اپنے اوج پر نظر آتا ہے، پڑھنے والوں نے خود کو حیرت کے دریا میں بہتا محسوس کرتا ہے۔ اِس ناول میں تارڑ صاحب نے تخیل کے زور پر ایک قدیم تہذیب میں نئی روح پھونک دی۔ “بہاؤ” وادی سندھ کے ایک شہر کا احوال ہے جو ایک قدیم دریا سرسوتی کے معدوم اور خشک ہوجانے کا بیان ہے، جس سے پوری تہذیب فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہے۔ ناول کی زبان انتہائی منفرد ہے اس میں سندھی، سنسکرت، براہوی اور سرائیکی زبان کے الفاظ جا بجا ملتے ہیں جس سے ناول کا طرزِ تحریر اور اسلوب منفرد ہو جاتا ہے۔ “بہاؤ” کی طرزِ تحریرو زبان کی مثال ملنا مشکل ہے، یہ ایک انوکھی تخلیق ہے بقول مصنف یہ ایک(Myth )متھ ہے۔ “بہاؤ” میں مستنصر حسین تارڑ ماہر بشریات Anthropoligist نظر آتے ہیں۔

راکھ کو 1999ء میں بہترین ناول کے زمرے میں وزیر اعظم ادبی ایوارڈ کا مستحق گردانا گیا، جس کا بنیادی موضوع سقوط ڈھاکا اور بعد کے برسوں میں کراچی میں جنم لینے والے حالات ہیں۔ ”قلعہ جنگی“ نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکی حملے کے پس منظر میں لکھا گیا۔ اردو کے ساتھ پنجابی میں بھی ناول نگاری کا کام یاب تجربہ کیا۔ اس سفر میں افسانے بھی لکھے۔ ان کی شناخت کا ایک حوالہ کالم نگاری بھی ہے، جس میں ان کا اسلوب سب سے جداگانہ ہے۔ ’خس و خاشاک زمانے‘ ضخیم ناول ہے جس میں دو خاندانوں کی کئی نسلوں پر پھیلی داستان بیان کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ تارڑ صاحب کالم نگاری بھی کرتے رہے ہیں۔ ان کے کالموں کے مجموعہ مندرجہ ذیل ہیں:

آج کل روزنامہ نئی بات اور ہفتہ وار اخبار جہاں میں بھی باقاعدگی سے کالم نگاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔.

٭خطوط (شفیق الرحمٰن،کرنل محمد خان،محمد خالداختر)۔

مستنصر حسین تارڑ کی ادبی خدمات کے بدلے صدارتی تمغا حسن کارکردگی اوران کے ناول راکھ کو 1999 میں بہترین ناول کے زمرے میں وزیر اعظم ادبی ایوارڈ کا مستحق گردانا گیا اور آپ کو 2002ء میں دوحہ قطر میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔

مطالعے کی عادت جتنی پختہ ہے، اتنی ہی پرانی۔اردو میں قرۃالعین حیدر ان کی پسندیدہ لکھاری ہیں۔ اُن کا ناول آخری شب کے ہمسفر اچھا لگا۔ ٹالسٹائی اور دوستوفسکی کے مداح ہیں۔ برادرز کرامازوف کو دنیا کا سب سے بڑا ناول خیال کرتے ہیں۔ شفیق الرحمن کی کتاب برساتی کوے کو اپنے سفرنامے ”نکلے تری تلاش میں“ کی ماں قرار دیتے ہیں۔ کرنل محمد خان کی بجنگ آمد کو اردو کا بہترین نثری سرمایہ سمجھتے ہیں۔ غیر ملکی ادیبوں میں رسول حمزہ توف کی میرا داغستان اور آندرے ژید کی خودنوشت اچھی لگیں۔ کافکا اور سارتر بھی پسند ہیں۔ ترک ادیب یاشر کمال اور اورحان پامک کے مداح ہیں۔ مارکیز اور ہوسے سارا ماگو کو بھی ڈوب کر پڑھا۔ ممتاز ادیب محمد سلیم الرحمن کی تنقیدی بصیرت کے قائل ہیں۔ اپنی تخلیقات کے تعلق سے ان سے مشورہ ضرور کرتے ہیں۔

تارڑ کہتے ہیں’’دوستوفسکی سے مَیں نے صبر سیکھا کہ کیسے لکھا جاتا ہے، کیسے کردار نگاری کی جاتی ہے۔ مَیں کوئی اوریجنل شخص نہیں ہوں بلکہ میرے اندر اُن بہت سے ادیبوں کی جھلک نظر آتی ہے، جنہیں مَیں نے پڑھا ہے اور جو آہستہ آہستہ مجھ میں سرایت کرتے گئے ہیں۔ آیا میرا اپنا کوئی اَنگ بھی بنا ہے یا نہیں، یہ مَیں نہیں کہہ سکتا۔ دوستوفسکی، چیخوف اور ٹالسٹائی کے بعد مَیں نے کافکا، کامیو اور کئی فرانسیسی ادیبوں کے ساتھ ساتھ جرمن ادیب ہرمن ہیسے کو بھی پڑھا، جن کے ناول سدھارتھ کو تو ایک بائبل کی طرح پڑھا جاتا ہے‘‘ ۔

ان کے ناول جنہوں نے سب سے زیادہ ادبی حلقوں میں پزیرائی حاصل کی ان میں سرفہرست بہاؤکا نام آتا ہے جووادئ سندھ کے معاشرتی طرز اور اطوار کو واضح کرتا ہے۔

اردو ادب کے مشہور ناول نگار عبداللہ حسین بہاؤ کے بارے میں لکھتے ہیں اس تحریر کی پشت پر جس قدر تخیلاتی ریسرچ پائی جاتی ہے اس کا اندازہ کر کے حیرت ہوتی ہے- رسمی لحاظ سے سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کے اگر یہ ناول کسی ترقی یافتہ ملک میں لکھا جاتا تو چند سال کے اندر مصنف کو کسی یونیورسٹی کی جانب سے علم بشریا ت کی اعزازی ڈگری پیش کی جاتی عبد اللہ حسین کے ان الفاظ سے بہاؤ کی ادبی حیثیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ راکھ اورخس و خاشاک زمانے کو بھی شاہکار نہ کہنا نہ انصافی ہوگی۔تقسیم برصغیر کے بارے میں لکھ گئے یہ ناول ان تاریخی حقائق کو بیان کرتے ہیں جن پی اب تک بات کرنا پسند نہیں کی جاتی ہے،خس و خاشاک زمانے  کو تو پاکستان کی ایک ایسی دستاویز کہا جاسکتا ہے جو پاکستانی معاشرے کی اخلاقی اور تہذیبی اقدار اور اس کے بدلتے رویوں کو بیان کرتی ہے۔ جب کے پیار کا پہلا شہر اور قربت مرگ میں محبت مقبول عام ہیں۔ ادب سے لگاؤ رکھنے والا شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جس نے پیار کا پہلا شہر پڑھ نہ رکھا ہو۔ اس کے علاوہ ڈاکیا اور جولاہا، سیاہ آنکھ میں تصویر،جپسی،قلعہ جنگی ،فاختہ اور، اے غزال شب کے نام بھی ان کے ناولوں میں شمار ہوتے ہیں، بقول عبداللہ حسین اے غزال شب اُن کا پسندیدہ ترین ناول ہے۔




#Article 78: دریائے سندھ (17399 words)


دریائے سندھ جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا دریا جو دنیا کے بڑے دریاؤں میں سے ایک ہے۔ اس کی لمبائی 2000 ہزار میل یا 3200 کلو میٹر ہے۔ اس کا مجموعی نکاسی آب کا علاقہ 450,000 مربع میل یا 1,165,000 مربع کلو میٹر ہے۔ جس میں سے یہ پہاڑی علاقہ ( قراقرم ، ہمالیہ اور ہندوکش) میں 175,000 مربع میل یا 453,000 مربع کلومیٹر بہتا ہے اور باقی پاکستان کے میدانوں میں بہتا ہے۔
چینی علاقے تبت میں ہمالیہ کا ایک زیلی پہاڑی سلسلہ کیلاش ہے۔ کیلاش کے بیچوں بیچ کیلاش نام کا ایک پہاڑ بھی ہے جس کے کنارے پر جھیل مانسرور ہے۔ جسے دریائے سندھ کا منبع مانا جاتا ہے۔ اس جھیل میں سے دریائے سندھ سمیت برصغیر میں بہنے والے 4 اہم دریا نکلتے ہیں۔

ستلج ہاتھی کے منہ سے نکل کر مغربی سمت میں بہتا ہے۔ گنگا مور کی چونچ سے نکل کر جنوبی سمت میں بہتا ہے۔ برہم پتر گھوڑے کے منہ سے نکل کر مشرقی سمت میں بہتا ہے۔ اور دریائے سندھ شیر کے منہ سے نکل کر شمالی سمت میں بہتا ہے۔

ایک زمانے تک دریائے سندھ کی تحقیق جھیل مانسرور تک ہی سمجھی جاتی رہی۔ حتی کہ 1811 میں ولیم مور کرافٹ نے اس علاقے میں جا کر بتایا کہ سندھ کا نقطہ آغاز جھیل مانسرو نہیں بلکہ جھیل میں جنوب سے آ کر ملنے والی ندیاں ہیں۔ اسی نظریہ پر مزید تحقیق کرتے ہوئے سیون ہیڈن 1907ء میں جھیل سے 40 کلومیٹر اوپر سنگی کباب یا سینگے کباب کے علاقے میں جا پہنچا۔ جہاں بہنے والی ندی گارتنگ یا گارتانگ ہی جھیل مانسرو کو پانی مہیا کرتی ہے۔ اس لیے گارتنگ ندی دریائے سندھ کا نقطہ آغاز ہے۔ سنگی کباب کا مطلب ہے شیر کے منہ والا۔ اسی مناسبت سے دریائے سندھ کو شیر دریا کہا جاتا ہے۔
 
گارتنگ ندی شمال مغربی سمت سے آکر جھیل مانسرو میں ملتی ہے۔ یہاں سے دریا لداخ کی سمت اپنا سفر شروع کرتا ہے۔ دریا کے شمال میں قراقرم اور جنوب میں ہمالیہ کے سلسلے ہیں۔ وادی نیبرا کے مقام پر سیاچن گلیشیئر کے پانیوں سے بننے والا دریا نیبرا اس میں آکر ملتا ہے۔ یہاں تک دریا کی لمبائی تقریباً 450 کلومیٹر ہے۔ پھر دریائے سندھ پاکستانی علاقے بلتستان میں داخل ہوجاتا ہے۔

دریائے سندھ پاکستان میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے دریائے شیوک اس میں آ کر ملتا ہے پھر 30 کلومیٹر مزید آگے جا کر سکردو شہر کے قریب دریائے شیگر اس میں آ گرتا ہے۔ مزید آگے جا کر ہندوکش کے سائے میں دریائے گلگت اس میں ملتا ہے اور پھر نانگاپربت سے آنے والا استور دریا ملتا ہے۔

اونچے پہاڑیوں سے جیسے ہی دریائے سندھ نشیبی علاقے میں داخل ہوتا ہے۔ تربیلا کے مقام پر ایک بہت بڑی دیوار بنا کر اسے ڈیم میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یہ ہے تربیلا ڈیم۔ تھوڑا سا آگے جا کر جرنیلی سڑک کے پاس آٹک کے مقام پر دریائے کابل اس میں آ ملتا ہے۔ دریائے سندھ کا سفر پوٹھوہاری پہاڑی علاقے سے چلتا ہوا کالا باغ تک جاتا ہے۔ کالاباغ وہ مقام ہے جہاں سے دریائے سندھ کا پہاڑی سفر ختم ہوکر میدانی سفر شروع ہوتا ہے۔

کالا باغ کے ہی مقام پر دریائے سواں سندھ میں ملتا ہے۔ تھوڑا سا آگے مغربی سمت سے آنے والا کرم دریا اس میں شامل ہوتا ہے۔ مزید آگے جاکر کوہ سلیمان سے آنے والا گومل دریا دریائے سندھ میں شامل ہوتا ہے۔ مظفرگڑھ سے تھوڑا آگے جا کر پنجند کا مقام آتا ہے جہاں پنجاب کے پانچوں دریا جہلم ، چناب ، راوی ، ستلج ، بیاس آپس میں مل کر دریائے سندھ میں سما جاتے ہیں۔

گڈو سے سندھ جنوبی سمت میں بہتا ہے۔ سکھر شہر کے بیچ سے اور لاڑکانہ اور موئن جو دڑو کے مشرق سے گزرتا ہوا سہون کی پہاڑیوں تک آتا ہے۔ حیدرآباد کے پہلو سے گزر کر ٹھٹھہ کے مشرق سے گزر کر کیٹی بندر میں چھوٹی چھوٹی بہت ساری شاخوں میں تقسیم ہو کر بحیرہ عرب میں شامل ہوجاتا ہے۔
سندھو دریا کی قدیم گزرگاہیں۔ پروفیسر شیر خان سیلرو

اس دریا کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس کے نام پر سندھ اور ہندوستان یا کا نام انڈیا پکارا گیا ہے۔ خیبر پختون خواہ میں اس دریا کو ابا سین یعنی دریاؤں کا باپ کہتے ہیں۔ اسی دریا کے کنارے آریاؤں نے اپنی مقدس کتاب رگ وید لکھی تھی۔ رگ وید میں اس دریا کی تعریف میں بہت سارے اشلوک ہیں۔ یہ برصغیر کا واحد دریا ہے جس کی ہندو پوجا کرتے ہیں اور یہ اڈیرو لال اور جھولے لال بھی کہلاتا ہے۔ اس دریا کے کنارے دنیا کی ایک قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک منفرد تہذیب نے جنم لیا تھا۔ قدیم زمانے میں اس دریا کو عبور کرنے بعد ہی وسط ایشیا سے برصغیر میں داخل ہوسکتے تھے۔ یہ دریا اپنی تند خوئی اور خود سری کی وجہ سے بھی اسے شیر دریا بھی کہا جاتا ہے۔

یہ دریا جو کیلاش کے قریب سے نکلتا ہے اور اٹھارہ سو میل کا سفر طہ کرکے بحیرہ عرب میں گرتا ہے۔ ہندووَں اور بدھووَں کا کوہ کیلاش کوہ میرو برہما کا نگر ہے اور جن دیوتاؤں اگنی ، وایو اور اندر کو وہ پوجتے ہیں ان کا اصل مسکن یہیں ہے۔ اس علاقہ کو جھیلوں کی وادی بھی کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ یہاں دو بڑی جھیلیں واقع ہیں۔ جن میں مان سرود کو مقدس اور راکش تال کو منحوس خیال کیا جاتا ہے۔

تبتیوں کا کہنا تھا کہ اس جھیل سے دریائے سندھ اور تین اور دریا برہما پتر ، کرنالی (گنگا کا ایک بڑ معاون دریا ) اور ستلج بھی نکلتے ہیں۔ ہندووَں اور بدھوں کا بھی یہی کہنا تھا اور ان کی مذہبی تصویروں میں اس جھیل میں ان چاروں دریاؤں کو چار جانوروں کے منہ سے نکلتے دیکھایا گیا تھا۔ مشرق میں سے برہما پتر گھوڑے کے منہ سے ، کرنالی کو جنوب میں مور کے منہ سے ، ستلج مغربی جانب سے ہاتھی کے منہ سے اور دریائے سندھ شمال میں ببر شیر یا سنگی کباب سے نکل رہا ہے۔ اس لیے یہ دریا تبت میں سنگی کباب یعنی شیر دریا کہلاتا ہے۔

یورپی جغرافیہ دان تبتوں کی اس روایت کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے کہ جھیل مانسرور چار بڑے دریاؤں کا منبع ہے۔ ان کا خیال تھا کہ دریائے سندھ کا منبع کیلاش کے پہاڑی علاقے میں ہے۔ چنانچہ جب 1858ء میں جب برصغیر کے شمال مغرب کے علاقے میں ریلوے لائین تیار کی جارہی تھی تو اس کے لیے جو نقشہ تیار ہوا اس میں دریائے سندھ کو کوہ کیلاش سے نکلتے ہوئے دیکھایا گیا تھا۔ بہرحال انیسویں صدی کی ابتدا تک اس کا منبع مخفی رہا اور سطح مرتفع کے پیچیدہ اور وسیع علاقے کی وادیوں اور چوٹیوں کی نشادہی محض اندازے سے ہوتی رہی۔

انیسویں صدی کے آخر تک کئی یورپین نے جھیل مانسرور کا سفر کیا اور دریائے سندھ کے منبع کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ان کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ تبتی احکام کسی یورپین کو اس جھیل کا سروے نہیں کرنے دیتے تھے۔ پھر بھی بہت سے یورپین بھیس بدل کر وہاں پہنچ گئے اور انیسویں صدی کے اختتام تک ستلج (ہاتھی دریا) اور کرنالی (مور دریا) کے منبع تلاش کر لیے گئے۔ یہ پندرہ میل دور جنوب مغرب کی طرف شیطانی یا راکش جھیل سے نکلتے ہیں جو ایک جھوٹی سی ندی کے ذریعہ مانسرور جھیل سے منسلک ہے۔ مگر گھوڑا دریا اور شیر ببر دریا ( برہما پتر اور سندھ ) کے منبع کا اب تک پتہ نہیں چلا تھا اور انہیں ان کے درست منبع کا ابھی تک پتہ نہیں تھا۔

یہ اعزاز ایک سویڈش سیاح سیون ہیڈن کو ملا۔ وہ اس سے پہلے مانسرور سے ساٹھ میل مشرق کی جانب برہما پتر کی ابتدائی ندی دریافت کرچکا تھا۔ وہ سنگی کباب یعنی شیر دریا کے دہانے کی تلاش میں 1907ء میں دوبارہ مانسرور جھیل پہنچا اور وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ دریائے سندھ کا منبع جھیل کے کہیں شمال کی جانب ہے اور برہما پتر رکس تال سے نکلتا ہے۔ اس لیے ہیڈن شمال مغرب کی طرف جانا چاہتا تھا۔ اسے۔ تبتی افسر نے بہت اصرار پر اجازت دی۔

بالآخر ہیڈن چند چراوہوں کی مدد سنگی کباب پہنچا۔ وہ پہلا سفید آدمی تھا جس نے سندھ اور برہم بترا کے منبع کے مقام تک پہنچ سکا۔ لیکن حقیقت یہ ہے اس دریا کے کئی منہ ہیں اور اس میں سے کس کو دریائے سندھ کا منبع مانا جائے۔ لیکن چونکہ روایات سنگی کباب کے حق میں اس لیے اسے دریائے سندھ کا منبہ تسلیم کیا جاتا ہے۔

اگرچہ سنگی کباب جھیل مانسرور سے صرف تیس میل دور ہے۔ لیکن تبتی احکام کو یقین تھا کہ دریائے سندھ جھیل مانسرور سے نکلتا ہے۔ کیوں کہ ایک بڑا طاقتور دریا کو اسی مقدس جھیل سے نکلنا چاہیے۔ اگرچہ یہ چارووں دریا اس جھیل سے نہیں نکلتے ہیں مگر اس جھیل سے زیادہ فاصلے پر نہیں نکلتے ہیں۔ اس طرح یہ روایات بہت زیادہ غلط بھی نہیں تھیں اور ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دریا ایک ہی مقام سے پھوٹ کر مختلف سمتوں میں رخ کرتے ہیں۔

تبت میں دریائے سندھ وہاں سے اپنے ساتھ مختلف ندی نالوں کا پانی لیتا ہوا آگے بڑھتا ہے جہاں بھورے ٹیلے اور برف سے ڈھکے سفید پہاڑ آسمانوں کو چھو رہے ہیں اور درمیان میں دریائے سندھ نیلے اور اٹھلے پھیلاوَ کے ساتھ بتا ہے۔ اس کا ایک دھارا جو جنوبی سرچشمہ ہے اور کیلاش کے نشیب کے کنارے سے ہوتی ہوئی گارٹنگ اور گیاتیما کے سامنے سے گزرتی ہے اور دوسری یعنی شمالی شاخ جو کیلاش سلسلے کے شمال میں سے نکلتی ہے اور بہتی ہوئی جنوبی شاخ کے ساتھ مل کر اور گلجیٹ کے قریب سے گزرتی ہے۔ یہاں دریائے سندھ کا پہلا معاون دریا گارتنگ ملتا ہے۔ گارتنگ دریا سندھ کے برابر ہی ہے اور ایک کھلی وادی جگہ بہتا ہوا آتا ہے۔ جس کے کنارے مغربی تبت کے صوبہ گارتنگ کا دالحکومت گارتنگ واقع ہے۔ جب کہ دریائے سندھ اپنے منبع کی وجہ سے پہاڑوں میں چکر لگانے پر مجبور ہے۔ یہاں دونوں دریا مل یا گارتنگ اور سندھ میں ارتصال کے بعد دریائے سندھ دس ہزار فٹ کی بلندی پر بہتا ہے اور سفر کرتا ہوا رواں دواں ہوجاتا ہے۔ یہاں اس پس منظر میں پہاڑوں کی سفید چوٹیاں سر نکالے کھڑی ہوئی ہیں۔ یہاں دریا سندھ کا رخ آہستہ آہستہ شمال مغرب کی طرف سے لداخ کا رخ کرتا ہے۔ یہاں تاشی گانگ جو تبت کا آخری گاءوں ہے۔ یہاں پہلے پتھریلے راستہ پر دعائیہ جھنڈے اور مقبرے بنے ہوئے۔ بے تراشیدہ پتھر اور لکڑی کے شہتیروں کے بنے مکانات دریائے سندھ کے ساتھ بنی ایک خانقاہ کے پس منظر میں دب جاتا ہے اور دیکھنے والوں صرف یہ خانقاہ ہی نظر آتی ہے۔

اس کی راہ میں ایسے گاؤں کم ہیں جو سارا سال آباد رہتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے سے پانچ میل سے پچیس میل کے فاصلے پر واقع ہیں۔ یہ غیر تراشہ پتھروں اور لکڑیوں کی مدد سے بنے ہوئے یہ دیہات عموماً دریائے سندھ کی معاون ندیوں کے کنارے زمین کے چھوٹے چھوٹے قابل کاشت ٹکروں پر آباد ہیں۔ سنگی کباب (دریائے سندھ) چل کر سطح مرتفع تبت کے مغرب میں واقع بلند و بالا وادیوں میں سفر کرتا ہوا شمال مغرب پھر مغرب کا رخ کرتا ہے اور اس نقشے میں دیکھیں تو اس کی شکل وہاں درانتی کا طرح یا ہلال کی شکل بناتا ہے۔ لہذا اس دریا ابتدائی سفر مغربی تبت میں ہوتا ہے۔ دریائے سندھ مغربی تبت کو چراہگاہیں مہیا کرتا ہوا کشمیر کا رخ کرتا ہے۔

یہ میدانوں سے شروع ہوکر چٹانوں سے گزر کر دریا سندھ کے کنارے کنارے اوپر کی سمت جارہا ہوتا ہے۔ جس کے ایک طرف بلند و بالا پہاڑوں کی دیواریں اور دوسری سمت میں دریائے سندھ کی طرف جاتی ہوئی عمودی کھائیاں اور پھسلتے ہوئے برف کے تودے اور مٹی کی چٹانیں یعنی مسقل خطرہ منڈلا رہا ہوتا ہے۔

کروڑوں سال پہلے یہاں ٹھائیں ٹھائیں مارتا سمندر تھا۔ یہاں سمندری جانوروں اور نباتات کے فوسلز زمین اوپر اور نیچے دونوں طرف پائے گئے۔ جو نشادہی کرتے ہیں کہ یہاں کی زمین کئی مرتبہ زیر آب ہوئی اور بلند ہوئی۔ موجودہ پہاڑی سلسلے کوئی ایک ہزار ملین سال پہلے وجود میں آئے۔ ارضیاتی تبدیلوں کے نتیجے میں وسط ایشیا کی سطح مرتفع جنوب کی جانب برصغیر کی طرف ڈھکیلنا شروع ہوئی۔ ایک ٹھوس گہری جڑوں والی چٹان جو شاید دنیا کی سب سے قدیم چٹان تھی برصغیر کے نیچے ڈبی رہی۔ لاکھوں سال تک شمال کی جانب ایک ناقابل مزاحمت قوت اس میں مسلسل روکاٹ پر ڈباوَ ڈالتی رہی اور آہستہ آہستہ ان کے درمیان میں زمین کی سطح بلند ہونا شروع ہوئی اور اس طرح قراقرم اور ہمالیہ کے سلسلے وجود میں آئے اور سمندر برصغیر کے شمال میں دریا کے پہنچنے کا راستہ بناتے ہوئے مشرق و مغرب کی طرف بہہ گیا۔ جنوب کی سمت میں دباوَ مسلسل جاری رہا اور تقریباً پانچ لاکھ سال پہلے سلسلہ ہمالیہ اور قراقرم کے درمیان میں کیلاش کا پہاڑی سلسلہ ابھرنا شروع ہوا۔ جس نے پہلوں سے نکلنے والے آبی راستوں کو روک کر جنوب اور مشرق کی جانب گنگا اور برہم پتر اور شمال و مغرب کی طرف سندھ اور ستلج دو علحیدہ علحیدہ دریائی نظاموں کو جنم دیا۔

سندھ اور گنگا کے منبع صرف ساٹھ میل کے فاصلے پر ہیں اور دونوں دریا مخالف سمتوں میں بہتے ہوئے دو مختلف سمندورں میں گرتے ہیں جن سے درمیان میں برصغیر کی سرزمین کو مثلث بن جاتی ہے۔ یہ ثبوت ہے کہ یہاں کبھی سمندر تھا۔ وسط ایشیا کی سطح اب بھی ابھر رہی ہے اور وہ پہاڑ جنہوں نے دریائے سندھ کو گھیر رکھا ہے اب بھی آہستہ آہستہ بلند ہو رہے ہیں اور جنوب کی سے طرف کسک رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے یہاں زلزلے اکثر اور لینڈ سلاءڈنگ ہوتی رہتی ہے۔

یہاں دریائے سندھ کی وادی میں سالانہ تین انچ سے بھی کم بارش ہوتی ہے۔ یہاں پہاڑ بنجر اور کچھ کھلے میدان ریت سے بھرے ہیں اور ہوا خشک اور گرد آلودہ ہے۔ برف باری چھوٹے دانے چنوں کی طرح ہوتی ہے۔ سطح کی چٹانیں ٹوٹی پھوٹی اور ڈراےروں والی ہیں۔ زمین کی سطح رتیلی ہے یا ڈھیلوں کی صورت میں ہے جس کی میں مٹی میں سنگریزے ہیں۔ کٹاوَ کے عمل میں دریائے سندھ اور معاون ندیوں نے ایسے نشانات چھوڑے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کسی وقت بلند سطح پر بہتے تھے۔ ان کی گزر گاہیں پانی سے گول گئی چٹانوں اور پتھروں پر مشتمل ہیں۔ یہ پرانے گلشیر کی باقیات بھی ہوسکتی ہیں یا گرمیوں کے پانی کے تیز ریلوں میں یہ پتھر لڑک لڑک کر گول ہو گئے ہیں۔ سردیوں اور گرمیوں کے درجہ حرارت کے بہت زیادہ فرق نے زمین کی سطح کو کمزور کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے زمین کے ٹکروں ، گاروں اور چٹانوں کا پھسلنا عام بات ہے۔ بلند و بالا گھاٹیوں میں گلیشر دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں میں گلیشر کے بڑے بڑے ٹکرے شامل کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات کوئی گلیشر آگے آکر دریا کو مہینوں کے لیے روک لیتا ہے اور جب دریا کا پانی اسے توڑتا ہے تو یہ سمندری طوفان کی طرح اچلتا چلتا ہے اور راستے میں آنے والی ہر چیز ، دیہاتوں فضلوں اور درختوں کو ملیا میٹ کر دیتا ہے۔

تنگ اور پتھریلی دیواروں کے درمیان میں دریائے سندھ زیادہ تر ڈھلان والی چٹانوں میں پھنسا ہوا بہتا ہے۔ یہاں کے مناظر پرہیبت اور پرشکوہ ہیں۔ عظیم انشان گھاٹیوں کا اس قدر لمبا سلسلہ کرہ ارض پر کہیں اور نہیں پایا جاتا ہے۔ تنگ راستہ پر ایک سمت میں بلند و بالا عمودی چٹانیں اور طرف عمودی گہرائی میں جھاگ اڑاتا بہتا ہوا دریا۔ یہاں دور دور تک کوئی کوئی جھاڑ جھنکار نظر نہیں آتا ہے۔ اس کے عظیم انشان پہاڑ عمودی چٹانوں کے سلسلے ، پتھریلی چٹانیں اور تنگ گھاٹیاں ، کی بلند و بالا چٹانوں سے گزرنے والوں کو دریا اس وقار اور عظمت کے ساتھ بہتا نظر آتا ہے جس میں صدیوں سے کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

لداخ کی سرحد کے قریب پہاڑ دریائے سندھ کے قریب آجاتے ہیں اور شمال کا رخ کرتے ہوئے اس کی ڈھلان میں تیزی سے اضافہ شروع ہوجاتا ہے۔ دریا ان عمودی چٹانوں کے درمیان میں بہتا ہوا ہمالیہ اور قراقرم کے درمیان میں سے گزرتا ہے۔ یہاں عظیم انشان سلسلہ ہمالیہ اور سلسلہ قراقرم قریب آجاتے ہیں۔ اس کے اس 350 میل کے سفر میں اس میں بے شمار نالے اور ندیاں گرتے ہیں ، نقشہ میں اس کی شکل ایسی ہوتی ہے کہ دریائے سندھ کی نیلی لکیر میں بے شمار دھاگہ شامل ہو رہے ہیں۔

جہاں پہلو میں چلنے والے پہاڑ آہستہ آہستہ درے کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور سندھ کی وادیوں اور اس کی ندیوں کے ساتھ شمال مغرب کی طرف جانے والے کاروانوں کے شاہرائیں تھیں۔ ان شاہرا اَں میں کچھ شمال میں وسط ایشیا اور ہندوستان کی جانب جاتی ہیں۔ تاجر خچروں پر سفر کرتے تھے اور ان کا سامان یاکوں اور گدھوں پر بندھا ہوتا تھا۔ یہاں دریائے سندھ پر کوئی پل نہیں تھے اور تند و تیز لہروں میں انسان اور جانور تیر کر یا چل پار کرتے تھے۔ گہرے پانی کی صورت میں یاک اور ٹٹو قدتی تیراک ہیں تیر کر اور انسان ان کی دم پکڑ کر دریا کو پار کرتے تھے۔ بکریاں تیر نہیں سکتی ہیں البتہ بھیڑیں لہروں کے مطابق ترچھے رخ سے دریا کو پار کر لیتی تھیں۔

سردیوں میں اس وادی میں برف باری ہونے سے دریا جم جاتا ہے۔ لیکن برف کے نیچے پانی رواں بلکہ تیزی سے بہہ رہا ہوتا ہے۔ اس لیے جمے ہوئے دریا کو احتیاط سے پار کیا جاتاہے۔ تنگ گھاٹیوں سے برف کے تودے دنداتے ہوئے آتے ہیں اور نوکیلی چٹانوں سے ٹکرا ان کے بڑے بڑے برف کے ٹکرے اڑتے ہوئے دور جاکر گرتے ہیں۔ جن میں اکثر پتھر کے چھوٹے اور بڑے ٹکرے پھنسے ہوتے ہیں۔ گرمیوں میں جب پہاڑوں پر برف اور گلیشر پگھلنا شروع ہوتے ہیں تو دریا کے بہتے ہوئے پانی میں اضافہ کے ساتھ اس کے شور بڑ جاتا ہے۔ وہاں ننگی چٹانیں سورج کی گرمی کو جذب کر بھٹی بن جاتی ہیں۔ لیکن جہاں ڈھوپ نہیں پہنچتی ہے وہاں شدید ٹھنڈی رہتی ہے اور بہت سی ندیاں صرف چند گھنٹوں کے لیے پگھلتی ہیں۔ وہاں کوئی بھی شخص جو ننگے سر دھوپ میں ہو اور اس کے پیر سائے میں وہ بیک وقت ہیٹ اسٹروک اور فراست بائیٹ کا شکار ہوسکتا ہے۔ یہاں ہر موسم میں وادیوں کے کچھ حصہ میں تیز ہوائیں چلتی ہیں۔ جو ریت کے گرداب کو اوپر اٹھاتی ہیں۔ یہاں کہیں کہیں دریا اور معاون ندیوں میں کھیت اور درخت ملتے ہیں۔ دریائے سندھ کے کنارے پہاڑ تقریباً ہر دس میل کے فاصلے پر ایک تنگ گھاٹی کی صورت میں پھٹ جاتی ہیں۔ جہاں گرمیوں میں پانی کے دھارے میں سیلابی مٹی کا ریلا پہاڑوں سے پگلی برف اپنے ساتھ بہاکر لاتے ہیں۔ یہاں چھوٹے چھوٹے گاؤں ہیں۔ جن کے سامنے سیڑھیوں کی طرح بنے ڈھلوان کھیتوں میں کسان ہوا کے ساتھ اڑنے والی مٹی کی کمی پورا کرنے کے لیے ٹوکریاں بھر کر بڑی محنت سے ڈال رہے ہوتے ہیں۔ انہیں اپنی ان مختصر سی زمینوں کو قائم کرنے کے لیے مسلسل محنت کرنی پڑھتی ہے۔ یہاں جانوروں کا فصلہ جلانے کے لیے اور انسانی فصلہ کھاد میں استعمال ہوتا ہے۔ اس وادی میں کھیتوں کے علاوہ جو دیہاتیوں نے سخت محنت سے بنا رکھے ہیں اور کسی قسم کی نباتات دیکھنے میں نہیں آتی ہے۔

دریا کے ساتھ ساتھ پگڈنڈیاں جاتی ہوئی نظر آتی تھیں۔ جو عام طور پر دریا سے بہت بلند ہوتی تھیں۔ لیکن بعض مقامات پر اس کے ساتھ چلتی تھیں اور بعض مقامات پر بل کھاتی ہوئی اس سے دور نکل جاتی تھیں۔ کیوں کہ یہاں کی ڈھلانیں اس قدر خطرناک ہیں ہوکہ اس پر بکریاں بھی نہیں چل سکتی ہیں۔ سیکڑوں سالوں سے شمالی ہندوستان کوہ ہندو کش سے برہم پترہ جانے کے لیے پہاڑوں میں گزرنے والے تاجر اور مذہبی زائرین اسی راستے کو استعمال کرتے رہے ہیں۔ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ دیہات اور بدھوں کی خانقاہیں ان گزرنے والوں کو قیام گاہیں اور تجارتی مراکز کا کام بھی کرتی تھیں۔ یہ خانقاہیں دشوار گزار چٹانوں یا دریائے سندھ کے اندر ٹیلوں پر واقع تھیں۔ یہاں مختلف علاقوں سے آنے والے راستے دریائے سندھ کے ساتھ چلنے والے راستوں سے مل جاتے تھے۔ اس طرح وسط ایشیا اور جنوب سے آنے والوں کو راستہ مہیا کرتے تھے۔ یہ پگڈنڈیاں اور راستے مختلف علاقوں اور اقوام تعلق رکھنے والے تاجروں اور مذہبی زائرین کی گزر گاہیں تھیں۔ جن کی وجہ سے ان راستوں پر واقع قصبوں اور دیہاتوں میں رونق تھی۔ یہ راستے قراقرام اور ہمالیہ کے اوپر جن دروں سے گزرتے ہیں ان میں چند ایک بہت ہی خطرناک ہیں اور سال میں بہت کم عرصے کے لیے کھلتے ہیں۔ لیکن مشکلات کے باوجود یہ درے کبھی بند نہیں ہوتے تھے۔

شمال میں قراقرم دریائے سندھ کو وسط ایشیا سے جدا کرتا ہے۔ ان پہاڑوں میں بظاہر کوئی راستہ نہیں تھا۔ لیکن یہاں سے کستوری ، ریشم اور دوسری تجارتی اشیاء آتی تھیں۔ یہاں کوئی ایسا درہ نہیں ہے اور جو کم دشوار ہو اور راستے بھی اکثر مختلف جنگوں اور دشمنیوں کی وجہ سے بند رہتے تھے۔ اس لیے اکثر قافلوں کو زیادہ دشوار راستے استعمال کرنے پڑتے تھے۔ اس کے علاوہ کئی ایسے راستے ہیں جو استعمال ہوتے رہے مگر وہ پچھلے دو سو سال میں گلشیر کی زرد میں آکر ناقابل استعمال ہو گئے ہیں۔

شمال کی جانب جانے والا سب سے اہم راستہ قراقرم روٹ لداخ سے بل کھاتا ہوا پہاڑوں کے سلسلے پر چڑھ جاتا ہے اور پھر نیچے آکر دریائے شیوک کے ایک خم کو پار کرنے کے لیے خطرناک ڈھالان کی صورت میں نیچے اترتا ہے اور پھر ایک دوسرے پہاڑی سلسلے پر چڑھ جاتا اور پھر نیچے آکر دریائے شیوک کی ایک معاون ندی کو پار کرتا ہوا وسط ایشیا میں داخل ہوتا ہے۔

یہاں گیارہ درے ہیں اور جو اٹھارہ ہزار فٹ تک بلند ہیں۔ برصغیر اور چین کے درمیان میں درہ قراقرم انیس ہزار فٹ بلند ہے اور اسے صرف گرمیوں میں پار کیا جاسکتا۔ یہاں چند ماہ کے لیے برف پگھلتی ہے اور نیچے سے کالی ریت اور کنکروں کا ایک ریگستان نکل آتا ہے۔ یہ بہت بے رحم راستہ ہے۔ اس راستہ پر کسی قسم کی نباتات نہیں اگتی ہے۔ یہاں چار بلند درے ہیں ، مگر ان کے ذریعہ جو فاصلہ طہ کرنا ہوتا ہے وہ قراقرام کے راستہ سے زیادہ ہے استعمال کرتے تھے لہذا بالائی سندھ کی وادی سے شمال کو جانے کے لیے قراقرم روٹ ہمیشہ اہم راستہ رہا تھا۔

جنوبی اور دریائے سندھ کے بائیں جانب جانے والی دیوار ہمالیہ قراقرم کی نسبت زیادہ دور ہے اور اس میں قدر آسان درے موجود ہیں۔ ان میں سب سے اہم درہ ذولا ہے جہاں کشمیر کے راستہ برصغیر تک رسائی ہوسکتی ہے۔ اس کی اونچائی گیارہ ہزار فٹ بلند ہے اور سال کے آٹھ مینے کھلا رہتا ہے۔

لداخ کے پاس دریائے سندھ کے باسیوں زندگی بہت سخت ہے۔ یہاں کی اوسط انچائی دس ہزار فٹ سے زیادہ ہے۔ بلندی کی اس لطیف ہوا سے ہم آہنگ ہونے کے لیے لداخی باشندوں کے پھیپڑوں کی کار کردگی عام لوگوں سے زیادہ ہے۔ یہاں رہنے والے یا تو ڑیوڑوں کی دیکھ بھال کرتے تھے یا مکئی کے چھوٹے چھوٹے کھیت کی پرواخت کرتے اور گزرنے والے تاجروں اشیاء کا تبادلہ کرتے تھے۔ کچھ نوجوان زہرنی کا پیشہ بھی اپنا رکھا تھا۔ جو تاجروں کو اور مسافروں کو لوٹا کرتے تھے۔

لداخ کا دار الحکومت لہہ ہزاروں سال سے تجارتی جال کا مرکز رہا ہے۔ یہ شہر دریائے سندھ کے شمالی کنارے پر گیارہ ہزار فٹ بلندی پر آباد ہے۔ یہ شہر بنجر پہاڑوں کے نیچے سیلابی مٹی کے بڑے سے طاس جو چار میل تک پھیلا ہوا ہے کے کنارے آباد ہے۔ لیہ کے ساتھ دریائے سندھ اور قدیم تجارتی اور مذہبی روابط کا ایسا تعلق ہے کہ اکثر اسے چھوٹا تبت کہا جاتا ہے۔

یہ علاقہ ہے پتھریلا اور بنجر اور شدید طوفانوں ، چٹانوں کے پھسلنے اور گلیشر کے ٹوٹنے سے سیلابوں جیسی قدرتی آفات کا شکار رہتا ہے۔ یہ سخت محنت سے حاصل کی گئی اپنی زمینوں پر زرعی پیداوار کے علاوہ لداخ کی معیشت کا انحصار دریائے سندھ اور اس سے منسلک تجارتی راستوں پر تھا۔ درہ قراقرم اور زوجی لا جو سندھ سے بالترتیب شمال اور جنوب کی جانب والے راستے ہیں لہہ کے قریب واقع ہیں۔ لہہ کے بازروں میں تنگ اور اندھیری دوکانوں کے سامنے وسط ایشیا سے آنے والے پشم اور نمدوں کے ڈھیر لگے ہوتے تھے۔ دوکانوں کے پیچھے اندھیرے کمروں میں سونا چاندی اور کناری چمک رہا ہوتا تھا۔ ترکستان سے آنے والے چھوٹے چھوٹے ٹٹو تیز چلنے والے ، سست گام ہلالی سینگوں والے یاک پاس گزر ہے ہوتے تھے۔ سفید رنگت والے یارکندی ، پشم کے ڈھیلے ڈھلالے لباس پہنے تبتی نیچے کی جانب لٹکتی مونچھوں والے منگول ، صاف ستھرے لباسوں میں ہندوستانی کندھوں سے کندھے رگڑتے ہوئے چوڑی چوڑی سیڑھیوں والی گلیوں میں آ جا رہے ہوتے تھے اور ملی جلی زبانوں میں بات چیت کر رہے ہوتے تھے۔ جب کہ لہہ کے باشندے کرم گسترانہ نگاہوں سے اس ہجوم کا جائزہ لیتے رہتے تھے کہ ان اجنبیوں کی وجہ سے اس بلند و بالا پہاڑوں میں واقع اس شہر میں ان کو روزگار کے مواقع مل رہے ہیں۔ کبھی کبھار ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہوئے ہجوم میں جہاں اختلاف معمولی بات سمجھی جاتی ہے ایک شخص نمایاں نظر آتا ہے جس نے ان جیسا لباس پہن رکھا ہو ایک مغربی باشندہ آن پہنچتا تھا۔

انیسویں صدی میں یورپین باشندے لہیہ میں ایک دو ہفتہ ٹھہرتے اور اپنی مہموں کے لیے قلی ، یاک اور کیمپنگ کا سامان خریدتے اور آگے بڑھ جاتے تھے۔ وہ سب دریائے سندھ کی وادی اور اس کے بیابان کے سحر سے میں مبتلا رہتے تھے۔ ان میں سیاح ، سرویئر اور جاسوس بھی ہوتے تھے۔ کچھ ان میں شہرت حاصل کرنے آتے تھے۔ ان لوگوں پر بلند و بالا وادی کا سحر طاری رہتا تھا اور انہوں بہت کم اپنی مہم کے بارے میں دنیا کو بتایا ہے۔ مگر کچھ لوگوں نے سفر کے رونگٹے کھڑے ہونے واقعات ، جذبات و خیالات بیان کیے ہیں۔

ارد گرد کی طاقتوں نے پہاڑی دروں اور تجارتی راستوں جو دریائے سندھ اور اس کی معاون ندیوں اور نالوں کے ساتھ ساتھ چلتے تھےیہاں کی وادیوں اور زمینوں پر قبضہ کرنا تھا۔ یہ خوفناک مشکلات میں گھرے ہوئے لوگ دو ہزار سال سے وہ اپنے ہمسایہ ملکوں کی ایسی جارحیت کا شکار رہے ہیں جن میں ان کا کوئی مفاد وابستہ نہیں رہا ہے اور یہ جنگیں ہمیشہ ان کے نقصان پر ختم ہوتی تھیں۔ ڈوگرا مہارجہ گلاب سنگھ نے ان پر اپنی بالادستی قائم کرلی۔

برطانیوی برصغیر سے رخصت ہو گئے کے بعد کشمیر کا راجا مسلمانوں کی اکثریت کے باوجود اس کا فیصلہ نہیں کرسکا۔ اس پر کشمیر اور گلگت میں آزادی کی تحریک بلند ہوئی اور مجاہدین بڑھتے ہوئے گلگت اور بلتستان کو آزاد کرکے لداخ کے قریب پہنچ گئے۔ اس پر بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں اتاردیں اور مہاراجا کشمیر سے الحاق کی درخواست پر دستخط کروا لیے اور 1947ء برصغیر کی تقسیم کے ساتھ ہی لہہ پر ہندوستان کا قبضہ ہو گیا اور مغرب میں اس کے ہمسایہ بلتستان اب پاکستان کا حصہ ہے۔ سندھ کے ساتھ ساتھ مشرق سے مغرب کی طرف جانے والا صدیوں پرانا راستہ بند چکا ہے۔

خطروں کی وادی

دریائے سندھ کی وادی میں لہہ کے فوراً دریائے سندھ فائر بندی لائین کو غبور کرتا ہوا پاکستان کے علاقہ بلتستان میں داخل ہوجاتا ہے۔ پاکستانی علاقے میں داخل ہونے سے پہلے کارگل کا علاقہ ہے۔ یہاں بھی دریا بنجر اور عمودی کھائیوں میں نیچے کی طرف تیزی سے سفر کرتا ہے۔ تنگ گھاٹیاں کہیں کہیں چھوٹی چھوٹی وادیوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ جن میں تھوڑی بہت کھیتی باڑی نظر آتی ہے۔ بتدریخ دونوں طرف پہاڑ بلند ہوتے ہوئے دریا کے قریب آجاتے ہیں۔ قراقرم کے جنوب میں لداخ کا ڈھلوانی اور تنگ پہاڑی سلسلہ دریا کے دائیں کنارے پر ساتھ چلتا ہے۔ جس کے پار دریائے شیوک سندھ کے متوازی بہتا ہوا ڈیڑھ سو میل کے بعد لداخ کا پہاڑی سلسلہ ختم ہوجاتا ہے تو دریائے سندھ میں آن ملتا ہے۔ بیس میل کے بعد سکردو کے قریب قراقرم کی بلندیوں سے آنے والا ایک اور معاون دریا شگر بھی دریائے سندھ میں شامل ہوجاتا ہے۔

شیوک ، شگر اور بیسوں چھوٹے چھوٹے دریا اپنی وادیوں میں رہنے والے باشندوں کے لیے بقاء کا سامان مہیا کرنے کے ساتھانہیں خطرات سے بھی دوچار کرتے رہتے ہیں۔ پہاڑی ڈھلانوں میں سے اکثر گلیشر خطرناک جنم لیتے ہیں۔ جو تباہی برپا کرتے رہتے ہیں اور وہ زندگی اور املاک کے لیے المناک حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ پہاڑوں میں کوئی بھی ڈھلوان کھائی اچانک گارے اور چٹانوں کی ایک بڑی اور خوفناک مقدار کو نیچے ڈھکیل دیتی ہے۔ جو پھسلتے ہوئے اپنے راستے کی ہر شے کو ملیا میٹ کردیتی ہے۔ کیوں کہ ان پہاڑوں پر کوئی جھاڑ جھنکار یا گھاس وغیرہ نہیں ہے جو ان کی مٹی کو پکڑسکے اور برف کے پگھلنے کے ساتھ مٹی کے یہ عظیم تودے بغیر کسی انتباہ کہ نرم ہوکر نیچے کی جانب پھسلتے ہیں۔ کبھی کبھی یہاں زلزلے بھی آتے ہیں مگر تباہ کن طوفان یہاں برپا ہونا معمول ہیں۔

دریائے سندھ کی بلند و بالا گھاٹیوں میں واقع گلشیر جو قطبی کے علاقوں کے بعد سب سے بڑے گلیشر شمار ہوتے ہیں۔ جو یہاں کے دریاؤں میں برف کے بڑے ٹکرے شامل کرتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات کوئی گلیشر وادی کے فرش سے پگھل کے آگے آجاتا ہے اور اپنے راستے میں آنے والے دریا کو مہینوں کے لیے روک لیتا ہے۔ بالآآخر جب دریا کا پانی اسے توڑتا ہے تو خدا کی پناہ ، یہ سمندر کی عظیم طوفانی لہر کی مانند گرجتا ہوا چلتا ہے اور راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ دیہاتوں ، فضلوں اور درختوں کو ملیامیٹ صفحہ ہستی مٹا دیتا ہے۔ دریائے شیوک طہت بہت خطرناک ہے۔ اس کے بالائی حصہ میں ایک تنگ گھاٹی میں دو بڑے گلیشر واقع ہیں۔ یہ گلیشر دریا کے آگے بار بار بند باندھ کر اسے روک دیتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں سیکڑوں فٹ چوڑی اور کئی میل لمبی جھیل بن جاتی ہے۔ جب یہ بند ٹوٹتا ہے تو نیچے کی جانب واقع وادی برف کے تودوں سے اٹ جاتی ہے جو مکانوں سے کہیں زیادہ بڑے ہوتے ہیں اور سالوں میں جاکر پگھلتے ہیں۔ یہاں کے باسی اپنے دیہات پہاڑوں کے پہلوں میں بلندی پر بناتے ہیں۔ تاکہ برف کے روکے گئے پانی کے ان بلند ریلوں کی زرد میں نہ آسکیں۔ جو چند سالوں بعد ایک مرتبہ پھر ان کی وادیوں کو بہا کر لے جاتے ہیں۔

یہاں اکا دکا لکڑی کی کشتی بھی نظر آتی ہیں۔ جو پرانے طرز کی چپتے پیندے اور اونچے کناروں والی کشتی ہوتی ہے۔ لیکن دریا پر سفر کرنے کا روایتی سفر کرنے کا طریقہ جو اب سڑک کی تعمیر کے بعد متروک ہوچکا ہے۔ اس میں بکری کی بہت سی کھالوں کو ہوا بھر کر ایک ساتھ باندھ دیا جاتا تھا اور ان کی ٹانگیں اوپر رکھیں جاتی تھیں۔ ڈنڈوَں کو باندھ کر ایک چوبی جال اوپر باندھ دیا جاتا تھا۔ اس پر بہت سے آدمی ہاتھوں لمبے لمبے ڈنڈے لے کر میں اوپر بیٹھ جاتے تھے۔ اس پر سکردو جانے والی سبزیاں اور پھل لاد دیے جاتے تھے۔ بکریوں کی کھال میں سے ہوا نکلتی رہتی تھی۔ اس لیے ٹانگوں کے ذریعے مسلسل ان میں ہوا بھری جاتی تھی۔ دریا کا بہاوَ بہت تیز ہوتا تھا اور ڈنڈوں اور چپوں کے مدد سے اسے بار بار روکنا پڑتا تھا۔ سفر کے اختتام پر اس میں سے ہوا نکال کر اسے خشکی کے راستے واپس لاتے تھے۔ لکڑیوں کی کشتیوں کو بھی واپسی کے لیے ریتیلے کنارے پر کھنچ کر لے جانا پڑتا تھا۔ سڑکیں تعمیر کے بعد اب یہ سارے کھتراک ختم ہوچکے ہیں۔

سکردو کے مقام پر وادی سندھ ایک بیضوی پیالے کی مانند ہے جو سطح سمندر سے ساڑھے سات ہزار فٹ بلند بیس میل لمبی اور آٹھ میل چوڑی ہے۔ اس کے چاروں طرف ارغونی ، سرخ ، بھورے اور بادامی رنگ کے پتھریلے پہاڑ جو سترہ ہزار فٹ بلند ہیں گھیرا دالے ہوئے کھڑے ہیں۔ وادی میں پیلے رنگ کی ریت بچھی ہوئی ہے۔ جس میں سردیوں میں سبز اور گرمیوں میں دھندلائی ہوئی چاندی جیسا مٹیالے رنگ کا دریا سندھ کسی سانپ کی طرح بل کھاتا ہوا ست خرامی کے ساتھ ہوا کی وجہ سے لہروں کی صورت میں بکھری ہوئی ریت میں بہتا ہوا دریا اپنے راستے میں کھڑی تنہا اور عظیم چٹان کے پاس گزرتا ہے۔ جس پر قلعہ سکندر کھڑا ہوا ہے۔ لاکھوں سالوں سے دریا چٹانوں میں اپنا راستہ بناتے ہوئے اور انہیں کاٹتا ہوا گہرائی میں جاپہنچتا ہے۔ مختلف بلندیوں پر بہتے ہوئے دریا نے اس نے وادی کے کنارے پر کھڑی چٹانوں میں جو کاٹ جھاٹ کی ہے وہ آج بھی مختلف بلندیوں پر کہیں سے آگے جھکی ہوئی اور کہیں چبوترے کی صورت میں پھیلی ہوئی سطحوں کی صورت میں دیکھی جاسکتی ہے۔ دور پیچھے خشک اور پتھریلے پہاڑ اپنی نوکیلی ابھری ہوئی چوٹیوں کے ساتھ آگے پیچھے قطاریں باندھیں آسمان میں دھنس رہے ہیں۔ یہاں ہوا اس قدر صاف و شفاف ہے کہ آنکھیں دھوکا کھاتی ہیں۔ جو چیز بہت نذدیک دکھائی دیتی ہے دور بین سے دیکھیں تو بظاہر چند سو گز دور دریا کی دوسری سمت اگی ہوئی جھاڑیاں کم از کم تین میل دور بڑے بڑے درخت نظر آتے ہیں۔ دوسرے کنارے پر پانی سے کھیلتا ہوا بچہ ، دریا میں کشتی اتارتا جوان آدمی نظر آتا ہے۔ ہر جگہ ایسے منظر کو پیش کرتی ہے جو نظر کو جکڑ لیتا ہے۔ دنیا میں کہیں بھی اس قدر بے شمار اور مختلف پہاڑ ایک جگہ پر اکھٹے نظر نہیں آتے ہیں۔ کہیں اتنی زیادہ پہاڑیاں بدلتے مناظر ، کہیں بھی اس قدر خوبصورت فضا اور شاندار رنگ نظر نہیں آتے ہیں۔

یہاں ہلکے خاکستری ، بھورا خاکستری ، نیلگوں خاکستری اور پیلا خاکستری رنگ کے پہاڑوں مظر آ رہے ہوتے ہیں۔ جن پر کہیں کہیں سفید دھاریاں نظر آرہی ہوتی ہیں۔ دریائے سندھ کے گرد پھیلی ہوئی سفید ریت ستاروں کی طرح جھلملا رہی ہوتی ہے۔ یہاں رات کا منظر بھی قابل دید ہوتا ہے۔ اگر دریا کے کنارے کھڑے ہوکر اطراف میں نظر ڈالیں تو گہری تاریخی میں مکانوں کی روشنیاں اس طرح نظر آتی ہیں کہ جیسے ستارے زمین پر اتر آئے ہیں۔ گرمیوں میں جب کہ میدانی علاقوں میں شدید گرمی ہوتی ہے تو یہاں کی بنجر ڈھلانوں پر کوئی سایہ نہیں ہوتا ہے اور چٹانیں دھوپ میں بھٹی کی طرح دھک رہی ہوتی ہیں اور دن کی تکلف دہ گرمی رات کو کاٹ کھانے والی سردی میں بدل جاتی ہے۔

یہاں باشندوں کا قدیم مذہب بدھ مت تھا جس کے نقوش چٹانوں پر ملتے ہیں۔ بعد میں یہ لوگ مسلمان ہو گئے۔ آزادی کے بعد لوگوں نے بغاوت کردی اور پاکستان سے انضمام اور مدد کی درخواست کی۔ پاکستان نے درخواست قبول کرکے فضائی راستے سے اسلحہ ساز و سامان کی ترسیل کا انتظام کیا۔ اگرچہ اس دوران میں بھارت نے بلتستان کے مشرقی حصہ پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور فائر بندی کی وجہ سے اسے خالی نہیں کرایا جاسکا۔ آزادی بعد اس شہر نے بڑے پیمانے پر ترقی کی ہے۔ جس میں سر فہرست موصلانی نظام کو بہتر کرنے کی کوشش کی گئیں۔ سکردو سے گلگت تک سڑک تو درکنار راستہ تک نہیں تھا۔ کے ٹو اور قراقرم کی دوسری چوٹیوں اور مقامات کی ٹریکنگ کے لیے جانے والی کوہ پیماہ اور ٹی میں اسی شہر سے ہی جاتی ہیں۔ اب قصبہ نہ رہا اور اس علاقہ کا دوسرا بڑا شہر بن چکا ہے۔

سکردو کے نیچے بانست لداخ کے راستہ میں زیادہ خوفناک اور کڑک وادیاں ہیں۔ یہاں سے دریائے سندھ عظیم انشان گھاٹیوں میں سے ہو کر گزرتا ہے اور میلوں تک چھاگ اڑاتے پانی اور آسمان کے درمیان میں عمودی چٹانوں کے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آتا ہے۔ یہاں دریا کے کنارے چٹانوں کے ساتھ ایک پیدل راستہ عمودی چٹانوں میں مکڑی کے جالوں کی طرح پھیلی ہوئی غلام گردشوں سے گزرتا تھا۔ جس میں جابجا اوپر اور نیچے جانے کے لیے لکڑی کی سیڑھیاں لگائی گئیں تھیں۔ کہیں اس میں لکڑی کی کھوٹیاں لگی ہوئی تھیں جنہیں پکڑ پکڑ لوگ سفر کرتے تھے۔ ان راستوں پر بلندی پر جو رسے کے پل ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ تک بید مجنوں رسے جن کے درمیان میں بید مجنوں کی جھومتی ہوئی باریک رسیاں باندھی جاتی ہیں ان جھومتی ہوئی رسیوں پر دریا پار کرنا ہوتا تھا۔ نیچے تی بہتے دریا کو دیکھ کر سر چکرانے لگتا تھا۔

اب یہاں سڑک تعمیر ہوچکی ہے جو ایک پل کے ذریعہ شاہرہ ریشم سے مل رہی ہے۔ اس سڑک پر ہم قراقرم کی دیواروں کے ساتھ سڑک کے دوسری جانب دریائے سندھ پورے تلاطم سے بہہ رہا ہے اور دریا کے پار ہمالیہ کی عمودی ڈھلانیں ہیں۔ جن پر کہیں کہیں سبزہ نظر آتا ہے۔ اس سڑک کا شمار دنیا کے خطرناک راستوں میں کیا جاتا ہے۔ یہاں ہر وقت لینڈ سالیڈنگ کا ہر خطرہ رہتا ہے اور راستہ کھلا رکھنے کے لیے رات دن کام کرنا پڑتا ہے۔ اس سڑک کی تعمیر ایک بڑا انسانی کانامہ اور عجائبات عالم میں سے ایک ہے۔ اگرچہ یہ روڈ کافی چوڑی ہے مگر اسے کوئی اچھی سڑک نہیں کہہ سکتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ سڑک تعمیر کا شاہکار کہلاتی ہے۔ جب یہ بنا شروع ہوئی تو یہ نہیں دیکھا جاتا تھا کہ ایک ماہ میں یہ سڑک کتنی میل بنی بلکہ یہ دیکھا جاتا تھا کہ کتنی فٹ بنی ہے۔ یہ اہم سڑک بننے سے پہلے یہاں کسی قسم کا راستہ نہیں تھا بلکہ دریا کے ساتھ کھڑی چٹانیں تھیں۔ ابتدا میں جب یہ سڑک بنائی گئی تو اتنی چوڑی تھی کہ اس پر بمشکل ایک جیپ چل سکتی تھی یا خچر یا مویشی یا صرف پیدل کے لیے تھی۔ مگر بعد میں اسے چوڑا کر دیا گیا جس پر دو گاڑیاں بیک وقت چل سکتی ہیں۔ اس پر جو معلق پل تعمیر کیے گئے ہیں وہ اگرچہ بہت مظبوط ہیں لیکن جب ان پر گاڑی گزرتی ہے تو پل خوفناک آواز میں چرچراتے ہیں۔ جس سے کمزور لوگوں کا دل دہل جاتا ہے۔ مگر اس سڑک کی بدولت سکردو کا رابطہ پورے سال پاکستان کے دوسرے علاقوں رہتا ہے۔

یہاں کچھ اونچے نیچے کھیت نظر آتے ہیں جن ساتھ کچھ کچے مکانات ہیں۔ ورنہ عجیب وحشناک سفر ہے۔ جس میں پہاڑوں کا جاہ و جلال اور دریا کا جوش و تلاطم نمایاں ہے۔ یہ سڑک دریا کے ساتھ چلتی ہے صرف چند جگہوں پر دور ہو جاتی ہے۔ اس طرح بعض جگہوں پر چند فٹ نیچے بہہ رہا ہوتا ہے اور بعض جگہوں پر یہ دریا سے سیکڑوں فٹ بلند ہوجاتی ہے۔ اس کی چڑھائی بھی بعض جگہوں پر اس کا زاویہ پنتالیس ڈگری سے زیادہ زاویہ ہوجاتا ہے۔ یہ سڑک جب شاہرہ رشم سے ملتی ہے تو سامنے کوہ ہندو کش کا پہاڑی سلسلہ اور پامیر کی بلند سطح مرتفع آجاتی ہے۔ شمال کی جانب جانب قراقرم کی دیوار کے ساتھ دو بلند پہاڑ دیو ہراموش اور راکا پوشی کھڑے ہیں۔ جنوب مشرق میں ہمالیہ میں ناگاہ پربت آسمان سے باتیں کر رہا ہے۔ یہ سڑک اسکردو سے دریائے گلگت جہاں دریائے سندھ سے جنگلوٹ کے قریب ملتا ہے وہاں پر اس شاہراہ ریشم میں مل جاتی ہے جو چین سے گلگت ہوتی ہوئی اسلام آباد جارہی ہے۔

یہاں دریائے گلگت سندھ میں دائیں جانب سے آکر ملتا ہے۔ ان کا ملاپ انگریزی حروف y کی طرح ہوتا ہے اور یہاں پر پھیلتے ہوئے بہتے ہیں۔ دریائے سندھ میں دریائے گلگت جس جگہ مل رہا ہے وہ عام جگہ یا مقام نہیں ہے۔ یہ مقام ایسا ہے جس کی مثال دنیا میں کہیں پائی نہیں جاتی ہے۔ یہاں دنیا کے تین عظیم پہاڑی سلسلے قراقرم ، ہمالیہ اور ہند کش آمنے سامنے کھڑے ایک دوسرے کی نگہبانی کر رہے ہیں۔ ان کو دریائے سندھ اور دریائے گلگت آپس میں ملنے سے روک رکھا ہے۔

دریائے سندھ تنگ پہاڑوں کے دامن میں پھنسا ہوا اور طاقت کے ساتھ بہہ رہا ہے۔ اس کے بہاوَ کو نظر بھر کر دیکھنا بھی ہیبت زدہ کردیتا ہے۔ جنگلوٹ سے کالا باغ کا فاصلہ 300 میل سے کم ہے۔ لیکن مغرب کی جانب سے آگے بڑھتے ہوئے کوہ ہندو کش اور جنوب کی سمت سے ناگاہ بربت کی عظیم دیواروں میں گھری ہوئی اس وادی میں یہ دریا موڑ کاٹتا بل کھاتا اپنا راستہ تلاش کرتا تنگ گھاتی سے گزرتا ہے۔ یہ موڑ کاٹتا ایک وادی سے دوسری وادی میں گرجتا چیختا ہوا یہ دو گناہ فاصلے طہ کرتا ہے۔

گلگت ایک قدیم علاقہ ہے عیسیٰ کی پیدائش سے سو سال پہلے یہاں بدھ مت پھیلا۔ چین سے آنے والے بدھ زائرین جو پشاور ، کشمیر ، ٹیکسلا اور دوسری جگہوں پر زیارتوں پر جاتے تھے وہ یہاں سے گزرتے تھے۔ ڈوگرہ قبضہ سے پہلے یہ درستان کہلاتا تھا اور یہاں گلگت ، سی ، حصورا ، پونیال ، نگر ، ہنزا ، بوانجی ، اشکومن ، گویچال ، بدخشاں ، دلیل ، تنخیر ، گور ، تہیلجا ، سپالس اور استور کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں تھیں تھیں۔ جو آپس میں لڑ لڑ کر اپنی طاقت کھو بیٹھیں تھیں۔ مہارا کشمیر گلاب سنگھ نے1851 نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور انہیں ایک ایک کرکے باج گزار بنا لیا یا ان پر قبضہ کر لیا تھا۔

مگر غلامی کو انہوں نے قبول نہیں کیا اور غلامی کا جوا ان کے لیے سخت بھاری تھا۔ اس لیے یہ علاقہ مستقل شورش زدہ رہا۔ یہاں کے قلعے میں مستقل فوج رکھنی پڑتی تھی۔ مگر یہاں کے عوام پر زیادہ سختیاں کی گئیں تو برطانیہ نے 1877ء میں ایک ایجنسی قائم کی۔ وقت کے ساتھ یہاں انہوں نے نیم فوجی دستے بھرتی کیے۔ جسے گلگت اسکاوٹ کا نام دیا گیا۔ اس کا کام امن و امان قائم کرنا اور ارد گرد کے ہمسایوں سے علاقہ کا دفاع کرنا تھا۔ تقسیم کے وقت یہاں کے ہندو گورنر اور دو برطانوی جونیر آفیسر نے گلگت کے مسلمانوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ یہاں کے لوگ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے تھے۔

گلگت گلگت بلتستان کا دارحکومت ہے اور ایک مصروف شہر ہے۔ کیوں کہ یہ شاہرہ رشم پر واقع ہے اور چینی تجارت اسی راستہ سے ہونے کی وجہ سے یہاں کے بہت سے شہری تجارت میں مصروف رہتے ہیں چینی سامان کی خرید و فرخت کے لیے چین سے ان کا رابطہ اور آمد و رفت رہتی ہے۔ اس کے بازار چینی سامان سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ شہر سیاحوں کا خصوصی مرکز ہے۔ اس لیے یہاں بہت سے ہوتل ہیں جن میں غیر ملکی نظر آتے ہیں۔ ان غیر ملکیوں کی ٹی میں کوہ پیما ، ٹریکنگ اور مختلف مہم کے لیے روانہ ہوتی ہیں۔ اس سے یہاں کے لوگوں کو روزگار کے زراءع بھی میسر ہیں۔

ہم جب آگے چلتے ہیں ایک اور بڑا دریا دریائے سندھ میں اپنا پانی شامل کر رہا ہوتا ہے۔ یہ دریائے استور ہے جس کا مٹیالہ پانی دور تک نمایاں تک دریائے سندھ میں نمایاں رہتا ہے۔

گلگت سے دریا کی طرف جاتے ہوئے کہیں کہیں سے نانگا پربت دکھائی دیتا ہے۔ نانگا پربت کوئی واحد پہاڑ نہیں ہے۔ بلند ہوتی گئی پے در پے پہاڑوں اور عمودی چٹانوں پر مشتمل ایک ایک ایسا دیو ہیکل مٹی اور برف کا تودہ ہے جس کی بلندی چھبیس ہزار چھ سو ساٹھ فٹ کے ساتھ بلند برفانی چوٹیوں پر اختتام پزیر ہوتا ہے۔ یہاں دریائے نانگا پربت کے سائے میں دریائے سندھ بہہ رہا ہے۔

نانگا پربت تک پنچنے کے کئی راستے ہیں اور ہر وہ شخص جو نانگا پربت کو قریب سے قریب دیکھنے کی شدید خواہش رکھتا ہے وہ اپنے حوصلے کے مطابق اس کے قریب سے قریب جانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ نانگا بربت دریائے سندھ سے صرف چودہ میل کے فضائی فاصلے پر ہے۔ یہاں نیچے دریا کے قرب میں شدید گرمی اور نانگا پربت کی بلندیوں پر شدید سردی ہوتی ہے۔

اس علاقے میں دریا نے اس قدر گہری کھائیاں کھودی ہیں کہ یہاں صرف چند گھنٹے دھوپ پہنچ پاتی ہے۔ یہ عظیم بلندیوں اور غاروں جیسی پستی والی سر زمین ہے۔ یہ زیادہ تر بدصورت اور پرہیبت ہے اس کو دیکھ کر دل پر عجیب اثر ہوتا ہے۔ یہ عظیم بدہیبت اور دہشتناک سرزمین۔ اس وادی کی وسعت میں یہاں خاموشی اور تیزی کے ساتھ دریائے سندھ نانگا پربت کے دامن میں ایک عظیم اور پر پیچ کھائی میں موڑ کا ٹتا ہوا گزرتا دریا بظاہر سکون سے بہتا ایک تنگ دریا دکھائی دیتا ہے۔ دریا کے کنارے شمال کے میدانوں کی طرف منہ کریں تو ہمارے سامنے ایک ایسا دلفریب منظر ہوگا۔ جس میں تپتے ہوئے صحرا سے دور برفیلے پہاڑ ، سبزہ اور ریت سب بیک وقت نمایاں ہوں گے۔ یہ ایک ایک ایسا دلفریب منظر ہوگا جس کے سحر میں انسان کھوجاتا ہے اور اپنے کو کسی اور دنیا میں گم پاتا ہے۔

یہ علاقہ عرب کے صحرا کی طرح بنجر ہے اور اس کی سطح پر بے شمار سیلابوں کی تباہی داستانیں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ عمودی چٹانوں اور دیواروں سے گھری ہوئی یہ چٹانوں اور گہری کہائیوں کا ایک ایسا گورکھ دھندا ہے جس میں شاید انسانی قدم کبھی نہیں پڑے ہیں۔ جہاں سبزہ اور نباتات کے نام سے محروم پتھریلے ملبوں کا ایک ایسا ڈھیر اور ان پر چلنا ایسا ہی کہ جسے چاند کے پہاڑوں میں اکیلے تنہا گھومنا پھرنا۔ بہتے ہوئے دریا کے پاتال میں ہمیشہ ایک سیلاب خاموشی سے بغیر رکے رواں ہے اور جب کوئی بڑا بھنور پیدا ہوتا ہے تو اپنے پورے غیظ و غضب کے ساتھ گہری سرسراہٹ کے پانی کو اوپر پھینکتا ہے۔

یہاں بھی انسان آباد ہیں اور یہاں دریا کی لائی ہوئی مٹی سے جو پہاڑوں کے درمیان میں پچھا دیتی ہے تو وہاں ایک بستی بھی آباد ہوجاتی ہے۔ ان میں کچھ دیہات ایسے ہیں جہاں سردیوں کے پورے چھ ماہ تک سورج نظر نہیں آتا ہے اور بعض دیہاتوں میں گرمیوں میں زمین اس قدر گرم ہوجاتی ہے کہ وہاں کے باشندے نقل مکانی پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ یہ تمام دیہات ہر وقت برف اور مٹی کے پھسلتے تودوں اور خطرناک سیلابوں کی ذرد میں رہتے ہیں۔

یہ علاقے برف اور مٹی کے پھسلتے ہوئے تودے اور خطرناک سیلابوں کی زرد ہوتے تھے۔ جہاں دریائے گلگت اور اسطور سندھ میں ملتے ہیں۔ یہاں پہلے بہت آبادی تھی اور زراعت پھل پھول رہی تھی۔ 1840ء میں ناگاہ پربت کے دامن میں پہاڑی کا ایک تودہ دریائے سندھ کی گھاٹی میں گر کر دریا پر بند باندھ دیا اور ایک بڑی تیس میل لمبی جھیل وجود میں آگئی جو گلگت شہر تک پہنچ رہی تھی۔ پھر اچانک اس جھیل کا بند ٹوٹ گیا اور میلوں تک زراعت مٹ گئی اور درجنوں دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ یہاں اگرچہ جانی نقصان کم ہوا کیوں کہ لوگوں نے پہلے ہی احتیاطی تذابیز اختیار کر لیں تھیں۔ یہ سب کچھ یہاں کا معمول ہے۔ مثلاً 1885ء میں ایک مٹی کے تودے نے بند باندھ دیا تھا۔ جب پانی نے اسے توڑا تو تین سو میل نیچے اٹک کے مقام پر ایک دن میں ہی پانی کی سطح 09 فٹ بلند ہو گئی تھی۔ حال ہی میں عطا آباد میں ایک ایسی جھیل وجود میں آگئی۔ یہاں کے دیہات میں رہنے والے مسلسل خطرے میں زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں۔ یہاں نظر رکھنے کا ایک انتظام قائم ہے۔

اس علاقہ میں نو ہزار فٹ اونچے پہاڑ ہیں جو یہاں اس گھاٹیوں کی دیوار بنا رہے۔ ان کی عمودی ڈھلانیں شدید گرمی اور شدید سردی کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی رہی ہیں اور مون سون کے علاقہ میں داخل ہوجانے سے یہ مزید خطرناک بن جاتی ہیں۔ مئی سے اکتوبر تک جنوب مغربی ہوائیں بحیرہ عرب سے اٹھ کر بادل کی صورت میں یہاں اپنا بوجھ اتارتی ہیں۔ جو غضبناک ہواؤں اور برف و بارش میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ پہاڑوں کی سطح پر بہتا پانی نالے کی صورت اختیار کرلیتا ہے اور ہر نالہ پانی کا ایک غضبناک دھارا بن کر پہاڑوں کے پہلوں سے مٹی اور چٹانوں کو ایک آبشار کی صورت میں گراتا ہے۔ جب مون سون بادل پہنچتے ہیں تو اگر گلیشیروں سے پگھلنے والا پانی بھی بہہ رہا ہو تو پھر دریائے سندھ میں ہزاروں آبشار بن جاتے ہیں جو اپنا پانی شامل کر رہے ہوتے ہیں۔ جس سے دریائے سندھ بپھر کر اپنے کناروں سے باہر نکل آتا ہے اور اپنے اوپر جھکی ہوئی بلند چٹانوں پہ یہ پانی کی پھواریں برساتا ہے اور کناروں کو اپنے ساتھ بہاتا ہوا لے جاتا ہے۔ جس سے کنارے آباد بستیوں کو دریا کے ساتھ ساتھ اوپر پہاڑوں سے آئے ہوئے پانی کے ریلے تباہی مچاتے ہوئے راہ میں آنے والی ہر چیز کو ملیا میٹ کر دیتے ہیں اور ایسا ہر چند سال بعد یہ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود ہزاروں سالوں سے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی قسم کا راستہ موجود رہا ہے اگرچہ یہ بہت خطرناک تھا۔ چوتھی صدی عیسویں میں بدھ مقدس مقامات کی زیارات کے لیے آنے والے چینی سیاح فاہیان نے لکھا کہ یہ راستہ بہت خطرناک ہے۔ جس میں جگہ جگہ خطرناک ڈھلوان چٹانیں اور عمودی پتھریلی دیواریں کھڑی نظر آتی ہیں۔ ان تنگ راستوں پر چلنے ہوئے ہزاروں فٹ بلند پہاڑ کی سمت میں محض ایک پتھر کی دیوار ہے۔ جس کے نیچے بہتے دریا اور گہری کھائیوں پر نظر ڈالتے ہوئے نظر چکرا جاتی ہے اور ان راستوں پر پاؤں جمانے کے لیے کوئی بھی یقینی جگہ نہیں ہے۔ نیچے تیز و تند شور مچاتا بل کھاتا دریائے سنتو ہو (سندھ) بہہ رہا ہے۔ یہاں لوگوں نے ان راستوں سے گزرنے کے لیے ان دیواروں میں سوراخ اور بعض جگہوں سیڑھیاں بچھا رکھی تھیں۔ جن کی تعداد تقریباً سات سو کے قریب ہے اور ان کھٹن راستوں گزرنا پڑتا ہے۔ یہاں ہم نے سیڑھیوں سے گزرنے کے بعد ہم نے رسوں کے لٹکتے پل کے ذریعہ دریا کو غبور کیا۔ فاہیان نے بھی ذکر کیا ہے۔

فاہیان کے اس سفر کے بعد اس خطرناک راستہ کی بجائے صدیوں تک تاجر غلاموں کا کاروبار کرنے کے لیے شمال اور جنوب سمت میں جانے والی دریائے سندھ کی معاون ندیوں کے لمبے لیکن اس کی نسبت آسان راستہ کو استعمال کرتے رہے۔ ان راستوں پر جھاگ اڑاتا مغرب کی سمت بہتا دریائے سندھ ہی ایک ایسی رکاوٹ تھی جسے غبور کرنا ہوتا تھا۔

اس علاقہ میں برطانیہ نے ایک معلق پل تعمیر کیا تھا۔ تقسیم ہند کے پاکستان کے لیے شمالی علاقوں سے زمینی رابطہ قائم کرنا اہم مسلہ تھا اور اس راستہ کی تعمیر اہمیت کی حامل تھی۔ اس لیے یہاں ایک سڑک کی تعمیر کرنے پر سنجیدیگی سے سوچا گیا اور یہاں ایک سڑک کی تعمیر کا آغٓاذ ہوا اور1968ء تک ایک کچی اور پتلی سی سڑک تعمیر ہو چکی تھی۔ یہ سڑک کچی ہونے کے باوجود انجینئری کا ایک عظیم انشان کارنامہ سمجھی جاتی تھی۔ اب یہ تنگ اور پتلی سڑک اب وسیع اور پکی ہوچکی ہے اور شاہراہ رشم کہلاتی ہے۔ جو چین علاقے سنکیانگ سے شروع ہوتی ہے اور گلگت سے ہوتی ہوئی جہاں اس سے کچھ فاصلہ اسکردو سے آنے والی شاہراہ اس سے مل جاتی اور ناگاہ پربت سے پہلے جہاں دریائے استور درہائے سندھ میں ملتا ہے ایک سڑک استور سے آکر ملتی ہے۔ اس طرح پورے گلگت بلستان کا رابطہ اس سڑک کے ذریعے پورے پاکستان سے قائم ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی اور اہم سڑکیں اس شاہراہ سے ملتی ہیں ، جس میں خیبر پختون خواہ جانے والی کئی سڑکیں شامل ہیں۔

اس سڑک کی تعمیر میں بڑی رکاوٹ چٹانیں عمودی تھیں۔ ان چٹانوں میں بریکٹ بنا کر باہر کو نکلا ہوا راستہ تعمیر کیا گیا۔ اکثر جگہوں پر راستہ بنانے کے لیے چٹانوں کو ڈائنامٹ سے اڑانا پڑا۔ اس سڑک پر آنے والا خرچ شمار سے باہر ہے۔ یہ گلگت سے ہوتی ہوئی درہ خنجر آپ پر چین سے ملتی ہے۔ اس طرح یہ قدیم تجارتی راستہ چین اور وسط ایشیا کے ساتھ جو خطرناک ترین تھا اب محفوظ سفر کا ذریعہ بن چکا ہے۔ اس سڑک کی تعمیر سے اس علاقہ ترقی اور سیاحت و تجارت میں نمایاں ترقی ہوئی۔ قدیم آبادیوں نے ترقی اور دریا کے کنارے کنارے بہت سی نئی آبادیاں وجود میں آگئی ہیں۔

یہ سڑک جب ناگاہ پربت سے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ گزرتی۔ وہ راستہ خود ارضی عجائب خانہ ہے۔ دریا کے ایک طرف سڑک چل رہی ہے اور دوسرے جانب بلند و بالا پہاڑ استعادہ ہیں۔ ان پہاڑوں میں جگہ جگہ گھاٹیاں ہیں۔ جہاں سے پانی کے سفید دھارے شور مچاتے ہوئے تیزی سے دریا میں اپنا پانی شامل کرتے رہتے ہیں۔ اس سڑک پر کئی جگہ قدرت کے عجیب عجوبے ہیں۔ جہاں دریا نے ان پہاڑوں کو اس صفائی سے کاٹا ہے کہ انہیں دیکھ کر لگتا ہے کسی نے کیک کو تیز چھری سے کاٹا ہے اور اس کیک میں مختلف رنگ کی تہ ہوں۔ یہ مختلف رنگوں میں سفید ، سیاہ ، بھورے اور کھتئی رنگ کی سیدھی دھاریوں کی صورت میں ان پہاڑوں میں نظر آتی ہیں۔ دریا کی جانب کے پہاڑ ایک دیوار کی نظر آتے جس کہیں کیں کوئی راستہ ہے۔ ورنہ بس کھڑی دیوار ساتھ چل رہی ہے۔ جس میں کہیں پہاڑ پھٹ جاتا ہے اور کوئی پانی کا چشمہ شور مچاتا ہوا دریائے سندھ کے پانیوں میں اپنا پانی شامل کر رہا ہوتا ہے۔ ٹھاکوٹ کے مقام پر دریائے سندھ کو یہ خدا حافظ کہہ کر مانسرہ اور ٹیکسلا میں یہ جی ٹی روڈ سے مل کر اسلام آباد پہنچ جاتی ہے۔

تھاکوٹ سے شاہراہ ریشم دریائے سندھ کو پار کرکے ہزارہ کے علاقہ میں داخل ہوجاتی ہے۔ مگر دریا اب جس علاقہ سے گزر تا ہے وہ دنیا سے کٹا ہوا علاقہ تھا۔ جس کے بارے میں بہت کم معلو مات تھیں۔ یہاں کہیں کہیں اکا دکا گاؤں ان پہاڑوں کی گھاٹیوں میں نظر آتے تھے اور جہاں زمین ہمواتر ہوتی تھی وہاں اکا دکا کھیت بھی نظر آتے تھے۔ جہاں تھوڑے بہت درختت یا سبزہ نظر آتا تھا۔ ورنہ چاروں طرف بھورے پہاڑ پھیلے ہوئے تھے۔ نیچے پاتال میں بے قابو دریا پوری روانی اور طاقت کے ساتھ بہتا ہوا ماضی کے لامتناہی زمانوں سے چلا جارہا تھا اور اس کے علاقہ میں صدیوں سے بہت کم تبدیلیاں واقع ہوئی تھیں۔ ایسا لگتا تھا اسے کوئی طاقت تبدیل نہیں کرسکتی ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ یہاں اس قدر تبدیلیاں واقع ہوئیں اور اب یہ علاقہ بہت بدل چکا ہے۔

شمال کی جانب تھوڑے فاصلے پر بائیں کنارے پر ایک چھوتا سا گاؤں تربیلا واقع ہے۔ یہ ریت اور چٹانوں پر مشتمل وسیع ہوا دار علاقہ ہے۔ جس میں مون سون کی بارشوں نے بے شمار گھاٹیاں ، کھائیاں اور نالے کھود رکھے ہیں۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی ایک ہزار سے دو ہزار فٹ بلند ہے۔ جہاں سے شمال کی جانب بلند و بالا پہاڑ نظر آتے ہیں۔ مشرق کی جانب یہ سطح مرتفع سندھ گنگا کے میدانوں تک چلی گئی ہے جو کلکتہ تک چلی گئی ہے اور مغرب کی جانب کابل کی وادی میں افغانستان تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں کی زمین سرخی مائل بھوری اور پیلے رنگ کی ہے جس میں جابجا جنگلی گھاس اور جھاڑی دار درخت نظر آتے ہیں۔ یہ علاقہ برائے راست دھوپ اور ہواؤں کی زرد میں ہے۔ یہاں پہنچ کر دریائے سندھ پھیل جاتا تھا۔

تربیلا کے سامنے دریا کے درمیان میں ایک جزیرہ تھا۔ یہ جزیرہ دونوں اطراف سے کشتیوں کے پلوں سے جڑا ہوا تھا۔ یہ پل تنگ اور بھاری و بھرکم کشتیوں کو ایک قطار میں کھڑا کرکے باندھا کر ہر کشتی کو بہاوَ کے خلاف نیچے وزنی پتھروں سے باندھ کر ان پر لکڑی کے تختے رکھ کر مٹی اور گھاس ڈال دی جاتی تھی۔

تقسیم کے وقت زیریں سندھ اور اس کے معاون دریاؤں پر انگریزوں کا تشکیل دیا ہوا آبپاشی کا نظام دو حصوں بٹ چکا تھا۔ پاکستان کو پانی کے حوالے سے بھارت کی بالادستی کا سامنا تھا اور اس کے تمام دریا بھارت کے زیر کنٹرول علاقہ سے گزر کر پاکستان آتے تھے۔ بھارت کا پانی روکنے کی وجہ خشک سالی کا سامنا تھا۔ اس لیے یہ طہ کیا گیا سندھ دریا پر بند باندھ کر اس کے پانی کا ذخیرہ کر لیا جائے تو پانی کا مسلہ بہت حد تک حل ہوجائے گا۔

اس بند کے لیے سکردو کی وادی ، بھاشاہ پر بھی غور کیا گیا۔ آخر کار چودہ سال تک اس مسلہ کا بغور جائزہ لینے کے بعد جیالوجسٹ ، ہائیڈرولوجست اور اکانومسٹ اس نتیجے پر پہنچے کہ بہاوَ کی سمت میں آخری بلند پہاڑیوں کے فوراً موزوں جگہ تربیلہ ہے۔ یہ اسلام آباد سے صرف چالیس میل کے فاصلے پر ہے۔ بہاوَ کی جانب زیریں علاقہ جات کی نسبت اوپر کی گھاٹیوں کو بھر کر جھیل بنانا زیادہ موزوں ہوسکتا ہے۔ کیوں کہ اس طرح کم سے کم زرعی زمین زیر آب ہوگی۔

اس ڈیم کی تعمیر کا مطلب تھا کرہ ارض کے اس حصہ کی ساخت کو تبدیل کرنا تھا۔ ڈیم کا پشتہ تیار کرنے کے لیے نہر پانامہ کے لیے خاکنائے پانامہ سے کھودی گئی مٹی کی مقدار کی دو تہائی مٹی کی درکار تھی۔ یہ پشتہ تقریباً دو میل لمبا اور دریا کی گزر گاہ سے 500 فٹ بلند کرنا تھا۔ اس کے لیے 186 ملین مٹی اور چٹانیں درکار تھیں۔ جس میں سے تقریباً آدھی مٹی سرنگوں اور پانی بہنے کے راستوں کی کھودائی سے حاصل ہونی تھی اور باقی ماندہ اور جگہوں سے کھود کر لانی تھی۔ تین ملین کیوبک گز کنکریٹ کی ضرورت تھی۔ ڈیم کے اوپر دریائے سندھ نے پچاس میل پیچھے تک جہاں اس کی گھاٹی کی چورائی سو گز سے کم ہے جھیل کی صورت اختیار کرتے ہوئے گیارہ ملین پانی کا ذخیرہ کرنا تھا۔ سیلاب کے موسم میں یا جب مون سون بارش کی وجہ سے جھیل کی سطح بلند ہوجائے یا بالائی علاقہ میں کسی گلیشر کے ٹوٹنے سے پانی میں اچانک اضافہ ہوجانے کی صورت میں ذیلی آبی راستے کے اضافی پانی کو ڈیم کے نیچے روایتی گزرگاہ میں پھینک دیں گے۔

تربیلا ڈیم ایک کثیر المقاصد ڈیم ہے جو منگلا بند سے دو گنا ، اسوان ڈیم مصر سے تین گنا اور دنیا میں مٹی کی بھرائی کا سب سے بڑا بند ہے۔ اس کے لیے بین الاقوامی اداروں اور دوست ممالک سے فنی و مالی تعاون کی اپیل کی گئی۔ 1967ء میں عالمی بینک نے اس ڈیم کی تعمیر کی منظوری دے دی۔ 1968ء میں تربیلا ترقیاتی فنڈ قائم کیا گیا۔ جس کے لیے عطیات کے علاوہ فرانس ، اٹلی ، برطانیہ، کینڈا اور عالمی بینک نے قرضے بھی منظور کیے۔ اسی سال تین اطالوی اور تین فرانسیسی کمپنیوں پر مشتمل ایک کنسورشیم تربیلا جائنٹ و نیچر کو بند کی تعمیر کا ٹھیکا دیا گیا۔ 1969ء میں کنسورشیم میں جرمنی اور سوءٹزرلینڈ کی سات کمپنیوں کا گروپ بھی شامل ہو گیا۔ نومبر 1971ء میں یہ بند پایہَ تکمیل کو پہنچا اور 1977ء میں اس نے کام شروع کر دیا تھا۔ تاہم اس کو مکمل تکمیل 1984ء میں ہوئی اور اس کی لاگت 149 بلین ڈالر تھی۔

تربیلا سے چل کر دریائے سندھ وادی گندھارا میں داخل ہوتا ہے۔ یہاں دریائے کابل اس میں گرتا ہے۔ کسی زمانے میں یہ علاقہ جنگلوں سے ڈھکا دلدلی علاقہ تھا۔ جہاں ہاتھی ، گینڈے اور شیر بھی پائے جاتے تھے۔ یہاں چار لاکھ سال پرانے ہتھیار اور قدیم جانورں کے نجعرات ملے ہیں۔ جنہیں یہاں کی قدیم پتھریلی عمارتوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ خاص کر وادی سون کا علاقہ ان فاصلز سے بھرا ہوا ہے۔ دریا کہ مشرقی کنارے پر نمک کی کانیں ہیں جس میں قدیم زمانے سے نمک مسلسل نکل رہا ہے۔

تربیلہ سے اوپر دریا کے دائیں کنارے پر ایک وسیع علاقہ پر پٹھان آباد ہیں۔ یہاں کا بیشتر علاقہ بیابان اور اجاڑ چٹانوں پر مشتمل ہے۔ جس میں بلند عمودی چٹانوں میں بل کھائی ہوئی جھکی ہوئی چوٹیاں ہیں۔ یہ علاقہ رہزنوں اور قزاقوں کے لیے ایک موزوں علاقہ ہے۔ یہاں قبائلی باشندے عقابوں کی طرح ان چوٹیوں بیٹھ کر کسی بھی فوجی قافلے کا راستہ روک سکتے ہیں۔ انہوں نے باہر سے حملہ آور ہونے والے بڑے بڑے فوجی دستوں کو یہاں بے بس کر رکھا تھا۔ برطانیہ نے 1858ء تا 1881ء کے دوران میں تیس تازیبی کارروائیاں کیں۔ جن کا مقصد اس علاقہ پر اپنی بالادستی قائم کرنا مگر انہیں کبھی مکمل کامیابی ہوئی۔سطح مرتفع پوٹھوار میں پہاڑ دریا سے کچھ دور ہٹ جاتے ہیں۔ ان پہاڑوں میں کئی درے واقع ہیں اور انہیں دروں میں ہندوکش کے پار سے حملہ آور برصغیر آتے رہے ہیں۔ یہاں جھاگ اڑاتے ہوئے برساتی نالے ، جھلسانے والی دھوپ ، سرخ چٹانوں پر جابجا جڑی بوٹیاں اگتی ہیں۔ یہاں مغرب کی جانب ے سے دریائے کابل ملتا ہے اور وادی پشاور کو جنم دیتا ہے۔ یہ دریا سندھ میں اپنا پانی بھوری رنگت کا پانی ڈالتا ہے جو کافی دور تک علحیدہ علحیدہ بہتے ہیں اور پھر ایک دوسرے میں مل جاتے ہیں۔ اس دریا سے کچھ دور پشاور کا شہر ہے جہاں قدیم زمانے سے وسط ایشیا سے تجارتی قافلے آتے تھے۔ یہ سیلابوں کی سرزمین رہی ہے یہاں سیلاب آتے رہے ہیں۔ جب بالائی وادی میں کوئی پہاڑی پھسل دریا کا راستہ روکتی تھی اور اچانک دریا کا پانی اپنا راستہ بناتا تھا تو یہاں شدید سیلاب آجاتا تھا۔ 1841ء کی گرمیوں میں دریا کے قریب سکھ فوجیوں کا ایک دستہ ٹہرا ہوا تھا۔ اچانک دوپہر کے وقت پانی کا زبردست ریلا آیا اور پانسو سپاہیوں کو اس طرح بہا کر لے گیا جیسے کسی نے چونٹیوں کو جھاڑو سے صاف کر دیا ہو۔

یہاں ٹیکسلا آباد ہے۔ گوتم بدھ کے زمانے میں ٹیکسلہ کی شہرت ایک علمی مرکز کی تھی۔ ٹیکسلہ میں ایک عظیم یونیورسٹی اور بہت سے قدیم آثار ہیں اور ان آثاروں کو گندھارا کی گورستانی تہذیب کا نام دیا گیا ہے۔ یہیں سکندنے 327 ق م اوہنڈ کے مقام پر دریائے سندھ کو غبور کیا تھا۔ یہی راستہ جس پر سے وسط ایشیا کہ حملہ آور برصغیر اختیار کرتے تھے۔ اسی راستہ سے غوری اور ترک آئے تھے۔ منگولوں کے حملوں سے بچ کر شہزادہ جلال الدین خوارزم شاہ یہیں ایک بلند چٹان سے جھلانگ لگا فرار ہوا تھا۔ جس پر چنگیز خان نے اسے خراج تحسین پیش کیا تھا۔ جب مغلوں کو زوال نصیب ہوا تو نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی اسی راستہ سے برصغیر حملہ آور ہوئے۔ احمد شاہ ابدالی نے دریائے سندھ کی مغربی کنارے کو اپنی مملکت میں شامل کر لیا۔ جسے ڈیونڈ لائین کے تحت اس علاقہ کو برصغیر میں دوبارہ شامل کیا۔ احمد شاہ ابدالی نے پنجاب کو حکمران رنجیت سنگھ کو بنا دیا۔ جس نے اپنے مملکت کو وسیع کرتے ہوئے دریا کے مغربی جانب پشاور اور ڈیرہ تک کے علاقہ پر قبضہ کرکے ایک آزاد سکھ حکومت کی بنیاد رکھی جو اس کی موت کے ساتھ ہی مٹ ہو گئی۔ جب سکھوں نے انگریزوں سے شکست کھائی تو انگریزوں کی حکومت قائم ہو گئی اور تقسیم کے بعد یہ علاقہ پاکستان کا حصہ بنا۔ دریا کہ مغربی کنارے کی واپسی کے لیے اکثر افغانستان آواز اٹھاتا رہے ہے۔ مگر اس علاقے کے باشندوں نے اسی کبھی اہمیت دی۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں ان کا مستقبل وادی سندھ کے باشندووں کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہاں دریائے سندھ کے کنارے اٹک کا شہر آباد ہے۔

پشاور کے مشرق میں بالائی میدانوں میں دریائے سندھ پھیل کر اتھلا بہتا ہے۔ اس مقام سے فوراً بعد جہاں دریائے کابل کا اپنا گاڑھا سرخی مائل بھورا پانی مٹیالے رنگ کے سندھ کے پانی میں ڈالتا ہے۔ تھوڑا نیچے جاکر اٹک کے چھوٹے شہر کے پاس سطح مرتفع ختم ہوجاتی ہے اور دریائے سندھ کو ایک مرتبہ پھر سمٹ کر پتھریلی پہاڑیوں کے سلسلے میں ہوکر تنگ راستے میں سے گزرتا ہے۔ اس جگہ جہاں کہ ڈھلوان گھاٹی 200 گز چوڑی ہے۔ یہاں دریا مٹیالا پانی سرخ بھورے پانی کے ساتھ گھل کر مل کر ایک تیز دھارے کی صورت میں بہتا ہے۔ سردیوں میں قدرے سکون کے ساتھ اور گرمیوں میں جب بلند پہاڑیوں پر گلیشر کے بند دروازے کھل جاتے ہیں تو دریا کی سطح میں پچاس فٹ کا اضافہ ہوجاتا ہے تو یہ کسی منہ زور گھوڑے کی طرح گرجتا ہوا چھنٹے اڑتا ہوا ، چکر لگاتا ہوا ، جھاگ بناتا ہوا ، سبزی مائل مٹیالے بھنور پیدا کرتا ہوا اور پہاڑیوں کو کاٹتا ہوا گزر رہا ہوتا ہے۔ یہاں اس کا سفر کا منظر اتنا اثر انگیز ہوتا ہے کہ مقامی لوگ اسے ابا سین یعنی دریاؤں کا باپ کہتے ہیں۔

پہلے یہاں سے دریائے سندھ کو کشیوں کے پل کے ذریعے پار کیا جاتا تھا۔ یہاں بڑے بڑے کالے پتھروں کو ٹکراتی ہوئی لہریں انہیں ٹکروں میں توڑ دیتی ہیں۔ لہروں کی تیزی کی وجہ سے کشتیاں بڑی تیزی سے تیرتی ہوئی پلک چھپکتے ہی دوسرے کناروں پر جالگتی ہیں۔ اس گھاٹ پر کشتیاں اکثر ٹکرا کر پاش پاش بھی ہوجایا کرتی تھیں۔ خاص کر دو ان دو بڑی بڑی چٹانوں سے جو دائیں کنارے پر واقع ہیں۔ ان چٹانوں کے نام دو کافروں کمالہ اور جلالہ کے نام سے منسوب ہیں۔ جن کو مقامی لوگوں کی روایت کے مطابق اکبر نے یہاں پھکوایا تھا۔ اٹک سے پار دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر ایک چٹان پر برطانیوی رجمٹوں کے نشان کندہ ہیں جو اس علاقہ میں سالا سال جنگوں میں مصروف رہیں ہیں۔ اٹک کے مقام پر اکبر کے بنائے ہوئے قلعہ نے دو سو سال تک اپنا تسلط قائم رکھا۔ لیکن انیسویں صدی کی ابتدا میں سکھوں نے دریا کی دوسری جانب ایک دوسرا قلعہ خیر آباد کے نام سے تعمیر کیا جس کی باقیات اب بھی اکا دکا ہی نظر آتی ہیں۔ یہ دونوں قلعہ آمنے سامنے کھڑے تھے۔ سردیوں میں کشتیوں کا ایک پل دونوں کو ملاتا تھا اور گرمیوں میں جب دریا طغیانی پر ہوتا تھا تو اسے ہٹانا پڑتا تھا۔ اٹک پر دریا کے لیے پل کے لیے بہاوَ کی سمت 24کشتیاں کافی ہوتی تھیں۔ مگر اوپر کی جانب کم از کم 36کشتیوں کی ضرورت ہوتی تھی۔ یہ پل جون سے ستمبر کے درمیان میں کی طغیانی کو براشت نہیں کرسکتا تھا اور ہر دفعہ نیا پل بنانا پڑتا تھا۔

اٹک اور کالا باغ کے درمیان میں تقریباً سو میل نیچے دریائے سندھ ایک گہری خندق کی تہ میں بہتا ہوا ایک ایسے پتھریلے علاقے سے گزرتا ہے۔ یہ علاقہ اکثر بنجر ہیں لیکن کئی جگہوں پر سرسبزہ نظر آتا ہے۔ مغربی کنارے پر تراہ کی پہاڑیاں جو افغانستان کی بلندیوں سے نیچے اتر رہی ہیں اور زمین پتھریلی ہے۔ یہاں بہار میں سرسوں کے چھوٹے چھوٹے کھیت اور کئی جگہوں پر زمین ہموار ہے۔ لیکن یہاں سخت چٹانیں سر نکالے بھی نظر آتی ہیں۔ مشرقی کنارے پر دور تک پہاڑیوں کا سلسہ پھیلا ہوا ہے۔۔ ماہرین آثار قدیمہ نے یہاں ایک قبل از تاریخ شہر کے آثار دریافت کیے ہیں۔

وادی کابل کے مقابلے میں یہاں آبادی کم ہے اور یہاں دریا کے کنارے گھاٹ اور کشتیاں بھی نظر آتی تھیں۔ یہاں بلند عمارتیں ، سٹوپے یا مندروں کے کھنڈر بھی نظر آتے ہیں۔ یہاں بھی دریائے سندھ اپنے منبع سے ہزاروں میل دور میدانی علاقے میں اکثر بپھر جاتا ہے۔ یہاں اٹک سے نیچے تنگ وادیوں میں دریا بلند اور عمودی چٹانوں میں پھنسا ہوا بہتا ہے اور اس کی تہ میں بے شمار نوکیلی چٹانیں ابھری ہوئی ہوتی ہیں اور کئی مقامات پر اس کی گہرائی تیس فیدم سے زیادہ ہوتی ہے۔ بعض جگہوں پر اچانک ڈیڑھ دو سو فٹ نیچے جاگرتا ہے اور اکثر اوقات دریا پتھریلے راستے سے گزرتا ہے اور یہاں دریا میں بھنور پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ جن کی زرد میں آکر اکثر سامان بردار کشتیاں الٹ جاتی تھیں۔ ان تمام خطروں کے باوجود سیکڑوں سالوں سے یہ دریا اٹک سے نیچے کے لیے تجارتی سامان کی ترسیل کا یک طرفہ ذریعہ صدیوں سے تھا۔

دریا کے کنارے خوشحال گڑھ اور اس کے مغرب میں کوہاٹ واقع ہے۔ یہاں انگریزوں کے دور سے فوج کی ایک بڑی چھاءونی تھی۔ جہاں اب پاکستانی فوج تعینات ہے۔ یہاں پہلے ایک کشتیوں کا پل تھا۔ برطانیہ نے یہاں ایک پل تعمیر کرایا۔ یہاں 1907ء ریل اور سڑک کی مستقل آمد و رفت کے لیے ایک نیا پل بنادیا گیا۔ یہاں دریائے سون اس ملتا ہے۔ یہاں ماقبل تاریح حجری زمانے کے پتھر کے اوزار کثرت سے ملے ہیں۔ اس کی چوڑائی سے لگتا ہے کہ یہ اس وادی کا کبھی سب سے بڑا دریا تھا۔ ماہرین ارضیات کا خیال ہے کہ ہمالیہ اور قراقرم کے اوپر آنے یا ابھرنے کے دوران میں کسی ایک مرحلے پر پانی کو جو مغرب کی دھکیلا گیا تھا۔ اس پانی نے نکلنے کے یہ راستہ بنایا تھا۔ آج سون ایک چھوٹی سی ندی ہے۔ بارشیں ہوں تو اس کے پانی کا رنگ خون کی طرح سرخ ہو جاتا ہے اورا دریائے سندھ کے پانی کو دور تک سرخ کردیتا ہے۔ دریا کے راستے میں دس میل نیچے کی جانب بارشوں کے پانی سے کٹی پھٹی سلسلہ کوہ نمک کی کالے اور بھورے رنگ کی شمالی ڈھلانیں کھڑی ہیں۔ یہ راستہ اس قدر دھلوان اور سلوٹوں سے پر ہے کہ اس میں سے راستہ بناکر گزنا ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ یہاں دریائے سندھ اپنی پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھتا ہے کہ اس کے راستہ میں کوئی چیز زیادہ دیر تک مزاحمت نہیں کرسکتی ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں کالا باغ ڈیم بنانے کی تجویز ہے۔ اگرچہ یہ مقام ڈیم بنے کے لیے آئیڈیل جگہ ہے۔ لیکن اسے اس لیے تعمیر نہیں کیا جاسکا کہ اس ڈیم کی تعمیر کے لیے پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبے تیار نہیں ہیں۔ یہاں پر ڈیم کی تعمیر کے عالمی بنک اور بین اقوامی مالیاتی اداروں نے تربیلا سے بھی پہلے اس مقام ڈیم کی تجویز پیش کی تھی اور بارہا اس تجویز کو دوہرایا گیا ہے۔ اگرچہ کئی حکومتوں نے یہاں ڈیم کی تعمیر کی کوشش بھی کی ہے اور کچھ کام بھی ہوا ہے۔ مگر پنجاب کے صوبے کے علاوہ خیبر پختون خواہ اور سندھ نے شدید مخالفت کی اور اس کی تعمیر کو روکنا پڑا۔ یہاں دریا کے قریب تعمیرانی مشنری اور دوسرا سامان بکھرا ہوا۔ جو اس ڈیم کی تعمیر کی ابتدائی کوششوں کے لیے لایا گیا تھا اور اب استعمال نہ ہونے کی وجہ سے پڑا زنگ کھا رہا ہے۔

جنوب میں کوہستان نمک کی سرخ اور ارغونی رنگ کی چٹانیں کھڑی ہیں اور یہاں سے دریائے میدانوں میں داخل ہوتا ہے۔ یہاں مغربی کنارے پر کالا باغ اور مشرقی کنارے پر ماڑی انڈس آباد ہیں۔ اس سے آگے چند سو گز کے بعد ایک میل چوڑا اور ایک میل کے بعد اس کا پاٹ دس میل تک پھیل جاتا ہے۔ یہاں دریا میں کئی جزیرے ہیں اور ان میں مویشیوں کی چراگاہیں اور زراعت ہوتی ہے اور چھوٹے چھوٹے کئی گاؤں بھی آباد ہیں۔ سیلابوں میں یہاں کے لوگ لوگ نقل مکانی کرجاتے ہیں۔ یہاں نرسلوں دور دور تک جنگل نظر آ رہے ہوتے ہیں۔ دریا جب چڑھتا ہے تو ان جزیرے غائب ہوجاتے ہیں اور جب پانی کا دھارے کا رخ بدلتا ہے تو نئے جزیرے نظر آتے ہیں اور پرانی زمینیں دریا برد ہوتی رہتی ہیں۔

یہاں کرومیم ، کوئلے اور چپسم کی کانیں بھی ہیں۔ مگر سب سے اہم معدنیات نمک کی چٹانیں ہیں۔ بعض جگہوں پر یہاں پہاڑیاں ٹھوس نمک کی اور شفاف ، سخت اور سرخ رگوں والی ہیں۔ یہاں پیلے ریگستانی بیابانوں جن میں کہیں سفید نمک کی چتکبریاں بکھری ہوئی ہیں۔ جس میں کانٹے دار جھاڑیاں فاصلوں پر کھڑی نظر آتی ہیں۔ دریا کے مغربی کنارے پر صحرا میں تیز آندھیاں چلتی رہتی ہیں۔

کالا باغ سے تیس میل نیچے دائیں کنارے پر آخری قابل ذکر معاون دریا کرم اس میں آکر ملتا ہے۔ یہ افغان سرحد کے عظیم پہاڑوں سے نکل کر آتا ہے۔ اس راستے سے وحشیوں اور جنگجووَں کے جتھے قدیم دور میں مسلسل ہندوستان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں۔ جو ہر مرتبہ اجنبی نئے لیکن اپنے پیشرووَں کی طرح ظالم ہوتے تھے۔ انگریزوں آمد کے بعد یہ سلسلہ رک گیا۔

دریائے سندھ کے مشرقی کتارے پر میاں والی واقع ہے۔ یہ ایک قدیم مقام ہے اور اس نے بہت سے نام بدلے ہیں۔ ایک چھوٹا سا قصبہ اب ایک بڑا اہم شہر بن گیا ہے۔ یہ علاقہ خیبر پختون خواہ اور پنجاب کی ثقافت کا سنگم ہے۔ یہاں اگر دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر کوئی شخص ڈھیلی دھالی شوار اور قمیض پہنے ہوئے ہو تو پٹھان ہے اور وہی شخص جب دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر دھوتی باندھ لیتا ہے پنجابی کہلاتا۔

یہ سیلابوں کی سرزمین ہے جہاں بہت سے قدیم آثار ملتے ہیں یہیں آریاؤں کا مقدس وید لکھا گیا اور انہی میدانوں میں آریاؤں کی مشہور دس راجاؤں کی جنگ ہوئی تھی۔ سکندر کے سلار سلوکس کو 305 ق م میں چندر گپت موریہ نے اسے انہی میدانوں میں شرمناک شکست دی اور نہ صرف ہندی مقبوضات سے بلکہ کابل ، قندھار ، ہرات اور بلوچستان سے بھی دستبردار ہو گیا اور بیٹی کی شادی چندر گپت سے کردی۔ چندر گپت نے اسے پانسو ہاتھیوں کا تحفہ بھیجا۔

میاں والی کے قریب یہیں جناح اور چشمہ پیراج بھی واقع ہیں۔ کالا باغ کے نیچے دریائے سندھ کی دونوں جانب ریت پھیلی ہوئی ہے۔ دریائے سندھ اور اس کے آخری معاون پنجند کے درمیان میں کی نوک مغرب کی جانب ہے ساگر دو آبہ کہا جاتا ہے چلی گئی ہے۔ یہاں ریت بھورے رنگ کی ہے اور پانی کھارا ہے۔

یہاں دریا پھیل جاتا ہے اور یہ انسانوں جانوروں اور فضلوں کو پانی کی صورت میں زندگی عطا کرتا ہے تو وہیں انہیں تباہ کن طغیانی کی صورت میں موت اور تباہی بھی باٹتا ہے۔ یہ کالا باغ کے بعد دیڑوں کے علاقہ تک مسلسل سیلاب کی صورت میں بہتا ہے۔ سردیوں میں یہ تنگ دھاروں کی بھول بھلیوں کی صورت میں بہتا ہے۔ جس میں جابجا چھوٹے چھوٹے ریت کے جزیرے سر اٹھائے نظر آتے ہیں اور سیلاب کے زمانے اس کی وسعت اتنی ہوجاتی ہے کہ ایک کنارے پر کھڑے ہونے والے کو دوسرا کنارا نظر نہیں آتا ہے اور ماننے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ اسے بنانے کے لیے دس ہزار ندیاں لپکتی ہوئی نیچے آکر اسے پانی مہیا کرتی ہیں۔

ڈیرے کے علاقے میں رتیلے میدان صرف ریت کے رنگ کے نہیں ہیں۔ یہ پیلے ، بھورے اور سرخی مائل اور بعض جگہوں پر برف کی طرح سفید ہیں۔ اس علاقہ میں جہاں کبھی دور تک ریت کے میدان پھیلے ہوئے تھے اور ہر جگہ جانور ہی جانور نظر آتے تھے۔ اب یہاں کا منظر نامہ بہت بدل چکا ہے۔ وقت کے ساتھ ترقی نے یہاں بھی تبدیلی نے قدم جما لیے ہیں۔ یہاں کے چھوٹے قصبہ پھیل کر شہر بنتے جا رہے۔ یہاں کبھی خرگوش ، لومڑیاں ، تیتر ، پہاڑوں پر اڑیال ، چرخ اور چیتے بھی پانئے جاتے تھے۔ دریا میں چھوٹے گھڑیال ، اودبلاوَ بھی ملتے تھے۔ یہاں کے صحراؤں میں طوطے ، الو ، بٹیر ، تلور ، گدھ ، کالا تیتر ، فاختہ ، کبوتر اور بہت سے پرندے جانور عام تھے۔ پہلے جب دریاؤں میں پانی آتا تھا اور یہ پانی پھیل کر نشیبی علاقوں کو بھر دیا تھا تو ان میں مرغابی ، سارس ، بگلے اور دوسرے بہت سے آبی پرندے جمع ہوجاتے تھے۔ مگر بڑھتی ہوئی آبادی اور اندھا دھند شکار نے ان کا بالکل خاتمہ کر دیا ہے۔ ورنہ پہلے جب کھیتوں کو پانی دیا جاتا تو مختلف پرندے کیڑے مکوڑے کھانے کے لیے جمع ہوجاتے تھے اور مختلف پرندے ان سرسبز کھیتوں میں نظر آتے تھے۔ لیکن کھیتوں میں صرف وہی پرندے نظر آتے جو جنگلوں میں درختوں میں رہتے ہیں۔ کیوں کہ جب سے زہریلی دوائیں ان کھیتوں میں کیڑے مارنے کے لیے ڈالی جارہی ہیں ان دواءوں نے کیڑوں کے ساتھ ساتھ ان پرندوں کا بھی خاتمہ ہو گیا۔

یہاں کھیتوں کے ان سمندر میں ریگستانی جزیرے بھی ملتے ہیں۔ ریت کی پہاڑیاں بھی ، بلند بنجر زمین بھی اور جنگل سے ڈھکے ہوئے زمین کے کٹے پھٹے ٹکرے بھی۔ سکھر بیراج سے آگے جہاں وسیع کھلے ہوئے آبی خطہ ، جٹی نمک کے میدان یا اس کے بلمقابل شہداد کوٹ کا پٹ جو ہر طرح کی نباتات سے محروم ہے۔ دریائے سندھ میں جب پھر پور سیلاب ہو تو وہ اپنے پشتوں کے درمیان میں بھی دس میل چوڑا پاٹ لیے اور اپنے ڈیلٹے کی بیشر زمین کو اپنی آبی چادر سے ڈھانپے ہوئے قدیم نام مٹھو دریا کا حقیقی وارث نظر آتا ہے۔ روہڑی کے علاقہ میں موٹے گھاس کے میدان جہاں حد نظر تک پھیلے ہوئے دریائی جنگلات اور دھنڈ (جھیل) جن کو گھنے سرکنڈوں نے ڈھانپ رکھا ہے۔ یہاں کے متضاد منظر جن میں ایک طرف صحرائی شادابی اور دوسری طرف انتہائی بیابانی ہے۔ جہاں آج آبپاشی کے جدید طریقوں سے بارش پر زاراعت کا دارو مدار ہے۔

یہاں سبزہ کے اختلاف سے کچی زمینیں دریائی پانی سے سیراب ہوتی تھی اور پانی نہیں پہنچتا ہے وہ زمین جو اتنی سخت ہے کہ ان پر گھوڑے کے سموں کی ٹاپ دور تک سنائی دیتی ہے۔ اس پہاڑی مٹی سے بنی زمین جو قدر گہرے رنگ کی ہے۔ پکی کا رنگ ہلکا اور اس سخت زمین پر کنڈی کا خار دار درخت ، کرڑ یا کیپر کے بغیر پتوں کی جھاڑیاں اور بیر ملتے ہیں جو اور یہ برائے نام بارش پر زندہ ہیں۔ نرم ریت کی زمین یا وار یاسی جس کا رنگ سفید اور باریک ذرات پر مشتمل جس کا غبار لوگوں کے لیے پریشان کن ہوتا ہے۔ اس زمین پر کھپ جس کی پتلی شاخیں ہوتی ہیں ، پھوگ اور آک کا پودا ملتا ہے۔ اس زمین کو پانی مل جائے تو بہت سا سبزہ اور زراعت بکثرت ہوتی ہے۔

دریائے کے کنارے کی زمین زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ یہ نمدار مٹی اور ریت کا مرکب ہوتی ہے۔ دریا میں طغیانی کے بعد جو مٹی کے پشتے بن جاتے ہیں وہاں دیکھتے ہی دیکھتے ان پر مختلف درختوں اور جھاڑیوں کی ہریالی چھا جاتی ہے۔ اگر انہیں برسات اور بکریوں سے بچ کر انہیں بڑھنے کا موقع ملے تو کچھ عرصہ بعد چھوٹے درختوں اور جھاڑیوں کا ایک جنگل کھڑا ہوجاتا ہے۔ ذرخیزی میں کچے کی زمین دریا کی لائی مٹی مسلسل تازگی بخشتی ہے۔ بہترین نہری زمین بھی سوائے چاول کی کاشت کے مسلسل فضلیوں سے ناکارہ ہوجاتی ہیں۔

بیس ہزار مربع میل کے علاقے میں پھیلا ہموار میدان دہری ڈھلانیں رکھتا ہے۔ ایک دحلان دریائے سندھ کے بہاوَ کے ساتھ ساتھ طول البد کی حثیت سے اور دوسری ڈھلان دریائے سندھ کے دونوں کناروں سے عمودی زاویہ پر۔ دریا کے سیلابی پانیوں میں مٹی شامل ہوتی اوروہ سیلابی پانی کے ساتھ وادی میں پھیلاتے رہتے ہیں۔ کیوں کہ ان کی آبی گزر گاہ سیلاب کے موقع پر پانی کی نکاسی کے ست عمل سے پانی میں شامل مٹی کو پھیلاتے جاتے ہیں۔ اس مسلسل عمل سے زمین کی سطح دریا کے بہاوَ کی سمت ایک ہلکی ڈھلوان اختیار کرتی رہتی ہے اور دریا اپنے کناروں کے ساتھ ایک وسیع و عریض ڈحلوان پشتہ بناتے رہتے ہیں۔

شمالی مغربی ہندوستان کے میدان اور گنگا کی وادی میں پہلے سمندر تھا۔۔ یہاں پہاڑ نمودار ہوئے تو نئے دریا بھی پرانے دریاؤں کے ساتھ مل کر پیچھے ہٹے ہوئے سمندر سے نئی زمینیں حاصل کیں۔ یہ سمندری علاقہ دریائی مٹی کے ایک عظیم ذخیرہ سے پر ہوکر میدان کی شکل اختیار کرلی۔ یہ دریائی مٹی کئی ہزار فٹ کی تہ کی شکل میں اسی میدان میں موجود ہے۔ جب برفیں پگھلتیں ہیں اور بارشیں ہوتی ہے تو دریاؤں میں طغیانی آجاتی ہے اور سیلاب کی وجہ سے پانی کا اخراج بیس سے چالیس گناہ بڑھ جاتا ہے۔ اس طرح دریاؤں کا پاٹ دس سے بیس گناہ زیادہ چوڑا ہوجاتا ہے۔ پانی رفتار میں اضافہ اور مٹی کی مقدار زیادہ ہوجاتی ہے۔ سیلابی پانی یہ تمام نشیب میں پھیل کر وہاں اپنی مٹی پھیلاتا ہے۔ اس سے وہاں کی سطح بلند ہوتی جاتی ہے۔ اور دریا نئے راستے اختیار کرکے وہاں پر بھی زمین کی سطح بلند کا عمل شروع کر دیتا ہے۔

چنانچہ ہزاروں سالوں سے دریا مٹی تہ پھیلا کر سطح کر رہا ہے۔ دریائے سندھ میں شامل مٹی کی کثیر مقدار زیادہ تر راستہ میں بیٹھ جاتی ہے اور چنانچہ طغیانی کے بعد راستہ میں مٹی پھر جانے سے اس کا راستہ بدل جاتا ہے اور دریا اپنی گزرگاہ اور رفتار کو ان کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔ جہاں زمین نرم ملتی ہے جو آسانی سے پانی میں شامل ہوجاتی وہاں بتدریح پھیل کر سست رفتاری سے بہتا ہے۔ وہ دریا نیم دائرہ بنالیتا ہے تو راستہ درست رکھنے کے لیے اس کے برابر نیم دائرہ بھی بناتا ہے۔ سیلاب کے پانی کو وہ اپنے پہلووَں سے باہر پھینک دیتا ہے۔ اس طرح سے دریائے جیسے جیسے سمندر کے نذدیک ہوتا جاتا ہے اس میں پانی کا اخراج کم ہوتا جاتا ہے۔

دریائے سندھ کے سیلاب کی تباہ کاریوں کو روکنے کے لیے اس کے پشتوں کی تعمیر کیں گئیں۔ عام حالات میں جتنی زیادہ سے زیادہ اوسط مقدار پانی کی سکھر بیراج پر موجود ہوتی ہے۔ سیلاب کے زمانے میں دگنی ہوجاتی ہے۔ ایسے حالات میں پانی کی زیادہ مقدار کا دباوَ بہرحال اثر دکھائے گا۔ 1942ء میں سکھر کے اوپر بند میں دونوں طرف شگاف پڑ گئے اور سیلاب نے آس پاس کے علاقوں کو گھیر کر وہی قدیم ڈراما پیش کیا۔ سکھر اور شکار پور کے شمال میں پانی کا ایک سمندر داخل ہو گیا اور تین چار میل چوڑے علاقے پر مغرب کی طرف پیش قدمی کرتا رہا۔ اس کے بعد جنوب کی طرف مڑ گیا اور اس طرح 180 میل کا سفر طے کرکے منجھر جھیل میں داخل ہو گیا۔ سکھر کے بیگاری بند کی تعمیر سے پہلے یہ سیلاب کا مخصوص علاقہ تھا۔ یہ سیلابی پانی راستہ کا نصف حصہ سارو ڈھنڈ سے آگے وادی کا نشیبی راستہ اختیار کرتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں دریائے سندھ کے پانیوں میں پہاڑیوں سے بہہ کر آنے والا پانی ملتا ہے۔ شمال کی طرف قدیم زمانے میں جو سیلاب دریائے سندھ کے دائیں کنارے سے شروع ہوتے تھے وہ بھی قریب قریب ایسا راستہ اختیار کرتے تھے۔ یہ کشمور سے تھوڑا نیچے کی طرف شروع ہوتے تھے۔ یہ عام طور پر کے مغرب میں بہتے تھے اور تقریباً اسی جگہ سے جہاں دریائی اور پہاڑی پانی کا میل ہوتا ہے یہ سیلاب گزرتے تھے۔ موہل کے نذدیک سیلاب اپنا راستہ قدرے تبدیل کرلیتا تھا اور جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے اسی راستے سے باگودیرو اور دوستالی کے درمیان میں جاملتا تھا۔ وہ نشیب جو سیلاب کا آخری نصف کہلاتا تھا کچھ عرصہ پہلے نشیب سندھ کے نام سے مشہور تھا۔ شمالی مغربی سندھ کے یہ دونوں سیلاب شمال اور مغرب میں واقع بہاڑیوں سے بہہ کر آنے والے پانی کے ریلے کی وجہ سے اور بھی وسعت اختیار کرلیتے تھے۔ شدید باریشیں بھی سندھ میں پانی کے کثیر ترین اخراج میں شامل ہوجاتی تھیں۔

آج کے سندھ میں زراعتی زمینیں بہت کم ہیں۔ کیوں کہ پانی بارش دریا کے سیلاب پر منحصر ہوتا۔ بارشیں سندھ میں کم ہوتی تھیں اور سیلاب دریائی علاقوں اور اس کی شاخوں کی نشیبی میں گزر چکا ہوتا تو زراعت کی جاتی تھی۔ اگرچہ دریا سندھ ایک بڑے درخت کی طرح اپنے شاخیں ہر طرف پھیلائے ہوئے تھا اور وہ اپنی شاخوں کے ذریعے زمینوں کو سیراب کرتا تھا۔ مگر پھر بھی بہت علاقے دریائی پانی کی پہنچ سے دور تھیں۔ سیلاب میں دریا کے کناروں سے نکلنے والا پانی ایک وسیع چادر کی بجائے اپنی سیلابی شاخوں میں سے گزرتا ہے اور ان کناروں سے باہر نکل کر مزید چھوٹی چھوٹی شاخوں میں پھیل جاتا تھا۔ ان کے بل کھاتے ہوئے راستے آج بھی ان قدرتی آبی گزرگاہیں کی نشادہی کرتے ہیں

سکھر شہر کی بلند عمارتوں میں جگہ جگہ مینار نظر آتے ہیں اور دریا پار روہڑی واقع ہے۔ یہاں درمیان میں بکھر کا جزیرہ ہے۔ جو ہمیشہ عسکری اہمیت حامل رہا ہے۔ ایک دوسرا جزیرہ جو ہندووَں کے مندر کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے سادھو بیلہ ہے۔ یہاں سے دریائے میں سے سات نہریں نکلتی ہیں۔ سکھر بیراج واقعی متاثر کن ہے۔ لیکن اس زیادہ متاثرکن یہاں دریائے سندھ کا چونے کی چٹانوں سے بنی ہوئی ایک تنگ گھاٹی سے گزرتا ہے جس کی چوڑائی محض آدھا میل ہے۔ سندھ کا قدیم دار الحکومت اروڑ موجودہ دریا کے مشرق میں واقع ہے۔ اس شگاف میں داخل ہونے سے پہلا دریا تقریباً بارہ میل پھیل جاتا ہے۔ مصدقہ شہادت کے مطابق سات سو سال سے یا اس سے بھی طویل زمانہ سے دریائے سندھ نے بکھر کے چولک کے راستہ کو برقرار رکھا ہوا ہے۔

ارضی مطالعہ میں یہ بات آئی ہے دریائے سندھ مختلف زمانوں سکھر کے شمال اور مغرب میں روہڑی کے جنوب اور مشرق میں بہتا رہا ہے۔ جہاں سے اب سندھ ڈھورو اور سندھ واہ گزرتے ہیں۔ قدیم وادی سندھ کے شہر موہنجودڑو ، لوہم جودڑو ، جانہوں جودڑو ، کوٹ آسور اور ڈجی جی ٹکری کا وجود ثابت کرتا ہے کہ وادی سندھ کی ان بستیوں کے زمانے میں دریائے سندھ کا بڑا چشمہ ضروری نہیں ایک ہی دھارے کی شکل میں بہتا ہو۔

سکھر بیراج سے دریا کچھ آگے بڑھتا ہے تو دریا کے مشرقی کنارے پر خیرپور کی ریاست تھی۔ جو اب پاکستان کا حصہ ہے۔ خیرپور کے سامنے دریا کے پار لاڑکانہ کا شہر آباد ہے۔ اس سے چند میل کے فاصلے پر دنیا کی ایک عظیم انشان تہذیب کے آثار ہیں۔ وسنٹ اسمتھ کا خیال تھا یہاں کانسہ کا دور کبھی آیا ہی نہیں۔ کیوں کہ موریہ عہد سے پہلے کے کوئی آثار دریافت ہی نہیں ہوئے تھے۔ مگر ان آثار کے دریافت ہونے کے بعد سارے نظریے ایک دم بدل گئے۔ 1925 ماہرین آثار قدیمہ نے اس شاندار دریافت کا اعلان کا اعلان کیا جس کا قدیم ادب میں کوئی ذکر ہی نہیں تھا۔ جس خاص کھنڈر دو شہروں کے تھے۔ ہر شہر دو اور تین ہزار قبل مسیح کے درمیان میں اپنے عروج کے زمانے میں ایک مربع میل تھے۔ اس میں جنوبی شہر سندھ موہنجوداڑو اور بالائی شہر ہڑپہ پنجاب میں راوی کے کنارے آباد تھے۔ ان شہروں کے مکان کئی منزلہ ٹھوس پختہ اینٹوں بنے تھے۔ ان میں رہائشی سہولتیں مثلاً پانی کی نکاسی غسل خانے اور بیت الخلا تھے۔ آبادی کا نقشہ لاجواب تھا۔ عمارتوں کے400 ضرب 200 گز کے مستطیل سلسلے تھے۔ جن میں وسیع سڑکیں اور عمدہ چھوٹی گلیاں تھیں۔ دنیا میں کہیں اور شہری آبادی ایسا انتظام نہیں ملا جو اس قدر پیچیدہ اور نفیس ہو۔ اتنے قدیم زمانے میں اسے ایک منصوبے کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ مصر کے شہر اس کے حکمرانوں لے کوہ پیکر مقبروں اور عظیم معبدوں کے مقابلے میں فن تعمیر کے لحاظ سے ہیچ تھے۔ سمریا ، عکاد بابل کے عظیم شہر بغیر کسی منصوبے کے بنتے چلے گئے۔ ان تمام شہروں کی سڑکیں روم ، لندن ، پیرس اور بعد کے ہندوستانی شہروں کی طرح بے ترتیبی کا نمونہ تھیں۔ جب کہ اس کے مقابلے وادی سندھ کے شہر ھیرت انگیر شہری منصوبہ بندی کا مظہر تھے۔ زاویہ قائمہ بناتی سیدھی سڑکیں ، پانی کی نکاسی کا اعلیٰ نظام جس کا شعور اٹھاویں صدی عیسوی تک یورپ میں پیدا نہیں ہوا تھا۔

سکندر سے پہلے دارا نے یہاں دریائے سندھ کے بارے میں اپنے یونانی سپہ سالار اسکالکس کو دریائے کابل کے راستے روانہ کیا تھا۔ پہلا یونانی مصنف کتیشاس ہے جس نے ایرانیوں کی معلومات کو جو سندھ کے بارے میں تھیں تفصیلی بیان پیش کیا تھا۔ اس میں اکثر بے سروپا باتیں ہیں۔ بعد کے دور میں یعنی سکندر کے مورخین ارسطو بلس ، ٹالمی ، سوءٹر اور نیرکس نے سندھ پر جو کچھ لکھا ہے وہ بھی باقی نہیں رہا۔ ہم تک جو تحریریں پہنچیں ہیں وہ حوالے ہیں جو یونانی اور رومی حوالے ہیں۔ یہ کافی بہتر ہیں مگر ان میں جغرافیائی معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اسٹرابو نے بھی سندھ کے بارے سن عیسوی کے ابتدائی بیس سالوں میں لکھا ہے۔

میگاس تھینیز جس نے سکندر کے حملہ کے بیس بائیس سال بعد ہندوستان کا سفر کیا تھا اور چندر گپت کے دربار میں طویل عرصہ تک رہا تھا۔ اس کا بیان ہے کہ دریائے سندھ نے ایک بہت بڑا جزیرہ بنالیا ہے۔ جو پراسیاں کہلاتا تھا۔ دوسرا چھوٹا جزیرہ پٹالہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس جزیرہ کے محل وقوع کے متعلق کریٹکس بیان کرتا ہے کہ میوسی کانس کو زیر کرنے کے بعد سکندر نے ان کے دار الحکومت میں فوج تعینات کردی تھی۔ اس کے بعد پراستھا قبیلے کے ملک میں اس نے پیش قدمی کی پورٹی کانس ان کا راجا تھا۔ پلانی نے اس جزیرے کو پراسیا کے نام سے ذکر کیا ہے۔ پلانی نے دریائے سندھ کی بہت شاخوں کا ذکر کیا ہے۔ ان میں سے ایک آربیٹا پہاڑ کی طرف جاتی ہے۔ سکندر کے ساتھیوں آریان اور دوسرے لوگوں نے اس شاخ کا زکر نہیں کیا ہے۔ آریان کے مطابق ڈیلٹا سے پہلے پٹالہ کا شہر تھا اور دونوں شاخیں سندھ کے نام سے پکاری جاتی تھیں۔ سکندر نے یہاں کی قلعہ بندی کو مستحکم کیا اور یہ علاقہ کا بے آب و بیان تھا۔

اس زمانے میں ڈیلٹا کی سمندری حدود کیا تھیں ہ میں اس بارے میں معلومات نہیں ہیں۔ لیکن اس وقت دریا کے بائیں شاخ گنجو ٹکر (حیدرآباد) کے مشرق میں بہتی تھی اور اس علاقہ میں مکلی کا پہاڑی سلسلہ ہے۔ جس کو دریائی مٹی کی ایک تین میل لمبی پٹی چٹانی زمین سے جدا کرتی ہے۔ جو عام طور پر کراچی اور راس موئز کیپ تک چلی گئی ہے۔ یہی وہ مغربی راستہ ہے جس سے دریائے سندھ گزر کر سمندر تک پہنچتا تھا۔ مکلی کی پہاڑیاں یا پیر پٹھو پہاڑیاں اس کا جنوبی سرا ہیں۔ کلوٹا یہاں شمال مشرق میں واقع ہوگا جو یعنی میرپور پٹھوڑو سے کس قدر جنوب میں ہے۔ اس وقت ڈیلٹا کی حدود مکلی کی پہاڑی اور پیر پٹھو سے آگے نہیں بڑھی تھی اور سمندر کی موجودہ حدود ابھن شاہ کی پہاڑی تھی اور مکلی کی پہاڑیوں کا جنوبی رخ تھا اور بائیں طرف کیچر بھرا ہوا تھا۔ اس جگہ جو دریائی مٹی کا میدان ہے وہ برائے نام سمندر سے بلند ہے اور ہوسکتا ہے دو ہزار سال کی پیداوار ہو۔ یہاں سے دس میل مغرب تک یعنی گھارو وہی میدان پھیلا ہوا ہے۔ یہاں جگہ جگہ مٹی کے ٹیلے اور ریت کی پہاڑیاں ابھری ہوئی ہیں۔ جس کی اوسط بلندی سمندر سے بیس فٹ سے زیادہ بلندی نہیں ہے۔ یونانیوں نے اندوسیتھیا کے نقشہ پر بہت سے شہروں کے نام بتائے ہیں مگر ان کی شناخت ممکن نہیں۔

ٹالمی کے مطابق دریائے سندھ اپنی شاخوں جو بڑا جزیرہ بنا رہا ہے وہ پراسیان ہے۔ چینی سیاح ہوانگ سانگ نے اپنے سفر نامہ میں سندھ کے جن مقامات اور معلومات درج کی ہیں وہ بہت حد تک قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔ ان کے نام اور محل وقوع درست نہیں ہیں جس سے پیچیدیگیاں پیدا ہوگئیں ہیں۔

آٹھویں صدی عیسی میں محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کیا۔ جس نے سندھ کی قسمت کا فیصلہ کر دیا۔ ان کا دار الحکومت منصورہ تھا جس کے کھنڈر شہداد پور سے گیارہ میل کے فاصلے پر ملے ہیں۔ بلازری کا بیان ہے اروڑ پہاڑی پر آباد ہے اور اسے وہ بکھرور کے ساتھ بھی بیان کرتا ہے۔ چچ نامہ بھی یہی کہتا ہے کہ بکھرور کا قلعہ مہران کے کنارے اروڑ کے بالکل بلمقابل تھا۔ اسطخری نے بکھرور کا ذکر نہیں کیا ہے۔

ارضی تحیقات کے مطابق تیسرے عہد میں سندھ سمیت شمالی ہندوستان کا بشتر علاقہ ٹیتھیا سمندر کے نیچے تھا۔ جس کی لہریں اس کوہ ہمالیہ سے لے کر کوہ وندھیا تک کے ساحل سے ٹکراتی تھیں۔ کسی زمانے میں کوہ ہمالیہ میں خوفناک زلزلے برپا ہونے سے زمین اوپر آگئی اور سمندر پیچھے ہٹ کر بہت دور چلا گیا۔ اس طرح یہاں زمین نمودار ہوئی۔ تیز ہوائیں اور طوفانوں کی بدولت یہاں ریت پھیل گئی۔ برساتوں یہ زمین جمتی گئی اور گرمی کی وجہ سے زمین پختہ ہو گئی۔ ایک طرف برسات اور دوسری دریاؤں کی لائی ہوئی مٹی کی وجہ سے زمین کاشت کے قابل ہو گئی۔ اس علاقہ کو دریائے سندھ نے رونق بخشی ہے۔ اس دریا نے اسی زمین کو پال پوس کر بڑا کیا۔ آج بھی زندگیوں کا مدار اس دریا پر ہے۔ جس کہ بغیر یہ علاقہ صحرا بن جاتا۔

رن کچھ اور تھر سمندر کے نیچے۔ کراچی اور حیدرآباد کے بشتر نشبی علاقے سمندر تلے اور کچھ علاقوں میں دریا بہتا تھا۔ ان میں شاہ بندر ، سجاول ، جھرک علاقہ تو حال ہی میں پانی سے نمودار ہوا ہے۔ شاہ بندر ، ٹھٹھہ اور جھرک کی پہاڑیاں ، کوٹی کی طرف سورجانو ، حیدرآباد کی گنجو ٹکر اور رنی کوٹ کی پہاڑیاں بھی نہیں تھیں۔ اگر ان میں کچھ ابھر آئیں تھیں تو یہ سمندر میں ایک جزیرے کی مانند تھیں جن کے چاروں طرف پانی تھا۔ اس لیے سندھ کا مغربی پہاڑی علاقہ پہلے آباد ہوا تھا۔ یہ قدیم حجری عہد یا پرانا پھتر والا زمانہ تھا اور اس وقت بشتر علاقوں میں برف جمی ہوئی تھی۔ جہاں کہیں برف نہیں تھی وہاں لوگوں کی آبادی تھی۔ یہ قدیم لوگ جنہیں گھر بنانا نہیں آتا تھا اکثر غاروں میں رہتے تھے۔ یہ لوگ کھیتی باڑی بھی نہیں جانتے تھے۔ یہ لوگ جنگلی اناج ، پھل اور جڑی بوٹیاں کھاتے تھے یا شکار پر ان کا گزارہ تھا۔

سرجان مارشل کا کہنا ہے کہ نئے حجری زمانے کے آثار سندھ میں لکی کی پہاڑیاں ، کھیرتھر کا پہاڑی سلسلہ اور روہڑی کے پہاڑی علاقہ میں ملے ہیں۔ لگتا ہے ٹھٹھہ سے سمندر پیچھے ہٹ جانے کی یہ میدان ظاہر ہوئے ہیں۔ اس وجہ سے نئے حجری زمانے میں لوگ یہاں رہنے لگے۔ اس زمانے میں نہ صرف سیوہن کا علاقہ آباد تھا بلکہ سندھ کے مشرق میں موجود پہاڑیاں یعنی ٹھٹہ ، جھرک کی بودھی پہاڑیاں اور انٹر پور سے روہڑی تک کی پہاڑیاں آباد تھیں۔

قدیم زمانے میں ٹھٹھہ سجاول کا بشتر حصہ سمندر ٹھا ٹھائیں مار رہا تھا۔ ان دنوں دریائے سندھ نصر پور کے پاس سے گزرتا تھا۔ 1758ء میں دریا نے اپنا راستہ تبدیل کرکے موجودہ راستہ اختیار کیا۔ اس سے پھیلیلی کے راستہ بہنا بند ہو گیا۔ لیکن جب دریانے یہاں رخ تبدیل کیا تو یہ میدان نمودار ہوا۔

پیر پٹھو سے جنوب مشرق میں ڈیڑھ میل لمبے اور آدھا میل چوڑے ٹکرے میں پہاڑیوں کا ایک مجموعہ ہے۔ ان میں اونچی پہاڑی جو ابن شاہ کے نام سے مشہور ہے صرف پچتر فٹ بلند ہے۔ یہ سندھ کے جنوب کی یہ آخری چٹان ہے اور اس میں کھڑدرے ریت کے پتھر موجود ہیں۔ سو سال سے زیادہ عرصہ گزرا ہے کہ دریائے سندھ پیر پٹھو اور ابن شاہ پہاڑیوں کے درمیان میں سے بہہ رہا تھا اور اس کا ڈیلٹا ابن شاہ سے چند میل کے فاصلے پر شروع ہوتا ہے۔

کلہوڑوں نے سندھ میں کئی شہر بسائے مگر وہ دریا کی نظر ہو گئے۔ 1768ء میں حیدرآباد کا شہر آباد کیا گیا۔ اس وقت تک دریا نے اپنی نئی گزرگا میں گنجو ٹکر کے مغرب میں مستقل طور پر بہنا شروع کر دیا۔ جب کہ حیدرآباد سے چند میل پہلے دریا کی ایک اور شاخ حیدرآباد کے مشرقی سمت سے گزرتی تھی اور یہ پھلیلی کے نام سے مشہور ہے۔ سترویں صدی میں اس ڈیلٹے کی بالائی نوک شاید موجودہ حیدرآباد سے تقریباً بیس میل جنوب مشرق میں بائیں شاخ جو رین ندی کے نام سے مشہور تھی۔ وہ گونی کنال کے راستے بدین سے ہوتی ہوئی رن کچھ کے مغربی سرے سے سمندر میں گرتی تھی۔ مشہور نہریں کلری ، بگھاڑ ، پنیاری اور ستو ماضی میں مختلف اوقات میں دریائے سندھ کی وہ شاخیں تھیں۔ جس نے دریائے سندھ کا زائد پانی سمندر میں پہنچتا تھا۔

عرب جغرافیہ دانوں کا کہنا ہے کہ دیبل بندگارہ اور ایک سمندری کھاری کے کنارے آباد تھا۔ یہاں دریائے سندھ کی سب سے بڑی شاخ گرتی ہے ہے۔ المسودی کے بیان کے مطابق دریائے سندھ دو شاخوں میں منقسم ہوکر سمندر میں گرتا تھا اور دونوں شاخیں ایک دوسرے سے بہت فاصلہ پر واقع تھیں۔ ایک دہانہ شہر لوہرانی کے پاس اور دوسری کچھ کی سرحد کے قریب۔ جہاں یہ سندھ ساگر کے نام سے مشہور تھی۔

البیرونی نے لکھتا ہے کہ ساحل ہند مکران کے مرکزی شہر تیز سے شروع ہوتا ہے۔ اس شہر اور دیبل کے درمیان میں خلیج توران (سون میانی) واقع ہے۔ خلیج کے بعد چھوٹا دھانہ آتا ہے اس بعد بڑا دہانہ آتا ہے۔ ان سے گزر کر بوارج آتا ہے اور رن کچھ کے سمندری قزاقوں سے گزر کر سومناتھ آتا ہے۔ یہاں صاف ظاہر ہے کہ دریائے سندھ کی دریائے سندھ کی مغربی یعنی داہنی شاخ چھوٹی اور مشرقی دوسری شاخ کی نسبت بڑی تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ منصورہ کے قریب دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے اور سمندر میں دو راستوں سے داخل ہوتا ہے۔ ایک شہر لوہانی کے قریب اور دوسرے مقام پر مزید مشرق کی طرف کچھ کے صوبہ میں سندھ ساگر کے نذدیک۔

چودھویں صدی کے وسط میں دریائے سندھ کی غربی شاخ دو حصوں میں منقسم تھی جو ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر تھے۔ اس کا دایاں حصہ مکلی پہاڑیوں کے شمال میں موجودہ کلری کینال کے راستے بہتا ہوگا اور بگھاڑ کنال کی گزرگاہ کو اختیار کیے ہوئے تھا۔ آگے چل کر دونوں حصہ متحد ہوکر ایک ہی شاخ بن جاتے تھے۔ ان دونوں کے درمیان میں جزیرہ گیا تھا ہو تقریباً ایک سو مربع میل کے رقبہ پر مشتمل تھا اور اس میں پہاڑیوں کا ایک پورا سلسلہ موجود تھا۔ یہاں تعلق آباد کا قلعہ ، ساموئی اور اس کے بعد ٹھٹھہ تعمیر ہوئے ہیں۔ دریائے سندھ کی کلری شاخ دو سو سال تک آبی نظام کا جزو بنی رہی اور 1519ء تک دریائے سندھ کا پانی اسی راستہ سے گزرتا تھا اس کے بعد بگھاڑ نے اہمیت حاصل کرلی۔

اٹھاویں صدی کے وسط میں دریائے سندھ کے بہاوَ میں تبدیلی کے نتیجے میں کلری شاخ ہمیشہ کے لیے معدوم ہو گئی۔ اس کے فوراً بعد بگھاڑ شاخ جس سے دریائی پانی کا بڑا حصہ گزرتا تھا ریت اور کیچر سے بھر کر پایاب ہو گئی اور چشمے کی زیادتی کے ساتھ جنوبی بھاوَ اختیار کر لیا اور بہت سی ایسی شاخیں جو بگھاڑ کے بائیں کنارے پر نکلتی تھیں انہیں کاٹتا ہوا بہتا تھا۔ یہ واضح نہیں آبی صورت حال میں یہ تبدیلی کیسے واقع ہوئی۔ شاید اس کا سبب 1819ء کا زلزلہ تھا جس نے کچھ کے علاقے میں بڑی تباہی مچائی تھی۔ اس کے نواحی علاقے میں بہت سی تبدیلیاں پیدا ہو گئی تھیں۔ کوری کریک جو پران اور ہاکڑ کے گرنے کی جگہ تھی اور بہت عرصہ سے پانی سے محروم تھی۔ لیکن زلزلہ نے اسے کافی گہرا اور چوڑا کر دیا تھا اور رن کچھ کا مغربی حصہ ایسی حثیت اختیار کرگیا کہ اس میں پہلے کی نسبت سمندری پانی زیادہ مقدار میں پہنچنے لگا۔ دریائے سندھ جب سمندر میں گرتا ہے تو یہ کئی شاخوں میں تقسیم ہوجاتا ہے اور سمندر میں پھیل کر گرتا ہے۔ اصل میں ڈیلٹا وہ عمل ہے جس میں دریا سمندر سے زمین حاصل کرتا ہے اور دریا کی شاخیں اس عمل نشادہی کرتی ہیں

دریا نے اپنی مٹی کو پھیلانے کے عمل سے ساحل سمندر کی زمین انچی کردی اور سمندر کو پیچھے دکھیل دیا ہے۔ چنانچہ سندھ کا پورا میدان ہی اس عمل سے وجود میں آیا ہے۔ سندھ دریا ڈیلٹا کی نمود اس وقت شروع کرتا ہے کہ جب سمندر کا پانی دریا کے پانی کے بہاوَ کی رفتار سست کو دیتا ہے اور جس کی وجہ سے دریا ساحلی علاقے میں وہ دو شاخوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ خیال رہے یہ سست رفتاری کا اثر ایک سو میل لمبی شاخوں سے زیادہ نہیں ہوسکتا ہے۔ میدانی علاقوں کی طرح دریائے سندھ ڈیلٹا کے علاقہ میں بھی اپنی گزرگاہوں کو بلند کرنے کا عمل جاری رکھتا ہے۔ یعنی یہ اپنی مٹی کو آخری مرحلہ میں کناروں پر پھیلاتا رہتا ہے اور یہ عمل خاصی تیزی سے جاری رہتا ہے۔ یہ عمل صرف سیلاب کے زمانے میں نہیں عام موسم میں بھی جاری رہتا ہے۔

اس لیے ڈیلٹا کی تخلقی پیش قدمی کے متعلق یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ کہ دریا کے دہانہ کے سامنے جتنا سمندر ہے وہ ہر مقام پر تھوڑا تھوڑا آگے بڑھ رہا ہے۔ صحیح صورت حال یہ ہے کہ مرکزی دہانہ کے سامنے زمین تیزی سے پیش قدمی کر رہی ہے۔ جب کہ شاخوں میں یہ پیش قدمی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ جتنا ساحلی حصہ ہے اور یقینا بیشتر وہی حصہ ہے۔ وہ اپنی جگہ قائم ہے یا مقامی طور پر زمین کے اندر تھوڑا بہت گھس جاتا ہے۔ اس کے بعد دریا اپنی مٹی کو اگلنے کے لیے دوسرا دھانہ استعمال کرنے لگتا ہے۔ دہانے کی اس تبدیلی سے پیش قدمی کا محل بدل جاتا ہے۔

دریائی ڈیلٹاؤں کے تخلقی عمل کو دلچسپی اور توجہ سے دیکھا جاتا ہے۔ دریائے سندھ میں سیلاب کے زمانے میں زیادہ سے زیادہ اخراج سالانہ چار لاکھ مکب فٹ فی سکینڈ ہے۔ سیلابی زمانے میں اس پانی کے اندر ملی ہوئی مٹی کا پانی میں تناسب ایک اور دو سو سیتس ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دریائے سندھ طغیانی کے ایک سو ایام مین تقریباً گیارہ کروڑ نوے لاکھ مکب گز مٹی سمندر تک لے جاتا ہے۔ یہ مقدار ارتیس مربع زمین کے لیے کافی ہوتی ہے۔ بشرطیکہ وہ ایک گز گہری ہو۔ لیکن بحیرہ عرب کا رد عمل جو مانسون کے زمانے ڈیلٹا کی تخلق میں بڑی حد تک اعتدال پیدا کر دیتا ہے۔ دس سال کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ اس عرصہ میں دریا نے ایک میل تک بڑھ سکتا ہے لیکن دریا کی شاخوں کے اضافہ سے وہ اضافہ نہ ہونے کے برابر کہا جاسکتا ہے۔

اس بات کی شہادت موجود ہے کہ نسبتاً تھوڑے زمانے میں زمین نے سمندر کے خاصے حصے پر قبضہ جمالیا ہے۔ مثال کے طور پر ہم جانتے ہیں کہ1873ء اور 1904ء کے درمیانی حصہ میں دریائے سندھ کے دھانے پر ستانوے مربع میل کا نیا علاقہ زمین میں شامل ہوا ہے اور اس اضافہ کا مرکزی حصہ وہ مرکزی جگہ ہے جو سمندر کے مقابل ہے۔ یہاں ابھی دریا کی وہ شاخیں سمندر میں گرتی ہیں جن سے دریا کے پانی کی بیشتر مقدار خارج ہوتی ہے۔ گھارو اور کوری کریک کے درمیان یہ نئی زمین ڈیلٹا کے ساحلی نصف دائرے سے نمایاں طور پر آگے نکلی ہوئی ہے۔ سمندر کی لہریں جو مسلسل زمین سے ٹکراتی رہتی ہیں وہ یقناً دریا کی نرم مٹی کو سخت اور مظبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سندھ کا میدان مجموعی طور پر دریائے سندھ کے عمل سے کس رفتار سے بلند ہوتا رہا ہے۔

دریائے سندھ کے میدان کا رقبہ مٹھن کوٹ میں پانچوں دریاؤں کے سنگم سے آخر تک بشمول ڈیلٹا کم از کم بیس ہزار مربع میل ہے۔ سندھ کا دیلٹا دریائے نیل سے بہت چھوٹا ہے۔ دریائے سندھ کے پانی میں ملی مٹی دریائے نیل کی مٹی سے تین گناہ زیادہ ہے۔ اس طرح دریائے نیل کا سیلابی اخراج سندھ کے مقابلے میں ایک تہائی زیادہ ہے۔ لہذا سندھ کا میدان جو دریا کی مٹی سے بنا ہے دگنا ہے۔ سندھ کا ڈیلٹا ہر صدی میں سات انچ بلند ہوتا رہا ہے۔ موہن جوڈورو کی کھدائی کے دوران میں اس بارے میں بہت مفید معلومات حاصل ہوئیں اور اب قیاس کی جاتا ہے کہ میدان کا وسطی حصہ جس میں گزشتہ پانچ ہزار سالوں سے دریائے سندھ نے اپنا بہاوَ جاری رکھا ہوا ہے تقریباً تیس فٹ بلند ہوا ہے۔ یعنیٰ ہر صدی میں اوسطاً سات انچ بلند ہوا ہے۔ یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ دریا سے ملحقہ علاقہ میں جہاں تقریباً سو سال سے مسلسل بہہ رہا ہے یہ سو سالہ بلندی تقریباً ایک فٹ ہے۔ دریا سے زیادہ فاصلہ پر یہ اوسط بتدیخ کم ہوتا جائے گا۔

سمندر میں دور تک دس میل کے فاصلے پر بھی دریائے سندھ کا پانی سرخی مائل بھورے پانی کی وجہ سے بحرہ عرب کے سبزی مائل نیلگوں پانی کا رنگ بدلا نظر آتا ہے۔ پانی کے نیچے ساحلی ریت کی دیواروں کے فوراً بعد ایک کھائی جسے سواچ کہا جاتا ہے وہ دریا کی گزرگاہ کو تقریباً پچاس میل براعظمی تہ کے اختتام تک جاتی ہے۔ اس کے دونوں طرف اتھلا سمندر ہے جو اس کی ابتدا میں صرف 100 فٹ گہرا ہے اور بتدریح گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔ سواچ کا پیندا تقریباً 2000 نیچے ہے۔ ہوسکتا ہے یہ کسی زلزلے کے نتیجے میں پیدا ہوا ہو۔ لیکن اس سے ملحقہ ہمالیائی علاقوں میں بھی زلزلے آتے رہتے ہیں۔ وہاں کوئی ایسا اثر دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس ساحل پر یہ سواچ ایک منفرد حثیت رکھتی ہے۔ دریائے سندھ جو دنیا کہ عظیم پہاڑوں کو کاٹ کر ہے اس نے سمندر کی تہ میں ایک بڑی گہری گھاٹی کھود ڈالی ہے۔

دریائے سندھ جو تبت میں سنگی کباب سے شروع ہوتا ہے اور تبت کی بلند و چھت قراقرم کے پہاڑوں سے ہوتے ہوئے دوسرے دریا اور نالوں کا پانی لیتا ہوابحیرہ عرب پہنچتا ہے۔ یہ زندگیوں کا سامان بھی پیدا کرتا ہے اور اپنے راہ میں آنے والوں پر موت بھی بخشتا ہے۔ اس نے نہ صرف شہروں کو بلکہ تہذیبوں کو بھی ملیامیٹ کر دیا۔ یہ وجہ ہے اسے کہیں سمندر ، کہیں دیوتا ، کہیں اڈرول لال اور کہیں یہ دریاؤں کا باپ کہلاتا ہے۔ اس نے اپنے سینے میں صدیوں کے سفر میں بہت سے راز پہناں رکھے ہوئے ہیں۔ یہاں تک جب سمندر کے پاس پہنچتا ہے تو بھی اس کی سرکشی ختم نہیں ہوتی ہے۔ یہ اپنی لائی مٹی سے سمندر سے زمین چھین کر سمندر کو پیچجے دھیل دیتا ہے اور سمندر میں اپنا راستہ بناتا ہوا بالآخر اس میں سماجاتا ہے۔

درہائے سندھ کا سفر جو اس نے تبت کہ سنگی کباب سے شروع کیا اور اٹھارہ سو میل کا سفر طہ کرکے بخیرہ عرب کے پانیوں میں اپنا اختتام کیا صدیوں سے جاری ہے اور صدیوں تک جارہی رہے اور یہ اپنا کام اچھی طرح جارہی رکھا ہوا ہے ، لوگوں کی زندگیوں کی بقا کا باعث بن رہا ہے۔




#Article 79: افغانستان (3682 words)


افغانستان وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا میں واقع ایک زمین بند ملک ہے۔ Dari: Afġānestān )، جس کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ افغانستان ہے۔ اس کے جنوب اور مشرق میں پاکستان، مغرب میں ایران، شمال مشرق میں چین، شمال میں ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان ہیں۔ اردگرد کے تمام ممالک سے افغانستان کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلق بہت گہرا ہے۔ اس کے بیشتر لوگ مسلمان ہیں۔ یہ ملک بالترتیب ایرانیوں، یونانیوں، عربوں، ترکوں، منگولوں، برطانیوں، روسیوں اور اب امریکہ کے قبضے میں رہا ہے۔ مگر اس کے لوگ بیرونی قبضہ کے خلاف ہمیشہ مزاحمت کرتے رہے ہیں۔ ایک ملک کے طور پر اٹھارویں صدی کے وسط میں احمد شاہ ابدالی کے دور میں یہ ابھرا اگرچہ بعد میں درانی کی سلطنت کے کافی حصے اردگرد کے ممالک کے حصے بن گئے۔ 

افغانستان کے پاس خود کفیل معیشت نہیں ہے اور نارکوٹیکا کی پیداوار پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ افغانستان دنیا کا سب سے غریب ملک ہے سوائے چند چھوٹے جزیرے کے ملکوں کے۔
سن 2000 قبل مسیح میں آریاؤں نے افغانستان کو تاراج کیا۔ پھر ایرانیوں نے ان سے چھین لیا۔ اس کے بعد یہ عرصہ تک سلطنت فارس کا حصہ رہا۔ 329 قبل مسیح میں اس کے کئی حصے ایرانیوں سے سکندر اعظم نے چھین لیے جس میں بلخ شامل ہے مگر یونانیوں کا یہ قبضہ زیادہ دیر نہ رہا۔

احمد شاہ درانی کو بجا طور پر افغانستان کا بانی کہا جا سکتا ہے۔ احمد شاہ درانی کو احمد شاہ ابدالی کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ جون 1747ء میں نادر شاہ قتل ہو گیا جس کے بعد لویہ جرگہ نے ابدالی قبیلہ کے احمد شاہ درانی کو سربراہ چن لیا۔ پہلے قندھار میں اپنی حکومت قائم کرنے کے بعد احمد شاہ درانی نے تمام تر قوت افغانستان کو ایک ملک بنانے پر صرف کی۔ درانی سلطنت میں موجودہ ایران، افغانستان، پاکستان اور بھارت کے کچھ علاقے شامل تھے۔ اس کی سلطنت میں ایران کے شہر مشہد سے لے کر کشمیر اور موجودہ بھارت کے شہر دہلی تک کے علاقے شامل تھے۔ احمد شاہ درانی کا ایک اہم کارنامہ جنوری 1761ء میں پانی پت کی تیسری جنگ میں مرہٹوں کو شکست دینا تھا۔ لیکن اس جنگ کے بعد سکھوں نے پنجاب میں اثر بڑھانا شروع کیا اور آہستہ آہستہ پنجاب کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ لیکن اس وقت تک افغانستان کو ایک مضبوط ملک کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ 1772ء تک احمد شاہ درانی اور اس کے بعد اس کی اولاد کی حکومت رہی۔ اس کی اولاد میں ایوب شاہ کو 1823ء میں قتل کر دیا گیا۔ بعد میں کابل کی حکومت محمد شاہ اور پھر 1826ء میں دوست محمد خان کے پاس چلی گئی۔

امیر دوست محمد خان، جس نے کابل کی حکومت 1826ء میں سنبھال لی تھی، نے روس اور ایران سے تعلقات پڑھانا شروع کیے کیونکہ سکھوں نے پنجاب پر قبضہ کر لیا تھا اور انگریزوں نے اپنی روایتی چالاکی کا ثبوت دیتے ہوئے سکھوں اور دھلی کے شاہ شجاع کے ساتھ مل کر افغانستان میں اپنا اثر پڑھانا شروع کیا۔ حالانکہ دونوں انگریزوں کے بظاہر دشمن تھے۔ شاہ شجاع کو انگریزوں نے کابل کے تخت کے سبز باغ دکھائے۔ اس زمانے میں روس اور برطانوی ھند میں کئی ہزار میل کا فاصلہ تھا اور وسطی ایشیاء کے شہروں مرو، خیوا، بخارا اور تاشقند کو مغرب میں زیادہ لوگ نہیں جانتے تھے مگر انگریز یہ جانتے تھے کہ روسی ان پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کو روکنے اور افغانستان میں اپنا اثر بڑھانے کے لیے انگریزوں کی مکارانہ جدوجہد کو 'عظیم چالبازیوں' (The Great Game) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
اس سلسلے میں انگریزوں نے دو جنگیں لڑیں۔ پہلی جنگ ( 1839ء-1842ء) اس وقت ہوئی جب ایرانیوں نے ھرات کے لوگوں کے ساتھ مل کر انگریزوں اور روسیوں کو افغانستان سے بے دخل کرنے کے لیے افواج پورے ملک میں روانہ کیں۔ انگریزوں نے کابل پر قبضہ کر کے دوست محمد خان کو گرفتار کر لیا۔ افغانیوں نے برطانوی فوج کے ایک حصے کو مکمل طور پر قتل کر دیا جو سولہ ہزار افراد پر مشتمل تھی۔ صرف ایک شخص زندہ بچا۔ انگریز مدتوں اپنے زخم چاٹتے رہے۔ اسی وجہ سے مجبوراً انگریزوں نے دوست محمد خان کو رہا کر دیا۔ بعد میں دوست محمد خان نے ھرات کو بھی فتح کر لیا۔ دوسری جنگ (1878ء-1880ء) اس وقت ہوئی جب امیر شیر علی نے برطانوی سفارت کاروں کو کابل میں رہنے کی اجازت نہ دی۔ اس جنگ کے بعد انگریزوں کے ایما پر 1880ء میں امیر عبدالرحمٰن نے افغانستان کا اقتدار حاصل کیا مگر عملاً کابل کے خارجی معاملات انگریزوں کے ہاتھ میں چلے گئے۔

اسی اثر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انگریزوں نے افغانستان کے ساتھ سرحدوں کے تعین کا معاہدہ بھی کیا۔ امیر عبدالرحمٰن کے بیٹے امیر حبیب اللہ خان بعد میں افغانستان کے بادشاہ ہوئے۔ ان کے دور میں افغانستان میں مغربی مدرسے کھلے اور انگریزوں کا اثر مزید بڑھ گیا۔ اگرچہ بظاہر انگریزوں نے افغانستان کو ایک آزاد ملک کے طور پر تسلیم کیا۔ 1907ء میں امیر حبیب اللہ خان نے انگریزوں کی دعوت پر برطانوی ھند کا دورہ بھی کیا۔ اسی مغربی دوستی اور اثر کی وجہ سے امیر حبیب اللہ خان کو اس کے رشتہ داروں نے 20 فروری 1919ء کو قتل کر دیا۔ اس کے قتل کے بعد اس کا بیٹا امان اللہ خان بادشاہ بن گیا اور انگریزوں کے خلاف جنگ چھیڑ دی مگر 19 اگست 1919ء کو اس کے اور انگریزوں کے درمیان میں راولپنڈی میں ایک معاہدہ ہوا جس میں انگریزوں نے افغانستان پر اپنا کنٹرول ختم کیا اور افغانستان میں ان کا اثر تقریباً ختم ہو گیا۔ 19 اگست 1919ء کو اسی وجہ سے افغانستان کی یومِ آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔

امان اللہ خان (دورِ اقتدار: 1919ء-1929ء) نے افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد اصلاحات کیں اور مغربی دنیا سے تعلقات قائم کیے۔ اصلاحات میں بنیادی تعلیم کا لازمی قرار دینا اور مغربی طرز کی دیگر اصلاحات شامل تھیں۔ اس نے 1921ء میں افغانستان میں ہوائی فوج بھی بنائی جس کے جہاز روس سے آئے لیکن افواج کی تربیت ترکی اور فرانس سے کروائی گئی۔ 1927ء میں امان اللہ خان نے یورپ اور ترکی کا دورہ بھی کیا جس میں اس نے مغربی مادی ترقی کا جائزہ لیا اور افغانستان میں ویسی ترقی کی خواہش کی مگر جب اس نے کمال اتاترک کی طرز پر پردہ پر پابندی لگانے کی کوشش کی تو قبائل میں بغاوت پھوٹ پڑی اور افغان اس کے سخت خلاف ہو گئے۔ شنواری قبائل نے نومبر 1928ء میں جلال آباد سے بغاوت شروع کی اور دوسرے لوگوں کو ساتھ ملا کر کابل کی طرف بڑھنے لگے۔ شمال سے تاجک کابل کی طرف بڑھنے لگے۔ امان اللہ خان پہلے قندھار بھاگا اور فوج تیار کرنے کی کوشش کی مگر ناکام ہوا جس کے بعد وہ بھارت فرار ہو گیا۔ وہاں سے پہلے اطالیہ اور بعد میں سوئٹزرلینڈ میں پناہ لی جہاں 1960ء میں وفات پائی۔ اس بغاوت کے دوران میں جنوری 1929ء میں حبیب اللہ کلاکانی عرف بچہ سقا نے کابل پر قبضہ کیا اور حبیب اللہ شاہ غازی کے نام سے حکومت قائم کی مگر اکتوبر 1929ء میں جنرل نادر خان کی فوج نے کابل کو گھیر لیا جس پر بچہ سقا فرار ہو کر اپنے گاؤں چلا گیا۔ جنرل نادر خان کو انگریزوں کی مکمل حمایت حاصل تھی جنہوں نے اسے ہتھیار اور پیسہ دیا تھا۔ اس کے علاوہ انگریزوں نے جنرل نادر خان کو ایک ہزار افراد کی فوج بھی تیار کر کے دی تھی جو وزیرستانی قبائلیوں پر مشتمل تھی۔ نادر خان نے قرآن کو ضامن بنا کر اس کو پناہ اور معافی دی مگر جب وہ کابل آیا تو اسے قتل کروا دیا۔

نادر خان (دورِ اقتدار: 1929ء۔ 1933ء ) جو امان اللہ خان کا رشتہ دار تھا اس نے نادر شاہ کے نام سے 1929ء میں افغانستان کا تخت سنبھالا۔ مگر 1933ء میں کابل کے ایک طالب علم نے اسے قتل کر دیا جس کے بعد اس کے انیس سالہ بیٹے ظاہر شاہ بادشاہ بن گیا۔ ظاہر شاہ (دورِ اقتدار: 1933ء۔ 1973ء ) نے چالیس سال تک افغانستان پر حکومت کی۔ وہ افغانستان کا آخری بادشاہ تھا۔ اس نے کئی وزیر اعظم بدلے جن کی مدد سے اس نے حکومت کی۔ جن میں سے ایک سردار محمد داؤد خان (المعروف سردار داؤد) تھا جو اس کا کزن تھا۔ سردار داؤد نے روس اور بھارت سے تعلقات بڑھائے۔ اسے پاکستان سے نفرت تھی۔ پاکستان سے تعلقات کی خرابی کی وجہ سے افغانستان کو اقتصادی مشکلات ہوئیں تو سردار داؤد کو 1963ء میں استعفی دینا پڑا۔ مگر سردار داؤد (دورِصدارت: 1973ء-1978ء) اس نے دس سال بعد 17 جولائی 1973ء کو ایک فوجی بغاوت میں افغانستان پر قبضہ کر لیا۔ اس بغاوت کو روس (اس وقت سوویت یونین) کی مدد حاصل تھی۔ ظاہر شاہ فرار ہو کر اطالیہ چلا گیا۔ 27 اپریل 1978ء کو سردار داؤد کو ایک اور بغاوت میں قتل کر دیا گیا۔ اور نور محمد ترہ کئی صدر بن گیا۔ اس بغاوت کو بھی روس کی مدد سے ممکن بنایا گیا۔ اس حکومت نے کمیونزم کو رائج کرنے کی کوشش کی اور روس کی ہر میدان میں مدد لی جن میں سڑکوں کی تعمیر سے لے کر فوجی مدد تک سب کچھ شامل تھا۔ روس کی یہ کامیابی امریکہ کو کبھی پسند نہیں آئی چنانچہ سی آئی اے (CIA) نے اسلامی قوتوں کو مضبوط کرنا شروع کیا۔ جس سے ملک میں فسادات پھوٹ پڑے۔ نتیجتاً 1979ء میں روس نے افغانستان کی حکومت کی دعوت پر افغانستان میں اپنی فوج اتار دی اور عملاً افغانستان پر اسی طرح روس کا قبضہ ہو گیا جس طرح آج کل امریکہ کا قبضہ ہے۔

روس کی کمیونسٹ پارٹی نے کمال اتا ترک کی طرز پر غیر اسلامی نظریات کی ترویج کی مثلاً پردہ پر پابندی لگانے کی کوشش کی۔ یہ تبدیلیاں افغانی معاشرہ سے بالکل مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ افغانستان میں حالات جب بہت خراب ہو گئے تو افغانی کمیونسٹ حکومت کی دعوت پر روس نے اپنی فوج افغانستان میں اتار دی۔ 25 دسمبر، 1979ء کو روسی فوج کابل میں داخل ہو گئی۔ افغانستان میں مجاہدین نے ان کے خلاف جنگ شروع کر دی۔ امریکہ نے ان مجاہدین کو خوب مدد فراہم کی مگر امریکا کا مقصد اسلام کی خدمت نہیں بلکہ روس کے خلاف ایک قوت کو مضبوط کرنا تھا۔ امریکہ کو پاکستان کو بھی ساتھ ملانا پڑا۔ پاکستان کی مذہبی جماعتوں کو بھی امریکا نے روس کے خلاف استعمال کیا۔ افغان مجاہدین اسلام سے مخلص تھے مگر امریکا انھیں اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتا رہا۔ مگر جب امریکا کو ان کی ضرورت نہ رہی تو وہی مجاہدین امریکی اور پاکستانی زبان میں دہشت گرد کہلانے لگے۔ امریکی سی آئی اے، پاکستان، امریکہ اور سعودی عرب نے اس دوران میں اپنا اپنا کردار ادا کیا جس میں ان ممالک کے کچھ مفادات مشترک تھے اور کچھ ذاتی۔ اس جہاد کا نتیجہ یہ نکلا کہ روس کو 1989ء میں مکمل طور پر افغانستان سے نکلنا پڑا بلکہ بعض دانشوروں کے خیال میں روس کے ٹوٹنے کی ایک بڑی وجہ یہی تھی۔افغانستان میں ، بچہ بازی قومی کھیل ہے جو افغانستان کے سیاستدانوں کے لئے یہ بہت خوشگوار ہے.

اس سلسلے میں روس، افغانستان اور پاکستان کے درمیان میں 1988ء میں جنیوا معاہدہ ہوا تھا۔

روس نے افغانستان سے فوج نکالنے کے بعد بھی اس وقت کی نجیب اللہ حکومت کی مدد جاری رکھی مگر 18 اپریل، 1992ء کو مجاہدین کے ایک گروہ نے جنرل عبدالرشید دوستم اور احمد شاہ مسعود کی قیادت میں کابل پر قبضہ کر لیا اور افغانستان کو اسلامی جمہوریہ بنانے کا اعلان کر دیا۔ مگر امریکا اسلحہ کی مدد سے مجاہدین کے مختلف گروہوں کے درمیان میں اقتدار کے حصول کے لیے خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ اس وقت ایک اسلامی جہادی کونسل بنائی گئی جس کی قیادت پہلے صبغت اللہ مجددی اور بعد میں برہان الدین ربانی نے کی مگر مجاہدین کی آپس کی لڑائی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ بیرونی طاقتوں نے پشتو اور فارسی بولنے والوں کی باہمی منافرت کا خوب فائدہ اٹھایا۔ اس وقت کی حکومت میں پشتونوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی جس سے ان میں شدید احساسِ محرومی پیدا ہوا۔ پاکستان اور افغانستان کے کچھ علما نے مدرسوں کے طلبہ کو منظم کرنا شروع کیا جن کو بعد میں طالبان کہا جانے لگا۔ پاکستانی فوج کے جنرل نصیر اللہ بابر طلبہ کو استعمال کرنے کے خیال کے بانی تھے۔ 1996ء میں طالبان کے رہنما ملا محمد عمر نے کابل پر قبضہ کیا۔ انھوں نے افغانستان کو اسلامی امارت قرار دیا اور طالبان نے انھیں امیر المومنین تسلیم کر لیا۔ طالبان نے 2000ء تک افغانستان کے پچانوے فی صد علاقے پر قبضہ کر کے ایک اسلامی حکومت قائم کی۔ اس زمانے میں افغانستان میں نسبتاً امن قائم رہا اور پوست کی کاشت بھی نہ ہوئی۔ طالبان کو بجز پاکستان اور سعودی عرب کے کسی نے تسلیم نہ کیا اور مغربی دنیا نے شمالی اتحاد کی مدد جاری رکھی جو افغانستان کے شمال میں کچھ اختیار رکھتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک خالص اسلامی حکومت مغربی دنیا اور بھارت کو ہرگز قبول نہ تھی۔ یاد رہے کہ طالبان سے پہلے بھارت کو افغانستان میں خاصا عمل دخل تھا۔ طالبان کے دور میں پاکستان کا اثر افغانستان میں بڑھ گیا اور پچاس سال میں پہلی دفعہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر ایک طرح سے دوستانہ امن قائم رہا۔ مگر پاکستان نے طالبان کے خلاف امریکہ کی مدد کر کے نہ صرف طالبان کا اعتماد کھویا بلکہ ایک پاکستان دشمن اور بھارت دوست حکومت افغانستان میں قائم ہو گئی۔

طالبان کے دور میں کچھ ایسے لوگوں نے افغانستان میں اپنے اڈے بنائے جو پہلے امریکا کے منظورِ نظر تھے مگر جب امریکا کو ان کی ضرورت نہ رہی تو وہ یکایک امریکا کی نظر میں دہشت گردوں میں تبدیل ہو گئے۔ ان میں اسامہ بن لادن اور اس کے حواری شامل تھے۔ جو افغان میں روس کے خلاف جہاد میں سرگرم تھے۔ 11 ستمبر 2001ء کے عالمی تجارتی مرکز ( ورلڈ ٹریڈ سنٹر) کے حادثے کا الزام اسامہ بن لادن اور القاعدہ پر لگایا گیا۔ ان لوگوں کو طالبان نے پناہ دے رکھی تھی اور افغانی روایات کے مطابق انھیں دشمن کے حوالے نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس بہانے 7 اکتوبر، 2001ء کو امریکا نے افغانستان پر پاکستان کی مدد سے حملہ کر دیا اور افغانستان پر قبضہ کر لیا۔
امریکا نے بعد میں عراق پر بھی قبضہ کیا جس سے سوچا جا سکتا ہے کہ ایک تو اس نے عراق پر حملہ سے پہلے افغانستان میں ایسی حکومت کو ختم کیا جہاں سے ممکنہ مدد عراق کو جہاد کے نام پر مل سکتی تھی۔ دوسرے افغانستان اور عراق پر قبضہ کر کے اور پاکستان کو دباؤ میں رکھ کر امریکا نے ایران اور کسی حد تک اسلام کے مرکز سعودی عرب کو گھیرے میں لے لیا۔ خلیج فارس میں اتنی زیادہ امریکی بحری طاقت قائم ہو گئی جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
امریکی ایما پر جرمنی کے شہر بون میں ایک افغانی حکومت کا قیام عمل میں آیا جس کے سربراہ حامد کرزئی تھے۔ 9 اکتوبر، 2004ء کو حامد کرزئی کو افغانستان کا صدر چن لیا گیا۔
موجودہ حالات یہ ہیں کہ حامد کرزئی کی کٹھ پتلی حکومت قائم ہے۔ افغانستان میں امریکی اور اتحادی فوج تاحال موجود ہے جو افغانستان کی اصل حاکم ہے۔ بھارت کا اثرو رسوخ افغانستان میں بہت زیادہ ہوچکا ہے۔ یہاں تک کہ بھارت اور امریکا پاکستان کے صوبے بلوچستان جیسے علاقوں میں پرتشدد کارروائیوں اور دہشت گردی کو خوب فروغ دے رہے ہیں۔

افغانستان چاروں طرف سے خشکی سے گھرا ہوا ملک ہے جس کا کوئی ساحلِ سمندر نہیں۔ اس کی سمندری تجارت اسی لیے پاکستان کے ذریعے ہوتی ہے۔ زیادہ علاقہ پہاڑی ہے جو زیادہ تر کوہ ہندوکش پر مشتمل ہے۔ افغانستان میں پانی کی شدید کمی ہے اگرچہ چار دریا ہیں جن کے نام دریائے آمو، دریائے کابل، دریائے ہلمند اور ھریرود ہیں۔ اونچا ترین مقام نوشک ہے جو 24,557 فٹ بلند ہے اور ترچ میر کے بعد کوہ ہندوکش کا دوسرا اونچا پہاڑ ہے۔ سطح سمندر سے سب سے کم بلند علاقہ (پست ترین مقام) دریائے آمو ہے جو صرف 846 فٹ بلند ہے۔

افغانستان کی جغرافیائی سرحد 5529 کلومیٹر لمبی ہے جس میں سب سے زیادہ علاقہ (2,640 کلومیٹر) پاکستان کے ساتھ لگتا ہے۔ %12 علاقہ زراعت کے قابل ہے مگر صرف %0.22 علاقہ زیرِ کاشت ہے۔ چونکہ زیادہ علاقہ پہاڑی ہے اس لیے زلزلے کثرت سے آتے ہیں۔ افغانستان کے علاقے میں سونا، چاندی، کوئلہ، تانبا، کانسی، کرومائیٹ، زنک، سلفر، لوہا، قیمتی پتھر اور نمک پائے جاتے ہیں۔ تیل کے بھی وسیع ذخائر ہیں۔ یہ تمام قدرتی وسائل مسلسل جنگ کی وجہ سے کبھی استعمال نہیں ہو سکے۔ افغانستان کا موسم شدید ہے یعنی گرمیوں میں شدید گرمی اور سردیوں میں شدید سردی ہوتی ہے مگر سردیاں زیادہ شدید ہیں۔ کابل میں دو سے تین ماہ برف پڑی رہتی ہے۔ جلال آباد اور اس سے نیچے کا موسم نسبتاً گرم ہے۔ زیادہ بارشیں گرمیوں میں ہوتی ہیں جب برصغیر میں مون سون ہوتا ہے۔

افغانستان دنیا کے غریب ترین ممالک میں شامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ روس اور امریکا کی کشمکش اور اس علاقے میں ان کے مزموم مقاصد ہیں۔ افغانستان مسلسل جنگ کا شکار رہا ہے اور اسے معاشی ترقی کی مہلت ہی نہیں ملی۔ افغانستان کی خاصی آبادی ایران اور پاکستان کو ہجرت کر گئی تھی جن میں سے کچھ اب واپس آنا شروع ہوئے ہیں مگر ہجرت نے ان کی معیشت کو تباہ کر دیا ہے اور نئی پود کو پڑھنے لکھنے اور کوئی ہنر سیکھنے کے مواقع بھی کم ہی ملے ہیں۔ افغانستان میں جن لوگوں نے ہجرت نہیں بھی کی انھیں جنگ نے مصروف رکھا۔ مجبوراً اسلحہ کی تجارت، جنگ بطور سلسلہ روزگار اور افیم و پوست کی تجارت ہی ان کا مقدر بنی۔ ایک بڑی تعداد سمگلنگ سے بھی وابستہ ہوئی۔ بہت معمولی تعداد پوست کے علاوہ دوسری اجناس بھی کاشت کرتی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بنک کے مطابق 2001ء کے بعد معیشت نے خاصی ترقی کی ہے مگر اس سلسلے میں کوئی قابلِ اعتماد اعدادوشمار نہیں ملتے۔ البتہ افغانستان سے باہر رہنے والے افغانیوں نے اب کچھ سرمایہ کاری شروع کی ہے مثلاً 2005ء میں دبئی کے ایک افغانی خاندان نے ڈھائی کروڑ ڈالر سے کوکا کولا کا ایک پلانٹ افغانستان میں لگایا ہے۔ افغانستان کو ابھی غیر ملکی امداد پر انحصار کرنا پڑتا ہے اور2006ء میں زرِ مبادلہ کے بیرونی ذخائر صرف پچاس کروڑ امریکی ڈالر کے لگ بھگ تھے۔ افراطِ زر افغانستان کا ایک بنیادی مسئلہ رہا ہے اور افغانی روپیہ کی قیمت بھی مسلسل گرتی رہی ہے مگر اب حالات کچھ بہتر ہیں۔ 2003ء کے بعد 14 نئے بنک بھی کھلے ہیں جن میں کئی غیر ملکی بنک بھی شامل ہیں۔ کابل کی ترقی کے لیے بھی نو ارب امریکا ڈالر مہیا کیے گئے ہیں۔ افغانستان کئی بین الاقوامی اداروں کا رکن ہے اور حال ہی میں سارک (SAARC) کا رکن بھی بنا ہے۔ ایک اہم پیش رفت قدرتی گیس کی دریافت ہے جس کا استعمال اور فروخت بڑے پیمانے پر شروع ہونے کی امید ہے۔

افغانستان میں صوبے کو ولایت کہتے ہیں مثلاً ولایت بدخشان۔ افغانستان کو کل چونتیس ولایات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جن کے نام نیچے دیے گئے ہیں۔

افغانستان کے مرکزی ادارہ برائے شماریات کے مطابق آبادی کے حساب سے 2006ء میں افغانستان کے بارہ بڑے شہر درج ذیل ہیں۔ آبادی بھی ان کے ساتھ دی گئی ہے۔

افغانی ثقافت کی تین اہم بنیادیں ہیں۔ ایرانی ثقافت، پشتون ثقافت اور اسلام۔ اس میں اسلام کا اثر سب سے زیادہ ہے۔ افغانیوں کے لیے ان کا ملک، قبیلہ سے وفاداری، مذہب، اپنا شجرہ نسب اور سب سے بڑھ کر آزادی بہت اہم ہیں۔ مذہب کے ساتھ ساتھ شاعری اور موسیقی بھی ان کی زندگی میں اہمیت رکھتے ہیں۔ افغانستان ایک تاریخ رکھتا ہے جس کے نشان جابجا آثارِ قدیمہ کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ بز کشی ان کا قومی کھیل ہے جو پولو سے ملتا جلتا ہے۔ اگرچہ تعلیم کی شرح کم ہے مگر قرآن و مذہب کی تعلیم اور شاعری خصوصاً قدیم فارسی شاعری ان کی زندگی اور خیالات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ افغانستان کی سرزمین کو قدیم زمانے میں خراسان بھی کہا جاتا تھا۔ اب خراسان ایران کے ایک حصے کو کہا جاتا ہے مگر یہ دونوں علاقے (ایرانی اور افغانی خراسان) تاریخی طور پر ہمیشہ متعلق رہے ہیں۔ افغانی خراسان نے بڑے اہم لوگوں کو جنم دیا ہے جن کو عام لوگ عرب سمجھتے ہیں۔ مثلاً امام ابو حنیفہ کے قریبی اجداد کا تعلق افغانستان سے تھا۔ اسی طرح بو علی سینا جسے اسلامی اور مغربی دنیاؤوں میں اپنے وقت کا سب سے بڑا طبیب اور حکیم گردانا جاتا ہے، کا تعلق بلخ سے تھا۔ بو علی سینا کے والد نے عرب کو ہجرت کی تھی۔ مولانا رومی کی پیدائش اور تعلیم بھی بلخ ہی میں ہوئی تھی۔ مشہور فلسفی ابو الحسن الفارابی کا تعلق افغانستان کے صوبہ فاریاب سے تھا۔ پندرہویں صدی کے مشہور فارسی صوفی شاعر نور الدین عبد الرحمٰن جامی کا تعلق افغانستان کے صوبہ غور کے گاؤں جام سے تھا۔ 
افغانستان کے کھانے بھی لاجواب ہوتے ہیں جن میں سے افغانی یا کابلی پلاؤ، خمیری روٹی اور تکے کباب شاید دنیا میں اپنی قسم کے مزیدار ترین کھانوں میں شامل ہیں جو دیگر علاقوں میں بھی مقبول ہیں۔
مذہب کو افغانستان میں بہت اہمیت حاصل ہے اور ان کی چار اہم چھٹیاں عیدالفطر، عیدالاضحیٰ، عاشورہ اور عید میلاد النبی  مذہبی نوعیت کی ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان کا یومِ آزادی ( 19اگست) اور نوروز (21 مارچ) بھی چھٹیوں میں شامل ہیں۔

نسلاً لوگ پشتون، تاجک، ھزارہ، ایمک، ازبک، ترکی، بلوچی،کھوار زبان بولنے والی قوم کھو اور دیگر لوگ بھی آباد ہیں۔ دیگر لوگوں میں نورستانی، پشائی، براھوی وغیرہ شامل ہیں۔

افغانستان میں %64 لوگوں کی پشتو اور %14 لوگوں کی دري مادري زبان ہے اور باقی %20 فیصد لوگ ازبک، ترکمن، نورستانی، بلوچی وغیرہ بولتے ہیں۔ نورستانی اور بلوچی سمیت تیس کے قریب علاقائی زبانیں ہیں جو چار فی صد کے قریب لوگ بولتے ہیں۔ جنگ اور ہجرت کی وجہ سے افغانی اب اردو بھی بخوبی سمجھتے ہیں۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جس میں دو یا زیادہ زبانیں جاننا ایک عام بات ہے۔ پشتو بولنے والے لوگوں کے علاقے زیادہ تر پاکستانی سرحد سے قریب ہیں۔ یعنی ملک کے جنوب مشرق اور جنوب میں ہیں۔

افغانستان کے %99 لوگ مسلمان ہیں جن میں سنی مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ ایک لاکھ کے قریب ہندو اور سکھ بھی ہیں جو کابل، قندھار اور جلال آباد سے تعلق رکھتے ہیں۔




#Article 80: سرحد (ممالک) (268 words)


دیگر معانی کے لیے یہاں ٹِک کیجئے.

سرحد (border) کسی حکومت یا ریاست وغیرہ کے زمینی کنارے یا حد کو کہاجاتا ہے۔ 
ماضی میں سرحد کسی حکومت یا ریاست کا مکمل طور پر طے شدہ خط نہیں تھا بلکہ یہ ایک غیر جانبدار خطہ ہوا کرتا تھا جسے گشتی جگہ کہاجاتا تھا۔ گشتی جگہ پر دو متصل ممالک کے فوجی گشت کیا کرتے تھے۔ گشتی جگہ کا تصوّر اب ایک مکمل طور پر طے شدہ اور نشان زدہ سرحد میں تبدیل ہوچکا ہے۔ 
ہوائی اڈّوں اور بندرگاہوں کو بھی سرحد تصوّر کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر ممالک میں ایک مروّجہ نظام کے تحت سرحد پر لوگوں، جانوروں اور دوسری چیزوں کی آمد و رفت کو قابو میں رکھا جاتا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق ہر ملک کو اپنے طور پر سرحدی شرائط نافذ کرنے کا حق حاصل ہے۔ کسی بھی ملک کے سرحد کو پار کرنے کے لیے اُس ملک کے سرحدی شرائط پورے کرنے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ شرائط پورے نہیں کرتا، اُسے سرحد پار کرنے کی اِجازت نہیں دی جاتی۔ 
گزرنامہ(passport) اور ویزا (visa) بھی کئی ممالک کے سرحدات کو پار کرنے کے لیے ضروری دستاویزات ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی غیر ملک کے سرحدات کے اندر رِہ کر قیام یا کام کرنا چاہتا ہے تو اِس کے لیے اُسے خصوصی ہجرتی دستاویزات (immigration documents) یا اجازت نامے (permit) کی ضرورت ہوتی ہے۔ 
اجناس (goods) کو سرحد کے آرپار لے جانے پر محصول (tax) دینا پڑتا ہے۔ اجناس یا دوسری چیزوں جیسے انسان اور جانور وغیرہ کا سرحد کے آرپار خفیہ طور پر لے جانے کو سمگلنگ کہاجاتا ہے جو غیر قانونی ہے۔




#Article 81: ایران (1016 words)


اسلامی جمہوریۂ ایران (عرف عام: ایران، سابق نام: فارس، موجودہ فارسی نام: جمہوری اسلامی ایران) جنوب مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے، جو مشرق وسطی میں واقع ہے۔ ایران کی سرحدیں شمال میں آرمینیا، آذربائیجان اور ترکمانستان، مشرق میں پاکستان اور افغانستان اور مغرب میں ترکی اور عراق (کردستان علاقہ) سے ملتی ہیں۔ مزید برآں خلیج فارس اور خلیج عمان واقع ہیں۔ 

اسلام ملک کا سرکاری مذہب اور فارسی قومی زبان ہے اور اس کے سکے کو ریال کہتے ہیں۔ فارسوں، آزربائیجان، کردوں (کردستانی) اور لروں (لرستانی) ملک میں سب سے زیادہ اہم نسلی گروہ ہیں ۔
ایران کا دار السلطنت تہران ہے جو کوہ البرج کے قریب واقع ہے۔
ایران جغرافیائ اعتبار سے بہت اہم ہے قدرتی گیس, تیل اور قیمتی معدنیات اس کےدامن میں پوشیدہ ہیں۔
رقبہ کے اعتبار سے دنیا میں 17ویں نمر پر شمار کیا جاتا ہے
ایران دنیاکی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ ملک کی تاریخ ہزاروں سالوں پر محیط ہےجو مدائن سلطنت ٦٧8 ق.م سے لے کرصفوی اور پہلوی سلطنت تک پھیلی ہوئی ہے۔یہ ملک اپنے تہذیب تمدن کے اعتبار سے ایشیا میں تیسرے اور دنیا میں گیارہویں درجے پر قابض ہے. یورپ اور ایشیا کے وسط میں ہونے کے باعث اس کی تاریخی اہمیت ہے۔ ایران اقوام متحدہ، غیر وابستہ ممالک کی تحریک (نام)، اسلامی کانفرنس تنظیم (او آئی سی) اور تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) کا بانی رکن ہے۔ تیل کے عظیم ذخائر کی بدولت بین الاقوامی سیاست میں ملک اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔ لفظ ایران کا مطلب آریاؤں کی سرزمین ہے۔

ایران مشرق وسطی میں واقع ہے۔ اس کے شمال میں آرمینیا، آذربائیجان، ترکمانستان اور بحیرہ قزوین، مشرق میں افغانستان اور پاکستان، جنوب میں خلیج فارس اور خلیج اومان جبکہ مغرب میں عراق اور ترکی واقع ہیں۔ ملک کا وسطی و مشرقی علاقہ وسیع بے آب و گیاہ صحراؤں پر مشتمل ہے جن میں کہیں کہیں نخلستان ہیں۔ مغرب میں ترکی اور عراق کے ساتھ سرحدوں پر پہاڑی سلسلے ہیں۔ شمال میں بھی بحیرہ قزوین کے ارد گرد زرخیز پٹی کے ساتھ ساتھ کوہ البرس واقع ہیں۔

پرامن استعمال کے لیے مقامی جوہری ٹیکنالوجی، سائنسی اور صنعتی اعتبار سے قابل ذکر اہمیت کی حامل ہے اور یہ اس بنا پر ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی کا استعمال صرف توانائی کی فراہمی تک محدود نہیں ہے بلکہ اسے ایرانی ماہرین کی جانب سے طبی اور تحقیقاتی امور میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے ۔

ایران سنہ 1958ء میں آئی اے ای اے کا رکن بنا اور سنہ 1968ء میں اس نے جوہری ہتھیاروں کی پیداوار اور پھیلاؤ پر پابندی کے معاہدے این پی ٹی پر دستخط کیے۔
حالیہ برسوں میں جوہری شعبے میں ایران کی ترقی و پیش رفت اہم کامیابیوں کے ہمراہ رہی ہے۔ اس وقت ایران تیس سے زائد ریڈیو دواؤں کی پیداوار کے ساتھہ جوہری اور طبی تحقیقاتی مراکز میں خاص بیماروں کے استعمال کے لیے 90 سے 95 فی صد تک دوائیں بنا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایران کی ایک اور کامیابی تہران کے طبی تحقیقاتی ری ایکٹر کے ایندھن کی فراہمی کے لیے یورینیم کو 20 فیصد تک افزودہ بنانا ہے۔

تہران کا یہ ایٹمی ری ایکٹر کینسر کی بیماری میں مبتلا بیماروں کے لیے دوائیں تیار کرنے میں سرگرم عمل ہے جسے 20 فیصد افزودہ یورینییم کے ایندھن کی ضرورت ہے جو دو سال قبل تک بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا تھا مگر مغرب نے ایران کے خلاف پابندیوں اور ایران میں یورینیم کی افزودگی کی مخالفت کے بہانے 20 فیصد افزودہ یورینییم کا ایندھن دینے سے انکار کر دیا جس کے بعد ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے نے ایندھن کی اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے قم کے فردو ایٹمی ری ایکٹر میں جوہری ایندھن کی ری سائیکلنگ کے منصوبے پر عمل کرتے ہوئے جس کی ساری سرگرمیاں اٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کی نگرانی میں جاری ہیں، یورینیم کی 20 فیصد افزودگی کے عمل میں کامیابی حاصل کی۔

جوہری شعبے میں ایران کی ایک اور کامیابی، فیوز یعنی پگھلانے والی مشین تیار کرنا ہے اور اس وقت ایران اس حوالے سے ٹیکنالوجی رکھنے والے دنیا کے پانچ ملکوں میں شامل ہے اور ایران مشرق وسطی کا واحد ملک ہے کہ اس سلسلے میں جس کی سرگرمیاں آئی اے ای اے کی نگرانی میں جاری ہیں۔

توقع کی جاتی ہے کہ آئندہ دس سے پندرہ سالوں میں جوہری دنیا،توانائی کی پیداوار میں جوہری شگاف سے اسے پگھلانے کے مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔ جوہری ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایران اس وقت اس منزل پر پہنچ گیا ہے کہ دنیا کے دیگر ملکوں کے ساتھہ مشترکہ جوہری منصوبوں منجملہ یورینیم کی افزودگی اور ایٹمی فیوز کے منصوبوں پر عملدرآمد کرنے کی توانائی رکھتا ہے اور اس نے یہ ٹیکنالوجی آئی اے ای اے کی زیر نگرانی ہی حاصل کی ہے مگر پھر بھی امریکا اور گنتی کے چند دیگر ممالک کہ جن سے ایران کی ترقی و پیشرفت برداشت نہیں ہوپا رہی ہے۔

تہران کی ترقی کی راہ میں مختلف طرح کی رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ ایران کے خلاف پابندیاں۔ ایران کا بائیکاٹ۔ نفسیاتی جنگ۔ سیاسی دباؤ۔ فوجی حملے کی دھمکی۔ یہانتکہ جوہری دانشوروں کا قتل نیز کمپیوٹروائرس کے ذریعے رخنہ اندازی کی کوشش ایسے ہتھکنڈے ہیں جو ایرانی قوم کے دشمنوں نے استعمال کیے ہیں تاکہ ایران میں پرامن جوہری پروگرام اور اس سلسلے میں حاصل ہونے والی ترقی و پیشرفت میں رکاوٹ پیدا کی جاسکے۔ تاہم مغرب کی ان تمام تر خلاف ورزیوں کے باوجود جوہری ٹیکنالوجی اس وقت ایرانی قوم کی ایک اہم ترین قابل افتخار سائنسی ترقی میں تبدیل ہوچکی ہے۔

پیرانشہر شہر 8000 سال کی تاریخ کے ساتھ ایران کا سب سے قدیم تہذیب ہے.  

ایران انتہائی متحرک زلزلے کی پٹی پر واقع ہے جس کی وجہ سے یہاں آئے دن زلزلے آتے رہتے ہیں۔ 1991ء سے اب تک ملک میں ایک ہزار زلزلے کے جھٹکے ریکارڈ کیے جاچکے ہیں جن سے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 17 ہزار 600 جانیں ضائع ہوئیں۔ 2003ء میں جنوب مشرقی ایران میں شدید زلزلے نے تباہی مچادی۔ اس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6.3 تھی اور اس نے قدیم قصبہ بام کو صفحہ ہستی سے مٹادیا۔ اس زلزلے میں 30 ہزار افراد جاں بحق ہوئے۔




#Article 82: سعودی عرب (1890 words)


مملکت سعودی عرب ( ) جزیرہ نمائے عرب میں سب سے بڑا ملک ہے ۔ شمال مغرب میں اس کی سرحد اردن، شمال میں عراق اور شمال مشرق میں کویت، قطر اور بحرین اور مشرق میں متحدہ عرب امارات، جنوب مشرق میں سلطنت عمان، جنوب میں یمن سے ملی ہوئی ہے جبکہ خلیج فارس اس کے شمال مشرق اور بحیرہ قلزم اس کے مغرب میں واقع ہے ۔ یہ حرمین شریفین کی سرزمین کہلاتی ہے کیونکہ یہاں اسلام کے دو مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ موجود ہیں۔

سعودی ریاست کا ظہور تقریباً 1750ء میں عرب کے وسط سے شروع ہوا جب ایک مقامی رہنما محمد بن سعود معروف اسلامی شخصیت اورمحمد بن عبدالوہاب کے ساتھ مل کر ایک نئی سیاسی قوت کے طور پر ابھرے ۔

اگلے ڈیڑھ سو سال میں آل سعود کی قسمت کا ستارہ طلوع و غروب ہوتا رہا جس کے دوران جزیرہ نما عرب پر تسلط کے لیے ان کے مصر، سلطنت عثمانیہ اور دیگر عرب خاندانوں سے تصادم ہوئے ۔ بعد ازاں سعودی ریاست کا باقاعدہ قیام شاہ عبدالعزیز السعود کے ہاتھوں عمل میں آیا۔

مارچ 1938ء میں تیل کی دریافت نے ملک کو معاشی طور پر زبردست استحکام بخشا اور مملکت میں خوشحالی کا دور دورہ ہو گیا۔

سعودی عرب کی حکومت کا بنیادی ادارہ آل سعود کی بادشاہت ہے ۔ 1992ء میں اختیار کیے گئے بنیادی قوانین کے مطابق سعودی عرب پر پہلے بادشاہ عبدالعزیز ابن سعود کی اولاد حکمرانی کرے گی اور قرآن ملک کا آئین اور شریعت حکومت کی بنیاد ہے ۔

ملک میں کوئی تسلیم شدہ سیاسی جماعت ہے نہ ہی انتخابات ہوتے ہیں البتہ 2005ء میں مقامی انتخابات کا انعقاد ہوا۔ بادشاہ کے اختیارات شرعی قوانین اور سعودی روایات کے اندر محدود ہیں۔ علاوہ ازیں اسے سعودی شاہی خاندان، علماء اور سعودی معاشرے کے دیگر اہم عناصر کا اتفاق بھی چاہیے ۔ سعودی عرب دنیا بھر میں مساجد اور قرآن اسکولوں کے قیام کے ذریعے اسلام کی ترویج کرتی ہے ۔ شاہی خاندان کے اہم ارکان علما کی منظوری سے شاہی خاندان میں کسی ایک شخص کو بادشاہ منتخب کرتے ہیں۔

قانون سازی وزراء کی کونسل عمل میں لاتی ہے جو لازمی طور پر شریعت اسلامی سے مطابقت رکھتی ہو۔ عدالت شرعی نظام کی پابند ہیں جن کے قاضیوں کا تقرر اعلیٰ عدالتی کونسل کی سفارش پر بادشاہ عمل میں لاتا ہے ۔

سعودی عرب کو انتظامی لحاظ سے تیرہ علاقوں یا صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن کو عربی زبان میں مناطق (عربی واحد: منطقہ) کہتے ہیں۔ سعودی نقشہ میں صوبے نمبر زد ہیں اور خانہ معلومات میں ان کے بارے میں معلومات درج کی گئي ہیں۔

مملکت سعودی عرب جزیرہ نمائے عرب کے 80 فیصد رقبے پر مشتمل ہے ۔ متحدہ عرب امارات، اومان اور یمن کے ساتھ منسلک ملک کی سرحدوں کا بڑا حصہ غیر متعین ہے اس لیے ملک کا عین درست رقبہ اب بھی نامعلوم ہے ۔ سعودی حکومت کے اندازوں کے مطابق مملکت کا رقبہ 22 لاکھ 17 ہزار 949 مربع کلومیٹر (8 لاکھ 56ہزار 356 مربع میل) ہے ۔ دیگر اندازوں کے مطابق ملک کا رقبہ 19 لاکھ 60ہزار 582 مربع کلومیٹر (7 لاکھ 56 ہزار 934 مربع میل) اور 22 لاکھ 40 ہزار مربع کلومیٹر (8 لاکھ 64 ہزار 869 مربع میل) کے درمیان ہے تاہم دونوں صورتوں میں سعودی عرب رقبے کے لحاظ سے دنیا کے 15 بڑے ملکوں میں شمار ہوتا ہے ۔

مملکت جغرافیہ مختلف نوعیت کا ہے ۔ مغربی ساحلی علاقے (التہامہ) سے زمین سطح سمندر سے بلند ہونا شروع ہوتی ہے اور ایک طویل پہاڑی سلسلے (جبل الحجاز) تک جاملتی ہے جس کے بعد سطع مرتفع ہیں۔ جنوب مغربی اثیر خطے میں پہاڑوں کی بلندی 3 ہزار میٹر (9 ہزار 840 فٹ) تک ہے اور یہ ملک کے سب سے زیادہ سرسبز اور خوشگوار موسم کا حامل علاقہ ہے ۔ یہاں طائف اور ابہاء جیسے تفریحی مقامات قائم ہیں۔ خلیج فارس کے ساتھ ساتھ قائم مشرقی علاقہ بنیادی طور پر پتھریلا اور ریتیلا ہے ۔ معروف علاقہ ”ربع الخالی“ ملک کے جنوبی خطے میں ہے اور صحرائی علاقے کے باعث ادھر آبادی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے ۔

مملکت کا تقریباً تمام حصہ صحرائی و نیم صحرائی علاقے پر مشتمل ہے اور صرف 2 فیصد رقبہ قابل کاشت ہے ۔ بڑی آبادیاں صرف مشرقی اور مغربی ساحلوں اور حفوف اور بریدہ جیسے نخلستانوں میں موجود ہیں۔ سعودی عرب میں سال بھر بہنے والا کوئی دریا یا جھیل موجود نہیں۔

سعودی عرب کا موسم مجموعی طور پر شدید گرم اور خشک ہے ۔ یہ دنیا کے ان چند علاقوں میں سے ایک ہے جہاں گرمیوں میں درجہ حرارت کا 50 ڈگری سینٹی گریڈ (120 ڈگری فارن ہائیٹ) سے بھی اوپر جانا معمول کی بات ہے۔ موسم سرما میں بلند پہاڑی علاقوں میں کبھی کبھار برف پڑ جاتی ہے تاہم مستقل بنیادوں پر برف باری نہیں ہوتی۔ موسم سرما کا اوسط درجہ حرارت 8 سے 20 ڈگری سینٹی گریڈ (47 سے 68 ڈگری فارن ہائیٹ) ہے ۔ موسم گرما میں اوسط درجہ حرارت 27 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ (81 سے 109 ڈگری فارن ہائیٹ) ہوتا ہے۔ وسط صحرائی علاقوں میں گرمیوں میں بھی رات کے وقت موسم سرد ہوجاتا ہے۔

سعودی عرب میں بارش بہت کم ہوتی ہے تاہم کبھی کبھار موسلا دھار بارش سے وادیوں میں زبردست سیلاب آجاتے ہیں۔ دار الحکومت ریاض میں سالانہ بارش 100 ملی میٹر (4 انچ) ہے جو جنوری سے مئی کے درمیان میں ہوتی ہے۔ جدہ میں نومبر اور جنوری کے درمیان میں 54 ملی میٹر (2.1 انچ) بارش ہوتی ہے۔

تقریباً 80 فیصد سعودی باشندے نسلی طور پر عرب ہیں۔ مزید برآں چند جنوبی اور مشرق افریقی نسل سے بھی تعلق رکھتے ہیں جو چند سو سال قبل اولاً غلام بنا کر یہاں لائے گئے تھے۔ سعودی عرب میں دنیا بھر کے 70 لاکھ تارکین وطن بھی مقیم ہیں جن میں بھارت کے 14 لاکھ، بنگلہ دیش کے 10 لاکھ، پاکستان کے 9 لاکھ، فلپائن کے 8 لاکھ اور مصر کے 7 لاکھ 50 ہزار باشندے شامل ہیں۔ قریبی ممالک کے عرب باشندوں کی بڑی تعداد میں مملکت میں برسرروزگار ہے ۔ سعودی عرب میں مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ باشندے بھی قیام پزیر ہیں۔

سعودی عرب میں باقاعدہ بنیادی تعلیم کا آغاز 1930ء کی دہائی میں ہوا۔ 1945ء میں شاہ عبدالعزیز السعود نے مملکت میں اسکولوں کے قیام کے لیے ایک جامع پروگرام کا آغاز کیا۔ 6 سال بعد 1951ء میں مملکت کے 226 اسکولوں میں 29 ہزار 887 طالب علم زیر تعلیم تھے ۔ 1954ء میں وزارت تعلیم کا قیام عمل میں آیا جس کے پہلے وزیر شہزادہ فہد بن عبدالعزیز بنے ۔ سعودی عرب کی پہلی جامعہ شاہ سعود یونیورسٹی 1957ء میں ریاض میں قائم ہوئی۔

آج سعودی عرب کا قومی سرکاری تعلیمی نظام 8 جامعات، 24 ہزار سے زائد اسکولوں اور ہزاروں کالجوں اور دیگر تعلیمی و تربیتی اداروں پر مشتمل ہے ۔ اس نظام کے تحت ہر طالب علم کو مفت تعلیم، کتب اور صحت کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ مملکت کے سرکاری میزانیہ کا 25 فیصد سے زائد تعلیم کے لیے مختص ہے ۔ سعودی عرب میں طالب علموں کو اسکالرشپ پروگرام کے تحت بیرون ملک بھی بھیجا جاتا ہے جن میں امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا، جاپان، ملائیشیا اور دیگر ممالک شامل ہیں۔

سعودی عرب کی جامعات، کالج اور تعلیمی اداروں کی فہرست

ملک بھر میں ایک بہترین نقل و حمل کا نظام قائم ہے۔ سعودی عرب حکومت ماضی میں شارعی نظام کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے کیوں کہ وہاں پیٹرول کی قیمت باقی دنیا کے مقابلے میں سب کم رہی ہے۔ فروری 2018ء میں اعلان کیا گیا کہ، سعودی عرب کی چار اہم موٹر ویز پر رفتار میں بہتری لائی جائے گی اور اسے 12 کلو میٹر فی گھنٹہ سے 140 کلو میٹر فی گھنٹہ تک پہنچا دیا جائے گا۔ اس منصوبے میں مکہ- مدینہ، یاض - دمام، ریاض-جاسم اور آخر میں رياض- طائف موٹر ویز شامل ہیں۔ ملک میں ایک ترقی پزیر بحری نقل و حمل کا نظام ہے جو بنیادی طور پر پیٹروکیمیکل کی نقل و حمل کی سہولت کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ سعودی پورٹ اتھارتی ان بحری کارروائیوں کی نگرانی کرتی ہے، یہ ادارہ ملک میں بندرگاہوں کے انتظام کا ذمہ دار ہے۔ شاہراہوں و ہوائی سفر پر زیادہ انحصار کرنے کے نتیجے میں، سعودی عرب میں ریل نقل و حمل میں دوسرے ذرائع کی طرح سرمایہ کاری نہیں ہوئی۔ البتہ، اب ملک کے ریلوے کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

سعودی عرب کا سب سے مقبول کھیل فٹ بال ہے ۔ سعودی عرب گرمائی اولمپکس، والی بال، باسکٹ بال اور دیگر کھیلوں میں عالمی سطح کے ٹورنامنٹس میں شرکت کرتا ہے ۔ قومی فٹ بال مسلسل 4 مرتبہ ورلڈ کپ اور 6 مرتبہ ایشین کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کے باعث عالمی سطح پرجانی جاتی ہے ۔ سعودی عرب تین مرتبہ ایشین چمپئن رہ چکا ہے اور دو مرتبہ فائنل میں شکست کھاگیا۔ سعودی عرب کے چند معروف فٹ بال کھلاڑیوں میں ماجد عبداللہ، سامي الجابر اور ياسر القحطاني شامل ہیں۔

اسلام سعودی عرب کا سرکاری مذہب ہے اور اس کا قانون تمام شہریوں کے مسلمان ہونے کو ضروری قرار دیتا ہے۔ اسلام کے سوا دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو کھلے عام عبادت منع ہے۔ سعودی عرب شہریت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی غیر مسلم کو اسلام قبول ضروری ہے۔ سعوی عرب کے نفاذ شریعت اور اس کے انسانی حقوق متعلقہ قوانین پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔

سعودی ثقافت کی بنیاد مذہب اسلام ہے۔ اسلام کے دو مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سعودی عرب میں موجود ہیں۔ ہر روز دنیا بھر کے مسلمان 5 مرتبہ مکہ مکرمہ میں قائم خانہ کعبہ کی جانب رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں۔ سعودی عرب میں ہفتہ وار تعطیل جمعہ کو ہوتی ہے ۔ قرآن مجید سعودی عرب کا آئین اور شریعت اسلامی عدالتی نظام کی بنیاد ہے ۔

سعودی عرب کے معروف ترین لوک رسم قومی رقص ارضیٰ ہے ۔ تلواروں کے ساتھ کیا جانے والا یہ رقص قدیم بدوی روایات کا حصہ ہے ۔ حجاز کی السہبا لوک موسیقی کی جڑیں قرون وسطیٰ کے عرب اندلس سے جاملتی ہیں۔

سعودی عرب کا لباس باشندوں کے زمین، ماضی اور اسلام سے تعلق کا عکاس ہے ۔ روایتی طور پر مرد ٹخنے تک کی لمبائی کی اونی یا سوتی قمیض پہنتے ہیں جو ثوب کہلاتی ہے جس کے ساتھ سر پر شماغ یا غطرہ کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ عورتوں کا لباس قبائلی موتیوں، سکوں، دھاتی دھاگوں اور دیگر اشیاء سے مزین ہوتا ہے ۔ سعودی خواتین گھر سے باہر عبایہ اور نقاب کا استعمال کرتی ہیں۔

اسلام میں شراب نوشی اور سور کے گوشت کے استعمال کی سختی سے ممانعت ہے اور اس پر سعودی عرب میں سختی سے عملدرآمد کیا جاتا ہے ۔ سعودی روٹی خبز کا تقریباً تمام کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ بھنی ہوئی بھیڑ، مرغی، فلافل، شورمہ اور فول بھی دیگر مشہور کھانوں میں شامل ہیں۔ روایتی قہوہ خانے ہر جگہ موجود ہیں تاہم اب ان کی جگہ بڑے کیفے لے رہے ہیں۔ بغیر دودھ کی سیاہ عربی چائے کا استعمال ہر جگہ کیا جاتا ہے ۔

سعودی عرب میں تھیٹر اور سینما پر پابندی عائد ہے تاہم ظہران اور راس تنورہ میں قائم نجی آبادیوں میں تھیٹر قائم ہیں تاہم یہ فلموں کے نمائش کی بجائے مقامی موسیقی اور فنون پیش کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔ حال ہی میں بچوں اور عورتوں کے لیے عربی کارٹون پیش کرنے کے لیے سینمائوں کے قیام کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔




#Article 83: ہوائیہ (371 words)


جہاز کے دیگر استعمالات کے لیے دیکھیے: جہاز

ہوائی جہاز یا ہوائیہ (جمع: ہوائین) (aircraft)، ایک ایسا گاڑی (vehicle) یا جہاز (craft) ہوتا ہے کہ جو کرۂ ہوا میں پرواز کر سکتا ہو۔ اکثر صاروخی ناقلات (rocket vehicles)، ہوائی جہاز کے زمرے میں شمار نہیں کیے جاتے کیونکہ یہ ہوا کے سہارے پر انحصار نہیں کرتے۔ وہ تمام انسانی نقل و حرکت کہ جو ہوائی جہاز کو قابل پرواز رکھنے میں اختیار کی جاتی ہے اسے طیرانی (aviation) کہا جاتا ہے اور وہ شخصیت جو ہوائی جہاز کو محوپرواز کرتا / کرتی ہے یعنی اس کو اڑاتا / اڑاتی ہے اسے طیار (aviator / pilot) کہا جاتا ہے؛ جبکہ ایسے ہوائی جہاز یا ہوائی ناقلات (aerial vehicle) بھی تخلیق کیے گئے ہیں جو طیار کے بغیر پرواز کرسکتے ہیں ان کے لیے بلا انسان ہوائی ناقل (unmanned aerial vehicle) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ 

ہوائی جہازوں کی دو بڑی اقسام ہیں: ہوا سے ہلکے (ہوا سُکن) اور ہوا سے بھاری (ہوا محرک).

ہوا سُکن ایسے جہاز ہیں جو ہوا میں تیرنے کے لیے مرکزِ اچھال استعمال کرتے ہیں جس طرح بحری جہاز پانی میں تیرنے کے لیے کرتے ہیں۔ ان جہازوں میں عام طور پر بڑے تیلے نصب ہوتے ہیں جو ہیلئیم، ہائیڈروجن یا گرم ہوا سے بھرے ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے جہاز کی کثافت کم ہوجاتی ہے اور وہ فضا میں تیرنے لگتا ہے۔

ہوا محرک جہازوں میں ایسے مشین نصب ہوتے ہیں جو گیس یا ہوا کو نیچے کی طرف زور سے دھکیلتے ہیں جس کی وجہ سے ردّ عمل ہوتا ہے اور جہاز اُوپر کی طرف حرکت کرتا ہے۔ اُوپر کی طرف حرکت پیدا کرنے کے دو طریقے ہیں: ہوائی اُٹھاؤ اور قوتی اٹھاؤ.

ہوائی اُٹھاؤ میں جہاز اپنے پروں کے ذریعے ہواء کو نیچے کی طرف دھکیلتا ہے اور خود اُوپر کی طرف حرکت کرتا ہے۔ جبکہ قوتی اُٹھاؤ میں جہاز اپنے انجن کے ذریعے ہوا کو بزور نیچے کی طرف دھکیلتا ہے۔

معین پردار ہوائی جہازوں کے پَر ایک ہی جگہ پر مستقل ہوتے ہیں یعنی وہ حرکت نہیں کرتے۔ جیسا کہ مسافر بردار فضائی طیارے اور جنگی طیارے وغیرہ۔

ایسے جہاز جن کے بازو حرکت کے قابل ہوتے ہیں۔ ایسے جہاز اپنی متحرکت پروں کے ذریعہ اُڑان کرتے ہیں۔ مثلاً ہیلی کاپٹر




#Article 84: ہندوستان (139 words)


لفظ ہند یا (اردو:ہندوستان ہندی:हिन्दुस्तान )عرب کے لوگ فارس اور عرب کے مشرقی علاقے میں آباد قوموں کے لیے استعمال کرتے تھے اور اسی سے ہندوستان کی اصطلاح برصغیر کے بیشتر علاقے کے لیے استعمال ہونا شروع ہو گئی۔ مختلف سلطنتوں اور بادشاہتوں کے تحت بادشاہتِ ہند کی سرحدیں بدلتی رہیں۔ آخر برصغیر پاک و ہند کا سارا علاقہ برطانوی تسلط میں آ کر برطانوی انڈیا یا ہندوستان کہلانے لگا۔ یہ صورتِ حال 1947ء تک برقرار رہی۔ اس میں موجودہ بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان شامل تھے۔ 1947ء کے بعد یہاں دو ملک بن گئے جنہیں بھارت اور پاکستان کہا گیا۔ بعد ازاں پاکستان کے مشرقی اور مغربی حصے علاحدہ ہو گئے۔ مشرقی حصہ بنگلہ دیش کہلایا۔ موجودہ زمانے میں ہندوستان سے کوئی واضح جغرافیائی خطہ مراد نہیں مگر عام زبان میں اس سے بھارت مراد لی جاتی ہے.




#Article 85: آذربائیجان (2458 words)


آذربائیجان (Azerbaijan) جس کو سرکاری طور پر جمہوریہ آذربائیجان کہا جاتا ہے، یوریشیا کے جنوبی قفقاز کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا ملک ہے۔ مشرقی یورپ اور مغربی ایشیا کے درمیان واقع اس ملک کے مشرق میں بحیرہ قزوین، شمال میں روس، مغرب میں آرمینیا اور ترکی، شمال مغرب میں جارجیا اور جنوب میں ایران واقع ہیں۔ آذربائیجان کے جنوب مغرب میں واقع نگورنو کاراباخ اور سات مزید اضلاع نگورنو کاراباغ کی 1994ء کی جنگ کے بعد سے آرمینیا کے قبضے میں ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی چار قراردادوں نے آرمینیا سے کہا ہے کہ وہ آذربائیجان کی سرحد سے اپنی فوجیں ہٹا لے۔ ملکی رقبے میں تیس مربع کلومیٹر کے لگ بھگ کے چند جزائر بھی ہیں جو بحیرہ قزوین میں واقع ہیں۔

آذربائیجان ایک سیکولر اور یونیٹاری جمہوریہ ہے۔ یہ ملک آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ، GUAM اور کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم کا بانی رکن ہے۔ ملک کا مستقل نمائندہ یورپی یونین میں موجود ہے، اسے یورپی کمیشن کے خصوصی ایلچی ہونے اور اقوام متحدہ کا رکن ہونے، OSCE، یورپی کونسل اور NATO کے قیام امن کے پروگرام یعنی PfP پروگرام میں بھی نمائندگی حاصل ہے۔

جمہوریہ آذربائیجان کی ریاست تاریخی طور پر اس علاقے سے تعلق رکھتی ہے جسے قفقازی البانیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس علاقے کو اران بھی کہا جاتا ہے۔ قفقاز 1740ء سے لے کر روسی قبضے تک مختلف خوانین کے قبضے میں تھا اور 19 ویں صدی کے وسط سے لے کر 1917ء تک جنوبی قفقاز روسی صوبہ جات میں منقسم تھا۔

آذربائیجان کے موجودہ علاقے میں قدیم ترین انسانی آثار پتھر کے زمانے تک کے ملتے ہیں۔ یہ آثار مختلف غاروں میں محفوظ ہیں۔ شراب کی صراحیاں جو خشک ہو چکی ہیں، شہر خاموشاں اور مقابر میں ملی ہیں۔ یہ شراب تانبے کے دور میں بنائی جاتی تھی۔

جنوبی قفقاز کو اکامینڈس نے 550 قبل مسیح میں فتح کیا تھا اور اس سے زرتشتی مذہب کو فروغ ملا۔ چوتھی صدی قبل مسیح میں سکندر اعظم کی آمد کے بعد یہاں دیگر ملحقہ علاقوں میں ایک مملکت قائم ہوئی۔

عرب اموی خلیفہ نے ساسانیوں اور بازنطینیوں کو شکست دے کر قفقازی البانیہ کو فتح کر لیا۔ عباسیوں کے زوال کے بعد یہ علاقہ سالاریوں، ساجدی، شدادی، راوادی اور بائیدیوں کے قبضے میں رہا۔ 11 ویں صدی عیسوی کی ابتدا میں وسط ایشیا سے آنے والے ترک اوغدائی قبیلوں نے بتدریج اس علاقے پر قبضہ جمایا۔ ان بادشاہتوں میں سے پہلی بادشاہت غزنویوں کی تھی جنہوں نے 1030 میں اس علاقے پر قبضہ جمایا۔

مقامی طور پر بعد میں آنے والے سلجوقیوں پر اتابک نے فتح پائی۔ سلجوقیوں کے دور میں مقامی شعرا جیسا کہ نظامی گنجوی اور خاگانی شیروانی نے فارسی ادب کو بام عروج تک پہنچایا۔ یہ سب آج کل کے آذربائیجان میں ہوا۔ اس کے بعد یلدرمیوں نے مختصر قیام کیا اور ان کے بعد امیر تیمور آئے۔ جس کی مدد نوشیرواں نے کی۔ امیر تیمور کی موت کے بعد یہ علاقہ دو مخالف ریاستوں میں بٹ گیا۔ ان کے نام کارا کوئینلو اور اک کوئینلو تھے۔ اک کوئینلو کی موت کے بعد سلطان اذن حسن نے آذربائیجان کی پوری ریاست پر حکمرانی کی۔ اس کے بعد یہ علاقہ شیرواں شاہوں کے پاس آیا جنہوں نے 861 سے 1539تک بطور خود مختار مقامی حکمران کے اپنی حیثیت برقرار رکھی۔ شیروانیوں کے بعد صفویوں کی باری آئی اور انہوں نے شیعہ اسلام اس وقت کی سنی آبادی پر زبردستی لاگو کیا۔ اس ضمن میں انہیں سنی عثمانیوں سے جنگ بھی کرنا پڑی۔

کچھ عرصہ بعد صفویوں کے زوال کے بعد کئی خانوں نے مقامی طور پر اینی حکومتیں قائم کر لیں اور ان کی باہمی لڑائیوں کا آغاز ہو گیا۔ ترکمانچی کے معاہدے کے بعد کئی علاقوں پر روسی قبضہ ہو گیا۔ پہلی جنگ عظیم میں جب روس کے زوال کا وقت آیا تو آذربائیجان، آرمینیا اور جارجیا نے مل کر ایک الگ متحدہ ریاست قائم کی جو مختصر عرصہ تک قائم رہی۔ مئی 1918ء میں یہ ریاست ختم ہوئی اور آذربائیجان نے اپنی آزادی کا اعلان کیا اور اپنا نام عوامی جمہوریہ آذربائیجان رکھا۔ اس ریاست کو دنیا میں پہلی مسلمان پارلیمانی ریاست ہونے کا درجہ حاصل ہے۔ دو سال بعد روسیوں نے اس پر پھر سے قبضہ کر لیا۔ مارچ 1922ء میں جارجیا اور آرمینیا کے ساتھایک نئی ٹرانس کاکیشیئن ایس ایف ایس آر بنائی جو روسی فیڈریشن کے ماتحت تھی۔ 1936ء میں یہ بھی اپنے انجام کو پہنچی اور آذربائیجان بطور سوویت سوشلسٹ ریپبلک کے سوویت یونین میں شمولیت اختیار کی۔

آزادی کے ابتدائی سال نگورنو کاراباغ کی آرمینیا سے ہونے والی جنگ کے باعث دھندلا گئے۔ جنگ کے اختتام پر آذربائیجان کو اپنے کل رقبے کا 14 سے 16 فیصد حصہ آرمینیا کو دینا پڑا جس میں نگورنگوکاراباغ بھی شامل ہے۔ اس وقت کے صدر نے اپنی شکست کو قبول کیا اور ان کے بعد آذربائیجان کمیونسٹ پارٹی کے سابقہ پہلے سیکرٹری حیدرعلیوف نے اگلے صدر کا حلف اٹھایا۔ اس دور میں اگرچہ کچھ ترقی ہوئی لیکن پھر بھی تیل سے ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ اشراف کی زیر استعمال رہا۔ حیدر علیوف کی دوسری مدت اقتدار میں ان کی مقبولیت میں کمی ہوئی۔ ایک وجہ ان کی طرف سے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی بھی ہے۔ حیدر علیوف کی وفات کے بعد ان کے بیٹے کو بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا جو وزیر اعظم رہ چکے تھے

آذربائیجان نے 12 نومبر 1995ء کو نئے آئین کی منظوری دی جس میں اس کے ریاستی نشان، جھنڈے، سرکاری نشان اور قومی ترانے کی منظوری دی۔
آذربائیجان کی حکومت میں طاقت کو تین مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں مقننہ، عدلیہ اور اشرافیہ شامل ہیں۔ قانون سازی کی اجازت صرف یک ایوانی قومی اسمبلی کو ہے۔ پارلیمنٹ کے انتخابات ہر پانچ سال کے بعد نومبر کے پہلے اتوار کو ہوتے ہیں۔ آئینی عدالت کی مدد سے انتخابات کے شفاف ہونے کے بارے تسلی کی جا سکتی ہے۔ قومی اسمبلی کی طرف سے منظور ہونے والے قوانین ان کے شائع ہونے کی تاریخ سے نافذ سمجھے جاتے ہیں۔ صدر کو پانچ سال کی مدت کے لیے براہ راست منتخب کیا جاتا ہے۔ صدر کے پاس کابینہ کی تشکیل دینے کی طاقت ہوتی ہے۔ کابینہ میں وزیر اعظم، اس کے نائبین اور وزرا پر مشتمل ہوتی ہے۔ صدر کے پاس قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار نہیں ہوتا لیکن وہ قومی اسمبلی کے فیصلوں کو ویٹو کر سکتا ہے۔ صدر کی طرف سے ہونے والے ویٹو کو ختم کرنے کے لیے قومی اسمبلی کو 95 ووٹوں کی عددی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ عدلیہ آئینی عدالت، سپریم کورٹ اور اکنامک عدالتوں پر مشتمل ہے۔ صدر ان عدالتوں کے ججوں کا تقرر کرتا ہے۔

سلامتی کونسل صدر کے ماتحت ایک ادارہ ہے اور صدر اسے آئین کے تحت چلاتا ہے۔ اسے 10 اپریل 1997ء میں قائم کیا گیا۔ انتظامی محکمہ صدر سے ہٹ کر کام کرتا ہے۔

مختصر مدت کے دوران عوامی جمہوریہ آذربائیجان نے 6 ملکوں کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے اور جرمنی اور فن لینڈ میں اپنے سفارتکار بھیجے۔ بین القوامی طور پر آذربائیجان کی آزادی کو روس کے زوال کے ایک سال بعد تسلیم کیا گیا۔ بحرین آخری ملک تھا جس نے 6 نومبر 1996ء کو آذربائیجان کو تسلیم کیا۔ دو طرفہ سفارتی تعلقات جن میں سفارت کاروں کا تبادلہ بھی شامل ہے، سب سے پہلے ترکی، امریکا اور ایران کے ساتھ قائم ہوئے۔

اب تک آذربائیجان کے سفارتی تعلقات 158 ممالک کے ساتھ ہیں اور یہ 38 بین القوامی تنظیموں کا رکن بھی ہے۔ اسے غیر جانبدار ممالک کی تنظیم اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں مبصر کا درجہ ملا ہوا ہے۔ 9 مئی 2006ء میں آذربائیجان کو جنرل اسمبلی کے تحت بنائی جانے والی انسانی حقوق کی کونسل کا رکن بنایا گیا۔ اس کی مدت 19 جون 2006ء سے شروع ہوئی۔

خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں سب سے پہلے اپنی سرحدی حدود کی بحالی جن میں نگورنوکاراباغ اور سات دیگر اضلاع شامل ہیں، ہمسائیہ ممالک کے ساتھ دو طرفہ تجارتی تعلقات، خطے میں سلامتی اور سکون کی ضمانت، یورپ میں شمولیت اور بین البراعظمی سلامتی اور تعاون، بین الخطی معاشی، توانائی اور ذرائع نقل و حمل شامل ہیں۔

آذربائیجان دہشت گردی کے خلاف بننے والے بین الاقوامی اتحاد کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ کوسوو، افغانستان اور عراق میں امن بحالی کی کوششوں میں بھی حصہ لے رہا ہے۔ آذربائیجان نیٹو کے پروگرام امن معاہدے  کا بھی سرگرم رکن ہے۔

آذربائیجان یورپ کے روایتی ہتھیاروں کے معاہدے کا پابند ہے۔ 13 جنوری 1993ء کو آذربائیجان نے کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے۔ آذربائیجان نیٹو کا بھی رکن ہے۔ اس کے علاوہ آذربائیجان نے این پی ٹی پر بھی دستخط کیے ہوئے ہیں۔ آذربائیجان کی مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں امن بحالی کے دستوں کا کردار بھی ادا کیا ہے۔ 2007ء میں اس کے دفاعی اخراجات 871 ملین ڈالر یعنی 870 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

انتظامی امور کے لیے آذربائیجان کو 76 اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں 65 دیہاتی، 11 شہری اور 1 خود مختار علاقہ شامل ہیں۔ صدر ان علاقوں کے لیے گورنر کا تقرر کرتا ہے۔ ان کے اپنے مقامی سربراہ بھی منتخب ہوتے ہیں جن کے پاس مقامی سطح کے اختیارات ہوتے ہیں۔ کلیدی عہدوں پر بھی تقرری و تنزلی صدر کے اختیار میں ہوتی ہے۔ آرمینیا کے زیر قبضہ علاقوں کے گورنر ملک بدری کی حالت میں اپنے فرائض سر انجام دے رہیں۔
جغرافیہ

آذربائیجان کے کل سرحدیں 2648 کلومیٹر طویل ہیں جن میں سے آرمینیا کے ساتھ 1007، ایران کے ساتھ 756، جارجیا کے استھ 480، روس کے ساتھ 390 اور ترکی کے ساتھ 15 کلومیٹر کی سرحد شامل ہیں۔ اس کی ساحلی حدود 800 کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہیں جن میں بحیرہ کیسپئن کی 456 کلومیٹر کی سرحد بھی شامل ہے۔ ریاست کی کل لمبائی شمالاً جنوباً 400 کلومیٹر اور چوڑائی شرقاً غرباً 500 کلومیٹر ہے۔ اس میں تین پہاڑی سلسلے قفقاز کبیر، قفقاز صغیر اور تالیش پہاڑی سلسلے ہیں۔ یہ پہاڑی سلسلے کل ملکی رقبے کا تقریباً 40 فیصد بنتے ہیں۔ سب سے بلند مقام بازاردوزو ہے جو 4466 میٹر بلند ہے۔ اس کی سب سے نشیبی جگہ بحیرہ کیسپئین میں ہے جو سطح سمندر سے 28 میٹر نیچے ہے۔ دنیا میں مٹی کے آتش فشانوں کا تقریباً نصف حصہ آذربائیجان میں پایا جاتا ہے۔

پانی کے اہم ذخائر میں سطح پر پائے جانے والے ذخائر ہیں۔ تاہم کل 8350 دریاؤں میں سے صرف 24 ایسے ہیں جو 100 کلومیٹر سے زیادہ طوالت رکھتے ہیں۔ سب سے بڑی جھیل ساریسو ہے جو تقریباً 67 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے اور سب سے لمبا دریا کُر ہے جو 1515 کلومیٹر طویل ہے۔

آذربائیجان کے موسم کی تشکیل میں سکینڈے نیویا کے اینٹی سائیکلون کے سرد حصے، سائبیریا کے معتدل درجہ حرارت، وسطی ایشیا کے اینٹی سائیکلون شامل ہیں۔ لینڈ سکیپ کے تنوع کے حوالے سے ملک میں مختلف جگہوں سے ہوا کے مختلف دباؤ داخل ہوتے ہیں۔ قفقاز عظیم ملک کو سرد ہواؤں کے براہ راست داخلے سے بچاتا ہے۔ اس وجہ سے اکثر پہاڑوں کے دامن اور میدانوں میں نیم استوائی موسم ملتاہے۔ ان علاقوں میں سورج سے آنے والی تابکاری بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔

موجودہ دور کے 11 موسمی خطوں میں سے 9 آذربائیجان میں ملتے ہیں۔ کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت بالترتیب منفی 33 ڈگری اور 46 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ کچھ علاقوں میں زیادہ سے زیادہ بارش 1600 سے 1800 ملی میٹر اور کچھ علاقوں میں کم از کم بارش 200 سے 350 ملی میٹر ہوتی ہے۔

آب رسانی کے حوالے سے آذربائیجان اوسط سے کم درجے پر آتا ہے اور اس میں فی مربع کلومیٹر پانی 100000 مربع میٹر ہے۔ تمام بڑے پانی کے ذخائر کُر پر بنائے گئے ہیں۔

نباتات کے تنوع کے اعتبار سے آذربائیجان میں نخچیوان، جہاں 60 فیصد اور کرہ ارض کے میدان، جہاں 40 فیصد انواع کے پودے اگتے ہیں، داواچی-قبہ جو قفقاز عظیم کے مشرق میں ہے، میں 38 فیصد، قفقاز صغیر کے درمیان میں 29 فیصد، گوبستان میں 26٫6 فیصد، لینکوران میں 27 فیصد اور ابشیرون میں 22 فیصد اقسام پائی جاتی ہیں۔

عام نباتات کی کل 400 مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔

آزادی کے بعد آذربائیجان نے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، یورپی بینک برائے تعمیر و ترقی، اسلامی ترقیاتی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی رکنیت حاصل کی۔ بینکاری کا نظام دو سطحوں پر ہے جن میں نیشنل اور کامرس کے بینک شامل ہیں جو غیر بینکاری سرمایہ داری نظام کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ 1992ء میں سٹیٹ بینک کی بجائے نیشنل بینک قائم کیا گیا تھا۔ نیشنل بینک آذربائیجان کے قومی بینک کا کام کرتا ہے اور کرنسی کا اجرا اور دیگر امور اس کی نگرانی میں طے ہوتے ہیں۔ تجارتی بینکوں میں سے دو بڑے ببنک انٹرنینشل بین اور یونائیٹڈ یونیورسل جوائنٹ سٹاک بینک حکومت کی ملکیت ہیں۔

دو تہائی آذربائیجان تیل اور قدرتی گیس کے حوالے سے اہم ہے۔ قفقاز صغیر کے اکثر حصوں میں سونا، چاندی، لوہا، تابنا، ٹائٹینیم، کرومیم، میگانیز، کوبالٹ، مولبڈینیم، مختلف اورز اور اینٹی منی ملتے ہیں۔

درآمد ہونے والی اکثر اشیا کے کچھ حصے اب آذربائیجان میں ہی تیار ہوتے ہیں۔

عام ریل کی پٹری کو 2005ء میں 2957 کلومیٹر تک پھیلایا گیا اور برقی ٹرینوں کے روٹ کو 127 کلومیٹر تک بڑھایا گیا۔ 2006ء میں کل ہوائی اڈوں کی تعداد 36 تھی اور اس کے علاوہ ایک ہیلی پورٹ بھی موجود ہے۔

اپریل 2006ء میں کل آبادی کا 51 فیصد حصہ یعنی 4380000 افراد شہری اور 49 فیصد یعنی 4060000 افراد دیہاتی علاقوں میں رہتے ہیں۔ ملکی آبادی کا کل 51 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔

آبادی میں اضافہ کی شرح 2006ء میں 0٫66 فیصد سالانہ رہی۔ اس کی ایک اہم وجہ لوگوں کی بیرون ملک ہجرت شامل ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق 93٫4 فیصد سے 96 فیصد آبادی مسلمان ہے جن میں 85 فیصد شیعہ اور 15 فیصد سنی ہیں۔ عیسائیوں میں اکثریت روسی آرتھوڈکس اور آرمینیائی آرتھوڈکس شامل ہیں۔

کچھ دیہاتی آزری ابھی تک قبل از اسلام کے توہم پرستانہ عقیدوں کو مانتے ہیں ان میں درختوں اور پتھروں وغیرہ کی پوجا بھی شامل ہے۔

آذربائیجان کی فوک میں آبادی، لسانی گروہوں وغیرہ کی نمائندگی ہے۔ یہاں کردی، لزگن، تالیش، جارجین، روسی اور آرمینیائی زبانوں کے ریڈیو سٹیشن بھی کام کرتے ہیں۔ ان کو حکومت کی طرف سے مالی امداد کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔ بلقان میں موجود سٹیشن آوار زبان میں اور خمچاز میں تات زبان میں بھی سٹیشن کام کرتے ہیں۔ اسی طرح باکو میں کئی اخبارات روسی، کردی، لزگن اور تالیش زبانوں میں چھپتے ہیں۔ یہودی بھی اپنا ایک اخبار عزیز چھاپتے ہیں۔

قومی موسیقی کے آلات میں چودہ تاروں والے آلات، آٹھ پیٹنے والے تاشے اور چھ مختلف اقسام کے بانسری نما آلے شامل ہیں۔
یونیسکو کی جانب نے عالمی ورثے کی فہرست میں گوبستان ریاستی ریزرو، باکو کا آتشی مندر، مومن خاتون کا مزار اور شیکی میں خان محل شامل ہیں

فہرست ہم نام ریاستیں اور علاقے




#Article 86: ارجنٹائن (3931 words)


ارجنٹائن(ہسپانوی:Argentina) جسے سرکاری طور پر جمہوریہ ارجنٹائن کہا جاتا ہے، جنوبی امریکا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ یہ ملک 23 صوبوں اور ایک خود مختار شہر بیونس آئرس پر مشتمل ہے۔ رقبے کے اعتبار سے یہ دنیا کا آٹھواں بڑا ملک ہے اور ہسپانوی بولنے والے ملکوں میں سب سے بڑا ہے۔

ارجنٹائن کا رقبہ انڈیز پہاڑی سلسلے اور بحرِ اوقیانوس کے درمیان واقع ہے۔ اس کے شمال میں پیراگوئے اور بولیویا، برازیل اور یوراگوئے شمال مشرق میں جبکہ چلی جنوب اور مغرب کی جانب واقع ہے۔ انٹارکٹیکا کے کچھ حصے پر ارجنٹائن اپنا دعویٰ کرتا ہے۔

ارجنٹائن براعظم جنوبی امریکا کی بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے اور اوسط حدِ عمر اور فی کس جی ڈی بلند ہے۔ مستقبل میں ترقی کے لیے ارجنٹائن کی بنیادیں مضبوط ہیں۔ بیرونی سرمایہ کاری اور ہائی ٹیکنالوجی کے حوالے سے برآمدات کی مقدار کل برآمدات کا بہت بڑا حصہ بناتی ہیں۔ ارجنٹائن اقوام متحدہ، مرکوسر اور جنوبی امریکی اقوامِ متحدہ کا بنیادی رکن جبکہ جی 20 کا رکن ہے۔

ارجنٹائن لاطینی لفظ ارجنتوم سے نکلا ہے جو چاندی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ 1602 میں پہلی بار اس لفط کا استعمال ہمیں ایک نظم میں ملتا ہے۔

ارجنٹائن کے مقام پر سب سے پہلے انسانی آثار ہمیں 11٫000 ق م میں ملتے ہیں۔ یہ آثار مختلف قبائل سے متعلق تھے۔ انکا بادشاہت نے موجودہ دور کے ارجنٹائن پر حملہ کر کے قبضہ کیا تھا۔ جنوبی اور وسطی علاقوں میں خانہ بدوش آباد تھے۔

کچھ قبائل زیادہ ترقی یافتہ تھے اور انہوں نے کاشتکاری بھی شروع کر دی تھی اور مٹی کے برتن بناتے تھے۔ تاہم یہ قبائل جنوبی امریکا میں نسبتاً زیادہ موجود تھے۔

یورپی مہم جو یہاں 1516 میں آئے۔ ہسپانویوں نے جنوبی امریکا میں اپنا قبضہ جما لیا۔ ان کی پہلی آبادی دریائے پرانا کے کنارے آباد قلعہ تھا۔ بیونس آئرس کے مقام پر ان کی پہلی مستقل آبادی 1536 کو قائم ہوئی۔ تاہم اسے مقامی قبائل نے تباہ کر دیا۔ اس شہر کو دوبارہ 1580 میں بسایا گیا۔

یہ علاقہ جہاں آج کا زیادہ تر ارجنٹائن واقع ہے، ہسپانوی آبادکاروں اور ان کی اولادوں، مقامی قبائلوں اور افریقی غلاموں سے آباد تھا۔ آبادکاروں کی کل تعداد کا ایک تہائی بیونس آئرس اور دوسرے بڑے شہروں میں اکٹھا ہوا۔
بیونس آئرس 1776 کو دار الحکومت کا درجہ ملا۔ اس کے بعد سے بیونس آئرس کو تجارتی مرکز بن گیا۔ 1806 اور 1807 میں دو بار برطانویوں نے ناکام حملے کیے۔

جنگ آزادی کے بعد کی دہائی میں یہ علاقہ پیٹریاٹ یعنی ملک کی آزادی چاہنے والے اور رائلسٹ یعنی ہسپانوی بادشاہت کے وفاداروں کے درمیان بٹ گیا۔ 1811 کے بعد موجودہ دور کے ارجنٹائن کے شہر آزادی پسندوں کے ساتھ رہے جبکہ پیراگوئے پر قبضہ ہو گیا اور اس نے سپین سے اپنی آزادی کا اعلان 1811 جبکہ ارجنٹائن سے 1842 میں آزادی کا اعلان کر دیا۔ بالائی پیرو پر مختلف دھڑوں کا دعوٰی تھا لیکن اس نے بطور بولیویا اپنی آزدی کا اعلان 1824 میں کر دیا۔ یوراگوئے دریا کے مشرقی کنارے پر برازیلی اور پرتگالی افواج نے حملہ کیا اور وہ 1828 میں بطور یوراگوئے آزاد ہو گیا۔

پیٹریاٹوں میں موجود اندرونی اختلافات کی وجہ سے ان میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا۔ چار سال بعد ہی حکومت تبدیل ہوئی۔ 1813 میں اسمبلی نے آزادی کے اعلان کا ارادہ کیا لیکن سیاسی دباؤ پر ایسا نہ کر سکی۔ نتیجتاً خانہ جنگی شروع ہو گئی۔

ان کے بعد میں آنے والے صدر نے اصلاحات کا عمل جاری رکھا اور ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی۔ تاہم فوج کی طرف سے مداخلت کے بعد انہین عہدہ چھوڑنا پڑا اور نئی حکومت بنی۔

نئی حکومت نے بھی اصلاحات کے عمل کو جاری رکھا اور عوامی منصوبوں میں خطیر سرمایہ لگایا۔ غربت کی شرح 7 فیصد رہ گئی اور معیشت میں بہت تیزی سے ترقی ہوئی۔ تاہم سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے اس حکومت کے خلاف بھی عوام اٹھ کھڑے ہوئے۔ سابقہ صدر جنرل پرون نے اس صورت حال کو چابک دستی سے اپنے حق میں استعمال کیا اور وطن واپسی اور 1973 میں نئے انتخابات کی راہ ہموار کر لی۔

اسی سال صدر منتخب ہونے کے بعد جولائی 1974 میں صدر پرون کی وفات ہو گئی اور ان کی تیسری بیوی ایزابیل جو نائب صدر تھیں، صدر بن گئیں۔ تاہم انہوں نے اپنے خاوند کے دور کے بدترین مشیروں کو برقرار رکھا جس کی وجہ سے ان کی ناپسندیدگی بڑھتی گئی۔ مارچ 1976 میں ہونے والے بغاوت کے نتیجے میں انہیں صدارتی عہدے سے محروم کر دیا گیا۔

تاہم اصلاح کا عمل اپنے مخالفین کی حد تک جاری رہا اور اپنے سیاسی مخالفین کو اغوا کر کے ہمیشہ کے لیے غائب کر دینا معمول بن گیا۔ آپریشن کونڈور کے نام سے چلنے والے منصوبے کے تحت امریکی سی آئی اے دامے درمے سخنے اس کام میں حصہ لیتی رہی۔ اس عمل میں شریک فوجی افسروں کی تربیت دی سکول آف دی امریکاز میں کی گئی۔

اس نئی آمریت کی وجہ سے اگرچہ کچھ استحکام پہنچا اور بہت سارے عوامی منصوبے کامیابی سے پورے کیے گئے۔ لیکن جلد ہی اس کا نتیجہ بیرونی قرضے میں انتہائی تیزی سے اضافے اور معیارِ زندگی میں گرواٹ کی صورت میں نکلا۔ صنعتی عمل کو روکنے کے نتیجے میں پیسو کی قدر گر گئی اور جائداد کا کاروبار بیٹھ گیا۔ رشوت ستانی میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ فاک لینڈ میں برطانیہ کے ہاتھوں ہونے والی 1982 کی شکست سے فوجی حکومت ناکام ہوئی اور 1983 میں آزاد اور منصفانہ انتخابات ہوئے۔

راؤل الفانسن کی حکومت نے لاپتہ افراد کی واپسی، مسلح افواج پر حکومت کی بالادستی اور مستحکم جمہوری اداروں کے لیے اقدات اٹھائے۔ تینوں فوجی حکومتوں کے اراکین پر مقدمہ چلا کر انہیں عمر قید میں ڈال دیا گیا۔ تاہم پچھلی حکومت کے چھوڑے ہوئے بیرونی قرضہ جات کی وجہ سے ارجنٹائن کی حکومت ملکی قرض خواہوں اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط کو ماننے پر مجبور تھی۔ نتیجتاً ملکی قرضوں اور عوامی فلاح کے منصوبوں کی بجائے بیرونی قرضے کو اتارنے کو ترجیح دی گئی۔ اہم معاشی صورت حال بہتر نہ ہونے کی وجہ سے الفانسن کی حکومت عوام میں اعتماد کھو بیٹھی۔ 1989 میں کرنسی کے بحران کے نتیجے میں قیمتوں میں اچانک 15 گنا کا ہوش رُبا اضافہ ہوا۔ الفانسن کو مقررہ مدت سے پانچ ماہ قبل ہی رخصت ہونا پڑا۔

نئے منتخب صدر کارلوس منم نے نجکاری شروع کی اور 1990 میں افراطِ زر کی ایک اور بہتات کے بعد انہوں نے ماہر معاشیات ڈومینگو کوالو سے رابطہ کیا۔ نتیجتاً پیسو کی قدر کو ڈالر سے جوڑ دیا گیا۔ نئی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کاری بڑھنے لگی۔ نجکاری کا عمل تیز کر دیا گیا۔ 1990 کی دہائی میں زیادہ تر ترقی کا عمل تیز رہا لیکن اس کے بدلے حکومت کو ڈالر کی ریل پیل دکھانی پڑی۔ اس سے بیرونی قرضے میں مزید اضافہ ہوا۔ معاشی صورت حال بد سے بدتر ہوتی چلی گئی۔ ان مسائل اور بڑھتی ہوئی بدعنوانی سے صدر کی ساکھ متائثر ہوئی۔

صدر فرنانڈہ ڈی لا روا کو تباہ حال ملک کی حکومت ملی۔ ان کے دور میں ملک 1890 کے بعد کے بدترین معاشی بحران کا شکار ہوا۔ ہر طرف توڑ پھوڑ شروع ہو گئی اور سرمایہ کاروں نے باہر کا رخ کرنا شروع کر دیا۔ عوام اور نفاذ قانون کے ادارے (پاکستان) کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں بالاخر صدر کو عہدہ چھوڑنا پڑا۔

دو ہفتوں کے دوران تین صدور تبدیل ہوئے۔ آخرکار 2 جنوری 2002 کو قانون ساز اسمبلی نے عبوری صدر کا تقرر کیا۔ ارجنٹائن معاشی اعتبار سے دیوالیہ ہوا اور امریکی ڈالر سے ملکی کرنسی کا رشتہ ٹوٹ گیا۔ ملکی کرنسی کی شرح اچانک گر گئی اور افراطِ زر کی شرح میں ہوش ربا اضافہ ہوا۔ تاہم ایک سال تک مسلسل مظاہروں اور احتجاجوں کے بعد معاشی صورت حال بہتر ہونے لگی اور بینکوں سے پیسے نکلوانے پر پابندی دسمبر 2002 میں اٹھا لی گئی۔

انتہائی بے قدری کی شکار ملکی کرنسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت نے صنعتی ترقی پر توجہ دی اور درآمدات کو کم کرتے ہوئے برآمدات کو بڑھایا۔ تجارتی خسارہ ختم ہوا اور معاشی بہتری میں تسلسل آیا۔ مئی 2003 میں نئے صدر کا انتخاب ہوا۔ ان کے دور میں ارجنٹائن نے دیوالیہ پن کا سبب بننے والے قرضوں کا نظام درست کیا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے قرضے ادا کیے اور ملکی قرض خواہوں سے قرض کی ادائیگی کے معاہدے کیے۔

اس وقت سے ارجنٹائن معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ افراطِ زر کا بھی شکار ہے۔ 2007 میں صدر نے اپنی بیوی کے لیے راہ چھوڑ دی جو ارجنٹائن کی پہلی منتخب صدر بنیں۔ تاہم ان کی معاشی پالیساں ناکامی کا شکار ہوئیں اور انہیں اپنے خاوند کی پالیساں اپنانے پر مجبور ہونا پڑا۔ 15 جولائی 2010 کو ارجنٹائن لاطینی امریکا کا پہلا جبکہ جنوبی نصف کرے کا دوسرا ملک بنا جہاں ہم جنسوں کے درمیان شادی کو قانونی بنا دیا گیا۔

ایگزیکٹو پاور صدر اور اس کی کابینہ کے پاس ہوتی ہے۔ صدر اور نائب صدر براہ راست 4 سال کے لیے چنے جاتے ہیں اور دو بار سے زیادہ منتخب نہیں ہو سکتے۔ کابینہ کے وزراء کا تقرر صدر کرتا ہے اور اس کی منظوری مقننہ سے لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ موجودہ صدر کرسٹینا فرنینڈز ڈی کرچنر جبکہ نائب صدر جولیو کوبس ہیں۔

قانون سازی کا اختیار دو ایوانوں پر مشتمل نیشنل کانگریس کے پاس ہوتا ہے۔ ایک ایوان سینٹ ہے جس میں 72 اراکین جبکہ دوسرا ایوان چیمبر آف ڈپٹیز ہے جس کے 257 اراکین ہیں۔ چیمبر آف ڈپٹیز کے اراکین کو 4 سال کے لیے عام انتخابات میں چنا جاتا ہے اور نصف اراکین کو دو سال بعد دوبارہ انتخاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہر سیاسی جماعت کے امیدواروں کی ایک تہائی تعداد کا خواتین ہونا لازمی ہے۔

عدلیہ ایگزیکٹو اور مقننہ سے آزاد ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ کے 7 اراکین ہوتے ہیں جنہیں صدر سینٹ سے مشورے سے مقرر کرتا ہے۔ دیگر تمام ماتحت عدلیہ میں ججوں کا تقرر کونسل آف میجسٹریٹس آف دی نیشن کرتی ہے جس میں ججوں، وکلا، کانگریس اور ایگزیکٹو کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔ 1853 میں اعلان کے باوجود 1880 تک بیونس آئرس کو سرکاری طور پر دار الحکومت نہیں مانا گیا۔ 1994 کی آئینی ترمیم کے تحت بیونس آئرس کو خود مختاری دے دی گئی تاہم وفاقی پولیس، بندرگاہ اور دیگر اہم سرکاری تنصیبات کو حکومت ہی سنبھالتی ہے۔

ارجنٹائن میں کل 23 صوبے اور ایک خود مختار شہر ہیں۔ بیونس آئرس کے صوبے کو 134 انتظامی حصوں جبکہ دیگر صوبوں کو 376 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

ارجنٹائن مرکوسر کا مکمل رکن ہے۔ 2003 سے ارجنٹائن نے مرکوسر کو قومی سطح سے بلند قانون ساز اختیارات دینے کے حق میں مہم جاری رکھی ہے تاہم 1990 کی دہائی میں ارجنٹائن امریکا کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتا تھا۔ ارجنٹائن انٹارکٹک ٹریٹی سسٹم کا بانی رکن ہے اور اس نظام کا سیکریٹریٹ بیونس آئرس میں ہی قائم ہے۔

طویل عرصے سے ارجنٹائن نے فاک لینڈ جزیرے، جنوبی جارجیا اور جنوبی سینڈوچ جزیروں پر اپنا دعوٰی کیا ہوا ہے۔ یہ جزائر برطانیہ کے زیرِ انتظام ہیں۔ اس کے علاوہ ارجنٹائن انٹارکٹیکا کے تقریباً دس لاکھ مربع کلومیٹر حصے پر اپنا دعوٰی بھی کرتا ہے تاہم انہی میں سے کچھ علاقوں پر چلی اور برطانیہ بھی دعوٰی کرتے ہیں۔ 1904 سے باہمی رضامندی سے ارجنٹائن نے انٹارکٹیکا میں اپنی سائنسی تجربہ گاہ برقرار رکھی ہوئی ہے۔ اگرچہ غیر قانونی ٹرالروں، متنازع علاقوں میں فوجی کارروائی کی دھمکیاں محض استثنائی صورتیں ہیں۔ بصورتِ دیگر ارجنٹائن کی خارجہ پالیسی اس سے ہٹ کر ہے۔

ارجنٹائن کی مسلح افواج بری، بحری اور فضائی افواج پر مشتمل ہیں اور ان میں حاضر سروس فوجیوں کی کل تعداد 70٫000 ہے۔ صدر مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کا درجہ رکھتا ہے۔ وزارتِ دفاع روز مرہ کے کاموں کے حوالے سے فوجی معاملات کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ وزارتِ داخلہ کے زیرِ انتظام بحری حدود کی حفاظت اور ملکی سرحدوں کی نگرانی کے لیے دو الگ مسلح افواج بھی موجود ہیں۔ فوجی ملازمت کے لیے 18 سال کم از کم حدِ عمر ہے جبکہ جبری فوجی تربیت ہر شہری پر لازمی نہیں۔

تاریخی اعتبار سے خطے میں ارجنٹائن کی افواج بہترین ساز و سامان کے ساتھ سرِفہرست ہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں فوجی اخراجات میں کمی کی گئی ہے۔ ارجنٹائن دفاع پر تقریباً 3 ارب ڈالر سالانہ خرچ کرتا ہے۔ مسلح افواج کے دستے ہیٹی اور قبرص میں قیامِ امن کے لیے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

ارجنٹائن کل 23 صوبوں اور ایک خود مختار شہر پر مشتمل ہے۔ ان صوبوں اور شہر کے اپنے آئین ہیں لیکن وفاقی نظام کے تحت کام کرتے ہیں۔

آرکٹک کے دعوٰی کو چھوڑ کر ارجنٹائن کا کل رقبہ 27٫66٫891 مربع کلومیٹر ہے جس میں 30٫200 مربع کلومیٹر آبی ہے۔ شمالاً جنوباً ارجنٹائن کی لمبائی 3٫900 کلومیٹر کے قریب جبکہ شرقاً غرباً 1٫400 کلومیٹر ہے۔ ملک میں چار مختلف علاقے ہیں جن میں زرخیز وسطی میدان، نسبتاً پہاڑی، تیل کی دولت سے مالامال جنوبی سطح مرتفع، شمالی مسطح میدان اور چلی کی سرحد کے قریب مغربی انڈیز پہاڑی سلسلے شامل ہیں۔

ملک کا بلند ترین مقام سطح سمندر سے 22٫841 فٹ بلند ہے جو جنوبی اور مغربی نصف کروں میں سب سے بلند ہے۔ سب سے نشیبی علاقہ سطح سمندر سے 105 میٹر نیچے ہے۔

اہم دریاؤں میں پرانا، پل کومیاؤ، پیراگوئے، برمیجو، کولوراڈو، ریو نیگرو، سالاڈو اور یوراگوئے اہم ہیں۔

ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے بحرِ اوقیانوس کا 4٫665 کلومیٹر طویل ساحل ملکی باشندوں کی تفریح گاہ کا درجہ رکھتا ہے۔

عموماً شمال میں نیم استوائی جبکہ جنوب میں قطبی نوعیت کا موسم ہوتا ہے۔ شمال میں گرمیوں کا موسم انتہائی گرم اور مرطوب رہتا ہے جبکہ سردیاں بہت ہلکی ہوتی ہیں۔ وقتاً فوقتاً قحط سالی بھی آتی ہے۔ وسطی ارجنٹائن میں گرمیوں کا موسم گرم اور گرج چمک کے ساتھ طوفان آتے ہیں۔ سردیاں نسبتاً سرد ہوتی ہیں۔ جنوبی علاقے میں ہلکی گرمیاں اور سردیوں میں سخت برفباری ہوتی ہے۔

جنوبی امریکا کے براعظم کے کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت ارجنٹائن میں ریکارڈ ہوئے ہیں۔ 2 جنوری 1920 کو سب سے زیادہ درجہ حرارت 49.1 ڈگری جبکہ 17 جولائی 1972 کو سب سے کم درجہ حرارت -39 ڈگری شمار کیا گیا تھا۔

انتہائی جنوبی علاقوں میں نومبر سے فروری تک دن 19 گھنٹے طویل بھی ہوتا ہے اور مئی سے اگست تک راتیں طویل ہوتی ہیں۔

شمال میں نیم استوائی نباتات ملتی ہیں۔ ان میں شیشم کی نسل کے درخت اہم ہیں۔ سوانا کی نباتات انڈیز پہاڑوں کے نزدیک خشک حصوں میں موجود ہیں۔ مرطوب علاقوں میں آبی نباتات بھی ملتی ہیں۔ وسطی ارجنٹائن میں لمبی گھاس کے میدان پائے جاتے ہیں۔ وسطی علاقے میں ابتدا میں کوئی درخت نہیں تھے لیکن بعد میں سفیدہ وغیرہ جیسے درختوں کو سڑکوں کے کنارے اور قصبوں میں لگائے گئے ہیں۔ اس علاقے میں مٹی کا رنگ کالا سیاہ ہے۔ اسی وجہ سے یہ علاقہ پورے کرہ ارض پر زرخیز ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ تاہم تجارتی پیمانے پر زراعت کی خاطر دیگر نباتات کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ یہاں کل 29 نیشنل پارک ہیں۔

وہ علاقہ جو انڈیز پہاڑوں کے سائے میں موجود ہے، وہاں کی نباتات زیادہ تر گھاس پھونس اور جڑی بوٹیوں پر مشتمل ہے جو خشک سالی کو برداشت کر سکتی ہے۔ زمین سخت اور پتھریلی ہے جس کی وجہ سے زراعت دریاؤں کے کناروں تک ہی محدود ہے۔ کچھ علاقوں میں کونی فیرس جنگلات بھی پائے جاتے ہیں۔ چوڑے پتوں والے درخت بھی یہاں عام ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ محکمہ جنگلات نے بھی بڑے پیمانے پر دیگر ممالک کے درخت یہاں اگائے ہیں۔

نیم بنجر علاقے کی خاردار جھاڑیاں اور دیگر ایسی نباتات جو پانی کی کمی کو برداشت کر سکیں بھی بکثرت ملتی ہیں۔ اس علاقے میں بڑے پیمانے پر انگوروں کی کاشت بھی فائدے مند ہے۔ شمال مغربی ارجنٹائن میں کیکٹس کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں۔ تاہم 4٫000 میٹر یعنی 13٫000 فٹ سے زیادہ بلندی پر نباتات نہیں اگتیں۔

کئی انواع نیم استوائی شمال میں بھی ملتی ہیں۔ اہم جانوروں میں جیگوار، پوما اور جنگلی بلی، بندر، مگرمچھ وغیرہ بھی ملتے ہیں۔ دیگر جانوروں میں ٹیپر، سؤر کی کئی اقسام، جنگلی کتا، ریکون اور کچھوؤں کی ڈھیروں اقسام شامل ہیں۔ پرندوں میں ہمنگ برڈ، لم ڈھینگ، ٹوکن اور ابابیل وغیرہ اہم ہیں۔

وسطی میدانوں میں آنٹ ایٹر، آرمیڈلو، جنگلی بلی، بھیڑیئے اور ریا (بغیر پرواز والا پرندہ)، باز، عقاب، بگلے، ہرن اور لومڑیاں بھی پائی جاتی ہیں۔

مغربی پہاڑ کئی جانوروں بشمول لاما، گوانکو اور ویکونیا اہم ہیں۔ اس کے علاوہ خرگوش، پہاڑی بلی اور انڈیز کے گدھ اہم ہیں۔

جنوبی علاقوں میں کوگر یعنی پہاڑی شیر، ہومل، پڈو یعنی دنیا کا سب سے چھوٹا ہرن اور جنگلی سؤر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ساحلی علاقوں میں ایلیفنٹ سیل، فر سیل، سمندری بچھڑے اور پینگوئن بھی ملتے ہیں۔

ارجنٹائن کے علاقائی سمندر میں بحری حیات بکثرت ہے۔ وہیل، ڈالفن وغیرہ عام ملتی ہیں۔ سارڈین، سامن اور شارکیں بھی پائی جاتی ہیں۔ سکوئیڈ اور شاہی کیکڑا بھی ملتے ہیں۔ دریاؤن اور ندیوں میں ٹراؤٹ بھی ملتی ہے۔ اژدہے جیسا کہ بوا، دیگر سانپ جیسا کہ وائپر وغیرہ بھی پائے جاتے ہیں۔

ارجنٹائن کی معیشت مارکیٹ پر انحصار کرتی ہے اور قدرتی ذرائع بکثرت ہیں۔ آبادی اعلٰی تعلیم یافتہ ہے اور زراعت کا شعبہ برآمدات کے لیے اہم جبکہ صنعتی شعبے میں تنوع پایا جاتا ہے۔

ملک میں خدمات کا شعبہ ملکی معیشت میں 59 فیصد جبکہ روزگار میں 72 فیصد نوکریاں مہیا کرتا ہے۔ مینوفیکچرنگ بالترتیب 21 اور 13 فیصد جبکہ زراعت میں بالترتیب 9 فیصد اور 7 فیصد ہیں۔ تعمیرات، کان کنی اور عوامی سہولیات بقیہ حصہ پورا کرتی ہیں۔ زراعت بشمول پراسیسڈ خوراک، 2010 کی برآمدات کے 54 فیصد پر مشتمل تھا۔ اسی سال صنعتی شعبے نے 35 فیصد برآمدات مہیا کیں۔

افراطِ زر کی بلند شرح ارجنٹائن کی معیشت میں کئی دہائیوں تک مسئلہ بنی رہی ہے۔

اپنے ہمسائے چلی کے بعد ارجنٹائن انسانی ترقی کے اعشاریئے اور فی کس آمدنی کے اعتبار سے لاطینی امریکا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ارجنٹائن جی 20 کا بھی رکن ہے۔ عالمی بینک کے مطابق ارجنٹائن بالائی متوسط آمدنی والا ملک ہے۔

ارجنٹائن کی معیشت 1875 میں زرعی برآمدات میں اچانک اضافے کے ساتھ اور یورپی سرمایہ کاری اور تارکینِ وطن کی آمد کے ساتھ ترقی کرنے لگی۔ تاہم یہ عروج 1930 میں اپنے اختتام کو پہنچا۔ اندرونی عدم استحکام اور عالمی رحجانات کی وجہ سے 1913 میں ارجنٹائن جو دنیا کے دس امیر ترین ممالک میں سے ایک تھا، 2010 میں 62ویں نمبر پر چلا گیا۔ اگرچہ اس بارے زیادہ تحقیق نہیں کی گئی تاہم بے پناہ قرضے، معاشی عدم استحکام، ضرورت سے زیادہ قوانین، آزادانہ تجارت پر پابندی اور بدعنوانی اہم ترین وجوہات میں شامل ہیں۔

ارجنٹائن نے ڈھیروں ڈاکٹر، سائنس دان اور موجد دنیا کو دیے ہیں۔ ان میں تین نوبل انعام یافتہ بھی شامل ہیں۔ ارجنٹائن کے محققین نے زخموں کے علاج، امراضِ قلب کے علاج اور کئی اقسام کے کینسروں کے علاج دریافت کیے ہیں۔ ڈومینگو لیوٹا نے پہلی بار مصنوعی انسانی دل بنایا جس کی کامیاب پیوند کاری کی گئی۔ رینے فوالورو نے دنیا میں پہلی بار بائی پاس سرجری اور اس کے طریقے متعارف کرائے۔ فرانسسکو ڈی پیڈرو نے زیادہ بہتر مصنوعی پیس میکر بنایا۔

برنارڈو ہوسے لاطینی امریکا کے پہلے نوبل انعام یافتہ فرد ہیں۔ انہوں نے جانوروں میں گلوکوز پر پچوٹری غدود کے کردار کا جائزہ لیا۔ قیصر ملسٹین نے اینٹی باڈیز پر وسیع تحقیق کی۔ لوئیس لیلوئر نے دریافت کیا کہ جانداروں میں کیسے گلوکوز کو گلائی کوجن میں بدلا جاتا ہے اور کون کون سے بنیادی اجزاء نشاستے کو میٹابولائز کرنے کے کام آتے ہیں۔ لیلوئر انسٹی ٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی لاطینی امریکا اور دنیا بھر میں اپنی نوعیت کے اعلٰی ترین اداروں میں سے ایک ہے۔

ڈاکٹر لوئیس اگوٹ نے پہلی بار محفوظ طریقے سے انتقالِ خون ممکن بنایا۔ انریک فنوچیٹو نے مختلف جراحی اوزار بنائے۔ اس کے علاوہ ارجنٹائن نے پہلی بار کسی جاندار کے جینوم کا نقشہ تیار کیا جو دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا پہلا تھا۔ اس کے علاوہ انسانی جینوم پراجیکٹ میں بھی ارجنٹائن کا اہم کردار رہا ہے۔

ارجنٹائن کا ایٹمی پروگرام انتہائی ترقی یافتہ ہے۔ 1957 میں ارجنٹائن نے تحقیقی مقاصد کے لیے ری ایکٹر بنایا۔ 1974 میں لاطینی امریکا کا پہلا تجارتی پیمانے کا ری ایکٹر ارجنٹائن نے تیار کیا تھا۔ ارجنٹائن کے ایٹمی پروگرام میں بیرونی معاونت اتنی زیادہ نہیں۔ ارجنٹائن کی ٹیکنالوجی پر بنائے گئے ایٹمی ری ایکٹر پیرو، الجزائر، آسٹریلیا اور مصر میں کام کر رہے ہیں۔ 1983 میں ارجنٹائن نے اعلان کیا کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں میں استعمال ہونے والی یورنیئم تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ تاہم اس کے بعد ارجنٹائن نے اعلان کیا کہ وہ ایٹمی ٹیکنالوجی کو صرف اور صرف پُر امن مقاصد کے لیے استعمال کریں گے۔ بین الاقوامی ایٹمی ادارے میں ارجنٹائن بورڈ آف گورنرز میں شامل ہے۔

اس کے ایک کروشین تارکِ وطن نے فنگر پرنٹ ٹیکنالوجی کی بنیاد ڈالی۔ پال پیسکارا نے پہلی بار ہیلی کاپٹر کی کامیاب آزمائشی پرواز کی۔ ہنگری اور ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے لازلو بیرو نے پہلی بار تجارتی پیمانے پر بال پوائنٹ پن بنائے۔ ایڈوراڈو ٹاروزی نے پہلا پینڈولر کمبشن انجن بنایا۔ جوان مالڈیسنا جو ارجنٹائن اور امریکا سے تعلق رکھتے ہیں، سٹرنگ تھیوری کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔ اس کے علاوہ ارجنٹائن مصنوعی سیارے بنانے کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

کینیڈا، آسٹریلیا اور امریکا کی طرح ارجنٹائن بھی تارکین وطن کا ملک سمجھا جاتا ہے۔ زیادہ تر افراد یورپی النسل ہیں جو نوآبادیاتی دور میں یہاں آئے تھے۔ یورپی النسل افراد کی تعداد کے حوالے سے امریکا کے بعد ارجنٹائن میں سب سے زیادہ افراد آن بسے ہیں۔ ان کی اکثریت اٹلی اور سپین سے آئی تھی۔

حالیہ غیر قانونی امیگریشن زیادہ تر بولیویا اور پیراگوئے سے ہو رہی ہے جبکہ پیرو، ایکواڈور اور رومانیہ سے بھی تھوڑے بہت لوگ آتے ہیں۔

آئین کے مطابق ہر مذہب کے پیروکاروں کو آزادی ہے جبکہ معاشی حوالے سے حکومت کو رومن کیتھولک مذہب کی مدد کرنی ہوتی ہے۔ 1994 سے قبل تک صدر اور نائب صدر کا رومن کیتھولک ہونا لازمی تھا تاہم دیگر سرکاری عہدوں پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ 1945 سے اہم کلیدی عہدوں پر مختلف مذاہب کے افراد فائز ہونے لگ گئے تھے۔

عالمی مسیحی ڈیٹابیس کے مطابق ارجنٹائن میں 92.1 فیصد مسیحی، 3.1 فیصد غیر یقینی، 1.9 فیصد مسلمان، 1.3 فیصد یہودی، 0.9 فیصد لادین اور اتنے ہی بدھ مت اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھتے تھے۔

ملک کی سرکاری زبان کا ڈی فیکٹو درجہ ہسپانوی کو ملا ہوا ہے۔

دوسری بڑی بولی اطالوی ہے جسے 15 لاکھ افراد بولتے ہیں۔ 10 لاکھ افراد عربی جبکہ چار سے پانچ لاکھ افراد جرمن بولتے ہیں۔

ارجنٹائن کی آبادی کا زیادہ تر حصہ شہروں میں رہتا ہے۔ دس بڑے شہروں میں ملکی آبادی کا نصف حصہ رہتا ہے۔ ہر دس میں سے تقریباً ایک شخص دیہات میں رہتا ہے۔ بیونس آئرس ہی میں تیس لاکھ سے زیادہ افراد رہتے ہیں۔ گریٹر بیونس آئرس علاقے میں ایک کروڑ تیس لاکھ افراد رہتے ہیں۔

صوبوں کے درمیان آبادی کی تقسیم یکساں نہیں۔ پمپا کے صوبے میں کل ملکی آبادی کا 60 فیصد رہتا ہے۔ کچھ صوبوں میں تیس تیس لاکھ جبکہ دیگر میں دس لاکھ فی صوبہ آبادی کی اوسط بنتی ہے۔

زیادہ تر یورپی النسل افراد شہروں میں بس گئے تھے۔ بہت سارے چھوٹے قصبے ریل کی پٹڑی کی تعمیر کے ساتھ ساتھ تعمیر ہوتے گئے۔

آزادی کے بعد سے ارجنٹائن نے اپنا آزادانہ تعلیمی نظام بنایا تھا جس سے شرحِ تعلیم میں بہت اضافہ ہوا۔ اس وقت 97 فیصد افراد خواندہ ہیں۔

زیادہ تر تعلیمی نظام کو ٹیکس دہندگان کی مدد سے چلایا جاتا ہے۔ بہت سارے پرائیوٹ پرائمری، سیکنڈری اسکول اور یونیورسٹیاں بھی یہاں موجود ہیں۔

صحتِ عامہ آجروں اور لیبر یونین کی مدد سے مہیا کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ حکومتی انشورنس، عوامی ہسپتال اور کلینک کے علاوہ پرائیوٹ انشورنس بھی موجود ہیں۔

ارجنٹائن میں کل 1٫53٫000 ہسپتالوں کے بیڈ، 1٫21٫000 ڈاکٹر اور 37٫000 ڈینٹسٹ ہیں جو ترقی یافتہ ممالک کے برابر کی شرح ہیں۔




#Article 87: آرمینیا (170 words)


آرمینیا (Armenia) کا سرکاری نام جمہوریہ آرمینیا ہے۔ یہ ایک زمین بند ملک ہے جو یوریشیا میں قفقاز کے خطے میں واقع ہے۔ اس کے مغرب میں ترکی، شمال میں جارجیا، مشرق میں آذربائیجان اور جنوب میں ایران کے ممالک واقع ہیں۔

ارمینیا قفقاز کے علاقے میں واقع ہے۔ یہ ملک سوویت یونین کا سب سے چھوٹی جمہوریہ تھا..

آرمینیا بنیادی طور پر گیارہ انتظامی علاقوں میں تقسیم ے۔ دس علاقے دس صوبہ جات ہیں جبکہ گیارہوں دار الحکومت الگ سے انتظامی علاقہ ہے۔ 23 اگست، 1990 کو، اس نے آزادی کا اعلان کیا اور 25 دسمبر، 1991 کو سرکاری طور پر ایک آزاد سوویت یونین بن گیا۔ ارمنیا ایک جمہوریہ جمہوریہ ہے۔ موجودہ وزیر اعظم نیکول پاشینن ہے۔ ارمنیا میں 10 صوبوں پر مشتمل ہے۔ آرمینیا میں سب سے زیادہ پہاڑ Arguts ہے۔ جھیل سوان (اس ملک کے مغرب) اور لیف Arpi (اس ملک کے شمال). دریا اراس ملک کے جنوب میں ہے۔ 301 عیسوی میں عیسائیت کو مذہب کے طور پر قبول کرنے کا پہلا ملک آرمینیا تھا.




#Article 88: آسٹریا (3021 words)


آسٹریا (Austria) جسے سرکاری طور پر جمہوریہ آسٹریا بھی کہتے ہیں، برِ اعظم یورپ کے وسط میں واقع خشکی سے گھرا ہوا ایک ملک ہے۔ اس کی کل آبادی 83 لاکھ ہے۔ اس کے شمال میں جرمنی اور چیک ریپبلک، مشرق میں سلواکیا اور ہنگری، جنوب میں سلوانیا اور اٹلی جبکہ مغرب میں سوئٹزرلینڈ اور لیچٹنسٹائن کے ممالک واقع ہیں۔ آسٹریا کا کل رقبہ 83٫872 مربع کلومیٹر ہے۔ آسٹریا کی سرزمین بلند پہاڑوں پر مشتمل ہے اور یہاں ایلپس پہاڑی سلسلہ واقع ہے۔ ملک کا 32 فیصد رقبہ سطح سمندر سے 500 میٹر سے کم بلند ہے۔ اس کا بلند ترین مقام 3٫797 میٹر بلند ہے۔ آبادی کی اکثریت جرمن زبان بولتی ہے اور اسے ملک کی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ دیگر مقامی زبانوں میں کروشین، ہنگری اور سلوین ہیں۔

آسٹریا کی بنیادیں ہمیں رومن دور سے ملتی ہیں۔ جب 15 ق م میں سیلٹک سلطنت پر رومنوں نے قبضہ کیا تو اسے ایک صوبہ بنا دیا۔ پہلی صدی عیسوی میں یہ سارا علاقہ آج کے آسٹریا کے زیادہ تر حصوں پر مشتمل تھا۔ 788 عیسوی میں یہاں مسیحیت متعارف کرائی گئی۔ ہپسبرگ شہنشاہیت کے دوران آسٹریا کو یورپ کی بڑی طاقتوں میں سے ایک شمار کیا جانے لگا۔ 1867ء میں آسٹرین سلطنت کی جگہ آسٹریا-ہنگری نے لے لی۔

پہلی جنگِ عظیم کے اختتام پر 1918ء میں آسٹرو- ہنگرین سلطنت کا زوال ہوا۔ 1919ء میں پہلی آسٹرین جمہوریہ قائم ہوئی۔ 1938ء میں نازی جرمنی نے اس پر قبضہ کر کے اپنے اندر شامل کر لیا۔ یہ قبضہ دوسری جنگِ عظیم کے اختتام تک یعنی 1945 تک جاری رہا جس کے بعد آسٹریا پر اتحادیوں کا قبضہ ہو گیا اور انہوں نے آسٹریا کی خود مختار جمہوری حیثیت بحال کر دی۔ اسی سال آسٹریا کی پارلیمان نے ایک اعلان جاری کیا جس کے تحت آسٹریا کو مستقل طور پر غیر جانبدار ملک قرار دے دیا گیا۔

آج آسٹریا پارلیمانی جمہوریہ ہے جس میں 9 وفاقی ریاستیں شامل ہیں۔ اس کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ویانا ہے جس کی آبادی 16 لاکھ سے زیادہ ہے۔ آسٹریا کو دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک مانا جاتا ہے اور فی کس آمدنی 43٫723 ڈالر سالانہ ہے۔ آسٹریا میں معیارِ زندگی بہت بلند ہے اور 2010ء میں اسے دنیا بھر میں انسانی ترقی کے اعشاریے کے مطابق 25واں درجہ دیا گیا۔ آسٹریا 1955 سے اقوامِ متحدہ کا رکن ہے۔ 1995ء میں یہ یورپی یونین کا رکن بنا۔ 1995ء ہی میں آسٹریا نے شینجن معاہدے پر دستخط کیے اور 1999ء میں یورو کو اپنا لیا۔

جرمن زبان میں آسٹریا کو آسٹریچ کہتے ہیں۔ یہ لفظ پہلی بار 966 عیسوی میں استعمال کیا گیا۔ یہ لفظ مقامی زبان باویرین میں مشرقی سرحدی علاقے  کو ظاہر کرتا ہے۔ لفظ آسٹریا دراصل اسی جرمن لفظ کو لاطینی بنانے سے وجود میں آیا ہے۔ یہ لفظ پہلے پہل 12ویں صدی عیسوی میں استعمال ہوا۔

قدیم زمانے سے آباد وسطی یورپ کی سرزمین جو آج آسٹریا کہلاتی ہے، دراصل رومن دور سے قبل مقامی سیلٹک قبائل کی آماج گاہ تھی۔ سیلٹک سلطنت پر بعد ازاں رومنوں نے قبضہ کر لیا اور اسے اپنی سلطنت میں بطور صوبہ شامل کر لیا۔

رومن بادشاہت کے زوال پر اس علاقے پر باویری، سلاویس اور آوارس قبائل نے حملے جاری رکھے۔ سلاویک قبائل پہاڑوں میں منتقل ہو گئے جو مشرقی اور وسطی آسٹریا میں موجود ہیں۔ 788 عیسوی میں یہاں مسیحیت متعارف کرائی گئی۔

بعد ازاں آسٹریا نے فرانس کے ساتھ جنگ چھیڑ دی۔ نپولن کے ہاتھوں بتدریج شکستوں کے بعد 1806 میں رومن سلطنت زوال پزیر ہو گئی۔ دو سال قبل 1804ء میں آسٹریا کی سلطنت قائم ہوئی۔ 1814ء میں آسٹریا اتحادیوں کے ساتھ فرانس پر حملہ آور ہوا اور نپولن کو شکست دی۔

سراجیو کے مقام پر 1914ء میں شہزادہ فرانز فریڈینڈ کے قتل کو آسٹریا کے سیاست دانوں اور جنرلوں نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے شہنشاہ کو سربیا کے خلاف جنگ چھیڑنے پر مجبور کیا۔ نتیجتاً پہلی جنگِ عظیم شروع ہوئی اور آسٹریا-ہنگری کی سلطنت ختم ہو گئی۔ آسٹریا-ہنگری کے 10 لاکھ سے زیادہ فوجی اس جنگ میں مارے گئے۔

سینٹ جرمین کے معاہدے کے تحت 1919ء میں وسطی یورپ کی تشکیلِ نو کی گئی۔ اس کے نتیجے میں نئی ریاستیں بنیں جبکہ پہلے سے موجود ریاستوں کی شکل بدلی گئی۔ 30 لاکھ سے زیادہ جرمنوں نے خود کو آسٹریا کی حدود سے باہر دیگر نئی ریاستوں جیسا کہ چیکو سلاویکیا، یوگوسلاویا، ہنگری اور اٹلی کی اقلتیں پایا۔ 1918ء اور 1919ء کے دوران آسٹریا کو جرمن آسٹریا کہا جاتا تھا۔ تاہم بعد ازاں اتحادی طاقتوں نے جرمن آسٹریا کو جرمنی کا حصہ بننے سے روکا اور اسے جمہوریہ آسٹریا بنا دیا۔

جنگ کے بعد افراطِ زر نے آسٹریا کی کرنسی کرون کی قیمت کو گھٹانا شروع کر دیا۔ 1922ء کے موسمِ خزاں میں لیگ آف نیشن کی زیرِ نگرانی آسٹریا کو بین الاقوامی قرضہ ملا۔ اس قرضے کا مقصد ملکی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچانا، کرنسی کی قیمت کو استحکام دینا اور عام معاشی صورت حال کو بہتر بنانا تھا۔ تاہم اس قرضے کے نتیجے میں آسٹریا ایک آزاد ملک کی بجائے لیگ آف نیشن کے زیرِ انتظام چلا گیا۔ 1925ء میں کرون کی جگہ شلنگ نے لے لی۔ 10٫000 کرون ایک شلنگ کے برابر تھے۔ بعد ازاں اس کی مستحکم حالت کی وجہ سے اسے الپائن ڈالر کہا گیا۔ 1925ء سے 1929ء تک معیشت نے ترقی کی لیکن پھر بلیک فرائی ڈے آ گیا۔

آسٹریا کی پہلی جمہوریہ 1933ء تک چلی جس کے بعد چانسلر نے پارلیمان کو برطرف کر دیا۔ نتیجتاً اٹلی کے فاشسٹوں کی حامی حکومت بنی۔ اس وقت دو بڑی سیاسی جماعتیں کام کر رہی تھیں اور دونوں کی اپنی نیم فوجی ملیشیائیں تھیں۔ اس کے بعد خانہ جنگی شروع ہو گئی۔

بعد میں آسٹریا کی آزاد حیثیت ختم ہو گئی۔ آسٹریا کے یہودیوں کے خلاف قانون بنا دیا گیا جس کے تحت ان کے تمام اثاثے چھین لیے گئے۔ 13 اپریل 1945ء میں ویانا روس کے قبضے میں چلا گیا۔

جرمنی ہی کی طرح آسٹریا کے مختلف حصوں پر مختلف اتحادی ممالک قابض تھے۔

آسٹریا کی پارلیمان ویانا میں ہے۔ یہ شہر ملک کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر بھی ہے۔ 1920ء کے ائین کے مطابق آسٹریا وفاقی، پارلیمانی، جمہوری ریاست ہے۔ ریاستی سربراہ وفاقی صدر ہوتا ہے جسے براہ راست منتخب کیا جاتا ہے۔ وفاقی حکومت کا سربراہ وفاقی چانسلر ہوتا ہے جسے صدر مقرر کرتا ہے۔ حکومت کو صدارتی حکم یا عدم اعتماد کے ووٹ کے بعد ختم کیا جا سکتا ہے۔

آسٹریا کی پارلیمان دو چیمبروں پر مشتمل ہے۔ نینشلارٹ کی کل 183 نشستیں ہوتی ہیں اور عام طور پر ہر 5 سال بعد ان کا انتخاب ہوتا ہے۔ 2007ء سے قانونی طور پر ووٹر کی کم سے کم عمر 16 سال مقرر کی گئی ہے۔

نیشنلارٹ کو مقننہ کی حیثیت حاصل ہے تاہم ایوانِ بالا جسے بنڈسریٹ کہتے ہیں، کے پاس کسی قانون کو مسترد کرنے کا کسی حد تک اختیار ہوتا ہے۔

قانون ساز، ایگزیکٹو کے بعد ریاستی طاقت کا تیسرا ستون عدالت ہے۔ آئینی عدالت قوانین پر بڑی حد تک اثر انداز ہو سکتی ہے یا انہیں مسترد کر سکتی ہے۔ 1995ء کے بعد سے یورپی عدالتِ انصاف اس عدالت کے احکامات کو یورپی یونین کے قوانین کی روشنی میں بدل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ آسٹریا میں یورپی یونین کے انسانی حقوق کی عدالت کا فیصلہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔

اکتوبر 2006ء کے انتخابات کے بعد سوشل ڈیموکریٹ سب سے زیادہ اکثریت والی جماعت بن کر ابھری۔ پیپلز پارٹی کو 8 فیصد کم ووٹ ملے۔ سیاسی مجبوریوں کی بنا پر دونوں ہی جماعتیں دیگر چھوٹی جماعتوں سے مل کر حکومت نہ بنا سکیں۔ جنوری 2007ء میں دونوں بڑی جماعتوں نے آپس میں اتحاد کر کے سوشل ڈیموکریٹ کے رکن کو چانسلر منتخب کر لیا۔ تاہم یہ اتحاد جون 2008ء میں ختم ہو گیا۔ ستمبر 2008ء کے انتخابات سے دونوں بڑی جماعتیں مزید کمزور ہوئیں تاہم دونوں نے مل کر نصف سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ ان کے اتحاد کی بنا پر ایک بار پھر سوشل ڈیموکریٹ کا رکن چانسلر بنے۔

تاہم سویت یونین کے زوال کے بعد آسٹریا نے اپنی غیر جانبدارانہ حیثیت پر نظرِ ثانی کی ہے اور 1991ء میں عراق پر حملے کے لیے اپنی سرزمین پر سے غیر ملکی فوجی طیاروں کو گذرنے کی اجازت دی ہے۔ 1995ء میں بوسنیا میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے لیے بھی آسٹریا نے حصہ لیا ہے۔ اس طرح غیر جانبداری کے قانون کی واحد شق جس پر ابھی تک عمل جاری ہے کے مطابق یہاں غیر ملکی فوجی اڈے نہیں بنے۔

آسٹریا کی مسلح افواج کی افرادی قوت کا زیادہ تر انحصار لازمی فوجی تربیت ہر پے۔ 18 سال کی عمر کے ہر صحت مند مرد پر چھ ماہ کی فوجی خدمات لازمی ہیں۔ اس کے بعد 8 سال تک انہیں ریزرو فوجی کے طور پر رکھا جاتا ہے۔ 16 سال کی عمر کے ہر لڑکے اور لڑکی کو فوجی تربیت میں حصہ لینے کی اجازت ہوتی ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص لازمی فوجی تربیت نہ کرنا چاہے تو اسے اس کے بدلے نو ماہ کی دفتری خدمات سر انجام دینی ہوتی ہیں۔ 1998ء سے رضاکار لڑکیوں کو باقاعدہ فوج میں شامل کیا جانے لگا ہے۔

مسلح افواج دراصل مشترکہ افواج ہیں جن میں بری فوج، ہوائی فوج، بین الاقوامی مشن اور خصوصی دستے وغیرہ شامل ہیں۔ چونکہ آسٹریا ہر طرف سے خشکی سے گھرا ہوا ملک ہے، اس لیے اس کی بحری فوج نہیں ہے۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد آسٹریا اور ہنگری کی سرحد سے فوجی دستوں کو ہٹانا بہت اہم تھا۔ آسٹرین فوجی دستے سرحدی محافظوں کی معاونت کرتے تھے تاکہ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والوں کو روکا جا سکے۔ تاہم جب 2008ء میں ہنگری نے یورپی یونین کے شینجن معاہدے پر دستخط کیے تو ہر قسم کی سرحدیں ختم کر دی گئیں۔ کچھ سیاست دانوں نے تجویز دی کہ فوجی دستے سرحدوں کی نگرانی کا کام جاری رکھیں لیکن آسٹریا کے آئین کے مطابق فوج کو محدود مقدار میں اور مخصوص حالات جیسا کہ ملکی دفاع، ہنگامی حالات میں امدادی کارروائی وغیرہ کے لیے ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دیگر کاموں کے لیے پولیس موجود ہے۔

اپنی بیان کردہ غیر جانبدارانہ حیثیت کے اندر رہتے ہوئے آسٹریا نے اقوامِ متحدہ کے بے شمار قیام امن کے مشنوں میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اس وقت بھی بوسنیا، کوسوو اور گولان کی پہاڑیوں میں آسٹریا کے فوجی دستے قیامِ امن کے لیے موجود ہیں۔

وفاقی جمہوریہ کی حیثیت سے آسٹریا کو نو ریاستوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ ریاستیں آگے مزید ضلعوں اور شہروں میں منقسم ہیں۔ ضلعوں کو بلدیوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر ریاست کو ملک کے اندر رہتے ہوئے کسی حد تک خود مختار فیصلے کرنے کی اجازت ہے اور ثقافت، سوشل کیئر، نوجوانوں اور ماحول کے تحفظ، شکار، تعمیرات وغیرہ جیسے کام کے لیے ریاست کے پاس اختیارات ہوتے ہیں۔ تاہم اس بات پر بحث چل رہی ہے کہ آیا ایک اتنا چھوٹا سا ملک دس الگ الگ پارلیمانوں کے قابل ہے؟

آسٹریا کا زیادہ تر حصہ پہاڑی ہے۔ ان پہاڑوں میں سینٹرل ایسٹرن ایلپس، ناردرن لائم سٹون ایلپس ارو سدرن لائم سٹون ایلپس وغیرہ جزوی طور پر آسٹریا میں واقع ہیں۔ آسٹریا کا تقریباً چوتھائی حصہ ہی نسبتاً کم بلند ہے۔ پورے ملک کا تقریباً 32 فیصد حصہ ہی 500 میٹر سے کم بلند ہے۔ آسٹریا کے مغربی حصے کے پہاڑ بتدریج چھوٹے ہوتے ہوتے ملک کے مشرقی حصے میں میدان بن جاتے ہیں۔

آسٹریا کو پانچ بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ سب سے بڑا حصہ مشرقی ایلپس کا ہے جو ملک کے 62 فیصد حصے پر پھیلا ہوا ہے۔ بلندی اور سطح مرتفع کے اعتبار سے دیگر حصے منقسم ہیں۔

آسٹریا کا زیادہ تر حصے کا موسم سرد رہتا ہے اور اس پر مغربی مرطوب ہواؤں کا اثر رہتا ہے۔ نصف سے زیادہ ملک پر ایلپس پہاڑ موجود ہیں۔ دیگر علاقوں میں نسبتاً کم بارش ہوتی ہے۔ اگرچہ آسٹریا کی سردیاں سرد ہوتی ہیں اور درجہ حرارت صفر سے منفی 10 تک رہتا ہے پھر بھی گرمیاں نسبتاً گرم تر ہوتی ہیں۔ گرمیوں میں درجہ حرارت 20 ڈگری سے 37 ڈگری تک چلا جاتا ہے۔

آسٹریا کو فی کس آمدنی کے اعتبار سے دنیا کا 12واں امیر ترین ملک مانا جاتا ہے۔ یہاں معیارِ زندگی بہت بلند ہے۔ 1980ء کی دہائی تک آسٹریا کی زیادہ تر بڑی صنعتیں قومیا لی گئی تھیں تاہم آج کل ان کی دوبارہ نجکاری کی جا رہی ہے۔ یہاں مزدور تحاریک بالخصوص زوروں پر ہیں۔ صنعتوں کے بعد ملکی معیشت کا اہم ترین ستون سیاحت ہے۔

تاریخی اعتبار سے آسٹریا کے تجارتی روابط جرمنی کے ساتھ بہت گہرے ہیں۔ اسی وجہ سے جرمن معیشت میں ہونے والی تبدیلیوں کا اثر آسٹریا پر بہت گہرا ہوتا ہے۔ تاہم یورپی یونین کا رکن بننے کے بعد آسٹریا کے تجارتی روابط دیگر یورپی ریاستوں سے بڑھے ہیں اور جرمنی پر انحصار کم ہوا ہے۔ مزید براں یورپی یونین کے رکن کی حیثیت سے بیرونی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی بڑھی ہے۔ موجودہ برسوں میں جی ڈی پی کی شرح بڑھی ہے۔ 16 نومبر 2010ء میں آسٹریا نے یونان کو دیے جانے والے قرضے کی قسط روکنے کا اعلان کیا ہے کیونکہ بقول آسٹریا، یونان نے ٹیکس کی وصولی کے وعدے پورے نہیں کیے۔

یکم جنوری 1999ء سے آسٹریا میں یورو کو اپنایا گیا ہے اور یکم جنوری 2002ء سے یہاں یورو کے سکے اور کاغذی نوٹ رائج ہیں۔ عام طور پر جب یورو کے سکے بنائے جاتے ہیں تو وہی سال ان پر لکھا جاتا ہے تاہم آسٹریا میں یورو کے سکے 1999ء میں بننے لگے اور 2002ء میں ان کو استعمال میں لایا گیا اور سکوں پر 2002ء ہی درج تھا۔ آٹھ مختلف سکوں کے لیے الگ الگ نمونے تیار کیے گئے ہیں۔

یورو سے قبل آسٹریا میں شلنگ رائج تھا۔

اس وقت نصف سے زیادہ توانائی آبی ذرائع سے پیدا ہوتی ہے۔ قابلِ تجدید ذرائع جیسا کہ ہوا، شمسی اور حیاتیاتی ذرائع سے چلنے والے پاور پلانٹ دیگر ضروریات پوری کرتا ہے۔ قابلِ تجدید ذرائع سے کل 62.89 فیصد توانائی پیدا ہوتی ہے جبکہ باقی ضروریات تیل اور گیس سے چلنے والے پلانٹ پورا کرتے ہیں۔

جنوری 2009 میں آسٹریا کی کل آبادی 83٫56٫707 افراد تھی۔ دار الحکومت ویانا کی آبادی 16 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

ویانا کے بعد گراز نامی شہر دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہاں 2٫50٫099 افراد رہتے ہین۔ تیسرا بڑا شہر لنز ہے جہاں 1٫88٫968 افراد رہتے ہیں۔ سالزبرگ میں 1٫50٫000جبکہ انسبروک میں 1٫17٫346 افراد رہتے ہیں۔ دیگر تمام شہروں کی انفرادی آبادی ایک لاکھ سے کم ہے۔

جرمنی آسٹریا کی سرکاری زبان ہے اور 88.6 فیصد افراد جرمنی بولتے ہیں۔ ترکی زبان 2.3 فیصد، سربین 2.2، کروشین 1.6 فیصد، ہنگری 0.5 فیصد، بوسنین 0.4 فیصد جبکہ سلوانین زبان کو 0.3 فیصد افراد بولتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق 13٫000 سے 40٫000 سلوین اور 30٫000 کروٹ اور ہنگرین افراد بعض ریاستوں میں اقلیتوں کا درجہ رکھتے ہیں اور انہیں خصوصی مراعات حاصل ہیں۔ تاہم جن ریاستوں میں ان کی تعداد انتہائی کم ہے وہاں انہیں اقلیت نہیں مانا جاتا اور قوانین کے برعکس انہیں خصوصی مراعات حاصل نہیں۔

تقریباً 12 فیصد افراد خود کو لادین مانتے ہیں۔ 2001ء میں دیگر افراد میں 3،40،000 افراد خود کو مختلف مسلم گروہوں کے پیروکار مانتے ہیں۔ ان کی اکثریت ترکی، بوسنیا ہرزگووینیا اور کوسوو سے ہے۔ 1،80،000 افراد مشرقی آرتھوڈکس چرچ کے پیروکار ہیں جن کی اکثریت سرب النسل ہے۔ 20،000 سے زیادہ یہووا کے پیروکار جبکہ یہودیوں کی تعداد 8،100 ہے۔

آسٹریا میں اسلام سو سال سے سرکاری طور پر ایک تسلیم شدہ مذہب ہے۔ اس وقت آسٹریا میں تقریباً پانچ لاکھ مسلمان آباد ہیں جو ملک کی کل آبادی کا چھ فیصد ہیں۔ درالحکومت ویانا میں اسلام رومن کیتھولکس کے بعد دوسرا بڑا مذہب ہے۔ آسٹریا کی اسلامی برادری کے مطابق اس وقت ملک میں ساٹھ ہزار مسلمان بچے مذہبی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ تعلیم جرمن زبان میں فراہم کی جاتی ہے۔

آسٹریا میں تعلیم جزوی طور پر ریاستی اور جزوی طور پر وفاقی ذمہ داری ہے۔ 9 سال تک سکول جانا لازمی ہے جو عموماً 15 سال کی عمر میں ختم ہوتا ہے۔

پرائمری سکول 4 سال کے لیے ہوتا ہے اور چھ سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے۔ یہاں بھی جماعت میں 15 سے 30 تک بچے ہوتے ہیں۔ عموماً ہر جماعت کو ایک ہی مدرس 4 سال کے لیے پڑھاتا ہے۔ ہر بچے کو انفرادی کام دیا جاتا ہے اور وہ ایک ہی طریقے سے پڑھتے ہیں۔ صبح 8 بجے سے پڑھائی شروع ہوتی ہے اور 12 یا 1 بجے تک جاری رہتی *ہے۔ ہر گھنٹے بعد 5 یا 10 منٹ کا وقفہ ہوتا ہے۔ پہلے سال سے ہی بچوں کو گھر کا کام دیا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک بچے گھر واپس جا کر ہی کھانا کھاتے تھے لیکن چونکہ اب زیادہ عورتیں نوکریوں کی طرف مائل ہو رہی ہیں تو قبل اور بعد از سکول بچوں کو کھانا مہیا کیا جاتا ہے۔

جرمنی کی طرح یہاں بھی ثانوی تعلیم کے لیے دو طرح کے مدرسے ہوتے ہیں۔ پہلی قسم کے مدرسوں میں زیادہ ذہین بچوں کو یونیورسٹی کی اعلٰی تعلیم کے لیے تیار کیا جاتا ہے جبکہ دوسری قسم کے مدرسوں میں بچوں کو ووکیشنل تعلیم کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ تاہم دونوں مدرسوں کے اختتام پر امتحان ہوتا ہے جس میں کامیابی کی صورت میں یونیورسٹی میں داخلہ مل جاتا ہے۔

پرائمری سکول کی طرح ثانوی سکولوں میں بھی 8 بجے صبح پڑھائی شروع ہوتی ہے اور دوپہر تک جاری رہتی ہے۔ زیادہ بڑے طلبہ کے لیے روز مدرسے کا دورانیہ زیادہ ہوتا ہے۔ ہر سال کے اختتام پر اگر طالبعلم کی کارکردگی اگر تسلی بخش ہو تو وہ اگلی جماعت میں چلے جاتے ہیں۔ اگر ان کی کارکردگی تسلی بخش نہ ہو تو وہ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد دوبارہ امتحان دیتے ہیں۔ دوبارہ ناکامی کی صورت میں انہیں تعلیمی سال دوبارہ پڑھنا پڑتا ہے۔

طلبہ کے لیے ایک جماعت میں ایک سے زیادہ سال گذارنا عجیب بات نہیں۔ دو سال کی تعلیم کے بعد انہیں کسی ایک تعلیمی دھارے کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ ایک دھارے میں فنونِ لطیفہ جبکہ دوسرے میں سائنس پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔

ثانوی سکول پاس کرنے والے ہر طالبعلم کے لیے یونیورسٹی کھلی ہوتی ہے۔ 2001ء سے لازمی فیس کا قانون لاگو ہوا ہے جس کے مطابق ہر تعلیمی سال کے لیے 363.36 یورو فی طالبعلم ادا کرنے ہوتے ہیں۔ تاہم یورپی یونین کے طلبہ اس سے مستثنٰی ہیں۔




#Article 89: آئس لینڈ (3534 words)


آئس لینڈ کا سرکاری نام جمہوریہ آئس لینڈ ہے۔ (Icelandic: Ísland or Lýðveldið Ísland; آئس لینڈ ایک جزیرہ ہے جو شمال مغربی یورپ کا ایک ملک ہے۔ اس کے بیرونی حصے شمال میں اٹلانٹک (بحر اوقیانوس) سمندر میں یورپ اور گرین لینڈ کے درمیان موجود ہیں۔ جولائی 2008ء کے مطابق اس کی آبادی 311396 ہے۔ اس کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ریکیاویک ہے۔
وسطی اٹلانٹک پلیٹ پر اپنے محل وقوع کے لحاظ سے آئس لینڈ آتش فشانی اور ارضیات کے حوالے سے کافی بڑے پیمانے پر متحرک ہے۔ اس کا اندرونی حصہ سطح مرتفع پر مشتمل ہے جو ریتلے میدانوں، پہاڑوں اور گلئیشرز(یخ بست دریا) پر مشتمل ہے اور ان ہی گلیشئرز (یخ بست دریا) سے دریا نکل کر اس کے زیریں حصوں سے ہوتے ہوئے سمندر تک جاتے ہیں۔ خلیجی رو کی وجہ سے آئس لینڈ کا درجہ حرارت اس کے محل وقوع کے باوجود نسبتاً معتدل رہتا ہے اور اس وجہ سے یہاں رہائش کرنا نسبتاً آسان ہے۔
آئس لینڈ میں انسانی آبادی کے آثار 874ء سے ملتے ہیں جب نارویجیئن سردار انگولفر آرنارسن آئس لینڈ کا پہلا مستقل آباد کار بنا۔ اس کے علاوہ دیگر لوگوں نے یہاں کے چکر لگائے تھے اور قیام بھی کیا تھا۔ اگلی صدیوں کے دوران نارڈک اور گائلیک لوگوں نے آئس لینڈ کو اپنا مستقر بنایا۔ بیسویں صدی سے قبل تک آئس لینڈ کی آبادی کا انحصار ماہی گیری اور زراعت پر تھا اور 1262ء سے 1944ء تک یہ ناروے کا حصہ رہا اور اس کے بعد ڈینش (دانمارکی) بادشاہت کا۔ بیسویں صدی میں آئس لینڈ کی معیشت اور بہبود کا نظام بہت تیزی سے پروان چڑھا۔
آج آئس لینڈ ایک ترقی یافتہ ملک ہے، فی کس جی ڈی پی کے لحاظ سے دنیا میں پانچویں اور انسانی ترقی کے حوالے سے دنیا میں دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اس کی معیشت فری مارکیٹ (آزاد منڈی) اکانومی پر مشتمل ہے جس میں خدمات، فنانس(مالیات)، ماہی گیری اور مختلف صنعتیں اہم سیکٹرز ہیں۔ سیاحت بھی کافی مقبول ہے۔ آئس لینڈ UN, NATO, EFTA, EEA اور OECD کا رکن ہے لیکن یورپی یونین کا رکن نہیں۔

اگرچہ تاریخی حوالوں سے آئرش منکس کے ابتدائی وجود کا کچھ تذکرہ ملتا ہے، عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ آئس لینڈ کی دریافت اور اس کی آبادکاری ناروے کے مہم جوؤں نے نویں صدی کے آخر میں کی تھی۔ یہاں سب سے پہلا آبادکار ناروے کا انگولفر آرنارسن تھا جس نے اپنا مویشی خانہ بنایا۔ انگولفر کے بعد بہت سارے مہاجرین نے ادھر کا رخ کیا جن کی اکثریت نارویجن اور آئرش غلاموں کی تھی۔ 930ء تک قابل کاشت زمین کا تقریباً تمام حصہ لوگوں نے اپنے قبضے میں کر لیا تھا اور آلتھنگ (Althing) یعنی مقننہ اور پارلیمان بنائی گئی تھی جو آئس لینڈ کی آزاد ریاست کا مرکز تھی۔ 1000ء میں پرامن طریقے سے مسیحیت کو قبول کیا گیا۔ آزاد ریاست کا درجہ 1962ء میں ختم ہوا جب پرانے آبادکاروں کا بنایا ہوا سیاسی نظام ناکامی کا شکار ہوا کیونکہ یہ مقامی سرداروں کی بڑھتی ہوئی طاقت کا مقابلہ نہ کر سکتا تھا۔

اندرونی مزاحمتوں اور سٹرلنگ دور کی سول نافرمانی کی وجہ سے پرانے معاہدے کی توثیق کی گئی جس کے سبب آئس لینڈ ناورے کی بادشاہت میں آ گیا۔ چودہویں صدی میں آئس لینڈ کی ملکیت ناروے -ڈنمارک کو منتقل کی گئی جب کالمار یونین (کالماری اتحاد) کے تحت ڈنمارک اور ناروے کی بادشاہتوں کا انضمام ہوا۔ آنے والی صدیوں کے د وران آئس لینڈ یورپ کے غریب ترین ملکوں میں شمار ہونے لگا۔ غیر زرخیز زمین، آتش فشانوں کے پھٹنے اور سخت موسم کے باعث یہاں زندگی بہت مشکل ہو گئی کیونکہ ان کا دارومدار زراعت پر تھا۔ سولہویں صدی کے دوران ناروے کے بادشاہ کرسچین (کریستیان) سوم نے لوتھرازم (لوتھریت) کو ہر پہلو سے ترویج دینی شروع کی۔ آخری کیتھولک بشپ کا 1550ء میں اس کے دو بیٹوں سمیت سر قلم کر دیا گیا جس کے بعد پورا ملک مکمل طور پر لوتھیرین (لوتھری) بن گیا۔ اس کے بعد سے اب تک لوتھرازم (لوتھریت) اکثریتی مذہب چلا آ رہا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران 9 اپریل 1940ء کو جرمنی کے ڈنمارک پرقبضے کے باعث آئس لینڈ اور ڈنمارک کے تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ ایک ماہ بعد برطانوی فوجوں نے ریکیاویک کی بندرگاہ پر زبردستی ڈیرہ ڈال دیا جو آئس لینڈ کی غیر جانبداری کے خلاف تھا۔ اتحادی قبضہ جنگ کے دوران جاری رہا۔ 1941ء میں یہ قبضہ امریکی فوج نے سنبھال لیا۔ اس کے بعد 17 جون 1944ء کو آئس لینڈ رسمی طور پر ایک آزاد جمہوریہ بنا۔ 1946ء میں قابض افواج کا انخلا عمل میں آیا۔ اندورن ملک مخالفت اور بغاوتوں کے باوجود آئس لینڈ ناٹو کا رکن 30 مارچ 1949ء کو بنا۔ 5 مئی 1951ء کو امریکا کے ساتھ آئس لینڈ کا دفاعی معاہدہ عمل میں آیا جس کے نتیجے میں امریکی افواج واپس آئیں اور سرد جنگ کے دوران معاہدے کے مطابق دفاع کا فریضہ سر انجام دیتی رہیں اور 2006ء کے خزاں تک موجود رہیں۔

جنگ کے فوراً بعد کے وقت میں معاشی ترقی واقع ہوئی جس میں ماہی گیری کو صنعت کا درجہ دیا گیا اور ہر قسم کی تجارت کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔ 1970ء میں سرد جنگ زوروں پر تھی۔ آئس لینڈ اور برطانیہ کے بہت تنازعے ماہی گیری کی حدود کے حوالے سے کھڑے ہوئے۔ 1994ء میں آئس لینڈ کے یورپی معاشی علاقے میں شمولیت کے بعد معیشت نے بہت گہرائی اور آزادی حاصل کی۔

آئس لینڈ کوعلاقوں، آبادیوں، کاؤئنٹیوں اور میونسپلٹیوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کل 8 مختلف علاقوں کو شماریاتی حوالوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ ضلعی عدالتوں کی حدود ابھی تک پرانی تقسیم کے مطابق چل رہی ہیں۔ مارچ 2003ء میں آئین میں ترمیم کے ذریعے انہیں 6 مختلف انتظامی علاقوں میں تقسیم کیا گیا۔

آئس لینڈ کو 26 مجسٹریٹوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو مختلف جگہوں پر حکومت کی نمائیدگی کرتے ہیں۔ ان کے فرائض میں پولیس کی دیکھ بھال، ٹیکس کی وصولی، بینک دیوالیہ ہونے کے متعلق فیصلے اور شادیوں کو سر انجام دینا شامل ہیں۔
آئس لینڈ میں 29 میونسپلٹیاں ہیں جو اپنے مقامی اموروں جیسا کہ سکول، ذرائع نقل و حمل وغیرہ کو خود سنبھالتے ہیں

ریکیاوک کا شہر ملک کا دار الحکومت ہے اور سب سے زیادہ آبادی والا شہر بھی۔ ریکیاوک اور اس کے نزدیکی شہروں کوپاوگُر، ہافنارفیوریور، موسفیلسبیر، گاروابیر، سلتیارنارنس اور الفتانس مل کر ایک بڑا علاقہ بناتے ہیں جہاں ملک کی تقریباً دو تہائی آبادی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر شہروں میں اکوریری، کیفلاویک، سیلفوس، ارکینس اور ایسافیورور شامل ہیں۔

جغرافیہ

آئس لینڈ شمالی بحیرہ آرکٹک میں آرکٹک سرکل سے ذرا سا جنوب میں واقع ہے۔ یہ سرکل آئس لینڈ کے شمال سے چند علاقوں کو چھوتا ہوا گزرتا ہے۔ ہمسائیہ گرین لینڈ کے برعکس آئس لینڈ کو یورپ کا حصہ مانا جاتا ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے آئس لینڈ یورپ اور جنوبی امریکا، دونوں براعظموں کا حصہ ہے۔ اپنی ثقافتی، معاشی اور لسانی، کئی حوالوں سے سکاندینیویا کا حصہ شمار ہوتا ہے۔ یہ دنیا کا 18واں بڑا اور یورپ کا برطانیہ کے بعد دوسرا بڑا جزیرہ ہے۔

آئس لینڈ کا تقریباً 11 فیصد حصہ گلیشئرز(یخ بستہ دریاؤں) سے گھرا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے 4970 کلومیٹر طویل ساحل پر بہت سی کھاڑیاں موجود ہیں اور اکثر اہم شہر بھی انہی کے نزدیک موجود ہیں۔ آئس لینڈ کے بلند علاقے بہت سرد اور ناقابل رہائش ہیں کیونکہ وہ ریت اور پہاڑوں کا مجموعہ ہیں۔ اس کے اہم شہروں میں ریکیاوک، کیفلاویک، جہاں بین الاقوامی ہوائی اڈے موجود ہیں اور اکوریوری ہیں۔ گریمزی جزیرہ جو آئس لینڈ کے انتہائی شمال میں ہے، آرکٹک سرکل کے پارآبادی رکھتا ہے۔

انسانی آمد کے وقت یہاں واحد ممالیہ جانور آرکٹک لومڑی تھی۔ یہ برفانی دور کے بعد یہاں جمے ہوئے سمندر پر چلتی ہوئی یہاں تک پہنچی۔ اس کے علاوہ یہاں کے قدیمی کوئی چرندے یا خزندے نہیں ہیں۔ آئس لینڈ میں 1300 مختلف اقسام کے حشرات موجود ہیں جو باقی دنیا کی نسبت بہت کم ہیں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ برفانی دور میں آئس لینڈ تقریباً سارے کا سارا برف سے ڈھکا ہوا تھا۔

انسانی آبادکاری سے قبل یہاں جنگلات موجود تھے جو کل آئس لینڈ کا 25 سے 40 فیصد حصہ تھے۔ جونہی آبادکار پہنچے، انہوں نے جنگلات کو کاٹ کر زراعت کے لیے اور گھاس کے میدانوں کے لیے زمین بنانا شروع کر دی۔ بیسویں صدی کے شروع تک یہ جنگلات تقریباً ناپید ہو چلے تھے۔ اس کے بعد دوبارہ سے شجر کاری کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن ابھی بھی یہ بہت کم مقدار میں ہیں۔ نئی شجرکاری کے نتیجے میں بہت سی نئی قسموں کے درخت بھی آئس لینڈ میں نظر آتے ہیں مگرموسمی نا مونزونیت کی وجہ سے درختوں کی پرورش کٹھن ہے -کوئی بھی پودا زیادہ پنھپ نہیں پاتا-
آئس لینڈ میں کل چار نیشنل پارک ہیں جو Jökulsárgljúfur National Park, Skaftafell National Park, Snæfellsjökull National Park, اور Þingvellir National Park ہیں۔

ارضیاتی اعتبار سے کم عمر زمین، آئس لینڈ ارضیاتی اعتبار سے متحرک حصے اور مڈاٹلانٹک پلیٹ پر واقع ہے جو اس کے بالکل درمیان سے گزرتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ارضیاتی اعتبار سے آئس لینڈ بہت زیادہ متحرک ہے اور یہاں بہت سارے آتش فشاں موجود ہیں جن میں ہیکلا، ایلڈگیا اور ایلڈفل ہیں۔ لاکی میں 1783ء سے 1784ء تک آتش فشان پھٹا جس سے پیدا ہونے والے دھوئیں اور گرد کے بادلوں نے یورپ کے اکثر اور افریقہ اور ایشیاٗ کے کئی علاقوں کو کئی ماہ تک چھپائے رکھا۔

یہاں بہت سارے گیزر (گرم پانی کا چشمے) بھی پائے جاتے ہیں۔ جیوتھرمل پاور کی کثرت ہونے کے سبب اور بہت سارے دریاؤں اور آبشاروں کے باعث یہاں شہریوں کو گرم اور ٹھنڈا پانی بہت سستے داموں میں ہرگھرمیں دستیاب ہے۔ آئس لینڈ بذات خود بسالٹ سے بنا ہوا ہے جیسا کہ جزائر ہوئی ہیں۔ تاہم یہاں مختلف قسم کے آتش فشاں اور لاوے پائے جاتے ہیں۔

آئس لینڈ میں دنیا کا سب سے کم عمر جزیرہ موجود ہے جو 5 نومبر 1963ء سے 5 جون 1968ء میں ہونے والی آتش فشانی تحاریک سے وجود میں آیا۔

آئس لینڈ کے ساحلی علاقوں کا موسم سرد اوشیانک ہے۔ جنوبی بحرِ اوقیانوس کی گرم رو کی وجہ سے آئس لینڈ کا درجہ حرارت اسی خط پر واقع دیگر ممالک کی نسبت گرم ہوتا ہے۔ سردیاں معتدل اور تیز ہواؤں کے ساتھ اور گرمیاں نم اور ٹھنڈی۔

آئس لینڈ میں اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت 30.5 ڈگری اور سب سے کم درجہ حرارت منفی 38 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

آئس لینڈ میں چند ایک ہی معدنیات یا زراعتی ذخائر موجود ہیں۔ آئس لینڈ کا تین چوتھائی حصہ بنجر ہے۔ نباتات کا بیشتر حصہ گھاس کے میدانوں پر مشتمل ہے جو پالتو مویشیوں کی چراگاہ ہے۔ آئس لینڈ کا اپنا آبائی واحد درخت برچ Betula pubescens ہے۔ (بیتولا/غان)

مستقل انسانی آبادکاری نے یہاں کے ماحول کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ تقریباً تمام کے تمام جنگلات کو تعمیراتی اور جلانے والی لکڑی کے حصول کے لیے تباہ کیا گیا۔ آج چند ایک ہی برچ کے درخت مختلف جگہوں پر ملتے ہیں۔

آئس لینڈ کے جانوروں میں آئس لینڈ کی بھیڑ، مویشی اور آئس لینڈک گھوڑے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آئس لینڈ کے گرد موجود پانیوں میں مچھلیوں کی کئی اقسام آئس لینڈ کے معاشی نظام کا اہم حصہ ہیں اور آئس لینڈ کی کل برآمدات کا نصف حصہ بھی۔ جنگلی پستانیہ جانوروں میں قطبی لومڑی، منک، جنگلی اور گھریلو چوہے، خرگوش اور رینڈئیر شامل ہیں۔ 1900ء کے لگ بھگ کبھی کبھاربرفانی ریچھوں نے بھی ادھر کا چکر لگایاتھا جو گرین لینڈ سے گلیشئر پر بہتے ہوئے ادھر پہنچے۔ پرندے خصوصاً بحری پرندے یہاں کی جنگلی حیات کا اہم جزو ہیں۔ پفن، سکوا اور کٹی ویک، ساحل کی چٹانوں پر گھونسلا بناتے ہیں۔ آئس لینڈ کا اپنا بیڑا ہے جو بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود وہیل کا شکار جاری رکھتا ہے۔

آئس لینڈ میں آئس لینڈ زبان بولی اورلکھی جاتی ہے۔ یہ زبان جنوبی جرمن زبان ہے جو پرانی نورس زبان سے بہت نزدیک ہے۔ ابتداٗ کے لحاظ سے یہ زبان نارڈک ہے اور یورپ کی قدیم ترین زبانوں میں سے ایک ہے۔ یہ واحد قدیم زبان ہے جس میں رونک لفظ Þ شامل ہے۔
انگریزی اور ڈینش زبانیں یہاں عام سمجھی اور بولی جاتی ہیں۔ ان دونوں زبانوں کی تعلیم سکول کے نصاب کا لازمی حصہ ہے۔ اس کے علاوہ سوئیڈش، ناوریجیئن اور جرمن بھی عام بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔

آئس لینڈ کی اپنی آبادی نارڈک اور سیلٹک النسل تھی۔ اس کا ثبوت تحاریر اور سائنس جیسا کہ خون کے نمونوں اور جینیاتی تجزیے سے ملتا ہے۔ جینیاتی تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ آباد کاروں میں مردوں کی اکثریت نارڈک اور عورتوں کی اکثریت سیلٹک تھی۔

آغاز سے انیسویں صدی کے درمیان تک آبادی کا اندازہ 40,000 سے 60,000 لگایا جاتا ہے۔ اگرچہ سخت سردیوں، آتش فشانی راکھ اور طاعون کے باعث آبادی میں فرق پڑتا رہا تھا۔ 1703ء میں پہلی مردم شماری کے نتیجے میں آبادی کی تعداد 50,358 معلوم ہوئی۔

لاکی آتش فشاں کے پھٹنے کے بعد، جو 1783ء سے 1784ء تک رہا، آبادی 40,000 کی انتہائی کم حدتک پہنچی۔ حالات کے بہتر ہونے پر انیسویں صدی کے درمیان تک اور موجودہ دور میں یہ آبادی تیزی سے بڑھتی چلی گئی ہے۔ 1850ء میں آبادی 60,000 تھی اور 2007 میں 3,10,000۔

جدید پارلیمان جسے آلتھنگ بھی کہتے ہیں، 1845ء میں قائم کی گئی تھی اور اس کی حیثیت ڈینش بادشاہ کی مشاورتی کونسل کی سی تھی۔ عمومی طور پر اسے 930 میں قائم ہونے والی اسمبلی کی نئی شکل کہا جاتا ہے اور جسے 1799ء میں معطل کیا گیا تھا۔ آج کل اس کے کل 63 ارکان ہیں۔ ہر ممبر کا انتخاب 4 سال کے لیے ہوتا ہے۔ آئس لینڈ میں صدر کا عہدہ نمائشی ہوتا ہے جو سفارت اور مملکت کے سربراہ کا کام کرتا ہے۔ لیکن اس کے پاس یہ اختیار بھی ہوتا ہے کہ یہ پارلیمان سے منظور ہونے والے کسی قانون کو روک کر عوامی رائے کے لیے پیش کر سکتا ہے۔

حکومت کا سربراہ وزیر اعظم ہوتا ہے جو کابینہ کے ساتھ مل کر حکومت کو چلاتا ہے۔ کابینہ کا تقرر صدر کی طرف سے آلتھنگ کے انتخابات کے بعد ہوتا ہے۔ تاہم عموماً یہ عمل سیاسی پارٹیوں کے سربراہ انجام دیتے ہیں جو یہ طے کرتے ہیں کہ کون کون سی پارٹیاں مل کر کابینہ کی تشکیل کریں گی اور اس میں نشستوں کی تقسیم کیسے کی جائے گی۔ صرف اس صورت میں کہ پارٹیوں کے سربراہ مناسب وقت میں کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکیں، صدر اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کابینہ تشکیل دیتا ہے۔ جمہوریہ کی تشکیل یعنی 1944ء سے اب تک ایسا نہیں ہوا۔ لیکن 1942ء میں ایک بار غیر پارلیمانی حکومت قائم کی گئی تھی۔ لیکن یہ حکومت ایک ریجنٹ نے قائم کی تھی اور ریجنٹ کا تقرر آلتھنگ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ ہر طرح سے ریجنٹ کا عہدہ صدر کے مساوی تھا۔ اس ریجنٹ کا نام بیورنسن تھا۔ 1944ء میں جمہوریہ کے قیام کے بعد یہ اس کے پہلے صدر بھی بنے۔

تقریباً ہمیشہ ہی آئس لینڈ کی حکومت دو یا زیادہ پارٹیوں کے اشتراک قائم کی جاتی ہے۔ صدر کے اختیارات کے حوالے سے آئینی ماہرین کی رائے مختلف ہے۔ کچھ ماہرین صدر کو کچھ اہم اختیارات دیتے ہیں لیکن کچھ ماہرین کی رائے اس سے مختلف ہے۔ آئس لینڈ میں دنیا میں سب سے پہلی خاتون صدر کا انتخاب 1980ء میں عمل میں آیا۔ ان کا نام ویگدس فنبوگادوتر ہے اور وہ 1996ء میں اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوئیں۔ ٹاؤن کونسلوں کے انتخابات، پارلیمان اور صدارتی انتخابات ہر چار سال بعد منعقد ہوتے ہیں۔ یہ انتخابات بالترتیب 2010ء، 2011ء اور 2008ء میں اگلی بار منعقد ہوں گے۔

مئی 2007ء کے پارلیمانی انتخابات کے بعد، موجودہ حکومت دائیں بازو کی آزاد پارٹی اور سوشل ڈیموکریٹک اتحاد جو وزیر اعظم گئیر ہارڈی کے تحت ہے، کی مدد سے بنائی گئی ہے۔ حکومت کوآلتھنگ میں واضح برتری حاصل ہے اور انہیں کل 63 میں سے 43 نشستیں ملی ہوئی ہیں۔

آئس لینڈ فی کس قوت خرید کی جی ڈی پی کے حوالے سے دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ پیداور رکھنے والا ملک ہے۔ انسانی ترقی کے حوالے سے یہ دنیا کا دوسرا بہترین ملک ہے۔ قابل تجدید توانائی کے ذخائر ملکی توانائی کا 70 فیصد حصہ رکھتا ہے اور ملک کے بارے کہا جاتا ہے کہ 2050ء تک یہ توانائی کے لحاظ سے خود مختار ہو جائے گا۔ اپنے آبی بجلی کے ذخائر اور ارضی حرارتی توانائی کے باوجود آئس لینڈ میں قدرتی ذخائر کا فقدان ہے۔ تاریخی طور پر اس کی معیشت کا عمومی دارومدار ماہی گیری پر رہا ہے اور ابھی بھی ملکی معیشت کا بڑا حصہ ماہی گیری سے حاصل ہوتا ہے۔ مچھلیوں کی کم ہوتی ہوئی تعداد اور بین الاقوامی مارکیٹ(منڈی) میں اس کی اہم برآمدات جیسا کہ المونیم اور فیروسیلیکان کی کم ہوتی ہوئی قیمت کی وجہ سے ملکی معیشت خطرے کا شکار ہے۔ اگرچہ آئس لینڈ کی معیشت ابھی تک ماہی گیری پر ہی انحصار کرتی ہے، سیر و سیاحت اور دیگر خدمات، ٹیکنالوجی اور دیگر صنعتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ماہی گیری کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے۔

دائیں اور بائیں بازو کی حکومت اپنی بجٹ کی کمی کی اور موجودہ خسارے کی پالیسی، بیرونی قرضہ جات میں کمی، معیشت میں تنوع اور نجکاری کی پالیسیوں کو جاری رکھنا چاہ رہی ہے۔ حکومت یورپی یونین میں شمولیت کی مخالفت کرتی ہے جس کی سب سے اہم وجہ ماہی گیری کے ذرائع آئس لینڈ کے ہاتھ سے نکل جانا ہے۔

آئس لینڈ کی معیشت میں تنوع پیدا کرنے کے لیے پچلی دہائی میں صنعت کاری خدمات کی صنعتیں اور موجودہ دور میں سافٹ وئیر کی تیاری، بائیو ٹیکنالوجی اور فنانشل سروسز کا اہم کردار ہے۔ سیاحت کا سیکٹر بھی تیزی سے پھیل رہا ہے جس میں ایکو ٹورزم اور وہیل کا مشاہدہ کرنا شامل ہیں۔ 2000ء اور 2002ء کے درمیان ترقی کی رفتار کچھ کم رہی لیکن معیشت نے 2003ء میں 4.3 فیصد اور 2004ء میں 6.2 فیصد کے حساب سے ترقی کی۔ شرح بے روزگاری 1.3 فیصد ہے جو یورپی اکنامک ایریا میں سب سے کم شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔

ملکی بجلی کا نناوے فیصد حصہ پن بجلی اور ارضی حرارتی توانائی سے حاصل ہوتا ہے۔ ملک کا سب سے بڑا ارضی حرارتی توانائی کا مرکز نیسیاویلیر میں واقع ہے جبکہ کاراہنیوکر ڈیم ملک کا سب سے بڑا پن بجلی کا پلانٹ ہوگا۔

آئس لینڈ کی زرعی صنعت کا بڑا حصہ آلو، ہلدی، تازہ سبزیوں (گرین ہاؤس میں)، مٹن (بھیڑ)، ڈیری مصنوعات اور مچھلیوں پر مشتمل ہے -

آئس لینڈ کی کرنسی کو آئس لینڈک کرونا کہتے ہیں۔ آئس لینڈ کے سابقہ وزیر اعظم والگیرور سویریسڈوٹر نے 15 جنوری 2007ء میں ایک انٹرویو میں اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ آیا کیا وہ یورپی یونین میں شامل ہوئے بغیر یورو کو اپنا سکتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بین الاقوامی یورو مارکیٹ میں ایک چھوٹی سی معیشت کا اپنی کرنسی اختیار کیے رکھنا کافی مشکل ہو سکتا ہے۔ بورگارٹن کو ریکیاوک کا معاشی مرکز ہے۔ اس میں بڑی تعداد میں کمپنیاں اور تین انوسٹمنٹ بینک موجود ہیں۔ آئس لینڈ کی سٹاک مارکیٹ، دی آئس لینڈسٹاک مارکیٹ 1985ء میں قائم ہوئی۔

آئس لینڈ میں آئین کے تحت ہر فرد کو مذہبی آزادی ہے۔ یہاں ویسے چرچ اور ریاست کو الگ نہیں سمجھا جاتا۔ آئس لینڈ کے قومی چرچ کو جو ایک لوتھیرین چرچ ہے، ریاستی چرچ کی حیثیت حاصل ہے۔ سرکاری طور پر ہر فرد کا مذہبی لگاؤ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ 2005ء میں آئس لینڈ کے افراد کو درج ذیل کے مذہبی گروہوں میں تقسیم کیا گیا:

باقی 2.7 فیصد افراد زیادہ تر 20-25 مسیحی فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ایک فیصد سے بھی کم آبادی غیر مسیحی ہے۔

آئس لینڈ کی ثقافتی جڑیں وائیکنگ اور نورس روایتوں سے جا ملتی ہیں۔ آئس لینڈ کا ادب مقبول ہے بالخصوص ساگاز اور ایڈاز جو آئس لینڈ کی آبادکاری کے دوران لکھے گئے تھے۔ آئس لینڈ کے لوگوں کے خدوخال عام نارڈک نوعیت کے ہیں جو ناروے اور سوئیڈن کے لوگوں سے ملتے جلتے ہیں۔ مسیحیت قبول کرنے سے قبل تک یہاں بہت سارے وائی کنگ اعتقادات کو مانا جاتا تھا۔ آج بھی آئس لینڈ کے کچھ لوگ روحوں یا پریوں پر یقین رکھتے ہیں یا کم از کم ان کے وجود کا انکار نہیں کرتے۔ اسی طرح انسانی ترقی کے پیمانے پر آئس لینڈ کا درجہ بہت بلند ہے اور اسے دنیا کا چوتھا خوش ترین ملک گردانا جاتا ہے۔

عام خوراک عموماً مچھلی، بکری اور دودھ کی مصنوعات پر مشتمل ہوتی ہے۔ Þorramatur کو قومی خوراک کا درجہ حاصل ہے۔ اس میں کئی مختلف کھانے موجود ہوتے ہیں۔ اس کو روزانہ نہیں کھایا جاتا لیکن عموماً Þorri کے مہینے میں کھاتے ہیں۔ روایتی ڈشوں میں skyr، scrota, shark, بھیڑ کی سری اور بلیک پڈنگ شامل ہیں۔

حالیہ تبدیلیوں کے باوجود آئس لینڈ کے لوگ بحیثیت قوم، بہت صحت مند ہیں۔ بچے اور نوجوان مختلف کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں۔ مقبول کھیلوں میں فٹبال، ٹریک اینڈ فیلڈ، ہینڈ بال اور باسکٹ بال شامل ہیں۔ گولف، ٹینس، تیراکی، شطرنج اور آئس لینڈی گھوڑوں پر گھڑسواری کرنا بھی کافی مقبول ہیں۔

آئس لینڈ مشہور ٹی وی چینل نک جونئیر کے اینیمیٹڈ پروگرام لیزی ٹاؤن کا گھر ہے۔ یہ بچوں کا ایک مقبول سلسلہ وار پروگرام ہے جو دنیا بھر کے 98 مختلف ممالک میں دکھایا جاتا ہے۔ آئس لینڈ دی شوگر کیوب نامی میوزک گروپ کا بھی وطن ہے جو 80 اور 90 کی دہائی میں بہت مشہور رہا تھا۔ Björk اس کی ایک مشہور رکن ہیں۔




#Article 90: جمہوریہ آئرلینڈ (181 words)


جمہوریہ آئرلینڈ براعظم یورپ میں جزائر برطانیہ میں جزیرہ آئرلینڈ پر واقع ایک ملک ہے۔ جزیرہ آئرلینڈ کا تقریباً 80 فیصد حصہ جمہوریہ آئرلینڈ کے تحت ہے۔ ڈبلن اس کا سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت ہے۔ اس ملک کی مجموعی آبادی تقریباً 47 لاکھ ہے، جن میں سے ایک تہائی ڈائلن میٹروپولیٹن علاقے میں ایک تہائی ہے۔ اس ملک کی مجموعی آبادی تقریباً 47 لاکھ ہے، جس میں سے ایک تہائی ڈبلن میٹروپولیٹن علاقے میں مقیم ہے۔ اس کے شمال میں شمالی آئرلینڈ واقع ہے جو مملکت متحدہ کا حصہ ہے۔ 1973ء کے بعد سے یہ یورپی یونین کا رکن ہے۔

آزادی سے قبل آئرلینڈ کی مملکت متحدہ کا حصہ تھا۔ 21 جنوری 1919ء اس نے برطانیہ سے آزادی کا اعلان کیا، اور دسمبر 1921ء کو اینگلو-آئرش معاہدے کے تحت اس کی خود مختاری کا فیصلہ کیا گیا۔گیا۔ 18 اپریل 1949ء کو آئر لینڈ کو جمہوریہ کے نام دیا گیا۔ لیکن اس کا ایک حصہ اب بھی مملکت متحدہ کے تحت آتا ہے جسے شمالی آئرلینڈ کہا جاتا ہے۔ 1 جنوری 1973ء کو یہ یورپی اقتصادی کمیونٹی کا حصہ بنا۔




#Article 91: اردن (5015 words)


اردن جسے سرکاری طور پر  بھی کہا جاتا ہے، دریائے اردن کے مشرقی کنارے پر واقع مغربی ایشیا کا ملک ہے۔ اس کے مشرق میں سعودی عرب اور مغرب میں اسرائیل واقع ہے۔ اردن اور اسرائیل بحیرہ مردار کا انتظام سنبھالتے ہیں۔ اردن کی واحد بندرگاہ اس کے جنوبی سرے پر خلیج عقبہ پر واقع ہے۔ اس بندرگاہ کو اسرائیل، مصر اور سعودی عرب بھی مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اردن کا زیادہ تر حصہ صحرائے عرب پر مشتمل ہے۔ تاہم شمال مغربی سرے پر ہلال نما زرخیز علاقہ موجود ہے۔ اس کا دار الحکومت عمان ہے۔

تاریخی اعتبار سے یہاں بہت ساری تہذیبیں آباد ہوتی رہی ہیں۔ کچھ عرصے کے لیے اردن پر مصری فرعونوں کا بھی قبضہ رہا ہے جو عظیم تر اسرائیلی مملکت کے حصے پر مشتمل تھا۔ اس کے علاوہ یہاں مقدونیائی، یونانی، رومن، بازنطینی اور عثمانی ثقافتوں کے اثرات بھی مرتب ہوئے۔ ساتویں صدی عیسوی سے یہاں مسلمانوں اور عربوں کی ثقافت کے اثرات گہرے ہونے لگے ہیں۔  

ہاشمی بادشاہت یہاں کی آئینی بادشاہت ہے اور یہاں عوام کی نمائندہ حکومت بھی کام کرتی ہے۔ حکمرانِ وقت ملک کا بادشاہ ہوتا ہے جو ملکی افواج کے سپہ سالار کا کام بھی کرتا ہے۔ بادشاہ اپنے اختیارات کو وزیرِ اعظموں اور وزراء کی کونسل یا کابینہ کے ذریعے استعمال کرتا ہے۔ کابینہ جمہوری طور پر منتخب ہاؤس آف ڈپٹیز اور ہاؤس آف نوٹیبلز یعنی سینٹ کو جواب دہ ہوتی ہے۔ ہاؤس آف ڈپٹیز اور سینٹ مل کر قانون سازی کا کام کرتے ہیں۔ عدلیہ حکومت سے آزاد رہ کر کام کرتی ہے۔

جدید اردن کی زیادہ تر آبادی شہروں میں رہتی ہے۔ سی آئی اے کی ورلڈ فیکٹ بک کے مطابق اردن کو فری مارکیٹ اکانومی کے حوالے سے ابھرتی ہوئی مارکیٹ ہے۔ علاقے کے دیگر ممالک کی نسبت اردن نے سب سے زیادہ آزاد تجارت کے معاہدے کیے ہوئے ہیں۔ یہاں کی حکومت مغرب نواز ہے اور امریکا اور برطانیہ سے ان کے گہرے تعلقات ہیں۔ 1996 میں اردن امریکا کا اہم غیر ناٹو اتحادی بن گیا۔ خطے میں مصر کے علاوہ اردن واحد ملک جس کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ہیں۔ اس کے علاوہ عرب لیگ، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن، عرب پارلیمنٹ، عالمی بینک، عالمی عدالتِ انصاف اور اقوامِ متحدہ وغیرہ کا یہ بانی رکن بھی ہے۔ مزید برآں اردن یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کے ساتھ بھی تعلقات گہرے کر رہا ہے۔

اردن کا نام دریائے اردن کے نام پر رکھا گیا ہے۔ مختلف زبانوں میں اردن کے مختلف مطالب ہیں۔ قدیم عربی زبان میں اردن کا مطلب ڈھلوان ہے جبکہ ارامیک زبان میں اردن کے معنی وہ جو اُترتا ہے ۔

اپنے وقت کی نمایاں ترین تہذیب جسے عربی میں الأنباط کہا جاتا ہے، یہاں قائم تھی۔ اس کا دار الحکومت پیٹرا نامی شہر تھا۔  انہی لوگوں نے جدید عربی رسم الخط ایجاد کیا تھا۔ ایرانی سلطنت میں جذب ہونے سے قبل صدیوں تک پیٹرا نے آزادی اور خوشحالی کے مزے لوٹے۔ بعد ازاں اس علاقے پر رومن سلطنت چھا گئی۔

بعد ازاں یہاں اسلام کی آمد ہوئی جو مختلف خلفاء کے دور پر مشتمل تھی۔ ان خلفاء میں خلفائے راشدین، بنو امیہ اور عباسی خلفاء شامل تھے۔ عباسیوں کے زوال کے بعد اس علاقے پر منگول، مسیحی صلیبی جنگجو، ایوبی اور مملوک قابض رہے۔ 1516 میں یہ سلطنت عثمانیہ کا حصہ بن گیا۔

پہلی جنگِ عظیم کے اختتام پر سلطنتِ عثمانی کے زوال کے بعد لیگ آف نیشنز اور اتحادی افواج نے بحیرہ روم کے شمالی ساحل کا نقشہ از سرِ نو بنانے کا فیصلہ کیا۔ نتیجتاً فرانسیسی شام اور برطانوی فلسطین کا قیام عمل میں آیا۔

دوسری جنگِ عظیم کے اختتام تک یہ علاقہ برطانیہ کے زیر انتظام تھا۔ 1946 میں برطانویوں نے اقوامِ متحدہ سے درخواست کی کہ وہ اردن کو آزاد کرنا چاہتے ہیں۔ برطانوی درخواست کے بعد یہاں کی پارلیمان نے شاہ عبد للہ کو ہاشمی بادشاہت کے سلسلے کا پہلا حکمران منتخب کر لیا۔ شاہ عبد للہ اوّل 1995 تک حکمران رہے اور اسی سال جب وہ مسجدِ اقصٰی سے نکل رہے تھے تو ایک فلسطینی عرب نے قتل کر دیا۔

اگرچہ 1990 کی خلیج جنگ کے دوران اردن نے حصہ نہیں لیا تاہم شاہ حسین پر یہ الزام لگا کہ انہوں نے ڈھکے چھپے صدام حسین کی مدد جاری رکھی جس کی وجہ سے کویت سے عراق کے انخلاء میں مشکلات پیش آئیں۔ اس وجہ سے اقوامِ متحدہ اور عرب ممالک نے اردن کی مالی امداد بند کر دی اور 7 لاکھ سے زیادہ اردنی باشندے جو عرب ممالک میں روزگار کے سلسلے میں مقیم تھے، کو اردن واپس لوٹنا پڑا۔ مزید برآں لاکھوں عراقی جان بچا کر اردن پہنچے جس سے اردن کی معیشت پر دباؤ پڑا۔

شاہ حسین کے سرطان کا علاج امریکا میں لمبے عرصے تک جاری رہا۔ اردن واپسی پر انہوں نے اپنے بھائی شاہ حسن کی جگہ اپنے بڑے بیٹے عبد للہ کو ولی عہد مقرر کر دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کچھ سیاسی قیدی بھی آزاد کیے۔ کچھ عرصہ بعد 1999 میں شاہ حسین انتقال کر گئے اور شاہ عبد للہ دوم ان کی جگہ بادشاہ بنے۔ ستمبر 2000 میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ اور دوسری انتفادہ تحریک کے دوران اردن کی حکومت نے دونوں پارٹیوں کو مدد کی پیش کش کی۔ اس کے بعد سے اردن نے اپنے ہمسائیوں کے ساتھ امن سے رہنے کا عہد کیا ہے۔ اردن کے شاہی خاندان میں اسرائیل کے لیے خاصہ نرم گوشہ ہے اور حکومت اسرائیل مخالف مظاہروں کو روکتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ اردنی اخبارات وغیرہ سے بھی اسرائیل مخالف مواد حذف کر دیا جاتا ہے۔

حال ہی میں اردن نے ہزاروں فلسیطنیوں کی اردنی شہریت بھی ختم کر دی ہے تاکہ اسرائیل کسی بھی طرح سے ان افراد کو اردن میں ہی مستقل بسنے پر مجبور نہ کرے۔

اردن کا مشرقی حصہ بنجر ہے اور نخلستانوں اور موسمی ندیوں سے سیراب ہوتا ہے۔ مغرب کے بلند علاقے نہری ہیں اور سدا بہار جنگلات بھی موجود ہیں۔ دریائے اردن کی عظیم وادئ شق اردن کو مغربی کنارے اور اسرائیل سے الگ کرتی ہے۔ اردن کا بلند ترین مقام جبل ام الدانی ہے جو 1٫854 میٹر بلند ہے۔ اس کی چوٹی برف سے ڈھکی رہتی ہے۔ نشیبی ترین مقام بحیرہ مردار کے کنارے سطح سمندر سے 420 میٹر نیچے ہے۔ اردن جس علاقے میں واقع ہے، اس علاقے کو تہذیب کو گہوارا کہتے ہیں۔

اہم شہر دار الحکومت عمان، اربد، جرش، زرقا، مادبا، کرک اور عقبہ ہیں۔

اردن کا موسم گرمیوں میں نیم خشک رہتا ہے اور اوسط درجہ حرارت 30 سے 35 ڈگری رہتا ہے۔ سردیاں نسبتاً سرد تر ہوتی ہیں اور اوسط درجہ حرارت 13 ڈگری کے آس پاس رہتا ہے۔ مغربی حصے میں سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے اور عمان میں نومبر سے مارچ تک برفباری بھی ہوتی ہے۔ عمان کی اوسط بلندی سطح سمندر سے 1٫280 میٹر ہے۔ عظیم وادئ شق کے علاوہ سارا ملک ہی سطح سمندر سے 300 میٹر سے زیادہ بلند ہے۔

نومبر سے مارچ تک موسم نم رہتا ہے اور باقی پورا سال موسم نیم خشک رہتا ہے۔ گرم، خشک گرمیاں اور ٹھنڈی سردیاں جن میں کبھی کبھار برفباری یا بارش بھی ہو سکتی ہے، ہوتی ہیں۔ عموماً سمندر سے جتنا دور ہوتے جائیں، موسمی درجہ حرارت میں اتنی ہی تبدیلی زیادہ اور بارش کم ہوتی جاتی ہے۔ گرمیوں میں ہوا کا دباؤ نسبتاً یکساں ہی رہتا ہے جبکہ سردیوں میں یہ دباؤ زیادہ تر کم ہی رہتا ہے۔

زیادہ تر رقبے پر 24 انچ سے کم کی اوسط بارش ہوتی ہے۔ جوں جوں زمین بلند ہوتی جاتی ہے، بارش بڑھتی جاتی ہے۔ وادئ اردن میں سالانہ بارش کی اوسط 35 انچ سے زیادہ رہتی ہے۔ بحیرہ مردار کے قریب کے علاقے میں بارش کی مقدار سالانہ 5 انچ سے کم رہتی ہے۔

اگست کے موسم میں گرمیاں عروج پر ہوتی ہیں۔ جنوری عموماً سرد ترین مہینہ ہوتا ہے۔ گرمیوں میں رات اور دن کے درجہ حرارت میں کافی فرق ہو سکتا ہے۔ گرمیوں میں دن کا اوسط درجہ حرارت 32 ڈگری رہتا ہے۔ جبکہ ستمبر سے مارچ تک یعنی سردیوں میں درجہ ھرارت کی اوسط 3.2 ڈگری رہتی ہے۔ شمال مغربی بلند علاقوں پر برفباری بھی ہو سکتی ہے۔ عموماً سردیوں میں دو بار برفباری ہوتی ہے۔

وزارتِ داخلہ نے ملک میں داخلی طور پر 12 صوبے بنائے ہوئے ہیں۔ ہر صوبے کے حکمران یعنی گورنر کا تقرر صدر کرتا ہے۔ اپنے صوبوں کی حد تک گورنر خود مختار ہوتے ہیں۔

اردن میں اکثریتی مذہب اسلام ہے جو عرب اور غیر عرب، دونوں ہی گروہوں کی اکثریت کا مذہب ہے۔ سرکاری مذہب بھی اسلام ہی ہے اور 92 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ آبادی کی اکثریت سنی فقہہ سے تعلق رکھتی ہے۔ اسلامیات کا مضمون سکولوں میں مسلمان طلبہ و طالبات کو پڑھایا جاتا ہے جبکہ غیر مسلموں کے لیے لازمی نہیں۔ علاقے اور دنیا بھر میں، اردن آزادئ مذہب کا علم بردار ہے۔ تاہم مذہبی علما کا حکومت پر کوئی عمل دخل نہیں اور انہیں حکومتی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں۔

اردن میں مقامی مسیحی افراد بھی موجود ہیں۔ عرب اور غیر عرب، دونوں ہی گروہوں میں مسیحی مذہب کے پیروکار پائے جاتے ہیں۔ مسیحی مذہب کے پیروکاروں کی تعداد کل آبادی کا 6 فیصد ہے۔ 1950 میں مسیحی افراد ملکی آبادی کا 30 فیصد تھے لیکن پھر یورپ، کینیڈا اور امریکا کو منتقلی اور مسلمانوں کی نسبت کم شرحِ پیدائش کی وجہ سے ان کی تعداد کم ہو گئی ہے۔

دیگر مذاہب میں دروز اور بہائی اہم ہیں۔

سرکاری زبان کا درجہ عربی کو حاصل ہے۔ انگریزی کو اگرچہ سرکاری زبان کا درجہ نہیں دیا گیا تاہم ملک میں عام طور پر بولی جاتی ہے۔ کاروباری اور بینکاری کے علاوہ تعلیم میں بھی اس کا استعمال وسیع پیمانے پر ہوتا ہے۔

کسی حد تک ہسپانوی، فرانسیسی، آرمینین، کرکاشیئن، چیچن کے علاوہ ترکی، سربو کروشیئن، یونانی اور بوسنین بھی بولی جاتی ہیں۔

ملک کا اصل حکمران بادشاہ ہے اور ملک میں آئینی طور پر بادشاہت قائم ہے۔ بادشاہ کے پاس زیادہ تر طاقت ہوتی ہے تاہم جمہوری طور پر منتخب پارلیمان کے اختیارات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔

اردن میں آئینی طور پر بادشاہت قائم ہے اور یہ آئین 8 جنوری 1952 میں منظور ہوا۔ حکومتی اختیارات بادشاہ اور وزراء کی کونسل کے پاس ہوتے ہیں۔ بادشاہ تمام قوانین کی منظوری اور عمل درآمد کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ تاہم بادشاہ کے فیصلے کو قومی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے اسے رد کیا جا سکتا ہے۔ بادشاہ حکم کے ذریعے عدالتوں کے ججوں کا تقرر کرنے کے علاوہ انہیں عہدے سے ہٹا بھی سکتا ہے۔ آئین میں ترامیم کی منظوری، اعلانِ جنگ اور مسلح افواج کی کمان بھی بادشاہ کے اختیار میں ہوتے ہیں۔ کابینہ کے فیصلے، عدالتی فیصلے اور ملکی کرنسی بھی بادشاہ کے نام سے جاری ہوتے ہیں۔ کونسل آف منسٹرز کی صدارت وزیرِ اعظم کرتا ہے جس کا تقرر بادشاہ کرتا ہے۔ وزیرِ اعظم کی درخواست پر بادشاہ وزیروں کو ان کے عہدوں سے برخاست بھی کر سکتا ہے۔  عام پالیسی کے حوالے سے کابینہ چیمبر آف ڈپٹیز کو جواب دہ ہوتی ہے اور پچاس فیصد ووٹ سے اسے برخاست بھی کیا جا سکتا ہے یا پچاس فیصد ووٹوں سے اس کی توثیق کی جاتی ہے۔

آئین میں تین قسم کی عدالتیں بیان کی گئی ہیں۔ ان میں شہری، مذہبی اور خصوصی عدالتیں شامل ہیں۔ انتظامی اعتبار سے ملک کو 12 صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر صوبے کے گورنر کو بادشاہ مقرر کرتا ہے۔ اپنے صوبوں میں ہر گورنر کے پاس حکومتی اور ترقیاتی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔

اردن کا قانونی نظام فرانسیسی نظامِ عدل پر مبنی ہے اور اس میں مصری شہری قوانین کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے لیے اسلامی قوانین بھی موجود ہیں۔ دیگر اقلیتی مذاہب کے لیے ان کے مذہب کے مطابق عدالتیں موجود ہیں۔ اردن نے عالمی عدالتِ انصاف کو تسلیم نہیں کیا۔

اردن میں سیاسی جماعتوں کی تعداد 30 سے زیادہ ہے۔ ان میں انتہائی دائیں اور انتہائی بائیں بازو کی جماعتیں بھی شامل ہیں۔

آئین کے آرٹیکل 97 کے تحت عدلیہ کو آزاد بنایا گیا ہے۔ اس کے مطابق ججوں کو صرف اور صرف قانون کو جواب دہ ہونا چاہیے۔ ججوں کی تقرری اور تنزلی کا حق بادشاہ کے پاس ہے۔

اردن کے قوانین میں مقامی روایات اور اسلام قوانین اور رسوم کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 99 کے تحت عدالتوں کو شہری، مذہبی اور خصوصی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔ شہری یعنی سول عدالتوں کے اختیار میں تمام شہری اور تمام امور آتے ہیں۔ یہ عدالتیں ملکی قوانین کے مطابق سول اور کرمنل مقدمات کی سماعت کرتی ہیں۔

مذہبی عدالتوں میں شرعی عدالتیں اور دیگر مذاہب کے مذہبی ٹربیونل آتے ہیں۔ یہ عدالتیں خانگی معاملات جیسا کہ شادی، طلاق، وراثت اور بچوں کی دیکھ بھال جیسے معاملات کو دیکھتی ہیں۔ اسلامی طور پر وقف کے معاملات بھی ان عدالتوں کے ذمے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی معاملہ ایک سے زیادہ مذہب کے درمیان باعثِ تنازع ہو تو عام عدالتیں اس کا فیصلہ کرتی ہیں۔

روایتی طور پر مردوں کی اکثریت قانونی نظام سے وابستہ ہوتی تھی لیکن اب خواتین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ غیرت کے نام پر ہر سال 15 سے 20 عورتیں قتل کر دی جاتی ہیں۔ عام خیال کے برعکس غیرت کے نام پر قتل جرم ہے اورکسی ایک مذہب کے پیروکاروں تک محدود نہیں۔ تاہم انصاف کا حصول بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

برطانیہ سے آزادی کے بعد شاہ عبد للہ اول اردن کے بادشاہ بنے۔ 1951ء میں ان کے قتل کے بعد ان کے بیٹے شاہ طلال کچھ عرصے کے لیے بادشاہ بنے۔ شاہ طلال کی اہم ترین کامیابی اردن کے دستور کی تیاری تھی۔ شاہ طلال کو دماغی بیماری کے باعث 1952ء میں ہٹا دیا گیا۔ ان کی جگہ ان کے بیٹے شاہ حسین کم عمر تھے، کی بجائے ایک کمیٹی نے ملکی امور کی دیکھ بھال کی۔

فروری 1999 میں شاہ حسین کے انتقال پر ان کے بیٹے شاہ حسین دوم بادشاہ بنے۔ انہوں نے فوراً ہی اسرائیل کے ساتھ ہوئے امن معاہدے اور اقوام متحدہ کے ساتھ معاہدوں کی توثیق کی۔ اپنے اقتدار کے پہلے سال انہوں نے معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل جاری رکھا۔

سینیٹرکو چار سال کے لیے بادشاہ مقرر کرتا ہے اور ان کی تقرری دوبارہ بھی ہو سکتی ہے۔ ہر سینیٹر کی عمر کم از کم 40 سال ہونی چاہیے اور فوج یاحکومت میں کلیدی عہدوں پر فائز رہ چکا ہو۔ ڈپٹیوں کو بھی چار سال کے لیے چنا جاتا ہے اور ان کی عمر 35 سال سے زیادہ ہونی چاہیے اور بادشاہ کے خونی رشتہ دار نہ ہوں اور نہ ہی کسی حکومتی ٹھیکے سے معاشی فائدے اٹھا سکتے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اردن کی جیلوں میں تشدد اور برا سلوک عام بات ہے۔ اس کے علاوہ مقدمے کی کارروائی کا شفاف نہ ہونا اور سزائے موت بھی اہم مسائل ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق تشدد سے لیے گئے اعترافی بیان کو بنیاد بنا کر سزائے موت دے دی جاتی ہے اور اس پر عمل بھی کر دیا جاتا ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق غیرت کے نام پر لڑکیوں اور عورتوں کا قتل عام بات ہے۔ ہر سال اوسطاً 20 عورتیں غیرت کے نام پرقتل کر دی جاتی ہیں۔ تاہم اب اس صورت حال میں بہتری آ رہی ہے۔ نئے قوانین کے مطابق غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم کے مقدمے کی سماعت ڈیڑھ سال کے اندر اندر مکمل کر دی جاتی ہے۔ گذشتہ سال سے غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم پر عدالتیں نسبتاً سخت سزائیں دے رہی ہیں۔ ماضی میں غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے جرم میں مردوں کو عموماً ایک سال سے کم مدت کی سزا دی جاتی تھی لیکن اب کم از کم سزا 7 سے 15 سال تک مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم کے سلسلے میں عوام کی ذہنیت بدل رہی ہے۔ مزید برآں خواتین کے حقوق کے لیے نئے قوانین بنائے جا رہے ہیں۔

ایمنسٹی کے مطابق اردن میں غیر ملکی گھریلو ملازماؤں کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ہزاروں فلپائنی خواتین اپنے سفارت خانے پناہ لینے پہنچ جاتی ہیں۔ تاہم نئے قوانین کے مطابق مذہبی آزادی، صحت کی سہولیات، 10 گھنٹے کام کا دورانیہ، آجر کے خرچے پر ملازمہ کاہر ماہ ایک بار اپنے ملک جانا، سالانہ 14 دن کی چھٹی مع تنخواہ اور 14 دن جتنی بیماری سے ہونے و الی تعطیلات مع تنخواہ شامل ہیں۔

اردن کے آئین کے مطابق ہر فرد کو مذہب کی آزادی ہے اور ریاست کے رواج کے مطابق ان پر عمل کیا جا سکتا ہے تاہم اس سے عوام کے اخلاق پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔ ریاستی مذہب اسلام ہے۔ ریاستی سطح پر غیر مسلوں کو مسلمان بنانے کی حمایت کی جاتی ہے۔ مسلمانوں کو تبدیلی مذہب کی اجازت تو ہے لیکن اسے سرکاری حمایت حاصل نہیں۔

اردن ایک چھوٹا سا ملک ہے اور اس کے قدرتی ذرائع محدود ہیں۔ فی الوقت اردن میں پانی کی مقدار بہت کم ہے جسے بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ توانائی کے سلسلے میں اردن زیادہ تر بیرونی ذرائع پر انحصار کرتا ہے۔ 1990ء کی دہائی میں خام تیل زیادہ تر عراق اور دیگر ہمسائیہ ممالک سے آتا تھا۔ 2003ء کے اوائل سے خلیج تعاون کونسل اردن کو تیل مہیا کر رہی ہے۔ مزید برآں مصر سے عرب گیس پائپ لائن 2003ء میں مکمل ہوئی اورعقبہ کے جنوبی ساحلی شہر تک آتی ہے۔ حکومت کا ارادہ ہے کہ اس پائپ لائن کو شمال میں عمان اور اس سے آگے تک تعمیر کیا جائے گا۔

شاہ عبد للہ دوم نے 1999ء میں اقتدار سنبھالا اور معاشی میدان میں اصلاح کی پالیسی اپنائی۔ اس سے معاشی عروج شروع ہوا جو اب تک یعنی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ میں اردن چوتھی بڑی آزاد معیشت ہے۔ اس طرح اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور لبنان اردن سے پیچھے ہیں۔ اردن کا بینکاری کا نظام بہت جدید اور پالیسیاں بہترین ہیں جن کی وجہ سے اردن 2009ء کے عالمی معاشی بحران سے آسانی سے گزرا۔

اردن اور عراق میں موجود عدم استحکام کی وجہ سے اردن کو مستقبل کا بیروت اور علاقائی معاشی مرکز کہا جا رہا ہے۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے معاشی ترقی کی شرح 7 فیصد ہے۔ اردن کی معیشت بیرونی امداد کی بجائے اپنے پیروں پر کھڑا ہو رہی ہے۔

کسی بھی دوسرے عرب ملک کی نسبت اردن نے سب سے زیادہ آزادانہ تجارتی معاہدے کیے ہیں۔ یہ معاہدے امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور یورپی یونین کے علاوہ بھی بہت سارے دیگر ممالک کے ساتھ ہیں۔

اردن کی معاشی ترقی میں سب سے زیادہ مشکلات پانی کی کمی، توانائی کے سلسلے میں دیگر ممالک پر انحصار اور علاقائی عدم استحکام ہیں۔

ریاستی ملکیت کی صنعتوں اور اداروں کی نجکاری سے معیشت کی ترقی زور پکڑ رہی ہے۔

امریکا کے ساتھ ہونے والا آزادنہ تجارتی معاہدہ دسمبر 2001ء سے نافذ العمل ہوا۔ 2010ء تک تقریباً تمام ہی تجارتی سامان پر عائد سارے ٹیکس ختم ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ مواصلات، تعمیر، فنانس، صحت، نقل و حمل اور خدمات کے شعبے کی حالت بہتر ہوگی۔ 1996ء میں اردن اور امریکا کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت دونوں ملکوں میں شہری ہوا بازی کے لیے راستے کھول دیے ہیں۔ 2000ء سے اردن عالمی تجارتی ادارے کا رکن بھی ہے۔

بہت سارے عراقی اور فلسطینی تاجروں نے اپنے اہم دفاتر اردن میں بنائے ہوئے ہیں۔ ان دونوں ملکوں میں عدم استحکام کی وجہ سے بہت سارے عراقی اور فلسطینی یہاں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔

خطے میں ہنر یافتہ افراد کا تناسب ارد میں سب سے زیادہ ہے۔ سیاحت کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اس وقت ایک ارب ڈالر سالانہ سے زیادہ آمدنی کا ذریعہ ہے۔ ادویہ سازی بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ جائداد کی خرید و فروخت اور تعمیر کی صنعت بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری بھی اربوں ڈالر میں ہے۔ سٹاک مارکیٹ کا حجم تقریباً 40 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

فی کس آمدنی 2007ء میں 5,100 ڈالر ہے۔ تعلیم اور خواندگی کی شرح اور سماجی بہبود خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ آبادی میں اضافے کی شرح 2.8 فیصد سالانہ ہے۔ بے روزگاری کی شرح کافی زیادہ ہے اور سرکاری اعداد و شمار میں ساڑھے بارہ فیصد ہے۔ تاہم غیر سرکاری اعداد و شمار بے روزگاری کی شرح کو 30 فیصد ظاہر کرتے ہیں۔ افراطِ زر کی شرح 2.3 فیصد ہے۔

مستقبل میں معاشی ترقی کے حوالے سے اردن کی توقعات سیاحت، یورینئم اور تیل کی برآمدات اور تجارت وغیرہ پر ہے۔

اردن میں مصر، جنوبی ایشیا، انڈونیشیا، شام اور فلپائن سے کم ہنر یافتہ اور نیم ہنر یافتہ افرادی قوت آتی ہے۔ اردن میں غیر ملکی ورک فورس کا تخمینہ 3,00,000 سے 7,00,000 کے درمیان ہے جو کل ملکی ورک فورس کے 20 سے 30 فیصد کے درمیان ہے۔ یہ غیر ملکی افراد زیادہ تر تعمیرات ٹیکسٹائل، بلدیاتی شعبے اور گھریلو ملازمین کے طور پر کام کرتے ہیں۔ حال ہی میں کی گئی قانونی ترمیم کے بعد ان افراد کو بہت سارے فائدے مل گئے ہیں اور ان کو قانونی تحفظ بھی دیا گیا ہے جو عرب دنیا میں پہلی بار ہوا ہے۔

کل آبادی کے اعتبار سے اردن دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہنر یافتہ کارکنان کا برآمد کنندہ ہے۔ کل ابادی کا چوتھائی یعنی 6,00,000 افراد دیگر ممالک میں زیادہ تر اہم عہدوں پر فائز ہیں۔

چھوٹے حجم کے باوجود اردن میں بہت سارے عالمی اداروں کے دفاتر موجود ہیں۔ ان میں عرب بینک، ارامیکس، مکتوب اور کردی گروپ شامل ہیں۔ 2009ء سے اردن کی دو کمپنیاں عرب بینک اور عرب پوٹاش فوربزگلوبل 2,000 میں شامل ہیں۔ مزید برآں اردن میں کئی ارب پتی افراد بھی موجود ہیں۔

اگرچہ قدرتی ذرائع کے اعتبار سے اردن اتنا خوش قسمت نہیں لیکن پھر بھی یہاں تیل اور یورینئم پایا جاتا ہے۔

تاہم اردن دنیا کے ان گنے چنے ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کی انتہائی شدید کمی ہے۔ لکڑی اور جنگلاتی پیداوار بھی انتہائی کم ہے۔

فاسفیٹ کی کانیں بھی اردن میں موجدو ہیں اور اردن دنیا مین سب سے زیادہ فاسفیٹ پیدا کرنے والے ممالک کی فہرست میں آتا ہے۔ دیگر عناصر میں پوٹاشیم، نمک، قدرتی گیس اور پتھر وغیرہ اہم ہیں جو نکالے جاتے ہیں۔

دنیا بھر میں یورینئم کے ذخائر کے اعتبار سے اردن ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں یہ بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ اردن کے ذخائر دنیا کے کل 2 فیصد کے برابر ہیں۔ اندازہ ہے کہ اردن میں 80,000 ٹن یورینئم نکالی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ملکی فاسفیٹ کے ذخائر میں 1,00,000 ٹن مزید یورینئم موجود ہے۔ اردن میں 2035ء تک ملک کی توانائی کی ضروریات کا 70 فیصد ایٹمی توانائی سے پیدا کرنے کا منصوبہ ہے۔ چار ایٹمی پلانٹ لگائیں جائیں گے جن میں سے پہلا پلانٹ 2017ء میں کام شروع کرے گا۔

اردن میں قدرتی گیس 1987ء میں دریافت ہوئی ہے اور اس کے ذخائر کا تخمینہ 230 ارب کیوبیک فٹ لگایا گیا ہے۔

خام تیل کے اعتبار سے اردن کے ذخائر نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن تیل رکھنے والی پتھریلی چٹانوں کے ذخائر بہت زیادہ ہیں۔ اس طرح کے ذخائر کے اعتبار سے کینیڈا کے بعد اردن دوسرے نمبر پر آتا ہے۔

پاور پلانٹوں کو اب انہی تیل رکھنے والی پتھریلی چٹانوں پر منتقل کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے تیل کا درآمدی بل تقریباً نصف رہ جائے گا۔

عراق اور فلسطینی ریاست کو جانے والے سامان کی نقل و حمل کے لیے اردن بنیادی مرکز ہے۔ اردن میں نقل و حمل کا بنیادی ڈھانچہ بہت اچھی حالت میں ہے۔

اردن میں کل تین تجارتی ہوائی اڈے ہیں جہاں بین الاقوامی پروازیں آتی جاتی ہیں۔ ان میں سے دو عمان میں ہیں اور تیسرا عقبہ کے شہر میں ہے۔ سب سے بڑا ہوائی اڈا ملکہ عالیہ انٹرنیشنل ائیرپورٹ ہے جو عمان مین واقع ہے۔ یہ ہوائی اڈا رائل جارڈنین ائیرلائن کا مرکزی اڈا ہے۔ شاہ حسین ائیرپورٹ عقبہ شہر کو عمان اور دیگر جگہوں سے ملاتا ہے۔

اردن میں 7,999 کلومیٹر طویل پختہ شاہراہیں ہیں۔

اردن میں نیشنل ریل سسٹم منظور ہو چکا ہے جو تمام بڑے شہروں اور قصبوں کو مسافر بردار اور سامان بردار ٹرینوں کے ذریعے ملائے گا۔

عقبہ کی بندرگاہ اردن کی واحد بندرگاہ ہے۔ یہاں سے عراق، اردن اور بعض صورتوں میں ویسٹ بینک کے لیے ساز و سامان کی منتقلی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اصل بندرگاہ کو جنوب میں منتقل کر دیا گیا ہے اور اس کی توسیع پر کام جاری ہے۔ ابو ظہبی کنسورشیئم پانچ ارب ڈالر کے اس منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ یہ منصوبہ 2013ء تک مکمل ہوگا۔

اردن کی کرنسی اردنی دینار ہے جو مزید دس درہم یا سو قرش یا ہزار فلس پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک دینار 1.414044 امریکی ڈالر کے برابر ہے۔

عرب اسرائیل تنازع، خلیج کی جنگ اور خطے کے دیگر مسائل کی وجہ اردن کی معیشت پر برا اثر پڑا ہے۔ دیگر ممالک سے امن معاہدوں اور اندرونی استحکام کی وجہ سے فلسطینی، لبنانی، خلیج فارس کے افراد اور پناہ گزینوں کے لیے اردن پرکشش ملک ہے۔ اسی وجہ سے ہی اردن کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ اردنی قوانین کے مطابق ہر فلسطینی اردن کی شہریت لینے کا حقدار ہے لیکن وہ اپنی اصل فلسطینی شہریت نہیں چھوڑ سکتا۔ فلسطینی شہریت چھوڑے بغیر فلسطینی اردن میں جائداد نہیں خرید سکتے۔ 2005ء کے نومبر میں ہونے والے تین خودکش بم دھماکوں کے بعد سے اردن کے شاہ عبد للہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

اردن نے مسلسل مغرب نواز پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور روایتی طور پر امریکا اور برطانیہ سے گہرے تعلقات رکھے ہیں۔ انہی تعلقات کی وجہ سے اردن کی غیر جانبداری بھی متائثر ہوئی ہے اور عراق سے تعلقات بھی خلیج کی جنگ کی وجہ سے متائثر ہوئے ہیں۔ اردن اپنی غیر جانبدار اور امن پسند پالیسی کی وجہ سے اپنے ہمسائیوں سے بہترین تعلقات بنائے ہوئے ہیں۔

کشیدگی کے دور میں اردن کو ہمیشہ سے ثالث سمجھا جاتا ہے۔ 1970ء کی دہائی میں ہی شاہ حسین نے ایران سے مذاکرات کیے جس کے بعد ایران نے بحرین کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے لشکر کشی کا ارادہ ترک کر دیا۔ 1990ء کی دہائی میں شاہ حسین نے امریکا اور عراق کے درمیان مصالحت کاری کی۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کے لیے ہمیشہ سب سے آگے رہتا ہے۔ شاہ عبد للہ دوم اسرائیل اور عرب لیگ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

خلیج کی جنگ کے بعد اردن نے مغربی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات زیادہ تر بحال کر دیے۔ شاہ حسین کی وفات کے بعد اردن کے تعلقات خلیجی ممالک سے بہت بہتر ہو گئے۔ عراق میں صدام حسین کے بعد اردن نے عراق میں استحکام اور سکیورٹی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اردن نے اتحادی افواج کے ساتھ ایک یاداشتی مفاہمت پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت 30,000 عراقی پولیس اہلکاروں کی تربیت اردن میں کی جائے گی۔

اردن نے اسرائیل کے ساتھ عدم جارحیت کا معاہدہ کیا ہوا ہے۔

اردن اور اسرائیل کے تعلقات عموماً ایک دوسرے کے ساتھ 1994ء کے امن معاہدے سے قبل بھی اچھے تھے۔ کئی مواقع پر اردن نے اسرائیل کو مصر اور شام کے حملوں کے بارے خبردار کیا تھا۔

روایتی اعتبار سے اردن کے تعلقات امریکا سے قریبی رہے ہیں۔ اہم دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات شاہ عبد للہ دوم کے دور میں اپنے عروج کو پہنچ گئے تھے۔ برطانیہ کے ایم آئی 6 کے بعد اردن کی سرکاری خفیہ ایجنسی کو امریکی سی آئی اے کی دوسری بہترین ساتھی کہا جاتا ہے۔ اردن امریکا کے لیے عراق اور افغانستان میں فوجی اڈوں کے لیے ہر طرح کی مدد فراہم پہنچاتا ہے۔

امریکی، برطانوی اور فرانس کی مدد اور حمایت کے ساتھ اردن کی افواج بہت طاقتور ہو چکی ہیں۔ اردن کی پولیس بھی انتہائی جدید اور ترقی یافتہ ہے اور فوج کے ساتھ ساتھ پولیس بھی ہر طرح کی ہنگامی صورت حال سے نپٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ خصوصی مسلح دستوں کی مدد سے اردن کسی بھی ہنگامی صورت حال سے انتہائی تیزی سے نپٹ سکتا ہے۔

اردن نے بہت سارے ممالک بشمول عراق، مغربی کنارے، لبنان، افغانستان، ہیٹی، انڈونیشیا، کانگو، لائبیریا، ایتھوپیا، اریٹیریا، سیرا لیون اور پاکستان وغیرہ میں دہشت گردی اور قدرتی آفات سے متائثر علاقوں میں اپنے فیلڈ ہسپتال بھیجے ہیں۔

اردن میں ملکی سطح پر دفاعی صنعت کو ترقی دینے کے لیے کنگ عبد للہ ڈیزائن اینڈ ڈیویلپمنٹ بیورو 1999ء میں بنایا گیا ہے جو مختلف شعبوں پر مشتمل ہے۔

اردن کی پولیس انتہائی جدید اور بہترین تربیت یافتہ ہے۔ اردن کو پولیس کی خدمات کے حوالے سے دنیا بھر میں 14ویں جبکہ علاقے میں پہلے نمبر پر رکھا جاتا ہے۔ منظم جرائم کی روک تھام کے لیے اردن کو دنیا میں 9ویں اور علاقے میں پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ اس طرح اردن دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔

اردن میں صحتِ عامہ کا نظام کافی جدید ہے۔ اردن کی حکومت کے مطابق کل ملکی آمدنی کا 7.5 فیصد جبکہ انٹرنیشنل ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق9.3 فیصد صحت کے شعبے پر خرچ ہوتا ہے۔ اردن میں صحتِ عامہ کو سرکاری اور پرائیوٹ شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

اردن میں 86 فیصد افراد کے پاس ہیلتھ انشورنس ہے جو حکومت اس سال کے آخر تک 100 فیصد تک پہنچانے والی ہے۔ سالانہ اردن میں میڈیکل ٹورزم کی مد میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی آمدنی ہوتی ہے۔

سی آئی اے کی فیکٹ بک کے مطابق اردن میں اوسط زندگی کا اندازہ 78.55 سال ہے جو علاقے میں اسرائیل کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

پانی اور گندے پانی کی نکاسی کا نظام جو 1950ء میں محض دس فیصد لوگوں کی پہنچ میں تھا، اب 99 فیصد افراد اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

اردن نے تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اسی شعبے کی وجہ سے اردن آج زراعت کی بجائے صنعت کے حوالے سے اہم ہو چکا ہے۔ عرب دنیا میں اردن کے نظامِ تعلیم کو پہلے جبکہ ترقی پزیر ممالک میں بہترین ممالک میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یونیسکو نے اردن کے نظامِ تعلیم کو صنفی امتیاز سے بالاتر اور تعلیم کے معیار کے حوالے سے 18ویں نمبر پر رکھا ہے۔ اردن میں کل حکومتی اخراجات کا 20 فیصد سے زیادہ تعلیم کے شعبے پر خرچ ہوتا ہے۔

اسلامی دنیا میں سائنسی محققین کی تعداد کے لحاظ سے اردن سب سے آگے ہے جہاں ہر دس لاکھ افراد میں 2,000 محقق موجود ہیں۔ یہ شرح برطانیہ اور اسرائیل سے بھی زیادہ ہے۔

اردن میں ناخواندگی کی شرح تقریباً 7 فیصد ہے۔




#Article 92: ازبکستان (2897 words)


ازبکستان، باضابطہ نام جمہوریہ ازبکستان (ازبک زبان: O‘zbekiston Jumhuriyati، اوزبکستون جمہوریتی) وسط ایشیا خشکی سے محصور (landlocked) ملک ہے۔ اس کی سرحدیں مغرب و شمال میں قازقستان، مشرق میں کرغزستان اور تاجکستان اور جنوب میں افغانستان اور ترکمانستان سے ملتی ہیں۔

یہ لیختینستائن کے بعد دنیا کا واحد ملک ہے جو چاروں طرف سے ایسے ممالک میں گھرا ہے جو خود بھی سمندر سے محروم ہیں۔ انگریزی میں اسے doubly landlocked country کہا جاتا ہے۔

ملک کی قومی زبان ازبک ہے جو ایک ترک زبان ہے جو ترکی اور دیگر ترک زبانوں سے ملتی جلتی ہے۔ چند ذرائع کے مطابق ملک کی کل آبادی کا تقریباً 42 فیصد تاجک النسل ہیں۔ لفظ ازبک کا مطلب حقیقی/اصل (اوز) رہنما(بک) ہے۔

پہلی ملینیم قبل از مسیح میں ایران کے خانہ بدوش نے وسط ایشیا کی ندیوں پر آبپاشی کا نظام قائم کیا اور بخارا و سمرقند جیسے شہر آباد کیے۔ اپنے محل وقوع کی وجہ سے یہ علاقے بہت جلد آباد ہو گئے اور چین و یورپ کے درمیان میں آمد و رفت کا سب سے اہم راستہ بن گئے جسے بعد میں شاہراہ ریشم کے نام سے جانا گیا۔ چین و یورپ کے تجارتی راستہ ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ کافی مالدار ہو گیا۔ اس تجارت سے سب سے زیادہ فائدہ سوغدائی ایرانی قبیلہ کو ہوا۔ ساتویں صدی عیسوی میں ماوراء النہر کہلائے جانے والے اس علاقے میں سب سے بڑا انقلاب اس وقت آیا جب عرب قوم نے یہاں اسلام کا پرچم لہرا دیا اور یوں یہ علاقہ اسلام کے زیر آغوش آگیا۔ 8ویں اور نویں صدی عیسوی میں یہ علاقہ خلافت عباسیہ کے زیر حکومت تھا اور یہی زمانہ تعلیم اور ثقافت کا سنہری دور مانا جاتا ہے۔ اس کے بعد ترکوں نے شمال کی جانب سے علاقہ میں دخل اندازی شروع کی اور نئے صوبے آباد کیے، ان میں بہت سے ایرانی نسل کے لوگ بھی تھے۔ 12ویں صدی تک کئی صوبے آباد کیے جا چکے تھے، اب باری تھی ماوراء النہر کو متحد کرنے کی، لہٰذا انہوں نے ایران اور خوارزم کے علاقے کو ملا کر ماوراء النہر کو ایک بڑے صوبے میں منتقل کر دیا جو بحیرہ ارال کے جنوب تک پھیلا ہوا تھا۔ 13ویں صدی کے اوائل میں منگول کے چنگیز خان کی چنگاری یہاں بھی پہنچی اور پورے علاقہ کو تہس نہس کر دیا اور ایرانی بولنے والوں کو وسط ایشیا کے دوسرے علاقوں کی طرف دھکیل دیا۔ امیر تیمور کے زمانے میں ماوراء النہر نے پھر سے پھلنا پھولنا شروع کیا اور اس بار ا س کا مرکز سمرقند تھا۔ تیمور کے بعد یہ صوبہ کئی حصوں میں بٹ گیا اور 1510ء میں ازبیک کے قبائل نے وسط ایشیا پر قبضہ کر لیا۔ 

سولہویں صدی میں ازبیک میں دو مد مقابل خانیت آمنے سامنے ہوئے: خانیت بخارا اور خانان خیوہ۔ اس زمانہ میں چونکہ سمندی سفر کامیاب ہو رہا تھا لہٰذا شاہراہ ریشم زوال پزیر ہو گیا۔ خانیت کو ایرانیوں سے جنگ لڑنی پڑی اور ان کا کوئی ساتھی بھی نہیں تھا۔ شمالی گھمککڑوں نے بھی ان پر حملے کر کے ان کو کمزور کر دیا تھا اور وہ الگ تھلگ ہو گئے۔ 1729ء تا 1741ء کے درمیان میں ایران کے نادر شاہ نے خانیت کو ایک علاقہ تک محدود کر دیا۔ 19ویں صدی کے اوائل میں تین ازبیک قبائل- خانیت بخارا، خانیت خیوہ اور خانیت خوقند نے اپنی پسپائی سے ابھرنے کا ہلکا سا دور دیکھا۔ لیکن صدی کے نصف آتے آتے اس کی زرخیزی اور تجارتی مالداری کو روس کی نظر لگ گئی۔ خصوصا اس کی کپاس کی کھیتی ایک اہم ذریعہ تھی جس سے یہاں خوب تجارت ہوتی تھی۔ روس نے اسی لالچ میں وسط ایشیا میں اپنی پوری فوج لگادی۔ 1876ء میں روس نے تینوں خانیت پر قبضہ کر لیا اور موجودہ دور کا ازبکستان اس کی زیر حکومت آگیا اور خانیت کے اختیارات کافی حد تک محدود کر دئے گئے۔ 19ویں صدی کے دوسرے نصف میں روس نے ازبکستان کی روسی آبادی نے ترقی کی اور یہاں انڈسٹری کا آغاز ہوا۔ 

بیسویں صدی کا آغاز جدت پسند تحریک کا بیج لے کر نمودار ہوا۔ موجودہ ازبکستان میں شروع ہوئی یہ تحریک نے روس کو یہاں سے بھگا دینے کی مانگ شروع کر دی۔ 1916ء میں وسط ایشیائی لوگوں کے پہلی جنگ عظیم میں حصہ لینے کے جواب میں ازبکستان اور دیگر علاقوں میں ایک پرتشدد حزب مخالف کا آغاز ہوا۔ 1917ء میں زار کے خاتمے کے بعد جدت پسندوں نے خانیت خوقند میں ایک مختصر مدتی آزاد ریاست قائم کی۔ بولسویک جماعت کے ماسکو میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد جدت پسند دو حصوں میں بٹ گئے، ایک نے روسم کمیونزم کو اپنایا تو دوسرے نے عام ترقی پسندی کو اختیار کیا اور اسی سے بسماچی تحریک تحریک کی ابتدا ہوئی۔ چونکہ یہ تحریک 1920ء کے اوائل میں کچل دی گئی تھی لہذا فیض اللہ خوجائے جیسے علاقائی لیڈروں نے ازبکستان میں طاقت حاصل کر لی۔ 1924ء میں سویت اتحاد نے ازبک سویت سوشلسٹ ریپبلک قائم کیا جس میں موجودہ تاجکستان اور ازبکستان شامل تھے۔ 1929ء میں تاجکستان ایک آزاد ریاست بن گیا جس کا نام تاجک سوویت اشتراکی جمہوریہ رکھا گیا۔ 1920-1930ء میں وسیع پیمانے پر فصل کٹائی کی وجہ سے وسط ایشیا ایک بڑے قحط کا شکار ہو گیا۔ 1930ء میں فیض اللہ خوجائے اور دیگر لیڈروں کو سوویت لیڈر جوژف وی اسٹالن (اقتدار: 1927–1953) نے دھوکے سے قتل کر دیا۔ ازبکستان کی سیاست اور مشیعت کی روسی کاری کا دور 1930 سے 1970 تک چلا۔ اس دوران میں روس نے ہرطرح سے علاقہ کو لوٹا اور برباد کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران میں نے اسٹالن نے قفقاز اور کرائمیا کے تمام قومی گروہوں کو جلا وطن کر دیا اور سب کو ازبکستان بھیج دیا تاکہ وہ لوگ جنگ کے خلاف کوئی متنوع حرکت نہ کرسکیں۔ 

ازبکستان وسط ایشیا میں واقع ایک ملک ہے۔ اس کے جنوب میں ترکمانستان اور افغانستان ہیں۔ اس کا رقبہ 447,000 مربع کلو میٹر ہے جو ہسپانیہ یا کیلیفورنیا کے برابر ہے۔ یہ مشرق تا مغرب 1425 کلو میٹر اور شمال تا جنوب 930 کلو میٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کی سرحد جنوب مغرب میں ترکمانستان، شمال میں قازقستان، جنوب میں تاجکستان اور مشرق میںکرغیزستان سے ملتی ہیں۔ ازبکستان نہ صرف وسط ایشیا کی سب سے بڑی ریاستوں میں سے ایک ہے بلکہ یہ واحد ریاست ہے جس کی سرحدیں باقی باقی چار ریاستوں سے ملتی ہیں۔ چونکہ بحیرہ قزوین کا تعلق کسی سمندر سے نہیں ہے لہذا ازبکستان ان دو ملکوں میں سے ایک ہے جو مکمل طور سے زمین بند ملک سے گھرا ہوا ہے۔ یعنی یہ مکمل طور سے زمین بند ملک ہے جس کا کھلے سمندر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسرا ایسا ملک لیختینستائن ہے۔

ازبکستان کی آب ہوا کافی مختلف ہے۔ یہاں کی زمین متوسط بھی ہے اور کل رقبہ کا تقریباً 80 فیصد ریگستان پر مشتمل ہے، یہاں کے پہاڑ سطح سمندر سے تقریباً 4500 میٹر بلند ہیں۔ ازبکستان جنوب مغربی حصہ تیان شاہ کی پہاڑیوں پر مشتل ہے اور یہ کرغیزستان اور تاجکستان تک پھیلی ہوئی ہیں اور وسط ایشیا اور چین کے مابین حد ٍفاصل کا کام کرتی ہیں۔ ازبکستان کے انتہائی شمال میں کرزل قوم نامی ریگستان ہے جو قازکستان کے جنوبی حصہ تک پھیلا ہوا ہے۔ ازبکستان کا سب سے زرخیز حصہ وادئ فرغانہ ہے جس کا رقبہ 21440 مربع کلو میٹر ہے اور کرزل قوم کے مشرق میں واقع ہے جو شمال، جنوب اور مشرق کی جانب سے پہاڑ سے گھرا ہوا ہے۔ وادئی فرغانہ کا مغربی کنارہ دریائے سیحوں سے نوازا گیا ہے۔ یہ دریا ازبکستان کے شمال مشرقی علاقہ سے ہو کر گزرتی ہے،اور قازکستان سے شروع کر کرزل قوم میں ختم ہوتی ہے۔

ازبکستان کو سیراب کرنے کے لیے دو بڑی ندیاں امو دریا اور دریائے سیحوں ہے جو بالترتیب تاجکستاناور کرغیزستان سے شروع ہوتی ہیں۔ یہ وسط ایشیا کی دو اہم ندیاں ہیں۔ ان کا پانی عام طور پر سینچائی کے کام آتا ہے اور کئی سارے مصنوعی نالے بھی ان پر بنائے گئے ہیں۔ سوویت کے زمانہ میں ایک قرارداد منظور ہوئی تھی جس کے تحت کرغیزستان اور تاجکستان ان ہی دو ندیوں کا پانی قازقستان، ترکمانستان اور ازبکستان کو مہیا کرتا تھا اور بدلے میں وہ تین ممالک ان دو ممالک کو تیل اور گیس دیتے تھے۔ لیکن سوویت اتحاد کے زوال کے بعد یہ معاہدہ بھی کالعدم ہو گیا اور ابھی تک کوئی نیا معاہدہ نہیں ہوپایا ہے۔ 

ازبکستان میں خوب سردی اور خوب گرمی پڑتی ہے۔ گرمی کا درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسئس جبکہ سردی میں درجہ حرارت 2- ڈگری سیلسئس تک رہتا ہے۔

کل: 447,400 مربع کلو میٹر
 خشک: 425,400 مربع کلو میٹر
 تر: 22,000 مربع کلو میٹر

کیلیفورنیا سے تھوڑا بڑا ہے، مراکش کے باکل برا ہے اور سویڈن سے تھوڑا چھوٹا ہے۔

 سرحد کی کل طوالت: 6221 کلو میٹر
 سرحدی ممالک: افغانستان 137 کلو میٹر، قازقستان 2203 کلو میٹر، کرغیزستان 1099 کلو میٹر، تاجکستان 1161 کلو میٹر اور ترکمانستان 1621 کلو میٹر۔

 نوٹ ازبکستان کی سرحد بحیرہ ارال سے ملتی ہے جس کی طوالت 420 کلو میٹر ہے۔

 عمیق تر: سیقرنیش قلی، سطح سمندر سے 12 میٹر گہرائی
 بلند تر: حضرت سلطان، 4643 بلند۔

قدرتی گیس، پٹرولیم، کوئلہ، سونا، یورینیئم، چاندی، تانبا، سیسہ اور جست، ٹنگسٹن، مولیبڈینم سے مالا مال ہے۔

آئین ازبکستان کے مطابق جمہوری ازبکستان کی زبان ازبک زبان ہے۔ 

ازبک زبان ترک زبانیں کی ایک شاخ ہے جو اویغور زبان کے بہت قریب ہے دونوں ترک خاندان کی کال روک زبان کے تعلق رکھتی ہیں۔ ازبکستان کی سرکاری زبان صرف ازبک زبان ہے اور 1992ء سے یہ لاطینی حروفِ تہجی میں لکھی جا رہی ہے۔ 

کراکل پاک بھی ایک ترکی زبان کی شاخ ہے جو قازق زبان سے قریب ہے اور قراقل پاقستان میں بطور سرکاری زبان بولی جاتی ہے ۔ تقریباً نصف ملین اس زبان کو بولتے ہیں۔ تقریباً 800,000 سے زیادہ لوگ کزک زبان بولتے ہیں۔

حالانکہ روسی زبان کو آئینی طور پر سرکاری زبان کا درجہ حاصل نہیں ہے مگر یہ تمام میدانوں عام استعمال میں ہے، یہاں کہ سرکاری کاغذات میں بھی روسی زبان استعمال کی جاتی ہے۔ ازبک زبان کے ساتھ ساتھ روسی زبان کو بھی نوٹری کے دستاویزات میں زیر استعمال لانے کی اجازت ہے۔ 
روسی زبان عام بول کی چال کی زبان ہے۔ خصوصا شہروں میں اس کا استعمال عام ہے۔ یہاں تک کہ ملک میں ایک ملین ایسے لوگ ہیں جن کی مادری زبان روسی زبان ہے۔ 
تاجک زبان (فارسی زبان کی ایک شکل) بخارا اور سمرقند جیسے شہروں میں عام بولی جاتی ہے۔ یہاں تاجک لوگ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1,5 ملین ہیں اور غیر سرکاری ڈاٹا کہتا ہے کہ ان کی تعداد 8 سے 11ملین ہے۔  تاجک زبان ان دو شہروں کے علاوہوادئ فرغانہ کے کاسانسای، چوست، ازبکستان، ریشتان، ازبکستان اور ساخ ضلع جیسے علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آہنگران ضلع، دریائے سیحوں کے باغستان ضلع اور شہر سبز، قرشی اور کتاب ضلع میں بھی بولی جاتی ہے۔ ازبکستان کی تقریباً 10-15 فیصد آبادی تاجک زبان بولتی ہے۔ 

ازبکستان کی شہریت حاصل کرنے کے لیے کسی خاص زبان کا آنا ضروری نہیں ہے۔ 

سوویت اتحاد کے تمام ممالک میں مارکس اور لینن سے متاثر دہریت کا بول بالا تھا۔ سوویت نے ایک اصطلاح رائج کی تھی جسے گوساٹیزم (gosateizm) کہتے تھے۔ یہ( gosudarstvo) یعنی ریاست اور (atheism) یعنی دہریت کا مرکب ہے۔ اس کا مقصد ریاست میں دہریت کو فروغ دینا، مذہب کے خلاف تعلیمی مواد چھاپنا اور نشر کرنا، نظام تعلیم میں مذہب کے خلاف تدریسی مواد فراہم کرنا اور مذہبی نشانات کو ختم کرنا تھا۔ 1980ء کی دہائی تک سوویت مذہب کے اثر کو ماند کرنے میں کامیاب رہا بایں طور کہ مساجد اور مدارس مقفل کر دیے گئے، مذہبی متون اور تعلیمات پر پابندی لگادی گئی، مذہبی رہنماؤں کو مقید کر دیا گیا۔ 

ازبکستان ایک سیکیولر ملک ہے اور دستور کی دفعہ 61 کے مطابق مذہبی تنظیمیں ریاست سے الگ رہیں گی اور قانون کی نظر میں سب برابر ہوں گی۔کسی بھی مذہبی تنظیم کے کام کاج میں ریاست کی کوئی دخل اندازی نہیں ہوگی۔  1990ء کی دہائی میں سقوط سوویت کے وقتسعودی عرب اور ترکی کے متعدد مذہبی گروہ ازبکستان میں آئئے اور صوفیت اور وہابیت کی تبلیغ کی۔ 1992ء میں نامیغان نامی شہر میں سعودی یونیورسٹی سے پڑھکر آئے کچھ طالبعلموں میں ایک سرکاری عمارت پر قبضہ کر لیا اور صدر کریمو سے مانگ کی کہ اسلام کو ریاست کا سرکاری مذہب ہونے کا اعلان کیا جائے اور ملک میں شرعی قانون نافذ کیا جائے۔ حالانکہ ان کا یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا اور حکومت نے ان پر غلبہ حاصل کر لیا۔ ان کا سرغنہ افغانستان فرار ہو گیا اور پھر پاکستان چلا گیا۔ اسے بعد میں اتحادی فوج نے شہادت دے دی۔ 1992ء اور 1993ء میں 50 مبلغین کو سعودے عرب سے بھگا دیا گیا۔ صوفی مبلغوں کو بھی تبلیغ سے منع کر دیا گیا۔ 

اسلام ازبکستان کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ یہاں اہل تشیع کے بالمقابل اہل سنت کی تعداد زیادہ ہے۔ یہاں 8ویں صدی میں عرب قوم نے اسلام کو متعارف کروایا۔ اولا وہ وسط ایشیا میں ترکستان کے جنوبی حصہ میں آئے اور بعد میں شمال کی جانب اپنا اثر بڑھایا۔  14ویں صدی میں امیر تیمور میں کئی ساری مذہبی عمارتیں، مساجد تعمیر کروائیں جن میں بی بی خانم مسجد بھی شامل ہے۔ اس نے احمد یسوی کے مزار پر اپنی سب سے شاہکار عمارت بنوائی۔ احمد یوسی ایک صوفی بزرگ تھے جنہوں نے خانہ بدوشوں میں اسلام کی تبلیغ کی۔ ازبیگ خان کے تبدیلی مذہب نے ازبک لوگوں کو کافی متاثر کیا اور بہت بڑی تعداد میں لوگ اسلام میں داخل ہوئے۔ ازبیگ خان نے احمد یسوی کے ایک مرید عبد الحمید کی تبلیغ پر اسلام قبول کیا۔ پھر انہوں نے طلانی اردو میں جم کر اسلام کی تبلغ کی اور وسط ایشیا میں مبلغین کے سفیر روانہ کیے۔
سوویت اتحاد کے دور میں ماسکو نے کامیابی سے ازبیک باشندوں کے ذہن میں اسلامی مطلب کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور ان کی نظر میں اسلام کے معنی ہی بدل گئے۔ انہوں نے وسط ایشیا میں ایک مد مقابل اسلامی ذہانت تیار کیا۔ حکومت نے بھی مذہب مخالف تنظیموں کی بھرپور مدد کی اور اسلامی تحریکوں کو کچلنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی۔ یہی نہیں بلکہ مسلمانوں کو جبرا تبدیلی مذہب کروایا گیا۔ جوزف استالن کے عہد میں متعدد مساجد مقفل کر دی گئیں اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو جلا وطن کر دیا گیا۔ یہ اندازی لگایا جارہا تھا کہ سوویت کے سقوط تک ازبکستان سے اسلام ختم ہوجائےگا اور اسلام بنیادپرستی ماند پڑ جائے گی مگر یہ اندازہ اس وقت غلط ثابت ہوا جب پیو ریسرچ سینٹر کی تحقیق نے ثابت کیا کہ ملک میں 96.3% مسلمان بستے ہیں۔ 

اسلام کی آمد سے قبل موجودہ دورکے ازبکستان میں ،مشرقی عیسائیت کے کچھ قبائل آباد تھے جن میں نسطوریت سے تعلق رکھنے والی آشوری قوم اور سریانی راسخ الاعتقاد کلیسیا شامل ہیں۔ 7 ویں اور 14ویں صدی عیسوی کے درمیان میں نسطوریت قبائل آباد ہوئے۔ بخارا اور سمرقند میں عیسائیت کت بڑے مراکز کھولے گئے۔ عرب قوم کی آمد کے بعد علاقہ میں مسلمانوں کا تسلط بڑھ گیا اور ان کی حکوکت قائم ہوئی۔ اس دوران میں نسطوریت کو خراج دینا پڑتا تھا۔ ان کو مذہبی عمارت بنانے پر پابندی تھی۔ یہاں تک کہ عوام میں صلیب بھی نمایاں نہیں کی جاسکتی تھی۔ ان پابندیوں کے باعث کئی عیسائیوں سے اسلام قبول کر لیا۔ علاقہ عیسائیت کا زور کم ہونے کی دوسری وجہ ییتی سو میں 1338-1339ء میں وبا کا عام ہوجانا ہے جس سے ہزاروں عیسائی قبائل ختم ہو گئے۔ ایک وجہ تجارت بھی ہے کیونکہ شاہراہ ریشم کی تجارت تقریباً مکمل طور پر مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی لہذا معاشی بہتری کے لیے عیسائیوں نے اسلام قبول کر لیا۔ تیمور کے پوتے الوغ بیگ (1409–1449) کے زمانے میں عیسائی وہاں سے بالکل ختم ہو گئے۔ 
بہرحال 1867ء میں روس کے حملے کے بعد علاقہ عیسائیت کی گھرواپسی ہوئی اور راسخ الاعتقاد کلیسا کی تعمیر ہوئی تاکہ یورپی اور روسی افسران اور لوگوں کی مدد کی جا سکے۔ موجودہ دور میں ازبکستان کے زیادہ عیسائی روسی نسل کے ہیں جو مشرقی راسخ الاعتقاد کلیسیا کو مانتے ہیں۔
یہاں کچھ قبائل کاتھولک کلیسیا کے بھی آباد ہیں۔ ازبکستان میں کاتھولک کلیسا بین القوامی کاتھولک کلیسا کا حصہ ہیں جن کی روحانی نگہبانی روم کے پاپ کرتے ہیں۔

پروٹسٹنٹ مسیحیت کی تعداد ازبکستان میں بہت کم ہے۔

ازبکستان میں 6 مندرج کمیون موجود ہیں جو تاشقند، بخارا، سمرقند، ناوئی اور جزاخ جیسے شہروں میں رہتے ہیں۔  سفیر طاہر، ایک ایرانی النسل برطانوی نزاد انگریزی زبان کا معلم تھا، اس کی ولادت 1959ء میں ہوئی تھی ار اس نے ایک ازبک لڑکی سے شادی کر کے وہیں سکونت اختیار کرلی تھی، اس کو غیر قانونی طور پر بہائیت کی تبلیغ کرتے ہوئے پایا گیا تھا لہذا نومبر 2009ء میں اسے ملک بدر کر دیا گیا۔ 

ازبکستان میں ہرے کرشنا نامی ایک گروہ رجسٹرڈ ہے

موجودہ ازبکستان میں کئی بدھ مت کے رشتہ دار پائے گئے ہیں جو قدیم زمانے میں بدھ مت کو مانتے تھے۔ ان میں زیادہ تر باختر علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

ازبکستان میں ما قبل اسلام زرتشتیت ابھی بھی باقی ہ اور تقریباً 7,400 لوگ اس کے متبع ہیں۔ 
ازبک کے کچھ باشندے ابھی بھی آگ کی پرستش کرتے ہیں ایسا وہ مقدس آگ سے مندر کو بچان کے لیے کرتے ہیں۔ شادی کے بعد جب دلہن اپنے شوہر کے گھر جاتی تب اس کو آگ کے ارد گرد تین چکر لگانے پڑتے ہیں تاکہ خود کو ظہارت دے سکیں۔ اس کے بعد ہی شوہر بیوی اپنی بانہوں میں لیتا ہے اور زینت بستر بناتا ہے۔

WIN-Gallup International's 2012 کے مطابق ایک سروے میں 2 فیصد لوگوں نے قبول کیا ان کا کوئی مذہب نہیں ہے۔




#Article 93: اسرائیل (5610 words)


اسرائیل (عبرانی: יִשְׂרָאֵל) مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے جو بحیرہ روم کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع ہے۔ اس کے شمال میں لبنان، شمال مشرق میں شام، مشرق میں اردن، مشرق اور جنوب مشرق میں فلسطین اور جنوب میں مصر، خلیج عقبہ اور بحیرہ احمر واقع ہیں۔ اسرائیل خود کو یہودی جمہوریہ کہلاتا ہے اور دنیا میں واحد یہود اکثریتی ملک ہے۔

اسرائیل کا معاشی مرکز تل ابیب ہے جبکہ سب سے زیادہ آبادی اور صدر مقام یروشلم کو کہا جاتا ہے۔ تاہم بین الاقوامی طور پر یروشلم کو اسرائیل کا حصہ نہیں مانا جاتا۔

نسلی اعتبار سے اسرائیل میںاشکنازی یہودی، مزراہی یہودی، فلسطینی، سفاردی یہودی، یمنی یہودی، ایتھوپیائی یہودی، بحرینی یہودی، بدو، دروز اور دیگر بے شمار گروہ موجود ہیں۔ 2014ء میں اسرائیل کی کل آبادی 8146300 تھی۔ ان میں سے 6110600 افراد یہودی ہیں۔ اسرائیل کا دوسرا بڑا نسلی گروہ عرب ہیں جن کی آبادی 1686000 افراد پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ مسیحی اور افریقی ممالک سے آنے والے پناہ گزین اور دیگر مذاہب کے افراد بھی یہاں رہتے ہیں۔

اسرائیل میں نمائندہ جمہوریت ہے اور پارلیمانی نظام چلتا ہے۔ حق رائے دہی سب کو حاصل ہے۔ وزیر اعظم حکومت کا سربراہ ہوتا ہے اور یک ایوانی پارلیمان ہے۔ اسرائیل ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور دنیا کی 43ویں بڑی معیشت ہے۔ مشرق وسطیٰ میں معیار زندگی کے اعتبار سے اسرائیل سب سے آگے ہے اور ایشیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ دنیا میں اوسط زیادہ سے زیادہ عمر کے حوالے سے اسرائیل دنیا کے چند بہترین گنے چنے ممالک میں شامل ہے۔

سرزمین اسرائیل کی اصطلاح قدیم زمانے سے ہی یہودی لوگوں کے لیے مقدس اور اہم رہی ہے۔ توریت کے مطابق خدا نے یہودی لوگوں کے تین قبائل کو اس سرزمین کا وعدہ کیا تھا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ کو یہودی لوگوں سے مسائل شروع ہو گئے جنہوں نے برطانوی راج کے خلاف احتجاج شروع کر دیا تھا۔ اسی وقت مرگ انبوہ سے بچنے والے لاکھوں افراد اور ان کے خاندان والوں نے یورپ میں اپنے تباہ شدہ گھروں سے دور اپنا وطن تلاش کرنا شروع کر دیا تاہم برطانوی حکومت انہیں زبردستی دوسری جگہوں کے کیمپوں میں بھیج دیتی تھی۔ 1947ء میں برطانیہ نے اعلان کیا کہ وہ کوئی ایسا حل تلاش کرنے میں ناکام رہی ہے کہ جس پر عرب اور یہودی دونوں متفق ہو سکیں، اس لیے وہ اس علاقے سے انخلا کے بارے سوچ رہا ہے۔

یہودیوں کی نمائندہ تنظیم جیوش ایجنسی نے اس منصوبے کو قبول کر لیا لیکن عرب لیگ اور فلسطین کی عرب ہائیر کمیٹی نے اسے مسترد کر دیا۔ یکم دسمبر 1947 کو عرب ہائی کمیٹی نے تین روزہ ہڑتال کا اعلان کیا اور عربوں نے یہودیوں پر حملے شروع کر دیے۔ ابتدا میں خانہ جنگی کی وجہ سے یہودیوں نے مدافعت کی لیکن پھر وہ بھی حملہ آور ہو گئے اور فلسطینی عرب معیشت تباہ ہو گئی اور اڑھائی لاکھ فلسطینی عرب یا تو ملک چھوڑ کر گئے یا پھر انہیں نکال دیا گیا۔

اگلے دن چار عرب ملکوں، مصر، شام، اردن اور عراق کی افواج فلسطین میں داخل ہو گئیں اور 1948 کی عرب اسرائیل جنگ شروع ہوئی۔ سعودی عرب نے مصری سربراہی میں فوجی بھیجے اور یمن نے اعلان جنگ تو کیا لیکن براہ راست شریک نہ ہوا۔ عرب ممالک نے جنگ شروع کرنے کی وجہ یہ بتائی کہ خون خرابا بند ہو اور یہ ان کے ممالک تک نہ پھیل جائے۔ ایک سال کی جنگ کے بعد جنگ بندی ہوئی اور موجود ویسٹ بینک اور جنوبی یروشلم پر اردن نے قبضہ کر لیا تھاجبکہ مصر کے قبضے میں غزہ کی پٹی آئی۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق اسرائیل سے 7 لاکھ فلسطینی یا تو نکل گئے یا انہیں نکال دیا گیا۔

اسرائیل کو آنے والے بعض افراد اس نیت سے آئے تھے کہ انہیں یہاں بہتر زندگی ملے گی، کچھ لوگوں کو ان کے آبائی ممالک میں نشانہ بنایا جاتا تھا اور کئی لوگ صیہونی فلسفے پر یقین رکھتے تھے۔ ان پناہ گزین افراد کو ان کے آبائی وطن کے حوالے سے الگ الگ سلوک کا سامنا تھا۔ یورپ سے آنے والے یہودیوں کو معاشی اور معاشرتی اعتبار سے اہمیت دی جاتی تھی اس لیے انہیں پہلے آنے کا حق دیا جاتا تھا اور عربوں کے چھوڑے مکانات بھی انہیں پہلے دیے جاتے تھے۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے آنے والے یہودیوں کے بارے عام رائے یہ تھی کہ وہ سست، غریب اور مذہبی اور ثقافتی اعتبار سے پسماندہ ہوتے ہیں اس لیے انہیں مہاجر کیمپوں میں زیادہ عرصہ انتظار کرنا پڑتا تھا کہ انہیں اجتماعی زندگی کے لیے مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا۔ یہ مسائل اس حد تک بڑھے کہ اس پر تصادم شروع ہو گئے جو آئندہ برسوں میں بڑھتے چلے گئے۔

اقوام متحدہ کے مطابق 1967 میں اسرائیل نے جب غزہ کی پٹی پر قبضہ کیا تو فلسطین کے پانی کے حقوق پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

عرب قوم پرستوں نے جمال عبد الناصر کی قیادت میں اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس کو تباہ کرنے کا اعلان کیا۔ 1967 میں مسائل اتنے بڑھ گئے کہ عرب ممالک نے اپنی فوجوں کو متحرک کرنا شروع کر دیا تو اسرائیل نے پہل کرتے ہوئے چھ روزہ جنگ شروع کی۔ جنگ میں اسرائیلی فضائیہ نے عرب مخالفین مصر، اردن، شام اور عراق پر اپنی برتری ثابت کر دی۔ اس جنگ میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی، ویسٹ بینک، جزیرہ نما سینائی اور گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔ یروشلم کی حدود کو بڑھا دیا گیا اور مشرقی یروشلم بھی اسرائیل کے قبضے میں آ گیا۔

جنگ کے بعد اسرائیل کو فلسطینیوں کی طرف سے مزاحمت اور سینائی میں مصر کی جانب سے جھڑپوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دیگر گروہوں کی نسبت 1964 میں بننے والی پی ایل او نے ابتدا میں خود کو مادر وطن کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کے لیے وقف کر دیا تھا۔ 1960 کی دہائی کے اواخر اور 1970 کی دہائی کے اوائل میں فلسطینی گروہوں نے اسرائیل اور دنیا بھر میں یہودی مقامات اور افراد کو نشانہ بنائے رکھا جس میں 1972 کے میونخ اولمپکس میں اسرائیلی کھلاڑیوں کا قتل عام بھی شامل ہے۔ جواب میں اسرائیل نے اس قتل عام کے منصوبہ بندوں کے خلاف قتل کی مہم شروع کی اور لبنان میں پی ایل او کے صدر دفتر پر بھی بمباری کی۔

جولائی 1976 میں اسرائیلی کمانڈوز نے یوگنڈا کے ائیرپورٹ پر محبوس 102 افراد کو بحفاظت بازیاب کرایا جسے پی ایل او کے گوریلوں نے یرغمال بنایا ہوا تھا۔

اسی دوران میں بیگن کی حکومت نے یہودیوں کو مقبوضہ غربی کنارے پر آباد ہونے کے لیے سہولیات دینا شروع کیں تو عربوں اور اسرائیلیوں کے مابین کشمکش اور تیز ہو گئی۔ 1980 میں منظور ہونے والے بنیادی قانون کے تحت یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت قرار دیا گیا جو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی فیصلہ ہے اور غربی کنارے پر یہودیوں کی آبادکاری کو بھی بین الاقوامی برادری کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 1981 میں اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کا حصہ قرار دے دیا اگرچہ بین الاقوامی طور پر اس فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

فلسطینیوں کی طرف سے اسرائیل کے خلاف ہونے والا پہلا انتفادہ 1987 میں شروع ہوا اور غربی کنارے اور غزہ میں مظاہرے اور تشدد پھوٹ پڑا۔ اگلے چھ سال تک انتفادہ زیادہ مربوط ہوتا گیا اور اس کا نشانہ اسرائیلی معیشت اور ثقافت تھیں۔ اس دوران میں ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جن کی اکثریت فلسطینی نوجوان تھے جو اسرائیلی فوج پر پتھر پھینکتے تھے۔ شمالی اسرائیل پر پی ایل او کے مسلسل حملوں کے جواب میں اسرائیل نے 1988 میں جنوبی لبنان میں کارروائی کی۔ کویت کے بحران کے دوران میں اسرائیلی محافظین نے مسجد اقصٰی میں احتجاجی جلوس پر فائرنگ کی جس سے 20 افراد جاں بحق اور 150 زخمی ہوئے۔ 1991 کی خلیج کی جنگ کے دوران میں فلسطینیوں کی ہمدردیاں عراق کے ساتھ تھیں اور عراق نے کئی بار اسرائیل پر سکڈ میزائل سے حملے بھی کیے۔ عوامی اشتعال کے باوجود امریکا کے کہنے پر اسرائیل نے کوئی جوابی کارروائی نہیں کی۔

جولائی 2006 میں حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر بمباری کی اور سرحد عبور کر کے دو اسرائیلی فوجی اغوا کر لیے۔ نتیجتاً ایک ماہ لمبی دوسری لبنان کی جنگ شروع ہوئی۔ 6 ستمبر 2007 کو اسرائیلی فضائیہ نے شام کے نیوکلئیر ری ایکٹر کو تباہ کر دیا۔ 2008 میں اسرائیل نے تصدیق کی کہ وہ ترکی کے ذریعے ایک سال سے شام سے امن کی بات چیت کر رہا ہے۔ تاہم اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہوتے ہی ایک اور لڑائی شروع ہو گئی۔ غزہ کی جنگ تین ہفتے جاری رہی اور پھر اسرائیل کی جانب سے یک طرفہ جنگ بندی ہو گئی۔ حماس نے اپنی جانب سے جنگ بندی کا اعلان کیا اور شرائط میں مکمل فوجی انخلا اور سرحد کو کھولنا رکھا۔ راکٹ حملوں اور اسرائیلی فوجی کاروائیوں کے باوجود جنگ بندی کا معاہدہ چل رہا ہے۔ فلسطینیوں کی طرف سے 100 سے زیادہ راکٹ حملوں کے بعد اسرائیل نے 14 نومبر 2012 کو غزہ پر فوجی کارروائی کی جو آٹھ روز جاری رہی۔

اسرائیل بحیرہ روم کے مشرقی سرے پر واقع ہے۔ اس کے شمال میں لبنان، شمال مشرق میں شام، مشرق میں اردن اور مغربی کنارہ جبکہ جنوب مشرق میں مصر اور غزہ کی پٹی واقع ہیں۔

اسرائیل کی خود مختار ریاست ماسوائے 1967 کی چھ روزہ جنگ میں فتح کیے گئے علاقوں کے، تقریباً 20770 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ اس کے کل رقبے کا دو فیصد پانی ہے۔ اسرائیل کے پتلے اور لمبائی کے رخ ہونے کی وجہ سے اس کے ایکسلوسیو اکنامک زون بحیرہ روم میں اس کے زمینی رقبے کا دو گنا ہے۔ مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیوں سمیت اسرائیلی قوانین کل 22072 مربع کلومیٹر پر لاگو ہیں۔ اسرائیلی قبضے میں موجود علاقہ بشمول جزوی خود مختار فلسطینی ریاست مغربی کنارہ ملا کر 27799 مربع کلومیٹر بنتا ہے۔ اتنے چھوٹے رقبے کے باوجود اسرائیل میں جغرافیائی تنوع بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ یہاں ایک طرف نیگیو صحرا ہے تو دوسری جانب جزریل کی زرخیز وادی ہے، گلیلی کے پہاڑ ہوں یا کارمل اور گولان کے پہاڑ بھی یہاں ہیں۔ بحیرہ روم کے کنارے والا ساحل ملک کی 57 فیصد آبادی کی رہائش گاہ ہے۔ وسط میں مشرقی جانب اردن کی وادئ شق موجود ہے جو عظیم وادئ شق کا حصہ ہے۔

دریائے اردن ہرمون پہاڑ سے نکل کر بحیرہ مردار کو جاتا ہے۔ یہ جگہ دنیا کا سب سے نشیبی مقام ہے۔ اس کے علاوہ سرزمین اسرائیل پر مختیشم پائے جاتے ہیں جو دنیا بھر میں کسی اور جگہ نہیں ملتے۔ مختشیم سے مراد ایسی وادی جو چاروں طرف اونچی عمودی دیوار نما چٹانوں سے گھری ہو۔ بحیرہ روم کے بیسن پر موجود ممالک میں فی کس پودوں کی انواع کی مقدار کے حوالے سے اسرائیل سب سے آگے ہے۔

اسرائیل میں درجہ حرارت بہت فرق رہتا ہے۔ یہ فرق سردیوں میں مزید بڑھ جاتا ہے۔ پہاڑی علاقے زیادہ سرد اور ہواؤں کا شکار رہتے ہیں اور بعض اوقات برف بھی پڑ سکتی ہے۔ یروشلم میں ہر سال کم از کم ایک بار ضرور برفباری ہوتی ہے۔ تل ابیب اور حیفہ جیسے ساحلی شہروں کا موسم معتدل رہتا ہے اور سردیاں ٹھنڈی اور بارش عام ہوتی ہے جبکہ گرمیاں گرم تر اور طویل ہوتی ہیں۔ بئر شعبہ اور شمالی نیگیو کے علاقے نیم بنجر ہیں اور کم بارشیں ہوتی ہیں۔ جنوبی نیگیو اور اراوا کا علاقہ صحرائی ہے اور طویل گرمیوں کے بعد نسبتاۢ معتدل سردیاں اور کم بارشیں ہوتی ہیں۔ براعظم ایشیا کا گرم ترین درجہ حرارت 53.7 اسرائیل میں دریائے اردن کی وادی میں 1942 میں ریکارڈ کیا گیا۔

اسرائیل میں مئی تا ستمبر بارشیں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ محدود آبی وسائل کی وجہ سے اسرائیل میں پانی کو محفوظ کرنے کے لیے نت نئی ٹیکنالوجیاں استعمال ہوتی ہیں۔ سورج سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے شمسی توانائی پیدا کی جاتی ہے۔ فی کس شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار میں اسرائیل سب سے آگے ہے اور تقریباً تمام ہی گھروں میں پانی شمسی توانائی سے گرم کیا جاتا ہے۔

اسرائیل میں چار مختلف نباتاتی جغرافیائی علاقے ہیں۔ یہاں نباتات کی کل 2867 اقسام پائی جاتی ہیں جن میں 253 غیر مقامی ہیں۔ اسرائیل میں کل 380 نیچر ریزرو ہیں۔

اسرائیل میں جمہوری ریبلک کی طرز کا پارلیمانی نظام ہے اور حق رائے دہی سب کے لیے ہے۔ جس رکن پارلیمان کے حق میں دیگر پارلیمانی اراکین کی اکثریت ہو، اسے وزیرِاعظم چنا جاتا ہے۔ عموماً یہ عہدہ اکثریتی بڑی پارٹی کو ملتا ہے۔ وزیرِاعظم حکومتی سربراہ ہوتا ہے اور کابینہ کا سربراہ بھی۔ اسرائیل کی پارلیمان میں کل 120 اراکین ہوتے ہیں۔

ہر چار سال بعد پارلیمانی انتخابات ہوتے ہیں لیکن سیاسی عدم استحکام یا عدم اعتماد کی تحریک کی وجہ سے حکومت چار سال سے قبل بھی ختم ہو سکتی ہے۔ اسرائیل کے بنیادی قوانین آئین کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسرائیل کے صدر کا عہدہ ریاست کے سربراہ کا ہوتا ہے اور زیادہ تر نمائشی اختیارات رکھتا ہے۔

اسرائیل کا عدالتی نظام تین سطحوں پر مشتمل ہے۔ زیریں سطح پر میجسٹریٹ کی عدالتیں ہوتی ہیں جو ملک بھر کے اکثر شہروں میں قائم ہیں۔ ان کے اوپر ضلعی عدالتیں آتی ہیں جو میجسٹریٹ عدالتوں کی اپیل بھی سنتی ہیں اور براہ راست بھی مقدمات دائر کیے جا سکتے ہیں۔ یہ عدالتیں ملک کے چھ میں سے پانچ اضلاع میں قائم ہیں۔ سب سے اوپر سپریم کورٹ ہے جو یروشلم میں قائم ہے اور یہاں بھی براہ راست مقدمات دائر کیے جا سکتے ہیں اور ہائی کورٹ کا کام بھی کرتی ہے۔ حکومتی اقدامات کے خلاف کوئی بھی مقدمہ دائر کرنے کے لیے شہری یا غیر ملکی اسی عدالت سے رجوع کرتے ہیں۔ اسرائیل بین الاقوامی عدالت انصاف کے مقاصد کو تو مانتا ہے لیکن اس کی غیر جانبداری پر شک ظاہر کرتا ہے۔

اسرائیل کا قانون انگلش کامن لا، سول لا اور یہودی قوانین کا مجموعہ ہے۔ عدالتی نظام میں جیوری کی بجائے جج فیصلہ کرتے ہیں۔ شادی اور طلاق کے مقدمات کا فیصلہ یہودی، مسلمان، دروز اور مسیحی قوانین کے مطابق متعلقہ مذہبی عدالتیں کرتی ہیں۔ اسرائیل کا عدالتی نظام مکمل طور پر کاغذات سے آزاد ہے اور تمام تر ریکارڈ برقی طور پر محفوظ ہوتا ہے۔

اسرائیل کی ریاست چھ انتظامی اضلاع میں تقسیم ہے جنہیں مہوزت کہتے ہیں۔ ان کے نام سینٹر، حیفہ، یروشلم، شمالی، جنوبی اور تل ابیب کے علاقے اور جوڈیا اور سماریا کے علاقے بھی ہیں جو مغربی کنارے پر ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر جوڈیا اور سماریا کے علاقے اسرائیل کا حصہ نہیں مانے جاتے۔ اضلاع کو مزید 15 سب ڈسٹرکٹ میں تقسیم کیا گیا ہے جنہیں نفوط کہتے ہیں۔ انہیں آگے مزید 50 حصوں میں بانٹا گیا ہے۔

اسرائیل کی طرف سے ان علاقوں پر قبضے کے بعد تاحال ان علاقوں پر یہودی آباد کاری اور فوجی تنصیبات موجود ہیں۔ اسرائیل نے اپنے قوانین کو گولان کی پہاڑیوں اور مشرقی یروشلم پر بھی نافذ کیا ہوا ہے اور اسے اپنا حصہ بنایا ہوا ہے اور یہاں رہنے والے افراد کو اسرائیل میں مستقل رہائش کا حق حاصل ہے اور اگر وہ چاہیں تو اسرائیل کی شہریت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم مغربی کنارہ ابھی تک فوجی انتظام میں آتا ہے اور یہاں کے رہائشی فلسطینی، اسرائیلی شہری نہیں بن سکتے۔ غزہ کی پٹی البتہ اسرائیل کے انتظام سے باہر ہے اور یہاں کسی قسم کی اسرائیلی فوجی یا سویلین موجودگی نہیں، تاہم اسرائیل اس علاقے کے فضائی اور آبی راستوں کی نگرانی کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل گولان کی پہاڑیوں اور مشرقی یروشلم پر اسرائیلی دعوے کو مسترد کرتی ہے اور انہیں اسرائیلی مقبوضہ علاقے شمار کرتی ہے۔ اسی طرح بین القوامی عدالت انصاف کے مطابق بھی چھ روزہ جنگ کے دوران میں اسرائیل نے جو علاقے حاصل کیے تھے وہ آج بھی مقبوضہ علاقے شمار ہوتے ہیں اور اس عدالت نے اسرائیلی مغربی کنارے کی رکاوٹوں کی قانونی حیثیت کے بارے بھی اپنی رائے دی ہے۔

مشرقی یروشلم امن مذاکرات میں ہمیشہ ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ اسرائیل اسے اپنا اٹوٹ انگ اور دارلحکومت کا حصہ شمار کرتا ہے۔ زیادہ تر امن مذاکرات اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 242 کی بنیاد پر ہوتی ہیں جس کے مطابق جنگ کے دوران میں جیتی گئی سرزمین کو فاتح کا حصہ نہیں شمار کیا جاتا، اس لیے اسرائیل کو عرب ممالک سے تعلقات بحال کرنے کے لیے ان علاقوں سے فوجی انخلا کرنا ہوگا۔ اس اصول کو زمین برائے امن کہا جاتا ہے۔

غزہ کی پٹی پر مصر نے 1948 سے 1967 تک قبضہ جمائے رکھا اور 1967 کے بعد اسرائیل قابض ہو گیا۔ 2005 کے یک طرفہ منصوبے کے تحت اسرائیل نے تمام تر فوجی اور آباد کاروں کو مغربی کنارے سے واپس بلا لیا۔ اسرائیل اسے اب مقبوضہ سرزمین کی بجائے غیر ملکی سرزمین مانتا ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوام متحدہ کے مختلف ذیلی دفاتر اسے تسلیم نہیں کرتے۔ جون 2007 میں حماس کی طرف سے حکومت سنبھالنے کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی کو آنے جانے والے بحری، بری اور فضائی راستوں کی نگرانی سخت کر دی ہے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر چند افراد کو چھوڑ کر باقی ہر قسم کی آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ غزہ کی سرحد مصر سے ملتی ہے لیکن اسرائیل، یورپی یونین اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان معاہدے کے تحت سرحدوں پر نقل و حرکت آزادانہ نہیں ہے۔ حسنی مبارک کے دور تک مصر نے اس معاہدے کی پاسداری کی ہے اور اپریل 2011 کو جا کر غزہ کے ساتھ مصر نے اپنی سرحد کھولی ہے۔

اسرائیل کے سفارتی تعلقات 157 ممالک کے ساتھ ہیں اور 100 سے زیادہ سفارتی مشن بھی دنیا بھر میں موجود ہیں۔ عرب لیگ کے صرف تین اراکین یعنی مصر، اردن اور موریطانیہ کے تعلقات اسرائیل سے ہیں۔ اسرائیل اور مصر کے امن معاہدے کے باوجود مصر میں اسرائیل کو دشمن مانا جاتا ہے۔ اسرائیلی قانون کے مطابق لبنان، شام، سعودی عرب، عراق، ایران، سوڈان اور یمن کو دشمن ممالک شمار کیا جاتا ہے اور ان ممالک کو جانے والے اسرائیلی شہریوں کو وزارت داخلہ سے اجازت لینی پڑتی ہے۔

مملکت اسرائیل کو تسلیم کرنے والے پہلے دو ممالک سوویت یونین اور ریاستہائے متحدہ امریکا ہیں۔ امریکا مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کا اپنا اہم ترین حلیف مانتا ہے اور 1967 سے 2003 تک امریکا نے اسرائیل کو 68 ارب ڈالر کی فوجی اور 32 ارب ڈالر امداد دی ہے۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین مذاکرات کے لیے امریکا ہمیشہ اہم کردار ادا کرتا ہے تاہم چند مسائل پر جیسا کہ گولان کی پہاڑیاں، یروشلم اور آبادکاری کے معاملے پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ انڈیا نے 1992 میں اسرائیل کے ساتھ مکمل سفاری تعلقات قائم کیے اور دونوں کے درمیان میں فوجی، ٹیکنالوجی اور ثقافتی تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔ 2009 کے ایک سروے کے مطابق پوری دنیا میں انڈیا کے لوگ سب سے زیادہ اسرائیل نواز ہیں۔ انڈیا اسرائیل کا سب سے بڑا فوجی ساز و سامان کا خریدار ہے جبکہ انڈیا کے لیے سوویت یونین کے بعد اسرائیل دوسرا بڑا فوجی معاون ہے۔ تجارتی حوالے سے انڈیا اسرائیل کا تیسرا بڑا ایشیائی معاون ہے۔ انڈیا اور اسرائیل کے درمیان میں فوجی اور خلائی تعاون جاری رہتا ہے۔ 2010 میں ایشیا بھر میں سب سے زیادہ یعنی 41000 سیاح اسرائیل آئے۔

جرمنی اور اسرائیل کے درمیان میں تعاون زیادہ تر سائنسی اور تعلیمی شعبوں میں ہے اور دونوں ممالک معاشی اور فوجی اعتبار سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ 2007 کے معاہدے کے تحت جرمنی نے اسرائیل کو مرگ انبوہ سے بچنے والوں کے لیے 25 ارب یورو کا معاوضہ دیا۔ اسرائیل کے قیام سے ہی برطانیہ نے اسرائیل سے مکمل سفارتی تعلقات قائم رکھے ہیں۔ پہلوی بادشاہت کے وقت اسرائیل اور ایران کے سفارتی تعلقات تھے لیکن بعد میں اسلامی انقلاب کے بعد ایران نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔

اگرچہ ترکی اور اسرائیل کے تعلقات 1991 سے پہلے جزوی تھے لیکن ترکی نے 1949 میں اسرائیل کو تسلیم کر کے اس سے تعلقات قائم کر لیے تھے۔ مسلمان اور عرب ممالک اکثر ترکی پر زور دیتے ہیں کہ وہ اسرائیل سے اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرے۔ دونوں ممالک کے درمیان میں تعلقات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب اسرائیل نے غزہ فلوٹیلا پر حملہ کیا۔ اسرائیل کے مطابق اس فلوٹیلا کا انتظام کرنے والی ترک تنظیم کے تعلقات حماس اور القاعدہ سے تھے۔

اسرائیل اور یونان کے درمیان میں توانائی، زراعت، فوجی اور سیاحتی شعبوں میں تعاون جاری ہے۔

آذربائیجان ان چند اکثریتی مسلم ممالک میں سے ایک ہے جس نے اسرائیل کے ساتھ وسیع تر تعلقات قائم کیے ہیں۔ ان تعلقات میں تجارتی اور دفاعی، ثقافتی اور تعلیمی شعبے اہم ہیں۔ آذربائیجان اسرائیل کو کافی مقدار میں تیل مہیا کرتا ہے۔ 2012 میں دونوں ملکوں نے 1.6 ارب ڈالر کے دفاعی ساز و سامان کا معاہدہ کیا تھا۔ 2005 میں آذربائیجان اسرائیل کا پانچواں بڑا تجارتی پارٹنر تھا۔

سیاسی، مذہبی اور دفاعی نکتہ نظر سے ایتھوپیا براعظم افریقہ میں اسرائیل کا سب سے بڑا حلیف ہے۔ ایتھوپیا میں پانی کی قلت اور ہزاروں ایتھوپیائی یہودیوں کی فلاح و بہبود کے لیے اسرائیل کا تعاون اہم ہے۔

اسرائیل کو یورپی یونین کے یورپی ہمسائیگی پالیسی میں شامل کیا گیا ہے جس کا مقصد یورپی یونین اور ہمسائیہ ریاستوں کو قریب لانا ہے۔

اسرائیل دنیا بھر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی امداد دینے کی پالیسی پر کارآمد ہے۔ پچھلے 26 سالوں سے 15 ممالک کو اسرائیل کی طرف سے ہنگامی امداد دی گئی ہے تاکہ قدرتی آفات سے نمٹا جا سکے۔ 2010 میں ہیٹی میں زلزلے کے بعد اسرائیل نے سب سے پہلے وہاں فیلڈ ہسپتال قائم کیا تھا۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے 200 سے زیادہ ڈاکٹر اور طبی عملے کے اراکین بھی بھیجے تھے۔ مشن کے اختتام تک اسرائیلی ڈاکٹروں نے کل 1110 مریضوں کا علاج کیا اور 319 کامیاب آپریشن کے علاوہ 16 زچگیوں اور 4 افراد کی جان بچانے کے لیے بھی کام کیا۔ تابکاری کے خطرے کے باوجود اسرائیل ان ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے جاپان کے زلزلے اور سونامی کے بعد سب سے پہلے طبی امدادی کارکن بھیجے۔ اسرائیل نے زلزلے اور سونامی سے متائثرہ شہر کوری ہارا میں ایک کلینک قائم کیا جس میں سرجری، اطفال، میٹرنٹی اور گائناکالوجیکل وارڈ قائم تھے۔ یہاں کل 2300 افراد کا علاج ہوا اور کم از کم 220 افراد یقنی موت سے بچ گئے۔

اسرائیل کی انسانی ہمدردی کی کوششیں 1958 میں سرکاری طور پر شروع ہوئیں جب ماشاو یعنی اسرائیلی وزارت خارجہ امور کی ایجنسی برائے ترقی بین القوامی تعلقات قائم ہوئی۔ اس کے تحت 140 سے زیادہ ممالک کی امداد کی جا چکی ہے جس میں قحط زدہ علاقوں میں خوراک کی تقسیم، عمارتوں کی تعمیر کی تربیت، طبی امدادی عمارت کی تعمیر اور طبی امداد کی فراہمی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیلی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے والے دیگر اداروں میں اسرا ایڈ، دی فاسٹ اسرائیلی ریسکیو اینڈ سرچ ٹیم، اسرائیلی فلائنگ ایڈ، سیو اے چائلڈز ہارٹ اور لاٹیٹ شامل ہیں۔

اسرائیل ترقی یافتہ ممالک میں اپنے بجٹ کے تناسب کے لحاظ سے فوج پر سب سے زیادہ خرچہ کرتا ہے۔ اسرائیلی دفاعی افواج کا سربراہ چیف آف جنرل سٹاف ہوتا ہے جو براہ راست کابینہ کو جوابدہ ہوتا ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز میں بری، بحری اور فضائی افواج شامل ہیں۔ فوج کی ابتدا 1948 کی عرب اسرائیل جنگ سے ہوئی تھی جب پیراملٹری اداروں کو ضم کر کے نئی فوج بنائی گئی۔

اسرائیلی قومی فوج کا زیادہ تر انحصار ہائی ٹیک ہتھیاروں پر ہوتا ہے جس کی اکثریت اسرائیل خود بناتا ہے اور اس کا کچھ حصہ بیرون ملک سے بھی خریدا جاتا ہے۔ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو سب سے زیادہ فوجی امداد دی جاتی ہے۔ 2013 سے 2018 تک امریکا اسرائیل کو ہر سال 3.15 ارب ڈالر کی فوجی امداد دے گا۔ ایرو میزائل دنیا کے چند ہی فعال اینٹی بیلاسٹک میزائل سسٹم میں سے ایک ہے۔ اسرائیل کا آئرن ڈوم ایئر ڈیفنس نظام دنیا بھر میں مشہور ہے کیونکہ اس کی مدد سے اسرائیل غزہ کی پٹی سے چلائے جانے والے قسام، 122 ملی میٹر گراڈ اور فجر 5 راکٹوں کے حملوں کو روکنے میں کامیاب رہا ہے۔

یوم کپور کی جنگ کے بعد سے اسرائیل نے جاسوسی مصنوعی سیاروں کا ایک پورا نظام ترتیب دیا ہے۔ اس طرح کے مصنوعی سیارے چھوڑنے والے سات ممالک میں سے اسرائیل بھی ایک ہے۔ 1984 میں اسرائیل نے اپنے جی ڈی پی کا 24 فیصد دفاع پر خرچ کیا تاہم 2006 میں یہ شرح محض 7 فیصد سے کچھ زیادہ تھی۔
عام یقین کیا جاتا ہے کہ اسرائیل کے پاس نہ صرف ایٹمی بلکہ کیمیائی اور جراثیمی ہتھیار بھی موجود ہیں۔ اسرائیل نے این پی ٹی معاہدے پر دستخط نہیں کیے اور اپنے قومی ایٹمی پروگرام کے بارے خاموشی کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔ 1991 کی خلیج کی جنگ میں عراقی سکڈ میزائلوں کے حملے کے بعد لازم ہے کہ ہر گھر میں ایک کمرہ ایسا ہو جہاں کیمیائی اور جراثیمی ہتھیاروں کا اثر نہ ہو سکے۔

جنوب مغربی ایشیا میں اسرائیل کو معاشی اور صنعتی ترقی یافتہ ممالک میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے 2010 میں انجمن اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ عالمی بینک کے مطابق کاروبار میں آسانی کے حوالے سے اسرائیل خطے میں تیسرے جبکہ دنیا بھر میں 38ویں نمبر پر ہے۔ امریکا کے بعد اسرائیل میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ سٹارٹ اپ کمپنیاں ہیں۔ شمالی امریکا سے باہر اسرائیل کی کمپنیاں سب سے زیادہ نیسڈیک میں رجسٹر ہیں۔

اسرائیل کے مرکزی بینک کو کارکردگی کے حوالے سے 2009 میں 8ویں سے پہلے نمبر پر جگہ ملی ہے۔ ہنریافتہ افراد کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے اسرائیل سب سے آگے ہے۔ مرکزی بینک کے پاس 78 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔

محدود قدرتی وسائل کے باوجود اسرائیل نے زراعت اور صنعت کے شعبوں میں قابل قدر ترقی کی ہے۔ گذشتہ چند دہائیوں سے اسرائیل خوراک کے شعبے میں ماسوائے غلہ اور مویشی، خودکفیل ہو گیا ہے۔ 2012 میں اسرائیل کی درآمدات کا کل حجم 77.59 ارب ڈالر تھا جس میں خام مال، فوجی سامان، خام ہیرے، ایندھن، غلہ اور دیگر روز مرہ کی اشیاء شامل ہیں۔ اہم برآمدات میں الیکٹرونکس، سافٹ ویئر، کمپیوٹرائزڈ سسٹم، مواصلاتی ٹیکنالوجی، طبی آلات، ادویات، پھل، کیمیکل، فوجی ٹیکنالوجی اور ہیرے اہم ہیں۔ 2012 میں اسرائیل کی کل برآمدات 64.74 ارب ڈالر تھیں۔

شمسی توانائی میں ترقی کے حوالے سے اسرائیل پیش پیش ہے۔ پانی کی بچت اور جیو تھرمل توانائی کے حوالے سے اسرائیل دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس کے علاوہ سافٹ ویئر، مواصلات اور لائف سائنسز میں ہونے والی ترقی سے اسرائیل اب سلیکان ویلی کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو گیا ہے۔ ریسرچ اور ترقی پر ہونے والے اخراجات کے جی ڈی پی کے تناسب کے حوالے سے اسرائیل دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے۔ انٹل اور مائیکروسافٹ نے امریکا سے باہر پہلی بار ریسرچ اور ڈویلپمنٹ سینٹر اسرائیل میں قائم کیے تھے۔ اس کے علاوہ آئی بی ایم، گوگل، ایپل، ایچ پی، سسکو سسٹمز اور موٹرولا نے بھی اپنے ریسرچ اور ڈویلپمنٹ مراکز اسرائیل میں قائم کیے ہیں۔

اسرائیل میں عام کاروباری ہفتہ 5 دن کا ہوتا ہے جو اتوار سے جمعرات تک ہے۔ اگر کسی جگہ ہفتے میں چھ دن کام ہوتا ہو تو پھر جمعہ بھی کام میں شمار کرتے ہیں۔ یوم سبت کے احترام میں اگر جمعہ کو کام ہو تو سردیوں میں دو بجے اور گرمیوں میں چار بجے کام ختم کر دیا جاتا ہے اور جمعہ کو ایک طرح سے نصف دن کام ہوتا ہے۔ کئی بار یہ بحث ہو چکی ہے کہ کاروباری ہفتہ باقی دنیا کی مناسبت سے طے کیا جائے کہ اتوار کی چھٹی ہو اور دیگر ایام میں کام کا دورانیہ بڑھا دیا جائے یا پھر اتوار کی جگہ جمعہ کو کام ہو۔

اسرائیل میں کل 9 یونیورسٹیاں ہیں جو حکومتی امداد سے چلتی ہیں۔ ہیبریو یونیورسٹی آف یروشلم اسرائیل کی دوسری پرانی یونیورسٹی ہے۔ یہاں یہودیت کے موضوع پر دنیا بھر میں سب سے زیادہ کتب جمع ہیں۔ ٹیکنیون کی یونیورسٹی اسرائیل کی سب سے پرانی یونیورسٹی ہے اور دنیا کی 100 بہترین یونیورسٹیوں میں شامل ہے۔ اسرائیلی سات یونیورسٹیاں دنیا کی 500 بہترین یونیورسٹیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ 2002 سے اب تک اسرائیل نے 6 نوبل پرائز جیتے ہیں۔ فی کس آبادی کے اعتبار سے اسرائیل میں سب سے زیادہ سائنسی مقالے چھپتے ہیں۔

اسرائیل نے شمسی توانائی کا خیرمقدم کیا ہے اور اسرائیلی انجینئروں نے شمسی توانائی سے متعلق ٹیکنالوجی میں بہت ترقی کی ہے اور اسرائیلی کمپنیاں شمسی توانائی سے متعلق منصوبوں پر دنیا بھر میں کام کر رہی ہیں۔ 90 فیصد سے زیادہ اسرائیلی گھروں میں پانی گرم کرنے کے لیے شمسی توانائی استعمال ہوتی ہے۔ یہ شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل اس طرح اپنی کل توانائی کا 8 فیصد بچا لیتا ہے۔

آبی ٹیکنالوجی میں اسرائیل دنیا کے بہترین ممالک میں سے ایک ہے۔ 2011 میں اسرائیلی آبی ٹیکنالوجی کا کل حجم 2 ارب ڈالر تھا اور سالانہ برآمدات کروڑوں ڈالر۔ ملک بھر میں آبی قلت کے پیش نظر آبی منصوبہ بندی، زراعت کو جدید بنایا جانا اور قطرہ قطرہ آبپاشی بھی اسرائیل میں ہی ایجاد ہوئیں۔ کھارے پانی کو صاف کرنے اور استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے میں بھی اسرائیل سب سے آگے ہے۔ اسرائیل میں ہی دنیا بھر کا سب سے بڑا کھارے پانی کو میٹھا بنانے کا پلانٹ نصب ہے۔ 2013 کے اواخر تک امید ہے کہ اسرائیل کی آبی ضروریات کا 85 فیصد حصہ ریورس اوسموسز سے آئے گا۔ مستقبل قریب میں اسرائیل پانی کو دوسرے ممالک کو برآمد کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اسرائیل میں برقی کاروں کی چارجنگ اور بیٹریوں کی تبدیلی کا ملک گیر نظام موجود ہے۔ اس سے اسرائیل کو تیل پر انحصار کم کرنے میں سہولت ملی ہے۔

اسرائیلی خلائی ادارہ اسرائیل بھر میں ہونے والے خلائی تحقیقی پروگراموں کی نگرانی کرتا ہے جس میں سائنسی اور تجارتی، دونوں طرح کے پروگرام شامل ہیں۔ اسرائیل ان 9 ممالک میں شامل ہے جو اپنے مصنوعی سیارے بنانے اور اسے خلا میں بھیجنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسرائیل بھر میں 18096 کلومیٹر طویل پختہ شاہراہیں موجود ہیں اور کل گاڑیوں کی تعداد 24 لاکھ ہے۔ 1000 افراد کے تناسب سے 324 گاڑیاں دستیاب ہیں۔ پرائیوٹ کمپنیوں کی کل 5715 بسیں مختلف روٹس پر چلتی ہیں۔ ریلوے کا نظام کل 949 کلومیٹر طویل ہے اور اسے حکومت چلاتی ہے۔ 1990 کی دہائی کے وسط سے ہونے والی سرمایہ کاری کے بعد ٹرین کے مسافروں کی سالانہ تعداد 25 لاکھ سے بڑھ کر اب 2008 میں ساڑھے تین کروڑ ہو چکی ہے۔ ٹرینوں کی مدد سے سالانہ تقریباۢ 70 لاکھ ٹن سامان بھیجا جاتا ہے۔

اسرائیل میں دو بین الاقوامی ایئرپورٹ ہیں جن میں سے بن گوریان بین الاقوامی ہوائی اڈا سب سے بڑا ہے اور سالانہ 1 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ مسافر یہاں سے گذرتے ہیں۔ یہ ہوائی اڈا تل ابیب کے قریب واقع ہے۔

بحیرہ روم کے ساحل پر واقع حیفہ کی بندرگاہ اسرائیل قدیم ترین اور سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔ بحیرہ احمر پر واقع ایلات کی بندرگاہ مشرق بعید کے ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اشدود کی گہرے پانی کی بندرگاہ اپنی نوعیت کی دنیا بھر میں چند بندرگاہوں میں سے ایک ہے۔

سیاحت بالعموم اور مذہبی نوعیت کی سیاحت بالخصوص اسرائیل میں بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اسرائیل میں معتدل موسم، ساحل، آثارِ قدیمہ اور دیگر تاریخی اور مذہبی اہمیت کے مقامات اور جغرافیہ کی وجہ سے بہت سارے سیاح آتے ہیں۔ امن و امان کی صورت حال کی وجہ سے یہ صنعت براہ راست متائثر ہوتی ہے لیکن ابھی 2013 میں 35 لاکھ سے زیادہ سیاح اسرائیل آئے۔ فی کس کے اعتبار سے اسرائیل میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ عجائب گھر ہیں۔

اسرائیل کو یہودی افراد کا ملک مانا جاتا ہے اور اسرائیلی قانون کے مطابق تمام یہودیوں اور یہودی النسل افراد کو اسرائیلی شہریت کا حق حاصل ہے۔ اس قانون کی وجہ سے تقریباۢ 3 لاکھ غیر یہودی (روسی یہودی النسل) افراد اسرائیل کے شہری بنے ہیں۔ 73 فیصد اسرائیلی اسرائیل میں ہی پیدا ہوئے ہیں۔

اسرائیل کی دو سرکاری زبانیں ہیبریو اور عربی ہیں۔ ہیبریو زبان اسرائیلی اکثریتی زبان ہے اور سرکاری امور اسی سے نمٹائے جاتے ہیں جبکہ عربی زبان عربی اقلیت استعمال کرتی ہے۔ انگریزی زباناسکول کی ابتدا سے سکھائی جاتی ہے اور کافی اسرائیلی انگریزی میں مناسب دسترس رکھتے ہیں۔ تارکین وطن کی وجہ سے سڑکوں پر مختلف زبانیں سنائی دیتی ہیں۔ 1990 سے 1994 کے درمیان میں روس سے آنے والے تارکین وطن افراد سے اسرائیل کی کل آبادی میں 12 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ 10 لاکھ سے زیادہ افراد روسی بولتے ہیں جبکہ فرانسیسی بولنے والے اسرائیلی افراد 7 لاکھ کے لگ بھگ ہیں جن کی اکثریت شمالی افریقہ سے آئی ہے۔

اسرائیل اور فلسطینی علاقے مل کر ارض مقدس کا بہت بڑا حصہ بناتے ہیں جو ابراہیمی مذاہب یعنی یہودیت، مسیحیت، مسلمانوں اور بہائیوں کے لئے بہت اہمیت رکھتی ہے۔

اسرائیلی یہودیوں کے لیے مذہب مختلف حیثیت رکھتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق 20 سال سے زیادہ عمر کے افراد کے 55 فیصد افراد خود کو روایتی یہودی، 20 فیصد سکیولر یہودی جبکہ 17 فیصد خود کو صیہونی کہلاتے ہیں۔

اسرائیلی آبادی کا 16 فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ مسیحی 2 فیصد ہیں جبکہ دروز ڈیڑھ فیصد۔

یروشلم کا شہر یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے اور ان کے مذہبی عقائد کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ مذہبی مقامات میں دیوارِ گریہ، حرم قدسی شریف، مسجد الاقصٰی، ناصرت، رملہ کی سفید مسجد وغیرہ اہم ہیں۔

مغربی کنارے پر بھی مذہبی اہمیت کے کئی مقامات ہیں جن میں مقدس یوسف کا مقبرہ، یسوع مسیح کی جائے پیدائش بھی شامل ہیں۔

بہائی مذہب کا انتظامی مرکز بھی یہاں قائم ہے۔ بہائی مذہب کی زیارت گاہ ہونے کے باوجود یہاں محض انتظامی عملہ رہتا ہے اور یہاں بہائی نہیں رہتے۔

اسرائیل میں اسکول کا اوسط دورانیہ ساڑھے 15 سال پر محیط ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق شرح خواندگی 97 فیصد سے زیادہ ہے۔




#Article 94: انڈونیشیا (749 words)


انڈونیشیا جنوب مشرقی ایشیا میں واقع ایک اسلامی ملک کا نام ہے، آبادی کے اعتبار سے یہ دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک ہے۔ انڈونیشیا کئی جزائر پر مشتمل ہے۔ ان میں سے بعض کافی بڑے ہیں اور بعض بہت چھوٹے۔ اس لیے ان میں کئی زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن ان میں سے اکثر کا تعلق آسٹرونیشین زبانوں سے ہے جو ملایائی اور پالونیشی زبانوں کا مجموعہ ہیں۔ انڈونیشیا کے بڑے جزیروں مثلا جاوا میں تین بڑی زبانیں رائج ہیں اور سماترا میں تقریباً گیارہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ہر جزیرہ میں کم از کم ایک اپنی زبان ضرور ہے۔

انڈونیشیا کی قومی زبان بھاشا انڈونیشیا ہے جس کی بنیاد مشرقی سماترا کی ایک بول چال کی ملایائی زبان پر ہے۔ یہ ملیشیا کے اکثر حصوں میں بھی سمجھی جاتی ہے۔ اس پر عربی اور سنسکرت کی گہری چھاپ ہے۔ سنسکرت کے بے شمار الفاظ اس میں ملتے ہیں۔ یہ زبان کافی مقبول ہے اور ملک کو متحد کرنے میں اس سے خاصا کام لیا جارہا ہے۔ اب یہ زبان پورے انڈونیشیا میں سکھلائی جا رہی ہے۔ ابتدائی دو برسوں میں بچوں کو ان کی ماردری زبان میں تعلیم دی جاتی ہے اور اس کے بعد ہر جگہ بھاشا انڈونیشیا میں تعلیم ہوتی ہے۔ 1972 میں انڈونیشیا اور ملائیشیا میں ایک معاہدہ ہو گیا ہے جس کی رو سے الفاظ کا متفقہ تلفظ متعین کر لیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے دونوں ملکوں رسل و رسائل میں سہولت پیدا ہو گئی ہے۔ اسی کے ساتھ دونوں ملکوں کی ادبی و تہذیبی زندگی میں قریبی تعلق بھی پیدا ہو گیا ہے۔

انڈونیشیا اور ملیشیا کی تہذیب اور ادب پر ہندوستان و سنسکرت، اسلامی و عربی اور ڈچ (ولندیزی) تہذیب اور ادب کا گہرا اثر ہے۔ ایک زمانہ میں ملایا اور موجودہ انڈونیشیا ایک وسیع سلطنت کا حصہ تھے۔ گیارہویں صدی میں یہ مہاراجا ایرلنگا (Airlanga) کے تحت تھے۔ اس زمانہ میں یہ علاقہ کافی ترقی یافتہ تھا۔ ایک قومی ادب ترقی پا چکا تھا۔ جاوائی زبان میں شاعری ہوتی تھی جس میں سنسکرت الفاظ کافی استعمال کیے جاتے تھے ساتھ ہی سنسکرت کی بحریں بھی استعمال ہوتی تھیں۔ جودہویں صدی عیسوی میں قبلائی خان کو مکمل شکست دینے کے بعد کیرتی راجس جے وردھن کی سرگردگی میں جاوا کی ایک مستحکم سلطنت، مجاپہت قائم ہوئی تو زندگی کے اور شعبوں کی طرح ادب نے بھی ترقی کرنی شروع کی اس کی بنیاد مقامی بول چال کی زبان پر تھی اس عہد کی سب سے مشہور کتاب ناگراکرتاگاما (Nagarakretagama) ہے۔ یہ ایک طویل قصیدہ ہے جو راجا کی تعریف میں لکھا گیا تھا۔ اس میں اس دور کی جاوا کی زندگی کی جھلک بھی ملتی ہے۔ اس کا اسلوب اور بحریں جاوا کی ہیں لیکن سنسکرت الفاظ خاصی بڑی تعداد میں استعمال ہوئے ہیں۔

انڈونیشیا اور ملایا میں ہندو اثر کے تحت راماین اور مہابھارت کی منظوم نظمیں کافی مشہور ہو چکی ہیں اور ان پر مبنی ڈرامے اور غنائی کھیل اور تماشے کافی مقبول ہو رہے ہیں۔ چودہویں صدی میں راماین اور مہابھارت کو جاوی زبان میں منتقل کیا گیا۔ اسی زمانہ میں رومانی کہانیوں، حکایتوں کو بھی بہت فروغ ہوا۔ ساتھ ہی ملایائی، بالی اور سندانی بولیوں میں بھی ادب ترقی پانے لگا۔ اسلامی دور میں میں ملایا کا عروج ہوا اور پرانی کہانیوں نے نیا اسلامی روپ اختیار کر لیا۔ نئی کہانیاں ان زبانوں میں منتقل ہونے لگیں۔ امیر حمزہ کی داستانیں اور سکندر اعظم کی کارنامے نئے روپ میں پیش ہونے لگے۔ فارسی اور عربی سے فقہ، اخلاقیات اور تصوف وغیرہ کتابیں ملائی زبان میں منتقل ہونے لگیں۔ اس دور کے ملائی ادب کی سب سے اعلیٰ پایہ کی کتاب وقائع ملایا سجارہ ملایو (Malay Annals) ہے۔ اس میں سلطنت ملایا کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ جگہ جگہ اس دور کی عام زندگی کے کچھ نایاب مرقعے ملتے ہیں جن میں حقیقت پسندی، مزاح اور مبالغہ آرائی سب ہی کے نمونے موجود ہیں۔

اٹھارہویں صدی میں ملایا کی آزادی ختم ہوئی اور برطانیہ کے تحت ملایائی سلطنتوں کا ایک وفاق قائم ہوا توا حکمراں سلطان باقی رہے اور کافی عرصہ تک سماج اور ادبی زندگی میں پرانی روایات بھی باقی رہیں۔ لیکن جزائر انڈونیشیا پر جب ڈچ حکمرانوں کا قبضہ ہو گیا تو ان کی سرکردگی میں مقامی زبان و ادب کو دبایا گیا اور ڈچ زبان وادب کو مسلط کر دیا گیا۔ بیسویں صدی کے شروع تک جب قومی احساس بڑھتا، قوم پرست تحریکیں ابھرنے لگیں تو مقامی زبان اور ادب میں نئی روح پھونکنے کی کوشش شروع ہوئی اور ملائی (انڈونیشی) زبان میں کہانیاں، ناول اور نظمیں وغیرہ لکھی جانے لگیں۔




#Article 95: استوائی گنی (1316 words)


استوائی گنی وسطی افریقہ کا ایک ملک ہے۔ اس کا کل رقبہ 28٫000 مربع کلومیٹر ہے اور براعظم افریقہ کے چھوٹے ملکوں میں سے ایک ہے۔ تاہم یہ براعظم کے متمول ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ دولت کا ارتکاز حکومت اور طبقہ اشرافیہ تک محدود ہے اور 70 فیصد سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے یعنی 2 ڈالر روزانہ سے کم کماتی ہے۔ اس کی کل آبادی 6٫50٫702 ہے۔

استوائی گنی کے شمال میں کیمرون، جنوب اور مشرق میں گبون اور مغرب میں خلیج گنی ہے۔

آبادی کے اعتبار سے برِاعظم افریقہ کا تیسرا چھوٹا ملک ہے۔ مناسب مقدار میں ملنے والے تیل کے ذخائر کے بعد حالیہ برسوں میں ملک کی معاشی اور سیاسی حالت بدلی ہے۔ استوائی گنی کی فی کس آمدنی کی اوسط دنیا بھر میں 28ویں نمبر پر ہے تاہم سارے کا سارا تیل چند ہی افراد کی ملکیت ہے۔

انسانی حقوق کے حوالے سے اسے بد ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔

آج کے دور کا استوائی گنی جس مقام پر واقع ہے پر قدیم زمانے سے لوگ آباد تھے۔ بنٹو قبائل کی نقل مکانی 17ویں اور 19ویں صدی میں ہوئی۔

پُرتگالی مہم جو فرناؤ ڈو پو ہندوستان کا راستہ تلاش کرتے ہوئے 1472 میں بیاکو کے جزیرے کو دریافت کرنے والا پہلا یورپی بنا۔ اس نے اسے فارموسا کہا لیکن جزیرے کا نام جلد ہی دریافت کنندہ کے نام پر جزیرہ فرنانڈو پو پڑ گیا۔ 1474 میں پُرتگال نے یہاں نوآبادی بسانا شروع کر دی۔

ستمبر 1968 میں فرانسسکو مکیاس نگوئما کو استوائی گنی کا پہلا صدر چنا گیا اور اس کی آزادی کو 12 اکتوبر 1968 میں تسلیم کیا گیا۔ جولائی 1970 میں صدر نے ملک میں ایک جمہوری پارٹی کا نظام لاگو کیا اور بربریت کا دور شروع ہو گیا۔ ایک تہائی سے زیادہ آبادی کو یا تو تہ تیغ کر دیا گیا یا ملک سے باہر نکال دیا گیا۔ 3٫00٫000 کی آبادی میں سے 80٫000 افراد ہلاک ہوئے۔ معیشت کی بنیادیں بیٹھ گئیں، شہری مارے گئے اور غیر ملکی فرار ہو گئے۔ 3 اگست 1979 کی خونی بغاوت کے بعد صدر کا تختہ الٹ دیا گیا۔

استوائی گنی مغربی افریقہ کے مغربی حصے میں واقع ہے۔ ملک کا زیادہ تر رقبہ مین لینڈ حصے پر مشتمل ہے جس کے شمال میں کیمرون اور جنوب اور مشرق میں گبون موجود ہیں۔ اس میں پانچ جزائر بھی شامل ہیں۔ یہ جزائر 40 سے 350 کلومیٹر دور ہیں۔

نام کے برعکس ملک کا کوئی بھی حصہ خطِ استوا پر نہیں۔

استوائی گنی کا موسم استوائی نوعیت کا ہے اور یہاں محض نم اور خشک موسم ہوتے ہیں۔ کچھ حصے ایسے بھی ہیں جہاں آج تک بادلوں کے بنا کوئی دن نہیں دیکھا گیا۔

ملک کے موجودہ صدر تیوڈور اوبیانگ نگوئما مباسوگو ہیں۔ 1982 میں لکھے گئے دستور کے مطابق صدر کو وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ ان اختیارات میں کابینہ کے اراکین کے تقرر و تنزلی، صدارتی حکم کے تحت قوانین کا اجرا، ایوانِ نمائندگان کی برخاستگی، معاہدوں پر گفت و شنید اور ان کی منظوری اور مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف ہونا شامل ہیں۔ وزیرِ اعظم اور اس کے اختیارات کا تقرر صدر کرتا ہے۔

موجودہ صدر نے 3 اگست 1979 کو سابقہ آمر صدر کو ہٹا کر خود اقتدار پر قبضہ کیا تھا جس کے بعد سے اب تک کم از کم 12 مزید ناکام بغاوتیں ہو چکی ہیں۔

موجودہ صدر کے اقتدار کے دوران بنیادی ڈھانچہ بھی بہتر ہوا ہے۔ ملکی سڑکوں کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ پختہ ہے اور ملک بھر میں ہوائی اڈے بن رہے ہیں۔

استوائی گنی میں 7 صوبے ہیں۔ ہر صوبہ مختلف اضلاع میں منقسم ہوتا ہے۔

آزادی سے قبل استوائی گنی کی معیشت کا دار و مدار کوکوا پر تھا۔ 1959 میں اس کی فی کس آمدنی افریقہ بھر میں سب سے زیادہ تھی۔ یکم جنوری 1985 کو یہ فرانک زون کا پہلا غیر فرانسیسی ملک بنا۔ ملکی کرنسی ایکویلے اس سے قبل ہسپانوی پسیٹا سے منسلک تھی۔

جنگلات، فارمنگ اور مچھلی ملکی آمدنی کے اہم ستون ہیں۔

جولائی 2004 میں امریکی سینٹ نے رگز بینک کے خلاف تحقیقات شروع کر دیں۔ اس وقت تک استوائی گنی کے تیل کی زیادہ تر ادائیگی اسی بینک کے ذریعے ہوتی تھی۔ یہی بینک چلی کے اگستو پنوشے کے لیے بھی کام کرتا تھا۔ سینٹ کی رپورٹ میں یہ درج تھا کہ کم از کم ساڑے تین کروڑ ڈالر جتنی رقم صدر اور ان کے قریبی رشتہ داروں نے ہڑپ کر لی تھی۔ تاہم صدر نے اس کی تردید کی تھی۔

استوائی گنی کے زیادہ تر باشندے بنٹو نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ سب سے بڑا قبیلہ فنگ ہے جو یہاں کا مقامی ہے۔ فنگ قبیلہ کل آبادی کا 80 فیصد سے زیادہ ہے اور اس کی مزید 67 شاخیں ہیں۔

اس کے علاوہ یہاں بہت سارے ساحلی قبائل بھی آباد ہیں۔ یہ تمام قبائل مل کر کل آبادی کا 5 فیصد بناتے ہیں۔ کسی حد تک یورپی النسل بالخصوص پُرتگالی اور ہسپانوی بھی آباد ہیں تاہم اکثر ہسپانوی افراد استوائی گنی کی آزادی کے بعد یہاں سے چلے گئے تھے۔ آج کل ہمسائیہ ملکوں کیمرون، نائجیریا اور گبون سے لوگ یہاں منتقل ہو رہے ہیں۔

مسیحیت استوائی گنی کی کل آبادی کے 93 فیصد افراد کا مذہب ہے۔ ان میں سے 87 فیصد رومن کیتھولک اور باقی ماندہ افراد پروٹسٹنٹ ہیں۔ پانچ فیصد افراد مقامی مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں اور 2 فیصد مسلمان، بہائی اور دیگر مذاہب سے ہیں۔

آئینی طور پر فرانسیسی اور ہسپانوی سرکاری زبانیں ہیں۔ جولائی 2007 میں صدارتی حکم نامے کے تحت پُرتگالی زبان کو تیسری سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا۔

ملک میں اس وقت ہسپانوی، استوائی گنیئن ہسپانوی، مقامی زبانیں (فنگ، بوب، بنگا، وغیرہ وغیرہ)، فرانسیسی، انگریزی، جرمنی وغیرہ بولی جاتی ہیں۔

جون 1984 میں پہلی ہسپانوی افریقن ثقافتی کونسل کو استوائی گنی کی ثقافتی شناخت کا کام سونپا گیا۔

فرانسسکو میکائس کے دور میں تعلیم کو بالکل نظر انداز کیا گیا اور بچوں کی بہت معمولی تعداد کو کچھ نہ کچھ تعلیم مل سکی۔ صدر اوبیانگ کے دور میں ناخواندگی کی شرح 73 فیصد سے کم ہو کر محض 13 فیصد رہ گئی اور 8 سال کے عرصے میں سکولوں کی تعداد 65٫000 سے بڑھ کر 1٫00٫000 سے بھی زیادہ ہو گئی۔ 6 سے 14 سال کی عمر کے بچوں کے لیے تعلیم مفت اور لازمی ہے۔

استوائی گنی نے ملیریا کے خلاف اپنے تیار کردہ کنٹرول پروگرام اپنائے ہیں اور ملیریا کے انفیکشن، بیماری اور شرح اموات میں بہت کمی ہوئی ہے۔

ملک میں رجسٹر شدہ ہر فضائی کمپنی پر یورپی یونین کی طرف سے عائد پابندی کا سامنا ہے۔ یعنی کہ کوئی بھی فضائی کمپنی حفاظتی تحفظات کے پیشِ نظر یورپی یونین میں کام نہیں کر سکتی۔

تاہم تیل کی موجودگی کی وجہ سے بین الاقوامی فضائی کمپنیاں یہاں سروس مہیا کرتی ہیں۔ ان میں ائیر فرانس پیرس سے، لفتھانسا فرینکفرٹ سے، آئیبیریا میڈرڈ سے اور کینیا ائیر ویز نیروبی سے ییہاں آتی ہیں۔

مواصلات کے اہم ترین ذرائع میں حکومت ملکیت کے تین ایف ایم ریڈیو سٹیشن ہیں۔ پانچ شارٹ ویو ریڈیو سٹیشن بھی یہاں کام کرتے ہیں۔ دو اخبار اور دو رسالے بھی چھپتے ہیں۔ ایک ٹی وی چینل بھی ہے جو حکومت کی ملکیت ہے۔

زیادہ تر میڈیا میں خود سنسر شپ ہوتی ہے۔ قانون کے تحت کسی بھی عوامی شخصیت پر تنقید نہیں کی جا سکتی۔

عام ٹیلی فون بہت کم ہیں اور ہر 100 افراد کے لیے محض 2 لائنیں موجود ہیں۔ یہاں ایک جی ایس ایم آپریٹر بھی کام کرتی ہے۔

یہاں نو انٹرنیٹ مہیا کرنے والے ادارے 8٫000 افراد کو انٹرنیٹ کی سہولیات مہیا کرتے ہیں۔

استوائی گنی 2012 کے افریقن کپ آف نیشنز کے لیے گبون کے ساتھ مشترکہ میزبان ہے۔ 2008 میں خواتین کی افریقن فٹ بال چیمپئن شپ یہاں منعقد ہوئی جسے استوائی گنی نے جیتا۔ استوائی گنی کی خواتین کی فٹ بال کی قومی ٹیم 2011 کے ورلڈ کپ تک پہنچی ہے جو جرمنی میں کھیلا جائے گا۔

استوائی گنی اپنے تیراکی کے قومی چیمپئن ایرک موسامبانی المعروف ایرک دی ایل کے حوالے سے مشہور ہے۔




#Article 96: ایکواڈور (781 words)


ایکواڈور (انگریزی، ہسپانوی :Ecuador ) باضابطہ نام جمہوریہ ایکوڈور براعظم جنوبی امریکا کا ایک جمہوری ملک ہے جس کے شمال میں کولمبیا، مشرق اور جنوب میں پیرو اور مغرب میں پیسیفک اوشن واقع ہے۔ اس کے علاوہ سمندر میں واقع جزائر گالاپاگوز کے جزائر بھی ملک کا حصہ ہیں، جو مغرب میں ساحل سے 965 کلومیٹر دور سمندر میں واقع ہیں۔ ملک کا کل رقبہ 256,370 مربع کلومیٹر اور آبادی 13,810,000 ہے اور وفاقی دار الحکومت کیٹو ہے۔

ایکواڈور میں انسانی تہذیب کے آثار 3500 قبل مسیح سے ملتے ہیں، جہاں سے کئی تہذیبوں جن میں والدیویا تہذیب اور مچالیلہ تہذیب ساحلی علاقوں اور کوئیٹس (موجودہ دار الحکومت کیٹو کے قریبی علاقہ) اور کناری موجودہ کوئنکا کی تہذیبوں نے جنم لیا۔ ہر تہذیب نے اپنی الگ پہچان، فن تعمیر، برتن سازی اور مذہبی اقتدار بنائیں۔ کئی سالوں کی مزاہمت کے بعد کناری اور دیگر قبائل ہار گئے اور مذاہمتی لڑاکوں کو قتل کر کے ندی میں پھینک دیا گیا جیسا کہ یاہوارکوکا کی لڑائی (battle of Yahuarcocha) یا خونی جھیل (Blood Lake) میں بتایا جاتا ہے اور جس کے نتیجہ میں ایکواڈور انکان سلطنت (Incan empire) کا حصہ بنا۔

تفصیلی مضمون ایکواڈور کا جغرافیعہ

ایکواڈور کو جغرافیائی اعتبار سے تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

ان کے علاوہ ملک کا ایک اور حصہ زمینی علاقہ سے لگ بھگ ایک ہزار کلومیٹر دور پیسیفک اوشن میں واقع ہے جس کو جزائر گالاپاگوز کے جزائر کہتے ہیں۔

ایکواڈور کا شمار دنیا کے ایسے سترہ ممالک میں ہوتا ہے جہاں جنگلی حیات کی بہتات ہے۔ ایکواڈور میں پرندوں کی سولہ سو انواع پائی جاتی ہیں جو دنیا کی پرندوں کی کل انواع کا پندرہ فیصد ہیں۔ اسے علاوہ پودوں کی اقسام میں پچیس ہزار انواع پائی جاتی ہیں۔ رینگنے والے جانوروں کی 106 انواع، جل تھیلیوں کی 138 انواع اور تتلیوں کی 6000 انواع ان کے علاوہ ہیں۔ جزائر گالاپاگوز جزائر جنگلی حیات کی رہائش کے لیے مشہور ہیں جہاں مشہور ماہر حیاتیات چارلس ڈارون نے جنگلی حیات پر تحقیق کی اور مشہور نظریہ ارتقا پیش کیا۔

ایکواڈور میں مختلف نسلوں کے لوگ بستے ہیں جن میں سے سب سے بڑا گروہ میستیزوس ہے جو ہسپانوی کالونی سازوں اور مقامی انڈین قبائل کے باہمی ملاپ سے بنا ہے اور یہ گروہ ایکواڈور کی کل آبادی کا 62 فیصد بناتا ہے۔ امریکی انڈین موجودہ آبادی کا 25 فیصد ہیں۔ ان کے علاوہ یورپ کے دوسرے علاقوں سے جانے والے مہاجر بھی رہتے ہیں جو کل آبادی کا لگ بھگ 10 فیصد ہیں۔

ایکواڈور کی تارکین وطن آبادی کا بڑا حصہ ہسپانیہ، برطانیہ، اٹلی، ریاست ہاۓ متحدہ امریکا، کینیڈا، چلی، وینزویلا، میکسیکو اور جاپان میں رہتا ہے۔ اندازہ کے مطابق 1999ء کے اقتصادی بحران کے دوران لگ بھگ سات لاکھ ایکواڈوریائی باشندہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ تارکین وطن ایکواڈوریایئوں کی تعداد کا تخمینہ پچیس لاکھ ہے۔

سرکاری اداروں میں تعلیم مفت ہے اور 5 سال سے 14 سال تک کی عمر میں سکول جانا ضروری ہے۔ تاہم سکولوں کی تعداد ضرورت سے کہیں کم ہے اور جماعتوں میں طلبہ کی تعداد بہت زیادہ رہتی ہے۔ جس کی وجہ سے کئی لوگ پیسے ادا کر کے مہنگے نجی اداروں میں اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا پسند کرتے ہیں۔ وزارت تعلیم کے اعدادوشمار میں 76 فیصد بچے ابتدائی تعلیم کے 6 سال مکمل کر پاتے ہیں اور دیہاتی علاقوں سے صرف 10 فیصد بچے ہائی سکول تک پہنچ پاتے ہیں۔

اعلی تعلیم کے لیے ایکواڈور میں کل 61 جامعات یا یونیورسٹیاں ہیں، جن میں سے زیادہ تر گریجویٹ ڈگری تک تعلیم دیتی ہیں۔

قریبا 69 فیصد ایکواڈوریائی کاتھولک مسیحی ہیں۔ دیہی علاقوں میں قدیم مذہبی عقائد اور مسیحیت کا مغلوبہ ہے۔ مسلمان آبادی انتہائی کم ہے، جو شاید سینکڑوں میں ہو۔ یہودی مذہب ماننے والوں کی تعداد ہزاروں میں سمجھی جاتی ہے جو جرمنی یا اٹلی سے ہجرت کر کے ایکوڈور میں آباد ہوئے ہیں۔

یورپی مہاجرین کی آبادکاری اور مقامی لوگوں سے ان کے میل ملاپ نے مذہب کے ساتھ تہذیب و تمدن پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور تہذیب یورپی اور قدیم مقامی انڈین تہذیب کا آمیزہ ہے جس میں افریقہ سے لائے گئے غلاموں کی وجہ سے افریقی اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔ لیکن دیہی علاقوں میں خاص کر ایمازون کے جنگلات میں آباد بستیاں اب بھی اپنے قدیم ریڈ انڈین طرز زندگی اور تہذیب پر عمل پیرا ہیں۔

لباس میں پانامہ طرز کی مشہور ٹوپی ایکواڈور سے ہی نکلی ہے جسے وہاں سومبریرو دے پاحا توکئیلہ یا جیپیجاپا کہتے ہیں اور ایکواڈور میں صوبہ مانابی میں بنائی جاتی ہیں۔

مشہور شخصیات میں مصور تابارا، گویاسامین، کنگمین، رینڈون، آراوز، کونستانتے، ویٹیری، مولیناری، مالدونادو، گوٹیریز، اندارا کرو، ویلاسز، ایگاس، ویلافوعرتے اور فائینی ہیں۔ شاعروں میں جوز جواکوئن دے اولمیدو ای ماروری اور دانشوروں میں بینجامین اوریٹیا ٹینس کھلاڑی پانکو سیگورا شامل ہیں۔




#Article 97: ایل سیلواڈور (2275 words)


ال سلوا ڈور جسے سیور کی جمہوریہ بھی کہتے ہیں، وسطی امریکا کا سب سے چھوٹا اور سب سے زیادہ گنجان آباد ملک ہے۔ اس وقت یہاں تیزی سے صنعتی ترقی جاری ہے۔ ال سلوا ڈور بحرِ الکاہل کے ساحل پر گوئٹے مالا اور ہونڈراس کے درمیان خلیج فونسیکا پر واقع ہے۔

ال سلوا ڈور کی کل آبادی تقریباً 6,340,454 افراد پر مشتمل ہے جو مقامی اور یورپی النسل کے اختلاط سے بنی ہے۔ سان سلواڈور ملکی دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ 1892 سے 2001 تک یہاں کولن کو پیسے کے طور پر استعمال کرتے تھے لیکن اس کے بعد امریکی ڈالر چلتا ہے۔ یہاں کے باشندوں کو سلواڈورین یا وسطی امریکی کہتے ہیں۔

پری کولمبیئن دور میں اس علاقے میں بہت سارے مقامی امریکی قبائل رہتے تھے۔

ہسپانوی یہاں پیڈرو ڈی الوراڈو اور اس کے بھائی گونزالو کے ساتھ 1524 سے 1525 کے دوران موجودہ دور کے گوئٹے مالا سے آئے۔ نوآبادیاتی دور میں ال سلواڈور گوئٹے مالا کے زیر انتظام تھا۔

ہسپانوی یہاں پیڈرو ڈی الوراڈو اور اس کے بھائی گونزالو کے ساتھ 1524 سے 1525 کے دوران موجودہ دور کے گوئٹے مالا سے آئے۔ نوآبادیاتی دور میں ال سلواڈور گوئٹے مالا کے زیر انتظام تھا۔

سولہویں صدی کے اوائل میں ہسپانوی فاتحین نے اس علاقے میں اپنی موجودگی بڑھانے کے لیے بندرگاہوں کا سہارا لیا۔ انہوں نے اس علاقے کو ہمارے یسوح مسیح کا صوبہ، دنیا کے نجات دہندہ قرار دیا۔ ہسپانوی میں اسے پرونشیا ڈی نوسترو سینور جیسس کرائسٹو، ال سلواڈور ڈیل منڈو کہا جاتا تھا جو بعد ازاں سکڑ کر محض ال سلواڈور رہ گیا۔ 1524 میں پیڈرو ڈی الوراڈو نے اس علاقے میں گوئٹے مالا سے ایک مہم بھیجی لیکن اسے مقامی افراد نے 1526 میں نکال باہر کیا۔ 1528 میں بھیجی جانے والی دوسری مہم کامیاب رہی اور ہسپانویوں نے یہاں اپنا پہلا شہر بسایا۔

کافی سے ہونے والے بے پناہ منافع سے ساری زرخیز زمین چند خاندانوں تک محدود ہو کر رہ گئی۔

انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں آنے والے تمام تر صدور طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے ہر ممکن طریقے سے کافی کی پیداوار کو بڑھایا اور کافی کی برآمد کے سلسلے میں بنیادی ڈھانچے کو ترقی دی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے عام لوگوں سے زمینیں چھیننے اور انہیں انہی کی اپنی زمینوں پر بیگار کرنے پر مجبور کیا۔ 1912 میں نیشنل گارڈ کا قیام عمل میں آیا جو دیہاتی پولیس کا کام کرتی تھی۔

اراوجو کے بعد 1913 سے 1927 تک میلینڈیز اور کوئنونز خاندان کی حکمرانی رہی۔ ان کے بعد پیو روموری باسک جو حکومت کے سابقہ ویزر تھے، صدر بنے اور 1930 میں آزادانہ انتخابات کا اعلان کیا۔ انتخابات کے نتیجے میں یکم مارچ 1931 کو ارترو اراوجو صدر بنے۔ تاہم ان کی حکومت محض نو ماہ چل سکی۔

اسی سال فرابنڈو مرتی جلاوطنی سے واپس آئے۔ ان سے ملنے کے لیے کچھ کمیونسٹ آئے۔ صدر رومیرو باسک نے 1930 کے انتخابات سے قبل انہیں ملک سے باہر بھیج دیا کیونکہ ان کی کمیونسٹ سرگرمیاں کسی سے پوشیدہ نہ تھیں۔ صدر اراوجو عوام میں ناپسندیدہ بن گئے کیونکہ عوام کی اکثریت زمینوں کی واپسی اور معاشی اصلاحات چاہتی تھی۔ ان کی حکومت کے پہلے ہی ہفتے حکومت مخالف مظاہرے شاہی محل کے سامنے شروع ہو گئے۔

جونیئر افسروں کی طرف سے بغاوت کی تیاری کی گئی اور شاہی محل پر حملہ کر دیا گیا۔ صدر کی حامی افواج محض گھڑ سواروں کی پہلی رجمنٹ اور نیشنل پولیس پر مشتمل تھیں۔ جلد دسمبر 1931 کی رات کو انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ اس بغاوت کی ایک وجہ صدر کی طرف سے فوجیوں کو کئی ماہ سے تنخواہ نہ دینا تھی۔

نائب صدر کی مدد سے حکومت بنا دی گئی۔ نائب صدر نے صدارتی انتخابات بعد میں کرانے کا وعدہ کیا۔ انتخابات سے چھ ماہ قبل انہوں نے مستعفی ہو کر انتخابی مہم میں حصہ لیا اور صدر منتخب ہوئے۔ انہیں پہلے 1935 سے 1939 اور پھر 1939 سے 1943 تک صدر منتخب کیا گیا۔ 1944 میں چوتھی بار صدر منتخب ہونے پر ان کے خلاف عام ہڑتال کی گئی۔ اس وجہ سے انہوں نے صدارتی عہدہ خالی کر دیا۔

اکتوبر 1979 میں ایک فوجی بغاوت کے بعد انقلابی فوجی جنتا آف ال سلواڈور حکومت میں آئی۔ اس حکومت نے کئی پرائیوٹ کمپنیاں قومیا لیں اور لوگوں کی ملکیت زمین کا بہت بڑا حصہ بھی ہتھیا لیا۔

چونکہ یہ حکومت فوج کو لوگوں کو ان کے حقوق جیسا کہ یونین بنانا، زرعی اصلاحات، بہتر تنخواہیں، صحت اور آزادئ اظہارِ رائے سے زیادہ عرصہ نہ روک سکی، اس لیے اسے تحلیل کر دیا گیا۔ اس دوران چھاپہ مار کارروائیاں ملک بھر میں پھیل گئیں۔ حتٰی کہ سکول کے بچے بھی اس میں شامل ہونے لگے۔

امریکی حکومت نے کمیونسٹوں کے بڑھتے ہوئے غلبے کو روکنے کے لیے ایک اور فوجی جنتا کی تشکیل کی مالی مدد کی تاہم انقلاب کی راہ ہموار ہو چکی تھی۔ اس نئی جنتا کا نتیجہ ایک اور خانہ جنگی کی صورت میں نکلا۔

ال سلواڈور کی یہ خانہ جنگی براہ راست حکومت اور بائیں بازو کے چار گروہوں اور ایک کمیونسٹ گروہ کے درمیان لڑی گئی۔

اس جنگ میں 75٫000 سے زیادہ افراد مارے گئے اور امریکی حکومت نے اس جنگ میں کم از کم 5 ارب ڈالر جھونکے۔ یہ جنگ دراصل عالمی سرد جنگ کے تناظر میں لڑی جا رہی تھی۔ اس جنگ میں کیوبا اور روس حکومت مخالف جبکہ امریکا حکومت کے ساتھ تھا۔

بائیں بازو کی جماعت نے صدارتی انتخابات میں اپنی مسلسل ناکامیوں سے تنگ آ کر چھاپہ مار رہنما کی بجائے ایک اخبار نویس کو صدارتی امیدوار بنا لیا۔ نتیجتاً 15 مارچ 2009 کو اس جماعت کا پہلا امیدوار صدر منتخب ہوا۔

اس کے علاوہ ال سلواڈور میں قانون ساز ادارہ ہے جسے ال سلواڈور کا مقننہ کہتے ہیں۔ اس کا ایک ایوان ہوتا ہے اور 84 ڈپٹی یعنی نائبین ہوتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر عدلیہ ہے جس کی سربراہی سپریم کورٹ کرتی ہے۔ سپریم کورٹ میں 15 جج ہوتے ہیں جن میں سے ایک کو عدلیہ کو صدر چنا جاتا ہے۔

ال سلواڈور کے سیاسی ڈھانچے میں صدر کو حکومت اور ملک کے سربراہ کی حیثیت ملی ہوتی ہے۔ تمام تر اختیارات حکومت کے پاس ہوتے ہیں۔ قانون سازی کا عمل حکومت قانون ساز اسمبلی مل کر کرتے ہیں۔ یہاں کی عدلیہ آزاد ہے۔

ال سلواڈور میں کل 14 محکمے ہیں جو آگے مزید 262 بلدیات میں منقسم ہیں۔

ال سلواڈور وسطی امریکا میں واقع ہے۔ اس کا کل رقبہ 21٫040 مربع کلومیٹر ہے۔ اسے براعظم امریکا کے سب سے چھوٹے ملک کا درجہ ملا ہوا ہے۔ اس کی حدوں میں 320 مربع کلومیٹر آبی ذخائر موجود ہیں۔

یہاں سے کئی چھوٹے دریا گذرتے ہوئے سمندر تک جاتے ہیں۔ سب سے بڑا دریا لِمپا دریا ہے جس میں کشتی رانی کے قابل ہے۔

کئی جھیلیں آتش فشانی عمل کے نتیجے میں بننے والے گڑھوں میں موجود ہیں۔ جھیل گوئجا ملک کی سب سے بڑی قدرتی جھیل ہے۔

ال سلواڈور کی سرحدیں ہونڈراس اور گوئٹے مالا سے ملتی ہیں۔ ال سلواڈور وسطی امریکا کا واحد ملک ہے جس کی حدیں کریبئن سمندر سے نہیں ملتیں۔

ال سلواڈور کا موسم استوائی نوعیت کا ہے اور یہاں نم اور خشک موسم ہوتے ہیں۔ درجہ حرارت بلندی کے ساتھ بدلتے ہیں اور موسم کی تبدیلی سے زیادہ تبدیل نہیں ہوتے۔ بحرِ الکاہل کے کنارے والے علاقے گرم ہیں۔ وسطی سطح مرتفع اور پہاڑی علاقے زیادہ معتدل ہیں۔ مئی سے اکتوبر تک بارش عام ہوتی ہے۔ سارے سال کی تقریباً ساری ہی بارش اسی دوران ہوتی ہے۔ سالانہ بارش کی مقدار بعض علاقوں میں 85 انچ سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ ال سلواڈور میں سیر کے لیے سب سے بہترین وقت خشک موسم کے آغاز یا اختتام پر ہے۔ وسطی سطح مرتفع اور پہاڑوں کے سائے میں موجود علاقوں میں بارش نسبتاً کم ہوتی ہے۔ عموماً یہ بارش بحرِ الکاہل میں ہونے والے ہوا کے کم دباؤ سے سہہ پہر کے وقت گرج چمک کے ساتھ ہوتی ہے۔

نومبر سے اپریل تک شمال مشرقی تجارتی ہوائیں موسم پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ان مہینوں میں ہوا کریبئن سے چلتی ہے اور یہاں پہنچنے تک خشک ہو چکی ہوتی ہے۔

ال سلواڈور بحرِ الکاہل کے حلقہ آتشیں پر واقع ہے اور یہاں زیر زمین پلیٹیں متحرک رہتی ہیں۔ اس وجہ سے یہاں زلزلے اور آتش فشانی عمل بکثرت ہوتے رہتے ہیں۔ حال ہی مین 13 جنوری 2001 کو آنے و الے زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل 7.7 تھی اور 800 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ایک ماہ بعد آنے اولے زلزلے سے 255 لوگ ہلاک ہوئے اور ملک بھر میں تقریباً چوتھائی گھر تباہ ہوئے۔

سان سلواڈور کے علاقے میں 1576، 1659، 1798، 1839، 1854، 1873، 1880، 1917، 1919، 1965، 1986، 2001 اور 2005 میں زلزلے آئے ہیں۔ 1986 کے زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر 5.7 تھی اور اس سے 1٫500 لوگ ہلاک جبکہ 10٫000 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ ایک لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو گئے۔

ال سلواڈور کے محل وقوع کی بنا پر یہاں کا موسم بحرِ الکاہل سے زیادہ متائثر ہوتا ہے۔ ال نینو اور لا نینا کے عوامل سے یہاں ہونے والے طوفان اور قحط سالی مزید شدید ہو جاتے ہیں۔ 2001 کے موسم گرما میں قحط سالی سے ملک کی 80 فیصد سے زیادہ فصلیں تباہ ہو گئی تھیں اور دیہاتوں میں قحط پڑ گیا تھا۔ 4 اکتوبر 2005 کو ہونے والی شدید بارشوں سے سیلاب آئے جس سے کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور سی آئی اے کی ورلڈ فیکٹ بک کے مطابق خطے میں ال سلواڈور کی معیشت کوسٹا ریکا اور پاناما کے بعد تیسری بڑی ہے۔ فی کس آمدنی 4٫365 ڈالر سالانہ ہے۔

اگرچہ ال سلواڈور کی زیادہ تر معیشت قدرتی آفات جیسا کہ زلزلوں اور ہری کین سے متائثر ہوتی رہی ہے تاہم اس کی ترقی کی رفتار مستحکم ہے۔

جی ڈی پی میں خدمات کا شعبہ 64.1 فیصد کے ساتھ سرِفہرست جبکہ صنعتی شعبہ 24.7 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ زراعت 11 فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔

نوآبادیاتی دور میں ال سلواڈور کی معیشت کا انحصار محض ایک برآمد پر تھا۔ اس دور میں یہاں سے نیل دوسرے ملکوں کو بھیجا جاتا تھا۔ تاہم مصنوعی نیل کی ایجاد سے ال سلواڈور نے نیل کی بجائے کافی کی برآمد بڑھا دی۔ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ سونا اور چاندی یہاں کی اہم برآمدات تھیں۔

ال سلواڈور کے میکسیکو، چلی، ڈومینکن ریپبلک اور پاناما کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے ہیں۔

حکومت نے بالواسطہ ٹیکسوں کی وصولی پر زور بڑھا دیا ہے۔ ستمبر 1992 میں 10 فیصد کا وی اے ٹی نافذ ہونے کے بعد جولائی 1995 میں 13 فیصد کر دیا ہے۔

ال سلواڈور کی آبادی 1950 میں 19 لاکھ تھی جو 1984 میں 47 لاکھ ہو چکی تھی۔ چونکہ 1992 سے 2007 تک باقاعدہ مردم شماری نہیں ہوئی اس لیے مصدقہ اعداد و شمار مہیا نہیں۔ 2007 کی مردم شماری سے قبل اندازہ لگایا گیا تھا کہ ملک کی کل آبادی 71 سے 72 لاکھ کے درمیان ہے۔ اس مردم شماری کے نتیجے میں کل آبادی 71٫85٫218 ہے۔

ملک کی تقریباً ساری ہی آبادی یورپی النسل اور مقامی آبادی سے نکلی ہے۔ اس میں زیادہ تر ہسپانوری، فرانسیسی، جرمن، سوئس، انگریز، آئرش، اطالوی، ڈینش، سوئیہڈش، ناوریجیئن، ولندیزی اور وسطی یورپی ممالک کے لوگ شامل ہیں۔ وسطی یورپی ممالک کے لوگ دوسری جنگِ عظیم کے نتیجے میں یہاں آئے۔

دیگر لسانی گروہوں میں عرب، یورپی، یہودی، شمالی امریکی، وسطی امریکی، جنوبی امریکی، کیریبئن اور معمولی تعداد میں ایشیائی بھی شامل ہیں۔

ال سلواڈور وسطی امریکا کا واحد ملک ہے جہاں افریقی نژاد باشندے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں بحرِ اوقیانوس کا ساحل نہیں لگتا۔ 1930 کے قانون کے مطابق یہاں سیاہ فام، خانہ بدوش، ایشیائی اور عرب لوگوں کی آمد پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ لبنانی، شامی، فلسطینی اور ترک افراد جو یورپی النسل تھے، کو ملک میں آنے کی اجازت تھی۔ یہ قانون 1980 کی دہائی میں کالعدم قرار دیا گیا۔
دار الحکومت سان سلواڈور میں 21 لاکھ کے قریب افراد رہتے ہیں۔ ملک کی کل آبادی کا 42 فیصد دیہاتوں میں رہتا ہے۔ 1960 کی دہائی میں شہروں کا رخ کرنے کا رحجان بڑھا اور لاکھوں افراد شہروں کو منتقل ہوئے۔

وسطی امریکی ہسپانوی سرکاری زبان ہے اور تقریباً تمام آبادی اسے بول اور سمجھ سکتی ہے۔ کچھ مقامی قبائل اپنی زبانیں بھی بولتے ہیں لیکن ہسپانوی بھی بول سکتے ہیں۔

ماضی قریب میں ال سلواڈور میں جرائم کی شرح بہت بلند رہی ہے۔ ان جرائم میں جرائم پیشہ گروہ اور 18 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کے جرائم بھی شامل تھے۔

اس وقت ال سلواڈور میں قتل کی شرح ان چند گنے چنے ملکوں میں کے برابر ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ 2004 میں قتلِ عمد کی شرح 41 فی ایک لاکھ افراد تھی۔ 60 فیصد قتل جرائم پیشہ گروہوں نے کیے تھے۔ جنوری اور فروری 2005 میں ال سلواڈور میں 552 قتل ہوئے۔ اسی سال شرح جرائم میں 7.5 فیصد کا اضافہ ہوا۔ تاہم اس وقت یہ شرح کم ہو رہی ہے۔

عوامی تعلیمی نظام اس وقت انتہائی مشکل کا شکار ہے۔ ایک جماعت میں 50 تک بچے زیر تعلیم ہوتے ہیں۔ اس لیے کھاتے یپتے گھرانوں کے بچے پرائیوٹ سکولوں میں پڑھتے ہیں۔ غریبوں کے بچوں کے لیے سرکاری سکول ہی ہوتے ہیں۔

ال سلواڈور میں ہائی سکول تک تعلیم مفت ہے۔ 9 سال کے بنیادی سکول کے بعد دو یا تین سال کے لیے ہائی سکول جاتے ہیں۔ دو سالہ ہائی سکول کے بعد طلبہ یونیورسٹی کے لیے تیار ہوتے ہیں اور تین سالہ ہائی سکول کے بعد انہیں ووکیشنل سرٹیفکیٹ مل جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ چاہیں تو یونیورسٹی میں تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں یا نوکری کر سکتے ہیں۔

ثانوی تعلیم بہت مہنگی ہوتی ہے۔

ال سلواڈور میں بہت ساری پرائیوٹ یونیورسٹیاں موجود ہیں۔




#Article 98: بوسنیا و ہرزیگووینا (1303 words)


بوسنیا و ہرزیگووینا (bosnia-herzegovina) یورپ کا ایک نیا ملک ہے جو پہلے یوگوسلاویہ میں شامل تھا۔ اس کے دو حصے ہیں ایک کو وفاق بوسنیا و ہرزیگووینا کہتے ہیں اور دوسرے کا نام سرپسکا ہے۔ وفاق بوسنیا و ہرزیگووینا اکثریت مسلمان ہے اور سرپسکا میں مسلمانوں کے علاوہ سرب، کروٹ اور دیگر اقوام بھی آباد ہیں۔ یہ علاقہ یورپ کے جنوب میں واقع ہے۔ اس کا رقبہ 51،129 مربع کلومیٹر ( 19،741 مربع میل) ہے۔ تین اطراف سے کرویئشا کے ساتھ سرحد ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی یورپی اقوام نے اس علاقے کی آزادی کے وقت اس بات کو یقینی بنایا کہ اسے ساحلِ سمندر نہ مل سکے چنانچہ اس کے پاس صرف 26 کلومیٹر کی سمندری پٹی ہے اور کسی بھی جنگ کی صورت میں بوسنیا و ہرزیگووینا کو محصور کیا جا سکتا ہے۔ مشرق میں سربیا اور جنوب میں مونٹینیگرو کے ساتھ سرحد ملتی ہے۔ سب سے بڑا شہر اور دار الحکومت سرائیوو ہے جہاں 1984 کی سرمائی اولمپک کھیلوں کا انعقاد ہوا تھا جب وہ یوگوسلاویہ میں شامل تھا۔ تاحال آخری بار ہونے والی 1991ء کی مردم شماری کے مطابق آبادی 44 لاکھ تھی جو ایک اندازہ کے مطابق اب کم ہو کر 39 لاکھ ہو چکی ہے۔ کیونکہ 1990 کی دہائی کی جنگ میں لاکھوں لوگ قتل ہوئے جن کی اکثریت مسلمان بوسنیائی افراد کی تھی اور بے شمار لوگ دوسرے ممالک کو ہجرت کر گئے۔

جنوب مشرقی یورپ کے قدیم ترین آثار اسی ملک سے ملے ہیں مثلاً پتھر کے زمانے کے 12000 سال قبل مسیح سے تعلق رکھنے والا ایک مجسمہ جس میں ایک گھوڑے کو تیر کھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ آثار ہرزیگووینا میں ستولاک (Stolac) نامی قصبہ سے ملے ہیں۔ اس زمانے میں لوگ غاروں میں رہتے تھے یا پہاڑیوں کی چوٹیوں پر گھر بناتے تھے۔ 1893ء میں سرائیوو کے قریب بھی قدیم بتمیر ثقافت کے آثار ملے ہیں۔ جن کا تعلق کانسی کے زمانے سے ہے۔ یہ ثقافت آج سے پانچ ہزار سال پہلے معدوم ہو گئی تھی۔ چار سو سال قبل مسیح میں کلتی لوگوں نے اس علاقہ پر قبضہ کیا تھا جس کے بعد وہ مغربی یورپ میں بھی پھیل گئے۔ یہ اپنے ساتھ لوہے کو اوزار اور پہیے لے کر آئے جس نے علاقے کی زراعت میں نمایاں تبدیلی پیدا کی۔

مملکت یوگوسلاویہ (Kingdom of Yugoslavia) (سربی کروشیائی: Краљевина Југославија، Kraljevina Jugoslavija) مغربی بلقان اور وسطی یورپ میں ایک مملکت تھی جو بین جنگ کی مدت (1918-1939) اور دوسری جنگ عظیم کی پہلی ششماہی (1939-1943) میں پھلنا شروع ہوئی۔

اشتراکی جمہوریہ بوسنیا و ہرزیگوینا (Socialist Republic of Bosnia and Herzegovina) (سربو کروشین: Socijalistička Republika Bosna i Hercegovina) جسے 1963 تک عوامی جمہوریہ بوسنیا و ہرزیگوینا (People's Republic of Bosnia and Herzegovina) کہا جاتا تھا ایک اشتراکی ریاست تھی جو اشتراکی وفاقی جمہوریہ یوگوسلاویہ کی چھ ریاستوں میں سے ایک تھی۔

بوسنیائی جنگ (Bosnian War) بوسنیا و ہرزیگووینا میں ہونے والا ایک بین الاقوامی مسلح تصادم جو 6 اپریل 1992ء اور 14 دسمبر 1995ء کے درمیان ہوا۔
اہم متحارب افواج جمہوریہ بوسنیا و ہرزیگووینا اور بوسنیا و ہرزیگووینا میں موجود بوسنیائی سرب اور بوسنیائی کروشیائی، جمہوریہ سرپسکا اور کروشیائی جمہوریہ ہرزیگ-بوسنیا تھے جنہیں جمہوریہ سربیا (سربیا و مونٹینیگرو کا آئینی ملک) اور جمہوریہ کروشیا کی امداد حاصل تھی۔

بوسنیا میں اسلام کی آمد 15 ویں صدی عیسوی میں مسلمان فاتحین کی آمد سے ہوئی - سلطان محمد فاتح ﴿30 مارچ 1432 ئ تا 3 مئی 1481 ئ﴾ نے بوسنیا کو فتح کیا اور یہ علاقہ خلافتِ عثمانیہ کا حصہ بنا اور مسلمانوں نے وہاں اسلام کی تبلیغ شروع کی، اُن لوگوں میں مسلمان فوجی اور تاجر نمایاں تھے - بعد ازاں 16 ویں صدی میں اسلام کی ترویج و اشاعت میں صوفیائے کرام نے نمایاں کردار ادا کیا جن میں سلسلہ قادری، سلسلہِ رومی ،سلسلہ نقشبندی اور سلسلہ بکتشی نمایاں رہے-

بوسنیا میں خلافتِ عثمانیہ کی مثبت پالیسیوں نے بوسنیا کو معاشی، دفاعی اور سیاسی طور پر مضبوط کیا عہدِ خلافتِ عثمانیہ میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب کے لوگوں کی زندگی پر بھی توجہ دی گئی - انتظامی، قانونی اور سیاسی نظام میں مثبت تبدیلیوں نے علاقہ کی ترقی میں خاص کردار ادا کیا - بوسنیا کے صوفیائ نے احترامِ انسانیت اور قرآن میں موجود امن کی تعلیمات کے ذریعے مختلف مکاتب کے مابین فاصلہ کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا - بوسنیا کے لوگوں کا علم، روحانیت اور صوفیا سے لگائو آج بھی مغرب میں مشہو رہے- مختلف المذاہب لوگوں کے مابین زندگی بسر کرتے ہوئے بوسنیا کے مسلمان آج بھی اِس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہاں اولیا ئ نے احترامِ ِانسانیت کا اور ِحلم کے درس کی بنیاد پر صدیوں تک پُر امن زندگی ممکن بنائی-

بوسنیا کے تاریخی مقامات میں اسلامی تہذیب و ثقافت چھلکتی ہے جس کی مثال غازی خسرو بیگ مسجد، مسجدِ سفید ، بادشاہی مسجد اور محمد پاشا مسجد ہیں - غازی خسرو جنگِ ہسپانیہ کا ہیرو تھا بعد ازاں 1521ئ میں بوسنین صوبہ کا گورنر بنا، اسی کے نام پر غازی خسرو بیگ مسجد 1557ئ میں تعمیر ہوئی جِس کے اندر کی کندہ کاری اور پچی کاری مسلمانوں کے عمدہ ذوق اور فنِ تعمیر کی عکاسی کرتی ہے - مسجدِ سفید اپنے طرزِ تعمیر کے لحاظ سے نہایت ہی منفرد ہے اور ایشیا کی اُس دور کی تعمیر کردہ دیگر مساجد کے فن تعمیر سے مختلف ہے- صوفیائے کرام کی خانقاہیں بھی رُوحانی و تاریخی مرکز ہیں جن میں سلسلہِ قادری سے تعلق رکھنے والے صوفی سنان کا مزار بوسنیا میں سب سے خوبصورت مانا جاتا ہے ، مزار کی دیواروں پر عمدہ خطاطی اور کلمہ طیب سے بنائی گئی حضرت سلمان(ع) کی مہر قابلِ دید ہے، یہ مزار 1640ئ میں تعمیر ہوا اور تصوف ، فارسی، عربی اور ترک ادب کے علوم کا گہوارہ رہا ہے -

خلافتِ عُثمانیّہ کو جب انگریز نے مختلف سازشوں اور ہتھکنڈوں سے کمزور کروایا تو اُس ک اثرات یورپ میں خلافت کی شاخوں پر بھی پڑے اور چھوٹے چھوٹے خطے ایک ایک کر کے خلافت سے کاٹے جاتے رہے - 1918ئ میں بوسنیا ، کروشیائی سرب و سلون ریاست کا حصہ بنا، بعد میں جس کا نام تبدیل کر کے یوگوسلاویہ رکھا گیا- یوگو سلاویہ کے کمزور ہونے کے بعد یکم مارچ 1992ئ میں کیا جانے والا ریفرنڈم برائے آزادی مکمل ہوا اور 3 مارچ 1992ئ کو بوسنیا نے اپنی آزادی کا اعلان کیا جسے عالمی سطح پر تسلیم کر لیا گیا اور اس طرح بوسنیا آزاد مملکت کے طور پر وجود میں آیا - آزادی کے بعد بوسنیا نے کافی تیزی سے ترقی کی جس کے لیے لیے مختلف مسلم و غیر مسلم ممالک اور دوسرے بڑے عالمی اداروں کی کاوشیں قابلِ ستائش ہیں

پاکستان اور بوسنیا کے تعلقات اچھے اور خوشگوار ہیں- بوسنیا کا سفارت خا نہ اسلام آباد اور پاکستان کا سفارت خا نہ سرائیوو میں واقع ہے- بوسنیا اور سرب کی جنگ کے دوران اِقوامِ متحدہ کے امن مشن میں پاکستان آرمی شامل تھی جس کا ذکر ISPR کے ڈائریکٹ شدہ پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈراما سیریل الفا براوو چارلی میں بھی ملتا ہے - پاکستان نے کئی بوسنین فوجی افسران اور نوجوانوں کو مفت تربیتی سہولیات فراہم کیں- 2012 میں بوسنیا کے صدر بکر عزت بیجوفیتش﴿Bakir Izetbegovic﴾نے پاکستان کا دورہ کیا- دونوں ممالک کے سربراہان نے اقتصادی، صنعتی، تعلیمی، ثقافتی اور دفاعی امور پر باہمی تعاون کو فروغ دینے پر دلچسپی ظاہر کی- 2014کے دوران بوسنیا میں آنے والے سیلاب کے وقت پاکستان نے 40 ٹن امدادی سامان بھی بھیجا ، جس میں کمبل، کپڑے، خیمے اور اشیائ خوردنوش شامل تھیں دونوں ممالک کی باہمی تجارت کا حجم 500 ملین ڈال رہے دونوں ممالک کے مابین باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے بے پناہ مواقع موجود ہیں- بوسنین اشیا جیسا کہ فرنیچر،میٹل اور بالخصوص ایلومینیم کی تجارت کے لیے پاکستان ایک بڑی منڈی ثابت ہو سکتا ہے، بوسنیا میں پاکستان سے چمڑا اورچمڑے سے بنی اشیائ، ٹیکسٹائل، معدنیات، کھیلوں کے سامان اور آلاتِ جراحی درآمد کرنے کی بڑی صلاحیت موجود ہے-




#Total Article count: 97
#Total Word count: 199336